Log Kia Kahe Gy by Umme Hani NovelR50418 Log Kia Kahe Gy Episode 43
Rate this Novel
Log Kia Kahe Gy Episode 43
Log Kia Kahe Gy by Umme Hani
شہزاد پہلے پہل تو شبو کو بہت سمجھاتا رہا کہ وہ اپنے گھر کی طرف توجہ دے ۔۔۔ لیکن شبو کی ساری توجہ میکے تک محدود تھی جب تک شزا تھی تب تک عرفان کے کان بھرنا اسکی اولین ترجعی تھی ۔۔۔۔
شزا کاعرفان کے ساتھ اٹھنا بیٹھنا ہسنا بولنا تک اسے گوارا نہیں تھا ۔۔۔۔ جتنا زہر وہ ان دونوں کی زندگی میں بھر سکتی تھی وہ بھرتی رہی ۔۔۔ نتیجہ طلاق کی صورت میں سامنے آیا تھا ۔۔۔ صرف شزا کی ہی نہیں عرفان کی زندگی بھی برباد کر کے رکھ دی تھی ۔۔۔۔ فرقان شروع سے ہی کم ہی شبو اور اماں جی کی باتوں پر کان دھرتا تھا ۔۔۔۔ اور شبو سے ایک چوٹ بھی کھا چکا تھا اس لئے محتاط مزاجی کواپنی شخصیت کا حصہ بنا لیا تھا ۔۔۔ عبیرہ کے ساتھ اسکارویہ بہت اچھا تھا لیکن گھر کی حکمرانی کی کنجی اس نے عبیرہ کے ہاتھ میں بھی نہیں رکھی تھی اماں جی سے چھینے گئے اقتدار اب مکمل طور پر فرقان کے پاس تھے ۔۔۔۔ وہ ان مردوں میں سے تھا جو گھر کی بھاگ دوڑ اپنے ہاتھ میں رکھنے کے قائل ہوتے ہیں ۔۔۔۔ تا کہ گھر کا نظام ایک طریقے سے چلاسکیں عبیرہ فطرتا سادہ مزاج تھی ۔۔۔۔ فرقان کی بات پر اختلاف نہیں کرتی تھی کام کاج میں بھی تاک تھی ۔۔۔۔ کچن کی ذمہ داری سنبھال رہی تھی ۔۔۔۔ فرقان نے جہاں ماں اور بہنوں سے بیوی کی عزت کروائی تھی وہاں بیوی کو بھی یہ اچھی طرح سے باوا کروایا تھا کہ فرقان خود جو بھی چاہے اپنی ماں بہن سے بات کرے ۔۔۔ لیکن وہ انکی عزت ہی کرے گی ۔۔۔۔
شبو میاں کی نرم مزاجی کا جتنا غلط فایدہ اٹھا سکتی تھی اٹھا رہی تھی ۔۔۔۔ شہزاد نے جب بیوی کی حد درجہ بے توجہی دیکھی تو اسے اسکے حال پر چھوڑ دیا ۔۔۔۔۔ اور اپنی ایک کولیگ سے دوستی لگا لی ۔۔۔ دوستی محبت میں بدلی اور محبت شادی میں ۔۔۔۔ وہ لڑکی خاصی تیز مزاج تھی ۔۔۔۔ حق مہر میں شہزاد کی ساری جمع پونجی اپنے نام کروا چکی تھی ۔۔۔۔۔ اور اب اس کے گھر میں۔ راج کر رہی تھی۔۔۔ شبو کو ہوش اب آیا تھا جب شہزاد باقاعدہ طور پر اپنی کولیگ کو اپنے گھر بیوی کی حیثیت سے لا چکا تھا ۔۔۔۔۔ فرقان عرفان عبیرہ زرنش بینش صفیان سب ہی شبو کے پاس اماں جی کے کمرے میں موجود تھے ۔۔۔۔ عبیرہ شبو کے پاس بیٹھی پندرہ جتاتے ہوئے اس کے کندھے دبا رہی تھی ساتھ ساتھ اپنی آنکھوں میں آنے والی نمی بھی ڈوپٹے کے پلو سے صاف کر رہی تھی عرفان اور صفیان ہاتھ باندھے سامنے کھڑے تھے فرقان شبو کے برابر ہی کرسی پر بیٹھا تھا زرنش اور بینش بھی میاں سے جھگڑا کیے دو دن سے میکے میں ا کر بیٹھیں تھیں ۔۔۔۔ شبو کے حادثے کاسن کر اندر سے اپنے لئے بھی خوفزدہ سی ہوئیں تھیں
اس وقت تو شبو کے آنسوں اور رونے بلکنے پر سب افسردہ تھے سوائے فرقان کے ۔۔۔
کوئی افسوس نہیں تھااسے ۔۔۔۔ لگ رہا تھا کہ جو کچھ شبو کے ساتھ ہوا ہے وہ اسی کی حقدار تھی
” میں پوچھتی ہوں تین تین بھائی ہوتے ہوئے تم لوگوں سے یہ نا ہوا کہ جا کر اس کمینے کا گریبان پکڑ کر یہ پوچھ لیتے کہ یہ ظلم کا پہاڑ مجھ مسکین عورت پر کیوں توڑ دیا ۔۔۔ ” شبو نے روتے ہوئے بھائیوں کو غیرت دلانے کی کوشش کی عرفان تو پہلے انکے کرموں کا پھل بھکت رہا تھا ۔۔۔ اس لئے جو چپ عرفان نے شزا کے جانے بعد سادھ لی تھی وہی ہنوز اب تک قائم تھی ۔۔۔ شبو کی بات سن کر نظر انداز کر گیا ۔۔۔۔
” ارے فرقان تو جا کے پوچھ تو اس کم بخت کو ۔۔
میری معصوم سی بیٹی نے بگاڑا کیا تھا اس کا جو سوتن لے آیا ہے اس پر ” اماں جی کی آنکھوں کا تارا اس وقت فرقان ہی تھا ۔۔۔ آنسوں ٹپکاتے ہوئے اماں جی نے فرقان سے کہا
فرقان نے ایک لمبی سی جمائی لی پھر جیب سےماچس نکالی اور ماچس سے دیا سلائی نکال کر اس سے کان کھجانے لگا ۔۔۔۔ عبیرہ کی آنکھیں بھی نم تھیں شبو کے ساتھ بیٹھی اسے تسلیاں دے رہی تھی ۔۔۔۔
” آپاں بس بھی کریں کیوں رو رو کر خود کو ہلکان کر لیا ہے ” شبو کا کندھا دباتے ہوئے عبیرہ نے دلی رنجیدگی سے کہا تھا ۔۔۔ فرقان نے دیا سلائی دور پھینکی اور پھر بولا
” اماں میں کیا پوچھوں انہیں جا کے ۔۔۔۔ مرد کو چار شادیوں کی اجازت ہمارے دین نے دی ہے ۔۔۔ پھر بری معقول وجوہات ہیں انکے پاس ۔۔۔ ایک توانہیں اولاد چاہیے تھی ۔۔۔ جو شبو آپاں تو اب تک انہیں نا دے سکیں ۔۔۔ دوسرا انہیں ایسی بیوی چاہیے تھی جو میکے کے بجائے انکے گھر کو سنبھالے ۔۔۔۔ گھر داری چلائے ۔۔۔ جو شبو آپاں کے بس کی بات نہیں ہے ۔۔۔۔۔
ویسے بات تو بڑی دکھ کی ہے شبو آپاں ۔۔۔۔مگر میں آتے جاتے وہ لڑکی دیکھی ہے جس سے شہزاد بھائی نے شادی کی ہے ۔۔۔اس عمر میں بھی لڑکی اچھی مل گئ ہے انہیں ۔۔۔۔ ” فرقان نے ہمدردی کے نام پر جلتی پر تیل چھڑکنے کا کام کیا تھا ۔۔۔۔
” ہائے ہائے ۔۔۔۔ میرا گھر اجڑ گیا ۔۔۔ اور کوئی اس شخص کو پوچھنے والا نہیں ابا میاں ہوتے تو کیا ہوتی ایسی جرت شہزاد کی ” شبو نے آنسوں نہیں رک رہے تھے اماں جی بھی کئ بار آنسوں چھلکا چکیں تھیں
” نا رو میری بچی تیرا صبر پڑے گا۔۔۔ اس کم ذات پر ۔۔۔۔ دیکھ لینا گھر اس کا بھی نہیں بس پائے گا جس نے میری معصوم بچی کا گھر برباد کر دیا ” اماں جی نے اپنا ڈوپٹہ دونوں ہاتھوں سے پھیلا کر روتے ہوئے بد دعا دی تھی ۔۔۔
” ٹھیک کہا اماں آپ نے ۔۔۔ جیسے شبو آپاں پر شزا بھابھی کا صبر پر گیا ہے ۔۔۔۔ دیکھ لیں اماں آپاں نے انکا گھر بنا انکے کسی قصور کے برباد کر دیا تھا اور آج
ان کا بھی بس نہیں پایا ۔۔۔۔۔ ” فرقان کی بات پر اماں جی کے آنسوں تھمے تھے ۔۔۔۔ اور جلتی زبان بھی رکی تھی ۔۔۔۔ شبو نے قہر بھری نظروں سے فرقان کو دیکھا تھا فرقان چپ نہیں ہوا تھا
” میرا تو اماں جی یقین اللہ کی ذات پر اور بھی پختہ ہو گیا ہے ۔۔۔ آپاں آپ کو انصاف ضرور ۔ملے گا ۔۔۔۔ آخر شوہر کی فرمابردار بیوی تھیں آپ ۔۔۔۔شہزاد بھائی کی کسی بات کو آج تک رد نہیں کیا۔۔۔۔۔۔ شوہر کے منہ سے نکلی بات کو آپ نے حکم کا درجہ دے کر پورا کیا ہے ۔۔۔۔بڑا ظلم ہوا ہے آپ کے ساتھ ” فرقان نے دل کی بھڑاس نکالنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی تھی ۔۔۔۔۔ پھر وہ کرسی سے اٹھ کر زرنش اور بینش کے پاس جا کر کھڑا ہو گیا ۔۔۔۔
” تم لوگ بھی شبو آپاں کے حال سے کچھ سبق سیکھ لو ۔۔۔۔ اور خدا کا واسطہ ہے میکے کے بجائے اپنے گھر بسانا سیکھو۔۔۔۔۔ کیونکہ یہ تو اب کہیں جانے والی نہیں ہیں ۔۔۔۔ ہمارے سینوں پر ہی مونگ دلیں گئیں” یہ کہہ کر وہ کمرے میں چلا گیا ۔۔۔۔۔
عرفان خود خود اپنا آپ بے ضمیر س لگ رہا تھا ۔۔۔۔ ظلم تو اس نے بھی شزا پر کم نہیں ڈھائے تھے ۔۔۔۔۔ شاید اسی لئے اللہ نے سزا کے طور پر شزا کی ایسی محبت دل میں ڈالی تھی کہ نظر کسی دوسری عورت پر اٹھنے کو تیار نہیں تھی ۔۔۔۔۔ پچھتاوے کی آگ میں پل پل جلتا تھا ۔۔۔۔۔ شبو آپاں نے برباد کر کے رکھ دیا تھا اسے ۔۔۔۔ اور خود بھی اجبسثھ آٹھ آنسوں بہا رہی تھی
شبو کے آنسوں آج سچے تھے ۔۔۔۔ پھوٹ پھوٹ کر رو رہی تھی ۔۔۔۔۔
زرنش اور بینش جو شبو کے نقش قدم پر چلتے ہوئے میاں سے لڑ کر گھر آئی بیٹھیں تھیں ایک گھنٹے میں اپنا رختے سفر باندھ کر سسرال جا چکیں تھیں ۔۔۔۔۔ اماں جی کو پہلی بار شزا کے ساتھ کیے اپنے رویے نے رلایا تھا ۔۔۔۔۔
بیٹی یوں برباد ہو کر گھر بیٹھے تو احساس ہوتا کہ جس کی بیٹی کو آپ نے برباد کر کے بھیجا تھا اس لڑکی پر اور اس کے گھر والوں پر کیا بیتی ہو گی ۔۔۔۔
*******………
“عفی تو نے اپنی سی کوشش تو کر لی ۔۔۔ ہوا کیا ؟ کچھ بھی تو نہیں ۔۔۔ اب میری مان تو اس سے شادی کر لے ۔۔۔۔ تیرے ابا تب تک گھر نہیں لوٹیں گئے جب تک تو یہاں موجود ہے ” عابدہ بیگم کے پاس عفیرہ بیٹھی روتے ہوئے زیان کے گھر وقوع پزیر ہونے والے واقع کو عابدہ بیگم کو سنا رہی تھی۔۔۔۔ عابدہ بیگم کا جواب سن کر تڑپ کر بولی
” چار بچوں کا باپ ہے وہ اماں ۔۔۔ مجھے بچے ہی پالنے تھے تواپنے ولی کو نا پال لیتی ۔۔۔۔ اپنی اولاد کو دور کر کے میں اس موئے کے سپولیوں کو پالوں گی ؟ ۔۔۔۔ نا اماں مجھ سے یہ نہیں ہو گا ” عفیرہ کے لئے اس کی ماں نے وہی رشتہ تجویز کیا تھا جو کبھی مائرہ سے جان چھڑانے کے لئے عفیرہ کو مشورہ دیا تھا ۔۔۔۔۔
” ہاں تو کیا میرے گھر بیٹھی رہے گی ۔۔۔۔ دیکھ عفی تو نے آج تک اپنی من مانی کی ہے ۔۔۔۔ اور میرے لاکھ منع کرنے پر بھی تو نے زیان سے چکر چلایا ۔۔۔۔ میں نے تجھے بہت روکا پر تو نے میری ایک نہیں سنی ۔۔۔۔ آخر مجھے ہی ہار ماننی پڑی ۔۔۔ میں نے بھی تیرا پانچ سال بہت ساتھ دیا ہے زیان کے لئے ۔۔۔۔ پھر زیان کو چھوڑ کر تجھے نوفل پسند آ گیا عبیرہ کے لئے آیا ہوا رشتہ تو نے زبردستی اپنے نام کر لیا ۔۔۔ میں نے اس وقت بھی تیری مانی ۔۔۔۔ اپنا گھر تو نے خود برباد کیا ۔۔۔۔اور آج زیان کے گھر بھی تو مجھے بنا بتائے پہنچ گئ اور ذلت اٹھا کر ہی واپس لوٹی ہے ۔۔۔۔ اگر اب بھی میرے گھر بیٹھی رہی تو چھوٹی کو بھی کوئی نہیں پوچھے گا ۔۔۔۔ دیکھ شادی کر لے اس سے۔۔۔ اس کے کون سے گود کے بچے ہیں ۔۔۔۔ مت سنبھالنا ان لڑکوں کو سارے ہی سمجھدار ہیں ۔۔۔۔ خود ہی پلتے رہیں گئے ۔۔۔۔ دیکھ اپنا گھر ہے اس کا تجھے اپنا ٹھکانہ بھی مل جائے گا اور تیرے ابا بھی گھر آنے کاسوچیں گئے ۔۔۔۔ اس ماہ تو خرچہ بھی نہیں بھیجا ۔میرا تو دل ڈر رہا ہے کہ کہیں اس عمر میں مجھ پر سوتن نا لے آئیں ۔۔۔ میں کہاں جاؤں گی ۔۔۔۔ ” عابدہ بیگم کو اپنی فکر ستائی تھی ۔۔۔ عفیرہ چپ تھی۔۔۔۔
دوسرا کوئی راستہ بھی نہیں تھا ۔۔۔۔ اس لئے نکاح سے انکار نہیں کیا
جہاں کبھی اپنی جان خلاصی کے لئے مائرہ کو بھیجنا چاہتی تھی ۔۔۔۔۔ تا کہ پورے گھر پر خود راج کر سکے ۔۔۔۔ وہاں خود جانے کے لئے رضا مندی دے چکی تھی ۔۔۔۔۔ اور خدا کی کرنی ایسی ہوئی تھی کہ مائرہ کے پاس وہی گھر تھا ۔۔۔۔ جہاں سے کبھی عفیرہ اسے نکالنا چاہتی تھی ۔۔۔۔ مائرہ کی نا نیت میں کھوٹ تھا نا ہی حکمرانی کی خواہش وہ صرف پناہ چاہتی تھی ۔۔۔۔ عزت سے زندگی گزارنے طلب گار تھی ۔۔۔۔ اس لئے قسمت کا چکر ہی کچھ ایسا چلا تھا ۔۔۔۔ زریاب کے بعد جس شخص نے اب تک اسے تحفظ دیا تھا ۔۔۔ وہی اس کی عزت کا امین بن چکا تھا ۔۔۔۔
*******………
رمشہ واپس تو آ گئ تھی لیکن اکڑ ویسی ہی تھی ۔۔۔۔
ہاں بدر ضرور بدل گیا تھا ۔۔۔۔ اب اپنے چھوٹے موٹے کام اسے کہنے لگا تھا ۔۔۔۔ آفس سے گھر آتے ہی اس نے رمشہ کو ٹی وی کے سامنے بیٹھے دیکھ کر کہا
” تمہیں نظر نہیں آتا ہے کہ آفس سے تھک کر آ رہا ہوں میں۔۔۔ جاؤں جا کر پانی لاؤ میرے لئے ” آفس سے آتے وہ لاونج میں ٹی وی پر ڈرامہ دیکھتی رمشہ کو سخت لہجے میں بولا تھا اور صوفے پر بیٹھے ہی ریموڈ رمشہ کے ہاتھ سے لیکر ٹی وی بند کیا تھا ۔۔۔
” بدر یہ کیا طریقہ ہے ۔۔۔۔ ” رمشہ تلملا کر بولی تھی
” یہی میں میں پوچھ رہا ہوں کہ یہ کیا طریقہ ہے
۔۔۔۔شوہر گھر پر آئے تو اسے پانی کا پوچھتے ہیں ۔۔ “
” نسرین صاحب کے لئے پانی لیکر آؤں ” رمشہ نے ملازمہ کو پکارا تھا ۔۔۔۔
” بیگم صاحبہ آپ جا کر پانی لا کر دیں ۔۔۔۔ شوہر کی خدمت سے ثواب کمانے کا مفت میں موقع فراہم ہو تو انکار نہیں کرنا چاہیے ۔۔۔۔ ” بدر کی بات پر وہ زچ ہوتے ہوئے اٹھ کر کچن میں چلی گئ ۔۔۔
” کچھ لوگوں کو پیار راس ہی نہیں ہوتا ۔۔۔۔ بس سختی سے پیش آتے رہو تو سب ٹھیک ہے ۔۔۔۔ ” یہ کہہ بدر نے ریموڈ سے ٹی وی آن کیا ۔۔۔۔
پانی کا گلاس رمشہ نے تیوری چڑھائے اس کے سامنے پیش کیا تھا ۔۔۔ بدر نے اس کے موڈ کو نظر انداز کرنا ہی بہتر سمجھا تھا ۔۔۔ اس کے یہی کافی تھا کہ کب سے میکے سے آئی تھی اسکی بات ٹال نہیں رہی تھی منہ پھلائے ہی سہی لیکن وہ اس کے کام کر رہی تھی ۔۔۔۔۔ توقیر صاحب کی باتوں کااثر تھا کہ زبان کی طراری بھی کم ہی دیکھا رہی تھی ۔۔۔۔
بدر کے نمبر پر مظہر کی کال آ رہی تھی پانی پی کر بدر نے گلاس سائیڈ پر رکھا اور فون ریسیو کیا
مظہر سے حال احوال کرنے لگا
“, بدر اسی کے ماہ کے آخر میں میرے بیٹے کی برتھ ڈے ہے ۔۔۔۔ اور تم اپنی پوری فیملی سے ساتھ اٹینڈ کرو گئے ۔۔۔۔ کوئی بہانہ نہیں سنو گا ۔۔۔۔ نا ہی کوئی بہانہ بنانا ” پہلے بھی کئ بار مظہر بدر سے کہہ چکا تھا کہ وہ اپنی فیملی کو اسے گھر پر ڈنر پر لیکر آئے ۔۔۔۔ لیکر بدر ہر بار ٹال جاتا تھا ۔۔۔۔
” سر میں کوشش کروں گا ” بدر مظہر کے گھر جانے سے کتراتا ہی تھا اپنی وجہ سے آفرین کی زندگی کو ڈسٹرب نہیں کرنا چاہتا تھا ۔۔۔۔
” کوشش نہیں بدر ۔۔۔ لازمی آنا ہے ۔۔۔۔ میں انکار نہیں سنو گا ” مظہر نے حتمی انداز سے کہہ کر فون رکھ دیا تھا رمشہ بدر کے ساتھ ہی بیٹھی تھی ۔۔۔ اور دونوں کے مابین بات بھی سن چکی تھی
” تمہارے باس کیا کہہ رہے تھے۔۔۔۔ کہاں بلا لے رہے تھے ہمہیں ” رمشہ نے جان بوجھ کر پوچھا ورنہ دعوت کا سندیسہ توشعہ سن چکی تھی بدر کے لئے ایک دعوت بھی ایک نئ آزمائش تھی یہی سوچ رہا تھا کہ انکار کا بہانہ کیا بنائے ۔۔۔ اس پر رمشہ کاسوال اسے تپا گیا تھا اس نے خشمگیں نظروں سے رمشہ کو دیکھا ۔۔۔
” کہہ رہے تھے پاگل خانے میں ایک خاتون کی اشد ضرورت ہے ۔۔۔۔ تمہاری نظر میں کوئی ہے تو بتانا ۔۔۔ اب میری نظر تو بس ہی پاگل ہے ۔۔۔۔ کہو تو لے جاؤں تمہیں ” بدر نے سیدھی چوٹ اسی پر کی تھی ۔۔۔ اور اٹھ کر اپنے کمرے میں چلا گیا ۔۔۔۔ رمشہ نے نافہمی انداز سے کندھے اچکائے تھے
” اب میں نے کیا کہہ دیا ہے ۔۔۔۔ ہنہ۔۔۔۔ میں تو تو دعوت پر ضرور جاوں گی ” رمشہ صوفے پر ہی آلتی پالتی مارے بیٹھ گئ گود میں کش رکھااسر ریموڈ سے چینلز چینج کر کے اپنا مطلوبہ چینل دیکھنے لگی ۔۔۔۔
******…….
رات کو نوفل دیر سے ہی گھر پہنچا تھا ۔۔۔۔۔ مائرہ آج پھر سے اسکے انتظار میں بیٹھی تھی وصی کے گھر سے غصے سے نکلا تھا خالی پیٹ ہی چار گھنٹے سڑکوں پر مارے مارے پھرتا رہا بلا مقصد ہی ۔۔۔۔۔ اب بھوک بھی شدت سے لگ رہی تھی اور ذہنی الجھاؤ کا بھی وہی عالم تھا ۔۔۔۔ سوچا تو یہی کہ مائرہ ابتک سو چکی ہو گی ۔۔۔۔ سب سے پہلے کھانا ہی لگائے گا ۔۔۔۔ لیکن اسے سامنے دیکھ کر سلام کر کے سیدھا اپنے کمرے میں جانے لگا ۔۔۔ ۔
” فرش ہو کر باہر آؤں میں کھانا گرم کے لگا رہی پھر ملکر کھائیں گئے ” اس جمعلے قدم وہیں جمائے تھے
” آپ نے ابھی تک کھانا کیوں نہیں کھایا ۔۔۔۔ ؟”
” تمہارا انتظار کر رہی تھی ۔۔۔۔ اب جلدی کرو نوفل مجھے بہت بھوک لگ رہی کب سے تمہارا انتظار کر رہی ہوں ” مائرہ یہ کہہ کچن میں چلی گئ ۔۔۔۔
نوفل کچھ وہیں کھڑا رہا ۔۔۔۔ پھر گہری سانس لیکر کمرے میں چلا گیا ۔۔۔۔ منہ ہاتھ کر جب باہر آیا تو کھانا لگا چکی تھی ۔۔۔۔ ایک کرسی کھنچ کر وہ بیٹھ گیاوہ بھی اسکے سامنے کرسی پر بیٹھ گئ ۔۔۔ نوفل نے دوبارہ اس سے بات نہیں کی مائرہ کو دیکھنے سے بھی اجتناب ہی کر رہا تھا گردن جھکائے بس جلدی جلدی نوالے اپنے اندر ڈال رہا ۔۔۔۔۔ تا کہ جلدی سے اٹھ کر وہاں سے چلا جائے ۔۔۔ مائرہ اسی کو دیکھ رہی ۔۔۔۔ بڑی عجلت سے کھانا کھا رہا تھا کافی دنوں سے چپ چپ سا بھی تھا ۔۔۔۔ چہرے پر بھی عجیب پریشانی سی عیاں تھی ۔۔۔۔ زریاب کی زندگی میں کتنا لاپروا سا ہوتا تھا ۔۔۔۔ ہر وقت ہنستا رہتا تھا اتنی باتیں ہوتی تھی اسکی کہ مائرہ اس کے سامنے ہاتھ جوڑ دیتی
” بس بھی کر دو نفل تمہاری یونیورسٹی کے قصے سن سن کر اور پرفیسرز کی نقل بازیاں دیکھ کر ہنس ہنس کر میرے جبڑے دکھنے لگ گئے ہیں ۔۔۔۔ ” وہ کچن کھانا بناتے ہوئے نفل کے پرفیسر کے قصے سن کر ہنس ہنس کر بے حال ہو چکی تھی
“, بس بھابھی تین ہی پروفیسز بچے ہیں ۔۔۔ بہت مزے کی باتیں ہیں انکی سنیں تو ۔۔۔۔ ” نوفل کچن کی شلف پر بیٹھا تھا مائرہ ساتھ ساتھ اسکے قصے سن رہی ساتھ ساتھ کھانا بنا رہی تھی ۔۔۔ مائرہ نے اسے آگے ہاتھ جوڑے ۔۔۔
” نہیں میرے اب کان پک چکے ہیں ۔۔ تمہاری فضول باتیں سن سن کر ۔۔۔۔ پتہ ہے تمہاری باتوں کے چکر میں ابھی روٹی بھی نہیں بنائی اور سلاد بھی رہتا ہے زریاب
آتے ہی مجھے گھور گھور کے دیکھیں گئے ” مائرہ اب شلف پر کٹنگ بورڈ رکھ کر سلاد کاٹ رہی تھی ۔۔۔ نوفل نیچے اتر گیا
” رہنے بھی بھابھی بھائی کی آپ کے سامنے اتنی ہمت ہی کہاں ہے بھائی کی کہ آپ کو گھور کے دیکھا سکیں ۔۔۔۔ ہاں آپ ضرور میرے معصوم سے بھائی گھور رہی ہوتی ہیں کئ بار تو میں نے خود دیکھا ہے ” وہ اب بھی شلف سے ٹیک لگائے کٹنگ بورڈ سے کھیرے اٹھا اٹھا کر کھاتے ہوئے موضوع بدل گیا تھا ۔۔۔ مائرہ ایک مصنوعی غصیلی نظر اس پر ڈالی تھی
” تم ہم دونوں ہر نظریں رکھتے ہو نوفل بڑے بے شرم ہو نکلو یہاں سے ورنہ اسی چھری قتل کر دوں گی تمہارا ۔۔۔۔ ” مائرہ نے چھری اسکی طرف بڑھاتے ہوئے کہا وہ بھی ڈرامائی انداز سے ڈرتے ہوئے پیچھے ہٹا تھا
” ہاں ہاں جا رہا ہوں ۔۔۔ اسے پیچھے کریں ایویں لگ وگ جائے گی میرے ۔۔۔۔ اورمیں بھری جوانی میں مرنا نہیں چاہتا ۔۔۔۔ ” نوفل پیچھے ہٹ گیا تھا
مائرہ دوبارہ سے سلاد کاٹنے لگی وہ پھر اسے دو قدم آگے بڑھا
” بس ایک قصہ اور سن لیں بڑے مزے کا سچی اس کے بعد باہر چلا جاؤں گا ” مائرہ نے دوبارہ چھری اسے دیکھائی تھی ۔۔۔۔
” اچھا اچھاجا رہا ہوں لیکن کل ضرور سناؤں گا ۔۔۔ ” سمجھ گیا تھا کہ وہ کچھ نہیں سنے گی
اور سب کب سے زریاب کا انتقال ہوا تھا ۔۔۔ اسکی باتیں اور ہنسی تو جیسے ختم ہو گئ تھی ۔۔۔۔ گھنٹوں دونوں بھائی باتیں کرتے رہتے تھے ۔۔۔۔ نوفل کی ہر الجھن زریاب کے پاس آ کر منٹوں میں ختم ہوتی تھی بے فکر سی زندگی تھی اسکی ۔۔۔۔۔ اور اب پتہ نہیں کیا پریشانی ہے اسے ۔۔۔۔ چین کھانا بھی نہیں کھا رہا ہے ۔۔۔۔۔ ہاں ساری ذمہ داریاں اسی پر جو آ گئیں ہیں ۔۔۔۔ پھر عفیرہ بھی کبھی بھی نوفل کی ہمدرد دوست اور ساتھی بنکر نہیں رہی تھی ۔۔۔۔
” کھانا تو ٹھیک سے کھاؤ نوفل ۔۔۔۔ کس بات کی جلدی ہے تمہیں ۔۔۔۔ ” مائرہ کی نظروں سے وہ مزید نروس سا ہو رہا تھا جو کب سے اسے ہی دیکھ رہی تھی ۔۔۔۔
” بس کھا لیا ہے اس نے با مشکل پلیٹ میں ڈالا ہوا سالن ہی ختم کیا تھا ۔۔۔
” آپ میرا انتظار مت کیا کریں کھانا کھاؤ کر سو جایا کریں ۔۔۔ مجھے بھوک ہو گی تو خود کھا لیا کرو گا “
” کیا پریشانی ہے تمہیں بہت الجھے الجھے لگ رہے ہو ۔۔۔۔۔ کہاں ہوتے ہو تم رات دیر تک ۔۔۔۔ “
” ایسے دوستوں میں بیٹھ جاتا ہوں میں نے کہاں جانا ہے ۔۔۔ ” نوفل دو گھونٹ پانی پیااور کرسی کھسکا کر کھڑا ہو گیا
” اوہ یاد آیا ۔۔۔ ” نوفل جوان کی تنخواہ ملی تھی جیب سے پیسے نکال کر مائرہ کو دینے لگا تو سگریٹ کی ڈبیہ جیب سے نکل نیچے گری تھی ۔۔۔۔ نوفل نے فوراسے زمین سے اٹھا کر جیب میں رکھ لی ۔۔۔ لیکن وہ دیکھ چکی تھی اٹھ کر اسکے پاس آ گئ ۔۔۔۔ نوفل مزید نروس ہوا تھا ۔۔۔۔آجکل اپنی پریشانی کا یہ علاج کر رہا تھا سموکنگ کرنے لگا تھا ۔۔۔۔۔ حالانکہ اسکے لئے جان لیوا تھی ۔۔۔ پیسے اس نے مائرہ کی طرف بڑھا دیے لیکن اس نے ہاتھ بھی نہیں لگایا
” جیب میں کیا ہے تمہارے ۔۔۔ دیکھاوں مجھے ” وہ دیکھ چکی تھی اس لئے سخت لہجے سے پوچھ رہی تھی
” کچھ نہیں ہے۔۔۔ یہ پیسے رکھیں اپنے پاس ۔۔۔ ” نوفل نے پیسے ٹیبل پر رکھے اور اپنے کمرے میں جانے لگا ۔۔۔
لیکن مائرہ اس کے سامنے آ کر کھڑی ہو گئ تھی
” سگریٹ پی رہے ہو تم ۔۔۔۔۔ ؟ سگریٹ ہے نا تمہاری جیب میں۔۔۔ ؟ مائرہ کا لہجہ اب بھی سخت تھا
نوفل کچھ نہیں بولا
“, کچھ پوچھ رہی تم سے ۔۔۔۔ چپ کیوں ہو “
” ہاں ہے سگریٹ ۔۔۔۔ “
” تو تم رات دیر تک گھر باہر رہ کر سگریٹ پینے لگے ہو ۔۔۔۔ ادھر دو مجھے” مائرہ نے غصے اور تاسف سے اسے دیکھتے ہوئے اپنا ہاتھ آگے بڑھایا
” سامنے سے ہٹیں ۔۔۔۔ ” نوفل سنجیدہ سا تھا ۔۔ پہلے ہی اپنی الجھن کا کوئی سرا اسے نہیں مل رہا تھا ۔۔۔۔ اسوقت بھی ذہنی دباؤ کا شکار تھا ۔۔۔
” تم جانتے ہو کہ تمہیں استما کاایشو اور سگریٹ تمہارے لئے کتنا خطرناک ہے ۔۔۔۔ “
“کچھ نہیں ہوتا مجھے ۔۔۔۔ اور یہ میری زندگی ہے جو چاہے کرو ۔۔۔۔ ” نوفل کا لہجہ بھی کچھ ترش سا ہو گیا تھا
” تمہاری زندگی ہے ؟ نوفل کس لہجے میں بات کر رہے مجھ سے ۔۔۔۔۔ اور کیوں کر رہے ہو یہ سب ۔۔۔ کیا ہوا ہے تمہیں ۔۔۔۔ ” مائرہ کا گوگیرہ لہجے نے نوفل پھر سے بے بس کرنا شروع کیا تھا ۔۔۔۔ ایک نظر اسکی آنکھوں پر ڈالی جہاں فکرمندی نمی تھی فوراسے جیب سے سگریٹ کی ڈبیہ نکال کر اس کے ہاتھ ۔میں رکھ دی ۔۔۔
” ایم سوری ۔۔۔ اب نہیں پیوں گا بس کچھ سے بہت ڈریس میں ہوں اس لئے آپ سے ۔۔۔۔ اس لہجے میں کہہ گیا ۔۔۔۔ اب پلیز روئے گا مت “
” میں جانتی ہوں تمہیں کیا پریشانی ہے ۔۔۔۔ کس بات سے تم اتنے ڈریس میں ہو ” مائرہ کے لفظوں سے چونک سا گیا تھا ۔۔۔۔ ایسا کیا جان گئ تھی وہ ۔۔۔۔
” کیا ۔۔۔۔۔ جانتی ہیں۔۔۔۔۔۔ آپ ” نوفل کا دل دھڑکنا بھول گیا تھا ۔۔۔۔ اب کیا جان گئ تھی وہ
” تم کیا سمجھتے ہو مجھے لفظوں کی ضرورت ہے نوفل ۔۔۔ تم زبان سے نہیں کہو گئے تو کیا میں سمجھوں گی نہیں ۔۔۔۔ سب جانتی ہوں میں ۔۔۔۔ کیوں تم رات دیر تک باہر رہتے ہو ۔۔۔ کیوں اتنے چپ چپ سے ہو ۔۔۔ کیا غم تمہیں اندر ہی اندر کھائے جا رہا ہے ۔۔۔۔ ” نوفل مائرہ کے منہ یہ سب سن کر حیرت زدہ سا ہوا تھا ۔۔۔۔ کیا واقع وہ ہر بات سے با خبر تھی۔۔۔ یا انہیں اس دن کی ہر بات یاد تو نہیں آگئ ؟ یہ سوچنا ہی نوفل کے لئے سوہان روح بن رہا تھا ۔۔۔۔۔ ماہرہ نے نے اس کا ہاتھ پکڑا اور دوبارہ اسے کرسی کے پاس لے گئ
” بیٹھوں ادھر ۔۔۔ ” یہ کہہ کر خود بھی اسکے برابر بیٹھ گئ ۔۔ نوفل مزید گھبرا سا گیا تھا
” میں نے ۔۔۔۔ میں نے ۔۔۔ جان بوجھ کر ۔۔۔۔۔ وہ سب”
” تمہیں میں نے پہلے بھی کہا تھا نوفل امی کے گھر کا کرایہ اور زریاب کی شاپ کا رینٹ گھر کے اخراجات میں شامل کر لیا کرو ۔۔۔۔ نا جانے کیا سوجی تھی تمہیں ۔۔ ۔ پلاٹ بک کروانے کی ۔۔۔۔۔ تم گھر کے اخراجات کی وجہ سے ہی پریشان ہو ؟
مجھے تو شک ہے کہ تم شاید رات دیر تک ٹیوشن پڑھانے لگے ہو ۔۔۔ ” مائرہ کی بات سن کر وہ س
جھ نہیں پا رہا کہ کیا کہے اسے ۔۔۔۔ پل میں اس نے نوفل کی جان ہی نکال کے رکھ دی تھی ۔۔۔۔ اور جو بات وہ سمجھی تھی وہ بلکل بے بنیاد سی تھی ۔۔۔
” تو سمجھی ہیں آپ ” نوفل کی بات پر مائرہ نے بڑی سنجیدگی سے اسے دیکھا تھا ۔۔۔
” تم مجھ سے ایک بار تو کہتے نوفل ہم مل کر مینج کر سکتے تھے ۔۔۔ دیکھوں میرا زیور یونہی پڑا ہے ۔۔ مجھے کونسا پہننا ہے ۔۔۔ تم وہ سیل کر دو ۔۔۔ اور ۔۔۔۔۔۔ میرے پاس کچھ کیش ۔۔۔۔ “
” مجھے فانئنشلی کوئی پرابلم نہیں ہے ۔۔۔۔ کس نے کہا آپ سے کے میں گھر کے اخراجات کی وجہ سے
پریشان ہوں ؟ وہ حیرت سے اسے پوچھ رہا تھا
” اور کیاوجہ ہو سکتی ہے ۔۔۔۔ “
” میری ہے بہت اچھی ہے ۔۔۔۔ مجھے پیسوں کی کوئی پرابلم نہیں ہے “
” تو پھر کیا پرابلم ہے ” مائرہ اسکی پریشانی کی وجہ جاننا چاہتی تھی
” کچھ بھی نہیں ۔۔۔۔ بس آفس کے کچھ ایشوز ہیں ۔۔۔ ٹھیک ہو جائیں گئے ۔۔۔۔ ” نوفل نے بات کو ٹالا اور اپنے کمرے میں آ گیا
لیکن چند دن بعد ہی اپنی کیفت سے تنگ آ کر اسی مفتی کے سامنے بیٹھا تھا ۔۔۔۔ جس نے اسے مائرہ سے نکاح کا مشورہ دیا تھا ۔۔۔ اپنی ساری کیفیت اسے بتا چکا تھا ۔۔۔۔
” میاں تمہاری پریشانی۔ اپنی جگہ درست ہے ۔۔۔ ظاہر سی بات ہے ۔۔۔۔ بڑے بھائی کی بیوی کو انسان اپنی بہن جیسا ہی سمجھتا ہے ۔۔۔۔
لیکن وہ بہن کہنے سے حقیقی بہن نہیں ہو جاتی
ہمارے پیارے نبی حضرتِ محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے غلام زید بن حارثہ تھے ۔۔۔۔ جنہیں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بیٹے کی طرح پالا تھا ۔۔۔۔ یہاں تک کے عرب میں انہیں زید بن محمد کے نام سے پکارا جانے لگا ۔۔۔
صحابۂ کرام رضی اللہ عنھم حضرت زید رضی اللہ عنہ کو پہلے ”زید بن محمد“ کہا کرتے تھے لیکن جب سورۂ احزاب کی آیت نمبر 5(اُدْعُوْهُمْ لِاٰبَآىٕهِمْ هُوَ اَقْسَطُ عِنْدَ اللّٰهِۚ-) (تَرجَمۂ کنزُ الایمان:اُنھیں ان کے باپ ہی کا کہہ کر پکارو یہ اللہ کے نزدیک زیادہ ٹھیک ہے) نازِل ہوئی تو آپ کو ”زید بن حارثہ“ پکارنے لگے۔
عرب میں یہ رواج عام تھا کہ لے پالک بیٹے کو حقیقی بیٹے کا درجہ حاصل تھا اور اسکی بیوی کو بہو کی سمجھا جاتا تھا ۔۔۔۔ میں تمہیں قرآنی آیات سے واقع بیان کر دیتا ہوں ۔۔۔۔ تا کہ تم ٹھیک سے سمجھ سکو ” مفتی صاحب نے نوفل سے یہ کہہ کر اپنی بات جاری رکھی
((((وَمَا كَانَ لِمُؤْمِنٍ وَلَا مُؤْمِنَةٍ إِذَا قَضَى اللَّـهُ وَرَسُولُهُ أَمْرًا أَن يَكُونَ لَهُمُ الْخِيَرَةُ مِنْ أَمْرِهِمْ ۗ وَمَن يَعْصِ اللَّـهَ وَرَسُولَهُ فَقَدْ ضَلَّ ضَلَالًا مُّبِينًا ﴿٣٦﴾
اور (دیکھو) کسی مومن مرد و عورت کو اللہ اور اس کے رسول کے فیصلہ کے بعد کسی امر کا کا کوئی اختیار باقی نہیں رہتا (١) یاد رکھو اللہ تعالٰی اور اس کے رسول کی بھی نافرمانی کرے گا وہ صریح گمراہی میں پڑے گا۔
٣٦۔١ یہ آیت حضرت زینب رضی اللہ تعالٰی کے نکاح کے سلسلے میں نازل ہوئی تھی۔ حضرت زید بن حارثہ رضی اللہ تعالٰی عنہ، جو کہ اصلا عرب تھے، لیکن کسی نے انہیں بچپن میں زبردستی پکڑ کر بطور غلام بیچ دیا تھا لیکن نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے حضرت خدیجہ کے نکاح کے بعد حضرت خدیجہ نے انہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو ہبہ کر دیا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں آزاد کر کے اپنا بیٹا بنا لیا تھا۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے نکاح کے لئے اپنی پھوپھی زاد حضرت زینب کو نکاح کا پیغام بیجھا، جس پر انہیں اور ان کے بھائی کو خاندانی وضاحت کی بنا پر تامل ہوا، کہ زید ایک آزاد کردہ غلام ہیں اور ہمارا تعلق ایک اونچے خاندان سے ہے۔ جس پر یہ آیت نازل ہوئی۔ جس کا مطلب یہ ہے کہ اللہ اور رسول کے فیصلے کے بعد کسی مومن مرد اور عورت کو یہ حق حاصل نہیں کہ وہ اپنا اختیار بروئے کار لائے۔ بلکہ اس کے لئے ضروری ہے کہ وہ سر تسلیم خم کردے چنانچہ یہ آیت سننے کے بعد حضرت زینب وغیرہ نے اپنی رائے پر اصرار نہیں کیا باہم نکاح ہوگیا۔وَإِذْ تَقُولُ لِلَّذِي أَنْعَمَ اللَّـهُ عَلَيْهِ وَأَنْعَمْتَ عَلَيْهِ أَمْسِكْ عَلَيْكَ زَوْجَكَ وَاتَّقِ اللَّـهَ وَتُخْفِي فِي نَفْسِكَ مَا اللَّـهُ مُبْدِيهِ وَتَخْشَى النَّاسَ وَاللَّـهُ أَحَقُّ أَن تَخْشَاهُ ۖ فَلَمَّا قَضَىٰ زَيْدٌ مِّنْهَا وَطَرًا زَوَّجْنَاكَهَا لِكَيْ لَا يَكُونَ عَلَى الْمُؤْمِنِينَ حَرَجٌ فِي أَزْوَاجِ أَدْعِيَائِهِمْ إِذَا قَضَوْا مِنْهُنَّ وَطَرًا ۚ وَكَانَ أَمْرُ اللَّـهِ مَفْعُولًا ﴿٣٧﴾
یاد کرو) جبکہ تو اس شخص سے کہہ رہا تھا کہ جس پر اللہ نے بھی انعام کیا اور تو نے بھی کہ تو اپنی بیوی کو اپنے پاس رکھ اور اللہ سے ڈر تو نے اپنے دل میں وہ جو چھپائے ہوئے تھا جسے اللہ ظاہر کرنے والا تھا اور تو لوگوں سے خوف کھاتا تھا، حالانکہ اللہ تعالٰی اس کا زیادہ حق دار تھا کہ تو اسے ڈرے (١) پس جب کہ زید نے اس عورت سے اپنی غرض پوری کرلی (۲) ہم نے اسے تیرے نکاح میں دے دیا (۳) تاکہ مسلمانوں پر اپنے لے پالک بیویوں کے بارے میں کسی طرح تنگی نہ رہے جب کہ وہ اپنی غرض ان سے پوری کرلیں (٤) اللہ کا (یہ) حکم تو ہو کر ہی رہنے والا ہے (۵)
٣٧۔١ لیکن چونکہ ان کے مزاج میں فرق تھا، بیوی کے مزاج میں خاندانی نسب و شرف رچا ہوا تھا، جب کہ زید کے دامن میں غلامی کا داغ تھا، ان کی آپس میں ان بن رہتی تھی جس کا تذکرہ حضرت زید نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے کرتے رہتے تھے اور طلاق کا عندیہ بھی ظاہر کرتے۔ لیکن نبی صلی اللہ علیہ وسلم انکو طلاق دینے سے روکتے اور نباہ کرنے کی تلقین فرماتے ۔ علاوہ ازیں اللہ تعالٰی نے آپ کو اس پیش گوئی سے بھی آگاہ فرمادیا تھا کہ زید کی طرف سے طلاق واقع ہو کر رہے گی اور اس کے بعد زینب کا نکاح آپ سے کردیا جائے گا تاکہ جاہلیت کی اس رسم تبنیت پر ایک کاری ضرب لگاکر واضح کردیا جائے کہ منہ بولا بیٹا ، احکام شرعیہ میں حقیقی بیٹے کی طرح نہیں ہے اور اسکی مطلقہ سے نکاح جائز ہے۔ اس آیت میں انہی باتوں کی طرف اشارہ کیا گیا ہے۔ حضرت زید پر اللہ کا انعام یہ تھا کہ انھی قبول اسلام کی توفیق دی اور غلامی سے نجات دلائی ، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا احسان ان پر یہ تھا کہ انکی دینی تربیت کی۔ انکو آزاد کرکے اپنا بیٹا قرار دیا اور اپنی پھوپھی امیمہ بنت عبدالمطلب کی لڑکی سے ان کا نکاح کرادیا ۔ دل میں چھپانے والی بات یہی تھی جو آپ کو حضرت زینب سے نکاح کی بابت بذریعہ وحی بتلائی گئی تھی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم ڈرتے اس بات سے تھے کہ لوگ کہیں گے کہ اپنی بہو سے نکاح کر لیا۔ حالانکہ جب اللہ کو آپ کے ذریعے سے اس رسم کا خاتمہ کرانا تھا تو پھر لوگوں سے ڈرنے کی ضرورت نہیں تھی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ خوف اگرچہ فطری تھا، اسکے باوجود آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو تنبیہ فرمائی گئی۔ ظاہر کرنے سے مراد یہی ہے کہ یہ نکاح ہوگا، جس سے یہ بات سب کے علم کے ہی علم میں آجائے گی۔
٣٧۔٢ یعنی نکاح کے بعد طلاق دی اور حضرت زینب عدت سے فارغ ہوگئیں۔
٣٧۔٣ یعنی یہ نکاح معرفت طریقے کے برعکس اللہ کے حکم سے قرار پاگیا، نکاح خوانی، ولایت، حق مہر اور گواہوں کے بغیر ہی
٣٧۔٤ یہ حضرت زینب سے، نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے نکاح کی علت ہے کہ آئندہ کوئی مسلمان اس بارے میں تنگی محسوس نہ کرے اور حسب ضرورت اقتضا لے پالک کی مطلقہ بیوی سے نکاح کیا جاسکے۔
۳۷۔۵ یعنی پہلے سے ہی تقدیر الہٰی میں تھا بہر صورت ہو کر رہنا تھا۔)))))
((((مَّا كَانَ عَلَى النَّبِيِّ مِنْ حَرَجٍ فِيمَا فَرَضَ اللَّـهُ لَهُ ۖ سُنَّةَ اللَّـهِ فِي الَّذِينَ خَلَوْا مِن قَبْلُ ۚ وَكَانَ أَمْرُ اللَّـهِ قَدَرًا مَّقْدُورًا ﴿٣٨﴾
جو چیزیں اللہ تعالٰی نے اپنے نبی کے لئے مقرر کی ہیں ان میں نبی پر کوئی حرج نہیں (١) (یہی) اللہ کا دستور ان میں بھی رہے جو پہلے ہوئے (٢) اور اللہ تعالٰی کے کام اندازے پر مقرر کئے ہوئے ہیں۔
٣٨۔١ یہ اسی واقعہ نکاح زینب کی طرف سے اشارہ ہے، چونکہ یہ نکاح آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے حلال تھا، اس لئے اس میں کوئی گناہ اور تنگی والی بات نہیں ہے۔
٣٨۔٢ یعنی گزشتہ انبیاء علیہم السلام بھی ایسے کاموں کے کرنے میں کوئی حرج محسوس نہ کرتے تھے جو اللہ کی طرف سے ان پر فرض قرار دیئے جاتے تھے چاہے قومی اور عوامی رسم و رواج ان کے خلاف ہی ہوتے۔))))
ہمارے پیاری آقا دو جہاں کی زندگی اللہ کی اطاعت میں گزری ہے انکی زندگی کے ہر پہلو سے ہی ہمہیں بھی اپنی زندگیوں کے مسائل کا حل نکالنے کا حکم دیا گیا ہے نوفل میاں ۔۔۔۔۔
جوخوف تمہیں لاحق ہے کہ لوگ کیا سوچیں گئے ۔۔۔۔ یہی بات ہمارے پیارے نبی کو پریشان کیے ہوئے تھی کہ لے پالک بیٹے کی بیوی سے کیسے نکاح کر سکتے ہیں ۔۔۔۔ لیکن اللہ پاک نے آپ صل اللہ علیہ وسلم کا نکاح خود پڑھوا دیا ۔۔۔۔۔
تا کہ اس غلط عام رسم کا اختتام ہو جائے کے لے پالک بیٹے کی۔ بیوی سے نکاح جائز نہیں
((((مَّا كَانَ مُحَمَّدٌ أَبَا أَحَدٍ مِّن رِّجَالِكُمْ وَلَـٰكِن رَّسُولَ اللَّـهِ وَخَاتَمَ النَّبِيِّينَ ۗ وَكَانَ اللَّـهُ بِكُلِّ شَيْءٍ عَلِيمًا ﴿٤٠﴾
(لوگو) تمہارے مردوں میں کسی کے باپ محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) نہیں (١) لیکن اللہ تعالٰی کے رسول ہیں اور تمام نبیوں کے ختم کرنے والے ہیں (٢) اور اللہ تعالٰی ہرچیز کو (خوب) جانتا ہےـ
(۱) اس لیے وہ زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ کے بھی باپ نہیں ہیں جس پر انہیں مورد طعن بنایا جاسکے کہ انہوں نے اپنی بہو سے نکاح کر لیا؟ بلکہ ایک زید رضی اللہ تعالٰی عنہ ہی کیا وہ تو کسی بھی مرد کے باپ نہیں ہیں۔ کیونکہ زید تو حارثہ کے بیٹے تھےآپ صلی اللہ تعالٰی عنہ نے تو انہیں منہ بولا بیٹا بنایا ہوا تھا اور جاہلی دستور کے مطابق انہیں زید بن محمد کہا جاتا تھا۔ حقیقتا وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے صلبی بیٹے نہیں تھے اسی لیے (اُدْعُوْهُمْ لِاٰبَاۗىِٕهِمْ) 33۔ الاحزاب:5) کے نزول کے بعد انہیں زید بن حارثہ ہی کہا جاتا تھا علاوہ ازیں حضرت خدیجہ سے آپ کے تین بیٹے قاسم، طاہر، طیب ہوئے اور ایک ابراہیم بچہ ماریہ قبطیہ کے بطن سے ہوا لیکن یہ سب کے سب بچپن میں ہی فوت ہوگئے ان میں سے کوئی بھی عمر رجولیت کو نہیں پہنچا۔ بنابریں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی صلبی اولاد میں سے بھی کوئی مرد نہیں بنا کہ جس کے آپ باپ ہوں (ابن کثیر)))))
اس لئے بھابھی کو بہن سمجھ لینے سے وہ بہن نہیں بن جاتی ۔۔۔۔ اور اب تو تم اس سے نکاح بھی کر چکے ہو ۔۔۔۔ جن شرائط کو رکھ کر تم نے اپنی بھابھی سے نکاح کیا انکی اسلام میں کوئی حثیت نہیں ہے ۔۔۔۔۔
قبول ایجاب کرنے سے نکاح کے شرعی تقاضے پورے کرنے سے وہ تمہاری بیوی ہو چکی ہے ۔۔۔ تمہارے جائز بھی ہے اور حلال بھی ۔۔۔۔
((((1. شادی محض جِنسی خواہش کے پورا کرنے کا نام نہیں بلکہ تکمیلِ فرد کا ایک فطری شرعی اور لازمی حصہ ہے ، اور اللہ کے افضل ترین بندے حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کی سُنّت ہے ، ارشاد نبوی ہے : ” نکاح میری سنت ہے اور جو میری سنت پر عمل نہ کرے وہ ہمارے طریقے پر نہیں ہے ” ۔ مشہور تابعی حضرت سعید بن جبیر رحمہ اللہ سے حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نےفرمایا : “تمہیں چاہئے کہ تم شادی کرو کیونکہ اس امت کے سب سے افضل شخص [ یعنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ] سب سے زیادہ بیویوں والے تھے “۔
2. زنا و فواحش سے اپنی پاکدامنی مقصود ہو تاکہ دیگر دنیاوی ضروریات اور بعض بیماریوں سے نجات کے ساتھ اللہ تعالٰی کی مدد کا حق دار ٹھہرے ۔ ” جو شخص عفت و پاکدامنی کے لئے شادی کرتا ہے اللہ تعالٰی اس کی مدد ضرور کرتا ہے ” ۔ ۔
3. اولاد کی خواہش و نیت رکھے تاکہ اس کے لئے صدقہ جاریہ اور قیامت کے دن جہنم سے نجات کا ذریعہ ہو ۔ ” قیامت کے دن بچوں سے کہا جائے گا کہ جنت میں داخل ہوجاؤ ، وہ جواب دیں گے کہ اے ہمارے رب ! ہم جنت میں اس وقت تک داخل نہ ہوں گے جب تک کہ ہمارے ماں باپ جنّت میں داخل نہ ہوجائیں ، اللہ تعالٰی فرمائے گا تم لوگ اور تمہارے ماں باپ سب کے سب جنت میں داخل ہوجاؤ ” ۔ ۔
4. دیندار اور شکر گزار عورت سے شادی کرے : ایک بار صحابہ نے سوال کیا کہ اے اللہ کے رسول ہم کون سا مال حاصل کرنے کی کوشش کریں ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :” تمہیں چاہئے کہ شُکر کرنے والا دل اور ذکر کرنے والی زبان حاصل کرو اور ایسی نیک مومن بیوی جو آخرت کے معاملات میں تمہاری مدد کرے ۔۔)))
تمہیں ایک پاکیزہ رشتے کی ابتدا کرنے کے لئے خوفزدہ ہونے کی ضرورت نہیں ہے ۔۔۔
اب بات معاشرے کی کر لیتے ہیں ۔۔۔۔
دیکھوں میاں جس معاشرے کو ہم جانتے ہیں یا جہاں ہم زندگی بسر کر رہے ہیں ۔۔۔ وہ دین سے برعکس ہے ۔۔۔۔ اور ہمارے ہاں یہ کہا جاتا ہے کہ دین اپنی جگہ۔۔۔ لیکن دنیا کو بھی دیکھنا پڑتا ہے
حالانکہ قرآن حدیث میں زندگی گزارنے اور ایک اسلامی معاشرے کو تکمیل دینے کے اصول بتائے گئے ہیں ۔۔۔۔ جنہیں ہم نے بھلا کر اپنی خواہشات کو مد نظر رکھتے ہوئے ایک نیا معاشرہ تشکیل دیا ہے جو اسلامی قوانین سے بلکل برعکس ہے ۔۔۔۔ اسی لئے ہماری زندگیاں اس قدر مشکلات میں پھنس چکی ہیں ۔۔۔۔
تم بھی اللہ کے حکم کے سامنے سر جھکا دو تو اپنی ذہنی تکلیف سے جلد نجات پا لو گئے ۔۔۔
نکاح ایک بہت خوبصورت رشتہ ہے ۔۔۔۔
((((حدیث شریف:عن أنس بن مالك رضي الله عنه قال : قال رسول الله صلى الله عليه وسلم ’’ من تزوج فقد استكمل نصف الإيمان فليتق الله في النصف الباقي‘‘ ۔ ( الطبراني الأوسط : 7643، 8/315 – شعب الإيمان :5100 ، 7/241 – مستدرك الحاكم :2/161 )
ترجمہ : حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :” جس شخص نے شادی کرلی اس نے آدھا ایمان پورا کرلیا لہذا اسے چاہئے کہ باقی آدھے میں اللہ تعالٰی کا تقوی اختیار کرے “۔ ۔
تشریح : شادی اور نکاح انسان کی ضرورت ، نسلِ انسانی کے تسلسل کا ذریعہ اور جنسی ضرورت کو پورا کرنے کا وسیلہ ہے ، شادی اسلام کی نظر میں ایک مُقدس رشتہ اور اللہ تعالٰی کے افضل ترین بندوں کی سُنّت ہے ’’ وَلَقَدْ أَرْسَلْنَا رُسُلًا مِنْ قَبْلِكَ وَجَعَلْنَا لَهُمْ أَزْوَاجًا وَذُرِّيَّةً ‘‘” ہم نے آپ سے پہلے بھی بہت سے رسول بھیج چکے ہیں اور ہم نے ان سب کو بیوی بچوں والا بنایا ” ۔ شادی انسان کو جسمانی راحت اور قلبی سکون فراہم کرتی ہے : ’’ وَمِنْ آَيَاتِهِ أَنْ خَلَقَ لَكُمْ مِنْ أَنْفُسِكُمْ أَزْوَاجًا لِتَسْكُنُوا إِلَيْهَا وَجَعَلَ بَيْنَكُمْ مَوَدَّةً وَرَحْمَةً ‘‘” اور اس کی نشانی میں سے ہے کہ تمہارے جنس سے بیویاں پیدا کیں تاکہ تم ان سے آرام پاؤ اور اس نے تمہارے [ میاں بیوی کے ] درمیان محبت و ہمدردی پیدا کردی” ۔ اسلام نے شادی کو یہ اہمیت دی کہ اس کے لئے کوشش کرنے والے انسان کے ساتھ اللہ تعالٰی کی خصوصی مدد رہتی ہے ، ارشاد نبوی ہے “تین قسم کے لوگوں کا حق ہے کہ اللہ تعالٰی ان کی مدد کرے : ۱- اللہ تعالٰی کی راہ میں جہاد کرنے والا ۔
۲- کاتب غلام جو حق مکاتبت ادا کرنا چاہتا ہے ۔
۳- شادی کرنے والا جو عفت پاکدامنی کی نیت سے نکاح کرتا ہے” ۔ ۔)))
” اب بھی اگر کوئی ابہام باقی ہے تو تم۔ کہہ سکتے ہو “
” نہیں اب کوئی الجھن باقی نہیں ہے ” یہ کہہ کر نوفل اٹھ کر وہاں سے چلا گیا
