Log Kia Kahe Gy by Umme Hani NovelR50418

Log Kia Kahe Gy by Umme Hani NovelR50418 Log Kia Kahe Gy Episode 2

491.6K
51

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Log Kia Kahe Gy Episode 2

Log Kia Kahe Gy by Umme Hani

” بھابھی جی ۔۔۔۔ کون سا فلیور کھانا پسند کریں گئے آپ ۔۔۔ بھئ مجھے تو چوکلیٹ پسند ہے اور بھائی ونیلا شوق سے کھاتے ہیں ۔۔۔ آپ کے لئے کیا آڈر کروں ” نوفل نے مائرہ کے غصے کو خاطر میں نا لاتے ہوئے پوچھا تھا

“, مجھے کچھ نہیں کھانا ہے ” غصے سے وہ اسے آنکھیں دیکھاتے ہوئے کہا

” او کے ایم سوری ۔۔ غصے تھوک۔ بھی دیں اب ۔۔۔۔میں آپ سے مزاق کر رہا تھا ۔۔۔ بتائیے ۔۔۔ کون سی آئسکریم کھائیں گئیں ۔۔۔ “اب وہ سنجیدہ سا ہو گیا تھا

” تم سے کہہ جو دیا کہ مجھے کچھ نہیں کھانا۔۔۔ “

ہے ۔۔۔ ” مائرہ کاغصے سے برا حال تھا

” او کے آپ کی مرضی ” نوفل نے کندھے اچکائے اور گاڑی اسٹاٹ کر لی ۔۔۔ ہال کے باہر ہی زریاب اس ان دونوں کا منتظر تھا مائرہ کو غصے میں دیکھ کر نوفل کو مصنوعی آنکھیں دیکھانے لگا

” بہت تنگ کر لیا تم نے میری بیوی کو ۔۔۔ خبردار جو اب کچھ کہا تو “

” نہایت ہی بور ہے آپکی وائف ۔۔۔ آپ ہی سنبھالیں انہیں ۔۔ میں ذرا اندر آپ لوگوں کااسپشل استقبال کا انتظام کیا ہے وہ دیکھ لوں ۔۔۔ ” یہ کہہ نوفل ہال کے اندر چلا گیا تھا

زریاب مائرہ کو مسکرا کر دیکھنے لگا جو دلہن بنی غصے میں بھی غصب ڈھا رہی تھی

” مائرہ پلیز موڈ تو ٹھیک کرو اپنا ۔۔ ایسے اندر جاؤں گی ؟ ۔۔۔۔ کتنا برا لگے گا ” اسوقت تو مائرہ کو زریاب کی بھی ہر بات بھی بری لگ رہی تھی

” آپ کو میری ذرا بھی پروا ہے ۔۔۔ کس قدر بد تمیز شخص ہے آپ کا بھائی ” مائرہ غصے میں کہہ گئ تھی اندازہ نہیں تھا کہ زریاب بھڑک اٹھے گا

” مائرہ ” زریاب کے سختی سے پکارے جانے پر چپ ہوئی تھی

” ایسا بھی کیا کہہ دیا ہے اس نے تمہیں۔۔۔۔ بچہ ہے۔۔۔ چھوٹا ہے ۔۔۔ اتناخوش ہے کہ کوئی تو نیا فرد اپنی فیملی میں شامل ہوا ہے ۔۔۔ ایک آئسکریم ہی کھانے کی فرمائش کی تھی اس نے تم سے ۔۔۔ کیا برائی تھی جو تم ہنس کر اس کا دل ہی رکھ لیتی ۔۔۔۔ خیر اس وقت یہاں یہ موقع نہیں کہ میں تمہیں سمجھاسکوں ۔۔۔ فی الحال تواپنا موڈ ٹھیک کرو ۔۔ گھر چلو تو بات کرتا ہوں تم سے ” زریاب کے بدلے رویے پر مائرہ جتنی بھی حیران ہوتی اتنا کم تھا ۔۔۔

چہرے پر سنجیدگی لئے وہ اس کا ہاتھ تھامے ہال میں داخل ہوا تھا ۔۔۔

ان دونوں کے اندر داخل ہوتے ہی ہال کی لائٹس بند ہوئیں تھیں ۔۔۔

فوکس لاٹٹس ان دونوں پر ہی تھیں ۔۔۔۔ زریاب بلیک پینٹ کوٹ میں تھا بلکل ویسا ہی پینٹ کوٹ نوفل نے بھی پہنا تھا ۔۔۔ مائرہ وائٹ میکسی پہنے ہوئے تھی ڈوپٹہ پنک تھا ۔۔۔۔

با مشکل ہی زریاب کے ساتھ چلتے ہوئے مسکرا پا رہی تھی گلے میں بہت گرہیں تھیں ۔۔۔ ابھی ٹھیک سے میاں کے مزاج کو بھی نہیں سمجھی تھی ۔۔۔ نئے نئے اس خوبصورت بندھن کے ٹھیک سے رنگ بھی نہیں دیکھ پائی تھی کہ نوفل کی وجہ سے ۔۔ زریاب سے کچھ پہلے بہت کچھ سن چکی تھی ۔۔۔۔

نوفل کیمرہ مین کے ساتھ ہی کھڑا تھا اسکے کیمرے میں ۔ دیکھ کر اسے انسٹرکشن کر رہ تھا کہ دونوں کے پوز کیسے لئے جائیں ۔۔۔ زریاب کا موڈ تو بحال ہو چکا تھا لیکن مائرہ چپ سی تھی ۔۔۔

کاش کے اس کے سسرال میں بھی ساس اور نندیں ہوتیں کوئی جیٹھانی دیوانی ہوتی ۔۔۔ سسرال کے نام پر بس ایک رشتہ تھا وہ بھی دیور کا ۔۔۔

جو اسے پہلی نظر میں ہی اچھا نہیں لگا تھا ۔۔۔ اس پر میاں صاحب کی مہربانیوں کا یہ عالم تھا کہ بس بھائی کی غلطی نظر ہی نہیں آ رہی تھی ۔۔۔ دل میں نوفل کے لئے ایک کدورت سی بیٹھ گئ تھی اسکے دل میں ۔۔۔

فوٹوسیشن کرواتے ہوئے ۔۔۔۔ نوفل زریاب کے بجائے مائرہ کے ساتھ کھڑا ہوا تھا ۔۔ بڑی بے تکلفی سے ہاتھ ہاتھ پھیلا کر مائرہ کے ساتھ کھڑا ہوا تھا ۔۔۔ مائرہ ہی کچھ کھسک کر زریاب کے پہلو سے جا لگی تھی ۔۔۔

” سسٹر سمائل پلیز ” سامنے کیمرہ مین نے مائرہ کے اترے ہوئے چہرے کو دیکھ کر کہا

دو تین تصویروں کے بعد نوفل نے زریاب کو ہٹنے کے لئے کہہ دیا تھا

” بھائی اب کچھ تصویریں۔ مجھے بھی تو بھابھی کے ساتھ۔ بنانے دیں آفٹرآل ایک اکلوتا دیور ہوں انکا ۔۔۔ ” نوفل مائرہ کے ساتھ کھڑا ہوا بولا ۔۔ زریاب مائرہ کی ناگواری دیکھ چکا تھا ۔۔ اس لئے سنجیدگی سے بولا

” تم چھوڑو اسے ۔۔ میرے ساتھ آؤ ۔۔۔۔ ہم مل کر پک بنواتے ہیں بھابھی تمہاری شاید تھک چکی ہے ” زریاب کی بے اعتنائی کی بھی اس پل مائرہ کو پروا نہیں تھی بس یہ شکر کر رہی تھی کہ نوفل کے ساتھ تصاویر نہیں کھنچوانی پڑیں گئیں ۔۔۔

سامنے اسٹیج پر بیٹھ گئ تھی ۔۔۔ زریاب دوبارہ مائرہ کے پاس آ کر نہیں بیٹھا تھا ۔۔ کھانا بھی مائرہ نے اپنی والدہ کے ساتھ کھایا تھا ۔۔۔۔

گھر واپس آ کر وہ سیدھا اپنے کمرے میں گئ تھی ۔۔۔ زریاب کا موڈ خاصا بگڑا ہوا تھا ۔۔۔

ڈرائیونگ نوفل ہی کر رہا تھا برابر میں زریاب بیٹھا تھا مائرہ پیچھے بیٹھی تھی

” شکر ہے بھائی سب کچھ بہت اچھے سے ہو گیا

کھانے کی سب تعریف کر رہے تھے ۔۔۔ میں نے کہا تھا نا آپ سے کہ کیٹرین کی ساری ذمہ داری مجھ پر چھوڑ دیں ۔۔۔ سب کہہ رہے تھے بارات سے ذیادہ ولیمے کا کھانا لاجواب تھا ” نا جانے نوفل نے یہ بات سرسری انداز سے کی تھی یا پھر مائرہ پر یہ جتانا چاہا تھا ۔۔۔۔ کہ بارات پر دیا جانے والا کھانا اچھا نہیں تھا دل تو پہلے سے دکھی تھا اسکی بات سلک سا گیا تھا

” مجھے تم پر بھروسہ ہے نوفل جبھی تو سب کچھ تم پر چھوڑ کر بے فکر ہو جاتا ہوں ۔۔۔ کہ میرا چھوٹو ماشاءاللہ سے اب بڑا ہو گیا ہے میرا بازو بن گیا ہے ” بڑے لاڈ سے زریاب نے نوفل کا گال تھپتھپا کر کہا تھا

” آئی لو یو برو “

” لو یو ٹو یار ” زریاب نے پیار کا جواب پیار سے دیا تھا

” بھابھی جی آپ بھی کچھ کہیں نا ۔۔۔ لگ ہی نہیں رہا کہ آپ بھی گاڑی میں موجود ہیں اتنا چپ کیسے رہ لیتی ہیں آپ ” مائرہ کو نوفل نے فرنٹ کے شیشے سے دیکھتے ہوئے مخاطب کیا تھا لیکن وہ کھڑکی سے باہر دیکھنے لگی اسکے چہرے کے بگڑے تاثرات دیکھ کر نوفل نے آبرو اچکائے تھے

” تم اسے چپ ہی رہنے دو نوفل ” زریاب نے نوفل سے یہ کہہ کر خود۔ بھی کھڑکی سے باہر دیکھنے لگا

“جو ترے سنگ لاگی پریت موہے

رو بار بار تیرا تھام لے

کہ رب سے ہے مانگی یہی ہے دعا

تو ہاتھ کی لکیریں تھام لے

چپ ہیں باتیں ۔۔۔ دل کیسے بیاں میں کروں

تو ہی کہہ دے وہ جو بات میں کہہ نا سکو

کہ سنگ تیرے پانیوں سا پانیوں سا بہتا رہو

تو سنتی رہے میں کہانیاں سی کہتارہو “

نوفل گانا گنگناتے ہوئے فرنٹ شیشے سے مائرہ کو دیکھ رہا تھا ۔۔

شاید جان چکا تھا کہ دونوں میں کچھ ناراضگی چل رہی ہے ۔۔۔

پھر گاڑی میں یہی گانا بھی لگا دیا ۔۔۔۔ گانے بول وہ خود بھی ساتھ دہرا رہا تھا ۔۔۔ وہ دونوں ہی چپ بیٹھے تھے ۔۔۔

*****……

صبح آفرین تیز بخار میں پائے کر رہی تھی ۔۔۔۔

” امی پھپو کو بہت تیز بخار ہے ہائے امی ۔۔ ہائے امی ۔۔۔۔ ہائے امی ۔۔۔ کیے جا رہیں ہیں پھپو ” ببلی جب پھپو کو اسکول کی تیاری کے لئے اٹھانے آئی تو ۔۔۔ ہائے ہائے کرتی پھپو کو دیکھ کمرے سے باہر نکل گئ تھی ۔۔۔ صبح اسکول کے لئے آفرین ہی بچوں کو تیار کرتی تھی ۔۔۔

” عامرہ تھپ تھپ کرتی اپنے بھاری وجود کے ساتھ اندر آئی تھی ۔۔۔ آفرین کا لحاف منہ سے ہٹا کر ناگواری سے اسے دیکھا ۔۔۔ اسکے ماتھے کو چھوا جو تپ رہا تھا لحاف ناگواری سے پھر سے منہ پر دیا تھا

صبح سے دوپہر کوئی تھی نا آفرین میں ہمت تھی کہ اٹھ کر اپنے لئے ناشتہ بنا کر کھاتی اور دوا لیتی نا کسی نے دوبارہ اسکے کمرے کارخ کیا تھا کہ دیکھ ہی لیں کہ اندر بخار میں لیٹا وجود زندہ بھی ہے کہ نہیں ۔۔۔

بخار اور نفاست کے باوجود بھوک کی وجہ سے آفرین کو اٹھنا ہی پڑا تھا ۔۔۔ با مشکل ہی اس نے جلتی آنکھوں سے بہتے پانی کو صاف کیا اٹھ کر واش روم میں گئ کافی دیر ٹھنڈے پانی سے منہ دھوتی رہی ۔۔۔

اسکے کچھ ہوش بحال ہوئے تھے ۔۔۔ کچن میں آ کر اپنے لئے چائے بنائی تھی ۔۔۔ باہر لانج میں بیٹھ کر چائے ساتھ چند بسکٹ حلق سے اتارے اور بخار کی دوا لی ۔۔۔ آدھے گھنٹے بعد ۔۔۔ ہی۔ ببلی کا ہاتھ پکڑا اور محلے کے ڈاکٹر پر چلی گئ ۔۔۔۔ ہر ماہ بھائی دو ہزار کا نوٹ تھما دیتا تھا کہ اپنی ضرورت کی چیز خرید لینا ۔۔۔ انہیں پیسوں کو مٹھی میں دبائے وہ ڈاکٹر کے پاس گئ تھی ۔۔۔۔ دوا لیکر واپسی کے لئے جانے لگی تو راستے میں بدر حسین مل گئے ۔۔۔ اپنی والدہ کو شاید ڈاکٹر پر لیکر جا رہے تھے ۔۔۔ اسی محلے میں رہتے تھے ۔۔۔۔ آفرین کے لئے پسندیدگی رکھتے تھے ۔۔۔ لیکن انکی والدہ کو گرین پسند نہیں تھی ۔۔۔ اور بدر حسین میں اتنی ہمت نہیں تھی کہ ماں کے خلاف چل سکے اس لئے آفرین کو دیکھ کر ٹھنڈیباہین بھی بھر سکتا تھا ۔۔۔۔

آفرین نے ایک نظر ڈال کر ہٹا لی ۔۔۔

گھر ا کر دوا کھا کر لیٹ گئ ۔۔۔

” سنو شام کو کچھ لڑکے والے آنے والے ہیں تیار ہو جانا اور چائے کا کچھ سامان میں نے منگوا لیا ہے

چائے بنا کر اندر لے آنا ۔۔۔ “

” بھابھی میری طعبیت ٹھیک نہیں ہے “

” یہ تو تمہارے پاس ایک سے ایک بہانے موجود ہوتے ہیں ۔۔۔۔۔ اول تورشتہ آتا نہیں ہے اب اگر آ ہی گیا ہے تو تم بستر سنبھال کر بیٹھ جاؤں ۔۔۔۔

” بھابھی مجھے بخار ہے ۔۔۔ “

” ارے ذرا سا بخار کیا چڑھ گیا تم تو سر پر سوار کر کے بیٹھ گئ ہو ۔۔۔ بس مجھے کچھ نہیں سننا شام کو تیار رہنا ۔۔۔ لوگ تو مجھے ہی باتیں سنائیں گئے جوان نند کو جان بوجھ کر گھر بیٹھسئے رکھا ہے ” عامرہ چار باتیں سنا کر کمرے سے جا چکی تھی

*******…….

سر زیان (کمپوٹر ٹیچر ) کوریڈور سے گزر رہے تھے جب عفیرہ سامنے سے گزرتی ہوئی نظر آئی تھی

عفیرہ نے سر کو سامنے سے آتے ہوئے دیکھا تو مسکرا کر شرماتے ہوئے اس کے پاس گزرتے ہوئے آنکھیں مٹکانے لگی لیکن وہ نظریں جھکا کرگزر گیا

اسکے جاتے ہی عفیرہ پلٹ کر پوری گھوم گئ ۔۔۔

” ارے لفٹ تک نہیں کرائی ۔۔۔ ایسی بھی کیا بے مروتی ہے ۔۔۔ ” عفیرہ خود پسند سی لڑکی تھی سمجھتی تھی کہ لڑکے دیکھ کر لٹو ہو جائیں گئے

یا جیسافلموں ڈارموں میں ہوتا لڑکی کو دیکھ کر لڑکے ان پر مر مٹتے ہیں ۔۔۔ لو اسٹوری چلتی ہےپھر رومانس چلتا ہے ۔۔۔۔ شادی بھی ہو جاتی ہے ۔۔۔لیکن یہ لڑکا تو کچھ زیادہ ہی ایٹیٹوٹ دیکھا رہا ہے ۔۔۔ حالانکہ اتنا بھی ہیڈ سم نہیں ہے بس ٹھیک کی ہے ” عفیرہ نے نا پسندیدگی سے سوچا اور اپنی کلاس میں چلی گئ ۔۔۔۔

******……..

آدھی رات بیت چکی تھی لیکن زریاب کمرے میں نہیں آیا تھا ۔۔۔ مائرہ کافی دیر انتظار کر کے چینج کر کے لیٹ گئ تھی لیکن سوئی نہیں تھی ۔۔۔ اکیلے نیند ہی نہیں آ رہی تھی ۔۔۔ رات تین بجے کے قریب وہ کمرے میں آیا تھا ۔۔۔ ٹراوزر شرٹ میں ملبوس تھا ۔۔۔ سنجیدہ سنجیدہ سا آ کر بیڈ پر لیٹ گیا ۔۔۔

مائرہ نے اسے دیکھتے ہی آنکھیں بند کر لیں تھیں ۔۔۔۔ ایک نظر زریاب نے اسکی طرف دیکھا پھر اپنی آنکھوں پر ہاتھ رکھ کر لیٹ گیا ۔۔۔ مائرہ کو لگا کہ وہ اس سے بات کرے گا لیکن نہیں اسے پروا تک نہیں تھی ۔۔۔ مائرہ کا دل ٹوٹ سا گیا تھا ۔۔۔۔ اس لئے کروٹ بدل کر سونے کی کوشش کرنے لگی ۔۔۔ کچھ ہی دیر میں سو چکی تھی ۔۔۔ صبح جب آنکھ کھلی زریاب برابر میں ہی بیڈ کے کروان پر ٹیک لگائے بیٹھا موبائل میں مصروف تھا ۔۔۔ ایک نظر مائرہ کو دیکھ کر دوبارہ سے موبائل پر مصروف ہو گیا ۔۔۔۔ وہ اٹھ کر بیٹھ گئ ۔۔۔ پھر ڈوپٹہ اٹھا کر خود پر اوڑھ کر اٹھنے لگی

” مائرہ بیٹھوں ادھر مجھے تم سے کچھ بات کرنی ہے ” زریاب نے گھمبیر لہجے میں بات شروع کی تھی

” جی کہیے “

” میں تمہیں پہلے بھی بتا چکا ہو کے میرا بھائی مجھے کتنا عزیز ہے ۔۔۔ بار بار دہراؤں گا نہیں آئندہ میں تمہیں نوفل کے بارے وہ سب کہتے ناسنو جو تم نے رات کو کہا تھا ۔۔۔۔ مائرہ میں سب کچھ برداشت کر سکتا ہوں نوفل کے ساتھ کوئی غلط بات کرے میں برداشت نہیں کر سکتا چاہے وہ تم ہی کیوں نا ہو ۔۔۔۔ بس اس بات کا ہمیشہ خیال رکھنا ۔۔۔ ” مائرہ چپ کی چپ رہ گئ تھی ۔۔۔۔ جس قدر وہ سنجیدگی سے کہہ رہا تھا ۔۔۔ سمجھ گئ تھی کہ اسکی زریاب کی نظر میں حیثیت کیا ہے ۔۔۔۔ مرد بھی عجیب ہوتے ہیں صرف دو ہی رنگ کے مالک مہربان ہوں تو یوں ایک پل میں آسمان پر چڑھا دینے والے اور اگر بات۔ مزاج کے ذرا خلاف ہو جائے تو پل میں زمین پر پٹخ دینے والے ۔۔۔ کئ آنسوں اسنے پلکوں کی باڑ سے پیچھے دھکیلنے تھے

پھر دل میں سوچنے لگی

” عورت کے کئ روپ ہوتے ہیں زریاب صاحب آپ نے تو دو دن میں اپنے دونوں روپ سے میری اچھی واقفیت کروا دی لیکن میری جھلک ابھی تک دیکھی ہی کب ہے ۔۔۔۔

آپ دونوں بھائیوں کو نچوا کے رکھ دیا تو مائرہ نام نہیں ہے میرا ۔۔۔ ایک مصمم ارادہ کر کے اس نے ٹھنڈی آہ بھری تھی

” جی ۔۔۔ آئندہ خیال رکھوں گی ” مائرہ نے بے دلی سے کہا تھا لیکن اس کا یہ کہہ دینا زریاب کا موڈ بحال کر گیا تھا ۔۔۔

” ہاں یار پلیز نوفل کا بہت خیال رکھا کرو ۔۔۔۔ ” لہجہ یک دم ہی بدل گیا تھا چہرے پر تناؤ کی جگہ نرمی چھلکنے لگی تھی ۔۔۔

مائرہ اٹھ کر فریش ہو کر کمرے سے باہر گئ تا کہ ناشتہ بنا سکے لیکن کچن میں پہلے سے ہی نوفل موجود تھا ۔۔۔ ناشتہ ہی بنا رہا تھا ۔۔۔ مائرہ کو دیکھ کر مسکرانے لگا

” اسلام علیکم بھابھی ۔۔۔۔آپ اور یہاں ؟ باہر جا کر بیٹھیں میں ناشتہ بس لگانے ہی لگا ہوں ” وہ انڈے فرائی کر کے پلیٹ میں رکھ چکا تھا ۔۔۔ چائے بھی پک چکی تھی مائرہ ہاتھ باندھ کر اسکے سامنے کھڑی ہو گئ

” نہیں اچھا نہیں لگتا میں آرام سے باہر بیٹھوں اور تم کچن میں کام کرو ۔۔۔ آج کے بعد تمہاری کچن سے چھٹی ہے ۔۔۔ اب تم جا کر باہر بیٹھوں۔۔۔ ناشتہ میں باہر لگاتی ہوں ۔۔ ” مائرہ نے مجبورا مسکرا کر نوفل سے کہا تھا جانتی تھی کہ سخت لہجے میں نوفل سے بات کرنا اسے مہنگا پڑ سکتا ہے

” ارے ایسے کیسے بھابھی جی ابھی تو کچھ دن آپ کے نخرے بھی تو اٹھانے ہیں پھر ساری زندگی میں آرام کرو گا اور آپ کام ” ٹی پاٹ میں چائے ڈالتے ہوئے اس نے کہا تھا

” نہیں مجھے نخرے کرنے کی عادت کی نہیں ہے ۔۔۔ تم چھوٹے بھائی ہو میرے اچھا تھوڑی لگتا ہے تم کام کرو اور میں باہر ٹانگ پے ٹانگ رکھ کر بیٹھ جاؤں بری سی بات ہے ۔۔ ” مائرہ نے بھی اسی انداز سے اسے جواب دیا تھا مائرہ کا میٹھا طنزیہ لہجہ سن کر نوفل جان چکا تھا بھائی نے رات والی بات پر ٹھیک ٹھاک طعبت صاف کی ہے محترمہ کی ورنہ وہ تو اسے دیکھ کر منہ کے زاویے بگاڑتی تھی ۔۔۔۔ رات تین بجے تک اچھے کان نوفل نے بھائی کے بھرے تھے۔۔۔ اس لئے بے شک مائرہ کا لہجہ کڑوا تھا لیکن باتیں میٹھی تھیں ۔۔۔ یہ دیکھ کر نوفل کو شرارت سوجی تھی چائے کی خالی کیتلی سنک میں رکھ کر مائرہ کے سامنے کھڑا ہو کر مسکراتے ہوئے بولا

” ہائےےے۔۔۔۔ میں صدقے جاؤں آپ پر ۔۔۔ آج دن کہاں سے نکلا ہے ۔۔۔ آپ اور مجھ سے اتنی شرافت سے بات کر رہی ہیں قسم سے لگ رہا ہے خوشی سے بے ہوش ہو جاؤں گا ۔۔۔۔ ” نوفل کوشاید سامنے والے کو زچ کرنے کے سو طریقے آتے تھے ۔۔۔ مائرہ جو بڑے ضبط کا مظاہرہ کر رہی تھی ۔۔۔ اسے گھورنے لگی وہ کھلکھلا کر ہنسا تھا ۔۔ نوفل کی ہنسی آگ سی لگا گئ تھی اسے

” یوں نا نا دیکھا کریں مجھے ۔۔۔ ڈر۔ جاتا ہوں ۔۔۔ اتنی سی تو جان ہے میری ۔۔۔” وہ خوفزدہ ہونے کا ڈرامہ کرتے ہوئے دو قدم پیچھے ہٹا تھا ۔۔۔۔۔ لیکن مائرہ کی گھوری تیز ہوئی تھی

” ٹھیک ہے میں باہر جا رہا ہوں ۔۔۔ آپ کا کہا تھوڑی ٹال سکتا ہوں ۔۔۔ ” یہ کہہ وہ کچن سے باہر نکل گیا ۔۔

ناشتہ وہ بنا چکا تھا ۔۔۔ مائرہ نے ٹرے میں رکھا اور باہر لاونج میں لے آئی ۔۔۔۔ تب تک زریاب بھی باہر بیٹھ چکا تھا ۔۔۔ ناشتہ مائرہ نے ٹیبل پر رکھ دیا چائے کپ میں ڈالتے ہوئے زریاب کو یکسر نظر انداز کر کے نوفل سے پوچھنے لگی ۔۔۔۔

” نوفل چینی کتنی ڈالوں تمہارے کپ میں “

” دو چمچ بھابھی ” نوفل نے جواب دیا ۔۔۔ مائرہ نے دو چمچ چینی ڈالی اور چمچ سے ہلا کر کپ اس کے سامنے رکھ دیا پھر ایک فرائی انڈا بھی پلیٹ میں ڈال کر نوفل کے سامنے رکھ دیا ۔۔۔ بریڈ کی پلیٹ بھی اس کی طرف بڑھائی اس نے ایک سلائس پکڑا اور ناشتہ کرنے لگا مائرہ نے اپنے کپ میں چائے ڈالی ایک چمچ چینی ڈالی اور بسکٹ کھانے لگی زریاب کو کچھ بھی سرو نہیں کروایا تھاوہ چپ چاپ اسے دیکھ رہا تھا ۔۔۔ پھر خود سے اپنے کپ میں چائے ڈالی اور مائرہ کو دیکھتے ہوئے گھونٹ گھونٹ پینے لگا وہ بار بار بس نوفل کو ہی پوچھ رہی تھی

” نوفل لنچ میں کیا کھاؤں گئے تم ۔۔ ” مائرہ کے سوال پر نوفل متحیر ہوا تھا

” میں ؟ ” پھر کندھے اچکا کر بولا

” جو مرضی بنا لیں ۔۔۔ بلکہ بھائی سے پوچھیں ۔۔۔ ” نوفل نے انڈے سے آخری نوالہ لیتے ہوئے کہا

” ارے ان سے کیا پوچھنا ۔۔۔ تم بتاؤں نا تم کیا کھانا چاہو گئے ” مائرہ کی بات پر زریاب بڑی تیکھی نظر سے اسے دیکھ رہا تھا ۔۔

” اچھا ٹھیک ہے پھر یوں کریں بریانی بنا لیں ۔۔ میری فیورٹ ہے ” نوفل کچھ سوچ کر کہا مائرہ نے مسکرا کر بات آگے بڑھائی

” واقعی ۔۔۔ میری بھی فیورٹ ہے ۔۔۔ چلو کھانے میں تو تمہاری اور میری چوائس ملتی ہے ۔۔ اچھا یہ بتاؤں کلر کون سا پسند ہے تمہیں ؟” آج تو مائرہ نوفل کے ساتھ ساتھ زریاب کو بھی حیران کرنے پر تلی ہوئی تھی

” مجھے ۔۔۔ مجھے بلیک کلر بہت پسند ہے “

“رئیلی نوفل ۔۔۔ عجیب بات ہے مجھے بھی بلیک کلر بہت پسند ہے ” مائرہ جان بوجھ کر یہ سب کہہ رہی تھی ۔۔۔ زریاب چائے پیتے ہوئے اسے ہی گھور رہا تھا ۔۔۔ جسے مائرہ مسلسل نظر انداز کر رہی تھی ۔۔۔زریاب کی نظروں کی تپش سے پہلی بار بڑی تسکین سی ہوئی تھی ۔۔۔ جو شاید اسے اس لئے گھور رہا تھا کہ وہ اسے بلکل نظر انداز کیے ہوئے تھی ۔۔

” نوفل مجھے تم سے معذرت بھی کرنی تھی کل تم نے اتنے پیار سے مجھے آئسکریم کھلانے کی آفر کی اور میں نے منع کر دیا ایم سوسوری ” مائرہ کا یوں معذرت خواہانہ انداز نوفل کو کچھ حیران سا کر گیا تھا

” اٹس او کے بھابھی پھر کبھی صحیح “

” پھر کبھی کیوں آج چلتے ہیں نا دونوں پہلے لونگ ڈرائیور کریں گئے اس کے آئسکریم کھائیں گئے آج میں پہنوگی بھی بلیک کلر کاسوٹ تم بھی بلیک پینٹ شرٹ پہن لینا ۔۔۔۔۔ ” مائرہ کی بات پر زریاب کی چائے حلق پر لگی تھی بری طرح سے وہ کھانسنے لگا تھا ۔۔۔۔

” کیا ہوا زریاب آپ ٹھیک تو ہیں ” مائرہ نے بس سرسری سا پوچھا تھا

“اہم ہمم ۔۔۔۔۔ہاں ٹھیک ہوں ” اپنا گلا صاف کر کے اس نے کہا اور چائے کا کپ ٹیبل پر رکھ دیا ۔۔

” مائرہ میرے کپڑے نکال دو ” یہ کہہ کر زریاب کمرے میں چلا گیا ۔۔۔ مائرہ نے خالی برتن اور کپ اٹھائے اور کچن میں چلی گئ ۔۔۔۔ ناشتے کے برتن دھوئے باہر لاونج میں آئی تو نوفل ٹی وی دیکھ رہا تھا ۔۔۔۔

مائرہ اپنے کمرے میں آ گئ ۔۔۔ زریاب کمرے کے چکر کاٹ رہا تھا مائرہ کو دیکھ کر کچھ چین آیا تھا ۔۔۔

مائرہ نے الماری سے زریاب کا ایک استری شدہ سوٹ نکال کر بیڈ پر رکھ دیا ۔۔ اور کمرے سے باہر جانے لگی ۔۔

” تم کہاں جا رہی ہو “

” نوفل کے لئے بریانی بنانی ہے زریاب ” مائرہ نے جتاتے ہوئے کہا ۔۔ زریاب نے اس کا ہاتھ تھاما تھا

” آج سے کچن کی زمہ داری مت سنبھالو ۔۔ جلدی سے تیار ہو جاؤں کہیں باہر گھومنے چلتے ہیں ” زریاب کے بے چینی دیکھ کر وہ دل میں مسکرائی تھی

” اچھا تو سینے میں دل بھی رکھتے ہیں زریاب صاحب ۔۔۔ ” مائرہ نے دل میں سوچا

” ہاں چلے تو جاتے ہیں لیکن نوفل کیا کھائے گا ۔؟۔۔ یا ایسا کرتے ہیں اسے بھی ساتھ لے جاتے ہیں بچہ ہے اکیلا کیا کرے گا گھر پے ۔۔۔۔ اسے بھی اپنے ساتھ لے جاتے ہیں ۔۔۔میں اسے کہہ کر آتی ہوں کہ تیار ہو جائے ” میاں کی تڑپ دیکھ کر مائرہ کو مزہ سا آنے لگا تھا اس سے پہلے کے کہ وہ باہر جانے کے لئے پلٹی زریاب کی بانہوں میں مقید ہوئی تھی

” اتنا بھی چھوٹا سا بچہ نہیں ہے وہ ۔۔۔ خود مینج کر لے گا ۔۔۔ آج کا دن ہم ایک دوسرے کے ساتھ گزاریں گئے ۔۔۔ صرف میں اور تم ” زریاب کی بےقرار نظروں نے مائرہ کے دل کی دھڑکنیں بڑھائیں تھیں

” زریاب اب چھوڑیں بھی مجھے “,

” کیوں جی ۔۔۔ کیوں چھوڑ دوں ۔۔۔ اتنی پیاری سی بیوی کو ابھی تو میں نے جی بھر کے دیکھا بھی نہیں ہے ۔۔۔ ” اسی شوخ نظروں سے وہ کچھ نروس ہوئی تھی ۔۔۔

” زریاب ۔۔۔۔ مجھے تیار بھی ہونا ہے ” اپنا آپ اس سے چھڑوا کر وہ الماری کی بڑھی تھی ۔۔

” سنو سی گرین کلر کا سوٹ پہننا مجھے یہ کلر بہت پسند ہے ” زریاب کی پسند کا رنگ سننکر مائرہ نے اپنی ہنسی دبائی تھی ۔۔۔

” مرد چاہے جیسا بھی ہو اپنے گھر والوں پر جان ہی کیوں نا چھڑکتا ہو ۔۔ اپنی بیوی کی بھرپور توجہ چاہتا ہے۔۔۔۔ چاہتا ہے کہ وہ اس کی نظر میں سب سے ذیادہ اہمیت رکھے اگر ذرا بھی توجہ بٹتی دیکھ لے تو برداشت نہیں کرتا ۔۔ اسی کیفیت سے زریاب گزر رہا تھا بے شک خود بھائی پر جان چھڑکتا تھا لیکن بیوی کا اسے نظر انداز کر کے نوفل کو اہمیت دینا سیدھا دل میں جا کر چبھا تھا ۔۔۔۔ یا پھر اب تک وہ بڑا بھائی تھا ۔۔۔ اس لئے اسکے لئے سب کچھ صرف نوفل ہی تھا ۔۔۔ لیکن اب شوہر بن چکا تھا اس لئے ۔۔۔ دل کے جذبات کا بدلنا ایک نیچرل سی بات تھی ۔۔۔۔

سی گرین کلر پہن کر مائرہ خوب دل سے تیار ہوئی تھی ۔۔۔ زریاب کمرے سے نکل چکا تھا ۔۔۔ نوفل سے گاڑی کی چابی لی اور اسے کہہ بھی دیا کہ وہ آج ڈنر کے بعد ہی لوٹیں گئے “

” ٹھیک ہے بھائی آپ جائیں میں ویسے بھی وصی کے گھر چلا جاؤں گا ۔۔۔ کھانے کی ٹینشن بھی مت کیجیے گا ۔۔۔ پیزا آرڈر کر لوں گا ” نوفل فلم دیکھتے ہوئے جواب دیا تھا ۔۔۔

زریاب جب اندر داخل ہوا تو مائرہ کو دیکھ کر ہوش اڑے تھے۔۔۔۔ میک اپ نے رہی سہی کسر بھی پوری کر دی تھی ۔۔۔ مائرہ نے خود پر میاں کی ستائشی نظریں دیکھیں تو اپنی کامیابی پر دل خوشی سے جھوم سا گیا تھا ۔۔۔ بڑی سی چادر خود پر لپیٹ کر وہ باہر نکلی تھی ۔۔۔۔

زریاب کے ساتھ پورا گزرنے کا پتہ ہی نہیں چلا تھا

******…….

نوفل فلم دیکھ کر وصی کے گھر چلا گیا وہ بھی اپنے بھائی بھابھی کے ساتھ رہتا تھا لیکن اس وقت گھر پر اکیلا تھا ۔۔۔

اپنے کمرے میں اپنا بیگ تیار کر رہا تھا ۔۔۔ نوفل نے دیکھ کر پوچھ ہی لیا

” یہ سب کیا ہے تم کہیں جا رہے ہو “

” جی ہوسٹل میں شفٹ ہونے لگا ہوں “

” کسی دوسرے شہر ؟ ” نوفل اسی کے بیڈ پر دراز ہوتے ہوئے کہنے لگا

” نہیں اسی شہر میں ظاہر یونیورسٹی تو یہیں ہے ۔۔۔ ” وہ کوفت بھرے لہجے سے جواب دے رہا تھا ساتھ ہی ساتھ ڈرسنگ سے اپنے باڈی اسپرے بھی بیگ میں پھنک رہا تھا

” تو گھر کیوں نہیں رہ رہے “

” ارے نہیں بھئی مجھے اپنی عزت بہت پیاری ہے ۔۔۔۔ اور میری جو بھابھی ہے نا ۔۔۔ نا جانے کون سا نیا الزام لگا دےمجھ پر ۔۔۔۔ اس لئے عافیت اسی میں ہے کہ وصی میاں نکل جاؤں اس جھنجال پورے سے ” با قول وصی کے اس کی بھابھی اسے برداشت نہیں کرتی تھی ۔۔۔۔ بس چاہتی تھی کہ وہ اسے گھر سے نکال دے اور خود گھر پر راج کرے

” قصور تو تمہارے بھائی کا ہے ۔۔۔ ذرا اوقات میں رکھے بیوی کو تو اسکی کیا مجال کے تمہیں کچھ کہہ جائے ” نوفل اٹھ کر بیٹھ گیا

” یہ سب پہلے کی بات ہوتی ہے ۔۔۔۔۔ شادی ہو گئ ہے نا زریاب بھائی کی۔۔۔۔ بھائی کا اصل روپ تو تمہیں اب نظر آئے گا ۔۔۔۔۔ بیوی آتے ہی بھائی غیر ہو جاتے ہیں ” وصی نے بیگ کی زپ بند کرتے ہوئے کہا

” میرا بھائی جان چھڑکتا ہے مجھ پر ۔۔۔۔۔ بیوی کو بھی اپنی جگہ پر رکھنا جانتا ہے ۔۔۔ ” نوفل نے نخوت بھرے لہجے سے کہا تھا

” سب کہنے کی باتیں ہیں ” وصی نے نا گواری سے کہا

” ایسی بات نہیں ہے ۔۔۔ بھابھی تو میری بھی بڑی نخریلی سی ہے ۔۔۔ رات کو میں نے بھائی سے انکی شکایت لگا دی تھی ۔۔۔۔ صبح تیر کی طرح سیدھی تھی ۔۔۔ کبھی مجھ سے ناشتے کا پوچھ رہی تھی تو کبھی کھانے کا ۔۔۔۔ ایک ۔۔۔۔ ایک رات میں سیدھا کر کے رکھ دیا ہے اسے زریاب بھائی نے” آخری جمعلہ نوفل نے اتراتے ہوئے چٹکی بجا کر کہا

” اچھا تو کھانا تو پھر تو گھر سے کھا کے آیا ہو گا؟ وصی کی بات پر نوفل نے نظریں چرائیں۔ تھیں

” نہیں ۔۔۔ وہ ۔۔۔۔ بھائی بھابھی گھمنے گئے ہیں “

” ہمم ۔۔۔مجھے معلوم تھا ۔۔۔ کچھ نہیں پکایا ہو گا ۔۔۔۔ یہ سب چالیں ہوتی ہیں عورتوں کی ۔۔۔ ہاتھی کے دانت دیکھانے کے اور ۔۔۔اور کھانے کے اور ۔۔۔۔ میری مان تو بھیا میرے ساتھ ہاسٹل کاروم شیر کر۔۔۔۔ لے ۔۔۔۔ ورنہ وہ وہ الزام لگیں گئے تم پر کے تمہارا یہی بھائی دھکے مار کے تمہیں باہر نکالے گا ” وصی یہ کہہ اپنے جوگر پہنے لگا ۔۔۔

” چلو اب میں تو جا رہا ہوں ۔۔۔ تم بھی اپنے گھر جاؤں اور ہاں گھر کے مین گیٹ کا تالا میں لگا دیتا ہوں ۔۔۔ چابی تمہیں دے جاؤں گا میرا۔ رن مرید بھائی اگر پوچھے تو چابی دے دینا اسے ” وصی نے غصے سے کہا نوفل بھی اسکے ساتھ ہی اسکے گھر سے باہر نکلا تھا اسکی چابی لیکر گھر آ کر وصی کی باتوں کو سن کر سوچ میں پڑ گیا تھا ۔۔۔

*****……

اسکول میں۔ پارٹی تھی ۔۔۔ عفیرہ کی تیاری قابل دید تھی ۔۔۔ چمکیلا برقیلا جوڑا پہنے فل میک اپ کیے وہ اسکول پہنچی تھی آج اس کاارادہ تھا کہ زیان کو اپنے حسن کے جلووں سے مات دے ہی دے گی ۔۔۔۔لیکن زیان کا وہی لا پروا انداز تھا ۔۔۔

سب خواتین ٹیچرز نے اپنے پرس کمپوٹر لیب میں ہی رکھے تھے ۔۔۔ ۔ اور خود پارٹی میں مصروف تھیں بچوں کو دیکھ رہیں تھیں۔۔۔۔ گیمز کھلانے اور انجوائے کروانے میں مصروف تھیں جہاں سب کے پرس رکھے تھے وہ کپموٹر لیب تھی اور اس وقت خالی تھی ۔۔۔ عفیرہ نے چاروں طرف محتاط نظروں سے دیکھا ۔سب ہی اپنی اپنی کلاسوں میں تھے ۔۔وہ کمپوٹر لیب میں جا گھسی

چھوٹی موٹی چیزیں چرانے کا اسے چس سا تھا اس لئے سب کے پرس کھول کھول کر کسی کے پیسے کسی کی لپ اسٹک کسی کا فیس پاؤڈر جو جو اسے سمجھ آ رہا تھا وہ جلدی نکال کر اپنے پرس میں ٹھونس رہی تھی جب سر زیان اندر داخل ہوا تھا ۔۔۔ یہ سب دیکھ کر وہ بے ساختہ بولا اٹھا

” مس عفیرہ یہ کیا کر رہیں ہیں آپ ” اپنے عقب میں سر زیان کی آواز سن کر اس کا رنگ اڑا تھا