Log Kia Kahe Gy by Umme Hani NovelR50418 Log Kia Kahe Gy Episode 25
Rate this Novel
Log Kia Kahe Gy Episode 25
Log Kia Kahe Gy by Umme Hani
مائرہ کے تین دن آفرین کے ساتھ وقت گزرنے کا پتہ ہی نہیں چلا تھا ۔۔۔۔ تین دن بعد مظہر آفرین کو لینے کے لئے پہنچ گیا تھا ۔۔۔۔۔ نوفل اپنی ہی گلی کے بوڑھے چوکیدار کے ذمے لگا کر گیا تھا کہ اگر مائرہ کو کسی چیز کی ضرورت ہو تو چوکیدار اسے لا دے کافی پرانہ اور قابل بھروسہ چوکیدار تھا ۔۔۔ مائرہ اسی سے ضرورت سامان منگوا لیتی تھی ۔۔۔۔ زونیرہ کی روز ہی مائرہ کو کال آ جاتی تھی خیر خیریت کے لئے ۔۔۔۔
زونیرہ کو جب پتہ چلا کہ آفرین جا چکی ہے ۔۔۔ تو چند دن کے لئے مائرہ کے پاس رہنے آگئ ۔۔۔ انیلا سے یہ بات بھی برداشت نہیں ہوتی تھی کہ وصی اور زونیرہ اسے بڑھی بھابھی کا درجہ دینے کے بجائے مائرہ کو اہمیت دیتے ہیں ۔۔۔ سامنے سگے بھائی کا گھر ہوتے ہوئے زونیرہ مائرہ کے گھر جانے کو ترجعی دیتی ہے ۔۔۔۔ وہاں دونوں میاں بیوی رات تک گزار لیتے تھے ۔۔۔۔
کچھ زولیخہ کی جھوٹی کہانیاں وہ سن چکی تھی۔۔۔۔ مائرہ اور نوفل کے کردار کو لیکر ابھی بھی شک و شبہ میں تھی ۔۔۔۔ کچھ الزام تراشی کرنے میں وہ خود بہت ماہر تھی ۔۔۔۔۔۔ بس موقعے کی تلاش میں رہتی تھی ۔۔۔۔اپنئ اولاد کوئی تھی نہیں ۔۔۔ نند دیور سے بنا کر نہیں رکھی تھی آدھا دن پڑوسیوں کے گھر گزارنا اور آدھا دن اپنی گیلری میں کھڑی ہو کر یہ دیکھنا کہ کس کے گھر کون آتا جاتا ہے یونہی اپنا وقت گزارتی تھی ۔۔۔۔ آج کل جاسوسی کا محور صرف مائرہ تھی ۔۔۔۔۔ جب مائرہ کی شادی ہوئی تھی تب انیلا کی پوری کوشش تھی کہ اسکے اور نوفل کے فسادات ہوں تا کہ وہ مرچ مسالوں کے ساتھ یہ خبریں محلے میں پھیلا سکے لیکن زریاب کی دوراندشی نرم خو اور صلہ جو طعبت کے باعث مائرہ بس وہی کرتی تھی جو زریاب کہہ دیتا تھا ۔۔۔۔ انیلا کو ذیادہ اہمیت نہیں دیتی تھی ۔۔۔ اگر وہ نوفل کے خلاف بات کر بھی دیتی تو وہ صاف کہہ دیتی تھی
” آپ کو غلط فہمی ہوئی ہو گئ بھابھی نوفل ایسا نہیں ہے ۔۔۔ ” انیلا کی کوئی چال کامیاب نہیں ہو پائی تھی وہ تو چاہتی تھی جیسے شمس الدین کو وصی کے خلاف کر کے اسے گھر سے نکلنے پر مجبور کیا ہے ۔۔۔ مائرہ بھی نوفل کو چلتا کرے ۔۔۔ کیونکہ نوفل سے اسے ویسا ہی خدا واسطے کا بیر تھا جیسا وصی سے تھا ۔۔۔۔۔ وجہ یہ تھی کہ وہ اسے بنا لحاظ کے جواب دیتا تھا ۔۔۔۔۔
رمشہ سے رشتہ ٹوٹنا ۔۔۔عفیرہ نامی چھوٹے گھر کی لڑکی کو دیورانی بنا کر لانا انیلا کے لئے یہ بات بھی کافی تشویش ناک تھی کہ نوفل نے رمشہ کو چھوڑ کیوں دیا۔۔۔کیونکہ نوفل تو مزاج کاتیز ہونے کے ساتھ ساتھ نخریلا بھی بہت تھا ۔۔۔۔ بڑے اونچے خواب دیکھنے کا عادی تھا ۔۔۔۔ پھر ایک غریب گھرانے کی لڑکی بیوی بنا کر کیوں لے آیا ۔۔۔۔۔
دو دن سے زونیرہ مائرہ کے ساتھ تھی وصی رات کو کھانا کھا کر واپس چلا جاتا تھا ۔۔۔۔
صبح سے چوکیدار بھی نہیں آیا تھااور سبزی اور دوسری اشیا ذرا دور سے ملتیں تھیں مائرہ گیٹ پر کھڑی چوکیدار کو ہی دیکھ رہی تھی ۔۔ کہ کہیں نظر آئے تو سودا منگوا لے ۔۔۔ شمس الدین اسی وقت گھر سے باہر نکلا تھا اور اتفاق تھا کہ گھر کا سودا ہی۔ لینے جا رہا تھا ۔۔۔ مائرہ کو کھڑے دیکھ کر یوں دائیں بائیں کسی کو ڈھونڈتے دیکھ کر اس کے دروازے کے خاصے فاصلے پر کھڑا ہو گیا
” کسے ڈھونڈ رہیں ہیں بھابھی “
” شمس بھائی چوکیدار روز اسی وقت آتا ہے ۔۔۔ بازار سے سودا منگوانا تھا لیکن ابھی تک آیا ہی نہیں ہے اسی کو دیکھ رہی تھی ۔۔۔ “
” میں بھی سودا لینے ہی کا رہی ہوں ۔۔۔ لائیں مجھے بتائیں کیا منگوانا ہے ۔۔۔ ” شمس الدین نے تو محلے داری کے ناطے ہی پوچھ لیا تھا ۔۔۔۔
لیکن انیلا کی تیز اور شکی نظر سے بچ نہیں پایا تھا وہ گیلری سے اسے دیکھ رہی تھی تیزی سے نیچے چلی اتر آئی ۔۔۔
مائرہ شمس الدین کو سامان بتا رہی تھی ساتھ پیسے بھی دے رہی تھی ۔۔۔ اتفاق تھا کہ دوپہر کاوقت تھا اس لئے گلی میں سناٹا تھا چہل پہل نہیں تھی ۔۔۔۔ انیلا نے اپنا مین گیٹ کھولا اور تن فن کرتی شمس الدین کے پاس پہنچی اور شدید اشتعال سے بولی
” آپ یہاں کیا کر رہے ہیں ۔۔۔۔ گھر سے سودا لینے نکلے تھے یا یہاں کھڑے ہو کر گپیں ہانکنے ؟” مائرہ حیرت زدہ سی ہوئی تھی ۔۔۔ اپنے پیچھے سے انیلا کی چنگھارتی آواز پر شمس الدین بھی بونچکا کر رہ گیا ۔۔۔۔ پیچھے پلٹ کر اسکے خطرناک تیور دیکھ کر بوکھلایا تھا
” م۔۔میں تو بھابھی سے صرف سودے کا پوچھ رہا تھا ۔۔۔ نوفل بھی گھر نہیں ہے تو میں نے سوچا پوچھ لوں کچھ منگوانا تو نہیں ۔۔۔ محلے داری بھی کوئی چیز ہوتی ہے ” شمس الدین نے فورا سے بات کی وضاحت کی تھی انیلا تو کمر پر ہاتھ رکھ بلا وجہ ہی تپ کر بولی
” تو یہی گھر ملا تھا ہے تمہیں محلے داری نبھانے کے لئے ۔۔۔۔ ارے میں تو کہتی ہوں اپنا کام کاروبار چھوڑ کے انکے دروازے پر بھی ڈیرہ جما لو ۔۔۔۔ اس عورت کا تو کام ہی یہی ہے ۔۔۔ اپنے مرد کو کھا گئ اب باقی سب مردوں کو اپنے پیچھے لگا رکھا ہے ۔۔۔۔ ” انیلا کی کراری آواز سن کر زونیرہ بھی باہر آ گئ تھی ۔۔۔ اور خالہ کادروازہ بھی کھلا تھا۔۔اور بھی کئ گھروں کے افراد اپنی کھڑکیوں سے جھانکنے لگے تھے ۔۔۔۔۔۔ وصی کی بھی شامت آئی تھی کہ عین اسی وقت وہ بھی وہاں پہنچ گیا نوفل روز ہی اسے کہتا تھا بھابھی کی خیر خیریت پوچھ لیا کرے اگر کسی چیز کی ضرورت ہو تو لا دے ۔۔۔ مائرہ تو انیلا کی بات سن کر ششدد سی ہوئی تھی ۔۔۔
” بھابھی آپ ہوش میں تو ہیں کیا کہہ کیا رہیں ہیں ” مائرہ نے حیرت سے انیلا کو دیکھا تھا ۔۔۔
وصی بھی بائیک سے اتر کر وہیں آ گیا ۔۔ خالہ بھی وہیں پہنچ گئیں
” کیا بات ہے بھابھی کیوں شور مچا رکھا ہے آپ نے پوری۔ گلی میں ۔۔۔۔” وصی کی آواز پر انیلا نے استزائیہ اور شکی انداز سے اسے دیکھا
” تم بھی اس وقت اپنا دفتر چھوڑ کر یقینا یہاں اس خاتون سے یہی پوچھنے آئے ہو گئے کے ۔۔ اسے کسی چیز کی ضرورت تو نہیں ۔۔ کچھ منگوانا تو نہیں ہے ۔۔ کیوں میاں اسی لئے آئے ہو نا ” وصی ہر بات سے انجان تھا اس لئے اثبات میں ہی جواب دے بیٹھا
” ہاں اسی لئے آیا تھا ۔۔۔ ہم سب کا فرض بنتا ہے کہ ہم ان کی خیال رکھیں ” وصی کی یہ کہنے کی دیر تھی کہ انیلا گویا پھٹ پڑی تھی ۔۔۔
” واہ بھئ کیا فرائض نبھائے کا رہے ہیں ۔۔۔ میں پوچھتی ہوں سامنے میں تمہاری سگی بھابھی ہوتے ہوئے تمہیں کبھی نظر نہیں آئی ۔۔۔ اور اسے پوچھنے تم اپنے دفتر سے یہاں آ رہے ہو ۔۔۔” وصی پر اپنی جلن نکالنے کے بعد وہ مائرہ کو کہنے لگی
” تم پر مجھے حیرت ہوتی ہے مائرہ ۔۔۔۔ ویسے تم بیوہ ہو پر چل چلن کچھ اور ہی نظر آتے ہیں تمہارے ۔۔۔۔سفید چادر میں کیا رنگ روپ چمکتا ہے تمہارا ۔۔۔۔ مردوں کو لبھانے کے کیسے کیسے انداز اپناتی ہو انکی ہمدردیاں کیسے تم حاصل کر لیتی ہو ؟ ۔۔ ہمارے میاں ہم سے سیدھے منہ بات نہیں کرتے اور دیکھوں کیسے لٹو کی طرح گھوم کر تمہارے ارد گرد گھومتے نظر آتے ہیں۔۔۔۔سب کو لائن پر لگا رکھا ہے تم نے ” انیلا اپنی انگلی گول گول گھما کر یوں بولی جیسے لٹو چل رہا ہو
” زبان سنبھال کر بات کرو انیلا ۔۔۔شرم نہیں آتی تمہیں ۔۔۔۔ ” خالہ کا بھی غصے سے دماغ کھولنے لگا تھا لیکن انیلا کہاں کسی کا لحاظ رکھنا جانتی تھی
” خالہ تم تو چپ ہی رہو ۔۔۔۔ تم سے تو کوئی ہنس بات کر لے تو تم اسے نیکو کار سمجھنے بیٹھ جاتی ہو ۔۔۔۔”
” انیلا بھابھی مائرہ بھابھی نے ایسا کیا ہے جو آپ جو بے لگام بولے جا رہیں ہیں ” زونیرہ بھی انیلا کو فہماشی نظروں سے دیکھ کر بولی
” اوہ بہن تم بھی ذرا سنبھل کر رہو ۔۔۔۔ ارے محلے کے مردوں کو اس نے پیچھے لگا رکھا ہے ۔۔۔۔ ابھی کچھ دیر پہلے چوکیدار اس کے دروازے کے پاس منڈلا رہا تھا ۔۔۔۔ وہ تو میں نے اسے کھری کھری سنا کر بھیجا ہے یہاں سے ۔۔۔۔ وہ گیا تو شمس الدین کو محلے داری یاد آگئ اور اب یہ لاڈ صاحب لے ہیں اس بیوہ سے ہمدردی جتانے ۔۔۔ دو دن پہلے رات کو بھی میں نے ایک گاڑی والا رات بارہ بجے اس کے گھر سے نکلا ہے ۔۔۔۔ توبہ میری توبہ ۔۔۔۔ کسی کو چھوڑا بھی اس نے ” انیلا نے کانوں کو ہاتھ لگاتے ہوئے کہا ۔۔۔
” آپ کو رات بارہ بجے میرے گھر سے مرد باہر نکلتا نظر آ گیااس کے ساتھ اسکی بیوی اور بچہ جاتے ہوئے نظر نہیں آئے ۔۔۔۔ دوست تھی وہ میری ۔۔۔۔” نا چاہتے ہوئے بھی وضاحت دے رہی تھی ۔۔۔ اپنی صفائیاں پیش کر رہی تھی ۔۔۔۔ کب کوئی سر سائبان نا رہے تو کردار کی گواہیاں دینی پڑتیں ہیں ۔۔۔۔ ہر ایک کے سامنے جوابدہ ہونا پڑتا ہے ۔۔۔ ورنہ ہر شخص اسکے کردار کی دھجیاں بکھیر کے رکھ دیتا ہے
” ارے بی بی تمہارے کردار کے جھنڈے تو ہر جگہ گڑھے ہوئے ہیں ۔۔۔تم نے تو اس عورت کو نہیں چھوڑا جس نے عدت میں تمہیں اپنے گھر پناہ دی تھی جیسے اس کے شوہر کو تم نے ہاتھوں میں لیا ۔۔۔۔ وہ بیچارا بہکتا نا تو اور کیا کرتا ذرا اپنا حسن تو دیکھو کون نا مر مٹے اس پر جسے تم سجائے رکھتی ہو نا جانے کیا انداز اسے دیکھاتے تم نے ۔۔۔۔ کہ اس کی بد کرداری سب کو نظر آ گئ تمہاری چلن نظر نا آئی ۔۔۔۔ ” مائرہ سن کر رونے لگی تھی ۔۔۔۔۔ وصی انیلا کی باتوں سے غصہ ضبط کر رہا تھا ۔۔۔۔ ورنہ جی تو چاہ رہا تھا کہ اسے نظروں سے غائب کر دے
” سارا سچ نوفل نے سامنے رکھ دیا تھا بھابھی آپ کیوں فضول بولے جا رہیں ہیں ۔۔۔ جائیں جا کر اپنی گھر بیٹھیں ۔۔۔ شمس بھائی لیکر جائیں انہیں یہاں سے ۔۔۔ ” وصی کی کا ضبط ختم ہوا تھا ۔۔۔
” بہت تماشہ لگا لیا تم نے انیلا ۔۔۔۔ ذرا سی بات کو بھتگڑ بنا کر رکھ دیا ہے ۔۔۔۔ ” شمس الدین نے انیلا کا ہاتھ پکڑا اور زبردستی اپنے گھر لے جانے لگا
” ہاں ہاں تم نہیں بولو گئے تو اور کون بولے گا ۔۔۔ تم کون سا کم ہو ۔۔۔ تمہیں تو عادت ہے عورتوں پر نظر رکھنے کی ۔۔۔ زونیرہ لگام لگا کر رکھو اپنے وصی پر ۔۔۔ ورنہ منہ کالا کروا لے گا اسی کے ساتھ جس گھر تم گھسی رہتی ہو ۔۔۔۔ ” شمس الدین با مشکل اسے گھستے ہوئے گھر لے جارہا تھا پوری گلی کے دروازے نیم وا تھے ۔۔بنا جانے کون کون سن رہا تھا ۔۔۔۔ مائرہ کا جی چاہا زمین پھٹے اور وہ اس
میں سما جائے ۔۔۔۔ وصی کا خون ابلنے کی حد کھول کے رہ گیا تھا
” بھابھی آپ انکی باتوں کی پروا نا کریں ۔۔۔ یہ تو ۔۔۔۔۔ ” وصی نے مائرہ کی حالت غیر ہوتے دیکھ کر بات سنبھالنی چاہی
” نہیں وصی ۔۔۔ بس تم جاؤں یہاں سے ۔۔ زونیرہ خدا کے لئے تم بھی چلی جاؤں ” مائرہ نے روتے ہوئے کہا تھا اسوقت کیسی کو نا دیکھنا چاہتی تھی سننا
” بھابھی ۔۔۔۔ ” زونیرہ کو بھی دکھ اور افسوس ہو رہا تھا
” مجھے کچھ نہیں سننا ورنہ پاگل ہو جاؤں گی میں ۔۔۔۔ خدا کے لئے جاؤں تم لوگ ۔۔۔۔۔ ” مائرہ نے ان دونوں کے آگے ہاتھ جوڑے تھے ۔۔۔
وہ دونوں وہاں سے چلے گئے ۔۔۔۔
” اس عورت کی زبان ہی ایسی ہے بیٹا ۔۔۔۔ ” خالہ کو بھی افسوس تھا
” نہیں خالہ بات صرف اتنی ہے ۔۔۔۔ میرا شوہر میرے سر پر نہیں ہے۔۔۔۔ ماں باپ بہن بھائی نہیں ہیں ۔۔۔ اس لئے میں بد کردار ہوں ۔۔۔۔۔ اس لئے ہر کسی کو حق ہے کہ مجھ پر جو چاہے تہمت لگا دے ۔۔۔۔۔ آپ بھی اپنے گھر جائیں ۔۔۔ یہ نا ہو کہ باپ جیسے چچا کے ساتھ مجھے بد نام کر دیا جائے ۔۔۔۔ ” یہ کہہ کر مائرہ نے گھر میں اندر داخل ہو کر دروازہ بند کر لیا ۔۔۔۔ دوڑ کر اندر لاونج میں آ گئ ۔۔۔۔ دونوں بچیاں کارٹون دیکھ رہیں ماں کو یوں بے تحاشہ روتے دیکھ کر سب سے پہلے عائزہ اس کے پاس آئی تھی۔۔۔
” مما کیا ہوا ہے آپ کو ۔۔۔۔ رو کیوں رہیں ہیں ۔۔۔۔ “عائزہ مائرہ کو بلک بلک کر روتا دیکھ کر پریشان ہوئی تھی ۔۔۔ کچھ نہیں بس ۔میری قسمت ہی ایسی ہے ۔۔۔ ” وہ تیزی سے اپنے کمرے کی طرف بڑھ گئ ۔۔۔ جا آئنے کے سامنے اپنا چہرہ دیکھنے لگی ۔۔۔ چہرے کی رنگت کا سفید ہونا شاہد اس کو جرم بن گیا تھا ۔۔۔ ورنہ زریاب کے ہوتے ہوئے جو چمک اس کے چہرے پر تھی وہ تو کب سے ماند پڑ چکی تھی ۔۔۔۔ آنکھوں کے نیچے واقع ہلکے موجود تھے ۔۔۔۔ نا ہاتھ میں چوڑیاں کنگن تھے نا کانوں میں کوئی آوایزے ۔۔۔ ہر طرح کی زیبائش سے چہرہ مبرا تھا ۔۔۔۔ لیکن پھر بھی سب کو اچھی بجلی لگ رہی تھی ۔۔۔۔
ایک پل میں اپنا وجود غلاغت آلود لگنے لگا تھا کہ معاشرے میں رہنے والوں کی نظروں اور باتوں نے ایسا کیچڑ اس پر اچھالا تھا کہ جی چاہا کسی گندے جوہڑ سے خود کے لتھڑ لے اپنے چہرے اور وجود کو بھر لے تا کہ اسکا چہرہ سب کو برا لگے ۔۔۔۔۔ یا پھر چہرہ پر تیزاب ڈال کر اپنے چہرے کے نقوش تک مسخ ہو کر رہ جائیں پھر کوئی مرد کیا کوئی عورت بھی اسے دیکھ منہ پھیر لے یا گلے میں پھندہ ڈالے اور پنکھے سے لٹک جائے ۔۔۔۔ اتنی اہانت ۔۔۔ اتنی ہزمیت کیا یہاں رہنے والوں کا بس یہی کام ہے وہ یہ دیکھتے رہیں کہ میرے گھر کون ا رہا ہے اور کون جارہا ہے ۔۔۔۔ صرف اس لئے کے میرے سر پر کوئی سر پرست نہیں ہے۔ ۔۔۔ اس لئے سب کو چھٹی ہے ۔۔۔۔ جو چاہے کیچڑ اچھال دے ۔۔۔۔ ” دونوں بچیاں ٹی وی بند کیے ماں کے پاس آ کر کھڑی ہو گئیں تھیں ۔۔۔۔
” اے اللہ یہ کیسی آزمائش ہے یہ ۔۔۔۔ اگر شوہر کاسایہ بس اتنی سی مدت کے لئے ہی دینا تھاتو مجھے دو چار بھائی ہی عطا کر دیتا ۔۔۔۔ ۔۔۔۔ میں نے سنا تھا جسے اللہ اپنے بندوں سے اس کی قیمتی چیز کو واپس لے لے تو اسکے بدلے اسے تہی دامن کبھی نہیں چھوڑتا ۔۔۔۔ اسے اس کے نعم وبدل ضرور کچھ عطا کرتا ہے ۔۔۔میرے پاس زریاب ہی سب سے قیمتی تھے ۔۔۔ میری بادشاہت میری عزت میرا مقام انہیں سے تھا ۔۔۔۔ وہ بھی چلے گئے ۔۔۔۔ نا ہی کوئی بھائی ہے نا ہی بیٹا ۔۔۔۔ عورت کے لئے اگر محرم اتناضروری ہے تو میرا بھی تو کوئی محرم ہوتا ۔۔۔۔ جو میرے سامنے ایسی دیور بنکر کھڑا ہو جاتا کہ سب کی شکی اور گندی نظریں اور الزامات مجھ تک نا پہنچ پاتے ۔۔۔۔ میری اس تکلیف کا نعم البدل کیا کے میرے اللہ ۔۔۔۔؟ ” وہ ہچکیوں سے رو رہی با آواز آہ و زاری کر رہی تھی ۔۔۔ دونوں بچیاں گم صم سی ہو کر ماں کو دیکھ رہیں تھیں
جب نوفل کی کال آنے لگی ۔۔۔۔۔ اس وقت شاید وہی مائرہ کو اپنا لگا تھا ۔۔۔۔ پہلے بھی زولیخہ کی کینچی کی طرح چلتی زبان کو نوفل نے ہی روکا تھا ۔۔۔۔ کسی کو بولنے نہیں دیا تھا ۔۔۔ سگا بھائی نہیں تھا لیکن کسی سگے سے کم بھی نہیں تھا ۔۔۔ اس لئے فون اٹھا کر رونے لگی تھی ۔۔۔۔ اسے واپس بلانے لگی تھی ۔۔۔ وہ بے چینی اور پریشانی سے وجہ پوچھ رہا تھا لیکن وہ کچھ بھی بتا نہیں پائی بس یہی کہتی رہی کے تم واپس آ جاؤں ۔۔۔۔
*******……..
عفیرہ ہاتھوں پر لوشن لگاتے ہوئے ساری باتیں سن رہی تھی ۔۔۔ لیکن عدم دلچسپی سے ۔۔۔۔ ” نوفل نے فون بند کیا
” جلدی پیکنگ کرو ابھی اسلام آباد کے لئے نکلنا ہے اور وہاں سے جو پہلی فلائٹ ملی ہم کراچی چلے جائیں گئے ” نوفل بات سن کر وہ حواس باختگی کا شکار ہوئی تھی ۔۔۔
” اتنی جلدی۔۔۔ وہ کیوں ” عفیرہ کا منہ بگڑا تھا
” معلوم نہیں بھابھی بہت رو رہیں تھیں ۔۔۔ پتہ نہیں کیا ہوا ہے ۔۔۔ ۔ ۔میرادل بہت پریشان ہو رہا ہے۔ ۔۔ “
نوفل کی عجلت اور بیقراری عفیرہ کی سمجھ سے باہر تھی ۔۔۔
” نوفل پلیز ہم ابھی نہیں جائیں گئے ۔۔۔۔ ایسا کچھ بھی نہیں ہوا ہو گا ۔دیکھ لیجیے گا ۔۔ بس یونہی ان سے برداشت نہیں ہو رہا ہو گا ہم کیوں گھومنے گئے ہیں ۔۔۔ ” عفیرہ کی بات سن کر وہ تلملا سا گیا تھا ۔۔۔
” او شٹ اپ عفیرہ ۔۔۔۔ اس وقت مجھے بھابھی کی فکر نا ہوتی تو وہ جواب دیتا کہ یاد رکھتی تم ۔۔۔۔۔ دس منٹ دے رہا ہوں تمہیں جلدی پیکنگ کرو ورنہ جو سامان رہ سو رہ گیا میں یہاں انتظار بلکل نہیں کروں گا۔ ۔۔ ” یہ کہہ کر تپے ہوئے
وہ کمرے سے باہر نکل گیا ۔۔۔۔ کچھ ہی دیر میں ایک گاڑی اسلام آباد ائیر پورٹ تک کی بک کروا کر لوٹا تھا ۔۔۔۔ عفیرہ فٹافٹ سے ساری چیزیں بیگ میں ٹھونسنے لگی تھی ۔۔۔۔ سلیقہ مندی تو اسے چھو کر نہیں گزری تھی ۔۔۔۔ دس منٹ میں سامان پیک کر چکی تھی ۔۔۔۔ اسلام ائیر پورٹ پہنچتے ہی ایک گھنٹے بعد کی فلیٹ میں انہیں ٹکٹس مل گئ تھی رات بارہ بجے نوفل نے گھر کی ڈور بیل دی تھی ۔۔۔
******……..
مائرہ اس وقت تو روتے ہوئے نوفل سے بات کر بیٹھی تھی ۔۔۔ خوب رونے دھونے کے بعد ۔۔۔ بچوں کو ساتھ لگایا پورے گھر کو اچھی طرح سےلاک کیا
خود تو کچھ نہیں کھایا تھا لیکن بچوں کو کھانا کھلا کر اپنے کمرے میں سلا دیا ۔۔۔ خود بھی کمرہ لاک کر کے لیٹ گئ ۔۔۔۔ یہی سوچ رہی تھی کہ خواہ مخواہ نوفل کو پریشان کیا۔۔۔۔ کیاسوچے گی عفیرہ آٹھ دن کے لئے گئے تھے اور اس پر بھی فون کر کے بلا لیا ۔۔۔ اس لئے سوچ رہی تھی کہ صبح اٹھتے ہی نوفل کو آنے سے منع کر دے گی ۔۔۔ رہ لے گئ اکیلی ۔۔۔۔ آخر لوگ رہ ہی لیتے ہیں ۔۔۔۔ کیوں اپنی خاطر دوسروں کی زندگی کو متاثر کرو ۔۔۔۔
انہیں سوچوں میں غلطیاں تھی جب باہر ڈور بیل بجی تھی ۔۔۔ وہ بری طرح سے چونکی تھی ۔۔۔ اب تک خود میں جو اعتماد پیدا کیا تھا ۔۔۔ وہ سب ختم ہو چکا تھا ۔۔۔ ڈر اور خوف نے اسے آن گھیرا تھا ۔۔۔۔
چہرے کی رنگت پیلی پڑ گئ تھی ۔۔۔۔جتنا شور شرابہ انیلا نے مچایا تھا ۔۔۔ ۔ جسے نہیں معلوم تھا کہ نوفل گھر پر نہیں ہے وہ بھی جان چکا ہو گا ۔۔۔
” اب کیا کرو گی میں ۔۔۔ لاک دروازے میں اسے لگ رہا تھا کے وہ کھلے عام بیٹھی ہے کوئی بھی اندر آ کر اسے برباد کر دے گا ۔۔۔
بیڈ کے کراؤن کے ساتھ چیک کر بلکل سمٹ کر بیٹھ گئ ۔۔۔ خوف سے رونے لگی ۔۔۔
مسلسل ڈور بیل ہو رہی تھی ۔۔۔۔ پھر موبائل پر بیل ہونے لگی ۔۔۔۔
مائرہ خوف سے ڈری تھی پھر موبائل پر نوفل کا نمبر دیکھ کر فوراسے فون اٹھایا
” بھابھی کہاں ہیں آپ کب سے بیل بجا رہا ہوں ۔۔۔ دروازہ کیوں نہیں کھول رہیں ۔۔۔ ہم کب سے باہر کھڑے ہیں دروازہ کھولیں ” نوفل کی بات سن کر پہلے تو یقین ہی نہیں آیا کہ وہ چند گھنٹوں میں یہاں پہنچ بھی جائے گا ۔۔۔ ڈور بیل پھر سے بجی تھی ۔۔۔۔
مائرہ یکلخت سے اٹھ کر کھڑی ہوئی تھی چادر سر پر لپیٹ کر جلدی سے کمرے سے باہر آئی تھی لاونج کا دروازہ کھولا پھر میں گیٹ عفیرہ اور نوفل کو سامنے دیکھ کر پر سکون ہوئی تھی ۔۔۔ نوفل متفکر تھا لیکن عفیرہ کے چہرے سے صاف ظاہر تھا برہم سی ہے ۔۔۔ ناگواری سے مائرہ کو دیکھ رہی تھی ۔۔۔۔ مائرہ پیچھے ہٹ گئ دونوں اندر داخل ہوئے نوفل نے لیگیج اندر رکھے ۔۔۔۔
******…….
زیان کی والدہ کارو رو کے برا حال تھا ۔۔۔۔ کچھ دیر کے لئے گھر آئیں تھیں ۔۔۔ عزرہ بیگم کے سہارے سے شزا کمرے سے نکل کر کچھ دیر صحن میں بیٹھ گئ تھی ۔۔۔ چچی کو یوں بے کل ہو کر روتے دیکھ کر تسلی دینے لگی
” چچی کیوں روئے جا رہی ہیں ۔۔۔۔ ٹھیک کو جائے گاوہ ۔۔۔۔ ہوش تو ا گیا ہے اسے ۔۔۔ سنبھل بھی جائے گا ۔۔۔۔ ” زیان کے دکھ کاشزا کو بھی قلق تھا ۔۔۔ لیکن عرفان کی بے اعتنائی کا غم ذیادہ تھا پندرہ دن بیت گئے تھے ایک بار فون نہیں کیا تھا شزا نے کال کی بھی تو اس نے اٹھائی نہیں تھی ۔۔۔۔
” ہوش تو آ گیا ہے لیکن ۔۔۔۔ چپ چپ سا ہے ۔۔۔۔ نا بات کرتا ہے نا کسی بات کا جواب دیتا ہے بس چھت کو تکتا رہتا ہے ۔۔۔ ” وہ دل گرفتگی سے کہہ رہیں تھیں
” چچی صدمہ بھی تو بہت بڑا ملا ہے اسے ۔۔۔ سنبھلنے میں وقت تو لگے گا ” شزا نے اپنی چچی کا ہاتھ تھام کر رسانیت سے کہا زیان کے لئے اسکے دل میں صرف ہمدردی کا ہی جذبہ تھا ۔۔۔۔۔
” شزا ۔۔۔۔ زیان نے تمہارے ساتھ اچھا نہیں کیا تھا ۔۔۔۔ یقین جانو ۔۔۔۔ میں اسے سمجھانے کی بہت کوشش کی تھی لیکن اس نے میری ایک نہیں سنی
تمہیں اپنے سسرال والوں کی وجہ سے یوں دکھی دیکھ کر میرا بھی دل کٹتا ہے شزا ۔۔۔ جس غم سے تم دو چار ہو وہ بھی کم نہیں ہے ۔۔۔ شزا ۔۔۔ زیان نے تمہارا دل دکھایا ہے ۔۔۔۔ کہیں ۔۔ دل سے اگر اسکے لئے ب۔۔۔۔بد ۔۔۔دعا ۔۔۔” یہ کہہ وہ رونے لگیں
” چچی ۔۔۔” شزا نے تڑپ کر انہیں دیکھا تھا وہ سسکیوں سے رو رہیں تھیں ۔
” اللہ نا کرے چچی ۔۔۔۔ میں کیوں اسے بد دعا دینے لگی ۔۔۔۔ ” شزا نے کلس کر کہا تھا ۔۔۔۔ بھلا وہ کیوں ایسا کرے گی ۔۔۔۔
” نہیں منہ سے نا بھی کہو ۔۔ دل سے اٹھنے والی آہ بھی بڑی اونچی پرواز رکھتی ہے ۔۔۔۔ میرے بیٹے کو معاف کر دو ۔۔۔شزا ۔۔۔۔ ” وہ شزا کے سامنے ہاتھ جوڑے بول رہیں تھیں ۔۔۔ شزا نے انکے ہاتھ تھام لئے
” چچی وہ زیان کا حق تھا ۔۔۔۔ مجھے کیوں بتا لگے گا یا میں کیوں بد دعا دونگی ۔۔۔۔ میرے نصیب میں عرفان ہیں ۔۔۔۔ اس لئے انہوں نے ہی آنا تھا ۔۔۔ بہانہ بس زیان کا انکار بن گیا ۔۔۔۔ میں الللہ کے فیصلوں پر کیوں کسی کو بد دعائیں دینے لگی ۔۔۔۔ زیان نےجھ سے منگنی ضرور کی تھی لیکن کبھی غیر مہذب گفتگوں نہیں کی ۔۔۔۔ مجھے ہمیشہ کزن کے حوالے سے پوری عزت اور احت ہی دیا ہے ۔۔۔ میں اگر کبھی اسکے سامنے نہیں آئی تو وہ کبھی میرے سامنے نہیں آیا ۔۔۔۔ اللہ اڈے لمبی عمر دے اور سچی خوشیاں بھی دے ” شزا کی باتوں سے زیان کی والدہ کو تسلی سی ہوئی تھی
” بہت بڑا دل ہے تمہارا ۔۔۔۔ ورنہ قصور تو زیان کا نہیں تھا ۔۔۔۔ میں جانتی ہوں لڑکیوں کے جذبات نازک ہوتے ہیں ۔۔۔۔ وہ خواب بھی جلد ہی آنکھوں میں سجا لیتی ہیں ۔۔۔۔ کاش کے یہ عفیرہ نامی بلا میرے بیٹے کی زندگی میں نا آتی تو آج تم بھی خوشحال زندگی جی رہی ہوتی اور زیان بھی ۔۔۔۔ ” زیان کی والدہ کو شزا کے ساتھ ہونے والے حادثے کا بھی دکھ تھا ۔۔۔۔ اور بیٹے کی ذیادتی کابھی احساس تھا ۔۔۔۔
چند دن میں زیان گھر آ چکا تھا پندرہ دنوں نے جیسے اس کی آدھی جان وجود سے نکال لی تھی
جسمانی طور پر بھی کمزور ہو چکا تھا ۔۔۔ دل اور دماغ پر تو جیسے حشر برپا تھا ۔۔۔۔
مہنہ ختم ہوتے ہی ۔۔۔۔ فرقان شزا کو لینے پہنچ گیا تھا اماں جی نے عرفان کی لگامیں ایسی کسی تھیں کہ وہ نا فرمانی کاسوچ بھی نہیں سکتا تھا ۔۔۔
عزرہ بیگم کو یہ بات بلکل غیر مناسب سی لگ رہی تھی ۔۔۔
“بھلا دیور کا لینے آنا کہاں ٹھیک لگتا ہے وہ اکیلے چلو عرفان مصروف تھا تو ماں یا بہن ہی ساتھ آ جاتیں ۔۔۔۔ “
” امی اب اگر آپ نے کوئی نیا ایشو اٹھایا ۔۔۔۔تو یہیں بیٹھی رہ جاؤں ساری زندگی آپ کی دہلیز پر ۔۔۔۔ میرے پاس تو وہ سکہ بھی نہیں رہا جس کی بنا پر عرفان میرے بارے میں سوچے ۔۔۔ بہتر ہے کے مجھے جانے دیں ” وہ اپنے کپڑے بیگ میں ڈال رہی تھی ۔۔۔ جانے سے پہلے ماں کے گلے لگی تھی مگر روئی نہیں ۔۔۔۔
فرقان ٹیکسی لیکر آیا تھا ۔۔۔ سامان اس نے خود ٹیکسی میں رکھا تھا خود ڈرائیور کے ساتھ فرنٹ سیٹ پر بیٹھ گیا ۔۔۔۔
” آپ کی طعبجت اب کیسی ہے بھابھی ” فرقان نے فرنٹ شیشے سے پیچھے بیٹھی شزا کو دیکھ کر پوچھا
“ٹھیک ہوں “
” بہت دکھ ہوتا ہے مجھے آپ کے بارے میں سوچ کر ۔۔۔۔ پھر بھائی کارویہ ۔۔۔۔۔ کیا کہو میں انہیں ” وہ بھی افسردہ تھا فرقان تاسف میں مبتلہ تھا ۔۔۔ جانتا تھا کہ اس ایک مہنے میں ۔۔۔ عرفان سے کتنی معافیاں تلافیاں ماں بیٹی نے کروائیں ہیں اور کتنے وعدے اور قسمیں لیں ہیں کہ کہ وہ سانس بھی انکی مرضی سے لے گا ۔۔۔
” اللہ کی مرضی کے سامنے میں کیا کر سکتی ہوں ۔۔۔ جس کا جو جی چاہے کر لے جینے کی آرزو کسے ہے ” وہ مایوس سی ہو گئ تھی
” خود پر تو رحم کھاسکتی ہیں ” فرقان کی بات پر وہ اسے دیکھنے لگی ۔۔۔ عرفان سے مختلف مزاج کاتھا وہ۔۔۔ فرمابرداری بھی اتنی ہی کرتا تھا جتنی اس سے ہوتی تھی
” کیا مطلب ہے فرقان “
” صاف سی بات ہے بھابھی ۔۔۔۔ بھائی سے کوئی امید مت رکھیے گا کہ آپ کی بات کو اہمیت دیں گئے ۔۔ یا آپکے دکھ کا مداوا کریں گئے “
” جانتی ہوں ” وہ ٹھنڈی آہ بھر کر بولی ۔۔۔ اتنا تو سمجھ ہی گئے تھی ۔۔۔ ایک بار تو عرفان نے اسکی طعبیت تک نہیں پوچھی تھی۔۔۔۔ اب بھی ایسی کوئی امید اس سے تو کر بھی نہیں سکتی تھی
” جب شوہر عرفان بھائی جیسا ہو تو میرے خیال سے عورت کو خود کو مضبوط کر لینا چاہیے ۔۔۔۔ آپ کی فرمابرداری ۔۔۔۔ خاموشی ۔۔۔۔ چپ ۔۔۔۔ صبر ۔۔۔ ہمارے گھر میں آپ کو اس کے بدلے کبھی کوئی تمغہ نہیں ملنے والا ۔۔۔۔ اس لئے چھوٹی بہن سمجھ کر ایک مخلصانہ مشورہ دے رہا ہوں ۔۔۔۔ گھر میں اپنی لڑائی خود لڑنا سیکھ لیں ۔۔۔ ویسا رہیں جیسا زرنش اور بینش رہتی ہیں ۔۔۔ عرفان بھائی کو دیکھانے کے لئے کام کیا کریں ۔۔۔ پیچھے سے آپ بھی اپنی مرضی چلایا کریں ۔۔۔ چپ رہنے کے بجائے ٹکا کے جواب دیا کریں شبو آپاں کو ۔۔۔ تبھی وہ سیدھی ہوں گی اور جیسے وہ لوگ جھوٹ بولتی ہیں آپ بھی بھائی سامنے اپنی بات سے مکر جایا کریں ۔۔۔۔ کہہ دیں کے میں نے ایسا کچھ کہا ہی نہیں ۔۔۔۔ اب تک آپ کی چپ نے آپ کو سوائے غموں کے کچھ نہیں دیا اب ذرا بول کر بھی دیکھ لیں شاید حالات بدل جائیں ۔۔۔۔” فرقان کی باتوں پر وہ سوچ میں پڑ گئ تھی ۔۔۔۔ کہہ تو سچ ہی رہا تھا
گھر پہنچی تو رات کے لئے کچھ بھی نہیں پکا ہوا تھا ۔۔۔ پورے کچن میں برتنوں کا انبار تھا ۔۔۔ وہ سیدھا کمرے میں آ کر لیٹ گئ ۔۔۔۔ بینش نے کہا بھی کہ وہ کھانا بنا دے لیکن اس نے کوئی جواب نہیں دیا ۔۔۔ رات جب عرفان گھر آیا تو غصے سے کمرے میں داخل ہوا تھا ۔۔۔۔
” مہینہ بھر آرام کرنے کے باوجود بھی تم بستر سنبھالے کیوں بیٹھی ہو ۔۔۔ کھانا کیوں نہیں بنایا تم نے ” عرفان کے غصے اور اونچے لہجے پر وہ اندر سے گھبرا گئ تھی لیکن بظاہر نارمل ہی رہی
” میری طعبیت اب بھی ٹھیک نہیں ہے ۔۔۔۔ وہ تو اماں جی نے فرقان کو لینے بھیج دیا تو میں نے انکار نہیں کیا ۔۔۔۔ چپ چاپ واپس آ گئ ۔۔۔۔ کھڑی ہوتی ہوں تو چکر آنے لگتے ہیں ۔۔ ٹھیک ہے میں کام کر لیتی ہوں لیکن اگر چکرا کر گر گئ تو اس بار میکے نہیں جاؤں گی ۔۔۔۔ اپنی بہنوں سے کہیے گا کہ وہ میرا خیال رکھیں ۔۔۔ ” یہ کہہ کر شزا کھڑی ہو گئ ۔۔۔۔ چھوٹے چھوٹے قدم اٹھاتی ہوئی وہ کمرے سے باہر جانے لگی
” رہنے دو تم آرام کرو ۔۔۔۔ میں صفیان سے کہتا ہوں بازار سے کچھ کھانے کو لے آئے ۔۔۔۔ ایسے گر ور جاؤں گی تو ۔۔۔ لینے کے دینے پڑ جائیں گئے ” جس طرح سے عرفان تنتناتا ہوا کمرے میں آیاتھا شزا کی بات پر سارا غصہ سمندر کی جھاگ ثابت ہوا تھا ۔۔۔۔
کمرے سے واپس چلا گیا ۔۔۔ شبو نے تین دن سے کسی کو برتن نہیں دھونے دیے تھے ۔۔۔ کہ شزا آ کر دھوئے گی اور اب توایک پلیٹ ایسی نہیں۔ بچی تھی جو بنادھوئے استعمال ہو سکے ۔۔۔۔ مجبورا ۔ ہی صحیح لیکن تینوں بہنوں کو ہی برتن دھونے پڑے تھے ۔۔۔۔۔ کھانا بازار سے آیا ۔۔۔۔
عرفان نے شزا کو کھانا کمرے میں لا کر دیا تھا ۔۔۔ لیکن خود اسکے ساتھ نہیں کھایا ۔۔۔ رات دیر تک ۔۔۔ وہ ماں کے پاس ہی بیٹھا رہا ۔۔۔۔ دو بجے کمرے میں آیا تھا شزا خلاف توقع جاگ رہی تھی ورنہ سو جاتی تھی ۔۔۔
” سوئی نہیں تم ابھی تک ” عرفان تو اسی لئے دیر سے آیا تھا کہ وہ سو چکی ہو گی
” ایک مہنے بعد میں آئی ہوں عرفان ۔۔۔ کتنی ڈھیر ساری باتیں ہیں جو مجھے آپ سے کرنی ہیں ۔۔۔
کیسے سو جاتی “۔۔۔ عرفان بیڈ پر بیٹھتے ہوئے گھبرا سا رہا تھا ۔۔۔ ماں نے بڑی سختی سے منع کیا تھا بیوی کے پاس مت جانا
“تمہاری طعبت ٹھیک نہیں ہے ۔۔۔ تمہیں آرام کرنا چاہیے ۔۔۔ ” عرفان نے شزا کی طرف دیکھنے سے دانستہ اجتناب ہی کیا تھا
” وہ بیڈ کے کنارے پر بیٹھ کر بولا ۔۔۔ شزا اپنی جگہ پر لیٹ گئ ۔۔۔۔ عرفان بھی بیڈ کے دوسرے سرے پر لیٹا تھا ۔۔۔ جیسے شزا کوئی غیر محرم کو ۔۔۔ لیکن اس بار شزا عرفان سے گھبرائی نہیں تھی نا اس انتظار میں رہی کہ وہ خود سے پیش رفت دیکھائے ۔۔۔ عرفان کے بازو پر سر رکھ کر لیٹ گئ ۔۔۔ وہ اچھنبے میں آیا تھا ایسا حق کبھی پہلے
شزا نے دیکھایا نہیں تھا اکثر وہ اس سے گھبرائی اور ڈریبڈریںہی رہتی تھی ۔۔۔ لیکن اس بار اس کے ساتھ لگ کر وہ رونے لگی تھی
” عرفان میں نے آپ کو اس ایک ماہ میں بہت مس کیا ہے ۔۔۔ ایک بار بھی آپ نے مجھ سے بات نہیں کی ایک بار بھی مجھ سے یہ نہیں پوچھا کہ جی رہی ہو کہ مر گئ ہو ۔۔۔۔۔ آپ کو اندازہ ہے کہ کیا کھو چکی ہوں میں ۔۔۔۔
مجھے سب سے ذیادہ آپ کی ہمدردی کی ضرورت تھی ۔۔۔ آپکے اپنایت بھرے چند جمعلوں کی ڈھارس چاہیے تھی ۔۔۔۔ لیکن ایک بار بھی آپ نے مجھ سے بات نہیں کی ۔۔۔۔ ” اس کے سینے منہ چھپائے وہ اپنے دل کا ہر غم اسے بتا رہی تھی ۔۔۔ شکوہ شکایت ۔۔۔ آج کبم ھ بھی دل میں رکھ کر ایک بوجھ کے ساتھ سونا نہیں چاہتی تھی ۔۔۔۔ عرفان سن مردو میں سے تھا جیسے احساس دلایا جائے تب ہی احساس ہوتا ہے ۔۔۔۔ روتی ہوئی بیوی دور تو کتنے سے رہا تھا ۔۔۔ اس لئے سمیٹ ہی لیا تھا
” تم تو رو سکتی ہو ۔۔۔ اور میں ۔۔۔ میں کسے اپنا غم سناؤں ۔۔۔ تکلیف میری بھی برابر ہے لیکن مرد ہونے یہی ایک نقصان ہے ۔۔۔ تمہاری طرح ۔۔۔ یوں تو نہیں سکتا ۔۔۔۔ تم نے اکیلی نے اولد جیسی نعمت کو نہیں کھویا شزا۔ ساری عمر میں بھی باپ جیسا لفظ سننے سے محروم ہو چکا ہوں ۔۔۔ آنکھوں کی باڑ سے آنکھوں پیچھے ہی کہیں دھیکیل کر وہ گوگیرہ لہجے میں بولا ۔۔۔ شزا نے روتے ہوئے چہرہ اوپر کر کے اسے دیکھا جہاں بے بسی کے ڈیرے تھے ۔۔۔
” عرفان دوسری شادی تو نہیں کر لیں گئے نا ؟ ۔۔۔۔ میں یہ غم نہیں سہہ پاؤں گی ” یہی ایک خدشہ شزا کے اندر سے جان نکالتا ہوئے تھا
” ارے نہیں ۔۔۔۔ ایک کے ساتھ ہی انصاف نہیں کر سکتا۔۔۔۔ دوسری لا کر کیا کروں گا ۔۔۔ تم یہ مت سوچوں ۔۔۔۔ ” اسکے ماتھے پر بوسہ دے کر بس یہی ایک تسلی اسے دے پایا تھا ۔۔۔
” اب سو جاؤں ۔۔۔ ” شزا کے بے چین دل میں سکون سا اترا تھا ایک ماہ ماں کے گھر بس اسی ایک خیال نے سکھ چین چھین کے رکھا تھا کہ اماں جی کی باتوں میں آ کر کہیں عرفان دوسری شادی نا کر لے ۔۔۔۔
*******……..
لاونج میں داخل ہوتے ہی ۔۔۔ عفیرہ تو تھکن کا بہانہ کر کے کمرے میں جا چکی تھی ۔۔۔ نوفل اب بھی پریشان کھڑا تھا
” کیا ہوا تھا بھابھی ” بنا تمہید باندھے نوفل نے پوچھا تھا
” کچھ نہیں نوفل میں بس یونہی گھبرا گئ تھی ” مائرہ نے نظریں چراتے ہوئے کہا
” بہانے میرے سامنے تو چلیں گئے نہیں ۔۔۔۔ پاگل نہیں ہوں میں ۔۔۔۔ جو سمجھ نا سکو ۔۔۔۔ شرافت سے بیٹھیں ادھر اور بتائیں کیا ہوا تھا ۔۔۔ ” صوفے کی طرف اشارہ کر کے نوفل نے مائرہ کو بیٹھنے کا اشارہ کیا ۔۔۔
” تم تھکے ہوئے آئے ہو نوفل جاؤں آرام کرو صبح بات کر لیں گئے ۔۔۔ “
” جی نہیں ” وہ سخت لہجے میں بولا تھا
” مجھے ابھی۔۔۔۔۔ اور اسی وقت ۔۔۔ سب کچھ جاننا ہے ۔۔۔۔ اب آپ خود بتائیں گئیں یا
میں وصی کو ابھی اسی وقت یہاں بلا کر ساری بات اس سے پوچھو ۔۔۔۔ ” آنکھوں کے گرد غصے سرخ ہوتے ڈورے دیکھ مائرہ سامنے صوفے پر بیٹھ گئ ۔۔۔ نوفل وہیں۔ کھڑا رہا ۔۔۔ ۔۔ آہستہ آہستہ ۔۔۔ مائرہ نے ساری باتیں اسے روتے ہوئے بتائیں تھیں ۔۔۔ جسے وہ مٹھیاں بیچنے باتیں سن رہا تھا ۔۔۔ اسکی سسکیاں سن رہا تھا ۔ضبط سے باہر کی بات تھی ۔۔۔۔ جس کی ہنسی کی کھنکھناتی آواز اسکے دل عزیز بھائی کی آنکھیں بند ہوتے ہی کھو گئ تھی ۔۔۔ اور رہ گئیں تھیں تو یہ سسکیاں پہلے کون سا وہ کوئی زندگی آسودگی سے بسر کر رہی تھی جو اب لوگوں نے اسکے کچے زخموں پر اپنی باتوں سے نمک پاشی شروع کر دی تھی ۔۔۔۔
” میرا قصور کیا ہے نوفل ۔۔۔۔ کیا کروں میں خود کے ساتھ جو کوئی میری طرف آنکھ اٹھا کر بھی نا دیکھے ۔۔۔۔ اگر عائزہ اور منزہ کا خیال ناہوتا تو ختم کر دیتی خود کو ۔۔۔۔ “
” کیوں ختم کر دیتیں ۔۔۔۔ اس انیلا کو تو میں چھوڑو گا نہیں ۔۔۔ ” یہ کہہ وہ باہر کی طرف تیز قدموں سے نکلا تھا ۔۔۔۔ جتنے غصے میں تھا شاید اسے واقع جان سے مار ڈالتا ۔۔۔۔
” نوفل اس وقت ایک بک رہا ہے رات کا ۔۔ کہاں جا رہے ہو تم ” مائرہ بوکھلا کر رہ گئ تھی ۔۔۔۔ حواس باختگی سے نوفل کے پیچھے بھابی تھی لیکن وہ مین گیٹ کھول کر باہر نکل چکا تھا ۔۔۔۔ اب اپنا پاؤں زور زور سے شمس الدین کے مین گیٹ پر مار رہا تھا
” باہر نکلو شمس الدین ۔۔۔۔ ” اس خاموشی سے سناٹے میں نوفل کی آواز پوری گلی میں گونج رہی تھی ۔۔۔۔
سویا ہوا شمس الدین دروازے کی دھڑدھڑاہٹ اور نوفل کے چلانے پر ہڑبڑا کر بیڈ سے نیچے گرا تھا ۔۔۔ آنکھ انیلا کی بھی کھل گئی تھی ۔۔۔
******……..
رمشہ پہلے تو اپنے حسن سر دولت کے نشے میں نوفل سے جو منہ میں آیا کہہ گئ تھی لیکن اسکی شادی کا سن کر اب پچھتا رہی تھی ۔۔۔۔
اسے امید ہی نہیں تھی کہ انا فانا نوفل یہ قدم بھی اٹھاسکتا ہے ۔۔۔۔
شادی کر سکتا ہے ۔۔۔۔ پچھے پندرہ دن سے وہ اسی بات کا سوگ منا رہی تھی ۔۔۔۔ روئی بھی بہت تھی ۔۔۔ ڈیر سال سے وہ دونوں ایک دوسرے کے ساتھ تھے دلی وابستگی کا ہو جانا عام سی بات تھی ۔۔۔۔ پھر منگنی اسکے بعد شادی کی تیاریاں ۔۔۔ سب لوگوں کے طرح طرح کے سوالات کا سامنا اسکے والد بڑی شرمندگی اور جھکی نظروں سے کر رہے تھے ۔۔۔۔ لوگوں کی زبانیں رکتی ہی کب ہیں ۔۔۔
سارا الزام نوفل پر لگانے کے باوجود شک بھری نظروں کا سامنا رمشہ کو بھی کرنا پڑ رہا تھا ۔۔۔
انہیں دنوں رمشہ کے لئے ایک رشتہ آ گیا لڑکااکلوتا تھا ۔۔۔ صرف ایک ماں ہی تھی اپنا گھر تھا نوکری بہت اچھی تو نا تھی لیکن اچھاکماتا تھا ۔۔۔۔ رمشہ کے والدین کو ہر لحاظ سے رشتہ اچھا لگا تھا ۔۔۔ لیکن جب رمشہ نے تصویر دیکھی تو صاف انکار کیا تھا
” امی یہ لڑکا کہاں سے لگتا ہے آپ کو ۔۔۔ اچھی خاصی عمر ہے اسکی پھر رنگت بھی کچھ سانولی سی ہے ” رمشہ کی بات سن کر اسکی والدہ اسے سمجھانے لگی
” دیکھو رمشہ اٹھائیس کی تو تم بھی ہونے والی ہو ۔۔۔۔ اب ہر رشتے کو نوفل کو سامنے رکھ کر دیکھو گی تو عیب ہی نظر آئیں گئے ۔۔۔۔ اکلوتا اکلوتا بیٹا ہے گھر کی کوئی ذمہ داری تم پر نہیں ہو گی ۔۔۔۔ “
” امی مجھ سے سال بڑا لگ رہا ہے ۔۔۔ ور دیکھنے میں بھی دو بچوں کا باپ لگتا ہے کچھ تو سوچ سمجھ کر رشتہ کریں ” ۔رمشہ تلملا سی گئ تھی
” تم نے بھی تو نوفل کو نا جانے کیا کہا کہ وہ بدک گیا ۔۔۔ وہ شادی کر بھی چکا ہے اور جو جگ رسوائی اس وجہ سے ہماری یو رہی ہے ۔۔ وہ ہم ہی جانتے ہیں ۔۔۔ تمہاری شادی جتنی جلدی ہو جائے اتنابہتر ہے ۔۔۔۔ پھر ایسا رشتہ بھی ملنا بھی مشکل ہو جائے ۔۔۔ سو سو سوال کرتے ہیں لوگ کے ایسا کیا ہو گیا جو چند دن پہلے شادی سے انکار ہو گیا ۔۔۔۔
پھر بڑی فیملی میں تم ایڈجسٹ بھی کر نہیں کر سکتی ۔۔۔ تمہارے بھی اتنے نخرے ہیں ۔۔۔ ہم کہاں سے ایسا رشتہ ڈھونڈیں ” کل تک جس ماں اسے نوفل کی بھابھی بھی برداشت نہیں جو رہی تھی بیٹی کو الگ رہنے پر نصحتیں کر رہی تھی آج اس بات کا الزام بھی بیٹی کے سر تھا رمشہ ماں کی بات سن کر رو دینے کو تھی ۔۔۔
” امی آپ ہی قصور ہے ۔۔۔ مجھ سے نہیں ہوتے گھر کے کام کاج کیونکہ میں نے کبھی کیے ہی ہیں ۔۔۔ اگر بعد میرے رشتے کے لئے آپ کواتنی ہی پرابلم ہونی تھی تو آپ کو چاہیے تھا مجھے ان سب کاموں کاعادی بناتیں ۔۔۔ میں نہیں کر سکتی یہ سب ۔۔۔۔ چار لوگوں کا کھانا مجھ سے تو نہیں بن سکتا ۔۔۔نا ہی میں گندے برتنوں کو ہاتھ لگا سکتی ہوں ” رمشہ نے کوفت بھرے لہجے سے کہا تھا
” اسی لئے کہہ رہی ہوں اکیلا اکیلا لڑکا ہے ۔۔۔۔ کوئی ذمہ داری بھی نہیں ہے پھر شوہر اگر بیوی سے کم خوبصورت ہو تو قدر۔ بھی زیادہ کرتا ہے تمہارے سامنے ہمیشہ رہے گا ۔۔۔۔ ہمارے پیسوں کے رعب میں بھی رہیں گئے ۔۔۔ ” ماں کی بات کچھ کچھ سمجھ آئی تھی ۔۔۔ پھر اسکے آفس کی سب کولیگ رمشہ کو بھی برا بھلاسمجھ رہیں تھیں ۔۔۔۔ افسوہ چھوڑ چکی تھی لیکن پھر بھی فون پر ہزاروں باتیں سننے کو مل رہیں تھیں ۔۔۔۔ بہتر تھا کہ شادی ہی کر لیتی ۔۔۔ اس لئے ہامی بھر لی ۔۔۔۔۔
چند دن میں منگنی کے بجائے بدر سے رمشہ کا نکاح ہو گیا تھا لیکن رخصتی چند ماہ بعد طے پائی تھی ۔۔۔۔
