Log Kia Kahe Gy by Umme Hani NovelR50418

Log Kia Kahe Gy by Umme Hani NovelR50418 Log Kia Kahe Gy Episode 20

608.9K
51

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Log Kia Kahe Gy Episode 20

Log Kia Kahe Gy by Umme Hani

” خالہ نے اسی رشتے والی سے رابطہ کیا تھا جس نے زریاب اور مائرہ کا رشتہ بتایا تھا ۔۔۔ لیکن لڑکی کی تصویر نہیں دیکھائی تھی ۔۔۔ ہاں تعریف بہت کی تھی ۔۔۔۔ پہلے اکمل صاحب ہی نوفل کو اس کے آفس میں ملنے گئے تھے ۔۔۔ ہر لحاظ وہ انہیں ٹھیک ہی لگا تھا۔۔۔۔ یہی سوچا تھا کہ عفیرہ کے ساتھ عبیرہ کی ذمہ داری سے سبکدوش ہو جائیں گئے لیکن ۔۔۔ نوفل نے صاف اپنی مجبوری بتائی تھی اور یہ بھی کہہ دیا تھا کہ وہ اپنی بھابھی اور بھتجیوں کی کفالت کا زمہ دار ہے ۔۔۔ اس لئے الگ کبھی نہیں رہے گا ۔۔۔ چھوٹی سی فیملی تھی ۔۔۔ اکمل صاحب کو اس بات پر کوئی اعتراض نہیں تھا پھر نا جہیز نا بارات کا خرچہ بس ساددگی سے شادی ۔۔۔ انہیں اور کی چاہیے تھا پھر عبیرہ کا مزاج بھی عفیرہ سے برعکس تھا ۔۔۔ ذیادہ تر گھر وہی سنبھالتی تھی ۔۔۔۔ چھوٹے بھائیوں کا بھی خیال رکھتی تھی ۔۔۔ تھوڑے پر بھی راضی بازی رہتی تھی ۔۔۔۔۔ عابدہ بیگم لڑکے تعریفیں میاں کے منہ سے سن بڑی خوش تھیں ۔۔۔۔

لیکن عفیرہ نے آنا فانا جو ڈرامہ رچایا وہ بوکھلا کر رہ گئیں تھیں ۔۔۔

” میں ہفتے والے دن نکاح کا جوڑا اور باقی چیزیں دے جاؤں گی ۔۔۔ ہمارے ہاں نکاح کا جوڑا لڑکے والوں کی طرف ہوتا ہے ۔۔۔ اتوار کو ہم لوگ صرف دس بارہ لوگ ہی نکاح کے لئے آئیں گئے ۔۔۔ ” مائرہ کی ساری باتیں عابدہ بیگم غائب دماغی سے سن رہیں تھیں ۔۔۔۔ بس ایک ٹک عفیرہ کو دیکھ رہیں تھیں ۔۔۔

اگر یہ خبر زیان کے کانوں میں پڑ بھی گئ تو وہ تو طوفان کھڑا کر دے گا ۔۔۔۔ پانچ سال سے بیٹی اس لڑکے کو محبت کے نام پر بہت کوٹ چکی تھی اور اب تو تین ماہ میں شادی تھی اسکی ۔۔۔۔ عابدہ بیگم کے دل ڈوب رہا تھا ۔۔ لیکن بیٹی بڑی مطمئن بیٹھی تھی ۔۔۔۔ کمال کی اداکارہ تھی یوں شرما لجھا رہی تھی جیسے شرم وحیاء اسکے مزاج ک حصہ ہو ۔۔۔۔

مائرہ نے۔ پچاس ہزار کیش بھی اسکے ہاتھ میں رکھے ۔۔۔

” اپنی مرضی سے جو چاہوں لے لینا ۔۔۔ ” عفیرہ نے اپنی لالچ سے چمکتی آنکھوں سے اپنی ہتھیلی نوٹوں سے بھری دیکھی تھی ۔۔۔۔

مائرہ عابدہ بیگم کے گلے مل کر مبارک باد دے کر خالہ کے ساتھ جا چکی تھی ۔۔۔۔ انکے جاتے ہی عفیرہ نے سکون کی گہری سانس لی بے زاری سے ڈوپٹہ سر سے اتار کر گلے میں لیا

۔” افف دم گھٹنے لگتا یوں ڈوپٹہ لپیٹ کر پتہ نہیں یہ نوفل کی بھابھی یوں اپنا آپ لپیٹ شپیٹ کر سانس کیسے لیتی ہے ” عفیرہ تو یوں بے تکلف ہو کر نافل کا نام لے رہی جیسے پہلے کی شناسائی ہو

عابدہ بیگم بیٹی کے لمحہ لمحہ بدلتے روپ دیکھ کر دنگ تھیں ۔۔۔۔ کیا چیز تھی وہ ۔۔ وہ اٹھ کر عفیفرہ کے پاس بیٹھ گئیں عفیرہ ہاتھ میں پہنی انگوٹھی بڑی دلچسپی سے دیکھ رہی تھی

” یہ سب کیا عفی ۔۔۔۔ “

” مجھے کیا پتہ تھا اماں کے یہ لوگ مجھے دیکھ کر لٹو ہو جائیں گئے ۔۔۔یوں ہاتھ میں سرسوں جما لیں گئے ۔۔۔۔۔ خیر اب تو جو ہونا تھا ہو گیا ۔۔۔۔ ٫”

عفیرہ کے معدافعانہ انداز پر عابدہ بیگم کا پارہ ہائی ہو تھا ۔۔

” تمہیں اتنا آسان لگ رہا یہ سب ۔۔۔ زیان کو خبر ہو گئ تو طوفان کھڑا کر دے گا ۔۔۔ “

” اسے بتائے گا کون اماں ۔۔۔ کناتیں شامیانے تو لگنے نہیں باہر گلی میں ۔۔۔۔ اور کوئی ضرورت نہیں ہے محلے کے غریب غربا کو میرے نکاح پر بلانے کی

جب کوئی آئے گا ہی نہیں تو زیان کو بھی خبر نہیں ہو گئ ۔۔ شادی ہو جائے گی تو کیا بگاڑ لے گا میرا غصہ ہی کرے گا بعد میں خود ہی ٹھیک ہو جائے گا۔” عفیرہ کے لئے تو کوئی بھی بڑی تھی ہی نہیں ۔۔۔۔۔

” اور تیرے ابا ۔۔۔۔ انہیں میں کیا جواب دونگی “

” اوہ ہو اماں ۔۔۔۔ کیوں مجھے پریشان کر رہی ہو ۔۔۔ کہہ دینا عبیرہ جانے کو تیار نہیں تھی انکار کر رہی تھی رشتے سے ۔۔ میں نے تو بس عزت رکھنی چاہی تھی ۔۔۔ مجھے کیا پتہ کے یہ سب ہو جائے گا ۔۔۔ اب جو ہو گیا ہے ۔۔۔۔ اسی میں ابا کی بھی عزت ہے ۔۔۔ ” وہ جھنجھلا کر بولی اور وہاں سے چلی گئ ۔۔۔ عبیرہ نے جب یہ خبر سنی تو کچھ پر تو حیرت سے آنکھیں پھاڑے عفیرہ کو دیکھ رہی تھی

” اپیہ تم نے انکار کیوں نہیں کیا۔۔۔ کیسے کیسی بڈھے کے ساتھ زندگی گزار سکتی ہو اور زیان بھائی کاکیا ہو گا..کیا ضرورت تھی اپیہ اپنی محبت کی یوں قربانی دینے کی ” عبیرہ بہن کی عیاری سے انجان دل میں اس کے لئے ہمدردی محسوس کر رہی تھی ۔۔ اور عفیرہ بہن کی بیوقوفی پر دل میں قہقے لگارہی تھی ۔۔۔

اکمل صاحب تو عابدہ کی باتیں سن کر سر پکڑ کے رہ گئے تھے عبیرہ سے اس قسم حماقت کی امید انہیں نہیں تھی ۔۔۔۔۔ وہ تو ہر بات پر جی کہنے والی لڑکی تھی ۔۔۔۔۔

” لیکن یہ سب تو بہت بڑی گڑبڑ سی ہو گئ ہے ۔۔۔ زیان کے گھر والوں کو کیا جواب دیں گئے ہم “

” فی الحال تو چپ رہتے ہیں ۔۔ءک شادی کو جائے ۔ پھر کہہ دیں گئے کہ مجبورا کرنا پڑا ۔۔۔ ” عابدہ بیگم کی بے تکی بات پر وہ ہتھے سے اکھڑے تھے

” کیا احمکانہ سا جواز ہے عابدہ بیگم ۔۔۔ ارے عبیرہ تیار نہیں تھی تو مجھے فون پر کیوں اطلاع نہیں دی گئ ۔۔۔ اور اگر ذیادہ ہی مسلہ تھا تو ان لوگوں سے معزرت کر لیتے ۔۔۔ بات ختم ہو جاتی لیکن تم نے تو وہ کیا ہے کہ میں چکرا کر رہ گیا ہوں چار دن بعد نکاح کے لئے وہ لوگ پہنچ جائیں گئے ۔۔ جاہل عورت ۔۔۔۔ کہیں منہ دیکھانے کے قابل نہیں چھوڑا مجھے تم نے” اکمل صاحب تواپناسر پیٹ کے رہ گئے تھے ۔۔۔۔

عابدہ بیگم نے ساری بات خود پر لی تھی ۔۔۔۔ عفیرہ اسکول نہیں جا رہی تھی۔۔۔۔ بس یہ بہانہ بنا دیا کہ

بیمار ہے زیان کی کال بھی نہیں اٹھا رہی تھی۔۔۔۔ چار دن ہی تھے ۔۔۔ لیکن عفیرہ کی بے صبری کا یہ عالم تھا کہ چار دن کاٹے نہیں کٹ رہے تھے ۔۔۔ بس نوفل کا چہرہ آنکھوں کے سامنے تھا ۔۔۔ وہ پندرہ لاکھ گاڑی ۔۔۔۔

******…….

ماریہ ذیادہ وقت اب کمرے میں رہنے لگی تھی ۔۔۔ دوائیں وقت لینے لگی تھی ۔۔۔ اب تو مظہر سے بھی یہ ضد نہیں کرتی تھی کہ وہ اس کے پاس رہے ۔۔۔ اسے خود آفرین کے پاس بھیج دیتی تھی ۔۔۔۔

کبھی آفرین سے سامنا ہو بھی جاتا تو اسے دیکھتے ہی گھبرا کر رہ بدل جاتی تھی ۔۔۔۔

آفرین کو اس کا لڑنا جنون میں آنا تو سمجھ میں آتا تھا کہ ایک سوتن کو برداشت کرنا کسی بھی عورت کے لئے آسان نہیں ہوتا لیکن ماریہ کا آفرین سے گھبرانا پیچھے ہٹنا خوف کھانا سمجھ سے باہر تھا

آفرین ماریہ کے کمرے میں آ گئ ۔۔۔۔ اندر آ کر دوازہ بھی بند کر لیا اور لوک بھی کر دیا ۔۔۔۔

آفرین کے ہاتھ میں ایک البم تھی بہت انہماک سے دیکھ رہی تھی مسکراتی تھی ماریہ ان تصویروں سے باتیں کرنے میں یوں مگن تھی جیسے کسی چھوٹے بچے کے لاڈ اٹھارہی ہو ۔۔۔۔

آفرین کی آمد سے وہ بے خبر تھی البم سے باتیں کر رہی تھی

” جب تم آ جاؤں گئے تو ۔۔۔ دیکھنا میں اس دن جشن مناؤں گی ۔۔۔۔ بہت بڑی دعوت کروں گی ۔۔۔ تمہیں پتہ ہے آبان میرے وارڈ رعب میں ابھی بھی تمہارے کپڑے ہنگ ہیں ۔۔۔۔ میں تمہیں وہ وہ سب باری باری پہناؤں گی ۔۔۔۔ تم مجھ سے خوف تو نہیںکھاو گئے نا ۔۔۔ مجھے دیکھ کرڈر کے بھاگوں گئے تو نہیں نا ۔۔۔۔ “۔ یہ کہتے ہوئے ماریہ کے آپ ے چہرے پر خوف کے آثار تھے ۔۔۔ پھر خود ہی مسکرانے لگی

” تم مجھ سے کیوں گھبراؤ گئے میں تو تمہاری سگی ماں ہوں ۔۔۔۔ تم تو بہت پیار کروں گئے

جب سے وہ دوسرے بچے ہیں آبان وہ مجھے دیکھ چھپ جاتے تھے ۔۔۔ میں صرف انہیں پکڑ کر پیار ہی کرتی تھی ۔۔۔ لیکن ان کی مائیں مجھ سے اپنے بچے چھین کر دور لے جاتیں تھیں کہتی تم سائن ہو اپنے بچے کھا گئ ہو ہمارے بچوں پر اپنا سایہ مت ڈالو ۔۔۔۔۔ وہ بھی تمہاری نحوست سے مر جائیں گئے ۔۔۔ میرا کیاقصور تھا آبان اگر چار ماں بعد مجھے بے اولادی کاغم مل جاتا تھا ۔۔۔۔ میں بانجھ تو نہیں تھی ۔۔۔۔ مجھے اولاد دی تھی میرے رب نے لیکن بس چار ماہ تک میں نے ممتا کو اپنے اندر وجود میں محسوس کیا ۔۔۔۔ پھر” ۔۔۔۔۔۔یہ کہہ وہ۔ رونے لگی تھی ۔۔۔ آفرین کے لئے ایک نیا انکشاف تھا ۔۔۔

وہ بانجھ نہیں تھی ۔۔۔۔ پھر مظہر نے اس سے کیوں چھپایا ۔۔۔۔ وہ چلتے ہوئے ماریہ کے سامنے بیٹھ گئ ماریہ نے آنسوں صاف کر کے سام ے دیکھا تو آفرین بیٹھی تھی وہ گھبرا پیچھے ہٹی تھی البم بھی فورا سے بند کر دی

” کیوں آئی ہو یہاں ۔۔۔۔ میں نے منع کیا ہے نا تم سے میرے پاس میت ایاکرو ۔۔۔ دور ۔۔۔۔دور رہو مجھ سے ۔۔۔ میراسایہ بھی تم پر پڑ گیا تو میرا بچہ مر جائے گا ۔۔۔” لیکن جب آفرین کو یونہی بیٹھے دیکھا تو خود اٹھ کر کھڑی ہو گئ سامنے کھڑی سے جا لگی ۔۔۔۔ بری طرح سے گھبرائی ہوئی تھی

” تمہارا بھی وہی بچہ ہے آفرین ۔۔۔ کیسی ماں ہو تم اپنے بچے کی زندگی سے پیار نہیں ہے کیا ” ماریہ کی رنگت سفید سی پڑ گئ تھی جیسے ابھی کچھ انہونی ہو جائے گی

” کیوں ماریہ ۔۔۔ مجھے کیا ہو جائے گا اگر میں آپ کے پاس آ جاؤں گی ۔۔۔ نا مجھے کچھ ہو گا نا ہی میرے بچے کو ۔۔۔۔۔ سب من گھڑت باتیں ہیں ۔۔۔۔

اگر میرے نصیب میں اولاد ہے تو ہر حال میں دنیا میں آئے گی اگر نہیں ہے تو کوئی طاقت اسے دنیا میں نہیں لاسکتی ۔۔۔ ” یہ کہہ وہ کھڑی ہو گئ ۔۔

” پھر بھی دور رہو مجھ سے ۔۔۔۔ جاؤں اپنے کمرے میں میر سایہ بھی تم پر پڑنا ٹھیک نہیں ہے “

ماریہ دیورا کے ساتھ چپک سی گئ تھی خوفزدہ تھی آفرین اس کے پاس آ گئ اس کا بازو پکڑ کر کھنچ کر اسے اپنے گلے سے لگا لیا

” مجھے دیکھنا ہے ماریہ کے سایہ میں کیا نقصان دیتا ہے ۔۔۔ ” ماریہ یک دم سے آفرین سے پیچھے ہٹی تھی ۔۔۔ رونے لگ گئ تھی

” تم پاگل ہو یہ کیا کیا تم نے ۔۔۔ تم نے میرے بچے پر میری نحوست ڈال دی آفرین مار ڈالا اسے ۔۔۔ کیوں کیا ایسا بولو کیوں کیا تم نے ایسا ۔۔۔ وہ چلاتے ہوئے رونے لگی کمرے کے دروازے پر بڑی زور کی دستک ہوئی تھی ۔۔۔۔

” ماریہ دروازہ کھولو لوک کیوں ہے ۔۔۔ ” باہر مظہر کی آواز تھی۔۔۔ ” آفرین وہیں کھڑی رہی دروازہ مریہ نے بھاگ کر کھولا تھا مظہر کو دیکھ کر اسکے ساتھ رونے لگی

” مظہر یہ ۔۔ یہ ۔۔۔ مر دی میرے بچے کو ۔۔۔ میں نے کہاتھا اس سے کےجھ سے دور رہو میرے سائے سے دور رہو ۔۔۔۔ لیکن یہ جان بوجھ ۔۔۔۔ مظہر یہ جان بوجھ کر میرے گلے لگ گئ ۔۔۔۔ ” وہ مظہر کا چہرہ دونوں ہاتھوں میں لئے بے تحاشہ رو رہی تھی ۔۔۔۔ جیسے نا جانے کیا کر بیٹھی ہو ۔۔۔

” مظہر اب وہ مر جائے گا دیکھ لینا میرا آبان مر جائے گا ۔۔۔ یہ اچھی نہیں ہے ۔۔۔ یہ میرے ب ے کو مار ڈال اس نے” مظہر کا چہرہ غصے سے سرخ ہوا تھا ۔۔۔ ماریہ کو چھوڑے وہ آفرین کے پاس آیا تھا

” کیوں آئی اس کے پاس” وہ چلا کر بولا تھا

” مظہر میں ماریہ کا وہم دور کرنا چاہتی “

” او یو بلدی ” باقی کی گالی وہ منہ میں دبا گیا تھا ۔۔۔ اگر وہ اس حالت میں ناہوتہ تو شاید گھستا ہوا کمرے سے باہر لیکر جاتا ۔۔۔۔ لیکن س وقت بے بس تھا ۔۔۔ اس کا ہاتھ پکڑے دھیرے سے ہی چلتا ہوا اسے کمرے سے نکل کر اپنے کمرے میں لے گیا ۔۔۔ ساراغصہ دروازے پر نکلا تھا ۔۔۔۔

” جب وہ تم سے کہہ رہی تھی کہ اسے دور رہو ۔۔۔ تو کیا اردو سمجھ نہیں آتی تمہیں ۔۔۔۔ ” وہ غصے سے غرایاتھا آفرین کو اس بار مظہر کاغصہ بے بنیاد لگا تھا

” مظہر ماریہ ایک بہت بڑی غلط فہمی میں مبتلہ ہے ۔۔ اور مجھے لگتا یہی اس کی بیماری وجہ ہے “

” شٹ اپ ۔افرین ۔۔۔۔ کیا ہو تم سائیکالوجسٹ ہو ۔۔۔۔ ؟ کیا ہو ہاں ۔۔۔۔ ماریہ کے ساتھ کیا مسلہ تم نہیں جانتی ۔۔۔۔ اسکے قریب بھی کیوں گئ تھی تم ۔۔ وہ بھی اس حالت میں ۔۔۔ آفرین اگر اسوجہ سے میرے بچے کو کچھ ہو گیا تو ۔۔۔ ” وہ انگلی اٹھا کر وہ لہو رنگ آنکھوں سے اسے دیکھ لفظوں کو چبا چبا کر کہہ رہا تھا جیسے غصہ ضبط سے باہر ہو آفرین کو یقین نہیں آ رہا تھا کہ ماریہ جیسی سوچ مظہر کی بھی جو سکتی ہے ۔۔۔۔

” مظہر آپ ؟ آپ اس طرح کی بے بنیاد باتوں کو سچ مانتے ہیں “

” بے بنیاد باتیں ۔۔۔۔ ؟ مظہر نے غصے سے دھاڑتے ہوئے کہا

” میرے سامنے زندہ مثال موجود ہے ۔۔۔۔ جیسے تم بے بنیاد باتیں کہہ رہی کواسے میں نے اور ماریہ نے سہا ہے۔۔۔۔۔ ” مظہر کا بس نہیں چل رہا کیس نا کر گزرے اس کے ساتھ ۔۔۔

” مظہر آپ کی سوچ پر افسوس ہو رہا ہے مجھے ” آفرین نے تاسف سے اسے دیکھ کر کہا تھا ۔۔۔۔ اتناویل ایجوکیٹ اور بزنس مین ہو کر بھی وہ ان فرسودہ باتوں پر یقین رکھتا تھا ۔۔۔۔

” آفرین مجھے اس وقت بحث نہیں چاہیے ۔۔۔۔ چلو میرے ساتھ ” یہ کہہ وہ اسکا ہاتھ پکڑے نیچے لے گیا ۔۔۔۔ باہر پورچ میں کھڑی گاڑی کا لاک کھول کر پہلے آفرین کو بیٹھایا پھر خود بیٹھ گیا ۔۔۔۔ گاڑی مختلف راستوں سے ہوئی ایک چھوٹی سی بستی کے اندر جانے لگی تھی ۔۔۔۔ پھر تنگ گلیوں سے ہوتی ہوئی ایک چھوٹے سے مکان کے سامنے رکی تھی ۔۔۔۔

” اترو نیچے ” مظہر نے اسے سخت لہجے سے کہا تھا

” مظہر یہ کون سی جگہ ہے”

” اوہ پلیز سوال مت کرو مجھ سے ” وہ غصے سے بولا تھا۔۔۔ آفرین نیچے اتر گئ ۔۔۔

” مظہر کے ساتھ ہی اندر داخل ہوئی تھی ایک بھاری سے جسامت کی عورت سامنے بیٹھی تھی ۔۔۔ بس سر آدھے سر ہی ڈوپٹہ اوڑھا ہوا تھا ۔۔۔ چال کھلے ہوئے تھے اور دونوں جانب سے آگے کو کر رکھے تھے آنکھیں بند کیے کچھ پڑھ رہی تھی سامنے بیٹھی دو خواتین ہاتھ جوڑے سر جھکائے س کے سامنے بیٹھیں تھیں ۔۔۔

” پاک بی بی کیا میں اندر آ سکتا ہوں ۔۔۔ ” مظہر دروازے کے باہر ہی کھڑا ہو کر بولا اس پچاس پچپن سالہ عورت نے اپنی چیل جیسی آنکھیں کھولیں تھیں ۔۔۔۔ مظہر کو بس ایک نظر دیکھا پھر آفرین کو سر سے پیر تک دیکھا پھر آنکھیں بند کر لیں تسبیح کے دانے تیزی سے گرنے لگے ہونٹوں کی جنبش تیز ہوئی تھی ۔۔۔۔ پھر آنکھیں کھول کر سامنے بیٹھی دونوں عورتوں کے سر اس عورت نے ہاتھ رکھا

” جاؤں اب یہاں سے ۔۔۔۔ با مراد ہو چکی ہو تم دونوں ۔۔۔۔۔ حق اللہ ۔۔۔۔ ھو ” شہادت کی انگلی اس عورت نے اوپر کی جانب کی ۔۔۔ ” وہ دونوں عورتیں اس عورت کاہاتھ چومتے ہوئے کھڑی ہو گئیں اور اس کمرے سے باہر نکل گئیں ۔۔۔

” اندر آؤں بچے ” اس عورت نے ایک نظر مظہر پر ڈال کر کہا ۔۔۔ وہ آفرین کا ہاتھ پکڑے اندر داخل ہوا تھا ۔۔۔۔ دو زانے ہو کر اس عورت کے سامنے بیٹھ گیا ۔۔۔ آفرین کو بھی مجبورا بیٹھنا پڑا ۔۔

ایک نظر پھر اس عورت نے آفرین پر ڈالی

” یہ تیری دوسری جورو (بیوی )ہے ؟”ایک ابرو اچکا کر اس نے مظہر سے دریافت کیا

” جی ” مظہر نے بڑے با ادب لہجے میں جواب دیا تھا ۔۔۔ اس عورت نے تسبح کے دانے پھر سے گھمانے شروع کیے

” میں نے جو تعویز دیے سے پلا دیے تھے اپنی جورو کو ناغہ تو نہیں کیا تھا ” آنکھیں بند کیے وہ مظہر سے پوچھ رہی تھی آفرین ہکابکا دونوں کو دیکھ رہی تھی

” ہاں پلا دیے تھے ۔۔۔ کوئی ناغہ نہیں کیا ” مظہر کی بات آفرین کو ششدد میں ڈال گئ تھی ۔۔۔۔ کیا تھاوہ شخص ۔۔۔۔

” ہمممم ۔۔۔۔۔۔ ” تسبیح کا،ایک چکر ایک منٹ سے پہلے پوراہوا تھا ۔۔۔۔

” وہ ایک غلطی ہو گئ ہے اس سے ۔۔۔ یہ ماریہ کے قر۔۔۔۔۔”

” ناں ۔۔۔۔۔۔ غلطی نہیں ہوئی ۔۔۔۔ ” وہ بند آنکھوں سے بلند لہجے سے بولی تھی ۔۔۔ مظہر آدھی بات پر چپ ہوا تھا

” خود گئ تھی یہ اسکے پاس ۔۔۔۔۔ ” یہ بات سن کر مظہر نے غصے سے آفرین کو دیکھا تھا ۔۔۔

اس نے آنکھیں کھولیں ۔۔۔۔

” پھر چند تعویز اسے اور دیئے “

” ویسے تو بڑی ضدی ہے تیری یہ جورو۔۔۔۔۔ مانے گی نہیں ۔۔۔ لیکن یہ پلادینا اسے ” ایک ناپسندگی سی نظر اس عورت نے آفرین پر ڈالی تھی ایسی ہی ایک نظر مظہر نے بھی اس پر ڈی تھی

” بڑی مشکل ہے کہ تیرا بچہ بچ جائے ۔۔۔۔ اب جا۔۔۔ حق اللہ۔۔۔ ھو ” ویسے اس عورت نے دوبارہ سے شہادت کی انگلی اوپر کواٹھائی ۔۔۔ پھر اپنا ہاتھ آفرین کے سامنے کیا کہ وہ اس کے ہاتھ کا بوسہ لے آفرین کھڑی ہو گئ ۔۔۔ مظہر نے حیرت سے اسے دیکھا تھا

” آفرین بیٹھو ادھر اور احترام سے بوسہ لو پاک بی بی کا ” دبے لہجے میں آنکھیں دیکھاتے ہوئے مظہر نے آفرین سے کہا لیکن وہ باہر جا چکی تھی ۔۔۔۔

اس عورت نے آنکھیں کھولیں

” کہا تھا نے میں نے کہ بڑی ضدی ہے ۔۔۔۔ نہیں مانے گی ۔۔۔۔ ” وہ عورت غصے سے بولی

” بے مراد رہے گی ۔۔۔ بے مراد رہے گی ” بلند لہجے سے بولی تھی مظہر کا چہرہ متغیر ہوا تھا ۔۔۔

******………

شزا کی کچھ دنوں سے طبیعت ٹھیک نہیں تھی ۔۔۔۔

سے تھی ۔۔۔۔ ہلکا سابخار بھی تھا ۔۔۔۔ لیکن پھر بھی کچن میں کام کرنے میں مصروف تھی ۔۔۔ آج زرنش کو کچھ لوگ دیکھنے کے لئے آ رہے تھے ۔۔۔ اس لئے ایک لمبا چوڑا مینوں اسکی ساس نے اس کے سامنے رکھا تھا ۔۔۔۔ شام تک وہ سب کچھ تیار کر چکی تھی تھک ہار کر اپنے کمرے میں گئ تھی ۔۔۔۔ کے مہمانوں کی آمد کاشور ہوا تھا ۔۔۔۔ لیکن اسے اندر جانے سے و کر دیا گیاتھااس لئے وہ تیار بھی نہیں ہوئی تھی کچھ دیر سستانے کے لئے بیڈ پر لیٹ گئ ۔۔۔

ابھی آنکھ لگی ہی تھی کہ ۔۔۔ دروازے پر دستک ہوئی ۔۔۔ شزا نے اٹھ کر دروازہ کھولا توساس کے ہمراہ ایک اجنبی خاتون بھی تھیں ۔۔۔ شاید زرنش کو دیکھنے آئیں تھیں ۔۔۔ لیکن اس کے کمرے میں کیوں آ گئیں یہ شزا کی سمجھ سے باہر تھا

” یہ ہے میری بہو ۔۔۔۔ ساس نے بڑی ناگواری سے تعارف کروایا تھا ۔۔۔۔ شزا اسی گھر کے عام لباس میں تھی ۔۔ کیونکہ اسے اجاز،ت نہیں تھی کہ مہمانوں کے سامنے آئے یا تیار ہو ۔۔۔۔

” شکل سے تو ماشاء اللہ بڑی پیاری ہے لیکن حلیہ بہو والا نہیں لگتا ۔۔۔۔ ” خاتون خاصی تیز تھیں ۔۔۔ ایک نظر اس کے لباس پر ڈال کر بولیں

” اسے توعادت ہے ۔۔۔ گھر میں سجی سنوری رہے گی اور مہمانوں کے سامنے یوں ظاہر کرے گی گئ جیسے ہم پروا نہیں کرتے ۔۔۔ صبح سے تو کمرے میں لیٹی ہوئی ہے آجکل کی بہوئیں کام ہی کہاں کرتی ہیں ۔۔۔۔ میری زرنش صبح سے کچن میں مصروف ہے یہ نا ہو کہ نند کا ہاتھ ہی بٹا دے ” ساس کی گل فشانیاں وہ چپ کر کے سن رہی تھی

” ہاں خوش شکل لڑکیوں کے بڑے ہی نخرے ہیں ۔۔۔ آپ کی بیٹی کے ہاتھ میں جیسے جادو ہے ۔۔۔ ہر چیز لاجواب بنائی ہے اس نے ” وہ خاتوں بھی شزا کے لئے خیالات بدل چکی تھی کمرے سے باہر نکل گئ ۔۔۔۔

کمرے سے نکلتے ہوئے ساس نے یوں شز کو دیکھا جیسے واقعی وہ جان بوجھ کر اس حلیے میں بیٹھی تھی

دونوں ہی باہر چلیں گئیں شزا خاموشی سے بیڈ پر بیٹھ گئ

” ہنہ ۔۔۔۔ اچھی قسمت کے لئے اچھی شکل کا ہونا ضروری نہیں ہوتا ۔۔۔۔ بد نصیبی تو حس کو بھی لگا جاتی ہے ۔۔۔۔ ” اپنی بے بسی اسے رونا آیا تھاکیاقصور تھااس کا

اس بات کی سزا کاٹ رہی تھی ۔۔۔

*****…….

شادی سے ایک دن پہلے مائرہ نکاح کا جوڑا اور بقیہ سامان عفیرہ کے گھر دینے گئ تھی ۔۔۔۔ اس بات زونیرہ بھی ساتھ تھی ۔۔۔۔

چائے اچھااہتمام عابدہ بیگم نے کیا تھا ۔۔۔

چائے بہت خوشگوار ماحول میں ہی پی گئ تھی ۔۔۔

جب مائرہ نے جانے کی اجازت مانگی تو عبدہ بیگم نے جھجکتے ہوئے بات شروع کی

” بہن اگر برا نا مناؤں تو کچھ گزارش کرنی ہے تم سے “

” جی کہیے ۔۔۔ کیا کہنا ہے آپ نے “

” دیکھوں بہن تم میری چھوٹی بہنوں کی طرح ہو میرے دل میں تو ایسی کوئی بات نہیں لیکن ہمارے ہاں ان باتوں کو ماناجاتا ہے ۔۔۔ اس لئے مجبور تم سے کہنے جارہی ہوں کہ

تم کل نکاح پر مت آنا ۔۔۔۔ بیوہ کا نئ دلہن کے نکاح پر ہونا ہمارے ہاں بدشگنی مانی جاتی ہے ۔۔۔۔ ہمارے ہاں تو کئ لڑکیوں کے ساتھ ہو بھی چکا ہے ۔۔۔ شادی کے چند ماہ بعد ہی وہ بھی بیوہ ہو گئیں ” عابدہ بیگم کی بات سن کر مائرہ کاتو رنگ ہی اڑ گیا تھا پہلے اپنے صدمے کو بھلا نہیں پائی تھی اس پر یہ بات سن کر گھبرا سا گئ تھی ۔۔۔۔ لیکن زونیرہ کو یہ بات بری سی لگی تھی

” آنٹی کس دور میں رہتی ہیں آپ ۔۔۔ آجکل کون ان باتوں کو مانتا ہے ۔۔۔۔ نا یہ باتیں قرآن سے ثابت ہیں نا حدیث سے ۔۔۔۔ کس نے کہہ دیا آپ سے یہ سب “

” ارے ہمارے خاندان کی بزرگ خواتین کہتی ہیں ۔۔۔ اور میں نے کہا تو ہے کہ ہم مانتے ہیں ایسی باتوں کو ۔۔ اور بھئ میرا دل ڈرتا ہے ۔۔۔۔ ” عابدہ بیگم کی بات پر مائرہ بھی خوفزدہ ہوئی تھی ۔۔۔ دل نا بھی مانتا تب بھی جس بڑے صدمے سے گزر رہی تھی ۔۔۔سن کر ہی دل خوف سے لرزا تھا ۔۔۔

” اگر تم کل نکاح پر نااوں تو میں احسان مند رہوں گی ” عابدہ بیگم نے ہاتھ جوڑ کر منت کی تھی

” نوفل بھائی کو پتہ بھی چل گیا اس بات کا تو وہ بھی نکاح پر نہیں آئیں گئے ۔۔۔ بھائی تو پہلے ہی انکے حیات نہیں ہیں ایک بھابھی ہی ہیں وہ بھی دیور کی شادی نا دیکھیں یہ کیا بات ہوئی بھلا ” زونیرہ نے تو پورا پورا ناگواری کا اظہار کیا تھا ۔۔۔ زونیرہ کی بات سن کر عابدہ بیگم نے ملتجی نظروں سے من سیدہ کو دیکھا تھا

” اللہ نا کرے کے نوفل کو کچھ ہو ۔۔۔۔ آپ بے فکر رہیں میں نہیں آؤں گی ۔۔۔ “

” بھابھی آپ بھی ؟ حد کرتی ہیں آپ ۔۔۔ یہ سب فضول سی باتیں ہیں ۔۔۔ ان کے خاندان کا یقین ان غلط باتوں پر پختہ ہے تبھی انکے ایسا ہوتا ہے ۔۔۔

حدیث شریف میں ہے کے

عن أبي هريرة عن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان الله عز وجل قال : «انا عند ظن عبدي بي ان ظن بي خير افله وان ظن شرافله».

ترجمہ :

حضرت ابوہر میر در ضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالی نے فرمایا: میرا بندہ میرے بارے میں جیسا گمان رکھتا ہے میں اسکے ساتھ ویسا ہی معاملہ کرتاہوں ،اگر وہ میرے بارے میں اچھا گمان رکھتا ہے تو میرا معاملہ اسکے ساتھ ویسا ہی ہے اور اگر وہ میرے بارے برانگمان رکھتا تو معاملہ اسکے ساتھ ویسے ہی ہے ۔

“دیکھیں جی اللہ اور رسول کی بات اپنی جگہ درست ہے لیکن دنیا داری بھی تو دیکھنی پڑتی ہے

میں تو چپ ہو جاؤں گی لیکن وہ خواتین چپ نہیں ہوں گی ۔۔۔۔ پھر میرا دل دل اندر سے بڑا گھبرا رہا ہے ” عابدہ بیگم کی بات پر زونیرہ کچھ بولتی مائرہ نے اسے روک دیا

” زونیرہ بات کو بڑھاؤں مت ۔۔۔ ایک دن کی بات ہے ان کے دل میں ایسا کوئی خلجان ہے تو ۔۔۔ کیا فرق پڑتا ہے ۔۔۔۔ ” زونیرہ کو چپ کروا کر وہ عابدہ بیگم سے مخاطب ہوئی

” آپ بے فکر رہیں میں نہیں آؤں گی ۔۔۔۔ ” ۔۔۔

” بڑی مہربانی ہے جی آپ کی ” عابدہ بیگم خوش ہو گئیں تھیں ۔۔۔۔ خاندان کی چند ہی بڑی عورتوں کو بلایا گیا تھا ۔۔۔۔ اور ہارنے وقتوں کی فرسودہ باتوں پر وہ عمل پیروا تھیں عابدہ بیگم سمیت ۔۔۔

مائرہ اور زونیرہ وصی کے ساتھ آئیں تھیں ۔۔۔

زونیرہ تو گاڑی میں بیٹھے ہی شروع ہو گئ

” بھابھی دیکھ لیجے گا نوفل بھائی کتنا غصہ کریں گئے “

” ایسا کیا ہو گیا ہے ” وصی نے برابر بیٹھی زونیرہ سے پوچھا اس نے عابدہ بیگم کی ساری بات اسے بتا دی

” جاہل قوم ہے ہماری ۔۔۔ ہندوانا رسموں کو اپنائے ہوئے ہے ۔۔۔۔ بھابھی آپ کو ہامی ہی نہیں بھرنی چاہیے تھی ” وصی کو بھی برا س لگاتھا

” وصی میں کوئی رکاوٹ نہیں چاہتی ہوں ۔۔ اور کوئی ضرورت نہیں ہے نوفل سے کچھ بھی کہنے کی ۔۔۔ تم دونوں چپ رہو گئے ۔۔۔ وہ تواجکل ویسے ہی الجھا پڑا ہے ۔۔۔ اس لئے تم دونوں اسے مزید کچھ نہیں کہو گئے ۔۔۔ “

” مگر بھابھی “

” زونیرہ پلیز ۔۔۔۔ میں کل عین وقت پر کوئی بھی بہانہ کر دوں گی ۔۔۔۔ لیکن تم دونوں چپ رہو گئے ” مائرہ مزید بات ہی ختم کر دی تھی

دونوں میاں بیوی خفگی سے بیٹھے رہے

*******……

رمشہ کو لگا تھا کہ نوفل غصے میں بول گیا ہے

جب آپ ی غلطی کا احساس ہو گا تو رمشہ کی منت کرے گا ۔۔۔۔ لیکن ناوہ آیا نا ہی اسکے گھر سے کوئی۔ آیاتھا ۔۔۔۔ رمشہ کی والدہ نے بھی یہی سمجھا کے بیٹی سے محبت کرتا ہے جب اڈے منانے آئے گا تو صاف الگ گھر کی ڈیمانڈ کر دیں گئیں ۔۔۔ نوفل کی شادی سے ایک دن پہلے رمشہ سے ملنے افس سے اسکی ایک کولیگ آئی تھی ۔۔۔ جو نوفل کو بھی جانتی تھی ۔۔۔ رمشہ نے نوکری چھوڑ دی تھی ۔۔۔ شادی کے بعد نوکری کاارادہ بھی نہیں تھا ۔۔۔

اس لڑکی نے کچھ دیر ہی رمشہ کی خیر خیریت پوچھی اور پرس میں سے ایک کارڈ نکال کر اسے دیا

“یہ کیا ہے ثناء”

” نوفل کی شادی کا کارڈ ہے ۔۔۔ کل شادی ہے اسکی ۔۔۔ ہمہیں تواس نے منہ زبانی ہی کہہ کر بلایا ہے کہہ رہا کارڈ نہیں چھپوائے بس ایک ہی چھپوایا ہے خاص تمہارے لئے ۔۔۔ یہ لو ” ثناء کی بات سن کر رمشہ دنگ سی رہ گئ تھی

” یہ بھی کہہ رہا تھا اس سے کہنا کولیگ ہونے کے ناطے میری شادی پر ضرور آئے ۔۔۔ اچھا میں چلتی ہوں ۔۔۔۔ گھر جا تیاری بھی تو کرنی ہے ” وہ شاید رمشہ ی حالت پر حظہ اٹھانے آئی تھی ۔۔۔ اس لئے اسے بت بنادیکھ کر ی گئ ۔۔۔۔۔

رمشہ کی خوش فہمی چھن سے ٹوٹی تھی ۔۔۔۔

نوفل نے اسکی منت کیا معنی تھی وہ اسی دن شادی کر رہا تھا وہ بھی کسی اور لڑکی سے

******……

شادی کے لئے تیار ہو کر سب سے پہلے وہ زریاب کی تصویر کے سامنے جا کھڑا ہوا تھا ۔۔۔۔۔ زریاب کے ولیمے کے دن کی تصویر تھی دونوں بھائیوں کے بیچ میں مائرہ زریاب کے پہلو کے ساتھ لگ کر کھڑی تھی ۔۔۔۔ دونوں بھائی مسکرارہے تھے ۔۔۔۔

“تمہاری شادی تو میں ایسی دھوم دھام سے کرو گا نوفل کے پورا محلہ کئ سالوں تک یاد رکھے گا ۔۔۔۔ سب کو بلاؤں گا ۔۔۔ ۔۔ ڈھول اور بینڈ باجا ایسا بجواب گا کہ سب لوگ گھروں سے نکل کر دیکھیں گئے کے زریاب کے بھائی کی بارات کس شان سے جا رہی ہے ۔۔۔ ” کتنی ا۔گیں تھیں کتنے خواب جو اس شخص ساتھ مٹی کے ڈھیر میں دفن کو چکے تھے ۔۔۔ نا چائیے ہوئے بھی وہ آنسوں ضبط کھو بیٹھا تھا

” بھائی دیکھو بن گیا آپ کانوفل دلہا ۔۔۔۔

ع

ہر پھول کی قسمت میں کہاں ناز عرساں

کچھ پھول تو کھلتے ہیں مزاروں کے لئے

نا دل میں کوئی امنگ تھی ۔۔۔ نا ہی اس تقریب کو لیکر کوئی اچھوتے سے جذبوں کی بے تابیاں ۔۔۔ لگتا تھا مارے بندھے ایک فرض نبھانے جا رہا ہے ۔۔۔

تا کہ لوگوں کی شک بھری نظروں سے مائرہ کو تحفظ مل سکے ۔۔۔۔

دونوں بچیاں تیار ہو چکیں تھیں ۔۔۔

” زونیرہ ان دونوں کا خیال رکھنا ۔۔ ” مائرہ نے بچیاں زونیرہ کے حوالے کیں تھیں وہ منہ بنائے کھڑی تھی ۔۔۔

نوفل جب ک

رے سے باہر آیا تو مائرہ اسی سفید سے لباس میں تھی “

” بھابھی آپ ابھی تک تیار نہیں ہوئیں “

” نوفل میں بس تیار ہونے ہی کا سوچ رہی تھی لیکن میرا سر بہت چکرا رہا ہے ۔۔ شاید نیند نہیں پوری نہیں ہوئی سر میں بہت درد ہے ۔۔” وہ سر دباتے ہوئے بولی

” تو پہلے ڈاکٹر پر چلتے ہیں ۔۔۔ آپ نے مجھے پہلے کیوں نہیں بتایا “

” نہیں بس کافی سے دن شادی کی تیاریوں کی

بھاگ دوڑ کر رہی تھی شاید تھک گئ ہوں ۔۔۔ اگر مزید ساتھ جانے سے اور تھک گئ تو شاید چکرا کر گر جاؤں ۔۔۔ میں سو جاؤں گی تو ٹھیک ہو جاؤں گی ” مائرہ نے بہانہ بنایا تھا

” یعنی کے آپ بھی نہیں جائیں گئ۔۔۔۔ صاف کہیں نا بھابھی کے آپ جانا ہی نہیں چاہتی ہیں ۔۔۔ مجھے تو بھائی نے ہی نہیں آپ نے بھی لاوارث بنا دیا ہے ۔۔۔ ” وہ پہلے با مشکل ضبط کیے ہوئے تھا ۔۔ بے دلی سے جبرا خود کو ہر بات کے لئے منوارہاتھا ۔۔۔ہم دل ہر امنگ سے خالی تھا

” نہیں ایسا بلکل نہیں ہے ۔۔۔ میں سچ کہہ رہی ہوں نوفل ۔۔۔۔ جھوٹ کیوں بولوں گی تم سے ۔۔۔ اگر تمہیں لگتا ہے بہانے کر رہی تو ٹھیک ہے چلی جاتی ہوں اگر وہاں جاتے ہی چلتا کر گر گئ تو پھر مت شکایت مت کرنا ” مائرہ کی بات سن کر وہ چپ سا ہو گیا تھا چہرے کے دو رنگت کو دیکھ کر لگ رہا تھا کہ واقعی ٹھیک نہیں ہے یانوگل کی طرح وہ بھی کسی ضبط سے گزر رہی ہے ۔۔

” آپ آرام کریں ” نوفل یہ کہہ جانے لگا

” نوفل ایک منٹ ” مائرہ کی پکار پر رک کر پلٹا تھا ۔۔۔ بہت دیر اسے دیکھ رہی تھی زریاب ہوتا تو جانے کتنی بلائیں لیتا پیار سے بھائی کے صدقے اتارتا ۔۔۔ نوفل کے لئے تواس کی زندگی کا خاص دن آج ہی تھا ۔۔۔ اس کے پاس وہ خود چل آئی تھی ۔۔۔۔ پہلی بار خود کو روکا نہیں تھا ۔۔۔ نم آنکھوں سے اسے دیکھنے لگی ہاتھ میں پکڑے نوٹوں کو اس پر وار کر ایک ملازمہ کو دیے

” خدا تمہیں ہر بری نظر اور نحوست سے بچائے اور خوش رکھے ۔۔۔ ” پیار سے اس گال تھپتھپا کر کہا

” اب جاؤں ” یہ کہہ کر خود کمرے میں چلی گئ ۔۔۔

” جانتا ہوں آپ جھوٹ بول رہیں ہیں ۔۔۔ بھائی کے بغیر آپ جا نہیں سکتی تھی میرے ساتھ ۔۔۔ ” دل میں یہ آزردگی لئے وہ باہر نکل گیا تھا ۔۔۔

بارات کیا تھی چند لوگ تھے ۔۔۔ کچھ آفس کے کولیگ تھے ۔۔۔

بارات کے استقبال کے لئے بھی عبیرہ اپنی چھوٹی بہن بھائیوں کے ساتھ پھولوں کی پلٹیں پکڑے بے دلی سے کھڑی تھی۔۔۔ بہن کے لئے دل اداس تھا۔۔۔

اسے بچانے کے چکر میں اپنی سے دوگنی عمر سے شادی کر رہی تھی ۔۔۔ گاڑی ک ہارن سننکر آنکھوں کی نمی کو پونچا تھا ۔۔۔ لیکن جب دولہے کو اندر داخل ہوتے دیکھا تو حیران پریشان سی رہ گئ تھی