Log Kia Kahe Gy by Umme Hani NovelR50418 Log Kia Kahe Gy Episode 42
Rate this Novel
Log Kia Kahe Gy Episode 42
Log Kia Kahe Gy by Umme Hani
” مر گئے یار ۔۔۔۔ اب یہ مجھے کیوں بلا رہیں ہیں ” ماہرہ آواز سن کر وہ اسکی جان لبوں پر آئی تھی ۔۔۔۔ اسکی دوسری آواز پر اسے کمرے سے باہر نکلنا ہی پڑا تھا ۔۔۔۔ وہ سامنے ڈائنگ ٹیبل پر ہی بیٹھی چائے پی رہی تھی
” ج۔۔جی ” نوفل کی زبان لڑکھڑائی تھی نظریں بھی جھکیں تھیں
” مجھے ڈاکٹر پر لے جاؤں ۔۔۔ مجھے نہیں لگتا کہ گھر کی میڈسن سے یہ بخار اترنے والا ہے ۔۔۔۔
” ہاں چلیں میرے ساتھ ۔۔۔۔ ” نوفل نے گاڑی کی چابی ٹیبل سے پکڑی اور مائرہ سے پہلے باہر نکل گیا تھا ۔۔۔۔ اندر کہیں یہ ڈر تھا کہ کہیں اسے کچھ یاد نا آ جائے ۔۔۔ مائرہ کارویہ نارمل سا تھا وہ گاڑی میں فرنٹ سیٹ پر آ کر بیٹھ گئ ۔۔۔۔ برابر وی خالہ کو وہ بچوں کے پاس چھوڑ کر گئ تھی
نوفل خاموشی سے ہی گاڑی ڈرائیو کر رہا تھا ۔۔۔۔
وہ آنکھیں بند کیے گاڑی کی سیٹ سے پشت لگائے بیٹھی تھی سر میں ابھی بھی درد تھا ۔۔ آنکھیں بخار سے ابھی بھی جل رہیں۔ تھیں ۔۔۔
نوفل نے ڈرتے ڈرتے چور انکھوں سے اسکی طرف دیکھا تھا ۔۔۔
” آپ نے رات کو میڈسن کون سی لی تھی ” نوفل کے اندر یہ وہم تھا کہ جس طرح سے وہ گہری نیند میں تھی شاید کسی میڈسن کے زیر اثر تھی ۔۔۔۔اگر ایسا تھا تو اچھا ہی تھا ۔۔۔ نوفل کے سوال پر مائرہ نے ذراسی آنکھیں کھول کر اسے دیکھا تھا ۔۔۔
” ایک ٹیبلث بخار کی لی تھی سر میں درد تھااس لئے نیںد کی ایک ٹیبلٹ لے کر سو گئی تھی ” مائرہ کے جواب سے اسے دلی اطمینان ہوا تھا ۔۔۔۔ کے لاشعوری طور پر بھی اس کے ذہن میں گزرے وقت کی کوئی یاد نہیں ہے ۔۔۔
ڈاکٹر سے چیک کروا کر وہ اسے گھر لے آیا تھا ۔۔۔
شام تک وہ کافی بہتر ہو چکی تھی ۔۔۔۔ خالہ دوبارہ پھر شام کو ہی اسکی خیریت پوچھنے آ گئیں تھیں ۔۔۔۔ مائرہ کو دیکھتے ہی کہنے لگیں
” چہرہ کیسے اتر گیا تمہارا ۔۔۔۔ ” نوفل کچن سے خالہ کے لئے چائے بنا کر باہر ہی لا رہا تھا
” جی کل سے بخار تھا ۔۔۔ ڈاکٹر سے دوا لیکر آئی ہوں ۔۔ اب تو کچھ بہتر ہوں ۔۔۔ آپ بیٹھیں نا “
” اچھا ۔۔ ؟ کیا کہا ڈاکٹر نے ” خالہ نے بیٹھتے ہوئے بڑی دلچسپی سے پوچھا تھا
” ڈاکٹر نے کیا کہنا خالہ ۔ دوا دی ہے کھاؤں گی تو ۔۔۔۔ ٹھیک ہو جاؤں گی ” مائرہ نے بخار کی وجہ سے کچھ کوفت کا شکار تھی ۔۔۔۔ چہرے پر بھی بیزاری کے آثار تھے
” مجھے تو تمہیں دیکھ کر لگا کہ شاید کوئی خوشخبری ہے ” عین اسی وقت نوفل نے چائے کا کپ سامنے ٹیبل پر خالہ کے سامنے رکھا تھا ۔۔۔۔ اور جو بات خالہ نے بڑے لاپروااندز سے کی تھی دونوں ہی اپنی اپنی جگہ پر ہل کر رہ گئے تھے ۔۔۔۔ بے ساختہ دونوں کی نظروں کا تصادم ہوا تھا ۔۔۔ اور بیک وقت سرعت سے۔ دونوں نے ایک دوسرے سے نظری۔ چرائیں۔ تھیں ۔۔۔ نوفل تو فورا سے واک آؤٹ کر گیا تھا ۔۔۔ مائرہ کا ندامت سے برا حال تھا ۔۔۔۔ اور خالہ کی بے نیازی ہنوز تھی ۔۔۔۔
” خالہ کچھ تو سوچ کر بات کیا کریں ” مائرہ نے دھیمے لہجے میں انہیں ٹوکا تھا
” ارے بٹیا میں نے ایسا کیا کہہ دیا۔ چہرہ تو دیکھو کیسا پیلا پھٹک ہورہا ہے ۔۔۔۔۔ پھر کوئی انہونی بات تو ہے نہیں ” خالہ نے چائے کا کپ پکڑ کر لبوں پر لگاتے ہوئے کہا
” خالہ ایسا کچھ نہیں ہے اور نا ہو سکتا ہے ۔۔۔۔۔۔ نکاح ہماری مجبوری تھی ۔۔۔۔آپ جانتی ہیں کہ لوگوں تو ویسے جینے ہی نہیں دیتے ۔۔۔ بس اس لئے نوفل نے مجھے صرف اپنا نام ہے ۔۔۔۔۔ ورنہ نا تو میں اسکے لئے ایسا سوچ سکتی ہوں اور نا وہ میرے لئے ۔۔۔۔۔ پلیز آئندہ ایسی بات مت کیجیے گا ۔۔۔ ” مائرہ نے ٹوکنا ضروری سمجھا تھا خالہ تو متحیر سی رہ گئیں تھیں کپ واپس ٹیبل پر رکھ دیا ۔۔۔اور پورارخ مائرہ کی طرف موڑ لیا
” مطلب کیا ہے تمہارا بٹیا ۔۔۔۔۔ یوں بھی کبھی زندگی گزرتی ہے؟ ۔۔۔۔ “
” تو اور کیا حل تھا ہمارے پاس خالہ اتنی جلدی نوفل کسی لڑکی سے شادی نہیں کر سکتا تھا پہلے ہی جلد بازی میں عفیرہ جیسی لڑکی سے کرنی پڑ گئ تھی ۔۔۔وہ کیسی تھی آپ سب جانتےہیں ۔۔۔۔ نوفل اب بھی شادی ضرور کرے گا ظاہر ہے یوں اسکی زندگی تو گزر بھی نہیں سکتی ۔۔۔۔۔ وہ بھی جانتا ہے اور میں بھی ۔۔۔۔۔ لیکن کسی اچھی لڑکی سے جو ہر بات کو سمجھ کر ہمارے ساتھ ملکر رہ سکے ” خالہ تو سن کر دنگ سی تھیں
” اور تم ؟ “
” میں کیا خالہ ۔۔۔۔ مجھے تو زندگی پہلے بھی ایسے ہی گزارنی تھی۔۔۔۔۔ اب بھی گزر جائے گی ۔۔۔ اب پلیز آئندہ اس قسم کی بات مت کیجیے گا جو مجھے اور نوفل کو نظریں ملانے کے قابل بھی نا چھوڑے ” مائرہ کے اٹل انداز پر وہ چپ سی ہو گئی۔ تھیں لیکن تھیں متذبذب سی ۔۔۔۔۔ کچن میں کھڑا نوفل بھی سب کچھ سن رہا تھا ۔۔۔۔ ذہن مائرہ جو داد دینے لگا کہ اچھا کہ خالہ منہ بند ہوا ۔۔۔ لیکن دل ۔۔۔۔۔ ؟ دل کی کیفیت الگ تھی ۔۔۔ لیکن اسوقت وہ دل کو پس پشت ڈالے ہوئے تھا ۔۔۔۔۔
مگر گزرتے وقت کے ساتھ ساتھ ۔۔۔۔ نوفل اپنی کیفت سے پریشان ہونے لگا تھا ۔۔۔۔ بے ساختہ نظریں مائرہ کی جانب اٹھنے لگیں تھیں ۔۔۔ پھر پلٹنے کے بجائے اسے دیکھنے کی ضد اب دل نے پکڑ لی تھی ۔۔۔۔ وہ اس سے کترانے لگا تھا جہاں وہ ہوتی نوفل وہاں سے چلا جاتا تھا ۔۔۔۔ کھانا کھاتے ہی گھر سے باہر نکل جاتا تھا بے مقصد بائیک پر چکر کاٹتا رہتا تھا ۔۔۔
رات کو دیر سے گھر پہنچتا تھا کچھ دن تو مائرہ اسکی یہ بدلی ہوئی روٹین چپ چاپ سے دیکھ رہی تھی ۔۔۔۔ لیکن ایک دن جاگ کر لاونج میں اس کاانتظار کرتی رہی تا کہ اس سے پوچھ سکے کہ وہ دیر تک رہتا کہاں ہے ۔۔۔۔ اتفاق یہ ہوا تھا کہ ذہنی پریشانی میں تو وہ مبتلہ ہو چکا تھااس لئے بے دھیانی سے بائیک چلاتے ہوئے سامنے آنے والی گاڑی کی سائیڈ سے بائیک ٹکرا گئ تھی ۔۔۔۔
وہ توازن برقرار نہیں رکھ پایا تھا اس لئے بائیک سمیت گر گیا ۔۔۔ چوٹیں ذیادہ نہیں آئیں ہلکی پھلکی خراشیں ہی بازوں آئیں تھیں ان میں بس ہلکا ہلکا ہی خون رس رہا تھا ۔۔۔ چونکہ قصور بھی نوفل کا تھا اور چوٹ بھی اتنی نہیں تھی ڈاکٹر پر جاتا اس لئے گاڑی کے ڈرائیو کرتے لڑکے سے معزرت کر کے اس نے بحث ختم کی تھی گھر میں داخل ہوتے ہی سامنے مائرہ کو بیٹھے دیکھ کر وہیں ٹھٹک گیا نوفل کو یوں لڑکھڑاتے ہوئے چلتا دیکھ کر دیکھ کر وہ اپناغصہ بھول کر اس کی طرف بڑھی تھی کپڑوں پر جگہ جگہ مٹی ۔لگی ہوئی تھی ۔ آستینیں اوپر چڑھیں ہوئیں تھیں اور کہنیاں بھی زخمی تھیں ۔ ۔۔ نوفل وہیں ڈائنگ ٹیبل کی کرسی کھنچ کر بیٹھ گیا تھا
” تمہیں کیا ہوا ہے ” مائرہ نے اس کے زخمی بازو دیکھ کر پوچھا
” وہ بائیک گاڑی سے ٹکرا گئ تھی “
” کیسے ٹکرا گئے تھے تم نوفل ۔۔۔۔ دھیان سے بائیک چلانی چاہیے تھی ۔۔۔۔ ” مائرہ حد درجہ پریشان ہوئی تھی ایسے ہی ایک حادثے میں زریاب کو کھو بیٹھی تھی ۔۔۔ اب تو ایسے کسی حادثے کا،سن بھی لیتی تھی کانپ جاتی تھی ۔۔۔۔ اور اسوقت نوفل کی ذرا سی چوٹ پر بھی وہ یوں پریشان تھی جیسے نا جانے کیا ہو گیا ہو اس کے بازو کو پکڑ کر خراشیں دیکھنے لگی ۔۔۔
نوفل جھٹکے سے اپنا بازو چھڑوایا تھا ۔۔۔۔وہ نظریں چرانے لگا تھا
” اتنی چوٹ بھی نہیں لگی ۔۔۔۔ “
” لگی تو ہے نا ۔۔۔۔۔ اور تم۔۔۔ یہ اتنی دیر باہر کرتے کیا ہو ۔۔۔۔۔ رکو آتی ہوں میں ابھی ” یہ کہہ کر وہ کر اپنے کمرے میں چلی گئ تھی ۔۔۔ ایک بے بسی سی تھی نوفل کے اندر ۔۔۔ وہ اپنے کمرے میں نا جانے کیا لینے جا چکی تھی ۔۔۔ وہ دل گرفتگی سے خود کلام ہوا
” آپ سے چھپنے کی کوشش کرتا ہوں ۔۔۔۔ کیا بتاؤں کس الجھن میں پھنس گیا ہوں ۔۔۔۔ کیاایسا کروں کے آپ کے سامنے نا آیا کروں “اس نے زیر لب ہی الفاظ ادا کیے تھے ۔۔۔۔ جب وہ باہر آئی تو ہاتھ پرفیوم تھا
” ڈیٹول تو مل نہیں رہا۔۔۔ لاؤ یہ لگا دوں زخم بھرے گا نہیں ” مائرہ پرفیوم لگانے کے لئے آگے بڑھی تھی نوفل بدک کر پیچھے ہٹا تھا
” ہرگز نہیں ۔۔۔۔ یہ نہیں لگاؤں بہت جلن ہوتی ہے ” اس نے برجستہ انکار کیا تھا
” اتنی بھی نہیں ہوتی ۔۔۔ ” مائرہ پرفیوم سے کیپ ہٹایا اور اس کا بازو پکڑنے لگی لیکن وہ نوفل نے پیچھے کر لیا
” دیکھیں میرے ساتھ زبردستی کرنے کی کوشش مت کریں میں یہ ہر گز نہیں لگواں گا ۔۔۔ ” نوفل نے اتحجاج کیا تھا لیکن مائرہ کے سامنے اس کا اتحجاج بھی بے معنی سا تھا ۔۔ اس کا بازو وہ پکڑ چکی تھی ۔۔
” تم مجھے کچھ بھی کرنے سے روک ہی نہیں سکتے ۔۔۔ یہ تم بھی جانتے ہو اور میں بھی ۔۔۔ خبردار جو اب ہلے بھی تو ۔ ” ایک عام سا جمعلہ تھا ۔۔۔ لیکن جو مفہوم نوفل سمجھ رہا تھا ۔۔۔ اپنا آپ واقع مائرہ کے سامنے بے بس سا ہی لگ رہا تھا ۔۔۔۔ زخموں پر پرفیوم اسپرے ہوتے ہی نوفل نے مضبوطی سے آنکھیں بند کیں تھیں ساتھ ہی مائرہ کا دوسرا ہاتھ بھی زور سے پکڑ چکا تھا ۔۔۔ تیز جلن نے کرنٹ سا لگایا تھا ۔۔۔۔
” اففف ۔۔۔ بہت ظالم ہیں آپ ” نوفل نے میچی ہوئی آنکھوں سے کہا مائرہ مسکرانے لگی
” بس اتنی سی بات تھی ۔۔۔ اور بچوں کی طرح تم شور کر رہے تھے ۔۔۔ تم سے بہادر تو ولی ہے نوفل ۔۔۔ ہر دوسرے دن چوٹ لگوا کر میرے پاس خود آ جاتا ہے اور کہتا
” مما پرفیوم کر دو ابھی ٹھیک ہو جاوں گا ۔۔۔ اور روتا بھی نہیں ہے ۔۔۔ اور ایک تم ہو ” نوفل سختی سے بند کی ہوئی آنکھیں کھولیں تھیں ۔۔۔ جلن کااثر بھی کافی کم ہو چکا تھا سامنے کرسی پر بیٹھی مائرہ اسے دیکھ کر مسکرارہی تھی
” نوفل صاحب اب آپ بچے نہیں ہیں ۔۔۔۔ ایک بچے کے باپ ہیں ۔۔۔۔ اس لئے بڑے ہو جائیے ۔۔۔۔ ” مسکراتے ہوئے وہ دھیمے لہجے میں اسے احساس دلا رہی تھی ۔۔۔ لیکن نوفل کی نظر اس کے چہرے پر جا کر ٹک گئ تھی ۔۔۔۔ سفید چادر کے ہالے سے لپٹا چہرہ سادگی میں بھی دل میں اتر اترتا ہوا محسوس ہو رہا تھا ۔۔۔۔ بڑی محویت سے وہ اس کے صبیح چہرے کو دیکھ رہا تھا
” اب میرا ہاتھ چھوڑ دو ۔۔۔ ورنہ جتنی مضبوطی سے تم نے پکڑ رکھا ہے ۔۔۔ میرے ہاتھ کی ہڈی ضرور کریک ہو جائے گی ۔۔۔۔ ” مائرہ کے احساس دلانے پر نوفل نے فورا سے اس کا ہاتھ چھوڑا تھا ۔۔۔ جو انجانے میں درد کی شدت برداشت کرتے ہوئے واقعی بہت زور سے پکڑا تھا
پھر وہاں رکا نہیں اٹھ کر اپنے کمرے میں چلا گیا ۔۔۔۔ پہلے تو واش روم میں جا کر اپنے ہاتھ اور منہ کو دھویا ۔۔۔۔
پھر لباس تبدیل کر کے بیڈ پر لیٹ گیا ۔۔۔۔
لیکن نیند آنکھوں سے کوسوں دور تھی ۔۔۔۔ تکیے پر سر رکھے وہ چت لیے کر خود کلام ہوا تھا
جتنا میں ان سے دور جانا چاہتا ہوں اتنا ہی وہ میرے اور بھی قریب ہونے لگتیں ہیں ۔۔۔پتہ نہیں کیوں ۔۔۔۔۔ ۔ کیسے سمجھاؤں انہیں کہ دور رہا کریں مجھ سے ۔۔۔۔ ” اپنی بدلتی کیفیت سے وہ پریشان تھا ۔۔۔ دوسرا مائرہ کی عام سے باتیں اب اسے خاص لگنے لگیں تھی ۔۔۔
آنکھیں بند کیں تو سامنے اس کا چہرہ نظر آنے لگا
“تم مجھے کچھ بھی کرنے سے روک ہی نہیں سکتے ۔۔۔ یہ تم بھی جانتے ہو اور میں بھی ۔۔۔۔ ” دل نے اپنی تیز دھڑکنوں سے اس بات کی تصدیق کی تھی ۔۔۔۔ کہ نوفل میاں ۔۔۔ یہاں آپ کی تو چلنے سے رہی ۔۔۔۔ نوفل نے خود کو جھٹکا اور کروٹ بدل کر سونے کی کوشش کرنے لگا
” نوفل صاحب اب آپ بچے نہیں ہیں ۔۔۔۔ ایک بچے کے باپ ہیں ۔۔۔۔ اس لئے بڑے ہو جائیے ۔۔۔۔ ” اس جمعلے نے کانوں میں پہلی بار ایک میٹھا سا رس گھولا تھا ۔۔۔ وہ زیر لب بولا
” نوفل صاحب “۔۔۔”۔ آپ ۔”۔۔۔۔ ہمممم ” ایک گہری سانس لی ۔۔۔ دل کا سرور ایسا تھا کہ لب مسکرانے پر مجبور ہوئے تھے۔۔۔۔
سوچنا بھی دلفریب سا لگ رہا تھا ۔۔۔۔۔ حالانکہ مائرہ نے پہلی بار اسے یہ نہیں کہا تھا یا توغصے میں طنز کرتے ہوئے کہتی تھی یا پھر جب بڑے موڈ میں ہوتی تھی تب کہہ دیتی تھی ۔۔۔ لیکن جتنا اچھا نوفل کو آج سن کر لگ رہا تھا پہلے کبھی احساس تک نہیں ہوا تھا کیونکہ احساسات تو اب بدلنے شروع ہوئے تھے ۔۔۔۔
اس وقت دل ذہن پر حاوی ہوا تھا ۔۔۔۔ نکاح کے لئے اقرار کرتے وقت لفظوں کے معنی اس وقت اتنے طاقت ور نہیں لگ رہے تھے جب وہ زبان سے ادا کر رہا تھا ۔۔۔ لیکن آج ان لفظوں نے جیسے اسے جکڑ سا لیا تھا ۔۔۔۔۔
” نکاح کے کچھ تقاضے ہوتے ہیں نوفل ۔۔۔۔ باقی سب کو تو تم نے شاید مزاق سمجھ لیا ہے لیکن کم از کم مائرہ بھابھی کو بھابھی اب مت کہنا ۔۔۔۔ ” وصی کی بات جو اس نے اس وقت سرسری طور پر سنی اور سمجھی تھی ۔۔۔ آج اس کے معنی سمجھ آ رہے تھے
دل اس رشتے کو قبول کرنے کی گواہی دے رہا تھا ۔۔۔لیکن ذہن انکاری تھا ۔۔۔۔ رات کا پہر تھا ہر سو خاموشی تھی ۔۔۔۔ لیکن نوفل کے اندر ایک شور بھرپا تھا ۔۔۔۔
دل کے اعتراف پر اس نے کروٹ بدلی تھی ۔۔۔۔
” نہیں ۔۔۔۔ نہیں نوفل ۔۔۔۔ میں ۔۔۔۔۔ ن۔۔۔کا۔۔۔ ح ۔۔۔۔ ہر گز نہیں کر سکتی ۔۔۔۔۔ زریاب سے بہت محبت کرتی ہوں ۔۔۔ تم مجھے ۔۔۔۔۔ اس آزمائش ۔میں ہر گز مت ڈالو ۔۔۔۔ “” مائرہ کے نکاح سے پہلے کہے جمعلے ذہن میں گونجنے شروع ہوئے تھے
“نہیں ۔۔۔۔ نوفل ۔۔۔۔۔ تم نہیں ۔۔۔۔۔ نکاح ؟ ۔۔۔۔ نہیں وہ نہیں کر سکتی تم سے ۔۔۔۔۔ زریاب کی جگہ کسی کو نہیں دے سکتی ۔۔۔۔ ہر گز نہیں “
” آپ سے کس نے کہہ دیا کہ مجھے بھائی کی جگہ چاہیے ایسا تو میں بھی کبھی نہیں سوچ سکتا کہ میں بھائی کی جگہ لینے کی کوشش کرو ۔۔۔۔ میں صرف آپ کو اپنا نام دینا چاہتا ہوں ۔۔۔۔ بس نکاح ہو گا ہمارا اور کچھ نہیں۔۔۔۔۔ جیسے ہم زندگی گزار رہے ہیں ایسے ہی گزرے گی ۔۔۔۔
میری نظر میں آپکی عزت اور احترام میں کبھی فرق نہیں آئے گا ۔۔۔۔ مجھے آپ سے کوئی حق نہیں چاہیے ۔۔۔۔ “۔ اپنی آوازوں کی باز گشت نے حوش اڑائے تھے
جھٹ سے وہ اٹھ بیٹھا تھا ۔۔۔۔ تنفس بری طرح بگڑا تھا ۔۔۔۔۔
کچھ دیر پہلے والا خیال پھر سے ایک گناہ سا لگنے لگا تھا ۔۔۔۔۔
اس نے نکاح سے پہلے ایک معاہدہ کیا تھا مائرہ سے
جس کی بنا پر وہ راضی ہوئی تھی ۔۔۔۔۔
اور آج چھ ماہ بعد ہی ۔۔۔ دل اسی بات کی ضد کر رہا تھا جس بات کاحق وہ لینے سے انکار کر چکا تھا ۔۔۔ دل آج اپنے اسی رشتے کا حق مانگ رہا تھا ۔۔۔۔ پسینے سے شرابور وہ ذہنی اذیت میں مبتلہ ہوا تھا ۔۔۔۔
” نہیں ۔۔۔۔ یہ نہیں کر سکتا ۔۔۔۔سوچنا بھی گناہ لگ رہا ہے ۔۔۔ میرے ۔۔۔۔ میرے بھائی کی بیوی ہیں وہ ۔۔۔ توبہ ۔۔۔۔ ایسے کیسے سوچ سکتا ہوں ۔۔۔۔۔”
اپنے اندر کی چھڑی جنگ سے وہ پریشان ہوا تھا ۔۔۔۔
دوسرے ہی دن وصی کے پاس اس کمرے میں موجود تھا ۔۔۔
” آج کیسے میری یاد آ گئ تمہیں ” وصی سے وہ کافی دونوں بعد مل رہا تھا
” نوفل بھائی ! بھابھی اور بچوں کو بھی ساتھ لے آتے ” زونیرہ بھی اسی کمرے میں موجود تھی
” بھابھی میں آفس سے سیدھا یہیں آ رہا ہوں ۔۔۔۔
کچھ دنوں تک لے آؤں گا ۔۔۔۔ ایک گلاس پانی دیدیں پلیز ” نوفل نے بہانے سے زونیرہ کو باہر بھیجا تھا ۔۔۔
” جی ابھی لائی ۔۔۔۔ “
” پانی رہنے دو زونی ۔۔۔۔ کولڈڈرنک لے آؤں ” وصی نے باہر جاتی زونیرہ کو ہانک لگائی تھی ۔۔۔ وہ کمرے سے باہر جا چکی تھی ۔۔۔۔۔
” مجھے کچھ نہیں پینا ہے ۔۔۔ مجھے تم سے اکیلے میں بات کرنی ہے وصی ۔۔۔۔ میرے ساتھ کہیں باہر چلو ” نوفل کے رازدانہ انداز پر وصی کچھ مضطرب سا ہوا تھا
” سب ٹھیک تو ہے نا ؟
“نہیں کچھ بھی ٹھیک نہیں ہے ۔۔۔۔ تم باہر چلو میرے ساتھ ۔۔۔پھر بتاتا ہوں ” نوفل اس کا ہاتھ پکڑے اسے گھر سے باہر لے گیا تھا
شام رات میں ڈھل رہی تھی مغرب کے بعد کاوقت تھا ملجگا سا اندھیرا ہر سو پھیلا ہوا تھا
“یہاں سے چند قدموں کی دوری پرایک چھوٹا سا پارک ہے وہاں چلتے ہیں ۔۔۔ ” وصی اسے پیدل ہی چلتے ہوئے سڑک کے ایک جانب لے گیا تھا ۔۔۔۔ پارک میں داخل ہوتے ہی ایک خالی گوشہ ڈھونڈ کر
وہاں رکھے بینچ پر وہ دونوں بیٹھ گئے ۔۔۔ نوفل اب بھی اسی سوچ میں گم تھا کہ بات کہاں سے شروع کرے
“, اب بولو کیا مسلہ ہے ” وصی نے اسے کھوئے ہوئے دیکھ کر پوچھا نافل نے ایک نظر وصی پر ڈالی پھر گھانس کی طرف دیکھنے لگا لفظوں کو ترتیب نہیں دے پا رہا تھا پھر سے وصی کی طرف بے بسی سے دیکھ کر بولا
” وصی وہ ۔۔۔۔۔۔ وہ ۔۔۔ کچھ دن پہلے ۔۔۔۔۔ انہیں بخار تھا ” نوفل نے جھجکتے ہوئے بات شروع کی تھی
” انہیں۔۔ ؟ کون انہیں ” وصی نے نافہمی سے پوچھا
نوفل کے لئے پہلے ہی بات کرنی مشکل ہو رہی تھی اس پر وصی کی ناسمجھی پر وہ زچ سا ہوا تھا
” مائرہ۔۔۔۔۔ مائرہ کو ” بڑا مشکل امر تھا جس سے وہ گزر رہا تھا
” ہاں تو یوں کہو نا ۔۔۔ میں بھی سوچوں یہ ” “انہیں ” کون ہے ۔۔۔ پھر ” وصی شاہد بڑے موڈ میں تھا
” پھر کیا ۔۔۔ رات بخار کی شدت بڑھ گئ تھی تو مجبورا ۔۔۔ مجھے انکے کمرے میں جانا پڑا کیونکہ وہ بخار اور نیند کی میڈسن کی وجہ سے غندگی میں تھیں ۔۔۔ہوش وحواس سے بے خبر تھیں اور۔۔۔۔ پھر ۔۔۔ ” نوفل نے مختصر سی بات وصی کو سنائی تھی ۔۔۔ وہ خاموشی سے سن رہا تھا ۔۔۔ پوری بات سن کر کچھ دیر نوفل کی غیر ہوتی حالت دیکھتا رہا
“, تو تمہیں لگ رہا ہے ۔۔۔ تم نے گناہ کیا ہے ؟ ” وصی نے ساری بات سن کی تعجب سے پوچھا
“, میں نے ایسا ویسا کچھ نہیں کیا ۔۔۔ بس انہیں روک نہیں پایا ۔۔۔۔وہ اپنے ہوش میں نہیں تھیں۔۔۔ دوا کے زیر اثر تھیں ۔۔۔۔ زریاب بھائی سمجھ کر مجھ وہ سب کہتی رہیں جو انہیں نہیں کہنی چاہیے تھیں ۔۔۔ غلطی میری ہے یار
مجھے انکے برابر بیٹھنا نہیں چاہیے تھا ۔۔۔ ناجانے کیسے میری آنکھ لگ گئ ۔۔۔ ساری گڑ بڑ اسی دن سے شروع ہوئی ہے ۔۔۔ ورنہ سب کچھ ٹھیک چل رہا تھا ۔۔۔ ” نوفل کی پریشان حال صورت دیکھ کر پہلے تو وصی مسکرانے لگا ۔۔۔۔ پھر ہسنے لگا۔۔۔۔ نوفل اسے حیرت اور غصے کے ملے جلے جذبات سے گھور رہا تھا
” اس میں ہسنے والی کیا بات ہے وصی “
” اپنی شکل جا کر آئنے میں دیکھوں ہونقوں کے سردار لگ رہے ہو ۔۔۔۔ ” وصی پھر سے ہسنے لگا تھا
” تمہیں مزاق سوج رہا ہے وصی میری جان پر بنی ہے ۔۔۔ ” نوفل سنجیدہ ہر کر سخت لہجے سے بولا تھا
” میری جان یہ تو ایک ناایک دن ہونا ہی تھا ۔۔۔۔ تم نکاح کو کیا سمجھتے ہو ۔۔۔۔ صرف کاغذی کاروائی ۔۔۔ بہت اٹوٹ بندھن ہے ۔۔۔ اور اپنا آپ منوا کر رہتا ہے ۔۔۔۔ میں تو اسی انتظار میں تھا کہ کب تم اسے تسلیم کرتے ہو ۔۔۔۔۔ ” وصی کی بات پر وہ تلملا سا گیا تھا ۔۔۔ نوفل اپنی حالت زار سے پریشان تھا اور وصی کو دری بھر پروا نہیں تھی ۔۔۔۔ اس کے اطمینان بھرے جواب پر نوفل سلگ کر رہ گیا تھا
” وصی میں یہاں تم سے نکاح کی تفصیل پوچھنے نہیں آیا ہوں۔۔۔۔۔سمجھنے کی کوشش کرو یار میری بھابھی تھی وہ ۔۔ میرے بھائی کی بیوی ۔۔۔۔ ان سے نکاح میں نے صرف انہیں اپنا نام دینے کے لئے کیا تھا ۔۔۔۔ ” ۔نوفل نے اپنی بات پر زور دیتے ہوئے کہا
” نوفل تم مجھے بس ایک بات کا جواب دو ۔۔۔۔ کیا مائرہ بھابھی کوصرف تمہارے نام کی ضرورت ہے ؟ بولو ۔۔۔۔ نہیں۔۔۔۔ انہیں تمہارے ساتھ کی بھی ضرورت ہے ۔۔۔۔ ” وصی اب سنجیدگی سے بات کر رہا تھا
” نہیں ۔۔۔۔ تم غلط سمجھ رہے ہو ۔۔۔۔ وہ اس دن بھائی کے تصور میں تھیں ۔۔۔۔ بہت محبت کرتی ہیں ان سے ۔۔۔ جو کچھ بھی ہوا ہے وہ اس بات سے انجان ہیں اگرانہیں بھنک بھی پڑ گی کہ سچ کیا ہے تو جانتے ہو کیا ریایکشن ہو گا انکا؟ ۔۔۔ جان سے ہی مار ڈالیں گئی۔ مجھے ۔۔۔ اور میں بھی ایسا کچھ نہیں چاہتا ہوں وصی جیساتم سوچ رہے ہو ۔۔۔۔۔ میں نے کئ سال ان سے ایک پاکیزہ رشتہ نبھایا ہے ۔۔۔۔۔ لیکن اب “نوفل کچھ دیر چپ ہوا تھا پھر کچھ توقف کے بعد بولا
“۔۔۔۔۔ شاید شیطانی خیالات ہیں ۔۔۔۔۔ مجھے بس دور رہنا چاہیے ان سے ۔۔۔ ” اپنے دل کوایک نیا دلاسہ دیا تھا وصی اسے تپے ہوئے دیکھ رہا تھا جو ایک حقیقت کا ماننے کو تیار نہیں تھا
” نوفل وہ تمہاری بھابھی تھیں ہیں نہیں ۔۔۔۔۔بھائی کی بیوی بھی تھیں ۔۔۔۔ یہ ماضی کی بات ہے ۔۔۔۔ اب وہ تمہاری بیوی ہیں یہ بات معنی رکھتی ہے اور یہ رشتہ بھی تمہارے لئے پاکیزہ ہی ہے ۔۔۔انہیں موجودہ رشتے کا احساس دلانا تمہارا کام ہے ۔۔۔۔۔ میں اسی وجہ سے تم سے نکاح سے پہلے بات کرنا چاہتا تھا ۔۔۔ کہ اگر تم انہیں اپنانا چاہیے تو ویسے اپناؤ جیسے اپنانے کا حق ہے ۔۔۔۔۔ انہیں تمہارے نام کے ساتھ ساتھ تمہاری بھی ضرورت ہے ۔۔۔ اور سچ پوچھو تو ایک ہمدرد ساتھی کی ضرورت تو تمہیں بھی ہے ۔۔۔۔ ” وصی کی بات پر بڑی غصیلی نظر سے نوفل نے اسے دیکھا تھا
” تم بات کو کہاں سے کہاں لے جا رہے ہو وصی ۔۔۔۔ ” نوفل اسکی بات کو تسلیم کرنے کو تیار نہیں تھا ۔۔۔ یاوصی اسے مطمئن نہیں کر پا رہا تھا
” وصی میں نے سات سال تک انہیں بہن کا درجہ دیا ہے ۔۔۔ نکاح میری مجبوری تھی ۔۔۔۔ سمجھ کیوں نہیں رہے ہو تم “
” منہ بولے رشتے کی اسلام میں کوئی اہمیت نہیں ہے ۔۔۔ اور اب تم ایساسوچ کر گناہ کے مرتب ہو رہے ہو ۔۔۔۔ میری بات تم سمجھ نہیں پا رہے ہو ۔۔۔ یا شاید میں تمہیں مطمئن نہیں کر سکتا ۔۔۔۔ بہتر ہے ہم اپنا مسلہ کسی ایسے شخص کے سامنے رکھیں جو تمہاری ٹھیک سے رہنمائی کر سکے ” وصی بات پر نوفل نے نفی میں سر ہلایا تھا
” نہیں ۔۔۔کسی مولوی کے پاس نہیں جاؤں گا ۔۔۔۔ نا جانے کون سا فتویٰ ڈال دے مجھ پر ۔۔۔۔ ” اندر سے نوفل خوفزدہ بھی تھا ۔۔۔۔وصی کو نوفل کی ہٹ دھرمی پر غصہ آیا تھا ۔۔۔۔ ۔
“,ٹھیک ہے ۔۔۔ جاؤں اور جیسے چاہتے ہو ویسے رشتے نبھاؤں میرے پاس تم کرنے کیا آئے تھے “وصی ہتھے سے اکھڑ کر بولا کب سے اسے سمجھانے کی کوشش کر رہا تھا۔۔۔۔ لیکن وہ سمجھنے کو تیار ہی نہیں تھا ۔۔۔۔ یااپنے اندر تغیر پذیر ہونے والی کیفیات کو عقل تسلیم نہیں کر رہی تھی ۔۔۔ ایک طرف وہ دل کے ہاتھوں پریشان بھی تھا۔۔۔۔دوسری طرف پچھلے رشتے کے آثار ابھی بھی اندر باقی تھے ۔۔ مائرہ سے جڑ جانے والا نیا رشتہ پہلے رشتے کے بلکل برعکس تھا ۔۔۔ اسے بھی تسلیم کرنا مشکل لگ رہا تھا ۔۔۔ ایک فطری سی بات تھی ۔۔۔۔سات سال جسے صرف بہن سمجھتا آ رہا تھا ۔۔۔ اسے بیوی کے روپ میں قبول کرنا مشکل امر تھا ۔۔۔ اپنی نظروں اور دل کی کی کیفیت کا بدل جانا اسوقت گناہ کے مترادف ہی لگ رہا تھا ۔۔۔۔۔ اسوقت تو نوفل نے وقت کی نزاکت کودیکھ کر جلد بازی میں نکاح کر کے سمجھا تھا کہ مسائل کا حل بس دو بول نکاح کے پڑھ لینے میں ہے ۔۔۔۔ اس لئے اس میں ذرا بھی دیر نہیں لگائی تھی ۔۔۔
لیکن اس نکاح نے جب دل کے تاروں کو چھیڑنا شروع کیا تھا تو ہوش اڑنے لگے تھے کہ ایجاب وقبول صرف لفظی اعتراف نہیں تھا ۔۔۔۔۔ نکاح اپنے آپ میں ایک مضبوط رشتہ ہے ۔۔۔۔ جو اپنی حقیقت کو منوانے کی طاقت رکھتا ہے ۔۔۔۔ نوفل اٹھ کر وہاں سے چل پڑا وصی پیچھے سے بلند لہجے سے بولا تھا
” ہاں ہاں جاؤ جاؤ ۔۔۔ لیکن یاد رکھنا میری بات نوفل ۔۔۔ تم جھٹلا نہیں پاؤں گئے ۔۔۔ اگلی بار میرے پاس تب آناجب دل سے اس رشتے کو قبول کر لو ” وصی نے اسے جاتے ہوئے دیکھ کر بلند لہجے سے کہا نوفل کی رفتار میں تیزی آئی تھی ۔۔۔ جس ذہنی مشکل سے دو چار ہو کر یہاں وصی کے پاس آیا تھا وہ تواب بھی اپنی جگہ قائم تھی ۔۔ بلکہ مزید الجھ گیاتھا ۔۔۔۔
******…….
زیان کے ارادے جب اسکی والدہ تو معلوم ہوئے کہ وہ اب شزا کی بات آپ ے والداور تایاسے خود کرے گا تو وہ شزا کے پاس چلیں گئی۔ زیان کو سمجھانا مشکل تھا ۔۔۔۔ لیکن اگر شزا ہی انکار کر دیتی تو زیان کی کوشش بیکار تھی ۔۔۔۔
شزا بچی کو اپنے کمرے کے دروازے پر کھڑے دیکھ کر سمجھ گئ تھی کہ زیان نے انہیں مجبورا بھیجا ہے ۔۔۔ انکے چہرے پر چھائی ناگواری دیکھ کر اتنا تو اندازہ لگا ہی سکتی تھی
” آئیے نا چچی ۔۔۔ باہر کیوں کھڑی ہیں ” شزا کا لہجہ متوازن ہی تھا ۔۔۔ وہ اندر آ گئیں دروازہ بھی بند کر دیا ۔۔۔۔
” بیٹا تم سے آج کچھ مانگنے آئی ہوں ۔۔۔ انکار مت کرنا ” انہوں نے کوئی بھی تمہید نہیں باندھی تھی ۔۔۔ شزا کو لگا کہ بیٹے نے مجبور کر کے بھیجا ہے
” چچی یہ تو آپ کی مانگی گئ چیز پر منحصر ہے ۔۔۔ میرے بس میں ہوا تو انکار نہیں کروں گی “
” شزا ۔۔ دیکھوں بیٹا میری بات کا غلط مطلب سمجھنا ۔۔۔۔ میں تمہیں اپنی بیٹی جیسا کہ سمجھتی ہوں ۔۔۔۔۔ اور خدا گواہ ہے کہ تمہارے ساتھ پیسائے حادثے کا مجھے دلی افسوس ہے ۔۔۔ بیٹا یہ سچ ہے کہ میں نے کبھی تمہیں اپنی بہو بنانے واب بھی دیکھے تھے ۔۔۔۔ لیکن زیان کی ہٹ دھرمی نے سب کچھ ختم کر دیا ۔۔۔۔۔ تمہاری بھی شادی ہو چکی تھی ۔۔۔۔ اس لئے میرا دل بھی بدل چکا تھا پھر تمہارے ساتھ جو حادثہ ہوا ہے ۔۔۔ ہم صرف پندرہ ہی کر سکتے ہیں ۔۔۔۔۔ کچھ مہینے سے زیان مجھ سے یہ ضد کر رہا ہے کہ میں تمہارارشتہ مانگوں ” یہ کہہ وہ چپ ہو گئیں
” چچی میں ایسا نہیں چاہتی ” شزا نے برجستہ جواںمب دیا تھا ۔۔۔ زیان کی والدہ کا چہرہ یہ سن کر ہی پر سکون سا ہو تھا
” ہاں تمہاری بات ٹھیک ہے ۔۔۔۔ تم کیسے ایسے شخص کو قبول کر سکتی ہو ۔۔۔ جس نے دھوکہ دیا ہو ۔۔۔ لیکن تم اپنے چچااور ابو کو جانتی ہو نا ۔۔۔۔
شاید تمہیں مجبور کرنے کی کوشش کریں ۔۔۔ دیکھوں تمہیں اگر صرف طلاق بھی ہوئی ہوتی تو میں پھر بھی مان جاتی لیکن تم اب بانجھ ہو چکی ہوں ” لفظوں نے شزا کو آرے کیطرح کاٹا تھا
” ایک ہی ایک تو بیٹا ہے میراسادی زندگی اسے بے اولادی کے ساتھ تو نہیں دیکھ سکتی ۔۔۔۔۔ ابھی تو نا جانے اس پر تم سے ہمدردی کابھور سوار ہے ۔۔۔ اس لئے میری سن رہا ۔۔۔لیکن اگر تم زیان کو سختی سے انکار کر دو تو ۔۔۔۔۔ ” “
” چچی میں کبھی بھی زیان سے شادی نہیں کروں ۔۔۔ آپ بے فکر ہو جائیں ” شزا مزید اڈقزم کی باتیں سننا ہی نہیں چاہتی تھی ۔۔۔ جو وہ اس سے کر رہیں تھیں ۔۔۔۔ شزا کا جواب سن کر وہ خوش سی ہو گئیں تھیں ۔۔۔۔۔
” خوش رہو تم ۔۔۔۔ بس تم اسے انکار کر دینا “
” آپ بیفکر رہیں ” شزا کا لہجہ اٹل تھا ۔۔۔۔
شام کو ہی سب صحن میں چائے پی رہے تھے جب زیان نے بست شروع کی تھی ۔۔۔
” تایا ابو ۔۔۔۔۔ ابو ۔۔۔۔ مجھے آپ لوگوں سے کچھ کہنا ہے “
” ہاں بولو ۔۔۔ “
” یہ بات مجھے ہوں تو نہیں کہنی چاہیے ۔۔۔ کیونکہ آپ لوگ میرے بزرگ ہیں ۔۔۔ درست طریقہ تو یہ تھا کہ یہ بات امی ابو سے کرتی اور ابو آپ سے اور تائی امی سے کرتے ۔۔۔ میں پچھلے چھ ماہ امی سے کہہ رہا ہوں لیکن وہ میری بات نہیں مان رہی۔ اس لئے مجبور مجھے براراست آپ سے بات کرنی۔پڑ رہی ہے “
‘ ایسی کیا بات ہے ” اعجاز صاحب نے پوچھا
” میں آپ سے شزا کا ہاتھ مانگنا چاہتا ہوں ۔۔۔۔۔ ” زیان کہ بات پر دونوں ہی پ ہوئے تھے ۔۔۔۔ خواہش تو اعجاز صاحب کی بھی یہی تھی ۔۔۔۔ لیکن انہیں لگا تھا کہ زیان نہیں مانے گا ۔۔۔۔
ابھی ٹھیک سے جواب بھی نہیں دے پائے تھے گھر کا مین گیٹ دھڑدھڑایا گیا تھا ۔۔۔۔ فاروق اور احمر بھی اپنے بیوی بچیوں کے ساتھ وہیں صحن میں ہی موجود تھے
” اسوقت کون ہے ” فاروق نے آگے بڑھ کر دروازہ کھولا تھا سامنے عفیرہ کھڑی تھی ۔۔۔۔۔
“مجھے زیان سے ملنا ہے ” سر پر چادر اوڑھے وہ سخت لہجے سے بولی فاروق دروازے سے پیچھے ہٹ گیا عفیفمرہ اندر داخل ہوگئ۔۔۔۔
سب کی نظریں مین گیٹ کی طرف ہی لگی۔ ہوئی تھیں ۔۔۔۔ عفیرہ کو دیکھ کر سب کی حیران تھے لیکن سب سے ذیادہ زیان پریشان ہوا تھا ۔۔۔ وہ سیدھی زیان کے پاس آ کر کھڑی ہوئی تھی
” تم یہاں کیا کر ے آئی ہو ” زیان نے سخت لہجے سے کہا
” میرا گھر برباد کر کے تم مجھ سے پوچھ رہے ہو میں کیوں آئی ہوں ۔۔۔۔ مجھے شادی کا کہہ کر گھر گاڑی کے خواب دیکھا کر تم نے مجھے دھوکہ دیا ہے زیان ۔۔۔۔ ” وہ چلا کر بولی ۔۔۔ سب لوگ ہی یہ سب دیکھ کر حیران تھے
” میں نے تم یہ سب نہیں کہا ۔۔۔ تم لالچ کی وجہ سے خود میرے پیچھے آئی تھی ۔۔۔۔ رہ گئ بات دھوکے کی تو ۔۔۔۔ ایساہی دھوکہ تم مجھے بھی دیا تھا ۔۔۔۔۔ گاڑی دیکھ کر مجھے چھوڑ کر چلی گئ تھی ۔۔۔۔۔ چلو ابھی کے ابھی نکلو باہر ورنہ پولیس کو بلا کر تمہیں اندر کروا دونگا ” زیان بھی چلا کر بات کر رہا تھا
” نہیں تم نے مجھے برباد کیا ہے اس لئے مجھ سے شادی بھی تم ہی کروں گئے ۔۔۔۔ ” زیان یہ کر سب کے سامنے روتے لگی
” اسکی وجہ سے میری شوہر نے مجھے طلاق دے دی ہے ۔۔۔ اس نے مجھے جھوٹی محبت اور گھر گاڑی کی لالچ دی تھی ۔۔۔۔ ” وہ وہاں موجود باقی موجود لوگوں سے کہنے لگے
” میں نے لالچ دی اور یہ شوہر بچہ چھوڑ کر بھاگی چلی آئی ۔۔۔۔ تو قصور کس کا ہوا ؟ ۔۔۔ میرا یا اس کا۔۔۔۔ کیااتنی کچی دوڑ سے بندھا رشتہ تھا اس کا ۔۔۔۔ جو میرے کہنے پر یہ سب کچھ چھوڑ کر چلی بھی ائی۔۔۔۔ “
” دیکھوں لڑکی باتوں سے بیوقوف کسی اور کو بنانا تمہارے بارے ہم سب جانتے ہیں ۔۔۔۔ نکلو یہاں سے باہر ورنہ دھکے دے کر نکالیں گئے ۔۔۔۔ ” تایا نے عفیرہ کو غصے سے کہا ۔۔۔۔
” آپ لوگ کیسے مجھے جھوٹا کہہ سکتے ہیں ۔۔۔ میں سچ کہہ رہی ہوں اسی نے مجھے برباد کیا ہے اسے کہیں کہ مجھے اپنائے ” ۔۔۔۔ عفیرہ کا یہ داؤ بھی خی گیا تھا
” تم اگر اچھی اور شریف ہوتی تو آج ہمارے گھر کی عزت ہوتی ۔۔۔۔ لیکن تم نے زیان کی منگتر ہوتے ہوئے لالچ میں آکر کسی اور سے شادی کر لی تھی اور اب وہاں بھی بس نہیں سکی تو ہمارے بیٹے پر الزام لگانے آ گئ ۔۔۔۔ چلو باہر نکلو ۔۔۔۔ ” زیان نے والد اور تایا نے نے عفیرہ کی ایک نہیں سنی تھی اسے گھر سے باہر نکال دیا ۔۔۔۔
******…….
توقیر صاحب نے رمشہ کی اچھی کلاس لی تھی ۔۔۔
” شرم نہیں آتی تمہیں۔ شوہر کے ساتھ بد سلوکی کرتے ہوئے ۔۔۔۔ اگر وہ تمہیں نااپناتا تو اب تک ہماری دہلیز پر بیٹھی رہتی۔ ایزی لڑکی کو کون پوچھتا ہے جس کی شادی کے ایک ہفتے پہلے ہی شادی سے انکار ہو جائے ۔۔۔۔ آخر تمہیں چاہیے کیا رمشہ ۔۔۔ نوفل کے گھر پر رہنا بھی تمہیں گوارا نہیں تھا ۔۔۔ وہاں بھی تمہاری ہٹ دھرمی کی وجہ سے انکار ہو گیا تھا ۔۔ اور بدر جیسا بے ضرر انسان بھی تمہیں پسند نہیں ۔۔۔ آخر ہو کیا تم ۔۔۔ ” توقیر صاحب کی برداشت ختم ہوئی تھی
” ابو ۔۔۔۔ وہ آپ کو کہاں سے میرے لائق لگتا ہے ” رمشہ کا لہجہ نخوت بھرا تھا لیکن تھا دھیمہ
” بکو مت ۔۔۔ ے۔ہارے نزردیک انسان کی پرکھ ظاہری روپ رنگ سے ہے ۔۔۔ ارے ہیرا ہے ہیرا میرا داماد جو تم جیسی لڑکی کو چپ چاپ برداشت کر رہا ہے ۔۔۔۔ جو اسے پانی کاایک گلاس بھی پلانے کی روادار نہیں ۔۔۔۔ کوئی اور ہوتا تو نبھانے کے بجائے
طلاق نامہ ہاتھ میں دے کر تمہیں بھیج دیتا ۔۔۔۔ میری بات کان کھول کر سن لو ۔۔۔۔ اگر تم بدر کے گھر بسنا نہیں چاہتی تو میرے گھر کے دروازے بھی تم پر بند ہیں جہاں چاہو چلی جاؤ ” توقیر صاحب کے اٹل انداز پر رمشہ متحیر سی ہوئی تھی اس بار ماں بھی چپ تھی ۔۔۔۔
” ابو ۔۔۔ میں “
” یہ میرا آخری فیصلہ ہے ۔۔۔ کل یا تو بدر کے گھر جانے کے لئے تیار رہنا یا پھر اپنا انتظام جہاں چاہو کر لینا ۔۔۔ میں دنیا کے سامنے مطلقہ بیٹی کے باپ کو ے کی ذلت نہیں سہہ سکتا ۔۔۔۔ ” باپ کے سخت لہجے کا نتجہ تھا کہ وہ اگلے بدر کے گھر جانے کو تیار تھی
” اور سنو ۔۔۔ گھر جاتے ہی تم آپ ی ساس سے معزرت کرو گی “
” ابو میں معافی کسی سے نہیں مانگو گی ‘”
” رمشہ ” توقیر صاحب کی دھاڑ پروہ خاموش ہوئی تھی ۔۔۔
” غلطی کی ہے تو معافی تو تم ضرور مانگو گی ” باپ نے بیٹی کی غلطی پر ذرا بھی لچک نہیں دیکھائی تھی ۔۔۔۔ رمشہ کو ہی چپ ہونا پڑا تھا ۔۔۔۔ گھر واپس جا کر اس نے بدر کی والدہ سے معزرت میں۔ بس سوری ہی کہا تھا۔۔۔۔ بس انہی لفظوں کوسنے کر انہوں نے خود ہی آگے بڑھ کر رمشہ کو گلے لگا لیا تھا ۔۔۔۔ بدر البتہ سب بھی ماتھے پر بل ڈالے کھڑا تھا ۔۔۔۔ رمشہ کو نرمی دیکھانے کاکوئی ارادہ نہیں رکھتا تھا ۔۔۔۔
********…….
“ہائے اماں میں لٹ گئ برباد ہوگئ۔۔۔۔ شہزاد نے کیسے میرے ناک کے نیچے دوسری عورت سے چکر چلا لیا ۔۔۔ ارے میرے ہوتے ہوئے کیسے دوسری شادی کر لی ۔۔۔۔ ” شبو اماں جی کے ساتھ لگی بلک بلک کر رو رہی تھی
