Log Kia Kahe Gy by Umme Hani NovelR50418

Log Kia Kahe Gy by Umme Hani NovelR50418 Log Kia Kahe Gy Episode 7

491.6K
51

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Log Kia Kahe Gy Episode 7

Log Kia Kahenge by Umme Hani

مائرہ کا رو رو کے برا حال تھا ۔۔۔ زریاب ہی اسے سنبھالے ہوئے تھا ۔۔۔ نا عائزہ کی ہوش تھی نا خود کی فکر عائزہ کو پوراوقت نوفل نے ہی سنبھالا تھا ۔۔۔۔۔ آفرین نے بھی دو دن مائرہ کو سنبھالتے ہوئے وہیں اس کے پاس گزارے تھے ۔۔۔۔ جس صدمے سے مائرہ گزر رہی تھی آفرین اسے اپنا غم کیا بتاتی ۔۔۔ دو دن بعد زریاب مائرہ کو واپس گھر کے گیا تھا ۔۔۔ وہ بہت چپ چپ رہنے لگی تھی وہ ہر چیز سے جیسے دلچسپی ختم ہوئی تھی ۔۔۔۔۔ لیکن وقت ہر زخم کا مدوا خود ہی بن جاتا ہے ۔۔۔۔ عائزہ کو بلا آخر اسے ہی سنبھالنا تھا ۔۔۔۔ گھر کو بھی دیکھنا تھا جتنا نوفل اور زریاب کر سکتے تھے کر رہے تھے ۔۔۔۔ چند ماہ لگے تھے اسے سنبھلنے میں ۔۔۔۔

******…….

آفرین کو بدر کے رشتے کا انتظار ہی رہا دوسری طرف بدر نے ہر کوشش کر کے دیکھ لی لیکن اس کی والدہ کی ناں ہاں میں نہیں بدلی تھی ۔۔۔۔

” امی اگر آفرین کا رشتہ کہیں اور ہو گیا تو میں کسی سے بھی شادی نہیں کروں گا ۔۔۔ چلیں آپ میرے ساتھ اور اس کارشتہ مانگیں ” بدر نے منت سماجت تو بہت کر کے دیکھ لی تھی بس یہی ایک راستہ بچا تھا کہ دھمکی سے کام چلائے ۔۔۔۔ آفرین کی فکر ستائے جارہی تھی ۔۔۔ جیسے اس نے رو کر منت کی تھی یقینا بہت مجبور ہو کر کی تھی ۔۔۔۔ ورنہ وہ بہت خودار قسم کی لڑکی تھی ۔۔۔۔۔

بدر کی والدہ نے جب بیٹے کے یہ تیور دیکھے تو رشتہ مانگنے کے لئے تیار ہو گئیں ۔۔۔ بدر انکے ساتھ ہی گیا تھا ۔۔۔ آفرین کو جب پتہ چلا کہ بدر اپنی والدہ کے ساتھ آیا ہے وہ خوش ہو گئ تھی ۔۔۔۔ لیاقت کے دونوں بھائی اور تینوں بھابھیاں موجود تھیں ۔۔۔

لیاقت صاحب البتہ وہاں نہیں تھے ۔۔۔ بدر کی والدہ منہ پھلائے بیٹھی تھیں جیسے ہی آفرین کو اندر آتے دیکھا تو قہر برساتی نظروں سے دیکھنے لگیں اس نے جوس انکے سامنے رکھا تھا ۔۔

” جی آپ نے بتایا نہیں کون سے خاص کام کے لئے آئیں ہیں آپ ” ،شرافت نے بڑی شرافت سے بدر کی والدہ سے پوچھا تھا

” پہلے یہ بتاؤں ۔۔۔ تمہاری آوارہ بہن کو میرا ہی بیٹا ملا تھا پھسانے کے لئے ” ماں کے منہ یہ سن کر بدر کارنگ اڑا تھا آفرین اپنی جگہ چکرا کر رہ گئ تھی

” ارے میرے معصوم بیٹے کو نا فرمان اور بد تمیز بنا کے رکھ دیا اس لڑکی نے ۔۔۔ کیا یہ شریف لڑکیوں کے چال چلن ہوتے ہیں ۔۔۔ “

” امی خدا کے لئے چپ ہو جائیں ۔۔۔۔۔ کیوں اس قسم کی باتیں کر رہیں ہیں ” بدر بوکھلا سا گیا تھا اندازہ نہیں تھا ماں اس قسم کی حرکت بھی کر سکتی ہیں ۔۔۔۔

” تم تو چپ رہو بدر ۔۔۔ نا شکل ہے اس لڑکی پاس نا کوئی گن چلی آئی میرے گھر کی بہو بننے ۔۔۔۔ اس جیسی کم شکل لڑکیوں کو ویسے تو کوئی پوچھتا نہیں ہے اس لئے ایسے ہتھکنڈوں پر اتر آتی ہیں لڑکوں کو اپنے جال میں پھنساتی ہیں تا کہ وہ اپنی ماں کو دھمکیاں دے کر رشتہ مانگنے۔ پر مجبور کرے ” وہ کھڑی ہو گئیں

” دیکھیں زبان سنبھال کر بات کریں۔ ۔۔۔ آپ کس قسم کے بے بنیاد الزام میری بہن لگا رہیں ہیں” نزاکت نے غصے سے کہا تھا

” ارے انہیں کیا کہہ رہے ہو اپنی بہن سے پوچھو ۔۔۔

جس نے نا جانے کتنے یار پال رکھے ہیں۔۔۔ ورنہ کسی کی کیا مجال کے کوئی ہمارے گھر آ کر اس طرح کی غیر مہذب گفتگوں کرے ” اتنی بڑی اہانت تو آفرین نے سوچی بھی نہیں تھی ۔۔۔ عامرہ نے جو لفظ بولے تھے آفرین کا جی چاہا زمین پھٹے اور وہ اندر سما جائے۔۔۔ آج تک اپنی اور اپنے بھائیوں کی عزت رکھتی آئی تھی اور یہ لفظ مل رہے تھے سننے کے لئے

وہاں سے باہر نکل گئ بدر کی ماں کے کلیجے کو ٹھنڈ پڑی تھی ۔۔۔۔

بھابھیاں آفرین کے کتنے۔ خلاف تھیں ؟ یہ بدر کی والدہ جانتی تھیں ۔۔ بدر بھی کمرے سے نکل کر گھر سے ہی باہر نکل گیا وہ تو آفرین کے دکھ کم کرنے آیا تھا لیکن انجانے میں وہ اذیت دے بیٹھا تھا کہ شاید اس کا کوئی مداوا تھا ہی نہیں ۔۔۔۔ آفرین کو لگا آج شاید وہ مر ہی چکی ہے ۔۔۔ یا اذیت کے اس مقام پر ہے جہاں آنکھیں پتھرا جاتی ہیں نا ہی آنسوں آنکھ سے نکلتے ہیں ۔۔۔ نا سینے میں اٹھتا درد کا احساس ہوتا ہے ۔۔۔۔

اس لئے گم صم سی ہو گئ تھی ۔۔۔۔۔ نا بدر یاد رہا تھا نااسکی ماں کی باتیں

اگلے روز ہی شرافت نے اپنے دوست کو بلا لیا تھا۔۔۔۔ آفرین کسی بے جان مجسمے کی طرح سامنے بیٹھ گئ تھی ایک نظر اٹھا کر نہیں دیکھا کے نصیب میں آنے والا شخص کون ہے

” مجھے آپ کی بہن پسند ہے ۔۔۔ بس شادی جلدی کرنا چاہتا ہوں ” سامنے بیٹھے شخص نے بھی مہلت نہیں دی تھی ۔۔۔ کہ وہ کچھ سوچ سکے آفرین نے بھی خود کو حالات کے حوالے کر دیا تھا اس وقت تو اس کے لئے کوئی غریب معزور بھی شادی کے لئے ہامی بھرتا گو وہ ہاں کر دیتی کسی بھی قیمت پر اب بھائیوں کے ساتھ رہنا نہیں چاہتی تھی ۔۔۔ رات بھر بستر پر لیٹی دل برداشتہ ہو کر یہ سوچتی رہی کہ

دعائیں بھی شاید انہیں لڑکیوں کی قبول ہوتیں ہیں جن کے ماں باپ ہوتے ہیں ورنہ یتیموں کا توشاید خدا بھی نہیں ہوتا ۔۔۔۔ بس دو وقت کی روٹی کی تو بھوک ہے جو یہاں بھی مٹ جاتی ہے وہاں۔ بھی مٹ ہی جائے گی کیا پھر فرق پڑتا ہے برتن کانچ کے ہوں یا مٹی کے کھاناتو وہی ملے جو نصیب میں لکھ دیا گیا ہے ہم جیسی لڑکیوں کے جینے کے لئے شاید اتنا ہی کافی سمجھا جاتا ہے کہ ۔۔۔۔ باقی ہم ہر احساس سے عاری ہی تو ہو سمجھی جاتی ہیں کیا فرق پڑتا ہے کہ جس سے میرے نصیب کا فیصلہ ہونے جارہا ہے اس کی عمر کتنی ہے ؟ پچاس سال یا یااس سے بھی زیادہ ۔۔۔۔ دیکھنے میں کیسا ہے ؟ ۔۔۔ کیسا سلوک کرے گا ؟۔۔۔۔ اسکی ماں مجھے بہو سمجھے گی یا نوکرانی ؟ ۔۔۔ پہلی بیوی کن نظروں سے دیکھے گی کیا کیاطنز کے نشتر چلائے گی ؟۔۔۔۔

“کیا فرق پڑتا ہے آفرین ۔۔۔ یہاں بھی روٹی کے عوض گالی اور طعنے ہی ملتے ہیں وہاں بھی مل جائیں گئے تو کون سی نئ بات ہو جائے گی

تم پر پہننے کیلئے دو جوڑے کپڑوں کے بدلے یہاں بھی گھر کے سارے کام ہی مجھ سے کروائے جاتے ہیں وہاں۔ بھی ایسی ہی زندگی ہو گی ۔۔۔۔ میرا پنج وقتہ نمازی ہونا۔۔۔۔ تہجد گزار ہونا بھی کہاں میرا نصیب بدل سکا ہے ۔۔۔۔

کسی کے سب پاس کچھ ہوتا ہے ماں باپ کی محبت بہن بھائیوں کی چاہت ۔۔۔ محبت کرنے والا شوہر ۔۔۔۔اپنا گھر ۔۔۔ اپنے بچے سب مل جاتا ہے ۔۔۔ حالانکہ کہ وہ نماز بھی نہیں پڑھتیں ۔۔۔۔ لیکن پھر بھی خوشحال زندگی بسر کرتی ہیں ۔۔۔۔ شاید دعائیں نصیب نہیں بدلتی ۔۔۔ یا نصیب انہیں کا بدلتا جن کے ماں باپ کی دعائیں انکے ساتھ ہوتی ہیں ہم جیسیاں ایک ہی نصیب لاتی ہیں ۔۔۔۔ گھر بھائی کا ہو یا شوہر کا زندگی ایک جیسی ہی ہے ۔۔۔ ” آنکھیں بند کرنے پر بھی ایک بوند اسکے آنسوں کی نہیں گری تھی جیسے سارے آنسوں نے دل کا رستہ دیکھ لیا تھا ۔۔۔۔ سسکیاں ہونٹوں سے بھی ادا نہیں ہوئیں تھیں ۔۔ لیکن لگتا تھا وہ پھوٹ پھوٹ کے اندر ہی کہیں رو رہی ہے۔۔۔۔ جب ماں کود ہی چھن جائے تو کس کی گود میں سر رکھ کر غموں کو رویا جائے ۔۔۔۔ نا جانے رات کے پہر نیند اس پر ۔ہربان ہوئی تھی

۔۔۔ آنا فانا رشتہ طے ہوا تھا کہ پندرہ دن میں وہ سادگی سے رخصت ہو کر مظہر کے ساتھ اسکے گھر جا چکی تھی ۔۔۔۔۔

کوئی امنگ نہیں تھی دل میں ۔۔۔۔ ہر جذبے سے دل خالی تھا چادر کے گھوگھٹ سے چہرہ چھپا ہوا تھا ۔۔۔ اچھا ہی تھا کہ چھپا ہوا ہے ۔۔۔ میں کون سی اتنی حسین ہوں کہ کوئی دیکھنے کو بے تاب ہو ابھی تو بیٹھ کر یہ شخص بھی میدے خدوخال میں عیب بینی کرے گا۔۔۔ میرے مناسب سے نقوش اسے بھی بدھے لگیں گئے ۔۔۔۔ میری گندمی رنگت اسے کالی لگے گی ۔۔۔ آج کی رات بھی میرے لئے اذیت ہی تو کا رہی ہے ۔۔۔

نا میری آنکھیں غلافی ہیں کہ کوئی ان میں کھو جائے نا رنگت سفید کے کوئی دیکھتا رہ جائے ۔۔۔ بس ایک دل ہی احساس مند ہے ۔۔۔ جو کسی کو نظر نہیں آتا ۔۔۔ ایک کردار ہی ہے۔ جس کی حفاظت کرتی آئی ہوں لیکن اب اس پر چھنٹیں پڑ گئے ۔۔۔۔ آفرین کا

دل مر چکا تھا صرف وجود تھا ۔۔۔۔ آج تو ماں بھی یاد نہیں آئی تھی ۔۔۔

نا باپ کا خیال ستایا تھا۔۔۔۔ یہ سب تو زندہ لوگوں کے ساتھ ہوتا ہے ۔۔۔ جب انسان کی موت اندر ہو جائے تو احساس سب سے پہلے مر جاتا ہے ۔۔۔۔ پھر خود پر ہونے والا ہر ظلم بے معنی لگتا ہے آفرین۔ بھی اسی کیفیت سے گزر رہی تھی مظہر دیکھنے میں کیسا تھا اس نے ایک نظر اٹھا کر دیکھنے کی کوشش نہیں کی تھی ۔۔۔ ایک بڑی سی گاڑی میں وہ رخصت ہو کر گئ تھی ۔۔۔ نظریں جھکائے بیٹھی رہی تھی ڈرئیؤنگ مظہر ہی کر رہا تھا پیچھے اسکی ماں بیٹھی تھی ۔۔۔۔ جو وقفے وقفے سے بار بار کھانس رہی تھی ۔۔۔ گاڑی مختلف راستوں سے ہوتی ہوئی ایک بنگلے کے سامنے رکی تھی ۔۔۔ ہارن کی آواز پر چوکیدار نے دروازہ کھولا تھا ۔۔۔ بہت اعلی شان بنگلہ تھا ۔۔۔۔ جس کے پورچ میں گاڑی کھڑی ہوئی تھی ۔۔۔۔۔ آفرین کو لگا تھا کہ اسکے محلے جیسا ہی محلہ ہو گا اس کے گھر جیسا گھر لیکن جہاں وہ جہاں وہ آئی تھی وہ جگہ ہی اور تھی محل ہی کہا جا سکتا تھا اس جگہ کو ۔۔۔۔ ایک ملازم نے آگے بڑھ کر دروازہ کھولا تھا ۔۔۔ وہ نیچے اتری پیچھے کے دروازے سے وہ ضیعف خاتون اتری اسے بڑے پیار سے اپنے ساتھ لگایا اور چادر اس پر سے اتار دی اور اسے اندر لے گئ ۔۔۔۔ لاونج جتنا وسیع تھا اور اتنا نفاست سے سجا ہوا تھا کہ دیکھنے والی آنکھ دنگ رہ جائے ۔۔۔۔ پہلی بار اس کا ہاتھ کسی مرد کے ہاتھ گیا تھا ۔۔۔

” امی آپ آرام کریں۔۔۔ آفرین کو میں کمرے میں لے جاتا ہوں” لہجہ دھیمہ تھا آواز میں نرمی تھی ۔۔۔۔ ہاتھوں کی گرفت اسی جیسے کسی نے گلاب کے پھولوں کو نرمی سے پکڑا ہو ۔۔۔ اوپر کی سیڑیاں چڑھتے ہوئے اسے لگا وہ کوئی کانچ کی گڑیا ہو ۔۔۔ وہ شخص بات ہی ایسے کر رہا تھا

” سنبھل کر پاؤں رکھیں آفرین اپنا کم قیمت والا لہنگا وہ خود بھی سنبھال سکتی تھی لیکن سنبھال وہ رہا تھا ایک ہاتھ سے اس کا ہاتھ تھام رکھا تھا دوسرے ہاتھ سے اس کا لہنگا اٹھا کر اوپر چڑھنے میں اسکی مدد کر رہا تھا ۔۔۔۔ ” ہر تیسرے قدم پر اسے مظہر کا یہ جمعلہ سننے کو مل رہا تھا جیسے آفرین کا بہت خیال ہو ۔۔۔۔ اوپر کا زینہ ختم ہوتے ہی لاونج شروع ہو جاتا تھا وہ بھی کسی شیش محل سے کم خوبصورت نہیں تھا ۔۔۔۔۔ ایک کمرے کے سامنے وہ مظہر کی ہمراہی میں کھڑی ہوئی تھی ۔۔۔۔ کمرے کادروازہ کھلا ۔۔۔۔ کمرہ بھی خاصا کشادہ اور سجاوٹ میں اپنی مثال آپ تھا ۔۔۔ شاید وہ خواب دیکھ رہی تھی ۔۔۔ اتنا حسین تو خواب ہی ہو سکتا تھا ۔۔۔ آفرین کو لگا ابھی

ببلی اسے جھنجھوڑ کر اٹھائے گی کہ اٹھو پھپو ناشتہ بنا کر دو ہمہیں اسکول جانا ہے ۔۔۔ ” لیکن نہیں سب ابھی خواب ٹوٹا نہیں تھا شاید رات ابھی باقی تھی ۔۔۔۔ پھر لگا کہ شاید ابھی عامرہ آئے گی اور بری طرح سے اسے ہلا کر اٹھائے گی اور چھن سے خواب ٹوٹ جائے گا ۔۔۔ جہازی بیڈ پر اسے بیٹھا کر مظہر کمرے سے باہر نکل گیا تھا ۔۔۔۔

ایک نظر اس نے پورے کمرے پر ڈالی نئے طرز کا فرنیچر دیکھ کر کمرے کے مالک کے اعلی ذوق کا اندازہ ہو رہا تھا ۔۔۔۔ کمرے کی ہر چیز نفاست سے سجی ہوئی تھی ۔۔۔۔ ایک گھنٹے کے بعد ہی کمرہ کھلا تھا ۔۔۔۔ آفرین دوبارہ سے گردن جھکا گئ تھی ابھی تک اس نے مظہر کو نہیں دیکھا تھا ۔۔۔ وہ چلتا ہوا اس کے سامنے آ کر بیٹھ گیا ۔۔۔۔۔ پہلی نظر آفرین کے اسکے ہاتھوں پر پڑی صاف رنگت کا مالک تھا ۔۔۔۔

” آفرین ” اس نے نام سے پکارا تھا لزرتی پلکوں کے ساتھ آفرین نے اوپر اسکے چہرے کی طرف دیکھا تھا ۔۔۔۔ اچھا خاصا خوبصورت شخص تھا عمر میں شرافت جتنا پی تھا لیکن خود کو فٹ رکھا ہوا تھا ۔۔۔۔ ویل ڈریس ویل مینر اور شکل صورت میں بھی کئ لوگوں کو مات دینے والا ۔۔۔۔۔ ایک پل آفرین کو یہ لگا کہ جو اس کے ساتھ ہوا ہے ۔۔وہ ہے کیا ۔۔۔۔ یہ شخص ایسا ہے کہ کسی بھی حسین لڑکی کا نصیب بن سکتا تھا ۔۔۔۔ کوئی حسین وجمیل لڑکی خوش ہو کر اسکی دوسری بیوی بننے کو تیار ہو جاتی ۔۔۔۔ پھر آفرین ہی کیوں بنی ؟ ۔۔۔۔ جس کے خدو خال پر ہمیشہ عیب نکالے گئے

جس کی گندمی رنگت سب کو کالی ہی نظر آتی رہی ۔۔۔۔ جس کاعام سا چہرہ ہمیشہ لوگوں کی نا گوار نظروں سے اور بھی معمولی سا بنا دیتا تھا ۔۔۔ جس کی اپنی کوئی بھی شخصیت نہیں تھی ۔۔۔۔ یااسکی شخصیت کو کبھی کسی نے تسلیم ہی نہیں کیا تھا ۔۔۔۔ مظہر اسے یوں دیکھ رہا تھا جیسے وہ کوئی ملاکوتی حسن کی مالک ہو

” سمجھ نہیں آ رہا اپنی خوش نصیبی پر کیسے خدا کا شکر ادا کرو” مظہر کے لفظوں نے آفرین کو بے یقین سا کیا تھا ۔۔۔ کیا وہ بد چلن ۔۔۔بد کردار نصیبوں جلی۔۔۔۔ پھوٹی قسمت والی۔۔۔ کسی کے لئے خوش نصیبی بھی ہو سکتی ہے ۔۔۔۔

” میں جانتا ہوں آپ کیا سوچ رہی ہیں ۔۔۔ دیکھیں میری پہلی بیوی یہاں اس گھر میں ہی رہتی ۔۔۔ لیکن آپ کو کبھی اس کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا ۔۔۔

بہت بیمار ہے وہ ۔۔۔ نا جانے کتنے دن کی مہمان ہے ۔۔۔

اسی نے مجھ سے بہت اصرار کیا تھا کہ مظہر مجھے چھوڑ دیں طلاق دیدیں ۔۔۔۔ کوئی بھی لڑکی آپ کو میری وجہ سے نہیں اپنائے گی ۔۔۔۔ ۔۔۔۔ لیکن میرا دل نہیں مانا کہ بیمار بیوی کو چھوڑ دوں اس وقت ہی تو اسے میری ضرورت ہے میں نے سکی یہ بات نہیں مانی ۔۔۔ لیکن اس سے یہ وعدہ کر لیا کہ اگر کوئی لڑکی میرے ساتھ اسے بھی قبول کر لے تو اس سے شادی کر لوں گا ۔۔۔۔ ابھی بھی اسی کے پاس گیا تھا اسے اپنے ہاتھوں سے کھانا کھلایا دوا دی پھر اسے سلا کر آپ کے پاس آیا ہوں ۔۔۔۔ ” بڑا عام سا انداز تھا

” انہیں کون سا مرض ہے ” آفرین نے پوچھا

” برین ٹیومز لیکن آپریشن کی کنڈشن سے باہر کی کنڈیشن ہے ۔۔۔۔ مرض بہت بڑھ چکا ہے ۔۔۔ جب سر میں درد ہوتا ہے تو اسکی چیخوں سے پودا گھر گونج اٹھتا ہے ۔۔۔۔ میں نے شادی بھی اس کے کہنے پر کی ہے ۔۔۔ یہ سمجھ لیں کے اسی نے مجبور کیا تھا ۔۔۔ لڑکیاں تو آپ سے پہلے بھی میں نے بہت سی دیکھیں تھیں ۔۔۔ لیکن جب آپ کو پہلی بار دیکھا تو مجھے آپ اچھی لگیں ۔۔۔۔۔ ایک بار بھی آپ نے مجھے نظر اٹھا کر دیکھنے۔ کی کوشش نہیں کی ۔۔۔ بڑی پاکیزہ نظریں ہیں آپکی ۔۔۔۔ اور میں نے سنا ہے جس کی نظر پاک ہو اس کا دل بھی پاک ہوتا ہے ۔۔۔۔ اور میں خوش۔ نصیب ہوں جو ایک پاکیزہ لڑکی کا نصیب بنا ہوں ” آفرین کو لگا سننے میں پی ہوئی ہے ۔۔۔ کچھ غلط سن لیا ہے

“پہلے یہ تو بتاؤں ۔۔۔ تمہاری آوارہ بہن کو میرا ہی بیٹا ملا تھا پھسانے کے لئے” بدر کی والدہ کے جمعلے نے جھٹکا سا لگایا تھا آفرین کو

” کیا ہوا آفرین آر یواو کے ؟ آفرین کو یوں سوچ میں یک دم چوکنتے دیکھ کر بڑے دھیمے لہجے سے اس نے پوچھا تھا

“جی ؟ ” آفرین ہوش میں آئی تھی مظہر نے ایک ڈبیہ سے سونے کے کنگن نکالے اور آفرین کے ہاتھ میں پہنادیے ۔۔۔۔ آفرین کو ماں کی باتیں یاد آئیں تھیں

” میری بیٹی شہزادی ہے اور شہزادیوں والی ہی زندگی گزارے گی ” ماں کی دعا یاد آئی تھی

” مرنے سے پہلے آفرین کی والدہ کی زبان پر یہ جمعلہ تھا کہ اللہ میں تیرے پاس تیرے حکم سے آ رہی ہوں میری بیٹی کا تو وارث ہے ۔۔۔۔ میں نے آفرین کو تیری رحمت کے سپرد کیا “

” ماں کی دعا سے اسے ہمیشہ شکوہ رہا تھا ۔۔۔۔

” اے اللہ کیا میں واقع تیری رحمت کے سپرد ہوں ۔۔۔ کیا یہ رحمت ہوتی ہے ؟ ۔۔۔ بھابھیوں کے طعنے ۔۔ کاٹ دار جمعلے ۔۔۔۔کرب سے نکلتے آنسوں۔۔۔۔ بھائیوں کی بے اعتنائی ۔۔۔۔ میری ماں کی دعا کبھی قبول ہو گی بھی کے نہیں ؟۔۔۔۔۔ امی آپ کیوں چلی گئیں؟ ” بے بسی سے اللہ سے کیے شکوں پر شرمندگی ہوئی تھی ۔۔۔۔۔

آج ماں کی ہر دعا جیسے لفظوں کے ساتھ پوری ہوئی تھی ۔۔۔۔۔

مظہر کی باتیں وہ غائب دماغی سے سن رہی تھی

وہ اسکی تعریف کر رہا تھا یا وہ سب باتیں جس کا وہ حق رکھتی تھی ۔۔۔ لیکن اس کا ذہن کچھ اور ہی سوچ رہا تھا ۔۔۔ اللہ کی رحمت ۔۔۔ ماں کی دعائیں ۔۔۔۔ کم خوش نصیبی ۔۔۔۔۔۔ سب کچھ پل میں بدل گیا تھا ۔۔۔۔۔ فرش سے عرش پر جا بیٹھی تھی اس لئے سمجھ نہیں پارہی تھی کہ اللہ کی رحمت پر سر جھکائے یا ماں کی دعاؤں کے ثمر سے دامن بھر لے ۔۔۔۔

******……..

وقت چار سال آگے بڑھ گیا تھا عائزہ کے بعد منزہ ۔۔۔ ایک سال بعد ہی مائرہ اور زریاب کی زندگی میں آ گئ تھی ۔۔۔۔ مائرہ کی زندگی کسی مشین کی طرح سے گزرنے لگی تھی ۔۔۔۔ نوفل نے کچھ سال صرف اپنی نوکری پر دھیان دیا تھا ۔۔۔ بھتجیوں پر وہ جان بچھاور کرتا تھا ۔۔۔ روز آفس سے واپس آتے پہلے عائزہ اور منزہ کو بائیک پر بیٹھا کر گھومتا تھا ۔۔۔۔ عائزہ چچا کی طرح باتونی تھی ۔۔۔۔ چار سال کی ہو چکی تھی نیا نیا اسکول جانے لگی تھی ۔۔منزہ ابھی بھی لاڈو میں تھی ۔۔۔ اور باپ کے ساتھ ذیادہ اٹیچ تھی ۔۔۔ سوتی بھی زریاب کے ساتھ تھی ۔۔۔۔ لیکن دیکھنے میں مائرہ جیسی تھی

آج کل زریاب اور مائرہ نوفل کے لئے ہی رشتہ دیکھ رہے تھے ۔۔۔ روز مائرہ کسی نا کسی رشتے والی سے بات کر رہی ہوتی تھی ۔۔۔ اپنے موبائل پر تصویرے منگواتی رات ڈنر کے بعد زریاب اور مائرہ موبائل نوفل کے سامنے رکھ دیتے

” اب پسند بھی کر چکو نوفل۔۔۔ کتنے نخرے ہیں تمہارے ” مائرہ اسکی تنقید نکالنے والی عادت سے زچ ہو گئ تھی ۔۔۔ کسی کی آنکھیں اسے پسند نہیں تھیں ۔۔ تو کسی کی ناک ۔۔۔۔ اچھی خاصی لڑکیوں کو وہ یہ کہہ کر ڈال جاتا ہے یہ بھابھی سے کم پیاری ہے ۔۔۔ مجھے تو بھائی جیسی ہی چاہیے

نوفل نے تیزی سے موبائل میں موجود لڑکیوں کی تصویریں آگے کیں پھر ناک چڑھا کر بولا

” ککہ۔۔۔ نا جی کوئی بھی مد مقابل نہیں ہے آپ کے ۔۔۔ بھائی ! میں نے اتنی اچھی بیوی ڈھونڈ کر آپ کو دی ہے آپکو ۔۔۔۔ ایک آپ ۔۔۔۔ اور دوسری آپ کی مطلبی بیگم

ساری وہ لڑکیاں دیکھا رہیں ہیں جو ان کے مقابلے میں کم ہو۔۔۔۔ نہیں بھئ مجھے تو ٹکر کی بیوی چاہیے ۔۔۔۔ ” نوفل کی بات پر زریاب ہسنے لگا تھا

” میری بیوی ماسٹر پیس ہے ۔۔۔۔ اور میری خوش نصیبی ہے کہ مجھے مل گئ ہے ۔۔۔۔ تم چاہے مجنوں بنے ایسی لڑکی ڈھونڈتے رہو نہیں ملنے والی۔۔۔۔۔ ڈھونڈو گئے اگر ملکوں ملکوں

ملنے کے نہیں نایاب ہیں ہم ” زریاب نے سر سے گانا شروع کیا تھا ساتھ ہی ساتھ مائرہ کو محبت پاش نظروں سے دیکھ رہا تھا ۔۔۔

” آپ دونوں بھائیوں کو مزاق سوج رہا ہے ۔۔۔ عمر دیکھے اپنے بھائی کی اٹھائیس کا ہو جائے گا اگلے سال ۔۔۔ پھر لڑکی بھی نہیں ملے گئ ۔۔۔ مجھے کسی عورت کی منتیں کرنی پڑیں گئیں کہ بہن خدا کے لئے نوفل سے شادی کر لو ” مائرہ نے زچ ہوتے ہوئے اپنے ہاتھ جوڑتے ہوئے کہا تھا

” بھائی دیکھ رہے ہیں بھابھی کو اٹھائیس کا میں اگلے ساتھ کے آخر ہوں گا اور یہ مجھے ابھی سے سنا رہیں جان بوجھ کر۔۔۔۔۔ اچھے خاصے اسمارٹ اور ڈشنگ بندے کو کتنا کس کے طعنہ مارا ہے ۔انہوں نے سیدھا میرے دل پر لگا ہے ۔۔۔۔ میں نہیں کر رہا شادی۔۔ بس ” نوفل نے سینے پر یوں ہاتھ رکھ کر کرب زدہ منہ بنایا جیسے واقعی سینے میں درد کی لہر اٹھی ہو ۔۔۔ نوفل کی اداکارہ پر مائرہ نے کشن اٹھا کر اسے مارا تھا ۔۔۔

” کل میں جا رہی ہوں رشتے والی کے ساتھ لڑکی دیکھنے ۔۔۔جیسی بھی لڑکی مجھے نظر آئی میں رشتہ پکا کر کے آ جاؤں گی ۔۔۔۔ پاگل کر دو گئے تم لوگ ۔۔۔۔ ایک تو پورا دن عائزہ اور منزہ تنگ کرتی رہتی ہیں اور رات کو تم دونوں بھائی مل کر مجھے پریشان کرتے ہو ” مائرہ تھک چکی تھی پچھلے چھ ماہ سے لڑکیاں دیکھ دیکھ کر وہ تنگ آ چکی تھی ۔۔۔۔ رات کو دونوں بچیوں کو سلا کر جب بھی دونوں بھائیوں سے مشورہ کرنے بیٹھتی وہ ہنسی مزاق میں ٹالنے لگتے تھے ۔۔۔ مائرہ اب بھی غصے سے کھڑی ہو گی

” اچھا اچھا بھابھی میں مزاق کر رہا تھا ۔۔۔۔ ” نوفل اس کے سامنے کھڑا ہو گیا پھر اپنے موبائل سے ایک لڑکی کی پک اسے دیکھائی بہت پیاری سی لڑکی تھی ۔۔۔۔ “

“یہ کون ہے ” فہمائشی نظروں سے نوفل کو دیکھا تھا

” میری کولیگ ہے ۔۔۔ رمشہ ۔۔۔ کیسی ہے یہ بھابھی “نوفل کو مائرہ نے زریک نظروں سے دیکھا تھا پھر غصے سے اسکے کندھے پر ایک لگائی تھی پھر اس کا کان پکڑ کر بولی

” لڑکی جب خود پسند کر لی تھی تو مجھے اتنے مہنوں سے کیوں پریشان کر رہے تھے۔۔۔۔ “

” افف بھابھی اللہ کی قسم ٹوٹ جائے گا۔۔۔ بڑا نازک کان ہے میرا ۔۔۔ ” نوفل نے چہرے پر مظلومیت سجائی تھی۔۔۔ پھر اپنا کان بھی مائرہ سے چھڑوا کر زریاب کے پیچھے جا کر چھپا تھا ۔۔۔۔ وہ بھی اسکی طرف لپکی تھی لیکن سامنے زریاب کھڑا تھا نوفل اس کے کندھے پکڑے چھپتے ہوئے اسے چار آنکھوں سے دیکھ رہا تھا شرارت اس کے ہر انداز سے چھلک رہی تھی

” چھ مہینے سےمجھے بیوقوف بنا رہے تھے ۔۔۔

آج نہیں چھوڑو گی تمہیں۔۔۔۔۔ زریاب ہٹیں آپ آگے سے ۔۔۔ آج نہیں بچے گا یہ مجھ سے روز یہ میرے کان کھاتا رہا ہے لڑکی ایسی ہونی چاہیے۔۔۔۔ ویسی ہونی چاہیے ۔۔۔ ” زریاب پورا پورا نوفل کو چھپانے کی کوشش کر رہا تھا۔۔۔

” جانے بھی دو مائرہ بچہ ہے میرا ۔۔۔ ایسے ہی تم سے شغل کر رہا تھاورنہ مجھے تو ڈیر سال پہلےہی اس لڑکی کے بارے میں بتا چکاتھا “یہ انکشاف سن کر تو مائرہ کا پارہ ہائی ہوا تھا آنکھیں پھلائے اس نے نوفل کو دیکھا تھا ۔۔۔ جو اپنی راز فاش ہونے پر اپنی ہنسی روک رہا تھا

” زریاب آپ بھی ؟ ۔۔۔۔ آپ بھی اس کے ساتھ ملکر مجھے بنا رہے تھے ” مائرہ رو دینے کو تھی ۔۔۔

” بنانے کی ضرورت ہی کیا ہے ۔۔۔۔ بھابھی ۔۔۔۔ ماشاءاللہ سے آپ اس معاملے میں خود کفیل ہیں۔۔۔۔ فورا سے بن جاتی ہیں “یہ کہہ کر نوفل نے اپنے کمرے کی طرف دوڑ لگائی تھی ۔۔۔

” روکو تم ذرا۔۔۔۔۔بھاگ کہاں رہے ہو ” مائرہ نے ٹیبل سے گلدان اٹھایا تھا لیکن کھڑاک سے نوفل کے کمرے کا دروازہ بند ہوا تھا ۔۔۔ زریاب کی ہنسی نہیں رک رہی تھی ۔۔۔ مائرہ نے گلدان نیچے ٹیبل پر رکھا اور زریاب کو گھورنے لگی

” مجھ سے بات مت کریں آپ ۔۔۔ کم ازکم آپ تو مجھے بتا سکتے تھے چھ مہینے سے تھک گئ ہوں میں ” مائرہ نے شکوہ کیا تھا ۔۔۔

” میں نے بہت کہا تھا نوفل سے کہ میری بیوی کو اتنا پریشان مت کرو۔۔۔ لیکن ۔۔۔ تمہارا ہی دیور ہے میری کہاں سنتا ہے ” مائرہ کو ساتھ لگائے وہ کمرے میں لے جاتے ہوئے بولا

” آپ بس بھائی کے ہی سگے ہیں ۔۔۔۔ میری ذرا پروا نہیں ہے آپ کو ” مائرہ خفگی سے بولی رہی تھی لیکن اندر سے مطمئن بھی تھی کہ کم از کم نوفل کو کوئی پسند تو آئی

” کل اتوار ہے شام کی چائے رمشہ کے گھر جا کر پیں گیے ۔۔۔۔ تم ایسا کرنا نوفل کے سارے بدلے رمشہ سے لے لینا بس ” زریاب نے جیسے بات ختم کی تھی ۔۔

” کیوں زریاب ! میں کیوں اپنی دیوارنی سے بدلہ لوں نوفل کے ہی کان کھنچوں گی ” مائرہ کو دیورانی اچھی لگی تھی بہت پیاری تھی نوفل کے ساتھ اسکی جوڑی بہت جچتی

” ٹھیک ہے لیکن ذرا زور سے مت کھنچنا ۔۔۔ ” زریاب نے جیسے بیوی کی منت کی تھی ۔۔۔ مائرہ زریاب کو غور سے دیکھنے لگی

” جانتی ہوں کان اس کے کھنچے گئے تو درد آپ کو ہو گا ۔۔۔ جان جو اسی میں بستی ہے آپ کی ” مائرہ شوہر کی محبت بھائی کے لئے جانتی تھی

” بس یہی سمجھ لو ۔۔۔ میں بس سانس ہی اپنے لئے لیتا ہوں جیتا تو نوفل کے اندر ہوں ۔۔۔۔ وہ ہنستا ہے تو میرا چہرہ۔ کھل جاتا ہے ۔۔۔۔ وہ اداس ہوتا ہے تو دل میرا بجھ جاتا ہے ۔۔۔۔ وہ بیمار ہوتا ہے ہے تو جان میری نکل جاتی ہے ۔۔۔۔ مائرہ ! کبھی کبھی مجھے لگتا ہے میری روح اسی کے وجود میں بستی ہے ۔۔۔۔ ” زریاب کے لفظوں میں اتنی سچائی تھی کہ اس کے چہرے پر اس کے کہے جانے والے لفظوں کے اثرات عیاں تھے مائرہ اسکی محبت پر شک کر ہی نہیں سکتی تھی

“میں جانتا ہوں اپنے بچپنے میں نوفل ہمارے بہت قیمتی لمحات برباد کر چکا ہے ۔۔۔۔ کیوں کے اسے کوئی یہ بتانے والا نہیں تھا کہ شادی کے فوری بعد کچھ وقت میاں بیوی کو دینا چاہیے ۔۔۔۔ میں اسے ایک بار بھی یہ کہہ دیتا تو وہ سمجھ جاتا ۔۔۔ کبھی بھی ہمارے ساتھ گاڑی میں ہر جگہ نہیں جاتا ۔۔۔ لیکن میں کہہ ہی سکا ۔۔۔۔ کیونکہ مجھے وہ چھوٹا بھائی لگتا ہی نہیں ہے ۔۔۔ لگتا ہے عائزہ اور منزہ کی طرح وہ بھی میری اولاد ہے ۔۔۔ میرا وجود کا ایک قیمتی حصہ ہے ۔۔۔۔ میں تمہارا احسان مند ہوں مائرہ ۔۔۔ اور تمہارا مقروض ہوں ۔۔۔ خرید لیا ہے تم نے مجھے نوفل کے لئے اپنے جذبات اور خواہشات کی بہت قربانیاں دیں ہیں تم نے بنا مجھ سے کوئی بھی شکوہ کیے ” زریاب کی باتیں وہ حیرت سے سن رہی تھی ۔۔۔ اسے لگتا تھا زریاب اسکی کیفیات سے نا واقف ہے ۔۔۔ اسے احساس ہی نہیں ہے کے بیوی کے کیا جذبات ہیں لیکن وہ تو اس وقت اس کی ہر کیفیت کو لفظ دے رہا تھا ۔۔۔۔ بڑی شدت سے مائرہ کو میاں جی پر پیار آیا تھااسکے سینے لگ گئ تھی

” مجھے لگا آپ کو پروا ہی نہیں ہے میری ” زریاب اس کی بے اختیار محبت کاعادی ہو چکا تھا ۔۔۔

” جان من تمہاری پروا نہیں کرو گا تو پھر کس کی کروں گا ۔۔۔ ” اسے ساتھ لگائے وہ کہہ رہا تھا ۔۔۔

ایسی ہی تھی مائرہ جب جی چاہتا تھا اپنی محبت کا جی بھر کر اظہار کرنے والی ۔۔۔ کوئی بات اگر زریاب کی بری لگتی تو صاف کہہ دیتی تھی یا کچھ پکانے کو جی نہیں چاہتا تھا صاف کہہ دیتی میرا موڈ۔ نہیں ہے ۔۔۔ غصہ آتا تب بھی کہہ دیتی زریاب میں غصے میں ہوں مجھے ہاتھ بھی مت لگائیے گا ۔۔۔ اب بھی اپنے دل کی بات بے دھڑک کہہ رہی تھی

” بے فکر رہیں آپ ۔۔۔۔ نوفل کی شادی کے بعد ہم بھی اس کے ساتھ ہنی مون پر چلے جائیں گئے ۔۔۔ ” مائرہ کی خواہش سن کر وہ ہنسا تھا ۔۔۔

” دو بچوں کے ساتھ کون سا ہنی مون ہوتا ہے ” زریاب کی بات سن کر وہ اس سے پیچھے ہٹی تھی آنکھیں سکیڑ کر اسے خفگی سے دیکھا تھا

” کوئی بات نہیں ہم منا لیں گئے ۔۔۔۔ “

” اور بچوں کو کون سنبھالے گا ۔۔۔ ” زریاب کو بیٹیوں کا خیال آیا تھا

” ان کے چچا چچی ۔۔۔۔ ہم صرف ایک دوسرے کے ساتھ ہی وقت گزاریں گئے ۔۔۔۔ نوفل کو بھی مزا آنا چاہیے ۔۔۔۔ ہمارا وقت برباد کرنے کا میں تو عائزہ منزہ کو نوفل اور رمشہ کی گود میں بیٹھاوں گیاور بھول جاؤں گی ” مائرہ کی بات پر وہ صرف مسکرا ہی سکتا تھا ۔۔۔

ایک ماہ کے اندر ہی نوفل کی منگی کی رسم بھی کر دی گئ تھی نیلے رنگ کی میکسی پہنے مائرہ نے اپنے سارے ارمان پورے کیے تھے ۔۔۔۔ نوفل بھی خوش تھا ۔۔۔۔ بھائی بھابھی نے اسکی خوشی کو چار چاند لگانے میں کوئی کمی نہیں چھوڑی تھی

خوب بھنگڑا ڈالا تھا ۔۔۔۔

******…….

” زیان چار پانچ سال گزر چکے ہیں ہماری محبت کو ۔۔۔۔ اب تو تم بھی وائز پرنسپل بن چکے ہو ۔۔۔۔ میں کب تک اپنے آنے والے رشتوں سے انکار کرتی رہوں گی ” عفیرہ نے رات کو اپنی دوائی میں منہ چھپا کر دھیرے سے زیان کے کہا تھا ۔۔۔۔

” عفی مجھے شادی تمہی سے کرنی ہے ۔۔۔۔ احمر کی شادی چھ ماہ بعد ہے ۔۔۔ اسکے بعد ہی میں س

ی کو تمہارے گھر بھیج دونگا ۔۔۔ پہلے تو تنخواہ کم تھی ۔۔۔۔۔ لیکن اب تو وہ معقول رقم کمانے لگا تھا ۔۔۔

” ابو اس بار میری نہیں سنیں گئے وہتو کب سے میری شادی کے پیچھے پڑی۔ ہیں ۔۔۔۔ پلیز زیان کچھ کرو “

” تمہارے سامنے صرف تمہارے ابو امی ہیں تم سے وہ نہیں سنبھالے جا رہے ۔۔۔۔ اور

مجھے تمہارے لئے سارےخاندان سے ٹکر لینی ہے ۔۔۔ ابھی جب شزا سے شادی پر آ کار کروں گا تو ایک طوفان سا بھرپا ہو جائے گا ۔۔۔۔ ” زیان نے اپنی مجبوری بتائی تھی

” اچھا ٹھیک ہے ۔۔۔۔ میں سمجھ سکتی ہوں ۔۔۔ “

” او کے بائے کل ملیں گئے ” اس سے پہلے زیان فون بند کرتا عفیرہ فوراسے بول پڑی

” زیان “

” ہاں اب کیا ہے “

” وہ ایزی لوڈ کروا دینا پانچ سو کا ۔۔۔ نیٹ پیکج ختم ہونے والا ہے ۔۔۔۔ “

” کروا دوں گا ۔۔۔ “

” اور ہاں ۔۔۔ وائٹ گولڈ کی چین کا کیا ہوا جو تم میرے لئے خریدنے والے تھے ” ایک دلفریب مسکراہٹ کے ساتھ عفیرہ نے پوچھا تھا

” وہ اگلے مہنے دن ہے ۔۔۔ دلا دوں گا ۔۔۔۔ اچھا عفی خدا حافظ صبح اسکول میں ملیں گئے ” زیان نے فون بند کر دیا