Log Kia Kahe Gy by Umme Hani NovelR50418 Log Kia Kahe Gy Episode 33
Rate this Novel
Log Kia Kahe Gy Episode 33
Log Kia Kahe Gy by Umme Hani
نوفل بڑے غور سے اسے دیکھتا رہا ۔۔۔ وہ لڑکا دل کے ہاتھوں چوٹ کھایا ہوا لگتا تھا ۔۔۔
” چلو اب اپنی کہو ۔۔۔ فون پر تم کہہ رہے تھے کہ تمہیں بھی ایک دوست کی ضرورت ہے جس سے دل کی بات کہہ سکوں ۔۔۔ ” نوفل نے اسے کریدنے میں پہل کی تھی
” میں کیا کہو آپ سے ۔۔۔۔ ” زیان نے سرد آہ بھری
” پانچ سال ایک لڑکی کو ٹوٹ کر چاہا ۔۔۔۔ اسکے منہ سے نکلی ہر بات کو پورا کیا یہاں تک منگنی کے بندھن میں بھی باندھ لیا ۔۔۔۔ بس چند ماہ بعد شادی تھی ہماری ۔۔۔۔ لیکن اسے مجھ سے بہتر کوئی مل گیا ۔۔۔۔ دولت کی ہوس نے اسے اتنا اندھا کر دیا
کہ نا میں نظر آیا نا میری ۔محبت ۔۔۔۔ میرے ساتھ بیوفائی کر کے وہ ایک گاڑی بنگلے والے کے ساتھ چلی گئ ۔۔۔۔ ” زیان نے مختصر سا قصہ سنایا نوفل غور سے سن رہا تھا پھر کرسی سے ٹیک لگا کر بولا
” میرا ذاتی تجربہ ہے ۔۔۔۔ کہ لالچی انسان کا پیٹ کوئی نہیں بھر سکتا ۔۔۔۔ جس نے تمہارے ساتھ بیوفائی کی ہے وہ شوہر کی دھن دولت سے بھی کبھی مطمئن نہیں ہو گی ۔۔۔ شوہر سے بہتر کوئی ملے گا تو ۔۔۔ شوہر کو بھی چھوڑ دے گی ۔۔۔۔ ایسی عورتیں کبھی کسی کے ساتھ وفا نہیں نبھاتیں ۔۔۔۔ ” نوفل کی بات سن جر زیان نے تائید میں سر ہلایا تھا
” سچ کہہ رہے ہیں آپ ۔۔۔۔ اور آپ سنائیں شادی کر لی آپ نے اپنی بھابھی سے ؟ ” زیان کے غیر متوقع سوال پر وہ دنگ سا ہوا تھا
” بھابھی سے کیوں ۔۔۔۔ ؟ شادی میں نے کی ہے لیکن کسی اور سے ۔۔۔ ایک بیٹا بھی ہے میرا ” نوفل کے جوب پر زیان نے تعجب سے ہونٹ گول کر کے کہا
” اوہ آئی سی ۔۔۔۔ اور بھابھی ؟ میکے چلی گئیں اپنے ؟
” نہیں میکہ انکا ہے ہی نہیں ۔۔ بھائی بہن کوئی تھا نہیں۔۔۔ ایک والدہ تھیں وہ بھی انتقال کر چکیں تھیں ۔۔۔ بھابھی بھی یہیں میرے ساتھ رہتی ہیں ۔۔۔ لیکن تمہیں یہ کیوں لگا کہ میں بھابھی سے شادی کرو گا ۔۔۔۔ بھابھی بڑی بہن جیسی ہوتی ہے ۔۔۔۔ میں تو ایسا سوچ بھی نہیں سکتا ” نا جانے کیوں نوفل کو زیان کی بات بری لگی تھی ۔۔۔
” جی بلکل آپ کی بات درست ہے ۔۔۔ میں نے تو اس لئے پوچھ لیا کہ آخری وقت میں آپ کے بھائی نے آپ سے وعدہ لیا تھا ۔۔۔۔ اس لئے مجھے لگا آپ بھائی کاوعدہ نبھاؤ گئے ۔۔۔۔ ایم سوری اگر میری بات آپ کو بری لگی ہے تو ” زیان نوفل کے تپے تپے تاثرات دیکھ کر وضاحت دینے لگا
” وعدہ ہی تو نبھا رہا ہوں ۔۔۔۔ انہیں بے آسرا تو نہیں چھوڑا بلکہ انہیں ساتھ رکھنے کی خاطر ہی تو شادی بھی جلد کر لی ۔۔۔۔ تا کہ لوگوں کو باتیں کرنے کا موقع نا ملے “
” جی جی آپ ٹھیک کہہ رہے ہیں لیکن مجھے لگا آپ کے بھائی نے آپ سے یہی وعدہ لیا تھا انکی بات کا مقصد یہی تھا ۔۔۔۔۔
کیونکہ کوئی بھی دیور اپنی بھابھی سے نکاح کے ذریعے ہی بہتر سپورٹ کر سکتا ہے ۔۔۔۔ شاید میں ہی آپ کے بھائی کی بات کو ٹھیک سے سمجھ نہیں پایا ۔۔۔۔ ” زیان اور نوفل کی بات چیت کاسلسلہ ابھی جاری تھا ۔۔۔ جب لاونج کا دروازہ کھلا تھا ۔۔۔۔
سامنے گلے میں ڈوپٹہ پہنے ٹی ٹرالی کو دھکیلتے ہوئے عفیرہ باہر نکلی تھی ۔۔۔۔ یوں عفیرہ کے باہر آنے پر نوفل حیرت سے دیکھتا ہوا کھڑا ہوا تھا کیونکہ وصی کے علاؤہ کسی دوست کو وہ فیملی میں نہیں بیٹھاتا تھا نا ہی ماہرہ اور عفیرہ کو ایسی اجازت تھی ۔کہ وہ بے دھڑک سامنے آئیں ۔۔۔ نوفل کے ساتھ زیان بھی عفیرہ دیکھتا ہوا کھڑا ہوا تھا ۔۔۔۔ یوں عفیرہ کو سامنے دیکھ کر ششدد سا رہ گیا تھا
” عفی ” زیان حیرت سے زیر لب بولا تھا دماغ چکرا کر رہ گیا تھا ۔۔۔۔ سوچا نہیں تھا کہ عفیرہ سے یہاں ملاقات ہو سکتی ہے
۔۔۔۔ مائرہ کو بھی زریاب کی موت پر دیکھ چکا تھا ۔۔۔۔۔ اس لئے یہ جاننے میں مشکل نہیں ہوئی تھی کہ نوفل بیوی کون ہے ۔۔۔
عفیرہ جو اپنے گھنگرالے بالوں کو آگے کیے گلے میں ڈوپٹہ لئے ٹرالی لئے چاہے لائی تھی ۔۔۔ تا کہ ایک نظر نوفل کے دوست پر ڈال سکے اور اپنا امپریشن بھی اس پر اچھا اور کچھ موڈرن ڈال سکے ۔۔۔۔ زیان کو سامنے دیکھ کر بری طرح سے گڑبڑائی تھی ۔۔۔۔۔ نوفل تیزی سے اسکے پاس پہنچا تھا
” کس نے کہا تھا تمہیں منہ اٹھا ئے باہر چلے آنے کو ۔۔۔ ” وہ غصے سے دبے دبے لہجے سے بولا ۔۔۔ تا کہ آواز صرف عفیرہ ہی سن سکے
” وہ ۔۔میں ” عفیرہ کی تو آواز ہی حلق میں پھنس گئ تھی صیحیح معنوں میں اب عفیرہ کی جان پر بنی تھی۔۔۔۔۔
” اندر دفع ہو جاؤں ” نوفل آنکھیں دیکھاتے ہوئے اسے کہا ۔۔۔وہ فورا سے اندر بھاگ گئ ۔۔۔۔۔ ٹرالی کو نوفل پکڑ کر کرسیوں کے پاس لانے لگا۔۔۔۔۔ زیان کی تو سوجھ بوجھ ختم ہوئی تھی ۔۔۔۔
عفیرہ نوفل کی بیوی ؟”۔۔۔۔۔۔ ایک نظر زیان نے نوفل کے گھر پر ڈالی جو کہیں سے بنگلہ نہیں لگ رہا تھا چھوٹا سا سنگل اسٹوری گھر تھا صحن کے ایک طرف جھوٹا سا پورج بنا ہوا تھا ایک مناسب سی گاڑی تھی ۔۔۔۔ نوفل اپنی جاب سے جتنی آمدنی کمارہا تھا تقریبا لگ بھگ اتنا تو زیان بھی کما ہی لیتا تھا ۔۔۔۔۔ شکل صورت میں بھی نوفل زیان سے کچھ ہی بہتر تھا ۔۔۔۔۔
زیان تو یہی سمجھتا رہا کہ عفیرہ کسی دولت مند کی بیوی ہو گئ ۔۔۔۔ نوفل اور زیان مالی اعتبار سے تو تقریبا برابر تھے ۔۔۔۔۔ بلکہ زیان کا پورشن نوفل کے گھر کافی بڑا تھا ۔۔۔۔ پھر وجہ کیا تھی زیان کو ٹھکرانے کی ۔۔۔۔۔ پیسہ ؟ وہ نوفل کے پاس بھی اتنا نہیں تھا ۔۔ ۔۔۔ زیان کو لگا پل بھر میں ہی پوراصحن تیزی سے گول گول گھومنے لگا ہو ۔۔۔۔۔ وہ سر پر ہاتھ رکھے وہیں کرسی پر ڈھے گیا ۔۔۔۔ ذہن سوچنے سے قاصر ہوا تھا ۔۔۔۔ اگر نوفل کے ساتھ عفیرہ نے محبت کی ہوتی تو یہ بات زیان سے چھپ نہیں سکتی تھی ۔۔۔ کیا وجہ تھی نوفل کو چننے کی ؟ ۔۔۔۔۔ نا ماں باپ نے عفیرہ پر زبردستی کی تھی ۔۔۔ نا نوفل دولت مند تھا ۔۔۔ نا ہی نوفل سے محبت کا کوئی چکر ؟ ۔۔۔۔۔ کیوں چھوڑا تھا عفیرہ نے اسے؟ “زیان اسی شش وپنج میں مبتلہ تھا جب نوفل نے اسے پکارا ۔۔۔ اس نے چونک کر نوفل کی طرف دیکھا تھا ۔۔۔۔ اپنی سوچوں کے گرداب سے نکل کر حال میں آیا تھا
” تم کہاں گم ہو بھائی ۔۔۔۔ ” نوفل نے پلیٹ اس کے ہاتھ میں تھمائی ۔۔۔ لیکن زیان کی تو حالت ہی غیر تھی ۔۔۔۔۔ ذہن اور دل میں شور سا بھرپا تھا ۔۔۔۔۔
وہاں رکنا محال تھا ۔۔۔۔ اس لئے پلیٹ واپس ٹی ٹرالی میں رکھ کر کھڑا ہو گیا
” ایم سوری نوفل میں پھر کبھی چائے پیو گا ۔۔۔۔ اس وقت مجھے اجازت دو ” زیان کی بد حواسی نوفل کی سمجھ سے باہر تھی ۔۔۔۔
” تمہیں کیا ہو گیا ہے ۔۔۔ ابھی تو ٹھیک تھے ” نوفل بھی اس کے ساتھ کھڑا ہو گیا ۔۔۔۔۔
” پتہ نہیں۔۔۔۔ بہت ۔۔۔۔۔ بہت گھبراہٹ سی ہو رہی ہے اس وقت مجھے اجازت دو ” زیان کی افراتفری چہرے کی بد حواسی اڑی رنگت۔۔ بار بار چہرے سے پسینے پونچنا نوفل کی سمجھ سے باہر کا معاملہ تھا ۔۔۔۔ پھر بھی نوفل نے اسے روکنے بہت کوشش کی لیکن وہ رکا نہیں معذرت کرتا ہو وہاں سے چلا گیا ۔۔۔۔۔
******…….
عفیرہ سیدھی اپنے کمرے میں گئ تھی۔۔۔۔ سراسمیگی سی اسکے اوپر بھائی ہوئی تھی ۔۔۔ پورے وجود میں پسینے سے تربتر ۔۔۔ دھڑکنیں بے ترتیب ۔۔۔۔۔ سانس بے ہنگم ۔۔۔۔۔
آج تو عفیرہ کی جان لبوں پر تھی ۔۔۔۔۔ بار بار چہرے پر آنے والے پیسنے کو پونچ رہی تھی ۔۔۔۔۔ زیان اسکے گھر تک کیسے پہنچ گیا تھا ۔۔۔۔ اگر نوفل کو سب کچھ بتا دیا تو وہ کیا کرے گی ۔۔۔۔ وہ تو عفیرہ کو ایک منٹ ضائع کیے بنا فارغ کر دے گا ۔۔۔۔ نا ہی اس کی بات سنے گا نا اسکی بات پر بھروسہ کرے گا ۔۔۔۔ پہلی بار آنکھوں سے آنسوں بہے تھے ۔۔۔
کچھ بھی تھا۔۔۔۔۔ لیکن ایک شوہر ہونے کے ناطے محبت کا ہو جانا فطری سا عمل ہے چاہے بیوی عفیرہ جیسی ہی کیوں نا ہو ۔۔۔ پھر نوفل بے شک غصے کا تیز تھا لیکن ۔۔۔ ایسا بھی کبھی نہیں ہوا تھا کہ اس کی فرمائش رد کی ہو ۔۔۔۔ جو مانگتی تھی لا دیتا تھا ۔۔۔ پھر کام کاج کو وہ کم ہی ہاتھ لگاتی تھی ۔۔۔ اب کی زندگی عیش میں کشمزر رہی تھی ۔۔۔۔ اپنے میکے کے تنگ اور گھٹے ماحول سے وہ یہاں پر سکون تھی ۔۔۔۔۔
نا بچے کی ذمہ داری کی فکر تھی نا گھرداری کی پروا۔۔۔۔ گھبراہٹ کے مارے ہاتھوں میں لرزہ سا طاری ہونے لگا تھا ۔۔۔ اسوقت اسے عابدہ بیگم کا خیال آیا تھا ۔۔۔۔ جلدی سے اپنے موبائل کو پکڑا اور فون ملا دیا ۔۔۔۔
دھڑکتے دل سے ساری بات ماں کے گوش گزار کی تھی ۔۔۔ لیکن عابدہ بیگم کی وہی ازلی لاپروائی
” ارے اس کم بخت سے ڈر رہی ہے تو ۔۔۔ اگر کچھ کرنا ہوتا تو اس وقت نا کر لیتا ۔۔۔۔ کچھ نہیں کر سکتا ۔۔۔ نوفل کو بیٹا پیدا کر کے دیا ہے تو نے ۔۔۔ اسکی نسل کو آگے بڑھایا اب تو تیرے پیر بڑے پکے ہو چکے ہیں ۔۔۔۔ ” عابدہ بیگم کی وہی دقیانوسی سوچ تھی ۔۔۔ لیکن اس بار عفیرہ ضرور گھبرا گئ تھی ۔۔۔۔ کیونکہ پہلے اس نے شزا کی دھمکی دی تھی لیکن اب یہ خبر بھی سن چکی تھی کہ شزا کو طلاق ہو چکی ہے کیونکہ محلہ ایک ہی تھا اور ایسی خبریں ایک گھر سے دوسرے گھروں میں آگ کی طرح پھیلتی ہیں ۔۔۔۔۔ زیان کی اب ایسی کمزوری اس کے پاس نہیں تھی جس سے اسے ڈرا یا دھمکا سکتی ۔۔۔
” سچ کہہ رہی ہو اماں ؟ نوفل ۔۔۔۔۔مجھے چھوڑے گا تو نہیں نا ؟
” نہیں چھوڑے گا ۔۔۔ کیوں پریشان ہوتی ہے ۔۔۔۔ بے فکر رہ ۔۔۔۔ اور اس زیان کے سامنے جیسے پہلے دیدہ دلیری دیکھائی تھی اب بھی ویسی ہی دیکھا
” اماں تب بات اور تھی ۔۔۔۔ اب جو بھی ہے
میں۔ نوفل کو چھوڑ نہیں سکتی ۔۔۔۔۔ ” پہلی بار اپنے گھر ٹوٹنے کی فکر ستائی تھی ۔۔۔
” نہیں چھوڑے گا تمہیں کہہ تو رہی ہوں پکے پیر ہیں تیرے ۔۔۔۔ ” ابھی وہ دون پر بات کر ہی رہی تھی جب نوفل کمرے میں آیا تھا عفیرہ نے فورا سے کال کاٹ دی
” عقل ہے تم میں یا بیچ کھائی ہے ۔۔۔۔ تم کیا منہ اٹھائے صحن میں چلی آئی تھی ۔۔۔۔” آج تو نوفل کی ڈانٹ بھی بری نہیں لگ رہی تھی ۔۔۔۔
” بس غلطی ہو گئ نوفل ۔۔۔ بھولے سے آ گئ ۔۔۔ نہیں سنا چاہیے تھا ۔۔۔۔ ان دوسالوں میں پہلی بار معذرت کے الفاظ عفیرہ کے منہ سے ادا ہوئے تھے ۔۔۔۔ نوفل نے بات کو زیادہ طول نہیں تھی
” آئندہ خیال رکھنا ۔۔۔ بلوچ سب کچھ سنبھالو جا کر کچن میں ۔۔۔ وہ بیچارہ کھائے پیے بنا ہی چلا گیا ۔۔۔۔ میں نے سب کچھ کچن میں رکھ دیا ہے ۔۔۔۔ ” نوفل کے کہنے پر پہلی بار وہ فورا سے اٹھ کر کچن میں۔ گئ تھی ورنہ تو ایسی فرمابرداری عفیرہ کرتی نہیں تھی ۔۔۔۔۔
******…….
جب سے بدر نے مظہر کا آفس جوائن کیا تھا ۔۔۔۔ بدر کے نت نئے مشوروں سے مظہر کے آڈرز میں مزید اضافہ ہوا تھا ۔۔۔۔
کام میں ترقی بھی بڑھ گئ تھی یہی وجہ تھی کہ مظہر خود با خود بدر کی طرف مائل ہونے لگا تھا ۔۔۔ اسکے مشورے مظہر کے کام میں مفید ثابت ہوئے تھے ۔۔۔۔ اور نکل مظہر ایک فیکٹری اور کھولنے کے لئے جگہ خرید چکا تھا ۔۔۔ اور اسی کا سٹ اپ کر رہا تھا ۔۔۔
دونوں میں ذہنی ہم آہنگی بھی بہت تھی ۔۔۔ یہی وجہ تھی کہ مظہر بدر سے دوستانہ ماحول قائم کیے ہوئے تھا ۔۔۔ سب بھی وہ لاونج میں کھڑا اسی کو انتظار کر رہا جب گاڑی کا ہارن سنائی دیا ۔۔۔۔
کچھ ہی دیر بعد مظہر نے ہی لاونج کادروازہ کھولا تھا سامنے ہی بدر فائلز لئے کھڑا تھا ۔۔۔۔ مظہر کو شب خوابی لباس میں ملبوس تھا ڈھلی ڈھالی شرٹ اور ٹروزار پہلے ہلکی سی شیو بھی بڑھی ہوئی تھی ۔۔۔
” آؤ نا بدر اندر آو ۔۔۔ ” مظہر نے اس ہاتھ ملانے کے بعد کہااور وہی۔ لاونج میں اس کے ساتھ بیٹھ گیا
” گھر میں رہ رہ کر تو مجھے لگتا ہے نا جانے کتنا بیمار ہوں ۔۔۔۔ لیکن یہ بیگمات کو سمجھائے کے مرد اپنی ہٹی پر جا کر ہی خوش رہتے ہیں ۔۔۔ ” وہ ہلکے پھلکے انداز سے ہنسی مزاق کرتے ہوئے بولا بدر نے جوب دینے کے بجائے فائلیں اس کے سامنے کھول کر رکھ دیں ۔۔۔
” سر یہ نیو ڈائزین ہیں۔۔۔ اگر ہم شرٹس پر یہ ڈائزین بنوائیں تو اچھا رسپونس ملے گا ” بدر چاہتا تھا کہ جلد از جلد اپنا کام نمٹا کر وہاں چلا جائے ۔۔۔ مظہر وہ ڈیزائن دیکھنے لگا ۔۔۔۔ دل ہی دل میں بدر کی ذہانت کا قائل بھی تھا ۔۔۔۔ اسکے تیار کردہ ڈیزائن واقعے کلانٹ کو پسند آتے تھے ۔۔۔۔
آدھے گھنٹے میں ہی سب فائنل کر کے بدر اٹھ کر کھڑا ہو گیا تھا ۔۔
” سر اب میں چلو گا” بڑا عجلت بھرا انداز تھا اس کا ۔۔۔۔
” ارے کس بات کی جلدی ہے بھئ چائے پی کر جانا ۔۔ ” بدر کو کہنے کے بعد ہی مظہر نے بلند آواز لگائی ۔”آفرین کتنی دیر ہے چائے میں ۔۔۔ میرے مہمان کو جانے کی جلدی ہے ۔۔۔ ” دل میں جو معمولی سا شک بھی تھا کہ شاید مظہر کی بیوی کوئی اور ہو وہ بھی آفرین کا نام سن کر ہوا تھا ۔۔۔۔
” سر اس تکلف کی ضرورت نہیں ہے ۔۔۔ مجھے کچھ جلدی گھر جانا ہے ” بدر نے بہانہ تراشا تھا
” چائے پی کر جانا ۔۔۔۔ “
” سر میں پھر کبھی ” بات یہیں رک پہنچی تھی کہ آفرین دو ملازمہ کے ساتھ لوازمات سے بھی ٹرالی کے ساتھ داخل ہوئی تھی ۔۔۔ بدر اپنا رخ بدل گیا تھا ۔۔۔۔ جی چاہا کہ خود کہیں چھپا لے ۔۔۔۔
” آپ بھی مظہر بہت شور کرتے ہیں ۔۔۔۔ ” آفرین کی آواز سب سے پہلے اس نے سنی تھی ۔۔۔
” آؤ بیٹھو اب بہت جلدی ہے تمہیں بھاگنے کی ۔۔۔ ” مظہر نے بدر کو آفرین کی جانب پشت کیے دیکھ کر کہا کیونکہ اگر وہ سیدھا ہو کر صوفے پر بیٹھتا تو آفرین سے سامنا لازمی ہوتا لیکن ۔۔۔ یوں بھی کب تک منہ چھپائے کھڑا رہ سکتا تھا ۔۔۔۔
” ارے آپ یوں کیوں کھڑے ہیں ۔۔۔۔ آپ کی تعریفیں سن سنکر تو مجھےخاپ کو دیکھنے کاشتیاقس کو گیا تھا ۔۔۔ ورنہ بدر تو تعریف کرنے کے بہت کنجوس ہیں ” آفرین نے بھی مسکرا کر بدر سے کہا تھا ۔۔۔۔ بدر کے دل کی حالت وہی جانتا تھا۔۔۔۔۔ جس ماحول میں وہ مظہر کے ساتھ پچھلے چار پانچ سالوں سے رہ رہی تھی ۔۔۔۔ اسکے دوستوں اور انکی فیملیز سے اس کا ملنا جلنا ایس تھا کوئی خاص پردہ نہیں تھا وہ سب کے سامنے جاتی تھی ۔۔۔ بات چیت بھی کر لیتی تھی مجبورا ہی صحیح لیکن بدر کو پلٹنا پی پڑا تھا ۔۔۔ اسے دیکھ کر آفرین کی مسکراہٹ دم توڑ چکی تھی ۔۔۔۔ ایک پل ہی دونوں کی نظروں کاتوادم ہوا تھا ۔۔ ایک کی آنکھوں میں ندامت تھی دوسرے کی آنکھوں میں تحیر ۔۔۔۔۔ دنوں نے ہی بیک وقت نظریں بدلیں تھیں ۔۔۔ کیونکہ ایسا کوئی حق رہا نہیں تھا ۔۔۔۔۔ زندگی آگے بڑھ چکی تھی ۔۔۔۔ آفرین ک،وہاں رکنا مشکل تھا ۔۔۔۔
” مظہر آپ لوگ چائے پیں میں آبان کے لئے نوڈلز بنا لوں ورنہ بہت شور کرے گا ” یہ کہہ وہ کچن میں چلی گئ ۔۔۔ اپنے ساتھ ساتھ بدر کی مشکل بھی آسان کی تھی ۔۔۔
” ایک تو میرا بیٹا پورا بگڑا نواب ہے ۔۔۔۔ اتنی فرمائشیں میں نہیں کرتا اپںی بیگم سے جتنا آبان اپنی ماں سے کرتا ہے ” بدر بیٹھ چکا تھا چائے مظہر نے ہی اس کے کپ میں ڈال اس کے سامنے پیش کی تھی ۔۔۔ بہت کچھ تھاسامںے رکھے ڈینٹل ٹیبل پر لیکن بدر کو چائے بھی ایک سیاں اور گاڑھے سیال کی مانند لگ رہی تھی جسے حلق سے اتارنا مشکل ہو ۔۔۔ سوائے چائے اس نے کچھ اور نہیں لیا تھا ۔۔۔۔ چائے پیتے ہی وہ جا چکا تھا ۔۔۔۔۔ آفس ٹائم ختم ہو چکاتھا اس لئے سیدھا گھر کی گیا تھا جہاں اسکی والدہ روز ہی اس کان کھانے کے لئے تیار رہتی تھیں ۔۔ وہی روایتیں سی باتیں رمشہ کسی کا ہاتھ تک نہیں لگتی میری بات کی اہمیت نہیں ہے تم اسے کہو کے کی ذمہ داری سنبھالے میں بوڑھی کب تک اپنی ہڈیاں گھساری پھرو گی ” یہ وہ باتیں تھیں جو گھر تے ہی بدر کا استقبال کرتی تھیں ۔۔۔۔
” اماں میں تھکا ہارا گھر آتا ہوں مجھے کچھ دیر تو سکون لینے دیا کریں ۔۔۔۔ مت کیا کریں آپ بھی کوئی کام رکھ لیں ایک اور ملازمہ جو کھانا بھی پکا دیا کرے ۔۔۔ ” بدر پہلے ہی دل کی بے قراری سے پریشان تھا پھر وہی روز کی چک چک سن کر تنگ آ چکا تھا
” کیوں رکھ لوں ملازمہ پیسے کیا درخت پر اگتے ہیں ارے دو لوگوں کا کھانا پکانا بھی گوارا نہیں ت۔ہاری بیوی کو ” انکاغصہ بھی صرف بدر پر نکلتا تھا رمشہ توانہیں بولنے نہیں دیتی تھی
” میری بیوی نہیں آپ کی پسندہ بہو ۔۔۔۔ امی رمشہ آپ کی چوائس ہے ۔۔۔۔۔ آپ جانے اور وہ جانے ۔۔۔ مجھ سے شکایت مت کیا کریں اگر میری پسند کواہمیت دی ہوتی تو آج راج کر رہی ہوتیں ” جلے دل کے ساتھ وہ یہ کہہ کر اپنے کمرے میں چلا گیا ۔۔۔۔۔ باہر ماں سیر تواندر کمرے میں بیوی سوا سیر تھی
” سن لیں آپ ی ماں کی گل فشانیاں ۔۔۔ بدر میں تنگ آ چکی ہوں کی بل بک سن کر یار تو ہیں چپ کروا لوں ورنہ میرے لئے الگ گھر کا انتظام کرو ۔۔۔ میں یہ سب برداشت کرنے کی عادی نہیں ہوں ” رمشہ بھی لال بھبوکا بنی بیٹھی تھی ۔۔۔۔
” تم کچھ دیر چپ نہیں رہ سکتی ۔۔۔ کیوں تمہیں سمجھ نہیں آتا کہ مجھے سکون چاہیے ۔۔۔ خدا کے لئے یا تو چپ ہو جاؤں یا باہر چلی جاؤ “
” ہاں مجھے ہی چپ کروانا ۔۔۔۔ اپنی ماں کی تو ساری باتیں سن اتے ہو ۔۔۔ اور جہاں میں بات شروع کرو تو تمہیں سکون چاہیے ہوتا ہے ۔۔۔۔ “
” مت جاؤں تم ۔۔۔۔۔ میں پی کمرے سے باہر چلا جاتا ہوں ” بدر غصے سے کمرے سے باہر نکل کر دوسرے کمرے میں جا کر بیٹھ گیا ۔۔۔۔ روز کا یہ محاز اس کا استقبال کرتا تھا ۔۔۔۔
تکلیف کس کے حصے میں آئی تھی ۔۔۔ محبت کے بجائے ماں کی فرمابرداری نے بھی بدر کی زندگی جہنم بنا کے رکھ دی تھی ۔۔۔۔۔
********………
” تم چاہے کچھ بھی کہو فرقان اس بار تمہاری نہیں سنو گی ایک سال بیت گیا ہے ۔۔۔ بینش بھی اپنے گھر کی ہو گئ ہے ۔۔۔۔ میں کب تک تم چاروں کے کام کر سکتی ہوں ۔۔۔۔ میں کل جس لڑکی کو دیکھ آئی ہوں
مجھے وہ بہت پسند ہے ۔۔۔ تمہارا رشتہ میں پکا کر کے آؤں گی ” اماں جی کے گھر سے شزا کیا گئ تھی گھر گھر کم اور کباڑ خانے ذیادہ لگتا تھا ۔۔۔۔ ماں کو اکیلا دیکھ کر بھی شبو کو احساس نہیں ہوا تھاوہ ویسے پورا دن یہی گزارتی تھی کھانا ماں سے پکوا کر کھا کر اپنے گھر جاتی تھی۔ البتہ شہزاد نے وہاں جانا چھوڑ دیا تھا ۔۔۔۔ وہ اپنے گھر پر ہی رہتا تھا ۔۔۔۔ اماں جی منہ اعتراف تو نہیں کرتی۔ تھیں لیکن اس وقت کو کس رہیں تھیں جب شزا پر گھٹیا الزام لگایا تھا ۔۔۔۔۔ بیٹیاں ماں جیسی بےحس ہی تھیں ۔۔۔ جب میکے آتیں ماں کو ہی کام پر لگ دیتیں تھیں کہ ہم اپنے گھر سے تھکے ہارے آئے ہیں یہاں کیوں کام کریں عرفان ہر چیز سے لا تعلق سا ہو گیا تھا۔۔۔ یہ سچائی بھی چند ماہ بعد سامنے آ گئ تھی جب شبو اور اماں جی کا جھگڑا ہوا تھا ۔۔۔۔ اس سچ کااعتراف بھی ماں نے غصے میں آ کر کر دیا تھا شزا بے قصور تھی سارا ڈرامہ شبو کا رچایا ہوا تھا
شبو بھی غصے میں بول گئ تھی
” ہاں اماں اب سب مجھ پر ڈال کر بری الزمہ ہو جاؤں ۔۔۔۔ ارے تم کی تو کہتی تھی ۔۔۔ کہ پہلی بہو کی زبان کو لگام نا دی تو باقی بہوئیں بھی زبان دراز نکلیں۔ گئیں ۔۔۔۔ اب اگر بات ذیادہ بڑھ گئ ۔۔۔ اور عرفان نے بھی بنا سوچے سمجھے طلاق ہی دے دی تو برائی مجھ پر آ گئ ۔۔۔ ” عرفان تو سن کر چپ سا ہو گیا تھا ۔۔۔۔ فرقان عرفان سے بات چیت ختم کر چکا تھا ۔۔۔ اب بھی منہ سے ایک لفظ نہیں کہا لیکن نظروں سے جتا گیا تھا ۔۔۔ سن لیا سچ ۔۔۔۔ اب کیا کرو گئے ۔۔۔۔ سب کچھ تو کھو بیٹھے ہو ۔۔۔۔۔ عرفان تو ایسا چپ ہوا کہ گھر کے ہر ۔معاملے سے لا تعلق ہو گیا تھا ۔۔۔۔
ایک سال سے اماں جی فرقان کی منت کر رہیں تھیں کہ وہ شادی کے لئے رضامند ہو جائے ۔۔۔۔ لیکن وہ صاف انکار کر رہا تھا ۔۔۔۔۔
لیکن اس بار لڑکی کی تصویر دیکھ کر ہامی بھر دی تھی ۔۔۔۔
اماں جی بھی خوش ہو گئیں ۔۔۔۔ اگلے روز ہی فرقان کی بات عبیرہ سے پکی ہو چکی تھی ۔۔۔۔۔
