Log Kia Kahe Gy by Umme Hani NovelR50418 Log Kia Kahe Gy Episode 35
Rate this Novel
Log Kia Kahe Gy Episode 35
Log Kia Kahe gy by Umme Hani
نوفل آفس میں تھا جب اسے مائرہ کی کال آئی تھی
” نوفل میں تین دن کے لئے آفرین کے گھر جانا چاہ رہی تھی کب سے وہ مجھے بلا رہی ہے ۔۔۔ میں ہی ٹالے جا رہی تھی عائزہ کو بھی اسکول سے چند دن کی چھٹیاں ملی ہیں ۔۔۔ وہ بھی ضد کر رہی تھی جانے کی “
” ہاں تو بھابھی آپ چلی جائیں ۔۔۔ اچھا ہے دل بہل جائے گا آپ کا بھی اور بچوں کا بھی ۔۔۔ “
” وہ تو ہے لیکن ولی اداس ہو جائے گا ۔۔۔۔ “
” تین دن کی تو بات ہے بھابھی ۔۔۔۔ آپ جائیں ۔۔۔۔ کل ولی کو بھی اسکے ننھال چھوڑ آؤں گا ۔۔۔۔ عفیرہ بھی کب سے میکے رہنے نہیں گئ ۔۔۔۔ عبیرہ کی شادی پر بھی بس فنگشن ہی اٹینڈ کیے تھے ۔۔۔۔ ” نوفل اپنی فائنل بھی ساتھ چیک کرتے ہوئے جواب دیا
” ہاں یہ بھی ٹھیک ۔۔۔ پھر آفرین سے کہہ دیتی ہوں کہ ڈرائیور بھیج دے ۔۔۔۔ خدا حافظ ” مائرہ نے فون رکھ دیا تھا ۔۔۔۔ عفیرہ سے بھی کہہ دیا تھا کہ وہ آفرین کے گھر جا رہی ہے ۔۔۔۔ لیکن جب آفرین کا ڈرائیور لینے پہنچ گیا تو ولی بھی عائزہ کی گود میں چڑھ گیا ۔۔۔۔
” آپی شاتھ جاؤں گا ” سواسال کا ہو گیا تھا لیکن باتیں ساری کرنے لگا تھا ۔۔۔ اور ذیادہ پیار عائزہ سے تھا ۔۔۔ وہ بھی سے گود میں اٹھائے پھرتی تھی
“مما ولی کو بھی ساتھ لے جاتے ہیں ” عائزہ نے بھی اسے گود میں لئے چومتے ہوئے کہا
” نہیں عائزہ اپنی ماں کے بغیر تھوڑی رہ سکتا ہے رات کو ضد کرے گا کون چھوڑنے آئے گا اسے واپس ۔۔۔۔چچی چچی پکارے گا تو ؟
” نہیں ضد کرتا بھابھی ۔۔۔۔۔ آپ کے ساتھ اکثر توسوجاتا ہے ۔۔۔ لے جائیں اسے بھی ساتھ ۔۔۔۔ ورنہ پیچھے سے میری جان کھاتا رہے گا ” عفیرہ تو یہ سن کر خوش ہوئی تھی کہ مائرہ آفرین کے گھر جا رہی ہے ۔۔۔ اب تو پر سکون ہو کر زیان سے مل سکتی ہے ورنہ مائرہ سے بہانے تراشنے پڑتے اور ولی کی موجودگی میں وہ اکیلی زیان سے مل بھی نہیں سکتی تھی ۔۔۔۔ ولی کو بھی اپنے ساتھ لے جانا ہڑتا اور یہ بات شاید زیان کو اچھی نا لگتی ۔۔۔۔اسوقت وہ زیان کو کی ناراضگی نہیں چاہتی تھی ۔
” سوچ لو عفیرہ میں تین دن کے جا رہی ہوں ۔۔۔ ولی کے بغیر کیسے رہو گی تم ۔۔۔۔۔ چین کیسے آئے گا تمہیں ۔۔۔۔ مجھے بھی اچھا نہیں لگ رہا کہ میں یوں ولی کو لیکر جاؤ ” مائرہ کادل نہیں مان رہا تھا
” بھابھی آپ بھی نا ۔۔۔۔ بہت سوچتی ہیں ۔۔۔۔ لے جائیں اسے بھی ساتھ ۔۔۔۔ ویسے بھی عائزہ اور منی کے بنا یہ رہتا کب ہے ۔۔۔۔۔ ” عفیرہ کو ہی جب فکر نہیں تھی تو مائرہ کیا کر سکتی تھی
“ٹھیک ہے لیکن اگر تم اداس ہو جاؤ تو نوفل سے کہہ دینا آکر لے جائے اسے ” مائرہ کے دل کو ابھی بھی چین نہیں آ رہا تھا ۔۔۔۔ ولی تو چھوٹا تھا ۔۔۔ شاید بچوں میں رہ کر بہل بھی جاتا لیکن عفیرہ تو ماں تھی ۔۔۔۔۔ بچوں کے بغیر تو گھر کاٹنے کو دوڑتا ہے ۔۔۔ ماں کو چین ہی کب آتا ہے ۔۔۔۔۔
” ہاں ہاں بول دوں گی اب آپ جائیں بھی ” مائرہ سے ذیادہ جلدی عفیرہ کو اسے بھیجنے گی تھی ۔۔۔۔۔ مائرہ کے جاتے ہی وہ جلدی سے تیار ہوئی تھی ۔۔۔۔۔ ایڈریس اسکے فون نمبر پر آ چکا تھا ۔۔۔۔ جہاں اسے زیان سے ملنے جانا ۔۔۔۔ آج نوفل کی پہنائی ہوئی ساری جیولری اس نے اتار کر دراز میں رکھ دی تھی ۔۔۔ یہاں تک کے رونمائی کے کنگن بھی ۔۔۔۔ پہنی تھی تو زیان کی دی گئ چین ۔۔۔۔ منگنی کی پہنائی گئ اسکی انگوٹھی ۔۔۔ جو رشتہ ٹوٹنے کے بعد نا زیان نے مانگی تھی ۔۔۔ نا عفیرہ نے دی تھی ۔۔۔ اپنا سارا زیور وہ میکے سے لے آئی تھی۔۔۔۔۔ یہاں تک کے زیان کے دئے گئے تحائف بھی ۔۔۔۔۔ جو وہ ان پانچ سالوں میں عفیرہ کو وقتا فوقتا اسے دے چکا تھا ۔۔۔۔ تقریبا سبھی تحائف عفیرہ کی پسند کے تھے اور قیمتی تھے ۔۔۔۔
آج بڑی مدت بعد فرصت سے تیار ہوئی تھی ۔۔۔۔۔
خود کو مزین کرنے میں عفیرہ نے کوئی کسر نہیں چھوڑی تھی ۔۔۔۔ آنکھوں کے سامنے بس ایک خوبصورت سااپاٹمنٹ تھا ۔۔۔۔ جو اسے دیکھنے کی شدت سے خواہش تھی ۔۔۔۔۔ ساحل سمندر کے حسین نظارے تھے ۔۔۔۔۔ اور وہاں ایک بنگلے نما فلیٹ ۔۔۔۔ہر وقت تعریفوں کے پل باندھنے والا زیان ۔۔۔۔ اور کیا چاہیے تھا اسے ۔۔۔۔۔ ایسا خواب تو وہ مدتوں سے دیکھتی آ رہی تھی ۔۔۔ پہلے چھوٹے سے علاقے کے دڈبے نما گھر میں چھوٹے بہن بھائیوں کے جنجال پورے سے نکلنے کے لئے ہی تو اس نے زیان کو پھانسا تھا ۔۔۔۔جب اس نے اسکول جوائن کیا تھا وہاں موجود دوسری ٹیچرز سے اسے معلوم ہو چکا تھا کہ موفوف اکلوتے ہیں ۔۔۔ مطلب سسرال کے نام پر صرف ساس سسر ہی ملنے تھے نا نندیں نا ہی دیور ۔۔۔۔۔
لیکن جب نوفل کی گاڑی دیکھی تو زیاں کے ماں باپ بھی آنکھوں میں دل جانے والی ریت کی طرح چبھنے لگے ۔۔۔۔۔ مائرہ کو دیکھ کر سمجھ گئ تھی کہ بے بس سی عورت ہے ۔۔۔۔۔ اس لئے وہ اپنی مرضی چلا سکتی ہے۔۔۔۔۔۔ تیار ہو کر خود پر ایک طائرانہ نظر ڈال کر
فی الحال وہ زیان سے ملاقات کرنے گئ تھی ۔۔۔۔ نئے خواب بننے کے ارادے سے لیکن زیان کو عفیرہ کو پانے کی جلدی تھی (عفیرہ کی سوچ کے مطابق) جبھی اس نے نوفل کو بھی وہاں بلا لیا ۔۔۔۔
نوفل شاید عفیرہ کی غلطی کو معاف بھی کر دیتا ۔۔۔ شادی سے پہلے محبت کا ہو جانا شاید در گزر کر جاتا لیکن جو ٹیلی فونک باتیں وہ ان دونوں کی سن چکا تھا اتنا بھی کم ظرف نہیں تھا کہ اب اسے اپناتا ۔۔۔۔۔ نوفل کے باہر جاتے ہی عفیرہ نے گہری لمبی سانس لی تھی
” شکر ہے خدا کا ۔۔۔۔ سب کچھ بڑی آسانی سے ہو گیا” ۔۔۔۔۔ زیان مجھےتو لگا تھا کہ تم سب کچھ دھیرے دھیرے سے کرو گئے ۔۔۔ لیکن تمہاری محبت کی تو میں قائل ہو گئ ہوں ۔۔۔۔۔ تمہیں مجھے پانے کی اتنی جلدی تھی کہ تم نے آنا فانا ہی سب ختم کر دیا ۔۔۔۔ ” عفیرہ کے چہرے پر الگ سی چمک تھی زیان جتنا حیران ہوتا اتنا۔کم تھا ۔۔۔۔۔ ذرا افسوس نہیں تھا عفیرہ کو اپنے کیے پر ۔۔۔۔نا اپنے گھر ٹوٹنے کا ۔۔۔نس۔ شوہر اور بچہ چھوٹنے کا۔۔۔۔ عورت کا یہ روپ زیان کے لئے انوکھا تھا ۔۔۔۔ شادی سے پہلے کی جانے والی محبتیں شادی کے بعددم توڑ جاتی ہیں اور اگر اولاد ہو جائے تو عورت اپنے گھر اور بچے کی خاطر ظالم شوہر کے ساتھ بھی عمر گزار لیتی ہے تا کہ بچہ در با در نا ہو جائے ۔۔۔۔ لیکن یہ کیسی عورت تھی ۔۔۔۔۔ نا گھر کی پروا نا شوہر اور بچے کی فکر
اور زیان سے محبت بھی نہیں تھی ۔۔۔ ورنہ اسے پانا تو عفیرہ کے لئے بے حد آسان تھا ۔۔۔عفیرہ کے نزدیک بس ایک چیز اہمیت کی حامل تھی اور وہ تھی لالچ ۔۔۔۔۔ بڑا گھر۔۔۔۔ بڑی گاڑی ۔۔۔۔۔۔ ٹھیک ہی کہا تھا نوفل نے کہ لالچی عورت کا پیٹ کبھی نہیں بھرتا ۔۔۔۔ وہ ہمیشہ بھوکی ہی نظر آتی ہے چاہے جتنا مرضی اسے مل جائے اسکی طمع کبھی ختم نہیں ہوتی ۔۔۔۔۔ بڑے تاسف سے زیان نے عفیرہ کو دیکھ رہا تھا ۔۔۔ وہ چہرے پر مسکراہٹ سجائے زیان کو دیکھ رہی تھی
” کیسی محبت عفی ؟ کون سی محبت ۔۔۔۔ میری محبت تو اسی دن دم توڑ چکی تھی جب تم نے مجھے چھوڑ کر نوفل سے شادی کر لی تھی ۔۔۔ اور میرے سامنے اس بات کا اعتراف بھی کیا تھا ۔۔۔۔۔ اسی دن مر گیا تھا وہ زیان جس نے ٹوٹ کر چاہا تھا تمہیں ۔۔۔۔ ” یہ سن کر عفیرہ کے ہوش اڑے تھے ۔۔۔۔ وہ متحیر سی زیان کے نزدیک آئی ۔۔۔
” زیان یہ کیا مزاق کر رہے ہو ۔تم ۔۔۔۔ دیکھوں یوں مت کہو ” عفیرہ حواس باختہ سی ہوئی تھی
” مزاق۔۔۔ کون سا ۔مزاق ۔۔۔۔ تمہیں لگتا ہے کہ میں تم سے مزاق کرو گا ۔۔۔۔ ” زیان کے سنجیدہ لہجے پر عفیرہ کی جان لبوں پر آئی تھی ۔۔۔
” زیان تم نے خود کہا تھا ۔۔۔۔۔تم مجھ سے محبت کرتے ہو ” گلے میں اتنی گرہیں تھیں کہ عفیرہ کے منہ سے فقرے میں ٹوٹ ٹوٹ کر ادا ہو رہے تھے
” او کم آن عفی ۔۔۔۔۔
“یہ چاہت محبت سب کتابیں باتیں ہیں۔۔۔ کتابوں میں ہی اچھی لگتی ہیں ۔۔۔۔ بات صرف اتنی سی ہے انسان ہمیشہ بہتر سے بہترین کی طرف لپکتا ہے ۔۔۔۔۔ کیوں کچھ یاد آیا عفی ۔۔۔ تمہارے ہی ادا کیے ہوئے جمعلے ہیں ۔۔۔۔ ٫زیان نے بیگانگی دیکھاتے ہوئے کہا ۔۔۔۔ عفیرہ کے اندر گھٹن سی ہونے لگی تھی ۔۔۔۔۔۔ اپنی ساری کشتیاں وہ جلا چکی تھی ۔۔۔ واپسی کا در بند تھااور جو آگے تھا ۔۔۔۔ وہ بھی اس کا کا ہونے کو تیار نہیں تھا
ٹپ ٹپ آنسوں آنکھوں سے بہنے لگے تھے ۔۔۔۔۔
” نہیں زیان ۔۔۔ تم میرے ساتھ یوں نہیں کر سکتے ۔۔۔۔ میں نے تمہارے لئے نوفل کوچھوڑا ہے اپنے بچے ” یہ کہتے ہی اسکے آنسوں نے سسکیاں کی شکل اختیار کی تھی
” اپنے ولی کے بارے میں نہیں سوچا ۔۔۔ اور تم کہہ رہے ہو کہ ۔۔۔۔۔ کون سی محبت ۔۔۔۔ نہیں ۔۔۔ نہیں زیان۔۔۔۔ میں مر جاؤں گی ۔۔۔ کہاں جاؤں گی میں ” وہ زیان کے قریب آ کر بولی لیکن زیان نے اسے ہلکا سا پیچھے دھکیل دیا ۔۔۔۔ تا کہ فاصلہ برقرار رہے ۔۔۔۔
” جھوٹ مت بولو عفی ۔۔۔ میری وجہ سے نہیں۔۔۔ نا ہی میری محبت کی وجہ ۔۔۔ اپنی آندھی لالچ کی وجہ سے تم نے چھوڑا ہے سب کچھ ۔۔۔۔ اگر تمہاری یاداشت کام کر رہی ہے تو یاد کرو میری منگتر رہ چکی ہو تم ۔۔۔۔ اگر مجھ سے محبت کرتی تو آج نوفل کے بجائے میری بیوی ہوتی ۔۔۔۔ ” زیان غصے سے ہر لفظ جما کر اسے کڑوے سچ سے آگاہ کر رہا تھا اور وہ گم صم تصویر بنی سن رہی تھی ۔۔۔ رو رہی تھی
“نوفل کو تم نے مجھ پر فوقیت صرف اسکی گاڑی دیکھ کر دی تھی ۔۔۔۔ اور آج میری بڑی گاڑی اور یہ فلیٹ دیکھ کر تم نے نوفل اور اپنے بچے کو ٹھکرانے میں ایک سکینڈ نہیں لگایا ۔۔۔۔۔ “
” نہیں زیان ۔۔۔۔ تم نے کہا تھا کہ تم میرے لئے ساری زندگی تنہا گزار لو گئے ” عفیرہ نے جلی کشیی میں سوار ہونے کی دوبارہ سے کوشش کی
” میں نے کب کہاں تم سے ۔۔۔۔ ” زیان متعجب ہو کر بول حالانکہ ہر بات سے واقف تھا
” تم نے نوفل کے سامنے کہا تھا ۔۔۔۔ کہ تم جس لڑکی سے محبت کرتے ہو اسی کے نام پر زندگی گزار دو گئے ۔۔۔ یعنی میں ” عفیرہ ہچکیوں سے روتے ہوئے کہہ رہی تھی
” میں نے کب تمہارا نام کیا تھا عفی ۔۔۔ میں نے تو تم سے کوئی رابطہ تک کیا ہی نہیں تھا ۔۔۔ فون تم مجھے کیا ۔۔۔۔ میں نے نہیں۔۔۔۔۔ بات تم نے شروع کی ۔۔۔۔ نوفل کو چھوڑے کا بھی تمہی نے مجھ سے کہا تھا ۔۔۔ ولی کو تم اپنے پاس نہیں رکھنا چاہتی یہ بھی تم نے ہی کہا تھا ۔۔۔۔ اپنا گھر تم نے خود برباد کیا ہے ۔۔۔۔ یہاں مجھ سے ملنے بھی تم اپنی مرضی سے خود آئی تھی۔۔۔۔ میں ت۔پیں ہر گز نہیں لایا ۔۔۔۔ اور یہاں تم مجھ سے کس قسم کی ملاقات کرنے آئی ہو ۔۔۔ یہ بھی کیا میں بتاؤں تمہیں ” آج زیان کی باری تھی عفیرہ کو آئنہ دیکھانے کی
” ایک شوہر کے ہوتے ہوئے ایک بیٹے کی ماں ہوتے ہوئے ۔۔۔۔ تم ایک غیر مرد سے ملنے چلی آئی عفی ؟۔۔۔۔۔ یہ ہے تمہاری وفا ؟۔۔۔۔ مجھے ذرا افسوس نا ہوتا اگر تم صرف بے وفا صنم ہوتی ۔۔۔۔۔ اگر تم آج با وفا بیوی ہونے کا ثبوت دیتی تو ۔؟۔۔۔۔ میں نے صرف ایک پانسہ پھینکا تھا تمہاری طرف عفیرہ ۔۔۔۔۔ ایک جھوٹی دولت کا پانسہ۔۔۔۔ ہار کی بازی تو تم نے اپنی مرضی سے کھیلی ہے ۔۔۔۔۔ یہ فلیٹ میرا نہیں ہے میرے ایک دوست کا ہے بس چند گھنٹوں کے لئے میں نے اس مانگا تھا ۔۔۔۔ میں نے اتنی دولت نہیں کمائی کہ ایسا لیکچری فلیٹ کا مالک بن سکوں ۔۔۔
ہاں گاڑی میری اپنی ہے ۔۔۔۔ ” زیان کے بے مروتی دیکھ کر عفیرہ بتدریج روئے جا رہی تھی ۔۔۔۔۔۔ اپناسب کچھ کھو چکی تھی ۔۔۔بڑے خطرناک تیور سے وہ اسے دیکھ رہی تھی ۔۔۔۔ جو آج بنا اسے بنا ہاتھ لگائے کی لوٹ چکا تھا برباد کر چکا تھا
” اب نکلو یہاں سے ۔۔۔۔۔ ” زیاں کی اس بات پر وہ بھپر سی
” میں نکلو ؟۔۔۔۔۔ کہاں جاؤں میں ۔۔۔ ؟ تم نے مجھ سے میرا پیار کرنے والا شوہر چھین لیا ؟ میرا گھر برباد کر دیا ” عفیفہ کی بات تو وہ چھت پھاڑ قہقہ لگا کر ہنسا تھا پھر یک دم زیان کے چہرے کی تاثرات سنجیدگی میں بدل گئے غصے سے غرا کر بولا
” پیار کرنے والا نہیں عفی ۔۔۔۔ ظالم شوہر سے جان چھڑوا دی میں نے تمہاری ۔۔۔ جو تمہیں مارتا تھا ۔۔پیٹتا تھا ۔۔۔۔ وہ گھر جہاں تم رہنا نہیں چاہتی تھی میں نے تمہیں اس گھر سے آذادی دلا دی ۔۔۔۔۔ تمہیں تو
میرا شکر گزار ہونا چاہیے ” زیان نے استزائیہ انداز سے ہنستے ہوئے بولا ۔۔۔۔
” چلو نکلو یہاں سے باہر ورنہ دھکے دے کر نکالوں گا ” زیان کی آنکھوں میں صرف نفرت تھی ۔۔۔۔ عفیرہ روتے ہوئے وہاں سے باہر چلی گئ
********………
نوفل فلیٹ سے نکل کر سیدھا سمندر میں چلا آیا تھا ۔۔۔۔۔ عفیرہ کی باتوں نے وہ اذیت دی تھی کہ جسے سہنا مشکل تھا ۔۔۔۔۔ وہ منہ پھٹ تھی ۔۔۔۔ یہ بھی نوفل نے برداشت کر لیا ۔۔۔ وہ کام چور تھی ۔۔۔ یہ بھی وہ سہہ گیا۔۔۔ وہ چورنی بھی تھی ۔۔۔۔ یہ ذلت بھی خود پر جبر کر گیا ۔۔۔۔۔ مائرہ کے ساتھ اسکارویہ غیر مناسب تھا ۔۔۔۔ اس پر بھی وہ چپ چاپ تھا ۔۔۔۔۔ اسکی جان سے پیاری بھتجیوں کو وہ ڈانتی تھی گھورتی تھی ۔۔۔ یہ بھی برداشت کر رہا تھا اب تک یہی سمجھتا آیا تھا کہ وہ مزاج کی ہی تیز ہے اب اس بات پر گھر برباد کرنا تو عقلمندی نہیں ۔۔۔ پھر ایک عورت کی زندگی طلاق کے بعد تباہ و برباد ہو کر رہ جاتی ہے ۔۔۔۔ پھر اتنا بڑا قدم کیوں اٹھائے ۔۔۔ لیکن جو کچھ ابھی سن کر آ رہا تھا وہ تو کچھ اور ہی تھا ۔۔۔۔ نوفل کی غیرت پر بہت گندی گالی تھی ۔۔۔۔ کہ اسکی بیوی اسکی زوجیت میں ہو کر ایک غیر شخص کے پاس جائے اسے اپنی اس محبت سے سیراب کرنے جس کا حقدار صرف نوفل تھا ۔۔۔۔۔ یہ سہنا ممکن ہی نہیں تھا کسی مرد کے لئے بھی ممکن نہیں ہے ۔۔۔۔ آنکھوں سے بے اختیار آنسوں بہنے لگے تھے ۔۔۔۔ مائرہ کی کال بند ہونے کے بعد وہ آفس میں بیٹھا یہ سوچ رہا تھا آج عفیرہ کو ساحل سمندر کی سیر پر لیکر آئے گا ۔۔۔۔۔ کچھ وقت صرف اسی کے نام کرے گا ۔۔۔
لیکن زیان کی کال آ گئ وہ نوفل کا اسی کے آفس کے نیچے انتظار کر رہا تھا ۔۔۔۔ آفس سے آف ہو چکا تھا اس لئے وہ زیان کے ساتھ ہی اس کی گاڑی میں بیٹھ گیا ۔۔۔۔ پورے راستے زیان بس نوفل سے ادھر ادھر کی باتیں کی کرتا رہا ۔۔۔ سمندر کے قریب ایک فلیٹ میں لے جا کر اس نے ایک سوفٹ ڈرنک ہی اسے پلائی تھی ۔۔۔ پھر بات شروع کی تھی
” نوفل میں نے آپ کی طرف بڑے مخلصانہ طور پر دوستی کا ہاتھ بڑھایا ہے ۔۔۔۔ اور یقین جانے آپ کا برا نہیں چاہوں گا ۔۔۔۔ ” خالی گلاس ساامںے ٹیبل پر رکھ کر نوفل نے زیان کو حیرت سے دیکھ کر کہا
” میں نے کب تمہاری دوستی ہر شک کیا ہے ” نوفل اسکی تمہید کو سمجھ نہیں پایا
” ابھی تو شک نہیں کر رہے لیکن شاید کچھ دیر بعد کرنے لگیں ۔۔۔۔ لیکن آپ ہی نے کہا تھا ۔۔۔ لالچی عورت کا پیٹ کبھی نہیں بھرتا وہ بہتر سے بہترین دیکھ کبھی بھی چھوڑ سکتی ہے ۔۔۔۔ ؟ “”
” ہاں کہا تو تھا کیوں” زیان کی عجیب و غریب باتیں اس کے گمان سے دور تھیں
” بس آج ایک ایسی کی عورت کے چہرے کا پردہ مجھے فاش کرنا ہے ۔۔۔ جو یہاں اپنے شوہر اور بچے کو چھوڑ کر صرف اس لالچ میں میرے پاس آ رہی کہ یہ اسکے شوہر کے گھر سے بڑا فلیٹ اور بڑی گاڑی میرے پاس موجود ہے ” زیان کی بات وہ اب بھی نہیں سمجھا تھا “
” اچھا تو وہ لڑکی تم سے ملنے آ رہی ہے جس سے تم محبت کرتے ہو “
” جی وہی آرہی ہے لیکن میرے دل سے اتر چکی ہے ۔۔۔۔ جو شوہر کی وفادار نا ہو وہ عورت کسی اور کے ساتھ کیا وفا نبھائے گئ ۔۔۔۔ ” ابھی باتوں کاسلسلہ جاری ہی تھا جب ڈور بیل بجی تھی ۔۔۔ زیان عجلت میں کھڑا ہو تھا۔۔اور نوفل سے بولا
” نوفل آپ پلیز اس پردے کے پیچھے چھپ جائیں ۔۔۔ ” زیان کی یہ بات بھی نوفل کو غیر مناسب سی لگی وہ کندھے اچکا کر بولا
” میں یہ سب کیوں کرو زیان ۔۔۔ میرا کیا تعلق ہے ۔۔۔ ۔مجھے تو تم یہاں سےجانے دو تو بہتر ہے ” نوفل زیان کے ذاتی مسلے سے خود کو دور ہی رکھنا چاہتا تھا
” بہت گہرا تعلق ہے ۔۔۔۔ پلیز ” زیان نے نوفل کا ہاتھ پکڑا اور اسے پردے کے پیچھے چھپا دیا ۔۔۔ عفیرہ کو سج دھج کے ساتھ کب نوفل نے لاونج میں کھڑے دیکھا تو ۔۔۔ چکرا سا گیا تھا ۔۔۔ پھر زیان سے اسکی باتیں سن کر بھی بے یقین تھا ۔۔۔ پہلا خیال یہی آیا کہ شادی سے پہلے شاید دونوں کا فیر چلا ہے ۔۔۔۔ اگر ایسا تھا بھی تو ۔۔۔ ایسا اکثر ہو جاتا ہے کہ محبت کسی سے ہوتی ہے لیکن شادی کسی اور سے ہو جاتی ہے دوسال تو اسکا بھی رمشہ سے افیر تھا لیکن نصیب میں عفیرا تھی ۔۔۔۔ شاید زیان اسے عفیرہ سے بد گمان کرنا چاہتا ہے ۔۔۔۔ اس لئے نوفل کو غصہ زیان پر آیا تھا اس لئے زیان کے ساتھ دست وگریباں تک ہو گیا اپنی بیوی کی خاطر لیکن عفیرہ کے اعراف نے اسے توڑنا شروع کیا تھا ۔۔۔۔۔ پھر انکی ٹیلی فونک گفتگوں نے اسے شرم سے پانی پانی کیا تھا ۔۔۔۔ دو سالوں اسکی رمشہ سے بات چیت رہی تھی لیکن رمشہ کی خواہش کے باوجود نوفل نے کبھی اس سے ایسی بات نہیں کی تھی ۔۔۔ جو زیان اور عفیرہ کے مابین ہوئیں تھیں
عفیرہ دل سے اتر چکی تھی ۔۔۔۔ پھر اس کا ہاتھ اپنے ہاتھ میں بے معنی سا لگنے لگا ۔۔۔ ایسا لگا کسی اجنبی عورت کا ہاتھ تھام لیا ہو ۔۔۔اپنے سارے حق عفیرہ کے جمعلوں سے عفیرہ پر ختم ہوتے ہوئے محسوس ہوئے تھے ۔۔۔۔ اس لئے اس کا ہاتھ چھوڑ دیا ۔۔۔۔ پھر اسکی طرف نظر تک اٹھا کر نہیں دیکھا
لیکن اب یہاں سمندر کے کنارے کھڑے اپنے سارے ضبط کھو بیٹھا تھا ۔۔۔۔۔
اتنا کچھ سہنے کے بعد بھی ملا کیا تھا اسے ۔۔۔۔؟
زریاب کے بعد اسے ایک ہمدرد دوست کی ضرورت تھی جو اسے سمیٹنے کی کوشش کرتی اسکے ہر دکھ کا مداوا بنتی ۔۔۔۔ لیکن عفیرہ ایسی نہیں تھی اس لئے نوفل نے خود ہی اپنے آپ کو سمیٹا تھا ۔۔۔۔
پہلے پہل وہ عفیرہ کو لمحہ بھر بھی برداشت نہیں کر پاتا تھا بس ایک مائرہ تھی جو اسے وعدہ قسموں سے قائل کرتی رہی ۔۔۔۔ شاید اس لئے کہ مائرہ کے پاس بھی دوسرا کوئی راستہ نہیں تھا ۔۔۔۔
پھر آہستہ آہستہ نوفل نے ہی خود کو بدلنا شروع کر دیا ۔۔۔۔ کمرہ گندہ ہے۔ کپڑے کبڈ میں بے ترتیب ہیں ۔۔۔۔ کھانا اسے برائے نام بھی پکانا نہیں آتا تھا ۔۔۔ ان سب کے باوجود نوفل نے کہنا چھوڑ دیا تھا ۔۔۔ بس جب اسکی برداشت جواب دے جاتی تب ہی وہ ایک دن پھٹ پڑتا تھا ۔۔۔ لیکن عفیرہ کی خوش نصیبی یہ تھی کہ مائرہ ہمیشہ نوفل کے بڑھتے قدم روک دیتی تھی ۔۔۔۔ آنسوں بہہ بہہ کر نوفل کی گردن تک پہن چکے تھے ۔۔۔۔۔ جہاں وہ کھڑاتھا آس پاس کوئی نہیں تھا ۔۔۔۔۔ زریاب کے بعد ایسا تنہا ہو تھا کہ کوئی ایسا نہیں تھا جس کے ساتھ گلے لگ کر اپنا ہر غم کہہ کر پر سکون ہو جائے ۔۔۔۔ کافی دیر وہیں بیٹھاروتا رہا ۔۔۔۔ پھر گھر لوٹ آیا ۔۔۔۔ پورا گھر اندھیرے میں ڈوبا ہوا تھا ۔۔۔ نوفل نے لاونج میں ساری لائٹس روشن کر دیں ۔۔۔۔ سانس بھی سے گھٹنے لگا تھااندھرے خوف آ رہا تھا تنہائی سے ڈر لگ رہا تھا ۔۔۔۔ آج پھر سے استما کااٹیک ہوا تھا ۔۔۔۔ جیب سے انہیلر نکال کر اس نے اپنا سانس بحال کیا
صوفے پر وہ ڈھے سا گیا تھا لگتا تھا پورا وجود بے جان ہو ۔۔۔ کچھ دیر وہیں بیٹھا رہا ۔۔۔
چونکا تب تھا جب اپنے کمرے میں کچھ آیتیں سی سنائی دیں ۔۔۔۔ گھر میں تو کوئی تھا نہیں پھر شور کیسا تھا ۔۔۔۔ پھر غور کیا تو کمرے لائٹس جل رہیں تھیں ۔۔۔ وہ اٹھ کر محتاط انداز سے کمرے کی طرف بڑھا تھا ۔۔۔ لیکن کسی کی سسکیوں سے قدم وہیں جم گئے تھے ۔۔۔۔۔
کمرہ کھول کر دیکھا تو عفیرہ بیڈ پر بیٹھی رو رہی تھی ۔۔۔ ایک چابی عفیرہ کے پاس موجود تھی ۔۔۔ اس لئے نوفل سے پہلے گھر پہنچ چکی تھی
نوفل نے غصے سے اپنی مٹھیاں بینچیں تھیں اس وقت تووہ اسکی شکل تک دیکھنا نہیں چاہتا تھا ۔۔۔ عفیرہ نے گھٹنوں سے چہرہ اوپر کر کے نوفل کو دیکھا تو کھڑی ہو گی نوفل کے پاس آ گئ
” نوفل مجھے معا۔۔۔۔۔ “
” دور ۔۔۔۔۔۔ ” نوفل اس سے پیچھے ہٹ گیا
” دور رہو مجھ سے ۔۔۔ ایک دم دور ۔۔۔۔ کچھ نہیں لگتی ہو تم میری ۔۔۔۔۔ خبردار جو میرے قریب بھی آئی تو ۔۔۔ ” وہ جارحانہ تیور سے چلایا ۔۔ عفیرہ کانپ سی گئ تھی ۔۔۔۔
سہہ سہہ کر تھک چکا تھا
” ن۔۔۔و۔۔۔ فل” عفیرہ نے دوبارہ سے ہمت کی لیکن نوفل اپنی کمرے کے دروازے سے پیچھے ہٹ گیا
” ابھی اسی وقت میرے گھر سے نکلو باہر کل شام تک طلاق نامہ تمہارے گھر پہنچ جائے گا ” نوفل کی بات پر وہ پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی
” بس آخری بار معاف کر دو مجھے نوفل ۔۔۔۔۔ آج کے بعد ۔۔۔۔”
” خاموش ہو جاؤ عفیرہ ورنہ یا تو میں تمہارا گلا گھونٹ دونگا یا خود کو ختم کر لوں گا ۔۔۔۔ تم نے کانچ کا برتن نہیں توڑا ۔۔۔ جو معاف کر دو ۔۔۔۔۔ میری عزت ہوتے ہوئے تم ایک غیر مرد کو سیراب کر کے آ رہی ہو ۔۔۔۔ میرے رشتے کو بہت گندی اور غلیظ گالی دے چکی ہو ۔۔۔۔۔ ” نوفل کی بات پر وہ روتے ہوئے نفی میں سر ہلانے لگی
” میں نے ایسا کچھ نہیں کیا نوفل “
” تمہیں دولت چاہیے تھی عفیرہ ۔۔۔۔ ایک فلیٹ اور ایک مہنگی گاڑی ۔۔۔۔ کیا ولی سے زیادہ قیمتی تھی ۔۔۔۔۔ شاید ہاں گاڑی کی قیمت بیٹے سے بڑھ کر تھی ۔۔۔ میری عزت سے بڑھ کر تھی کبھی تو۔ نے ان کا انتخاب کیا ۔۔۔۔ اب یہاں کیا لینے آئی ہو ۔۔۔ جاؤں عفیرہ اکمل ۔۔۔ اپنے زیان کے پاس “
“کہاں جاؤں نوفل ۔۔۔۔ جھوٹا نکلا وہ مجھ سے بدلا لے رہا تھا ۔۔۔۔۔ خدا کے لئےمجھے معاف کر دو ” نوفل نے اسے تاسف سے دیکھا
” اچھا اس نے دھکادے کر نکال دیا تو میں یاد آگیا تمہیں اگر وہ اپنا لیتا تو پھر میرا خیال نہیں آنا تھا ۔۔۔۔ ؟ نوفل کا فشار خون آخری حد تک پہنچا تھا ۔۔۔۔ کیسی بے شرم عورت تھی ۔۔۔ شوہر کی یاد بھی تب ستائی جب محبوب نے ٹھکرا دیا
” ایک زیان نے ٹھکرا دیا تو کیا ہواعفیرہ بہت سے دولت مند ابھی اس شہر موجود ہیں۔۔۔ جن کے پاس زیان سے بڑا گھر اور مہنگی گاڑی ہے بنک بیلنس ہے ۔۔۔۔ جاؤں جا کر کسی اور سے مراسم بڑھا لو “
” نہیں نوفل ۔۔۔۔ بس مجھے معاف کر دیں ۔۔۔۔ مجھے پتہ ہے آپ مجھے چھوڑ۔ہی نہیں سکتے ۔۔۔ ولی کی خاطر ۔۔۔۔ آپ مجھے معاف کر دیں گئے ۔۔۔۔ آخر آپکے خاندان کو میں نے ہی تو آگے بڑھایا ہے ۔۔۔۔۔ بیٹا دیا ہے آپ کو ۔۔۔۔ مجھے کیسے چھوڑ سکتے ہیں ” اس بات نے تو نوفل کا ضبط ہی ختم کیا تھا ۔۔۔۔ اپنے کیے پر پشیمانی کم تھی اور بیٹے کی ماں ہونے کا گھمنڈ زیادہ ۔۔۔
” نوفل بن عبدالقادر اپنے پورے پوش وہواس میں تمہیں طلاق دیتا ہوں ۔۔۔۔ میں تمہیں طلاق دیتا ہوں عفیرہ ۔۔۔ میں تمہیں طلاق دیتا ہوں ” بس چند لمحوں کا کھیل تھا ۔۔۔ عفیرہ ہکا بکا کھڑی تھی ۔۔۔۔۔
” لو ایک بیٹے کی ماں ہونے کے باوجود تم اب میرے رشتے سے آذاد ہو ۔۔۔۔ ” نوفل کی بات پر وہ بری طرح سے روتے ہوئے نفی میں سر ہلا نے لگی تھی
******…….
عبیرہ کی شادی کے بعد ایک ہفتہ اماں جی اور شبو نے خوب خدمتیں کیں تھی ۔۔۔ تا کہ فرقان کی نظر میں دوبارہ سے ماں اور بہن کی اہمیت بڑھ جائے اور پھر وہ بھی عرفان کی طرح انکی تابعداری کرے ۔۔۔۔
” بہو اب کل سے کچن تم سنبھالو بھئ ۔۔۔ تمہارا گھر ہے جیسے چاہو چلاو ” عبیرہ تو یہ سن کر کھل اٹھی تھی ۔۔۔۔۔
” جی اماں جی کیوں نہیں ۔۔۔۔ اب آپ آرام کریں گئی۔ اور میں خود سب کچھ دیکھ لیا کروں گی ” عبیرہ نے مسکرا کر فرمابرداری ک ثبوت دیا تھا
” واہ بھئ بیگم تم نے تو آکر میری ماں کا دل ہی جیت لیا وہ بھی اتنا کہ میری ماں نے سب کچھ تمہارے حوالے کر دیا ہے ۔۔۔ بڑی لکی ہو تم تو عبیرہ ورنہ ۔۔۔۔ اس گھر میں ایک بہو اور بھی ہوا کرتی تھی ۔۔۔۔ جو کام تو سارے کرتی تھی لیکن اختیارات
اسے کبھی نہیں ملے تھے” بات چونکے رات کے کھانے کی میز پر ہو رہی تھی اس لیے خاموش بیٹھے عرفان کا ہاتھ میں پکڑا نوالہ منہ میں جاتے جاتے رکا تھا ۔۔۔
فرقان بھی عرفان کو ہی دیکھ رہا تھا ایک پچھتاوے کی آگ تھی جس میں عرفان جل رہا تھا باقی کا کھانا وہیں چھوڑ کر وہ کمرے سے باہر نکل گیا ۔۔۔۔ فرقان نے عرفان سے نظریں ہٹا کر ماں کے ناگوار چہرے کی طرف مسکرا کر دیکھا ۔۔۔ جوشزا کے ذکر پر اتر سا گیا تھا
” چلیں پھر اماں جی سب سے پہلے تو اپنے لوکر کی چابیاں عبیرہ کے حوالے کریں ۔۔۔۔ اصل سر درد تو یہ زیورات کو سنبھالنا ہے ۔۔۔ ساری رات کوئی دس بار توآپ بند سل۔اری کو دیکھتی ہیں نیند کیا خاک آتی ہو گی آپ کو ” فرقان کی بات نے سماں جی کے ہوش اڑائے تھے شبو بھی گھبرا سی گئ تھی عبیرہ اپنی جگہ متذبذب سی ہوئی تھی ۔۔۔۔
” فرقان وہ تو اماں جی کے پاس ہی رہیں گئے ۔۔۔۔ وہ گھر کی بڑی ہیں ۔۔۔۔ عبیرہ کو کیا پتہ ان باتوں کا ۔۔۔ اور اما جی کا کہنے کا مطلب تھا کہ اب عبیرہ کچن کی زمہ داری نبھالے ” شبو نے فرقان کو نرم لہجے سے کہا اس سے پہلے کے عبیرہ بھی شبو کی باتوں پر ہاں میں ہاں ملاتی ۔۔ برابر میں بیٹھے فرقان نے اسکی گود میں دھرا ہاتھ پکڑا کر ذرا سا دبا کر اسے چپ رہنے کا اشارہ کیا تھا
” آپاں یہ کیا بات ہوئی آپاںیں تو خوش ہو گیا تھا کہ میری بیوی کو بہو کا درجہ دیا جا رہا ہے ۔۔۔ لیکن بات تو وہی ہو گی کہ صرف کام کروانے کے لئے یہ سب جھوٹی باتیں کی جا رہیں ہیں ۔۔۔۔ “
” ایسی بات نہیں ہے فرقان ” اماں جی نے بات سنبھالینے کی کوشش کی فرقان کو بھی ناراض نہیں کرنا چاہتی تھیں
” ٹھیک ہے پھر لائیں چابیاں دیں میری بیوی کواور آج کی رات پر سکون ہو سو جائیں ” فرقان کی بات سن کر اماں جی نے شبو کی طرف مدد طلب نظروں سے دیکھا لیکن اس بات شبو بھی چپ تھی۔۔۔۔
اماں جی نے اپنے پلو سے چابیوں کا گوچھا اتار کر عبیرہ کو پکڑا دیا جو پکڑتے ہوئے بھی گھبرا رہی تھی بار بار فرقان کو دیکھ رہی تھی
