Log Kia Kahe Gy by Umme Hani NovelR50418

Log Kia Kahe Gy by Umme Hani NovelR50418 Log Kia Kahe Gy Episode 17

491.6K
51

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Log Kia Kahe Gy Episode 17

Log Kia Kahe Gy by Umme Hani

” عمار بھائی باہر سے دروازہ کس نے بند کیا تھا ” مائرہ منزہ کو گود میں لیا ۔۔۔ چادر سے منزہ کو لپیٹا اور باقی چادرخود پر لی عمار ہوش میں ہی کہاں تھا بس ایک ٹک اسے دیکھ رہا تھا ۔۔۔ گیلے بال چہرہ متفکر اور بارش سے بھگی ہوئی وہ بے بسی سے عمار کو دروازے کے سامنے دیکھ کر بول رہی تھی لیکن وہ تو بے خود سا اسے ہی دیکھ رہا تھا مائرہ اسے تیز لہجے میں بولی

” عمار بھائی عائزہ کو گود میں لیں ۔۔۔ جلدی کریں ” مائرہ کے چلا کر کہنے پر وہ چونکا تھا تھا

” ہاں ہاں ” یہ کہہ کر اس نے عائزہ کو گود میں لیا مائرہ بھی تیزی سے صحن سے گزر کر گھر کے اندرونی حصے میں داخل ہوئی تھی اندر یو پی ایس لگا ہوا تھا لائٹ چل رہی تھی

۔۔۔ بچیوں کا کمرہ الگ تھا اسی کمرے میں مائرہ چلی گئ ۔۔۔۔ عمار بھی کمرے کے اندر داخل ہو گیا ۔۔۔۔ مائرہ نے منزہ سے چادر اتار کر خود پر اوٹھ لی ۔۔۔ پھر غصیلی نظر عمار پر ڈالی

” بھابھی کو بلائیں ذرا ۔۔۔۔ بھلا یہ کیاطریقہ ہے کہ دروازے کی باہر سے کنڈی لگا دی جائے ۔۔۔۔ پچھلے ایک گھنٹے سے میں دروازہ بجا رہی ہوں ۔۔۔۔ میری بچیاں پانی میں بھیگ چکی ہیں ۔۔۔ کیا ذرا احساس نہیں ہے ان میں ۔۔۔۔ صبح ہی بلاتی ہوں میں نوفل کو یہاں سے بہتر ہے وہاں چلی جاؤں ۔۔۔ یہاں جس کمرے میں میں رہ رہی ہوں وہ کہاں سے رہنے کے قابل ہے ۔۔۔ ” مائرہ کا غصے سے برا حال تھا عمار کچھ گھبرا سا گیا تھا کہ کہیں سچ میں نا چلی جائے

” پاگل عورت ہے یہ زولیخہ بھی ۔۔۔ تم دیکھو کل کیسے میں اسے سیدھا کرتا ہوں ۔۔۔۔ ” عمار نے بات سنبھالی تھی ۔۔۔۔ پھر بچوں کی الماری کھول کر اپنی بیٹیوں کے کپڑے نکال کر مائرہ کو دیے

” تم بچیوں کو کپڑے بدلواں ۔۔ “یہ کہہ کرخود کمرے سے نکل گیا اپنے کمرے میں گیا الماری سے زولیخہ کا ایک سادہ سا جوڑا نکالا اور لا کر مائرہ کے سامنے بیڈ پر رکھ دیا ۔۔۔۔

” آج کے بعد تم اس کمرے میں رہ لینا ۔۔۔ کوئی ضرورت نہیں ہے اس کباڑ خانے میں رہنے کی ۔۔۔۔ عجیب بے حسی ہے اس عورت میں ۔۔۔۔ تم آرام سے بچیوں کے ساتھ یہاں سو جاؤں ” یہ کہہ کر باری باری اپنی بیٹیوں کو گود میں پکڑ کر کمرے سے باہر لے گیا مائرہ نے کمرہ بند کیا اور بچوں کو وہ پہلے ہی کپڑے تبدیل کروا چکی تھی ۔۔۔ انہیں بیڈ پر لیٹایا اور خود واش روم میں چلی گئ ۔۔۔۔ کپڑے بدل کر بیڈ پر لیٹ گئ ایک طرف سے منزہ کو ساتھ لگایا دوسری طرف سے عائزہ کو ۔۔۔۔ دونوں ہی ماں سے ساتھ چیک سی گئ تھیں منزہ توسو گئ لیکن عائزہ جاگ رہی تھی

” مما ہم اپنے گھر کب جائیں گئے ؟

” پتہ نہیں عائزہ ۔۔۔۔ “

” مما بابا کہاں گئے ہیں ؟ ۔۔۔ کب واپس آئیں گئے؟ “

” بہت دور جا چکے ہیں ہم سے ۔۔۔۔ وہ آسمانوں سے بھی اوپر ۔۔۔۔اوپر اللہ تعالٰیٰ کے پاس اور جو اللہ کے پاس ایک بار چلا جائے واپس نہیں آتا ۔۔۔۔ اس لئے وہ بھی اب کبھی واپس نہیں آئیں گئے ۔۔۔۔”مائرہ چھت پر چلتے پنکھے کو دیکھ رہی تھی آنکھوں سے آنسوں بہہ کر تکیے میں جذب ہو رہے تھے

” مما پھر ہم بھی چلے جاتے ہیں اللہ کے پاس ۔۔۔ بابا بہت یاد ہیں مما ۔۔۔۔۔ مجھے بابا کے بغیر نہیں رہنا ۔۔مجھے اپنے گھر جانا ہے ۔۔۔ چاچو کے پاس ۔۔۔۔۔ یہاں نہیں رہنا مما یہ آنٹی گندی ہیں ۔۔۔۔ مجھے ڈانتی ہیں ۔۔ پھر کہتی ہیں اپنی مما یاچاچو کو بتایا تو مارو گی ۔۔۔ ” مائرہ نے گردن موڑ کر عائزہ کو دیکھا تھا

” آنٹی تمہیں ڈانٹتی ہیں عائزہ ؟

” جی مما بہت ذیادہ ۔۔۔۔مجھ سے اپنی ڈانگیں بھی دبواتی ہیں ۔۔۔ کہتی ہیں تم لوگوں کو ہم پال رہے ہیں ۔۔۔۔ مما مجھے اپنے گھر جانا ہے ۔۔۔۔ چاچو کے پاس چاچو ہمیں پیار کرتے ہیں ۔۔۔۔۔ اتنا کچھ ہمارے لئے لاتے ہیں ۔۔ لیکن آنٹی سب کچھ اپنے کمرے میں رکھ لیتی ہیں۔۔۔ مجھ سے کہتی ہیں اگر تم نے اپنی مما کو کچھ بھی بتایا تو زبان پر آگ لگا دوں گی ۔۔۔

آنٹی بہت گندی ہیں مما ” عائزہ کی باتیں سن کر وہ مزید پریشان ہوئی تھی ۔۔۔۔ یہ تو پتہ تھا کہ زولیخہ کچھ تیز خاتون ہے لیکن یہ اندازہ نہیں تھا کہ بچوں کو یوں ڈرائے دھمکائے گی ۔۔۔۔ نوفل کے ساتھ جانا بھی ایک آزمائش سے کم نہیں تھا ۔۔۔ لوگوں کی زبانوں کو رکنا ممکن نہیں تھا۔۔۔۔ جو بھانت بھانت کی کہنے سے رکتے نہیں ہیں ۔۔۔ اپنی شک بھری نظروں سے ہی مار ڈالتے ہیں ۔۔۔ ابھی تو زریاب کا دکھ بھی ہرا تھا ۔۔۔۔ نا بھرنے والا ایسا زخم جو گزرتے وقت کے ساتھ مزمن تو ہو سکتا ہے لیکن ٹھیک نہیں اس پر یہ ستم کے لوگوں کی تیز دھار شکی نظروں کا سامنا کرنا جس کی اس میں ہمت نہیں تھی ۔۔۔۔ اسی وجہ سے زولیخہ کی کڑوی کسیلی بھی سن رہی تھی کہ کم از کم ایک فیملی میں رہ رہی ہے ۔۔۔۔ رمشہ الگ مزاج کی لڑکی تھی پھر انکی حیثیت سے بڑھ کر تھی جس طرح سے وہ حقارے سے مائرہ کو دیکھتی تھی لیا دیا انداز رکھتی تھی ۔۔۔۔ اسے اندازہ تھا کہ کبھی بھی مل کر نہیں رہے گی لیکن نوفل کی پسند تھی اس لئے مائرہ اس وقت بھی کچھ نہیں بولی تھی ۔۔۔ ہر شخص کی اپنی خواہش ہوتی ہے ۔۔۔ بڑی بھابھی ہونے کا مطلب یہ نہیں تھا کہ وہ نوفل سے اسکی پسند کی برائی کرتی پہلی بار جب رمشہ کو دیکھنے گئ تھی بڑی چاہت سے مائرہ نے اس کے گلے لگنا چاہا تھا ۔۔۔ لیکن وہ رسمی سا ہاتھ ملا کر پیچھے ہٹی تھی چہرے کے تاثرات سے ہی لگ رہا تھا بہت نخریلی ہے ۔۔ پھر جب نوفل نے مائرہ سے یہ کہا رمشہ سے بات کیا کرے اسکی سوچ بہت الگ ہے اسکی باتیں مختلف ہیں وہ سمجھ گئی تھی کہ وہ ایک الگ لائف گزارنا چاہتی ہے لیکن اس وقت مائرہ کو فکر نہیں تھی ۔۔۔۔ کونکہ پہلے زریاب تھا اس لئے اسے بھی پروا نہیں بھلے نوفل الگ ہو جاتا ۔۔۔۔ لیکن اب ۔۔۔۔اب حالات الگ تھے ۔۔۔۔ رمشہ محبت تھی نوفل کی ظاہر ہے شادی کے بعد وہ اسی کی مانے گا ۔۔۔۔ اگر کل کو کچھ نوک جھوک رمشہ کے ساتھ ہو بھی گئ تو وہ مائرہ کے بجائے رمشہ کی سنے گا ۔۔۔۔ کیا خبر نوفل نے خود سے کہہ دے کہ جاؤ بی بی اپنا انتظام خود کر لو ۔۔۔ تو یہ بھی مائرہ کے لئے بہت بڑی ہتھک تھی اس لئے زولیخہ نام کا کڑوا گھونٹ ہی پینا مناسب سمجھا ۔۔۔۔ لیکن اب بچوں کو یوں احساس کمتری کے ساتھ نہیں پال سکتی تھی جس اذیت سے آج گزری تھی زولیخہ دل سے اتر چکی تھی کمرے میں بند کرنے کا کیا جواز تھا لیکن مجبور تھی ۔۔۔ ۔۔۔۔ ماں بننے کے بعد خود پر جبر سہ لینا آسان لگتا ہے لیکن بچوں کو کوئی کچھ کہے تو برداشت نہیں ہوتا ۔۔۔۔ اس لئے سوچا کہ اب یہاں نہیں رہے گی ۔۔۔۔ اپنی ماں کے گھر میں ہی شاید سکون سے رہنا نصیب ہو ۔۔۔۔۔ وہاں اپنی حکمرانی تو ہو گی

زندگی کیا سے کیا ہو چکی تھی سوچا بھی نہیں تھا کہ یوں در در کی ٹھوکریں نصیب میں ہوں گئیں ۔۔۔۔ زریاب کی یاد بڑی شدت سے آنے لگی تھی

وہ تھا تو اپنے گھر کی وہ مہارانی تھی ۔۔۔۔ زریاب کی ہر بات یاد آنسوں ساتھ لاتی تھی نوفل کی منگنی پر

رمشہ سے رسم ادا کے واپسی پر گھر آ کر زریاب کے ساتھ مل کر نوفل کو خوب تنگ کیا تھا مائرہ نے ۔۔۔۔ نوفل بہت خوش تھا ۔۔۔۔۔ اپنے موبائل پر منگنی کی تصاویر دیکھ رہا تھا ۔ساتھ ہی ساتھ رمشہ کو میسج کر رہا تھا ۔۔۔ زریاب اور مائرہ سامنے صوفے پر بیٹھے اسےمسکراتے ہوئے موبائل پر مصروف دیکھ رہے تھے مائرہ نے زریاب کے کان کے قریب ہو کر کہا

” دیکھ رہے ہیں اسے یوں موبائل پر بزی جیسے اکیلا بیٹھا ہو ۔۔۔۔ ذرا احساس ہے اسے کہ۔ ہم بھی یہاں بیٹھے ہیں “

” نئ نئ منگنی ہوئی ہے ۔ میرے چھوٹو کی ۔۔۔۔۔کرنے دو اسے انجوائے ” زریاب کی آنکھوں میں اس کے لئے بے تحاشہ پیار تھا مائرہ نے چھوٹی آنکھیں کر کے میاں کو گھورا تھا لیکن اس میں بھی صرف پیار چھپ تھا

” ہمم یہ چھوٹو کہہ کہہ کر آپ نے اور بگارڈ دینا ہے اسے ” مائرہ ایک ابرو چڑھا کر بڑا پن جتانے کی کوشش کی تھی ۔۔۔۔ زریاب ہسنے لگا پھر نوفل کو دیکھتے ہوئے مائرہ سے بولا

” ایک مجھے ہی تو لاڈ دیکھاتا ہے ۔یار ۔۔ جب پیار سے گلے میں بانہیں ڈال کر منہ لٹکا کر کچھ مانگتا ہے تو جی بھر کے معصوم لگتا ہے۔۔۔۔ مجھے رمشہ اتنی پسند نہیں آئی تھی مائرہ ۔۔۔۔ بہت الگ ماحول کی ہے لیکن نوفل نے بڑے لاڈ سے کہا تھا کہ بھائی پہلی بار کوئی لڑکی اچھی لگی ہے ۔۔۔ ” زریاب اور مائرہ دھیرے باتیں کر رہے تھے ۔۔۔ نوفل کے کانوں میں بس ہلکی ہلکی سے سرگوشیوں کی آوازیں آ رہیں تھیں بات سمجھ نہیں آ رہی بس یہ پتہ تھا باتیں اسی کے متلق باتیں ہو رہیں ہیں اس نے موبائل ایک سائیڈ پر رکھا اور دونوں کو چانچتی نظروں سے دیکھنے لگا سب سے پہلی نظر مائرہ کی نوفل پر پڑی تھی ۔۔۔ اس نے اپنے کندھے کو زریاب کے کندھے ٹکرا کر آنکھوں کا اشارہ نوفل کی طرف کیا پھر چپ ہو گئ جان بوجھ کر اسے شک میں ڈالا تھا زریاب بھی سیدھا کر بیٹھ گیا بیوی کا ساتھ دیتے ہوئے ۔نوفل کا شک بڑھایا تھا

” یہ آپ لوگ کیا کھسر پھسر کر رہے تھے آپس میں ۔۔۔۔ مجھے سو فیصد یقین ہے بات ۔میری ہو رہی ہے۔۔۔ شرافت سے بتائیں مجھے کیا کن سوئیاں ہو رہی تھیں ۔۔۔۔میرے خلاف کیا کیا پلان بن رہے ہیں ” نوفل اب کشن گود میں رکھ بڑی تشویشی انداز سے پوچھنے لگا

“ہاں ۔۔۔ بات تمہاری ہی ہے نوفل ۔۔۔ میں زریاب سے کہہ رہی ۔۔۔ ماں باپ کی طرح ہم نے نوفل کی پرورش کی ہے ۔۔۔ ” مائرہ کا معصومانہ انداز اور بات سن کر وہ اچھنبے میں آیا تھا

” کیا ” وہ سیدھا ہوا تھا پھر جما کر بولا

” ماں باپ ۔۔۔۔ ” پھر نیلے دیسی فراک نما میسی پہنی بھابھی کو دیکھا ساتھ سفید کلف شدہ شلوار قمیض پر نیوی بلو کلر کی واسکوٹ پہنے دیکھا کو دونوں ہی ایک ساتھ نئے نویلے شادی شدہ لگ رہے تھے ۔۔۔۔ ایک پرفیکٹ کپل کی طرح لگ رہے تھے پہلے تو دل سے اسکی خوبصرت جوڑی کو سراہا ۔۔۔ پھر تعجب بھرے انداز سے گویا ہوا

“واہ مجھے تو خبر ہی نہیں تھی کہ اتنے جوان جہان والدین ہیں میرے ۔۔۔۔ ” زریاب کی ہنسی روکنا مشکل تھا ۔۔۔ البتہ مائرہ بڑی سنجیدہ بنے بیٹھنے کا ناٹک کر رہی تھی

” زریاب ۔۔۔بھئ رمشہ کے آتے ہی میں تو کام کو ہاتھ بھی نہیں۔ لگاؤں گی ۔۔۔ بہت سنبھال لیا میں نے گھر آتے ہی ساری ذمہ داری رمشہ پر ڈال دوں گی ۔۔۔ آخر مجھے بھی تو دیورانی کا کچھ سکھ ملے ۔۔۔ بس میں تو ٹانگ پے ٹانگ رکھ کر رمشہ پر حکم چلایا کرو۔ گی ۔۔ ” دونوں ابرو چڑھا کر گردن اکڑا کر مائرہ نے کہا تھا نوفل کی سن کر آنکھیں پھیلیں تھیں ۔۔۔ فوراسے زریاب کی طرف متوجہ ہوا

” بھائی سن رہے ہیں اپنی زوجہ محترمہ کے نادر خیالات ۔۔۔ ” نوفل نے فہماشی نظروں سے مائرہ کو دیکھا تھا لیکن آج تو بھائی نے بھی ہری جھنڈی دیکھائی تھی

” ٹھیک ہی تو کہہ رہی ہے ۔۔۔ کتنے سالوں سے تو

میری معصوم سی بیوی تمہارے نخرے برداشت کر رہی ہے ۔۔۔ بھابھی یہ کھانا ہے۔۔۔ وہ کھانا ہے ۔۔۔آج وصی نے آنا ہے چار پانچ ڈش ہونی چائیے ۔۔۔ دیکھوں تو اتنا سا منہ نکل آیا ہے میری بیوی کا۔۔۔۔ تمہاری فرمائشیں پوری کرتے کرتے بس اب حکم اسی کا چلے گا ۔۔۔۔ جو مائرہ کہے گی بس وہی ہو گا ۔۔۔ کیوں مائرہ جی۔۔۔ ٹھیک کہا نا میں نے ” بڑے با ادب انداز سے زریاب نے مائرہ سے پوچھا وہ بڑی معصوم شکل بنا آنکھیں پٹپٹاتے ہوئے اعتراف کرنے لگی

” بلکل زریاب جی بلکل ٹھیک کہا ۔۔۔۔ “

” دس از ناٹ فیر ۔۔۔ آتے تو بھابھی نے بھی کام نہیں کیا تھا ۔۔۔ یاد کریں تین دن تو ناشتہ میں بنا بنا کر دیتا رہا تھا اور سیدھی سی بات ہے رمشہ کو پکانا وکانا کچھ نہیں آتا ۔۔۔ سب کچھ انہیں سیکھانا پڑے گا ۔۔۔ اور برتن کے لئے میڈ رکھ لیں گئے وہ برتن نہیں دھوتی ہے ” نوفل نے نظریں چراتے ہوئے بتایا تھا ۔۔۔۔ دونوں ہی ہسنے لگے تھے ۔۔۔۔ نوفل انہیں حیرت سے دیکھنے لگا

” کیسا رنگ اڑا ہے اس کا یہ سوچ کر کہ ہم رمشہ پر رعب جمانے گئے ” مائرہ نے اسے مزید تنگ کرنے کا ارادہ ملتوی کیا تھا

” بھئ مزاق کر رہے تھے تم سے ۔۔۔ سب کچھ مل کر ہی ہو گا ۔۔۔۔ اور تمہاری بیگم کو بھی تین دن ناشتہ ہم بنا کر کھلا دیں گئے بس ہو جاؤں خوش ۔۔۔ ” زریاب نے جیسے نوفل کی مشکل آسان کی تھی

نوفل نے کش مائرہ طرف پھینکا تھا

” اب آپ مجھ سے بدلیں گی ” یہ کہہ کر اٹھ کر کھڑا ہو گیا تھا پتہ تھا کے مائرہ بھی بخشنے والوں میں سے نہیں ہے اس لئے اپنے کمرے کی طرف دوڑا تھا

” نوفل کی بچے رکو ذرا ” اس سے پہلے کے مائرہ اسے کشن مارتی ۔۔ وہ ہنس کر اسے چراتے ہوئے کمرے چلا گیا تھا ۔۔۔۔ زریاب دونوں کی لڑائی کو صرف ہنس کر انجوائے کرتا تھا

مائرہ کی آنکھیں چھلکیں تھیں

کتنی حسین زندگی تھی ۔۔۔۔۔ جو اب ایک حسین خواب لگ رہی تھی ۔۔۔۔

******…….

عرفان اب رات دیر تک ماں کے پاس بیٹھنے لگا تھا۔۔۔۔

شزا چپ تھی ۔۔۔ سسرال میں ایک دن بھی اس کا دل نہیں لگ سکا تھا ۔۔۔ روز ہی نند اور نندوئی کی آؤ بھگت کرنی پڑتی تھی ۔۔۔

ایک ماہ بعد فاروق اپنی بیوی ساتھ شزا کو لینے اسکے سسرال آیاتھا ۔۔۔ اسے چند دن کے لئے اپنے گھر لے جانے لیکن ساس تھی کے اجازت دینے کو تیار نہیں تھی

” لو بھلا شادی کو دن ہی کتنے ہوئے ہیں ۔۔۔ جو بنو رانی کو میکے کی یاد بھی ستانے لگی ۔۔۔۔ بھئ میری طرف سے کوئی اجازت نہیں ہے اور عرفان بھی نہیں مانے گا ۔۔۔۔ ” بڑے مزاج دیکھاتے ہوئے وہ بیں تھیں

” لیکن آنٹی ایک مہینہ ہو گیا ہے ۔۔۔ بس دو دن کے لئے ہی لے جانا چاہتا ہوں اور عرفان بھائی سے میری بات ہوئی ہے انہیں تو کوئی اعتراض نہیں کہنے لگے اماں سے پوچھ کے بے شک لے جاؤ ” فاروق عرفان سے بات کر کے آیا تھا ۔۔۔ لیکن یہ بات سن کر ساس صاحبہ کے تیور بگڑے تھے بیٹے کی کم عقلی پر غصہ آیا تھا

” جب اس نے خود ہی کہہ دیا تو میری بات کی کیا اوقات رہ گئ ۔۔۔ ٹھیک ہے بھئ ۔۔۔ ایک گھنٹے تک لے جا ۔۔۔ شزا چلو ّ پہلے دو دن کا کھانا بناؤں پھر جانا میکے ۔۔۔ مجھ سے اس بڑھاپے میں اب کچھ نہیں ہوتا ۔۔۔ ” فاروق انکی باتیں سن کر حیران تھا ۔۔۔۔۔

شزا جی کہہ کر کچن میں چلی گئ جلدی سے دو دن کا کھانا بنایا پھر تیار ہو کر بھائی کے ساتھ میکے چلی گئ ۔۔۔۔ ایک گلاس پانی بھائی کو پلانے کی بھی اجازت نہیں تھی اسے ۔۔۔ فاروق کے لئے یہ سب باعث تکلیف ہی تھا گھر پہنچ کر شزا ماں کے گلے لگتے ہی رونے لگی تھی

ماں بیٹی کے بجھے چہرے کو دیکھ کر پریشان ہوئیں تھیں ۔۔۔

پھر فاروق نے شزا کی ساس کی ساری بات ماں کو گوش گزار کی تھی

” شزا کیا یہ سلوک کرتے ہیں تمہارے ساتھ ملازمہ ہو کیا تم انکی ۔۔۔ دو جوان بیٹیاں ہیں کیا دو دن کھانا نہیں بنا سکتیں ” ماں کا سب کچھ سن کر دل دہلا تھا

” امی چھوڑیں بھی ان باتوں کو مجھے ان لوگوں کی کوئی بات نہیں کرنی ۔۔۔ بس جو ہے جیسا ہے میرا نصیب ہے ” صحن میں ہی ساری بات ہو رہی تھی ۔۔۔ سامنے ہی زیان کی والدہ بھی بیٹھیں تھیں شزا کی بات سن کر دل کٹ سا گیا تھا ۔۔۔ شزا اٹھ کر اندر چلی گئ پہلے سے بہت کمزور لگ رہی تھی ۔۔۔ چہرے سے بھی بے رونقی سے لگ رہا تھا کہ سسرال والوں کارویہ کیسا ہے ۔۔۔ زیان کی ضد نے جیٹھانی سے نظریں ملانے کے قابل نہیں چھوڑا تھا عزرہ بیگم نے بھی آنکھوں سے آنسوں پونچے ہوئے شکوہ کناں نظروں سے دیورانی کو دیکھا تھا اور اندر بیٹی کے پاس چلی گئیں ۔۔۔۔ وہ جیسے شرم سے پانی پانی ہوئیں تھیں

زیان تواسوقت ہواوں میں اڑتا پھرتا تھا ۔۔۔۔ فون پر گھنٹوں عفیرہ سے باتوں کاسلسلہ چل نکلا تھا عفیرہ کی فرمائشیں تھی کہ جس کی کوئی حد بندی نہیں تھی

” زیان ہمارے ہاں فرنیچر لڑکے والے خود ہی نیا خریدتے ہیں مجھے پالش والا فرنیچر بلکل پسند نہیں ہے ۔۔۔ دیکھوں فرنیچر تم میری پسند کا لو گئے ” ایک اور نئ فرمائش تھی

” لیکن میں نے ایسا کہیں نہیں سنا عفی ۔۔۔۔ خیر ٹھیک ہے لے لوں گا لیکن ۔۔۔ میرے وسائل تم جانتی ہو ۔۔ جب سے تم سے شادی کا فیصلہ کیا ہے ۔۔۔ امی نے تو سب کچھ مجھ ڈال دیا ہے اسکول سے آکر باقی سارا وقت میں ٹیوشن پڑھانے میں گزار دیتا ہوں ۔۔۔

اس لئے پچاس ہزار کے اندر اندر ہی فرنیچر پسند کرنا ” زیان کی کسی مجبوری کو وہ خاطر میں لانے تیار نہیں تھی سمجھوتا کس چڑیا کا نام ہے عفیرہ اس سے نا واقف تھی منہ سے اپنی ناخن کترتے ہوئے زیان کو نیا مشورہ دیا تھا

” تو ادھار لے لو نا زیان۔۔۔ بعد میں اتار دینا شادی توایک ہی بار ہوتی ہے ۔۔۔ کتنے ڈھیر سارے ارمان ہیں میرے ۔۔ ۔۔۔ میں کچھ نہیں جانتی ۔۔۔۔ ” وہ منہ پھلائے بولی تھی

” اچھا اچھا ٹھیک ہے کرتا ہوں کچھ ۔۔۔ ابھی چار ماہ باقی ہیں کر لوں کچھ انتظام اب موڈ ٹھیک کرو اپنا ۔۔۔ اور فون بھی بند کرو ۔۔۔ صبح جلدی اٹھنا ہے مجھے ” زیان ہی ہر اسکے آگے ہار مان جاتا ہے

” سوسوئٹ آف یو ۔۔۔ لو یو زیان ۔۔۔۔ ” عفیرہ کی دلکش باتیں زیان کو بھاتی تھیں فورا سے مسکراہٹ چہرے پر آئی تھی

” لو یو ٹو ” زیان کے اظہار پرایک اور نئ فرمائش کی گئ تھی

” اچھا کل بیلنس ڈلوا دینا میرے نمبر پر بھی امی کے نمبر پر بھی ۔۔۔۔ ” عفیرہ نے اگلی فرمائش بھی کر دی تھی جب سے منگنی ہوئی تھی بیٹی کے ساتھ ساتھ ماں بھی بیلنس داماد کے پیسوں سے ڈلواتی تھی

” اچھا جی اور کوئی حکم ” زیان نے تابعداری دیکھائی تھی

” نہیں بس اتنا ہی اس کے بائے ” یہ کہہ کر عفیرہ نے گہری سانس لیکر فون ایک طرف رکھا تھا۔۔ بیڈ پر اس کے برابر لیٹی عبیرہ اسے حسرت سے ہی دیکھتی تھی

” یہ فرنیچر کا نیا رواج تم نے ہمارے خاندان میں نکالا ہے اپیہ ۔۔۔۔ ” عبیرہ نے بہن کے جھوٹ کو پکڑتے ہوئے کہا

” تو ۔۔۔ تم کیا چاہتی ہو ۔۔۔ لالو کھیت کے سستی سی فرنیچر مارکیٹ سے دو پٹ کی الماری کے ساتھ جڑوا ہوا ایک پٹ کا شو کیس اور چھوٹاسا بیڈ لیکر سسرال جاؤں گی ۔۔۔ ہمارے ابا کی نا بس اتنی پہنچ ہے ۔۔۔۔ گزارے لائق گنتی کی چار چیزیں۔ دو اور رخصت کرو بیٹی کو کسی بوجھ کی طری عفیرہ اکمل ہوں میں ۔۔۔۔ پھر جسے زیان جیسا کاٹھ کا الو مل جائے اسے اور کیا چاہیے دیکھوں کیسے اشاروں پر نچواتی ہوں اسے “, بڑے متکبرانا انداز سے وہ بولی تھی عبیرہ نے حسرت بھری گہری ٹھنڈی سانس لی تھی

” ہائے اپیہ بڑی تیز ہو تم ” عبیرہ اسے بس حسرت سے دیکھتی تھی

” چلو اب سو جاؤں ۔۔۔ مجھے بھی نیند آ رہی ہے ” عفیرہ نے جمائی روکتے ہوئے کہا

اور آنکھوں پر ہاتھ رکھ کر سونے کی کوشش کرنے لگی

******……

آفرین کی چند دن سے طعبیت کچھ ٹھیک نہیں ۔۔۔ سر چکرا رہا تھا طعبت میں بھی بوجھل پن تھا ۔۔۔۔لیڈی ڈاکٹر پر وہ ڈرائیور کے ساتھ ہی گئ تھی لیکن جو خوشی کی خبری سن کر آرہی تھی لگتا تھا آسمانوں پر پرواز کر رہی ہو ۔۔۔۔ اللہ نے اولاد کی خوشخری سے بھی نواز دیا تھا ۔۔۔۔ مظہر کا بس نہیں۔ چل رہا کہ آفرین کے پاوں کے نیچے ہاتھوں کو بچھا دے ۔۔۔ کتنے عرصے بعد یہ خوشخبری سننے کو ملی تھی ۔۔۔ ساس بھی بیماری کے باوجود اٹھ کر بیٹھ گئ تھی ۔۔۔۔ آفرین کی ڈائٹ کا پورا پلان ڈاکٹر سے بنکر آتا تھا اور دن میں مظہر کی بار بار کال آتی تھیں ۔۔

” تم نے فریش جوس پیا کے نہیں ۔۔۔ کھانا پروپر کھا رہی ہو یا میں آ کر اپنے ہاتھوں سے کھلاؤ۔۔۔ ” ہر ایک گھنٹے بعد وہ آفرین کو کال کرتا تھا

” مظہر کیا ہو گیا آپ کو آفس جا کر بھی گھر پر ہی ذہن رے گا تو کیا کام کریں گئے آپ “

” جب بیوی تم جیسی لاپروا ہو تو میاں بیچارا کیا کرے ۔۔۔۔ تمہیں بس اپنا بہت سارا خیال رکھنا ہے آفرین ۔۔۔ “

” رکھ تو رہی ہوں اتنا سارا خیال اور کیا کرو ‘

” خوش بھی رہو ۔۔۔ ہسنتی مسکراتی رہا کرو میں ابھی یہی پڑھ رہا تھا کہ عورت کا ٹینشن فری رہنا کتنا ضروریوری ہوتا ہے اس مرحلے میں ۔۔۔۔اس لئے بس تم اچھی اچھی باتیں سوچا کرو “

” آپ آفس میں بیٹھ کر یہ سب معلومات اکھٹی کرتے رہتے ہیں ۔۔۔کمال کرتے مظہر ” آفرین کے لئے یہ بھی ایک خوشگوار حیرت تھی ۔۔۔ ہر مہنے وہ کیلنڈر پر ایک ایک دن کا حساب گنتا تھا ۔۔۔ جیسے وقت فورا سے پر لگا کر اڑ جائے اور ایک ننھا منا سا وجود اسکی گود میں آ جائے ۔۔۔

ماریہ کو جب یہ خبر ملی تو آفرین کے لئے نفرت خود با خود جانے لگی تھی ۔۔۔۔ اب سر درد کم ہونے لگا تھا ڈپریشن ختم ہونے لگا تھا ۔۔۔ کمرے سے باہر بھی نکل جاتی تھی ۔۔۔۔ آفرین کو مسکرا کر دیکھتی تھی ۔۔۔۔ لیکن اس سے دور رہ کر بات کرتی تھی ۔۔

“اپنا بہت خیال رکھا کرو آفرین خوش رہا کرو تم خوش رہو گی تو ۔۔۔۔ میرا آبان بھی خوش مزاج ہو گا ۔۔۔ ” ماریہ۔ کی بات پر وہ ہسنے لگی تھی

” آپ ان باتوں پر یقین رکھتی ہیں ؟

” ہاں لوگ کہتے ہیں ماں خوش ہو تو بچہ بھی خوش ہوتا ہے ۔۔۔ “

وہ مسکرا کر بولی ۔۔۔ ماریہ اس کے سامنے رکھے صوفے پر بیٹھی تھی بیچ میں بہت فاصلہ تھا ۔۔۔ آفرین اٹھ کر اس کے پاس آ کر بیٹھنے لگی لیکن وہ بدک کر پیچھے ہٹی تھی

” مجھ سے دور رہو ۔۔۔ پاگل ہو کیا ۔۔۔ بانجھ ہوں میں ۔۔۔۔ میراسایہ تم پر پڑھ گیا تو ۔۔۔ بے اولاد ہو جاؤں گی ۔۔۔۔ ” ماریہ بہت گھبرائی ہوئی پیچھے ہٹی تھی ۔۔۔۔

آفرین اسے حیران نظروں سے دیکھ رہی تھی

” دور رہو مجھ سے ۔۔۔ دور رہو ورنہ ۔۔۔ میرا آبان مر جائے گا ۔۔۔۔ دور رہو مجھ سے ” یہ کہہ کر وہ تیزی سے اوپر کازینہ چڑھ گئ آفرین اسے جاتے ہوئے دیکھتی رہ گئ تھی ۔۔۔

******…….*****

صبح دونوں بچیوں سمیت مائرہ بھی بخار میں تپ رہی تھی اسلئے بستر سے اٹھ ہی نہیں پائی تھی

زولیخہ نے اسے کمرے میں دیکھ عمار کو گھورا تھا اس نے پھر بتایا کہ وہ دروازہ بجا رہی تھی بچیاں پانی سے بھیگ گئیں تھیں منہ سے تو کچھ نہیں بولی بس ماتھے پر بل بڑھ گئے تھے ۔۔۔ مائرہ کے بخار کی وجہ سے زولیخہ پر سارا کام آن پڑا تھا پھر تھی چھٹی ۔۔۔

کچن میں ناشتہ بناتے ہوئے وہ مسلسل چک چک کیے جا رہی تھی ۔۔۔۔ عمار نے ناشتہ سے فارغ ہوتے ہی دس ہزار زولیخہ کے ہاتھ میں تھمائے تھے

” لواور جاؤں جا کر بچوں کے اور اپنے کپڑے لے آؤں ۔۔۔۔ اتوار بازار میں سیل لگی ہے ” زولیخہ کو عمار کی مہربانیوں حیرت ہوئی تھی

” اتنے پیسے ۔۔۔ وہ بھی میرے اور بچوں کے لئے۔۔۔ واہ میاں آج کیسے حوصلہ نکال لیا تم نے ۔۔۔ ” زولیخہ چہرے پر مسکراہٹ سجائے نوٹ گنتے ہوئے پوچھنے لگی

” بس کب سے پیسے بچا رہا تھا ۔۔۔ آخر جو کماتا ہوں تم لوگوں۔ کے لئے ہی تو کماتا ہوں ۔۔ایسا کرو بچوں کو بھی ساتھ لے جاؤں خوش ہو جائیں گئیں ” اپنی بڑی بیٹی کے سر پر پیار سے ہاتھ پھیرتے ہوئے بولا۔۔۔۔

” رہنے دو میاں کل چلی جاؤں گی ۔۔۔ آج تو وہ نواب کی بچی بخار کا بہانہ کیے بستر سے نہیں اٹھی “زولیخہ نے منہ ٹہرا کر کے کہا تھا عمار نے بھی منہ بنایا تھا

” دفع کرو اسے ۔۔۔ سب ڈرامے بازی ہے اس عورت کی ۔۔۔ جب گھر پر کوئی نہیں ہو گا تو خود اٹھ کر بناتی پھیرے گی جو کھانا ہے ۔۔۔۔ ہم نے ٹھیکا تھوڑی اٹھا رکھا ہے اس کا ۔۔۔۔ ” نیت تو عمار کی رات سے خراب تھی ۔۔۔ پوری رات مائرہ کے تصور میں کاٹی تھی رات کو اپنے جذبات کو اس لئے بھی سنبھال لیا کہ زولیخہ کے اٹھنے کاڈر تھا ۔۔۔ جب سے مائرہ گھر آئی تھی ۔۔۔۔ وہ رات کو مائرہ کے کمرے کا باہر سے تالا لگا دیتی تھی اور چابی اپنے تکیے کے نیچے رکھ کر سوتی تھی ۔۔۔ میاں کی دل پھنک عادت کا پتہ تھا ۔۔۔ بس لالچ نے مائرہ کے خوشحال گھر کو دیکھ کر انگڑائی لی تھی ۔۔۔۔ مائرہ سے ذرا سی ہمدردی جتا کر اس کاسب کچھ ہتھیانا چاہتی تھی ۔۔۔۔۔ لیکن میاں کو بھی حد میں رکھنا جانتی تھی ۔۔۔۔

رات کو عمار کی ہی آنکھ دروازے کے شور سے کھلی تھی ۔۔۔ باہر آیا تو مائرہ چلا کر دروازہ کھولنے کا کہہ رہی تھی۔۔۔۔ پہلے تو سامنے لگے کیل پر لٹکے چابیوں کو دیکھا لیکن تالے کی چابی نہیں ملی پھر یاد آیا کہ زولیخہ اکثر لوکر کی چابی بھی تکیے کے نیچے ہی رکھتی تھی ۔۔۔ اس لئے واپس اپنے کمرے میں گیا

زولیخہ کے خراٹوں سے اسے اندازہ تھا بڑی گہری نیند سوئی ہوئی ہے ۔۔ چیکے سے اسکے تکیے کے نیچے سے چابی اٹھائی اور صحن میں آ گیا ۔۔۔

جیسے ہی تالا کھولا کر کنڈی کھولی سامنے مائرہ کو دیکھ کر نظروں کمینگی سی اتر آئی آئی تھی ۔۔۔۔ بڑے غور سے اسے سر سے پیروں تک بے باک نظروں سے اسے دیکھا تھا وہ بارش کی وجہ سے اور بچوں کے رونے کی وجہ سے بوکھلائی ہوئی تھی ۔۔۔ اس لیے نا اپنی ہوش تھی نا چادر اوڑھنے کی لیکن پھر بھی فوراسے منزہ کو گود میں بھر کر باقی کی چادر سے خود کو لپیٹا تھا ۔۔۔ شرافت کا تقاضا تو یہ تھا کہ اگر ایک بے بس مجبور عورت اس قسم کی صورت الحال سے دوچار ہو تو مرد ہی اپنی نظروں کو جھکا لے مگر شیطان کہاں اسکی اجازت دیتا ہے سب سے مشکل اپنے نفس کو مرنا ہوتا ہے جو یہ کر گزرے اس کے لئے ہر مشکل آسان ہو جاتی ہے ۔۔۔ لیکن شیطان کی اصل لڑائی ہی یہی ہے وہ کہاں نفسانی خواہشات کو مات دینے دیتا ہے ۔۔۔ اس طرح کے منظر کو مزین اور خوشنما کر کے ایک حیسن خواب بنا کر وار کرتا ہے ۔۔۔۔ اور کمزور ایمان والے اکثر اس کی زد میں آ جاتے ہیں ۔۔۔۔ جیسا کے عمار تھا ۔۔۔۔

نظر کی بے ایمانیاں تو خوب کرتا آیاتھا لیکن اس سے بڑھ کر کبھی کچھ کیا نہیں تھا لیکن رات بھر تو شیطان نے یوں جکڑ لیا تھا کہ اب زولیخہ کو بھہجنا چاہتا تھا تا کے سپنے ناپاک ارادوں میں کامیاب ہو سکے ۔۔۔۔ مائرہ اس وقت ان لوگوں کے رحم کرم پر تھی ۔۔۔ بے بس ۔ تھی اس لئے چپ ہی رہے گی زبان نہیں کھولے گی یہ عمار کی گھیا سوچ تھی ۔۔۔۔ زولیخہ فورا سے تیار ہوئی تھی ۔۔۔ بچیوں کو بھی تیار کیا ۔۔۔ پھر عمار کو صحن میں آرام سے بیٹھا دیکھ کر وہیں کھڑی ہو گئ

” تم گھر پر کیا کر رہے ہو چلو جی تم بھی ساتھ چلو بازار ۔۔۔” زولیخہ نے تیکھی نظر میاں پر ڈال کر کہا وہ ہڑبڑا سا گیا تھا

” میں نے گھر پر کیا کرنا ہے میں تو کام سے جا رہا ہوں رات کو لوٹو گا ۔۔۔ ” یہ کہہ کر کھڑا ہو گیا ۔۔۔ گھر سے باہر تو وہ ساتھ ہی نکلا تھا لیکن ایک چابی باہر مین گیٹ پر لگے تالے کی اپنی جیب میں ڈالی تھی دوسری زولیخہ کے پاس تھی ۔۔۔۔زولیخہ کو بس میں چڑھا کر وہ کچھ دیر میں روڈ پر ہی کھڑا رہا جب بس بہت دور جا چکی تو پھر واپس گھر آیا تھا ۔۔۔

گھر میں داخل ہو کر مین گیٹ کی کنڈی لگائی ۔۔۔ مائرہ اور بچیاں بے سود پڑیں تھیں ۔۔۔

آنکھوں پر بازو رکھے مائرہ بخار سے ہائے ہائے کر رہی تھی ۔۔۔ لیکن عمار کو توایک ہی غرض تھی ۔۔۔۔ وہ تھی اپنی ہوس ۔۔۔۔ سب سے پہلے چھوٹی منزہ کو اٹھا کر اپنے کمرے میں جا کر لیٹایا ۔۔۔ تا کہ وہ وہاں سوتی رہے ۔۔۔ لیکن شو مئ قسمت کے منزہ کی آنکھ کھل گئی تھی ماں کو اپنے پاس نا دیکھ کر وہ رونے لگی تھی جب تک عمار عائزہ کو اپنے کمرے میں لیٹانے آیا منزہ گلاپھاڑے رونے لگی تھی اس لئے عائزہ بھی بیڈ پر لیٹتے ہی اٹھ گئ ۔۔۔۔

رونے کی آواز سے مائرہ کی بھی آنکھ کھل گئی تھی ۔۔۔۔

لیکن عمار کی بے حسی کا یہ عالم تھا کے روتی بچیوں کو چھوڑ کر وہ تیزی سے مائرہ کے کمرے کی طرف بڑھا تھا

جب تک مائرہ اٹھ کر بیٹھی تھی عمار میں داخل کو چکا تھا ۔۔۔۔ جلدی سے دروازہ بند کرنے لگا

مائرہ بخار کے باوجود اٹھ کر کھڑی ہوئی تھی

” عمار بھائی آپ یہاں کیا کر رہے ہیں ۔۔۔ بچیاں کہاں ہیں ۔۔۔ بھابھی کہاں ہیں ‘”

وہ پلٹ کر خباثت بھری ہنسی ہسنے لگا ۔۔۔۔

” بھائی نہیں ہوں میں تمہارا ۔۔۔۔ رات سے پاگل کر کے رکھا ہے تم نے مجھے ۔۔۔۔ ” اسکی نظروں اور باتوں سے مائرہ کے ہوش اڑے تھے ۔۔۔

” یہ کیا کہہ رہے ہیں ۔۔ ہوش میں تو ہیں آپ ۔۔ بھابھی کہاں ہے ۔۔۔ بھابھی ” مائرہ زور سے چلانے لگی ۔۔۔ لیکن وہ تیزی سے آگے بڑھا تھا ۔۔۔ اس سے پہلے اسے زبردستی اپنے حصار میں لیتا وہ پیچھے ہٹ گئ لیکن چادر عمار کے ہاتھ آ چکی تھی جیسے اس نے بے دردی سے پیچھے پھنکا تھا

” شور مت مچاؤ کوئی نہیں ہے گھر میں شرافت سے میری بات مان لو ورنہ کسی کو منہ دیکھانے کے قابل نہیں چھوڑو ۔۔۔ بد نام کر دو گا تمہیں ” عمار سے خوفزدہ کرنے لگا ۔۔۔ مائرہ رونے لگی

” شرم آنی چاہیے آپ کو بھائی کہتی ہوں میں آپ کو “لیکن مخالف پر ہر بات بے اثر تھی آنکھوں میں خباثت کا بسیرا تھا مائرہ کے برابر میں ہی سائیڈ ٹیبل تھا

۔۔۔ اور سائیڈ ٹیبل پر رکھے گلدان پر نظر پڑی تھی ۔۔۔ اس لئے وہی اٹھا لیا اور اٹھا کر نشانہ عمار کے سر کا بنایا تھا

” خبردار جو آگے بڑھے تو سر پھاڑ دونگی تمہارا ۔۔۔ کمزور مت سمجھنا مجھے ۔۔۔۔بھائی کے نام جتنی گندی گالی تم نے دی ہے ۔۔۔ تمہارا ادب کرنا بھی مجھے توہین لگ رہا ہے ۔۔۔۔”

عمار ایک قدم پیچھے ہٹ گیا تھا مائرہ کی آنکھوں میں خون اترا ہوا تھا ۔۔۔ اس وقت کچھ بھی کر گزرتی ۔۔۔ باہر دونوں بچیاں روتے ہوئے دروازہ بجا رہیں تھیں تو رہیں تھی۔

” دیکھوں مائرہ ۔۔۔ تم یہ ٹھیک نہیں کر رہی ہو۔۔۔۔بہت پچھتاوں گی میرے علاؤہ کوئی سہارا نہیں دے گا تمہیں ۔۔۔۔ اگر مجھے کچھ ہو گیا تو تم پھانسی چڑھ جاؤں گی “

” نکلو کمرے سے باہر ۔۔۔۔ ” مائرہ اسکی طرف بڑھی تھی ۔۔۔۔ عمار پیچھے ہٹ گیا کمرے کادروازہ کھولا دونوں بچیاں اندر آنے کے لئے لپکیں تھیں کے عمار کا شطانی دماغ چلا تھا ۔۔۔۔

بچیوں کے ہاتھ پکڑ لئے

” گلدان پھنکو اپنے ہاتھ سے مائرہ ۔۔۔ ورنہ جو کچھ تمہاری بچیوں کے ساتھ میں دوسرے کمرے میں لے کا کر کروں گا ۔۔۔۔ تمہاری روح تک کانپ جائے گی ۔۔۔ اب یا تو تم میری خواہش پوری کرو گی یا تمہاری بچیاں کریں گئیں ۔۔۔ فیصلہ پر چھوڑتا ہوں ۔۔۔۔ ” یہ سن مائرہ کے ہوش اڑے تھے ۔۔۔۔