Log Kia Kahe Gy by Umme Hani NovelR50418

Log Kia Kahe Gy by Umme Hani NovelR50418 Log Kia Kahe Gy Episode 34

491.6K
51

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Log Kia Kahe Gy Episode 34

Log Kia Kahe Gy by Umme Hani

عبیرہ کا رشتہ طے ہوتے ہی لڑکے والوں کی طرف سے شادی کا شور اٹھنا شروع ہو گیا تھا ۔۔۔۔ عفیرہ بھی زیان کو بھول بھال کر شادی کی تیاریوں میں لگ گئ تھی ۔۔۔۔ فرقان کی وجاہت کو دیکھ کر کچھ بجھ سی گئ تھی ۔۔۔۔ دیکھنے میں وہ اچھاخاصا ہینڈسم تھا ۔۔۔۔

ہائٹ بھی خوب لمبی تھی ۔۔۔۔۔ فرقان کی تصویر عبیرہ نے شرماتے ہوئے عفیرہ کو دیکھائی تھی

” لڑکا تو بڑا ہینڈسم ہے ۔۔۔۔۔ ویسے لڑکے نے بھی تمہاری تصویر دیکھ تو رکھی ہے نا آبی کہیں بیچارہ شادی والے دن اپنے فیصلے پر پچھتاتا ہوا نظر نا آئے ” ایسی خود پسندی تھی عفیرہ میں کے اسے لگتا تھا کہ اس کے سامنے عبیرہ کچھ ہے ہی نہیں ۔۔۔۔ یا فرقان نے عبیرہ کو بنا دیکھے ہی ماں کی پسند پر ہامی بھری ہے ۔۔۔عبیرہ نے کینہ توز نظروں سے بہن کو دیکھا تھا جو ابھی کسی زعم میں اترائی ہوئی بیٹھی ہوئی تھی

” کیوں اپیہ ایسا کیوں لگا آپ کو ۔۔۔۔۔ مجھے تو میری چھوٹی نند بینش نے بتایا تھا کہ ایک سال سے وہ فرقان کا رشتہ دیکھ رہے ہیں لیکن وہ مان ہی نہیں رہے تھے ۔۔۔ لیکن میری تصویر دیکھ کر انکار ہی نہیں کر پائے ۔۔۔۔۔ ذیادتی تو بیچارے نوفل بھائی کے ساتھ ہوئی ہے ۔۔۔۔ انہوں نے تو نکاح کے بعد ہی آپ کو دیکھا تھا ۔۔۔۔ ” عبیرہ نے اس بار لحاظ نہیں کیا تھا عفیرہ کی آنکھیں غصے اور جلن سے ابلیں تھیں عبیرہ نے ٹھنڈی آہ بھرتے ہوئے مزید کہا

” ہائے بیچارے نوفل بھائی انجانے میں ہی مارے گئے ۔۔۔۔۔ ” عبیرہ کی بات پر عفیرہ کی موبائل عبیرہ کے ہاتھ دے مارا

” مطلب کیا ہے تمہارا ؟ ایسی کون سی کمی ہے مجھ میں ؟” خشمگین نظروں سے دیکھتے ہوئے عفیرہ نے پوچھا

” آپ میں خوبی ہی کیا ہے اپیہ ۔۔۔۔ نا کچھ گھر داری کا سلیقہ ہے ۔۔۔ نا کچھ پکانا آتا ہے ۔۔۔۔ وہ تو مائرہ بھابھی ہیں تو گھر بسا ہوا ہے آپ کا ۔۔۔۔ وہ نوفل بھائی کہاں برداشت کرتے آپ کو ” عبیرہ بھی شاید موقع کی تلاش میں تھی اس لئے اب عفیرہ کو آڑے ہاتھوں لے رہی تھی

” اب ایسی بھی بات نہیں ہے ۔۔۔۔۔ نوفل کی بنا دیکھے ہی چاندی ہو گئ ہے مجھے پا کر ۔۔۔ ایسی حسین بیوی ملی ہے انہیں میرے روپ میں ” عفیرہ کہ اتراہٹ جوں کی توں تھی ذرا فرق نہیں آیا تھا عبیرہ عفیرہ کے متناسب بھرے وجود کو دیکھ کر ہسنے لگی

” ذرا آئنے میں دیکھیں خود کو اپیہ ۔۔۔ اگر یہ لیپا پوتی آپ کرنا چھوڑ دیں تو آپ کو پتہ چلے کہ نوفل بھائی آپ کے سامنے اب بھی کتنے ہینڈسم لگتے ہیں” عبیرہ نے عفیرہ کے میک اپ پر چوٹ کی تھی جو ہمہ وقت اسکے چہرے کی زینت بنا رہتا تھا ۔۔۔۔

” ہاں تو ۔۔۔ اب ایک بچے کی ماں بھی ہوں میں ۔۔۔ سب عورتیں ایسی ہی ہو جاتی ہیں ” عفیرہ سے کہاں۔ برداشت تھا کہ خود پر بات آنے دیتی اس لئے بے نیازی دیکھانے کی کوشش کی لیکن اندر ہی اندر یہ بات چبھ ضرور گئ تھی

۔” وہ تواپ کی جیھٹائی بھی ہے دو بچیاں ہیں لیکن ابھی تک فٹ اینڈ اسمارٹ ہیں ۔۔۔ اور گھر کے سارے کام میں بھی تاک ہیں ۔۔۔۔۔ ” عبیرہ تو آج اگلے پیچھے سارے حساب بے باک کرنے پر تلی ہوئی تھی ۔۔۔۔۔ عفیرہ تو سلگ کر رہ گئ تھی ۔۔۔۔۔ پہلی بار چپ ہو کر عبیرہ کے کمرے سے باہر نکل گئ ۔۔۔۔

” پتہ نہیں کون سے شہزادہ گلفام سے شادی ہونے جا رہی ہے جو اتنا اتر رہی ہے ۔۔۔ یہ نہیں پتہ کے اس کا کنبہ کتنا بڑا ہے ۔۔ جب سب کی خدمتیں۔ کرنی پڑیں گئ تب ہوش آئے گی اس عبیرہ کی بچی کو ۔۔۔۔ ” منہ میں بڑبڑاتے ہوئی اپنی اماں کے کمرے میں آگئ سامنے لگے شنگھار میز کے اپنے میں خود کو دیکھنے لگی کچھ بے ڈھنگا پن تو اس میں آ چکا تھا ۔۔۔۔

چہرے پر اگر میک اپ نا ہوتا تو رنگت بھی ویسی نہیں رہی تھی ۔۔۔۔ آئنے پاس آ کر عفیرہ نے اپنا تنقدی جائزہ لینا شروع کیا تھا

” میں نے تو خود پر توجہ دینی چھوڑ ہی دی ہے ۔۔۔۔۔ بس گھر کے کاموں میں اپنے اوپر کہاں دھیان دے پا رہی ہوں ۔۔۔۔

لیکن اب نہیں ۔۔۔ گھر جا کر ہی نوفل سے کہوں گی مجھے جیم جوائن کرنا ہے ۔۔۔۔۔” ایک نیا آئیڈیا پھر سے دماغ میں کلبلایا تھا پھر اپنے چہرے پر ہاتھ پھیرنے لگی

” ایک ماہ سے میں پالر بھئ نہیں گئ کیسا روکھا چہرہ ہو رہا ہے ۔۔۔ کل ہی جاتی ہوں ۔۔۔۔ ” اپنے اندر مصمم ارادہ کیے وہ مطمئن سی ہو گئ تھی ۔۔۔۔۔

کہ وہ پہلے جیسی ہو جائے گی

*******………

زیان کئ دن تک بس عفیرہ کے بارے میں ہی سوچتا رہا ۔۔۔ دل میں بدلے کی آگ سی جلنے لگی تھی ۔۔۔۔ کیوں نا ساری بات نوفل سے کہہ دے ؟

” لیکن پھر یہ بھی بہرحال سوچا کہ کیا ضرورت ہے اسکی زندگی برباد کرنے کی ۔۔۔۔۔ اور نوفل اسکی بات کا اعتبار کیونکر کرے گا

اپنے اندر کے منفی جذبات اور مثبت احساسات کی لڑائی بھی عجیب ہوتی ہے ۔۔۔۔۔ انسان کو ذہنی طور پر مضمحل کر دیتی ہے ۔۔۔۔

خود سے لڑتے لڑتے زیان اس نتیجے پر پہنچا تھا کہ مٹی ڈالے عفیرہ کے مسلے پر ۔۔۔۔ ایک ماضی تھا جو بیت گیا ۔۔۔۔۔

لیکن قسمت کو کچھ اور منظور تھا ۔۔۔ اگلی ملاقات بھی نوفل سے اسکی ایک مال میں ہوئی تھی ۔۔۔ عفیرہ بھی اسکے ہمراہ تھی ۔۔۔ لیکن اس بار چادر میں تھی ۔۔۔ بس چہرہ ہی کھلا تھا ۔۔۔

” عفیرہ تم جاؤ شاپنگ کرو ۔۔۔۔ میں تمہیں ایک گھنٹے تک یہیں ملو گا ” نوفل نے دونوں کامختصر تعارف کروایا تھا ۔۔۔ عفیرہ سامنے کی شاپ میں چکی گئ ۔۔۔۔ کچھ متذبذب سی تھی

” آپ فیملی کے ساتھ بزی ہیں ۔۔۔۔ میں پھر کبھی آپ سے ملاقات کر لوں گا ۔۔۔۔” زیان وہاں سے جانے کے بارے میں سوچ کر بولا

” ارے نہیں یار اوپر کیفے ٹریا میں بیٹھتے ہیں ۔۔۔ اور ویسے بھی خواتین کی شاپنگ بھی کبھی ختم ہوئی ہے ۔۔۔۔ ” نوفل نے اسے اپنے ساتھ ٹاپ فلور پر لے گیا ۔۔۔ عفیرہ کا سارا دھیان بس زیان کی طرف تھا ۔۔۔ بری طرح گھبرا رہی تھی کہ وہ۔ نوفل سے کوئی بات نا کہہ دے اس لئے فاصلہ رکھ کر ان کا پیچھا کرنے لگی ۔۔۔۔ کیفے ٹریا میں۔ جہاں وہ دونوں بیٹھے تھے انکی پشت کی جانب یوں بیٹھی کے انہیں نظر نا ا سکے اور باتیں بھی سن لے ۔۔۔۔

” کیا منگوں تمہارے لئے ۔۔۔ اس دن بنا کچھ کھائے پیے ہی بھاگ گئے تھے ۔۔۔۔ ” نوفل نے مینوں کارڈ ہاتھ میں پکڑے ہوئے پوچھا

” آڈر آپ کریں لیکن بل میں پے کروں گا ” زیان کی بات پر وہ ہسنے لگا

” اس بار میری باری ہے اگلی بار تم سے ڈنر کا بل ہے کرواں گا ۔۔۔۔ لو اور تم آڈر کرو ” نوفل مینوں کارڈ زیان کو پکڑا دیا

اس نے دو برگر اور دوسوفٹ ڈرنگ آڈر کیں تھیں ۔۔۔

” شادی ہو گئ تمہاری “, بات نوفل نے شروع کی تھی

” نہیں شادی نہیں کی ۔۔”

” وہ کیوں ۔۔۔ اسی لڑکی کی بیوفائی کے ساتھ زندگی گزارنے کا ارادہ ہے “

” آپ نے کبھی کسی سے محبت کی ہوتی تو شاید سمجھ سکتے ۔۔۔۔ بھولنا مشکل ہوتا ہے ۔۔۔۔ دل میں دوسرے محبوب کی جگہ بنانا اتنا بھی آساں امر نہیں ہے ۔۔۔۔ ” زیان سامنے رکھے شیشے کے واز سے اپنے پیچھے بیٹھی عفیرہ کو دیکھ چکا تھا

اس لئے جو بول رہا عفیرہ کو ہی سنا رہا تھا ۔۔۔

” مطلب اسی کی محبت کو دل سے لگائے رکھو گئے ۔۔۔۔ ” نوفل نے حیرت سے پوچھا

” ہاں ہمیشہ ۔۔۔۔ “

” آجکل کے دور میں بھی ایسے عاشق ہوتے ہیں ویری اسٹرنج ۔۔۔۔ ” نوفل نے تعجب کا اظہار کیا تھا

” تو کیادوبئ واپس چلے جاؤں گئے “

” نہیں دبئ تو دولت کمانے گیا تھا ۔۔۔۔۔ اور دبئ سے بہتر نوکری اب یہاں مل گئ ہے ۔۔۔پیسے کی خاطر

مجھے اس نے چھوڑا تھا ۔اس نے ۔۔۔ اس لئے سوچا کیوں نا پیسہ کما کر دیکھوں دیکھوں تو صحیح کتنی طاقت ہوتی ہے اس پیسے میں کہ محبت جیسا اٹوٹ بندھن بھی کانچ کی طرح چھن سے ٹوٹ جاتا ہے ۔۔۔۔ اور ان دوسالوں میں میں نے صرف پیسہ ہی کمایا ہے ۔۔۔۔ کل ہی بیس لاکھ کی نئ گاڑی خریدہ ہے ۔۔۔۔ اوراب اپنا آبائی گھر سے اپنا حصہ لیکر سوچ رہا ہوں ایک لیکچری فلیٹ خرید لوں بلکل ساحل سمندر کے سامنے “

” واہ تم نے تو خوب پیسہ کما لیا ہے زیان “

” جی ہاں لیکن یہ سب میرے کس کام کا رہ گیاوہ ساتھ ہوتی تو زندگی بہت حسین ہوتی ۔۔۔۔ ابھی کچھ دن پہلے نظر آئی تھی وہ مجھے اپنے شوہر کے ساتھ ” یہ کہتے ہوئے زیان اسی شیشے کے واز سے عفیرہ کو دیکھ رہا تھا جو اپنے بد حواس چہرے سے پسینے پونچ رہی تھی ۔۔۔

” اچھا واقع پھر ۔”۔ نوفل سیدھا ہو کر بیٹھ گیا بڑی دلچسپی سے اس کی بات سن رہا تھا

” مجھے لگا مجھے چھوڑ کر کسی بڑے سے بنگلے والے سے شادی رچائی ہو گی لیکن وہ تو میرے جیسے ہی نکلا ۔۔۔۔۔ عام ساعلاقہ عام سا گھر ۔۔۔۔ عام سا شوہر ۔۔۔۔۔ بس فرق صرف ایک گاڑی کا تھا ۔۔۔ اسکے گاڑی تھی اور

میرے پاس نہیں اگر مجھے پتہ ہوتا تھا اس لڑکی کو گاڑی چاہیے تو میرے پاس اتنے پیسے تھے کے میں گاڑی خرید سکتا تھا ۔۔۔۔ جہاں اسکی اتنی فرمائشیں پوری کیں تھیں یہ بھی کر گزرتا ۔۔۔ لیکن ۔۔۔۔۔ یہ اسکی قسمت کہ مجھے کھو کر بھی مجھ جیسا ہی پایا ہے ۔۔۔ ” زیان کی باتوں سے عفیرہ کے اندر ایک نئ امنگیں پھوٹنئ شروع ہوئیں تھیں

زیان اب بھی اس کے عشق میں گوڈے گوڈے ڈوبا ہوا تھا ۔۔۔۔۔

وہ وہاں سے ویسے ہی خاموشی سے اٹھ کر چلی گئ ۔۔۔ زیان کا کام ہو چکا تھا ۔۔۔ بس وہ عفیرہ پر یہی جتانا چاہتا تھا کہ وہ اس پر اب بھی ویسے ہی مرتا ہے جیسے پہلے اس سے محبت کرتا تھا ۔۔۔۔

دیکھنا

چاہتا تھا کہ وہ نوفل کے ساتھ سچ میں مخلص ہے یا پھر اب بھی پیسوں کی لالچ میں واپس زیان کے پاس آنے کی کوشش کرے گی ۔۔۔۔

کچھ دیر وہ نوفل سے اپنے اسکول کی جانب کے بارے میں بات چیت کرتا رہا ۔۔۔۔

زیان کا نشانہ بلکل ٹھیک جگہ پر لگا تھا ۔۔۔۔۔

گھر آ کر بھی عفیرہ بس زیان کج باتوں میں کھوئی ہوئی تھی ۔۔۔۔اسکی نئ کار ساحل سمندر کے پاس لیکچری فلیٹ ک حسین خواب آنکھوں میں ٹہرے سا گیا تھا۔۔۔۔۔ پھر جان نچھاور کرنے والا محبوب ۔۔۔۔ جو اب بھی اسے اپنانے کے لئے بیقرار تھا ۔۔۔ولی اور نوفل سو چکے تھے نیند تو بس عفیرہ کی آنکھوں سے غائب تھی ۔۔۔ لیپ کی مدھم روشنی سے وہ نوفل کو دیکھ کر سوچنے لگی

” نوفل نے کبھی میری محبت کی قدر ہی نہیں کی ۔۔۔ کبھی مجھ سے محبت ہی نہیں کی ۔۔۔۔۔۔ ہر وقت اسے مجھ میں عیب ہی نظر آتے ہیں ۔۔۔۔ ” سوئے ہوئے نوفل کی طرف دیکھ کر اسے نوفل زیان سے ذیادہ ہینڈ سم نہیں لگ رہا تھا ۔۔۔ پھر اپنا کمرہ دیکھنے لگی جو ایک لیکچری فلیٹ کے کشادہ بیڈ روم کے آگے چھوٹا تنگ اور گھٹن زدہ لگا رہا تھا ۔۔۔۔

“میں نے بھی بناسوچے سمجھے بس گاڑی دیکھ کر اپنے پیروں پر خود ہی کلہاڑی مار دی ۔۔۔ سچ ہی تو کہہ رہا تھا زیان جب وہ مجھے سونے چین خرید کر دے سکتا تھا ۔۔۔۔ میری لئے میری پسند کا فرنیچر لے کر دے رہا تھا ۔۔۔۔ قیمتی لباس لیکر کر دے رہا تھا تو گاڑی بھی لے ہی دیتا ۔۔۔۔ پھر جتنی پیار بھری باتیں وہ مجھ سے کرتا تھا ۔۔۔ نوفل نے آج تک کی ہی نہیں ۔۔۔۔۔

بس اسے کمرہ صاف چاہیے ۔۔۔ کھاناوقت پر چاہیے ۔۔۔۔

اور اگر لاونج میں اسکے قریب بیٹھ جاؤں تو اسے شرم محسوس ہونے لگتی ہے ۔۔۔۔۔ بس ایک زیان ہی تھا جس نے محبت کی شدت ایک ریسٹورنٹ کے کیبن میں بھی دیکھا دی تھی بنا کسی سے گھبرائے ہوئے ۔۔۔۔ ” آج عفیرہ کو زیان کی چیپ سی حرکت بھی غلط کے بجائے اسکی محبت کی شدت لگ رہی تھی ۔۔۔۔۔۔ ساری چمک ہی پیسوں کی تھی جو زیان نے اسکی آنکھوں کو چکا چوند کرنے کے لئے دیکھائی تھی ورنہ دو سال میں وہ اتنا بھی کوئی کڑوروں پتی بنکر نہیں لوٹا تھا ۔۔۔۔۔ بس یہ جان گیا تھا کہ عفیرہ کو کیا بات زیر کرے گی ۔۔۔۔۔ ورنہ بس لاکھوں ہی کمائے تھے جس کی گاڑی ضرور خرید لی تھی ۔۔۔

عفیرہ نے پہلے تو نوفل کو غور سے دیکھا وہ گہری نیند سویا ہوا تھا ۔۔۔۔ عبیرہ کی شادی کی شاپنگ پر نوفل نے اس کا ہاتھ نہیں روکا تھا ۔۔۔۔ لیکن اب تو نوفل کی خوبی بھی خامی نظر آ۔ رہی تھی ۔۔۔۔ وہ ایک آنکھ نہیں بھا رہا تھا ۔۔۔۔ نوفل کی گہری نیند کی تسلی ہونے کے بعد اس نے احتیاط سے نوفل کا موبائل اٹھایا ان لاک کیا اور زیان کا نمبر ڈھونے لگی ذرا سی تگ و دو کے بعد ہی اسے نمبر مل گیا تھا اس نے جلدی سے زیان کا نمبر اپنے موبائل پر سیو کیا

عبیرہ کی شادی میں بھی کم دن ہی رہ گئے تھے ۔۔۔۔ اس لئے اس کی شادی میں مصروف ہو گئ ۔۔۔۔

*******……..

عبیرہ بھی رخصت ہو کر فرقان کی ہمراہی میں اماں جی کے گھر آ چکی تھی ۔۔۔۔۔ سب بہنیں خوش تھیں کہ چلو دوسری نوکرانی تو آئی ۔۔۔۔عرفان تو دوسری شادی سے صاف منع کر چکا تھا اس لئے آجکل فرقان سب کی آنکھوں کا تارا بنا ہوا تھا ۔۔۔۔ ساری بہنیں اس سے محبت جتا رہیں تھیں ۔۔۔۔ تا کہ اب فرقان کو اپنے اشاروں پر نچوا سکیں لیکن وہ فرقان تھا ۔۔۔ عرفان نہیں ۔۔۔۔۔

فرقان نے سال بھر شبو سے کلام تک نہیں کیا تھا

لیکن شادی کے موقع پر شبو اس کے گلے لگ کر ٹسوئے بہانے لگی ۔۔۔۔

” جو ہونا تھاوہ ہو چکا فرقان بڑی بہن ہوں تمہاری ۔۔ پھر بھی معافی مانگ رہی ہوں ۔۔۔۔۔ ” فرقان نے نا ہاں کی نا ہی ناں بس چپ رہا ۔۔۔۔۔

حجلہ عروسی میں داخل ہوتے ہی وہ سوچ چکا تھا کہ اب اسے گھر والوں کے ساتھ رہنا کیسے ہے ۔۔۔ اور اپنی بیوی کو کیسے رکھنا ہے ۔۔۔۔ جو ذیادتی ایک معصوم سی لڑکی پر وہ کر چکے تھے اس غلطی کووہ دہرانا نہیں چاہتا تھا ۔۔۔ سامنے عبیرہ دلہن بنی نروس سی بیٹھی تھی ۔۔۔۔

وہ بھی خاموش طبع سی لڑکی لگ رہی تھی ۔۔۔۔۔ تیز طرار سی نہیں تھی

وہ اسکے سامنے بیٹھ گیا ۔۔۔۔ اسکے دلہناپے کے حسین روپ کو دیکھنے لگا۔۔۔ جو اس کا حق تھا ۔۔۔

” ماشاءاللہ سے حسن تو غضب کا پایا ہے تم نے ” فرقان کی تعریف وہ کچھ چھنپ سی گئ تھی ۔۔۔ شرم سے چہرہ لال انار ہوا تھا ۔۔۔۔ گردن بھی مزید جھک گئ تھی نظریں اٹھانا تو اور بھی مشکل تھا

” اب تم اتنا شرماؤ گی تو ہم بات چیت کیسے شروع کریں گئے ” فرقان نے مسکرا کر اسے چھیڑا تھا

” آپ کہیں میں سن رہی ہوں ” عبیرہ نے منمناتے ہوئے ہوئے کہا

“لیکن میرا موڈ تو یہ کہ تم کہو اور میں سنو ۔۔۔ چلو

پہلے تم بتاؤ کیا لگتا ہے تمہیں ۔۔۔۔ میں کیا بات کرو گا تم سے ۔۔۔۔ اپنی فیملی کے بارے میں کیا نصحتیں کرو گا ” فرقان اسکی سوچ کو جاننا چاہتا تھا عبیرہ بڑی مشکل میں پڑ گئ تھی ۔۔۔ ایک عجیب سا سوال تھا کیا جواب دے سکتی تھی ۔۔۔۔ نا اسے جانتی تھی نا پہلے کبھی بات چیت ہوئی تھی ۔۔۔۔ پھر کیا کہتی وہی سنی سنائی باتیں ہی ہونی تھی جو تقریبا مرد حضرات ایسے موقعوں پر کرتے ہیں عبیرہ نے گلا کھنکارا پھر دھیرے سے بولنا شروع کیا

” میں آپ کی والدہ کی خدمت کرو گی ۔۔۔۔ اور کوشش کروں گی آپ کی بہنوں کو بھی مجھ سے شکایت نا ہو ۔۔۔ اور ۔۔۔۔ اور کھانا بھی مجھے اچھا بنانا آتا ہے ۔۔۔۔ ” سمجھ نہیں پارہی تھی کہ مزید کیا کہے اپنے منہ میاں مٹھو بننا مشکل میں ڈال رہا تھا ۔۔۔ عبیرہ کو تو لگا تھا ذیادہ تر مردوں کی طرح یہ سب باتیں فرقان اسے بتائے گا اور اسے بس اثبات میں سر ہی ہلانا پڑے گا ” فرقان بڑے غور سے اسکی باتیں سن رہا تھا ۔۔۔ ہنی ہنسی روک رہا تھا ۔۔۔ پھر کچھ سنجیدہ سا ہو کر بولا

” تمہاری شادی مجھ سے ہوئی ہے یا میرے گھر والوں سے ؟” عبیرہ نے اس بات پر برجستہ سے دیکھا تھا ۔۔۔

” آپ سے ۔۔۔۔”

” بس پھر تم پر صرف ایک فرض عائد ہوتا ہے ۔۔۔۔ تم وہی کروں گی جو میں تم سے کہو گا ۔۔۔۔۔ میری ماں کی خدمت مجھ پر فرض ہے ۔۔۔ میں جانو وہ جانے ۔۔۔ میری بہنوں کی تیمارداری بھی تمہارے ذمے نہیں ہے ۔۔۔۔ اگر کرو گی تو وہ مجھ احسان ہو گا یا ان پر

۔۔۔ ایسے ہی میرے بھائی بھی ۔۔۔

میں تمہارے بہت سارے احسانات لینا نہیں چاہتا ۔عبیرہ ۔۔

اس لئے بہتر یہی ہے کہ تم صرف میری فرمابرداری کرو جو تم پر فرض ہے ۔۔۔۔ اگر اماں جی اور شبو آپاں کی باتوں پر عمل کرو گی تو میرے تم سے آئے لڑائ جھگڑے ہی ہوتے رہیں گئے ۔۔۔۔ اگر تمہیں اماں جی اور شبو آپاں کی نظر میں اچھی بہو اور اچھی بھاوج بننا ہے تو تم جان بھی گنوا تو تب بھی نہیں بن پاؤں گی ۔۔۔۔ پھر بھی فیصلہ میں تم پر چھوڑتا ہوں عبیرہ ۔۔۔۔ یا اچھی بیوی یا پھر اچھی بہو اور بھابھی ؟ ” فرقان کی باتیں بلکل الگ سی تھی ۔۔۔ عبیرہ کے لئے شوپراہم تھا ۔۔۔ باقی سب تو بعد میں گنتی میں آتے تھے اس لئے اسی کو اہمیت بھی دی

” میرے لئے آپ کا حکم اول درجہ رکھتا ہے ” عبیرہ نے دھیمے لہجے میں جواب دیا تھا ۔۔۔۔۔ فرقان نے سکون بھری سانس لی تھی ۔۔۔۔ فرقان کو عبیرہ بھی شزا جیسی ہی لگی تھی اس لئے نہیں چاہتا تھا کہ اسے ماں بہن کے بھنٹ چڑھائے ۔۔۔ اس سے پہلے اماں جی اور شبو اس کے دماغ میں اچھی بہو کے قصیدے بھریں اور اسے اپنے اشاروں پر نچانے کی کوشش کریں ۔۔۔ بہتر تھا کہ وہ اس سے پے ہی اچھی طرح سمجھ دے ۔۔۔۔

فرقان نے جیب سے انگوٹھی نکال کر اسکا ہاتھ تھام کر اسے پہنائی تھی

*******……..

شادی گزرنے کے بعد موقع دیکھ کر عفیرہ نے زیان کو اپنے نمبر سے کال تھی ۔۔۔ عفیرہ کی آواز سن کر وہ مسکرا پڑا تھا ۔۔۔۔ اسے اسی فیصد یقین تھا کہ اسے عفیرہ فون ضرور کرے گی ۔۔۔۔ اور وہی ہوا تھا

” زیان میں تم سے بہت شرمندہ ہوں ۔۔۔ ” عفیرہ نے دھیرے لہجے میں کہا ۔۔۔ زیان عفیرہ کی چکنی چپڑ

ی باتوں میں اب آنے والا نہیں تھا ۔۔۔۔ اس بار تو وہ اسے پکے ثبوت کے ساتھ نوفل کے سامنے لانا چاہتا تھا۔۔۔۔۔

” سب باتیں چھوڑو عفیرہ بس ایک جواب دے دو ۔۔۔۔ نوفل ایسی کیا خوبی تھی جو تم نے اسے مجھ پر فوقیت دی ۔۔۔۔ ” یہ سوال ایسا تھا جس نے پچھلے کئ دنوں سے زیان کی نیندیں حرام کر رکھیں تھیں

” میں مجبور ہو گئ تھی ۔۔۔۔ ابا نے ہاں کر دی تھی مجھ سے پوچھے بغیر “

” یہ جھوٹ ہے عفی ۔۔۔۔ سچ بتا دو تو میں تمہیں اب بھی اپنا سکتا ہوں ۔۔۔ تمہارے لئے ہی تو دبئ سے اتنی دولت کما کر لایا ہوں ” زیان سچ سننا چاہتا تھا ۔۔۔۔

” بس میری عقل پر پردے پڑ گئے تھے زیان ۔۔۔ غلطی کر بیٹھی تھی ۔۔۔ رشتہ تو عبیرہ کے لئے آیا تھا ۔۔۔۔ لیکن نوفل کی گاڑی دیکھ کر میری نیت بدل گئ ۔۔۔ مجھے لگا ہو گا کوئی رئیس بس میں بہک گئ تھی ۔۔۔۔۔ مجھے معاف کر دو زیان ” آواز میں نمی کی آمیزش لا کر وہ بات کر رہی تھی

” معاف تو میں نے کر دیا تھا عفی ۔۔۔ آخر تم سے محبت جو کرتا ہوں ۔۔۔ لیکن خود غرض نہیں ہوں

جو تمہارا بسا بسایا گھر برباد کر دوں۔ ۔۔۔ تم خوش ۔۔۔ تو ٹھیک ہے میرے لئے یہی کافی ہے ۔۔۔۔۔۔ میرا کیا گزر رہی ہے گزر جائے گی ” زیان عفیرہ گلا جواب بھی جانتا تھا لیکن کانوں سے سننا چاہتا تھا

” خاک خوش ہوں ۔۔۔۔ تمہارا دل دکھانے کی سزا بھکت رہی ہوں ۔۔۔ نوفل کو مجھ ذرا محبت نہیں ہے ۔۔۔ بہت ظلم کرتا ہے مجھ پر ہاتھ اٹھاتا ہے مارتا پیٹتا ہے ۔۔۔۔ تمہیں کیا خبر تمہاری عفی کیسی اذیت ناک زندگی جینے پر مجبور ہے ” عفیرہ کے پاس نا بہانوں کی کمی تھی

۔۔ نا جھوٹے قصے کہانیوں کی “

” افف میرا دل پھٹنے لگا ہے یہ سب سن کر عفی ۔۔۔۔ بس بہت ہو چکا میں تمہیں یہ ظلم برداشت کرتے ہوئے سسک سسک کر یوں زندگی گزارتے نہیں دیکھ سکتا ۔۔۔ میں ایک فلیٹ ساحل سمند کے سامنے خرید چکا ہوں بس ۔۔۔۔ نوفل نامی جلاد سے تم جان چھڑوا لو ۔۔۔۔ پھر ہم ہوں گئے اور ہماری محبت ” زیان کی باتوں کے سحر میں وہ آچکی تھی ۔۔۔۔ کیونکہ لگژری لائف ملنے والی تھی۔۔۔

” لیکن وہ مجھے طلاق کیوں دے گا “

” وہاں مجھ پر چھوڑ دو ۔۔۔۔ جب سے تمہیں دیکھا۔ ہے۔۔۔ تڑپ رہا تم سے ملنے کو ۔۔۔۔ اور پھر تمہیں اپنا فلیٹ بھی تو دیکھانا ۔۔۔ بس جلدی سے ملاقات کا کوئی بہانہ ڈھونڈو ۔۔۔ مجھ سے رہا نہیں جا رہا عفی ۔۔۔۔ ” زیان کی بہادری دیکھ کر وہ خوشی سے پھولے نہیں سما رہی تھی ۔۔۔۔

“میں کل ہی تم سے ملنے آ جاتی ہوں ” عفیرہ نئے فلیٹ کو دیکھنے کے لئے مشتاق ہوئی تھی آنکھیں چمکی تھیں ۔۔۔

” وہ سب ٹھیک ہے عفی لیکن میں شادی کے بعد تمہارا بچہ بلکل نہیں پالوں گا ۔۔۔ رہ سکوں گی اپنے بچے کے بنا ۔۔۔۔ کسی ماں سے اسکی اولاد کو چھننے کا بھیحوصلہ نہیں ہے مجھ میں “

” تمہارے لئے جب نوفل کو چھوڑ سکتی ہوں تو ولی کو کیوں پنے پاس رکھوں گی ۔۔۔۔ جس کی اولاد ہے وہی سنبھالے گا ۔۔۔۔ ” عفیرہ تو ہر بات پر راضی بازی ہوئی تھی ۔۔۔۔

” کل میری پسند کا کلر پہن کر آنا عفی ۔۔۔ تمہاری ساتھ کل کی ملاقات مجھے یاد گار بنانی ہے ۔۔۔۔ سمجھ تو رہی ہونا میری بات کو ۔۔۔ کیا چاہتا ہوں ” دبے لفظوں میں چھپی بے باکی وہ اچھی طرح سے جان چکی تھی

” میں جانتی ہوں تم میری محبت سے سیراب ہونا چاہیے ہو ۔۔۔۔”

” بلکل پور پور تمہاری محبت میں بھیگنا چاہتا ہوں ۔۔۔۔ کاش یہ کل کاسورج جلد ہی طلوع ہو جائے ” زیان پوری طرح سے جال پھیلا چکا تھا اور عفیرہ پھنس بھی چکی تھی ۔۔۔۔ بات زیان کی محبت کی نہیں تھی بات بڑے سے فلیٹ کی تھی۔ بیس لاکھ کی گاڑی کی تھی عیش و عشرت کی تھی ۔۔۔

اگلے روز زیان کے بتائے ہوئے پتے پر وہ خود سے پہنچی تھی ساحل سمندر کے سامنے بنے جدید قسم کے فلیٹ ذیادہ تر خالی تھے ۔۔۔۔ نئ نئ تیار بلنڈنگ لگ رہی تھی ۔۔۔۔

مطلوبہ فلیٹ پر پہنچ کر عفیرہ نے ڈور بیل دی تھی ۔۔۔۔ دروزہ زیان نے ہی کھولا تھا ۔۔۔۔ سامنے اسے اپنے پسندیدہ لباس میں دیکھ کر اسکی مسکراہٹ گہری ہوئی تھی ۔۔۔۔

” اندر آؤں نا عفی ” زیان پیچھے ہٹ گیا ۔۔۔۔

عفیرہ اندر آ گئ خوابوں جیسا محل نما فلیٹ تھا سفید ٹائلز پورے گھر میں لگی ہوئی تھی ایک بہت بڑا تو لاونج کی تھا دائیں بائیں تین کمرے تھے وہ بھی بہت بڑے اور کشادہ ۔۔۔۔ عجیب بات یہ تھی کہ فلیٹ پورا ڈیکوریٹ تھا ۔۔۔۔

” تم نے گھر تو سجا بھی کیا زیان ابھی کل ہی تو خریدا تھا ” عفیرہ نے متحیر ہو کر پوچھا

” ہاں کل سے سجا ہی تو رہا ہوں ۔۔۔ تمہیں کیا خبر کے مجھے تمہیں پانے کی کتنی آرزو ہے ” زیان نے اپنا ہاتھ اسکی طرف بڑھایا تھا ۔۔۔۔ اس سے پہلے کے عفیرہ س کے ہاتھ میں ہاتھ دیتی جھٹکے سے کسی نے عفیرہ کا ہاتھ پیچھے کیا تھا ۔۔۔۔ عفیرہ نے بے ساختہ سامنے دیکھا تو نوفل کھڑا تھا ۔۔۔۔ عفیرہ کا تو سانس تھم کے رہ گیا تھا ۔۔۔۔

“ن۔۔۔نو۔۔۔۔فل ” عفیرہ کے پیروں کے نیچے سے زمین کھسکی تھی

” عفی تمہیں اس شخص سے ڈرنے کی ضرورت نہیں ہے ۔۔۔ سچ کہہ دو اس کے سامنے ۔۔۔ تا کہ اسے یقین آ جائے ۔۔۔۔ ” زیان عفیرہ کے پاس آ کر کھڑا ہو گیا نوفل نے غصے سے زیان ک گریبان پکڑ لیا

” کمینے ۔۔۔ دوست کے روپ میں بھیڑیے ۔۔۔۔ اس لئے مجھے یہاں لائے تھے ۔۔۔۔ میری بیوی کو ورغلانے کی کوشش کر رہے تھے ۔۔۔۔ یو فول ” نوفل نے زیان کو بری طرح سے جھنجھوڑنا شروع کیا تھا ۔۔۔۔ عفیرہ یہ سب دیکھ کر حواس باختہ ہوئی تھی ۔۔۔

“نوفل کیا کر رہے ہیں آپ چھوڑیں اسے ” عفیرہ نوفل کے ہاتھوں سے زیان کا گریبان چھڑوانے لگی

” ہٹو پیچھے عفیرہ آج یہ مجھ سے زندہ نہیں بچے گا کمینہ مجھے بہکا رہا تھا کہ میری بیوی اس سے محبت کے پیچے لڑاتی رہی ہے ۔۔۔۔ مجھ سے طلاق چاہتی ہے ۔۔۔۔ کمینہ جھوٹا مکار ۔۔۔۔ ” نوفل غصے میں اندھا ہو چکا تھا زیان کا گلا دبانے لگا ۔۔۔ عفیرہ کی حالت یہ دیکھ کر ابتر ہوئی تھی ۔۔۔ اس نے بڑی مشکل سے زیان سے اس کا گلا چھڑوایا تھا

” جھوٹ نہیں ہے یہ ۔۔۔۔ میں محبت کرتی زیان سے ۔۔۔۔ ” نوفل سن کر وہیں کا ششدد سا ہو کر وہیں کھڑا رہ گیا تھا ۔۔۔۔۔پھر عفیرہ کے پاس آیا زیان اپنااکھڑا ہوا سانس بحال کر رہا تھا کھانس بھی رہ تھا ۔۔۔

” کیا بکواس کی ہے تم نے ۔۔۔۔۔ ہوش میں تو ہو تم ۔۔۔۔ ” جیسے جیسے نوفل ایک ایک قدم اسکی طرف بڑھا رہا تھا وہ اپنے اپنے قدم پیچھے لے رہی۔ تھی

” میں ۔۔۔۔ سچ کہہ رہی ہوں ۔۔۔ مجھے طلاق چاہیے آپ سے ” نوفل بے یقین س تھا

” عفیرہ ۔۔۔۔۔ پاگل ہو گئ ہو تم ۔۔۔۔۔ میری بیوی ہو میرے ولی کی ماں ہو ۔۔۔ کیسے کسی اور کے ساتھ۔۔۔۔” نوفل کاتو سر چکرا گیا تھا ۔۔۔۔

” میں شادی سے پہلے زیان کو چاہتی تھی نوفل ۔۔۔۔ پانچ سال ہم نے ایک دوسرے سے محبت کی ہے ۔۔۔۔ بس مجبورا مجھے آپ سے شادی کرنی پڑی ” وہ ہر بات کا خود اعتراف کر رہی تھی ۔۔۔ نوفل نے اس بازو پکڑا

” محبت میں نے بھی تم سے کی ہے ۔۔۔۔ شادی سے پہلے تم نے کیا کیا نہیں مجھے نہیں جاننا ۔۔ میں صرف یہ جانتا ہوں ۔۔۔ تم میری بیوی ہو میرے بچے کیاں ہو ۔۔۔ جو غلطی شادی سے پہلے کر چکی۔۔۔۔ میں معاف کر دوں عفیرہ لیکن ۔۔۔ طلاق نہیں دے سکتا ۔۔۔۔ ” نوفل اس کے بلکل قریب آ کر ٹوٹے ہوئے لہجے میں بولا ۔۔۔۔۔ یہ شاید اس کا آخری ضبط تھا

” مجھے طلاق چاہیے نوفل ۔۔۔۔ “

” میرے ساتھ گھر چلو ۔۔۔۔۔ میں تمہیں ہر گز نہیں چھوڑ سکتا ہوں میری عزت ہو تم ” نوفل نے اسے اپنے ساتھ باہر لے جانا چاہ جب زیان سے کی گئ موبائل پر بات سپیکر پر چلنے لگیں تھیں

((” زیان میں تم سے بہت شرمندہ ہوں ۔۔۔ “

” سب باتیں چھوڑو عفیرہ بس ایک جواب دے دو ۔۔۔۔ نوفل ایسی کیا خوبی تھی جو تم نے اسے مجھ پر فوقیت دی ۔۔۔۔ “

” میں مجبور ہو گئ تھی ۔۔۔۔ ابا نے ہاں کر دی تھی مجھ سے پوچھے بغیر “

” یہ جھوٹ ہے عفی ۔۔۔۔ سچ بتا دو تو میں تمہیں اب بھی اپنا سکتا ہوں ۔۔۔ تمہارے لئے ہی تو دبئ سے اتنی دولت کما کر لایا ہوں “

” بس میری عقل پر پردے پڑ گئے تھے زیان ۔۔۔ غلطی کر بیٹھی تھی ۔۔۔ رشتہ تو عبیرہ کے لئے آیا تھا ۔۔۔۔ لیکن نوفل کی گاڑی دیکھ کر میری نیت بدل گئ ۔۔۔ مجھے لگا ہو گا کوئی رئیس بس میں بہک گئ تھی ۔۔۔۔۔ مجھے معاف کر دو زیان “

” معاف تو میں نے کر دیا تھا عفی ۔۔۔ آخر تم سے محبت جو کرتا ہوں ۔۔۔ لیکن خود غرض نہیں ہوں

جو تمہارا بسا بسایا گھر برباد کر دوں۔ ۔۔۔ تم خوش ۔۔۔ تو ٹھیک ہے میرے لئے یہی کافی ہے ۔۔۔ میرا کیا گزر رہی ہے گزر جائے گی “

” خاک خوش ہوں ۔۔۔۔ تمہارا دل دکھانے کی سزا بھکت رہی ہوں ۔۔۔ نوفل کو مجھ ذرا محبت نہیں ہے ۔۔۔ بہت ظلم کرتا ہے مجھ پر ہاتھ اٹھاتا ہے مارتا پیٹتا ہے ۔۔۔۔ تمہیں کیا خبر تمہاری عفی کیسی اذیت ناک زندگی جینے پر مجبور ہے “

” افف میرا دل پھٹنے لگا ہے یہ سب سن کر عفی ۔۔۔۔ بس بہت ہو چکا میں تمہیں یہ ظلم برداشت کرتے ہوئے سسک سسک کر یوں زندگی گزارتے نہیں دیکھ سکتا ۔۔۔ میں ایک فلیٹ ساحل سمند کے سامنے خرید چکا ہوں بس ۔۔۔۔ نوفل نامی جلاد سے تم جان چھڑوا لو ۔۔۔۔ پھر ہم ہوں گئے اور ہماری محبت “

” لیکن وہ مجھے طلاق کیوں دے گا “

” وہاں مجھ پر چھوڑ دو ۔۔۔۔ جب سے تمہیں دیکھا۔ ہے۔۔۔ تڑپ رہا تم سے ملنے کو ۔۔۔۔ اور پھر تمہیں اپنا فلیٹ بھی تو دیکھانا ۔۔۔ بس جلدی سے ملاقات کا کوئی بہانہ ڈھونڈو ۔۔۔ مجھ سے رہا نہیں جا رہا عفی ۔۔۔۔ “

“میں کل ہی تم سے ملنے آ جاتی ہوں “

” وہ سب ٹھیک ہے عفی لیکن میں شادی کے بعد تمہارا بچہ بلکل نہیں پالوں گا ۔۔۔ رہ سکوں گی آپ ے بچے کے بنا ۔۔۔۔ کسی ماں سے اسکی اولاد کو چھننے کا بھی حوصلہ نہیں ہے مجھ میں “

” تمہارے لئے جب نوفل کو چھوڑ سکتی ہوں تو ولی کو کیوں پنے پاس رکھوں گی ۔۔۔۔ جس کی اولاد ہے وہی سنبھالے گا ۔۔۔۔ “

” کل میری پسند کا کلر پہن کر آنا عفی ۔۔۔ تمہاری ساتھ کل کی ملاقات مجھے یاد گار بنانی ہے ۔۔۔۔ سمجھ تو رہی ہونا میری بات کو ۔۔۔ کیا چاہتا ہوں “

” میں جانتی ہوں تم میری محبت سے سیراب ہونا چاہیے ہو ۔۔۔۔”

” بلکل پور پور تمہاری محبت میں بھیگنا چاہتا ہوں ۔۔۔۔ کاش یہ کل کاسورج جلد ہی طلوع ہو جائے “

موبائل پر ہونے والی گفتگوں سن کر نوفل نے عفیرہ کا ہاتھ۔ چھوڑ دیا تھا ۔۔۔

پھر دوبارہ اس پر نظر اٹھا کر نہیں دیکھا ۔۔۔۔ اکیلا ہی وہاں سے باہر نکل گیا