Log Kia Kahe Gy by Umme Hani NovelR50418

Log Kia Kahe Gy by Umme Hani NovelR50418 Log Kia Kahe Gy Episode 11

491.6K
51

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Log Kia Kahe Gy Episode 11

Log Kia Kahe Gy by Umme Hani

کچھ دیر میں پہ سب مرد اجازت لے کر اندر داخل ہوئے تھے ۔۔۔۔ سب خواتین ایک طرف ہو چکیں تھیں وصی نے نوفل کو اشارہ کیا کے آگے بڑھوں ۔۔۔ وہ آنسوں پونچتے ہوئے بھرائی ہوئی آواز سے بولا

” اگر بھائی نے کسی کا بھی کوئی قرض دینا ہے ۔۔۔ یا پسے کا کوئی لین دین ہے تو میں اس کا دین دار ہوں اور اگر بھائی کی کسی بات سے کبھی کسی کی دل آزاری ہوئی ہے تو ” یہ کہہ کر جیسے وہ ضبط کھو بیٹھا تھا سسکیوں سے رونے لگا پھر اپنے ہاتھ جوڑے

” خدا کے لئے میرے بھائی کو معاف کر دیجیے گا “

یہ کہہ کر سب نے میت کو کاندھا دیا تھا ۔۔۔ با آواز کلمہ شہادت پڑھتے ہوئے گھر سے جا چکے تھے ۔۔۔۔۔ مائرہ لمبے سے گھوگھٹ میں بے جان سی بیٹھی تھی چند سال پہلے بھی گھوگھٹ میں تھی اسی دن اس گھر میں زریاب کے ساتھ

لیکن خوشیوں بھرے جذبات اور امنگوں بھرے دل کے ساتھ ۔۔۔ اور اب دل بھی زندگی طرح خالی ہو گیا تھا ۔۔۔۔

زندگی دونوں ہی بدل چکی تھی ۔۔۔۔۔ چوبیس گھنٹے بھی تو نہیں گزرے تھے ۔۔۔ نوفل کو بچپنے سے نکل کر بڑے پن میں آتے ہوئے ایک حادثے نے جیسے اس کا لا ابالی پن چھین لیا تھا ۔۔۔۔ شرارتیں کر کے جس بھائی کے پیچھے چھپ کر وہ خود کو محفوظ سمجھ لیتا تھا ۔۔۔ جو بھائی اس کے سامنے سینہ تانے کھڑا ہو جاتا تھا وہ تو جا چکا تھا ۔۔۔ اسے اپنی جگہ سونپ کر ۔۔۔۔ قبرستان سے واپسی پر وہی دنیاداری تھی ۔۔۔۔ چند لمحے زریاب کا افسوس تعزیت پھر وہی دوکان وہی گھر کی باتیں ۔۔۔۔ کھانا بھی سب نے کھایا تھا ۔۔۔۔ وصی نے چند نوالے زبردستی اس کے منہ میں ڈالے ۔۔۔ اندر أفرین نے مائرہ کی منتیں کیں تھیں ۔۔۔

” رہنے دو نا آفرین ابھی جی نہیں چاہ رہا لیکن کھا لوں گی۔۔۔۔ چاہ کر بھی نا بھوکی رہ سکتی نا مر سکتی ہوں ۔۔۔۔۔ ” آفرین نے پلیٹ پیچھے رکھ دی تھی خود بھی کل سے کچھ نہیں کھایا تھا ۔۔۔ کھانے کے بعدکافی خواتین جا چکیں تھیں۔۔۔دونوں بچیاں ابھی تک لا علم تھیں ۔۔۔ زولیخہ کی بیٹیوں کے ساتھ کھیل رہیں تھیں زولیخہ پلیٹ بوٹیوں سے بھرے چاول کھانے مشغول تھی ۔۔۔۔ آہستہ آہستہ سب جا چکے تھے ۔۔۔۔ بس خالہ آفرین اور زولیخہ ہی وہاں موجود تھیں ۔۔۔۔ نوفل بھی سب مردوں کو رخصت کر کے گھر کے اندر لاونج میں جانے لگا تو وصی نے اس کا ہاتھ تھام لیا

” نوفل کچھ بات کرنی ہے تم سے ” وصی اسے باہر صحن میں رکھی کرسیوں کے پاس لے گیا وہیں اس کے ساتھ بیٹھ گیا

” نوفل تمہارا اب بھابھی کے سامنے جانا مناسب نہیں ہے ۔۔ وہ عدت میں ہیں کسی غیر محرم کے سامنے نہیں جا سکتی ” وصی کی بات پر وہ حیرت سے بولا

” تو میں دیور ہوں انکا وصی غیر تو نہیں ہوں ۔۔ میں خیال نہیں رکھوں گا تو کون رکھے گا ؟ “

” تم محرم نہیں ہو ” وصی کے جواب وہ چپ سا ہوا تھا ۔۔۔ یہ بات اس نے سوچی ہی نہیں تھی

” وصی وہ میرے بھائی کی بیوی ہیں ۔۔۔ ہم نے ایک گھر میں ایک ساتھ۔۔۔۔ اتنے سال گزارے ہیں ۔۔۔ میرے لئے بھابھی میری بہن کی طرح ہیں ” نوفل کے لئے وہ ایک بہن کادرجہ ہی رکھتی تھی

” لیکن سگی بہن نہیں ہیں ۔۔۔ انکا تم سے پردہ ہے ۔۔۔ اس لئے بنا دستک دئیے بنا ان سے بنا اجازت لئے تم اس جگہ نہیں جا سکتے جہاں وہ ہیں جب وہ پردہ کر لیں تمہیں اندر آنے کی اجازت دیں پھر تم جا سکتے ہو ” وصی جانتا تھا کہ اب تک نوفل کی عمر لاپروائی میں گزری ہے ۔۔۔۔ زندگی کی کئ حقیقتوں سے نا واقف ہے اب تک صرف بھائی سے لاڈ ہی اٹھوا رہا تھا کئ معاملوں میں نا فہم تھا ۔۔۔ میت اٹھاتے وقت کے الفاظ بھی وصی کے بتائے ہوئے تھے ۔۔۔ جو نوفل نے دہرائے تھے ۔۔۔۔

“نوفل

(اللہ تعالیٰ کوعورت کا پردے میں رہنا اتنا پسند ہے کہ عورت جتنا پردے میں رہتی ہے اور جتنا زیادہ اپنے آپ کو نا محرم مردوں سے چھپاتی ہے تو اتنا ہی اللہ تعالیٰ اس سے خوش ہوتا ہے، حتیٰ کہ حدیث شریف میں آتا ہے کہ: حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ: عورت تو پردے کی چیز ہے، جب وہ گھر سے نکلتی ہے تو شیطان اس کی طرف جھانکتا ہے۔ اور عورت اللہ تعالیٰ کے سب سے زیادہ قریب اس وقت ہوتی ہے، جب وہ اپنے گھر کے کسی کونے اور پوشیدہ جگہ میں ہو۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے:

’’الْمَرْأَۃُ عَوْرَۃٌ، فَإِذَا خَرَجَتْ اسْتَشْرَفَہَا الشَّیْطَانُ، وَأَقْرَبُ مَا تَکُوْنُ مِنْ رَبِّہَا إِذَا ہِيَ فِيْ قَعْرِ بَیْتِہَا۔‘‘ (صحیح ابن حبان، رقم الحدیث:۵۵۹۹)

حدیث شریف میں آتا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے فرمایا کہ اجنبی (غیر محرم) عورتوں کے پاس تنہائی میں جانے سے بچو، تو ایک انصاری صحابی رضی اللہ عنہ نے عرض کیا کہ اے اللہ کے رسول! کیا یہ حکم دیور کے لیے بھی ہے، یعنی وہ تو گھر کا فرد ہی ہوتا ہے، لیکن نا محرم بھی ہوتا ہے، تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: دیور تو موت ہے، یعنی دیور کا اپنی بھابھی کے پاس خلوت میں جانا موت کی طرح خطرناک اور نقصان دہ ہے۔

چنانچہ اس حدیث سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ ۔۔۔ دیور کو قریبی رشتہ دار سمجھ کر بے تکلفی اور خلوت (تنہائی) کی بیٹھک اور پردہ کے معاملہ میں لاپرواہی وغیرہ سے بچنا چاہیے، کیوں کہ دیور اور بھابھی کی زیادہ بے تکلفی اور خلوت کی ملاقاتوں اور مجلسوں سے بڑے بڑے مفاسد پیدا ہوتے ہیں البتہ اگر تمام شادی شدہ بھائی اپنی بیویوں اور والدین کے ساتھ ایک گھر میں رہتے ہوں اور ہر بھائی کی بیوی اپنے دیور سے پردہ کا اہتمام کرتی ہو تو اس طرح پردہ کے اہتمام کے ساتھ اکھٹے رہنا اور کھانا وغیرہ ساتھ کھانا جائز ہے۔

البتہ بہتر یہ ہے کہ مرد الگ جگہ کھانے کی ترتیب بنالیں اور خواتین الگ جگہ۔ یا ایسی ترتیب بنائیں کہ دیور اور بھابھی کا سامنا بھی نہ ہو اور کوئی غیر محرم کسی کے ساتھ متصل بھی نہ بیٹھے۔)

یہی وجہ ہے نوفل کے انیلا بھابھی جب اکیلی گھر ہوتی تھیں تو میں ذیادہ وقت تمہارے گھر وقت گزارتا تھا ۔۔۔۔

کیونکہ انہیں دوپٹہ پہنے کی تمیز نہیں تھیں دھیان نہیں دیتی تھیں اپنے اٹھنے بیٹھے پر ۔۔۔ یہی وجہ تھی کہ میں کسی گناہ کا مرتب ہوتا ۔۔۔ یا بھابھی مجھ پر کسی قسم کا الزام لگا دیں میں نے ہوسٹل کو ترجعی دی

اور اب شادی کے بعد زونیرہ کے ساتھ الگ کرایے کے گھر میں رہ رہا ہوں ۔۔۔ بھائی سے اپنا حصہ مانگ رہا ہوں

جس دن مل گیا اپنا گھر بھی لے لو۔ گا ۔۔۔ کیونکہ

یار ہم فرشتے نہیں ہیں نوفل۔۔۔۔ مرد عورت کی تنہائی صرف آگ ہے ۔۔ اللہ کے احکامات پیارے حبیب صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان سو فیصد ہماری زندگیوں میں خیر کا سبب ہیں ۔۔۔ میں تمہیں اپنی طرف سے کچھ نہیں کہہ رہا وہ بتا رہا جو اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے

پہلے زریاب بھائی تھے بات اور تھی جب تک تک تم آفسسے واپس آتے تھے وہ بھی دوکان سے لوٹ آتے تھے ۔۔۔۔ لیکن اب وہ نہیں ہیں ۔۔۔ اسوقت یہاں ایک اور ایسی عورت کا ہونا ہے ضروری ہے جو بھابھی کے ساتھ رہے ۔۔۔۔ “

” میں خالہ سے پوچھ لیتی ہوں کہ رات وہ بھابھی کے ساتھ رک جائیں پورا دن تو میں گھر پر رہوں گا ۔۔۔ رہ گئ کھانے کی بات تو میں اپنے کمرے میں کھا لیا کروں گا ۔۔۔ بھابھی سے بات نہیں کروں گا “

” خالہ رکیں گی ؟ مجھے نہیں لگتا نوفل ۔۔۔۔ پھر بھی پوچھ کر دیکھ لو ” ابھی وہ اور وصی بات کر ہی رہے تھے کہ اندر سے زرولیخہ کی بلند آواز سے بحث کرنے کی آوازیں آنے لگیں

*****…..

کھانے کے برتن اور دسترخوان آفرین نے اٹھا کر لاونج صاف کیا تھا زولیخہ بیگم تو دانتوں میں ٹوتھ اسٹک مارنے میں مصروف تھی کھائی جانے والی بوٹیاں ذیادتی کے باعث دانتوں کے بیچ میں پھنس چکیں تھیں وہی نکالنے میں وہ مصروف تھی ۔۔۔درمیانہ متناسب وجود کی مالک عورت تھی اسکی تیز مزاجی اسکی آنکھوں سے چھلکتی تھی۔۔۔۔ پھر مائرہ کے پاس چلی آئی ۔۔۔ خالہ مائرہ کو ساتھ لگائے اس کے آنسوں پونچ رہیں تھی ۔۔۔ ماں ہوتی تو اس کے پہلو میں سر رکھے سکون حاصل کر لیتی ۔۔۔ لیکن کوئی بھی اپنا نہیں تھا ۔۔۔

” چپ ہو جاؤں میری بچی ۔۔۔۔ ” خالہ نے نم آنکھوں سے کہا ۔۔۔۔ زولیخہ نے بیٹھتے ہی با آواز لمبا سا ڈکار لیا ۔۔۔ خالہ نے اسے دیکھتے ہی ناگواری سے ماتھے پر بل چڑھائے تھے ۔۔۔

” لگتا ہے بد ہضمی سی ہو گئ ہے ۔۔۔ توبہ میری مرچیں بڑی تیز تھیں بریانی میں مجھ سے ٹھیک سے کھائی نہیں گئ ” آفرین نے اسے تاسف سے دیکھا تھا ۔۔۔ دو پلٹیں بھر کے کھائیں تھیں اس عورت نے سب خواتین کی نظر اسی پر تھی ۔۔۔ جیسے یہاں صرف کھانے ہی آئی تھی ۔۔۔ زولیخہ نے آفرین کو مخاطب کیا

” اے سنو ذرا ایک کپ چائے تو بنا دو ۔۔۔۔ شاید طعبیت سنبھل جائے ” زولیخہ کو آفرین کا نام تو معلوم نہیں تھا اس لئے اس انداز سے پکانے لگی

” چائے کی گنجائش ابھی باقی ہے ” آفرین کو اس پر غصہ آ رہا تھا ۔۔۔ نا چہرہ افسردہ تھا نا ہی اس پر دکھ کا کوئی شائبہ ۔۔۔ کیسا غم تھا اس کا ۔۔۔

” تم نے نہیں بنا کر دینی تو صاف کہہ دو بی بی ۔۔۔ ” وہ بھی اکھڑ کر بولی تھی

” میں تھک چکی ہوں ۔۔۔ آپ چائے تو خود بنا سکتی ہیں ۔۔۔ ” آفرین کے کورے جواب پر اس نے منہ بنا رخ بدلہ تھا

” چلو بھئ مائرہ اٹھو اور اپنا سامان پیک کرو ۔۔۔عمار کراچی پہنچ گئے ہیں بس ہمہیں لینے ہی آ رہے ہیں ” زولیخہ کی اگلی بات پر وہ متذبذب سی ہوئی تھی

” کیا مطلب ہے بھابھی ؟

” اب یہ بھی میں سمجھاؤں ۔۔۔ میکا تمہارا ہم سے ہی تو ہے ۔۔۔۔۔ اس لئے اب تم ہمارے ساتھ رہوں گی عدت بھی وہیں پوری کروں گی ۔۔۔۔ ” زولیخہ نے حتمی انداز سے کہا

” میں اپنا گھر چھوڑ کر کیوں جاؤں گی بھابھی “

” کیونکہ تمہارا دیور یہاں رہتا ہے ۔۔۔ اور کیوں ؟” زولیخہ نے ناک چڑھا کر کہا

” وہ تو پہلے بھی رہتا تھا ۔۔۔ “

” پہلے تمہارا میاں زندہ تھا ۔۔۔ لیکن اب تو تم یہاں نہیں رہ سکتی ۔۔۔ غیر محرم ہے وہ تمہارے لئے ۔۔۔ ” زولیخہ نے جواب دیا ۔۔۔۔

” لیکن تمہارا میاں کونسا مائرہ کا محرم ہے ” خالہ نے کہا

” لیکن وہ اکیلا تو نہیں ہے نا ۔۔ میں اسکی بیوی ہوں اسکے ساتھ رہتی ہوں ۔۔۔ اگر اس کا دیور شادی شدہ ہوتا اسکی بیوی ہوتی تو ہی مائرہ رہ سکتی تھی ۔۔۔۔ اس لئے اب یہ ہمارے ساتھ جائے گی ۔۔۔۔۔ چلو مائرہ ” وہ فیصلہ کن انداز سے بولی آفرین کو وہ عورت ایک آنکھ نہیں بھا رہی تھی

” اگر یہی بات ہے تو مائرہ کو میں اپنے گھر لے جاتی ہوں ۔۔۔۔ میرے میاں پورا دن گھر سے باہر ہوتے ہیں ۔۔۔۔ رات کو ہی آتے ہیں عدت مائرہ میری گھر پوری کر لے گی ” آفرین نے جواب دیا زولیخہ کمر پر ہاتھ رکھ کر تیز لہجے میں بولی

” اچھا اور عدت کے بعد ۔؟ ۔۔۔ عدت کے بعد کہاں رہے گی ساری زندگی رکھ لو گئ مائرہ کو اپنے گھر ۔۔۔؟جاؤں لے جاؤں شوق سے لیکن ذرا میاں سے پوچھ لو اپنے لوگوں کی باتوں کا کیا جواب دے گا ۔۔۔ اور تم بھی جتنے مان سے کہہ رہی ہو چند دن جب لوگوں کے سوالوں جواب شروع ہوئے تو عقل ٹھکانے آ جائے گی ۔۔۔۔ عمار چچا زاد ہیں مائرہ کے خونی رشتہ ہے ایک دادا کی اولاد ہیں دونوں ۔۔۔ پردہ میں کرواں گی مائرہ سے ۔۔۔ بڑی بہن بن کر خیال رکھوں گی اس کا ۔۔۔۔ ” خالہ کچھ نہیں بولیں تھیں ۔۔۔ چپ تھیں

کیوں کہ سچ تو یہی تھا کہ اب وہ نوفل کے ساتھ اکیلی نہیں رہ سکتی تھی ۔۔۔ کسی ایک عورت کا ہونا ضروری تھا اور خالہ دن تو جیسے تیسے گزار بھی لیتیں لیکن رات کواپنے کمرے کی عادی تھیں میاں بھی بیمار رہتا تھا اور خود بھی ۔۔۔ اس لئے کچھ نہیں بولیں ۔۔۔۔ آفرین بھی چپ سی ہو گئ تھی ۔۔۔۔ مائرہ کے لئے دل کٹ سا گیا تھا لیکن معاشرے کی ایک تلخ حقیقت تھی ۔۔۔۔ کہ وہ چند ماہ سے زیادہ اسے رکھ نہیں سکتی تھی ۔۔۔۔

زولیخہ کے اونچے لہجے سے دروازے پر دستک ہوئی تھی ۔۔۔ نوفل کی آواز آئی

” بھابھی پردہ کر لیں مجھے اندر آنا ہے ” مائرہ یہ سنتے ہی اپنے کمرے میں چلی گئ

نوفل اور وصی اندر داخل ہوئے تھے ساتھ ہی مظہر بھی اندر آ چکا تھا ۔۔۔ مظہر کا ارادہ آفرین کو واپس لے جانے کا تھا

” اچھا ہوا تم بھی آ گئے بیٹھو میاں ۔۔۔ ” زولیخہ نے نوفل کو دیکھ کر تلخ لہجے میں کہا وہ سب ہی صوفے پر بیٹھ گئے

” دیکھوں میاں مائرہ کا رشتہ زریاب سے تھا ۔۔۔ اور وہ تو مر چکا ” زولیخہ کے انداز نے نوفل کے اندر آگ بھر دی تھی ۔۔۔ ذرا تمیز لحاظ نہیں تھا اس عورت میں

” اس لئے وہ تمہارے ساتھ تو یہاں رہ نہیں سکتی

میں اسے اپنے گھر لے جا رہی ہوں ۔۔ ہمیشہ کے لئے ” زولیخہ کی بات پر وہ ہتھے سے اکھٹا تھا

” وہ کہیں نہیں جائیں گئیں ۔۔۔ خالہ آپ رات کو بھابھی کے پاس رک جائیے گا ۔۔۔۔ بس چند ماہ کی بات ہے ۔۔۔ انکی عدت پوری ہو گی تو ….” نوفل کی بات زولیخہ نے بیچ سے اچک لی تھی

” تو کیا ۔۔۔ عدت کے بعد کیا تمہیں کھلی چھٹی ہے ” زولیخہ تو منہ میں زبان ڈالنے کو تیار نہیں تھی ۔۔۔ پھر خالہ نے بھی معذرت کی تھی

” نوفل میرے بچے ۔۔۔ میں دن تو اس کے ساتھ گزار سکتی ہوں پر رات کو مشکل ہے ۔۔۔ تمہارے چچا بیمار رہتے ہیں ۔۔۔ انہیں اکیلا نہیں چھوڑ سکتی “

” سن لیا میاں تم نے ۔۔۔۔ تمہاری خالہ نے تو ہری جھنڈی دیکھا دی ۔۔۔۔۔ ” زولیخہ کو جیسے موقع مل گیا تھا ۔۔۔

” مظہر کیا ہم مائرہ کو ساتھ لے جائیں ؟ ” آفرین نے اپنی سی کوشش کی مظہر متذبذب سا ہوا تھا سنبھل کر آگے ہو کر بیٹھ گیا

” مجھے ۔۔۔ کوئی اعتراض نہیں ہے ۔۔۔۔ لیکن “

” لیکن مجھے اعتراض ہے ۔۔۔۔ بھابھی کہیں نہیں جائیں گئیں ” نوفل بول اٹھا تھا

” کیوں کیوں نہیں جائے گی ” ۔زولیخہ اسے گھورتے ہوئے بولی

اندر بیٹھی مائرہ کے آنسوں نہیں رک رہے تھے ۔۔۔۔

اسی کی زندگی کا فیصلہ باہر بیٹھا ہر شخص کر رہا تھا بس وہ ہی کسی ٹوٹے پتے کی طرح بے بس اس بات منتظر تھی کےکس رخ میں ہوا چلتی ہے اور اسے اڑا کر کہاں لے جا کر پھینکتی ہے ایک دن نہیں ہوا زریاب کو گئے ہوئے ۔۔۔ دنیا کے کیسے رنگ دیکھنے کو مل رہے تھے

آفرین کے میاں کا متزلزل سا لہجہ سمجھا گیا تھا کہ وہ راضی نہیں ہے ۔۔۔ یہی بہتر تھا کے زولیخہ کے ساتھ چلی جائے کم از کم عدت گزار لے پھر یہ سوچ لے گئ کے جانا کہاں ہے قسمت نے اور کیا لکھا ہے اس کے نصیب میں ۔۔۔۔ اس لئے بیڈ سے اٹھ کر کھڑی ہو گئ ۔۔۔ اپنا بیگ نکالا اپنے اور بچوں کے کپڑے رکھے بیگ بند کیا اور دروازے کے پاس آ کر رک گئ ۔۔۔ دروازے کی آڑ سے اس نے اپنا فیصلہ سنایا تھا

” میں زولیخہ بھابھی کے ساتھ جانا چاہتی ہوں اس لئے کسی کو پریشان ہونے کی ضرورت نہیں ہے ” نوفل اٹھ کر کھڑا ہوا تھا

” بھابھی آپ سمجھ نہیں رہیں ہیں ۔۔۔ میں نے بھائی وعدہ کیا ہے کہ آپ کو بے سہارا نہیں چھوڑ سکتا ” نوفل کو زریاب کے وعدے کا پاس تھا

” میرے پاس کوئی دوسرا راستہ نہیں ہے ۔۔۔ اس لئے تم آذاد ہو اپنے بھائی کے وعدے سے ” مائرہ نے جواب دیا

” میں نے وعدہ بھائی سے کیا ہے آپ سے نہیں ۔۔۔ جو آپکے کہنے سے میں آذاد ہو جاؤں ۔۔۔ مسلہ یہ ہے نا کہ یہاں ایک عورت کا ہونا ضروری ہے ٹھیک ہے

میں رمشہ سے چند دن میں نکاح کر کے سے یہاں کے آتا ہوں ۔۔۔ پھر تو کسی کو مسلہ نہیں ہو گا ۔۔۔ ” نوفل کا حل سب کو ہی ٹھیک لگا تھا ۔۔

” وہ لڑکی۔ جو تمہاری منگتر ہے ۔۔۔ جو کل گھڑی دو گھڑی ناک چڑھائے بیٹھی تھی ۔۔۔ اور آج تو محترمہ نے آنے کی زحمت نہیں کی ۔۔۔ فی الحال تو میں لے جا رہی ہوں اپنی بہن کو ۔۔۔ جب حل نکل آئے تو بتا دیجیے گا مجھے ” زولیخہ کی بات پر نوفل کو ہوش آئی تھی واقع آج اس کے گھر سے کوئی بھی نہیں آیا تھا ۔۔۔ رمشہ بھی نہیں ۔۔۔۔

” بھابھی میں تیار ہوں ” ایک بڑی چادر سے وہ خود کو لپیٹ چکی تھی نقاب بھی کر لیا تھا ۔۔۔ باہر کی گھنٹی بجی

” لو آ گئے عمار ۔۔۔۔ چلو بھئ بچوں باہر نکلو تمہارے ابا کہہ رہے تھے ٹیکسی لیکر ہی آئیں گئے۔۔۔ عائزہ اور منزہ کابھی ہاتھ پکڑو ” زولیخہ نے اپنی تینوں بچیوں سے کہا۔۔۔۔ پھر کمرے سے مائرہ کو باہر لانے لگی وہ ایک ہاتھ سے چہرہ چھپائے دوسرے ہاتھ سے بیگ پکڑے باہر نکالنے لگی ۔۔۔

” بھابھی آپ جائیں سامان ہم باہر رکھ دیں گئے ” وصی نے کہا تھا نوفل کا ذہن تو رمشہ پے جا کر ٹک گیا تھا ۔۔۔۔ فی الحال تو واقع اس کے پاس کوئی حل نہیں تھا لیکن ۔۔۔ اگر رمشہ مان جاتی تو وہ مائرہ کو واپس لا سکتا تھا ۔۔۔اس لئے چپ چاپ اس کا بیگ باہر ٹیکسی میں رکھ دیا دونوں بھتجیوں کو گلے لگایا ۔۔۔

” عائزہ اپنی مما کا خیال رکھنا ۔۔۔ تنگ مت کرنا انہیں ” “

” ٹھیک ہے چاچو نہیں تنگ کروں گی ” اس نے نوفل کا منہ چومتے ہوئے کہا

” ابھی تو زولیخہ کی بیٹیوں کے ساتھ کھیلنے کی جلدی تھی۔۔۔۔ اسے لگا چند دن رہنے کا رہی ہے ۔۔۔۔ پھر لوٹ آئے گی ۔۔۔۔

******…….

زیان پریشان سا ہو گیا تھا پوری رات یہ سوچتا رہا کہ انکار کیسے کرے اگلے روز موقع پا کر وہ شزا کے کمرے میں آیا تھا ۔۔۔ وہ اسے دیکھتے گھبرائی تھی

آج تک تو کبھی اس نے ایسی کوئی جرت نہیں کی تھی ۔۔۔۔

” آپ یہاں ” شزا ہچکچاتے ہوئے بولی

” مجھے تم سے کچھ بات کرنی ہے ۔۔۔ “

” جی کہیے “

” میں تم سے شادی نہیں کرنا چاہتا ۔۔۔ ” بنا تامل وہ اس کے سر پر بم پھوڑ چکا تھا ۔۔۔ شزا تو ششدد سی رہ گئ تھی بچپن سے صرف ایک نام اپنے نام کے ساتھ سنتی آ رہی تھی وہ یہ کہ وہ زیان کی دلہن ہے ۔۔۔۔ زیان نے بھی آج تک انکار نہیں کیا تھا نا کبھی ناگواری کا اظہار کیا تھا ۔۔۔ بلکہ جب وہ اسکول پڑھانے لگا تھا تو باقاعدہ دونوں کی منگنی کی رسم کی گئ تھی ۔۔۔ زیان نے خود اس کے ہاتھ میں انگوٹھی پہنائی تھی تب بھی انکار نہیں کیا ۔۔۔

اگر کبھی ان کے درمیان پیار بھرے جمعلوں کاتبادلہ نہیں ہوا تھا تو کبھی ناپسندیدگی کا اظہار بھی نہیں کیا گیا تھا ۔۔۔ ایک گھر میں رہتے ہوئے ۔۔ وہ عام انداز سے اپنے بہت سے کام شزا سے کہہ دیتا تھا ۔۔۔ وہ فاروق اور احمر کے ساتھ اسکے کام کر دیتی تھی ۔۔۔ اوراب شادی کی بات چلتے ہی ایک دم سے انکار ؟

“شزا میں کسی اور لڑکی کو چاہتا ہوں ۔۔۔ تم تائی اماں انکار کر دو ۔۔۔ ” زیان کی بات پر اس نے بے تاثر جواب دو

” ایک مرد ہیں آپ پھر انکار بھی آپ کی خواہش ہے

اس لئے انکار بھی آپ ہی کریں ۔۔۔ میں آپ کے انکار کے بعد منع کر دوں گی ۔۔۔ ” شزا کی بات اسے بھی دنگ سی کر گئ تھی اتنی آسانی سے وہ ہر بات سے دستبردار ہوئی تھی ورنہ زیان کو لگا کہ وہ وجہ پوچھے گی ۔۔۔ شاید کچھ ہنگامہ بھی کرے ۔۔ روئے دھوئے اس کی منت سماجت کرے لیکن نہیں وہ جیسے چار ختم کر۔ چکی تھی

‘ تمہیں برا تو لگے گا ۔۔۔ لیکن میں اس لڑکی سے بے حد محبت کرتا ہوں ۔۔۔ ورنہ تم میں کوئی خامی نہیں ۔۔۔۔۔ اور ۔۔۔۔۔ ” زیان شاید اور بہت کچھ کہتا لیکن شزا نے ہاتھ کے اشارے سے روک دیا

” نہیں مجھے برا نہیں لگا آپ کو وضاحت دینے کی ضرورت نہیں ۔۔ آپ میرے کمرے سے جا سکتے ہیں ” شزا کا دو ٹوک انداز تھا زیان باہر چلا گیا ۔۔۔

حیران بھی تھا لیکن دل میں شکر بھی کیا کہ آدھا مسلہ تو خود حل ہوا تھا ۔۔۔

رات کو یہی خوشخبری سنانے کے لئے اس نے عفیرہ کو کئ کال کیں لیکن اس نے فون نہیں اٹھایا ۔۔۔

******………

عفیرہ نے کان بوجھ کر زیان کی کال نہیں اٹھائی تھی ۔۔۔۔ اسکی بے باکی پر حراساں ہوئی تھی ۔۔۔۔

ایسے ریسٹورنٹ میں اکثر و یشتر کیمرے لگے ہوتے ہیں جو اس قسم کی ویڈیوز کو فوکس کر لیتے ہیں اور بعد میں ایسی ویڈوز کو پھیلانے میں وقت نہیں لگاتے ۔۔۔ کئ ایسے واقعات عام طور پر ہو چکے تھے اندر سے دل ڈر بھی رہا تھا اسکی بھی کوئی ایسی ویڈیو منظر عام پر آ گئ تو کیا ہو گا۔۔۔۔ کسی کے ساتھ بیٹھ کر کھانا پینا ایک الگ بات ہے اور بے حیائی کاارتجاب دوسری بات ” عفیرہ یہ تو سوچ رہی تھی کہ زیان نے جو کیا غلط کیا لیکن خود جو کچھ کر گزرتی تھی وہ غلط نہیں لگ رہا تھا ۔۔۔۔

” اپیہ فون کیوں نہیں اٹھارہیں بے چارا تڑپ رہا ہو گا آپ کی آواز سنے کے لئے ” عبیرہ نے۔ زیان کا نمبر اور نام موبائل پر جگمگاتا ہوا دیکھ کر مسکرا کر کہا

” تڑپنے دو ۔۔۔ تڑپے گا تو مجھے بڑی سکون کی نیند آئے گی ۔۔۔ “

” چین تو بڑی پیاری دی ہے اس نے ۔۔۔ ہائے اپیہ کتنی لکی ہو تم ۔۔۔ ” عفیرہ نے حسرت سے اسکی چین دیکھی تھی ۔۔۔ عفیرہ نے آبرو چڑھا کر اترا کر عبیرہ کو دیکھا

” لکی تو میں بہت ہوں میری زندگی میں بس عیش ہی عیش ہیں۔ دیکھ لینا تم ” یہ کہہ کر اپنا فون آف کیااور کروٹ بدل کر سو گئی

******……

“مظہر مجھے وہ عورت ٹھیک نہیں لگ رہی ۔۔۔ ” آفرین فکر مند تھی

” آفرین اس کے علاؤہ حل بھی نہیں تھا ۔۔۔۔ وہ اسکے اپنے ہیں ۔۔۔ اگر ہم تمہاری دوست لے بھی آتے تو ۔۔۔ لوگ نا جانے کیسی کیسی باتیں بناتے ۔۔۔ تم شاید سن بھی سکتی ۔۔۔ دیکھوں آفرین آئندہ مجھ سے پوچھے بنا سب کے سامنے ایسی ہامی مت بھرنا ۔۔۔ میں تمہاریدوست کی مالی امداد تو کر سکتا ہوں اس کادکھ بہت بڑا ہے ۔۔۔لیکن میں اپنے گھر پر نہیں رکھ سکتا ۔۔۔۔ میرے دوست واحباب کا بہت بڑاسرکل ہے جہاں میرا اٹھنا بیٹھنا ہے ۔۔۔ تمہیں اندازہ بھی نہیں کہ ایک بیوہ کو بنا کسی شریعی رشتے کے اپنے گھر رکھنا ۔۔۔ لوگوں کو شک وشبے میں ڈال دیتا ہے ۔۔۔۔ پلیز میں تمہاری دوست کو گھر پر نہیں رکھوں گا ۔۔” مظہر کے صاف جواب پر آفرین متحیر ہوئی تھی