Log Kia Kahe Gy by Umme Hani NovelR50418

Log Kia Kahe Gy by Umme Hani NovelR50418 Log Kia Kahe Gy Episode 29

491.6K
51

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Log Kia Kahe Gy Episode 29

Log Kia Kahe Gy by Umme Hani

” نہیں بھابھی آپ کہیں نہیں جائیں گیں ” عفیرہ کی تو جان پر بن گئ تھی ۔۔۔۔ مائرہ کے علاؤہ اسے کوئی اور ایسا نظر نہیں آ رہا تھا جو اسے نوفل سے بچا سکے ۔۔۔ نوفل نے مائرہ کی طرف دیکھا ۔۔۔

” آپ جائیں یہاں سے بھابھی “

” نوفل پلیز چھوڑ دو اسے ” مائرہ نے پھر بھی اسکی منت کی تھی ۔۔۔

” جی تو یہی چاہ رہا ہے کہ چھوڑ ہی دوں اسے ہمیشہ کے لئے ۔۔۔۔ طلاق دے کر جان چھڑوا اپنی ” نوفل کی بات سن کر جہاں عفیرہ کی جان پر بنی تھی ۔۔۔۔ مائرہ بھی ششدد سی رہ گئ تھی کمرے میں بکھیرے کانچ کی پروا کیے بغیر وہ نوفل اور عفیرہ کے پاس آ گئ تھی ۔۔۔ پہلے تو نوفل کی مضبوط گرفت سے عفیرہ کو چھڑوایا ۔۔۔۔ وہ پل میں خوف کے مارے مائرہ کے پیچھے چھپی تھی ۔۔۔

” عفیرہ جاؤں تم میرے کمرے میں ” مائرہ کو یہی ٹھیک لگا کہ فی الحال عفیرہ نوفل کی نظروں سے دور ہو جائے وہ تیزی سے کمرے سے باہر نکلی تھی ۔۔۔ نوفل اب مائرہ کو گھور رہا تھا ۔۔۔

” ایک بات سمجھ نہیں آتی آپ کو ۔۔۔ کیوں اس کی ڈھال بنکر میرے سامنے کھڑی ہو جاتی ہیں آپ ۔۔۔ کیوں بچاتی ہیں اسے ۔۔۔۔۔۔ اچھی طرح جانتی ہیں کہ میں آپ کو کچھ کہہ نہیں سکتا ہوں ۔۔۔ میرے احترام کا نا جائز فایدہ اٹھانا چھوڑ دیں بھابھی ” غصے کو ضبط کرتے ہوئے وہ ہر لفظ کو چبا کر بول رہا تھا بے بسی کی آخری حد پر تھا ۔۔۔ مائرہ کے سامنے انکار کی ہمت نہیں رکھتا تھا ۔۔۔۔۔ یہی وجہ تھی کہ عفیرہ ہر بار اسکے غصے سے بچ جاتی تھی ۔۔۔۔

” نوفل تم بیٹھو ادھر ” نوفل کا بازو پکڑ کر مائرہ نے اسے بیڈ پر بیٹھا دیا ۔۔۔ خود بھی اسکے سامنے بیٹھ گئی

” نوفل اس طرح سے تو گھر نہیں بستے ۔۔۔ بہت کچھ برداشت کرنا پڑتا ہے ۔۔۔ سہنا پڑتا ہے ۔۔۔ طلاق ایک قبیج سا لفظ ہے ۔۔۔۔ اللہ کے سامنے ناپسندید جائز عمل ۔۔۔۔۔ کیوں تم یہ لفظ بھی اپنی زبان پر لائے ہو میرا تو سن سانس گھٹنے لگا ہے ۔۔ تم نے کہہ بھی کیسے دیا ؟۔۔۔۔۔ مائرہ کی بات سن کر وہ بے بسی سے اسے دیکھ کر بولا

” تو پھر کیا کرو ۔۔۔۔ آپ بتائیں ۔۔۔۔۔ ؟ اس کی بد تمیزیاں میری برداشت سے باہر ہیں ۔۔۔۔ بھابھی وہ عجیب مزاج کی ہے ۔۔۔۔۔ ہر بات پر بحث کرتی ہے ۔۔۔ میرے ہر بات سے اسے اختلاف ہے ۔۔۔ بس اپنی ہی بات کو مقدم رکھنے کی چاہ میں لگی رہتی ہے ۔۔۔ میں اپنی ذات پر بہت جبر کر کے اسے برداشت کر رہا ہوں لیکن آج تواس نے ہر حد ہی پار کر دی ہے ۔۔۔۔ ہاتھ کیسے اٹھایا س نے عائزہ پر ۔۔۔ ” یہ کہہ نوفل نے دروازے کی دہلیز پر کھڑی ہچکیوں سے روتی عائزہ کی طرف دیکھا جس کارخسار اب بھی سرخ ہو رہا تھا ۔۔۔۔ دل پھر سے یکبارگی سے تڑپا تھا ۔۔۔۔ اٹھ کر وہ بکھیرے کانچ کے ٹکڑوں کو پیر سے سائیڈ پر کرتے ہوئے اس تک پہنچا تھا ۔۔۔ اسے گود میں بھر کر اپنے سینے سے لگا لیا ۔۔۔

” چاچو ” عائزہ کے رونے اور بھی تیزی آ گئ تھی منزہ بھی دروازے کے پاس ڈری سہمی کھڑی تھی ۔۔۔۔

” بس میری جان چپ ہو جاو۔۔۔۔۔ ” عائزہ کی ہچکیوں نے دل پر حشر سا بھرپا کر دیا تھا ۔۔۔۔ زریاب نے تو کبھی سخت نظر ان پر نہیں ڈالی تھی

۔۔۔ ان پر کیا ۔۔۔ کبھی نوفل کو بھی کچھ نہیں کہا تھا ۔۔۔۔ والدین کی اچانک موت نے نوفل کو ذہنی طور پر بہت اذیت پہنچی تھی ۔۔۔۔ اس وقت ایک زریاب ہی تھا جس نے بھائی کو کسی ماں کی طرح اپنی آغوش میں بھر لیا تھا ۔۔۔۔ نوفل بہت چڑچڑا سا ہو گیا تھا ۔۔۔۔ اپنے غم اور غصے کااظہار اکثر چیزوں کو توڑ کر کرتا تھا بہت بار زریاب سے بد تمیزی بھی کر جاتا تھا لڑتا بھی تھاشاور پر چلانے لگتا تھا لیکن بدلے میں وہ اسکا ہر رویہ خاموشی سے سہہ جاتا ۔۔۔ اسے گلے لگا کر بینچ لیتا ۔۔۔ جانتا تھا کہ اندر ماں باپ کے غم کے باعث کتنا ٹوٹ سا گیا ہے ۔۔۔ نوفل زریاب سے دس سال چھوٹا تھا ماں باپ کے ساتھ ساتھ زریاب نے بھی اس کے خوب لاڈ اٹھائے تھے نوفل کونہیں یاد کے اس نے زریاب سے کوئی فرمائش کی ہو اور زریاب نے پوری نا کی ہو ۔۔۔۔ اور آج وہ نہیں تھا ۔۔۔۔۔ کیایہ صدمہ کم تھا اس کے لئے ؟۔۔۔۔ یا مائرہ اور بچوں کے لئے؟ ۔۔۔۔ جو عفیرہ کی چرب زبانی کے نشتر بھی وہ معصوم سی۔ بچی سہے اور اسکے تھپڑ بھی کھائے ۔۔۔۔

” چاچو میں نے جان بوجھ کے نہیں توڑا تھا مجھ سے گر گیا تھا ” ہچکیوں سے روتے ہوئے عائزہ اسے بتانے لگی

” مجھے معلوم ہے ۔۔۔۔ میری شہزادی بیٹی سے گر کر ٹوٹ گیا تھا “

” چچی نے بہت زور سے مارا ہے چاچو بہت دکھ رہا ہے” ۔۔۔۔۔ ہچکیوں کے ساتھ ساتھ آنسوں میں بھی رومی آئی تھی ۔۔۔ لاکھ ضبط کے باوجود نوفل کی آنکھوں میں نمی اتری تھی ۔۔۔ مائرہ کی بھی انکھیں سے بھی آنسوں جھلکے تھے ۔۔۔ زریاب ہمیشہ انہیں یہی کہتا تھا ۔۔۔ میری شہزادی ۔۔۔۔ میری چھوٹی منی ۔۔۔۔ دوسری بیٹی ہونے پر بھی زریاب کے ماتھے پرایک شکن نہیں آئی تھی حالانکہ اس بار دونوں میاں کی خواہش تھی کہ اللہ انہیں بیٹے سے نواز دے

” مائرہ ۔۔۔ اگر ہمارا بیٹا ہوا تو اس کا نام ولی رکھیں گئے ۔۔۔۔ ولی زریاب ۔۔۔۔ کیسا نام ہے ؟

” بہت پیارا نام ہے ۔۔۔۔ لیکن میں نے کچھ اور سوچا پے زریاب “

” وہ تم نوفل کے بیٹے کا رکھ لینا ۔۔۔ ؟

” وہ جیسے مجھے رکھنے دے گا ۔۔۔ ظاہر ہے اسکی اپنی بھی خواہش ہو گی “

” تم دیکھ لینا مائرہ تمہیں سے پوچھے گا ۔۔۔۔ اور جو تم کہو گی وہی رکھے گا ۔۔۔۔ ” منزہ کی خبر سن کر ۔۔۔ مائرہ کچھ آفسردہ ضرور ہوئی تھی لیکن زریاب اتنا ہی خوش تھا جتنی خوشی کا اظہار عائزہ کی باتیں میں کیا تھا ۔۔۔ من سیدہ کی ااداس چہرہ دیکھ کر فورا اسے ٹوک دیا تھا

” منہ لٹکانے کی بلکل ضرورت نہیں ہے ۔۔۔۔ میری بیٹیاں بہت اچھے نصیب لیکر پیدا ہوئیں ہیں ۔۔۔ دیکھ لینا ہمیشہ شہزادیوں کی آن بان سے زندگی گزاریں گئیں ” آنسوں کی جھڑی سے لگ گئ تھی اسکی آنکھوں میں ۔۔۔ عائزہ کی ہچکیوں سے مائرہ کے دل کی جو حالت تھی وہی جانتی تھی ۔۔۔۔

بچے کی ذراسے تکلیف بھی ماں کو دہری تکلیف میں مبتلہ کرتی ہے ۔۔۔۔ پھر جن بچیوں کو اب تک صرف پیار ہی ملا ہو ۔۔۔ انہیں تو پھول بھی مارا جائے تو دکھتا ہے ۔۔۔۔ کیسے زور سے تھپڑ مارا تھا اس نے ۔۔۔۔۔ انگلیوں کی چھاپ عائزہ کے چہرے کے ساتھ ساتھ مائرہ کے دل پر بھی لگی تھی ۔۔۔۔۔

کا دل سے یہ سہہ رہی وہی جانتی تھی ۔۔۔۔ گھر سے باہر بھی رہ کر دیکھ چکی تھی ۔۔۔۔ تحفظ کے بجائے ذلت ہاتھ ہاتھ آئی تھی ۔۔۔۔ اب اگر آسرا تھا اسی گھر کا جہاں تحفظ کے ساتھ ساتھ بچیوں کو باپ جیسی محبت مل رہی تھی۔۔۔۔۔ اور ان سب کے لئے عفیرہ کی موجودگی اشد ضروری تھی ۔۔۔۔

حالانکہ جس مزاج کی وہ تھی ۔۔۔۔ مائرہ کے لئے بہت مشکل تھااسے برداشت کرنا

کچن کے کسی کام کو ہاتھ نہیں لگاتی تھی سوائے برتن دھونے کے اور وہ بھی گندے سلندے اکثر بنا صابن کے برتن دھلتے تھے ۔۔۔۔ کیونکہ دھلنے کے بعد بھی چکنے ہوتے تھے ۔۔۔۔۔ مائرہ کو پھر سے دھونے پڑتے تھے ۔۔۔۔ لیکن عفیری پلٹ کر کچھ نہیں کہتی تھی ۔۔۔۔ اکثر عفیرہ اسے طنزیہ بہت کچھ کہہ بھی دیتی تھی ۔۔۔۔ لیکن مائرہ نوفل سے ذکر نہیں کر سکتی تھی ۔۔۔ ورنہ تو شاید روز ہی گھر میں ایک طوفان کھڑا ہوتا ۔۔۔۔۔

وہ اپنے آنسوں پونچتے ہوئے کمرے سے نکل گئ ۔۔۔۔

اپنے کمرے میں گئ تو عفیرہ رو رہی تھی ۔۔۔۔ مائرہ کو دیکھ کر پھر سے رونے لگی ۔۔۔۔ اپنا غم بھلائے مائرہ اسکے پاس بیٹھ گئ ۔۔۔۔۔ اسے اپنے ساتھ لگا کر چپ کروانے لگی

” چپ ہو جاؤں تم ۔۔۔ بس غصے میں کچھ نظر نہیں آتا نوفل کو ۔۔ میں تمہیں تمہارے نقصان کے پیسے دے دوں گی ۔۔۔۔ تم مجھ سے کہہ دیتی تو بات اتنی نا بڑھتی عفیرہ ” مائرہ نے اسے ساتھ لگائے کہا

” مجھے کیا پتہ تھا کہ تماشہ لگ جائے گا ۔۔۔۔۔ ” یہ بات تو عفیرہ سچ ہی کہہ رہی تھی اسے ذرا بھی اندازہ نہیں تھا کہ نوفل یوں بھڑک اٹھے گا ۔۔۔۔

” اس شخص کو پتہ نہیں مجھ سے کیوں خدا واسطے کا بیر ہو گیا ہے ۔۔۔۔۔ ارے میں پیار بھی کرتی ہوں بچیوں سے وہ نہیں دیکھتا اس شخص کو ۔۔۔۔ ذرا سا تھپڑ کیا لگا دیا طوفان اٹھا کے رکھ دیا ہے ۔۔ کیا میں چچی نہیں ہوں انکی ۔۔۔ ؟ کوئی غیر ہوں ۔۔۔۔ ؟ ماں بھی بچوں کو ڈانٹ دیتی ہے مار دیتی ہے ۔۔۔۔ لیکن وہ ماں ہے اس لئے کسی کو تکلیف نہیں ہوتی میرا کہا ذیادہ برا لگے گا ۔۔۔۔۔ ٹھیک ہی کہتے ہیں لوگ

ہسایا کسی کو نہیں دیکھے گا رولایا ہی سب کو نظر آئے گا ۔۔۔۔۔” مائرہ اسے تسلی دیتے ہوئے ایک کمر تھپتھپا رہی تھی ۔۔۔۔ اور یہ سوچ رہی تھی کہ ۔۔۔ پیار وہ کرتی ہی کب تھی ۔۔۔۔ بچیوں کو ہر وقت گھورتی رہتی ہے ۔۔۔۔ تیز اور سخت لہجے سے بات کرتی ہے ۔۔۔۔۔ لیکن مائرہ کہہ نہیں سکتی تھی ۔۔۔۔

” میں نے سمجھایا تو ہے اسے ۔۔۔۔۔ ” مائرہ کی بات سن کر وہ مائرہ سے پیچھے ہٹ گئ

” ہاں بس آپکی ہی بات تو ماننا فرض ہے اس پر ایک آپ اور دوسرا آپ کی بچیاں۔۔۔۔ یہیں نظر آتی ہیں نوفل کو

۔۔۔۔۔

مجھ سے تو شادی اس نے آپ لوگوں گی غلامی کروانے کے لئے کہ تھی ۔۔۔ آپ کا کھانا پکانا اسے نظر آتا ہے بس میرا ہی کیا ہوا کام نظر نہیں آتا ۔۔۔۔ ہر کام نقص نکالتا ہے ۔۔۔

ہر بات پر آپ کی مثال مجھے کسی طعنے کی طرح سننی پڑتی ہے ۔۔۔۔ میں بھی انسان ہوں ۔۔۔ پھتر تو نہیں ہوں جو ہر وقت اسکی سنتی رہو مجھ پر احسان تو یوں جاتا ہے جیسے میں نے منت کی تھی کہ نوفل صاحب میں مری جا رہی ہوں آپکی محبت میں ۔۔۔۔ مجھ سے شادی کر لو ۔۔۔۔۔ اگر اسے مجھ میں ذرادلچسپی نہیں کے تو مجھے بھی پروا نہیں ہے ۔۔۔۔۔ ” عفیرہ کے منہ میں جو آ رہا تھا کہے جا رہی تھی

” عفیرہ دیکھو تمہیں مجھ سے شکایت ہے تو ٹھیک ہے ۔۔۔۔ میں آج کے بعد تم دونوں کے کسی معاملے میں نہیں بولو گی ۔۔۔۔۔

میں نے کبھی تم سے یہ نہیں کہا کہ تم میری عزت کرو۔۔۔۔۔ میرا حکم مانو مجھے اہمیت دو ۔۔۔۔ بس یہ چاہتی ہوں کے نوفل کو سمجھنے کی کوشش کرو ۔۔۔۔ اسکی مانو۔۔۔ ” عفیرہ مائرہ کی ہر بات کا الٹا مطلب لے رہی تھی

“ہاں جو کچھ ہو رہا ہے آپ لوگوں کی وجہ سے تو ہو رہا ہے ۔۔۔۔۔ آپ کی بیٹیوں کی وجہ سے ہو رہا ہے ۔۔۔۔ خدا کے لئے اگر آپ چاہتی ہیں کہ میرا گھر بس جائے تو اپنی بیٹیوں کو دور رکھیں نوفل سے ۔۔۔۔ ” عفیرہ اس کے سامنے روتے ہوئے ہاتھ جوڑ کر بولی لیکن لہجہ میں وہ کڑواہٹ تھی ۔۔۔۔ غصہ ناراضگی تھی ۔۔۔۔ مائرہ کچھ نا کر کے بھی مجرموں کی طرح نظریں چرا گئ تھی

” م۔۔۔میں کوش کرو گی کہ بچوں کو اس سے دور رکھو ” مائرہ نے کسی بات سے اختلاف نہیں کیا تھا ۔۔۔۔ صرف اس لئے کے مجبور تھی

۔” اب جاؤں تم اپنے کمرے میں ۔۔۔ ” مائرہ کی بات پر وہ خوفزدہ سی ہوئی تھی نفی میں سر ہلانے لگی نوفل کے غضب ناک رویے کاسوچ کر پورے وجود میں سنسنی سی دوڑی تھی

” نہیں ۔۔ مجھے نہیں جانا اس جنگلی انسان کے پاس ۔۔۔۔ پتہ نہیں کیا کرے گا میرے ساتھ۔۔۔ گلا ہی نا دبا دے میرا ۔۔۔۔۔ ” خوف سے آنکھیں سکڑ کر بولی ۔۔۔ اندر سے اچھی خاصی ڈر گئ تھی ۔۔۔۔۔

” میں یہیں سوں گی ” عفیرہ کے چہرے کی آڑی رنگت دے کر مائرہ نے اسے دوبارہ کچھ نہیں کہا ۔۔۔ اٹھ کر کمرے سے باہر آ گئ نوفل کے کمرے کادروازہ بند تھا ۔۔۔۔ مائرہ نے دھیرے سے نیب گھمایا تا کہ بچیوں کو اپنے کمرے میں لے جائے لیکن نائٹ بلب جل رہا تھا ۔۔۔۔

نوفل کے ایک جانب عائزہ اس کے بازو پر لیٹی تھی دوسری جانب منزہ ۔۔۔۔ منزہ سو چکی تھی عائزہ اب بھی سسکیوں سے رو رہی تھی ۔۔۔۔ نوفل کے ساتھ لگی اب بھی باتیں کر رہی تھی

” چاچو ۔۔۔۔ مجھے بابا کے پاس جانا ہے ۔۔۔۔ میں ان سے چچی کی شکایت لگاؤں گی ۔۔۔۔یہ بھی بتاؤں گی کہ انہوں نے مجھے ۔۔۔۔ تھپڑ مارا ہے ۔۔۔ بابا کی شہزادی کو مارا ہے ۔ بہت زور سے مارا ہے ۔۔۔۔ مجھے آپ بابا کے پاس چھوڑ کر آئیں ” سسکیاں لیتے ہوئے وہ نوفل سے اپنے غصے کااظہار کر رہی تھی

” عائزہ ! ۔۔۔کیا میں تمہیں بابا جیسا نہیں لگتا ؟ کیا مجھ سے بابا جیسی خوشبو نہیں آتی ہے ۔۔۔۔۔ ہممم ” لہجہ نوفل کا بھی بھیگا ہو تھا ۔۔۔۔ زریاب کے لئے کب اس کا دل تڑپتا نہیں تھا ۔۔۔۔۔ آنکھوں کے کناروں سے آنسوں بہنے لگے تھے جو عائزہ کے ننھے ہاتھوں نے پونچے تھے ۔۔ نوفل نے اس کا چھوٹا سا ہاتھ پکڑ کر چوما

” خوشبو تو آتی ہے ۔۔۔۔ مجھے آپ سے بات کر کے لگتا ہے کہ بابا سے کر رہی ہوں ۔۔۔ آپ کے ساتھ لگ کر لگتا ہے بابا جیسا سکون مل رہا ہے ۔۔۔۔ لیکن چاچو ۔۔۔۔ پھر بھی ۔۔۔۔۔۔۔” یہ کہہ کر وہ سسکیوں سے رونے لگی

“پھر بھی بابا بہت یاد آتے ہیں چاچو ” عائزہ کی تڑپ پر نوفل کا دل کند چھری سے کٹا تھا عائزہ اسکے کندھے سے سراٹھا اسکے سینے سے لگ کر رونے لگی تھی جتنا اسے اپنے ساتھ بینچ سکتی تھی مضبوطی سے بینچ رہی تھی شاید باپ کی یاد نے دل کو تڑپایا تھا اس وقت چچا کے ساتھ لگ کر باپ کو محسوس کرنا چاہتی تھی ۔۔۔۔۔ اختیار تو نوفل بھی کھو بیٹھا تھا اسے ساتھ لگائے رونے لگا تھا ۔ کبھی کبھی غم کا اثر اتنا بڑھ جاتا ہے کہ ضبط بھی کھو جاتا ہے پھر بس آنسوں کہاں رکتے ہیں ۔۔۔ کسی طوفان کی طرح بہنے لگتے ہیں ۔۔۔۔ ایک ہی محرومی سے دونوں چچا بھتجی گزر رہے تھے ۔۔۔۔ عائزہ چچا میں باپ کو تلاش کرنے کی کوشش کر رہی تھی اور نوفل عائزہ میں بھائی کے لمس کو ڈھونڈ رہا تھا ۔۔۔ بھائی کی اولاد کو سینے سے لگا کر لگتا تھا کہ زریاب ان میں کہیں موجود ہے ۔۔۔۔۔ کچھ باتیں نوفل کے بس میں نہیں تھیں ان میں سے ایک عائزہ سے محبت بھی تھی ۔۔۔۔۔ منزہ سے بھی وہ بہت پیار کرتا تھا لیکن عائزہ ۔۔۔۔۔ عائزہ میں تو جیسے اس کی جان بستی تھی ۔۔۔۔ اسکے آنسوں اسکی سسکیاں نوفل کو رلا کے رکھ دیتی تھیں ۔۔۔۔ایک گھنٹے سے اسکی ہر بات وہ سن رہا تھا ۔۔۔عفیرہ کے سخت رویے کا بھی وہ نوفل کو روتے ہوئے بتا چکی تھی۔۔۔۔۔

دروازے پر کھڑی مائرہ کے آنسوں بھی ببہہ رہے تھے

مائرہ وہیں سے پلٹ آئی دھیرے سے دروازہ بند کر دیا ۔۔۔۔ نوفل کی شادی کرتے وقت سوچا تو یہی تھا کہ زندگی میں کچھ آسودگی آ جائے گی لیکن ۔۔۔۔ عفیرہ جس مزاج کی تھی ۔۔۔۔۔ نوفل کے ساتھ اسکی زندگی گزرتی مشکل نظر آ رہی تھی ۔۔۔۔۔

نا اپنی غلطی ماننے کی عادت تھی نا سمجھوتا کرنے کی ۔۔۔۔ پتہ نہیں مائیں۔ بیٹیوں کو کیوں یہ نہیں سمجھاتیں کہ دوسرے گھر جا کر خود بھی کچھ اس ماحول میں ڈھالنا پڑتا ہے ۔۔۔۔

وہ لاونج میں بیٹھ گئ تھی ۔۔۔۔ عائزہ کی باتوں سے دل گرفتگتہ سی ہو رہی تھی ۔۔۔۔

ایک چچا ہی تھا جس سے وہ باپ کے پیار کو سمیٹنا چاہتی تھیں ۔۔۔ لیکن شاید وہ بھی عفیرہ سے برداشت نہیں تھا ۔۔۔۔۔

********……..

اگلے روز شزا کہ طعبیت کچھ بہتر تھی ۔۔۔۔ عرفان کمرے میں داخل ہوتے ہی اس سے بولا

” شزا اب اٹھ کر کچن کو۔ بھی دیکھ لو ۔۔۔ کب تک اپنی ذرا سی تکلیف کو لیکر بیٹھی رہو گی ” اماں جی نے عرفان کا دماغ اچھا خاصا بگاڑ کے رکھ دیا تھا ۔۔۔۔ عجیب مزاج تھا عرفان کا کبھی تو ٹھنڈی چھاؤں تو کبھی تپتی دھوپ ۔۔۔۔

کبھی شزا کے ساتھ ہمدر ہو جاتا تھا اور کبھی بلکل بے حسی پر اتر آتا تھا

اس لئے وہی بے حسی وہ شزا سے برت رہا تھا ۔۔۔ میاں کے منہ یہ سب سن کر وہ استزائیہ مسکرائی

” جی ہاں میری تکلیف تو آپ کو بہانہ ہی لگے گی ۔۔۔۔ عرفان مجھے یہ سمجھ نہیں آتا کہ آپ نے مجھ سے شادی کیوں کی تھی ۔۔۔۔ ؟ شزا کی بات اس نے بے رغبتی سے سنی تھی ۔۔۔۔ کوفت سے اسے دیکھ کر بولا

” ہاں اب تم شروع ہو جاؤں ۔۔۔۔ ہو گئ تھی مجھ سے ایک غلطی ۔۔۔۔ کر لی تم سے شادی ۔۔۔۔۔ بس ۔۔۔۔۔ ابھی دو گھنٹے سے اماں جی کی سن کے آ رہا ہوں ۔۔۔۔ اور اب تم شروع ہو جاو ۔۔۔۔ مجھے بھی تو یہ بتاؤں کے میں کہاں جا کر اپناسر پھوڑو ۔۔۔۔ ” عرفان بیزاری اور غصے سے اس کے پاس آ کر بولا

” ہاں ماں کی سن لی ۔۔۔۔ پر میری سنتے وقت آپ پر بیزاری چھانے لگی ہے ۔۔۔ مجھے بھی تو بتائیں کہ میں اپنی تکلیف کسے جا کر بتاؤ ۔۔۔۔ ماں کی سن سکتے ہیں بہن کی سن سکتے ہیں بس آپ کا سارا رعب مجھ پر چلتا ہے ۔۔۔۔ پچھلے ایک ماہ سے شادی کی تیاریاں میں کر رہی ہوں ۔۔۔ لیکن ملا کیا مجھے ؟ ۔۔۔ بس ایک بات سننے کو ملتی ہے ۔۔۔ شبو نے یہ کیا ہے ۔۔۔ شبو نے وہ کیا ہے ۔۔۔تو ٹھیک ہے ۔۔۔۔ اب بھی شبو آپاں سے کروا لیں ۔سب کچھ ۔۔ کیونکہ میں تو کچھ کرتی ہی نہیں ہوں ۔۔۔۔ ” شزا کی برداشت نے جواب دیا تھا

“دیکھوں ایک ہفتہ شادی میں رہ گیا ہے۔ بس یہ شادی گزرنے دو ۔۔۔ میں خود اماں سے کہہ دونگا کہ مجھے الگ کر دیں بس ۔۔ لیکن خدا کے لئے اب شادی پر کوئی بھی تماشہ مت لگاؤ میری بہن کو خوشیوں سے اپنے میکے سے رخصت ہونے دو ۔۔۔” عرفان کو بس اسی ایک کی پروا تھی ۔۔۔ باقی ہر بات بے معنی تھی

شزا نے تاسف سے عرفان کی طرف دیکھا تھا

” آپ ہوں گئے الگ ۔۔۔؟ آپ کہیں گئے اماں جی سے آپ کو الگ ہونے دیں ؟ اتنی جرت ہے آپ کے اندر ؟ “شزا جانتی تھی کہ عرفان کبھی بھی یہ نہیں کہہ سکتا

” تو کیا چاہتی ہو تم ماں سے نافرمانی کر لوں ۔۔۔۔ اللہ کے غصے کا حقدار ہو جاؤں ۔۔۔۔ پہلے ہی ماں کی نافرمانی کی وجہ سے عمر بھر بے اولادی کی اذیت سہنی پڑے گی مجھے ۔۔۔ یہ تو مجھے پتہ ہے کہ پوری زندگی میں نے کیسے گزارنی ہے ۔۔۔ تم جیسی کم عقل عورت اگر ماں کی اہمیت سمجھ جائے تو یوں مجھ سے تکرار تو نا کرے ۔۔۔۔ ” عرفان کا لہجہ تلخ تھا

” بس ماں کے فرائض ہی لاگو ہیں آپ پر ۔۔۔ بیوی کا کوئی فرض نہیں ہے ۔۔۔۔ ” شزا کی ہر بات عرفان کو بری ہی لگ رہی تھی ۔۔۔۔

” میرا دماغ پھٹ جائے گاشزا ۔۔۔خدارا چپ ہو جاؤں ورنہ اپنے گھر دفع ہو جاؤں ۔۔۔۔ مجھے پاگل مت کرو ” سخت نظروں سے اسے دیکھتا ہوا کمرے سے باہر نکل گیا دل تو شزا کا یہی چاہا کہ واقع میکے چلی جائے لیکن ۔۔۔ پھر شوہر کی عزت کا خیال آیا تھا۔۔۔ لوگ کیا کہیں گئے نند کی خوشیاں بتداث نہیں ہوئی اس لئے میکے چلی گئ ۔۔۔۔ اصل بات کوئی جاننے کی کوشش نہیں کرے گا ۔۔۔۔ نظر سب

ب جو یہی آئے گا کہ بھابھی نے موقع پر نظریں بدل لیں ۔۔۔۔اس لئے چپ سی ہو گئ ۔۔۔۔ شادی پر بھی اماں جی بس ہر جگہ شبو کو پی پیش پیش رکھ رہیں تھیں ۔۔۔۔ شزا جیسے کوئی پرائی مہمان ہو ۔۔۔۔ بس مہمانوں کے ناشتے کھانے بنا بنا کر وہ تھک سی جاتی تھی۔۔۔۔ باقی ہر رسم نبھانے کے لئے شبو جو تھی

شادی پر بھی عرفان نے سیدھے منہ شزا سے بات نہیں کی تھی ۔۔۔۔ شزا نے بھی چپ سادھ لی تھی

*******……..

شادی کو ایک ہفتہ ہونے والا تھا ۔۔۔۔ رمشہ بیگم کا مزاج ہی نہیں مل رہا تھا ۔۔۔۔ بدر نے بھی دوبارہ اپنے کمرے کارخ نہیں کیا تھا ۔۔۔۔ نا رمشہ کو اس بات کی ذرا پروا تھی کہ میاں کی بے اعتنائی کی وجہ کیا ہے ۔۔۔۔ نا ہی کسی اور بات کی۔ کوئی فکر تھی بس اپنے آپ سے ہی غرض تھی ۔۔۔ بدر کی والدہ ہی اسکے آگے پیچھے ہوئے جا رہیں۔ تھیں ۔۔۔۔

محلے سے جو دلہن دیکھنے آتا پہلی نظر۔ میں سب بدر کی قسمت پر رشک کرتے ۔۔۔ لیکن دلہن کا نخوست بھرا انداز دیکھ کر نا گواری سے ناک چڑھاتے ہوئے واپسی کی راہ لیتے ۔۔۔۔۔

” مجھے اپنے میکے جانا ہے ۔۔۔ میرے کپڑے ذراپریس کر دیں ” ساس کو اپنا جوڑا پکڑا کر وہ اپنے کمرے میں چلی گئ بدر بھی وہیں بیٹھا تھا سب کچھ دیکھ بھی رہا تھا لیکن چپ تھا ۔۔۔ بدر کی والدہ رمشہ کاسوٹ استری کرنے لگی ۔۔۔۔

” پتہ ہے سارے محلے والیوں کی آنکھیں پھٹی کی پھٹی رہ گئیں رمشہ کو دیکھ کر ۔۔۔ سب کہہ رہے تھے بدر کی قسمت کو چمک گئ ہے ۔۔۔ اور وہ پڑوس والی تبسم ۔۔۔۔

مجھ سے کہہ رہی تھی اپنی بہو جیسی میرے بیٹے کے لئے بھی ڈھونڈ دو ۔۔۔۔ ” پتہ نہیں اپنی خفت مٹانے کی کوشش کر رہی۔ تھیں ۔۔۔ یا بدر پر یہ ثابت کر رہیں تھیں کہ وہ رمشہ سے بہت خوش ہیں حالانکہ ایک ہفتے میں رمشہ کے کام کر کر کے انکا چہرہ اتر سا گیا تھا ۔۔۔۔ بدر نے ایک طنزیہ مسکراہٹ ماں کی طرف اچھالی ۔۔۔۔

” ظاہر ہے اماں ! اتنی حسین بہو جو ملی ہے آپ کو

لوگ تو رشک کریں گئے ۔۔۔۔ آپ نے۔ بھی سارے جہاں کی خاک چھان کر نایاب گوہر دریافت کیا ہے ۔۔۔ دنیا آپ پر رشک نا کرے تو اور کیا کرے ۔۔۔۔ ” بدر کی پھیکی اور کھوکھلی مسکراہٹ میں چھپا طنز وہ سمجھ کر چپ سی ہو گئیں تھیں دوبارہ سے رمشہ کے سوٹ پر استری پھیرنے لگیں ۔۔۔

” یہ تم اپنے کمرے میں کیوں نہیں جاتے ۔۔۔۔ دوسرے کمرے میں کیوں سوتے ہو ” ماں کو اب یہ خیال ستایا تھا

” کیا کروں امان آپ کی بہو چاند پر رہنے والی باسی ہے اور میں زمین پر رہنے والا معمولی اور غیر اہم سا انسان ۔۔۔۔ اسکے حسن سے تو میرا کمرہ چودویں چاند کی طرح سے جگمگ جگمگ کرنے لگا ہے ۔۔۔ میں گیا تھا کمرے لیکن کیا ہے نا اتنا حسن میں دیکھنے کاعادی جو نہیں ہوں ۔۔۔ اس لئے میری آنکھیں چندھیا کے رہ گئیں ۔۔۔۔ اففف اماں میں تو بھئی تاب ہی نہیں لا پایا آپ کی بہو کے حسن کی ۔۔۔ اس لئے باہر آ گیا ۔۔۔ دل کو ذرا مضبوط کر لوں تو کمرے میں بھی چلا جاؤں گا ۔۔۔۔۔ اب چاند کے ساتھ رہنا اتنا آسان تو ہے نہیں ۔۔۔۔ ” وہ پینٹ شرٹ پہنے تیار تھا باتوں کے دوران ہی اپنے شوز پہنے لگا ۔۔۔۔ بدر کی والدہ کپڑے پریس کر چکیں تھیں ۔اس کے طنز کو بھی چپ ہو کر سن رہیں تھیں ۔۔۔۔۔ بدر کو تیار دیکھ کر پوچھنے لگیں

” تم کہاں جا رہے ہو ۔۔۔۔”

” ایک جگہ جاب کی آفر آئی ہے اماں ۔۔۔۔ وہیں جا رہا ہوں ۔۔۔ پے اچھی ہے ۔۔۔۔ اس لئے سوچ رہا ہوں ۔۔۔ اگر لگ جائے تو بہتر ہے ۔۔۔۔ اب چاند جیسی کو گھر لانے کی گستاخی کر چکا ہوں تو اسکے نخروں کے لئے ۔۔۔ نوکری بھی ویسی ہی کرنی پڑے گی ” یہ کہہ کر وہ اٹھ کر اپنے ڈاکومنٹس لے کر چلا گیا ۔۔۔۔

ایک بڑی گارمنٹس کی کمپنی میں اپنے ایک دوست کے توسط سے بدر نے اپنی سی وی بھیجی تھی ۔۔۔۔ کل ہی اسے وہاں سے کال آئی تھی ۔۔۔۔ اور آج انٹر ویو کے لئے جانا تھا ۔۔۔۔

انٹر ویو اس کا کامیاب ہوا تھا ۔۔۔ سامنے باس کی کرسی پر بیٹھا شخص اسی کا ہم عمر تھا لیکن تھا ہینڈ سم ۔۔۔۔ اور خوشگفتار بھی

” او کے مسٹر بدر ۔۔۔۔ آپ کل سے جوائن کر سکتے ہیں ” ابھی وہ بدر سے ہاتھ ملا ہی رہا تھا کہ اس کے موبائل پر کال آنے لگیں ۔۔۔ نمبر دیکھ چہرے پر دلفریب سی مسکراہٹ آئی تھی

” ایک تو یہ بیگمات بھی عجیب ہوتی ہیں ۔۔۔ ہر وقت انہیں میاں کی فکر ستاتی رہتی ہے ۔۔۔ بدر کو دیکھ کر مظہر نے مسکرا کر کہا پھر

فون آن کر کے کان پر لگا لیا

” جی محترمہ فرمائیے ۔۔۔ کیا خدمت کر سکتا ہوں آپکی “

” کھانا کھایا آپ نے “آفرین کا وہی روٹین کا سوال تھا جو وہ روز پوچھتی تھی ۔۔۔

” اوہ ” مظہر کو جیسے اب خیال آیا تھا ہونٹ گول کر کے بولا

” مظہر ۔۔ پھر بھول گئے نا ۔۔۔ ذرا بھی پروا ہے آپ کو اپنی ۔۔۔۔ ” آفرین کے غصے میں بھی فکر سی چھلکی تھی

” سوئٹ ہارٹ اس بار یاد تھابس ایک انٹر ویو لینا نہایت ضروری تھا بس ابھی کھانے لگا ہوں ۔۔۔ او کے ٹیک کئیر ” مظہر نے مسکراتے ہوئے فون بند کیا تھا

” سر وہ میں چاہ رہا تھا کہ سیلری کی بھی بات ہو جاتی ” بدر نے کچھ جھجکتے ہوئے کہا

” او یس مسٹر بدر مجھے وسیم نے بتایا تھا ۔۔۔۔ کہ آپ کی ڈیمانڈ کیا ہے ۔۔۔ انشاء اللہ سیلری آپکی امیدوں پر پوری اترے گی ۔۔۔ ” مظہر کے جواب پر وہ مطمئن ساہو گیا تھا ۔۔۔۔

*******…….

عفیرہ مائرہ کے ساتھ ہی سوئی تھی ۔۔۔۔

صبح سات بجے ہی دروازے پر دستک ہوئی تھی ۔۔۔ مائرہ کی فورا سے آنکھ کھل گئی تھی ۔۔۔ اس نے اچھی طرح چادر اوڑھی اور دروازہ کھول دیا سامنے نوفل تیوری چڑھائے کھڑا تھا ۔۔۔ پیچھے بیڈ پر عفیرہ کو سوتے دیکھ کر بولا

” اٹھائیں اسے ۔۔۔۔ اسکے گھر چھوڑ کر آؤں اسے ۔۔۔۔ ” وہی غصہ وہی سخت لہجہ

” نوفل کیوں بات کو بڑھا رہے ہو ” مائرہ نے دھیرے سے کہا ۔۔۔ تا کہ عفیرہ کی آنکھ نا کھل جائے

” بھابھی میں بات کو ختم کر رہا ہوں ۔۔۔ یا تو یہ سدھر کر واپس آئے گی یا پھر ساری زندگی میکے بیٹھی رہے گی ۔۔۔۔۔ جو کچھ اس نے رات کو کیا ہے ۔۔۔ عائزہ مینٹلی طور پر اپ سٹ سی ہو کے رہ گئ پوری رات ڈر کر اٹھتی رہی ہے روتی رہی ہے پوری رات اسے سینے سے لگائے اسے تسلیاں دیتا رہا ہوں ۔۔۔ سوئے ہوئے چلا کر اٹھ کر یہ کہنے لگتی تھی کہ چچی مجھے مت مارو ۔۔۔ مجھے درد ہو رہا ہے ۔۔۔۔۔ آپ کو پتہ ہے ۔۔۔۔ کافی دن سے یہ عورت اسے ٹارچر کر رہی تھی ۔۔۔ اتنی سی بچی کے ذہن میں نا جانے کیا باتیں ڈالنا چاہتی ہے یہ ۔۔۔۔۔” نوفل کاغصہ کسی طور کم نہیں ہو رہا تھا

” نوفل میں نے سمجھایا ہے اسے ۔۔۔ تم۔۔۔۔ “

” کچھ ۔۔۔۔ نہیں سننا مجھے اسے خود جگا کر کہہ دیں کہ دس منٹ میں تیار ہو جائے ۔۔۔ ورنہ ہٹیں پیچھے ۔۔۔ میں جگا دیتا ہوں اسے ” نوفل کے بے لچک لہجے اور انداز پر مائرہ کو ہی ہار ماننی پڑی ۔۔۔۔

” تم جاؤں ۔۔۔ میں اٹھاتی ہوں اسے ” مائرہ نے پہلے تو نوفل کو وہاں سے بھیجا پھر عفیرہ کو جگا کر ساری بات بتائی

” تم سوری کہہ دو نوفل سے بات ابھی ختم ہو جائے گی ” مائرہ کا مشورہ عفیرہ کو بھی منظور نہیں تھا ۔۔۔۔

” معافی مانگوں ؟ کس لئے ۔۔۔۔ ؟ مجھے نہیں مانگنی کسی سے بھی معافی ۔۔۔ اچھا ہے چھوڑ آئیں۔ مجھے واپس ۔۔۔۔ رہیں آپ دونوں اکیلے یہاں جب لوگ باتیں کریں گئے شک بھری نظروں سے دیکھیں گئے ۔۔۔ تب ہی میری قدر بھی ہوگی آپ کے اس سر پھرے دیور کو ۔۔۔۔ اور میرا آپ کو بھی مشورہ ہے اپنی بیٹیوں کی لگامیں ذرا کس کے رکھیں ۔۔۔ جبھی آپ کے دیور کا گھر بس سکتا ہے ورنہ نہیں ” تپے ہوئے لہجے میں یہ کہہ وہ بھی کمرے سے باہر نکل گئ ۔۔۔۔۔

مائرہ کے لئے تو ہر روز ایک نئ آزمائش تھی۔۔۔۔۔ اتنی سی بچیوں کو وہ کیا لگامیں ڈال سکتی تھی

ایک ہفتہ ہو چکا تھا عفیرہ کو گئے ہوئے اب تو برابر والی خالہ بھی پوچھنے لگیں تھیں کہ عفیرہ واپس کب آئے گی ۔مائرہ اب بلا لو اسے ۔۔۔ یوں مناسب نہیں ہے اتنے دن عفیرہ کا میکے رہنا تم اور نوفل گھر میں اکیلے ہوتے ہو ۔۔۔ مائرہ کیا جواب دیتی نوفل کچھ سننے کو تیار ہی نہیں تھا دوسری جانب نوفل نے عفیرہ کی ساری کرتوتیں اسکے والد کے گوش گزر کر دیں تھیں ۔۔۔۔

اور یہ بھی کہہ دیا تھا کہ اگر عفیرہ نے اپنارویہ نہیں بدلہ تو وہ اسے واپس لیکر نہیں جائے گا ۔۔۔۔

اکمل صاحب کی ڈانٹ پھٹکار عفیرہ پر بےاثر تھی ۔۔۔ عابدہ بیگم بھی سمجھا سمجھا کر تھک گئی۔ تھیں لیکن وہ اپنی ضد پر قائم تھی ۔۔۔۔ کہ جب اس کاقصور ہی نہیں تو وہ کیوں جھکے

کچھ ہی دن بعد عفیرہ کی طعبت خراب ہونے لگی تھی ۔۔۔ تھکی تھکی سی رہںے لگی تھی ۔۔۔ سر بھی چکرا رہا تھا ۔۔۔ عابدہ بیگم اسے ڈاکٹر پر لے گئیں ۔۔۔۔ جو خوشخبری ڈاکٹر نے سنائی وہ خوشخبری صرف عابدہ بیگم کو ہی خوش کر سکی تھی عفیرہ کو تو یہ خبر بھی ایک نئ مصبت لگ رہی تھی ۔۔۔۔