Log Kia Kahe Gy by Umme Hani NovelR50418

Log Kia Kahe Gy by Umme Hani NovelR50418 Log Kia Kahe Gy Episode 21

491.6K
51

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Log Kia Kahe Gy Episode 21

Log Kia Kahe Gy by Umme Hani

پھول عبیرہ کے ہاتھ میں ہی رہ گئے تھے ۔۔۔۔ وصی اور اپنے چند کولیگ کے ساتھ نوفل اندر دخل ہوا تھا ۔۔۔ اکمل صاحب اور چند انہیں کی عمر کے لوگ تھے ۔۔۔ جو نوفل کے گلے مل رہے تھے ۔۔۔ عبیرہ اس خوبرو نوجوان کو دیکھ رہی تھی جو اس کا نصیب ہوتے ہوتے رہ گیا تھا ۔۔۔۔ جلدی سے عفیرہ کے کمرے میں گئ وہ دلہن بنی اکیلی بیٹھی تھی عبیرہ اس کے پاس بیٹھ کر حواس باختگی سے بولی

” اپیہ وہ ۔۔۔ تو ۔۔۔۔ وہ تو نوجوان سا ہے بوڑھا تو نہیں ہے ” عبیرہ کی نافہمی کو دیکھ کر عفیرہ کھلکھلاا کر ہنسی تھی ۔۔۔ عبیرہ اسے تعجب سے دیکھنے لگی عفیرہ نے با مشکل اپنی ہنسی روکی پھر گلا کھنکارا پھر بولی

” ہاں مجھے معلوم ہے بڑا ہینڈسم سے میراہونے والا شوہر ۔۔۔۔زیان سے بھی ذیادہ اور امیر بھی بہت ہے زیان سے ذیادہ۔۔۔۔ اس دن دیکھا تھا میں نے اسے ڈرائیونگ سیٹ پر بیٹھے ہوئے ۔۔۔ سمجھ لو عبیرہ اسی وقت دل

آ گیا تھا میرا اس پر پھر جس چیز پر عفیرہ کا دل آ جائے ممکن ہی نہیں کہ وہ کسی اور کی ہو جائے ۔۔۔۔ ” عبیرہ ششدد سی اسے دیکھ رہی تھی ۔۔ بے یقینی سے اس کی بات سن رہی تھی یہ واقعی اسکی سگی بہن تھی

” اپیہ ” با مشکل ہی عبیرہ بہتے آنسوں سے یہ بول پائی تھی ۔۔۔۔

” اب رونا دھونا۔ بند کرو اپنا ۔۔۔۔۔ وہ کون سی تمہاری محبت تھا ایک رشتہ ہی آیا تھا ۔۔۔۔ اور رشتوں کا کیا ہے اور جائیں گئے تمہارے ۔۔۔ کر لینا شادی کیسی پرچون والے سے ؟ ایسا متکبرانا انداز تھا کہ عبیرہ دنگ تھی ۔۔۔۔۔ عفیرہ کا ہتھک بھرا لہجہ جیسے وہ دنیا کو مسخر کرنے کا ہنر جانتی ہو ۔۔۔۔۔ وہ لڑکا واقع عبیرہ کی محبت نہیں تھا ۔۔۔۔ لیکن اس کا نصیب ضرور بن سکتا تھا جسے بہن کی بے حسی اور عیاری نے اپنا نصیب بنا لیا تھا ۔۔۔ دروازہ کے اندر سب سے پہلے عابدہ بیگم آئیں ۔۔۔ پھر اکمل صاحب

“آئیے آئیے قاری صاحب ۔۔۔۔ چند بزرگ خواتین بھی۔ قاری صاحب کے پیچھے اندر آ گئیں ۔۔۔

نکاح شروع ہوا ایجاب قبول بھی ہو گیا عبیرہ بس ایک ٹک اپنی بہن کو دیکھ رہی تھی ۔۔۔۔ جو اس وقت قسمت کی دھنی تھی ۔۔۔۔ اپنی بیوقوفی اور کم عقلی پر عبیرہ کو رونا آیا تھا ۔۔۔۔ عفیرہ کی چالاک اور تیز طرار مزاج اس سے مخفی تو نا تھی ۔۔۔ پھر جو لڑکی

اپنے لئے کم حیثیت والے رشتے قبول نہیں کرتی تھی کسی عمر رسیدہ شخص کے لئے کیسے مان سکتی تھی ۔۔۔۔ ماں باپ کی عزت کا پاس پہلے کون سی رکھتی آ رہی تھی جو اب خیال آ گیا تھا ۔۔۔ زیان کے ساتھ پچھلے پانچ سالوں سے ڈیٹ پر آ جارہی تھی ۔۔۔۔ کب پروا تھی کہ اگر کسی نے دیکھ لیا تو باپ کی عزت کا کیا ہو گا ۔۔۔۔ عبیرہ کو بہن کی سمجھ آئی بھی تھی تو کس مقام پر

جب عبیرہ کے ہاتھ سے اس کی خوش نصیبی ریت کی طرح سے ہاتھ سے پھسل چکی تھی ۔۔۔۔ وہ چپ چاپ کمرے سے نکل گئ ۔۔۔۔ صحن میں رکھی کرسیوں کے سب سے پیچھے جا کر بیٹھ گئ ۔۔۔۔

نکاح ہوا کھانا لگا ۔۔۔ عبیرہ وہاں سے اٹھی تک نہیں ۔۔۔

رخصتی سے پہلے ۔۔۔ چھوٹی بہن اسے ڈھونڈتی ہوئی آئی تھی

” عابی آپی چلو نا ۔۔۔ عفی آپی رخصت ہونے لگی ہے ۔۔۔ اماں کہہ رہیں دودھ پلائی کی رسم کر لو ۔۔۔۔ ” عبیرہ نے آنسوں صاف کیے

” تم کر لو چھوٹی ۔۔ مجھے نہیں کرنی رسم ۔۔۔ “

” ارے چلو نا عابی ۔۔۔۔ ایسے مزہ تھوڑی آئے گا ۔۔۔ ” چھوٹی بہن اس کا ہاتھ پکڑ کر کھنچ کر اسے اندر ڈرائنگ روم میں لے گئ ۔۔۔۔

عفیرہ شرمائی شرمائی نوفل کے برابر میں بیٹھی ہوئی تھی ۔۔۔۔ البتہ نوفل بیزار بیٹھا تھا بار بار گھڑی دیکھ رہا تھا

” وصی ان سے کہو جو رسمیں کرنی ہیں جلدی کر لیں ۔۔۔ بھابھی اکیلی ہیں گھر میں ۔۔۔ رات کے گیارہ بج رہے ہیں ” نوفل سنجیدہ سا بیٹھا ہوا تھا ایک دفعہ بھی برابر بیٹھی اپنی دلہن کو نظر اٹھا کر نہیں دیکھا تھا منزہ اب بھی چاچے کی گود میں بیٹھی جھانک جھانک کر دلہن دیکھ رہی تھی اور عائزہ وصی کی گود میں تھی ۔۔۔

عبیرہ خاموشی سے سامنے کھڑی ہو گئ ۔۔۔ کچھ نہیں بولی عابدہ بیگم کو ہی کہنا پڑا

” عابی سلام کرو بھائی کو ” عابدہ بیگم کی گھوری پر عبیرہ نے گلے میں پھنسا آنسوں کا گولا اندر کو نگلا تھا

” اسلام علیکم” عبیرہ کی آواز پر بس ایک نظر ہی نوفل نے اسے دیکھا تھا ۔۔ سلام کا جواب دیا ۔۔۔ چھوٹی بہن نے ہی ماں کے اشارے پر ماں کی طوطے کی طرح رٹوائی ہوئی بات کو دہرایا تھا دودھ کا گلاس پکڑاتے ہوئے نوفل سے کہا

“نوبل بھائی ۔۔۔ ہمہیں دودھ پلائی میں بیس ہزار چاہیے ۔۔۔ ” نوفل نے گلاس کو ہاتھ نہیں۔ لگایا تھا ۔۔۔ البتہ جیب سے پیسے نکال کر وصی کو پکڑا دیے ۔۔۔ ” وصی نے پیسے گن کر بیس ہزار پکڑا دیے بنا کسی بحث اور مزاق کی جمعلے بازی کے بغیر ۔۔یہ رسم ادا ہوئی تھی ۔۔ عابدہ بیگم تو حیران رہ گئیں تھیں ۔۔۔۔ انہیں تو لگا تھا بیس مانگے گئے تو بات جا کر دس تک پہنچے گی

کیا خبر تھی کہ بیس مانگنے پر بیس ہی مل جائیں گئے ۔۔۔۔ ورنہ بیس کے بجائے پچاس ہی کہہ دیتی ۔۔۔

لالچ انسان کو اندر سے کبھی مطمئن نہیں رہنے دیتی ۔۔۔۔ بے چین کیے رکھتی ہے ۔۔۔۔۔ وہ انسان ہر وقت اسی افسوس میں رہتا ہے کہ کاش

یہ بھی مل جائے ۔۔۔ وہ بھی جائے ۔۔۔۔ یہی مزاج عفیرہ کا بھی تھا ۔۔۔۔۔

رخصت ہوتے ہوئے ماں کے گلے لگ کر رونے دھونے کے بجائے یہ کہہ رہی تھی

” ان پیسوں میں دس میرے لئے سائیڈ پر رکھ دینا اماں۔۔۔ خبردار جو خرچ کیے تو ” عفیرہ بھی عابدہ بیگم کی ہی پرچھائی تھی ۔۔۔ کوئی ملال نہیں تھا کہ زیان کے ساتھ کیا کر کے جا رہی ہے ۔۔۔۔ جب اسے خبر ہوئی تو کیا کرے گا ۔۔۔ بس دودھ پلائی کے پیسوں کی فکر تھی ۔۔۔۔ عبیرہ منظر سے ہی غائب تھی۔۔۔۔ اپنے کمرے میں بیٹھی اپنی قسمت پر رو رہی تھی ۔۔۔۔۔

عفیرہ گاڑی میں پیچھے زونیرہ کے ساتھ بیٹھی تھی ۔۔۔۔۔ ڈرائیونگ وصی کر رہا تھا ۔۔۔ نوفل خاموش ہی بیٹھا ہوا تھا دونوں بچیاں چچا کی گود میں بیٹھی تھیں

” چاچو یہ پیچھے دلہن ہے ؟ ” منزہ نے پہلی بار دلہن کا نام سنا تھا دلہن کو دیکھا تھا

” ہمم ” نوفل نے مختصر سا جواب دیا

” چاچو یہ ہمارے ساتھ کیوں جارہی ہے ۔۔ ‘” منزہ کے چھوٹے سے ذہن میں بے شمار سوال تھے

” اس لئے کہ یہ چاچو۔ کی دلہن ہے ۔۔۔ ہمارے ساتھ ہی جائے گی ہمارے گھر ۔۔۔تم بھی منی ۔۔۔ اسٹوپٹ ہو پوری ” عائزہ نے بڑی اور سمجھدار بہن ہونے کا ثبوت دیا تھا

” عائزہ بری بات ۔۔۔۔ ” نوفل میں گود میں بیٹھی عائزہ کو ڈپٹا۔۔۔۔۔ منزہ اب نوفل کی گود میں کھڑی ہو کر پیچھے ہو کر دلہن دیکھنے لگی۔ سرخ رنگ کی فینسی میکسی میں تیار شیار دلہن اسے بڑی پیاری لگ رہی تھی ۔۔۔۔۔

پھر نوفل کے کان میں پوچھنے لگی

” چاچو یہ آپکی دلہن ہے ؟”

اپنی طرف سے منزہ نے بڑی رازداری سے پوچھا تھا لیکن آواز سب نے سنی تھی ۔۔۔ وصی مسکرانے لگا ۔۔۔

“نوفل جواب دو بچی کو ۔۔۔ کب سے پوچھ رہی تم سے ۔۔۔ ” خاموش بیٹھے نوفل کا موڈ ٹھیک کرنے کے لئے وصی نے ماحول کو بدلنا چاہا ۔۔۔

” منی آپ کو دلہن پسند ہے تو آپ لے لو ” نوفل نے منزہ سے کہا اور اسے پھر سے گود میں بیٹھا لیا جو اسکی گود میں کھڑی ہو کر پیچھے عفیرہ کو دیکھ رہی تھی

” ہاں منی یہ تم رکھ لو چاچو دوسری کے آئیں گئے ۔۔۔ ” وصی نے مزاق سے کہا تھا ۔۔۔۔ زونیرہ اور وصی ہسنے لگے نوفل بھی مسکرانے پر مجبور ہوا تھا لیکن عفیرہ نے اس مزاق کو مزاق نہیں لیا تھا ۔۔۔ دلہن بنی نا بیٹھی ہوتی تو تڑخ کر جواب دیتی

لیکن اس نے بڑی مشکل سے زبان کو روکا تھا ۔۔۔

******…….

گاڑی میں بیٹھتے ہی مظہر نے غصے سے آفرین کو دیکھا تھا

” میری بات کوئی اہمیت نہیں ہے تمہاری نظر میں ؟ “

” آپ کی بات سر آنکھوں پر ہے مظہر لیکن میرا ان باتوں پر یقین نہیں ہے ۔۔۔۔ مجھے حیرت آپ پر ہے آپ کیسے ان لوگوں کی جھوٹی کہانیوں پر یقین کر سکتے ہیں ایک ویل ایجوکیٹ ہو کر ” آفرین نے دل میں چھپے خدشے کا اظہار کیا تھا

” کیوں تمہارا دین سے کوئی تعلق نہیں ہے ۔؟۔۔۔ وہ عورت دین دار ہے ۔۔۔ مفت میں لوگوں بھلا کر رہی ہے ۔۔۔ اللہ کا پاک کلام ہی پڑھتی ہے ۔۔۔۔ ساری عمر شادی کے بغیر اس نے گزار دی ہر وقت بس وضو میں رہتی ہے ۔۔۔۔ اس کی دعائیں قبولیت کادرجہ رکھتی ہیں ۔۔۔ یہ جو ماریہ کا حال ہوا ہے اسی کی بد دعا کا نتیجہ ہے ۔۔۔ احمق لڑکی ۔۔۔ سمجھتی کیوں نہیں ہو تم “

” افسوس ہے ۔مجھے آپ دقیانوسی سوچ پر ۔۔۔۔ میں توابتک یہ سمجھتی رہی کہ میرے شوہر کی سوچ بہت اعلی ہے وہ ایک سطحی سوچ کا مالک نہیں ہے ۔۔۔ لیکن آج یہ سب دیکھ کر میں صرف افسوس کر سکتی ہوں ۔۔۔۔ اگر اتنی ہی والی ہے تو پاک بی بی ہے تو بالوں کھلا کیوں چھوڑ رکھا ہے ۔۔۔ ناسر پورا ڈھانپا ہے نا ہی اپنی زینت پر پورا پردہ ہے۔۔۔نا مردوں سے کوئی پردہ ۔۔۔۔ “

” زبان پر لگام دو اپنی جو کچھ تم کہہ رہی وہ سب انکے علم ہے”

” مظہر وہ خدا نہیں ہے ۔۔۔ ہاں ہو سکتا اپنے چند جنات کے ذریعے چند باتوں کو جان بھی جاتی ہو گئ لیکن اللہ کے مد مقابل اسے کھڑا مت کریں یہ شرک ہے ” آفرین کی بات پر وہ ہتھے سے اکھڑا تھا

” جو منہ آتا ہے بس بکے چلی جا رہی ہوں ۔۔۔ نا میں نے اسے خدا کہا ہے نا خدا کے مد مقابل کھڑا کیا ہے

وہ بھی اللہ کی بندی ہے اللہ کی عنایات ہوتی ہیں ان پر میں کوئی بحث نہیں سننا چاہتا ۔۔۔

اب تک میں تمہارا علاج چھپ کر رہاتھا لیکن اب تم پابندی سے یہ تعویز کا پانی پیو گی ۔۔۔ مجھے میرا بچہ بلکل صحت مند اور تندرست چاہیے ۔۔۔۔ ” مظہر اتنا پریشان تھا جیسے اس عورت کے کہنے کے مطابق اپنے بچے کو کھو بیٹھے گا

” میں یہ ہر گز نہیں پیوں گی ” آفرین کے انکار سے چلتی گاڑی کو بریک لگی تھی ۔۔۔

مظہر کے ماتھے پر پڑی سلوٹوں میں اضافہ ہوا تھا

” آفرین ۔۔۔ مجھے۔۔۔۔ انکار نہیں سننا ” آفرین سکے غصے کو دیکھ کر وقتی طور پر چپ سی ہو گئ ۔۔۔۔

کچھ نہیں کہا ۔۔۔۔ لیکن یہ سوچ چکی تھی کہ اس کی اس سوچ کی۔ تائید کبھی نہیں کرے گی

******……..

مائرہ کے ساتھ ایک ملازمہ گھر پر رکی تھی ۔۔۔ سب کے جاتے ہی اس نے پورا گھر صاف کروایا تھا ۔۔۔۔ پھر اسے کھانا دے کر خود اپنے کمرے میں آ گئ ۔۔۔۔ پنکھا چلایا گرمی میں جب تک وہ کمرے سے باہر ہوتی تھی سفید چادر ہی لپیٹے رہتی تھی ۔۔۔۔سفید چادر اتار ایک طرف رکھی اور زریاب کی کی تصویر کے سامنے کھڑی ہو گئ ۔۔۔۔ سب تصاویر میں اسکے چہرے پر مسکراہٹ تھی ۔۔۔۔ کہیں وہ مائرہ کو دیکھ مسکرا رہا تھا کہیں اسے ساتھ لگائے ہوئے کان میں کوئی سر گوشی کر رہا تھا ۔۔۔۔ وہ کچھ دیر اسے دیکھتی رہی ماضی کی حسین یادیں ہی تھیں اسکے پاس جو وقتا فوقتاً اسے یاد آنے لگتیں تھیں

” زریاب یہ دیکھیں ۔۔۔ آج میں آپ کے سارے پیسے شاپنگ میں اڑا کر آئی ہوں ۔۔۔ ” مائرہ نے شاپنگ بیگ کا بیڈ پر ڈھیر لگایا تھا ۔۔۔ وہ دوکان سے لوٹاتھا تو گھر پر کوئی بھی نہیں تھا دونوں دیور بھابھی شاپنگ پر گئے تھے ۔۔۔۔ زریاب نے نوفل کو کال کی

” کہاں ہو تم دونوں ۔۔۔ ” پیچھے سے مائرہ کی آوازیں بھی آ رہیں تھیں دوکاندار سے وہ کپڑے نکلوانے میں مصروف تھی

” آپ کی جیب کو آگ لگانے کا پروگرام آپکی زوجہ نے بنایا تھا ۔۔۔ بندہ تو تابعداری نبھا رہا ہے ۔۔۔۔ ” نوفل کی بات پر وہ ہسنے لگا

” ہاں اس تابعداری کے بدلے برائنڈ کی شرٹیں جو ملنے والی ہیں تمہیں ۔۔۔۔ تم اور تمہاری تابعداری ۔۔۔ خوف جانتا ہوں میں ” زریاب کی اسکی رگ رگ سے واقف تھا ۔۔۔ نوفل بازار جائے اور اپنی شاپنگ نا کرے ۔۔۔ ممکن ہی نہیں تھا ۔۔۔ اس بات پر ہسنے کی باری نوفل کی تھی

” یار بھائی ۔۔۔ اب مجھ غریب کا اتنا تو حق بنتا ہے ۔۔۔ تین گھنٹے سے ڈیوٹی دے رہا ہوں “

” اچھا سنو سارے پیسے اڑانے کی ضرورت نہیں ہے۔۔۔۔ ” زریاب نے فون بند کرنے پہلے تاکید کی تھی

” او کے ۔۔۔۔ سو دو سو ضرور بچا کر لاؤں گا ۔۔۔ ” نوفل نے یہ کہہ کر فون بند کیا تھا ۔۔۔ زریاب نے فون بند کیا مائرہ کھانا تیار کر کے گئ تھی ۔۔۔۔ اس لئے اس نے کھانا کھانے کے بعد اپنے لئے چائے بنائی اور کمرے میں بیٹھ گیا ۔۔۔۔ باہر مین۔ گیٹ چابی نوفل کے پاس بھی تھی ۔۔۔۔ اس لئے مائرہ نے آتے ہی کمرے کا رخ کیا تھا ۔۔۔۔ شوپنگ بیگ بیڈ پر رکھ کر کہا نوفل بھی دونوں بچیوں کو گود میں اٹھائے ادھر پہنچا تھا ۔۔۔

دونوں کو بیڈ پر بیٹھایا ۔۔۔۔

” افف بھائی کیا چیز ہیں یہ ۔۔۔ ” پھولے ہوئے سانس

کے ساتھ مائرہ کی طرف اشارہ کیا

” اتنی شاپنگ ۔۔۔ میری توبہ ۔۔۔۔ آپ کے پیسے تو جو گئے وہ گئے میرے کریڈٹ کارڈ کو بھی نہیں چھوڑا انہوں نے ۔۔۔ ” زریاب نے بس ایک ہی گھونٹ چائے کا پیا تھا کپ مائرہ نے اس سے پکڑ لیا ۔۔۔نوفل کی بات سن کر مائرہ چائے کا گرم گھونٹ جلدی سے اندر اتارا اور زریاب سے کہنے لگی

” کتنا جھوٹا ہے یہ زریاب ۔۔۔۔ چھ شرٹیں تو اپنی خرید کے لایا ہے اور پرفیوم الگ سے ۔۔۔۔ ” مائرہ اور نوفل کی نا ختم ہونے والی بحث چھڑ چکی تھی ۔۔۔

ساتھ ساتھ وہ چائے پی رہی تھی ساتھ ساتھ نوفل کی شکایتیں لگا رہی تھی ۔۔۔ نوفل جوتوں سمیت بیڈ بیٹھا ہوا تھا ۔۔۔ پھر مائرہ کے ہاتھ سے چائے کا کپ چھینا تھا ۔۔۔۔

” بہت پی لی چائے آپ نے ۔۔۔۔ اب چھٹی کریں ۔۔۔ یہ نہیں ہوا کہ پوچھ لو نوفل پیو گئے کے نہیں ۔۔۔ سارے بازار میں بھیتجیوں سمیت شاپنگ بیگ بھی میں نے پکڑ کر ڈیوٹی دی ہے ” باقی کی چائے اب وہ پی رہا تھا۔۔۔

” مطلب میں سمجھوں کے میرے پیسوں کو خوب اجاڑ کر تم لوگ واپس آئے ہو ” زریاب اب شاپنگ بیگ سے کپڑے نکال نکال کر دیکھ رہا تھا ۔۔۔۔

مائرہ کے سارے ڈریسز اسے پسند آئے تھے سوائے ایک سفید رنگ کے جوڑے کے ۔۔۔۔ “

” مائرہ یہ رنگ کیوں اٹھا لائی ہو تم پر بلکل سوٹ نہیں کرتا ۔۔۔۔ تم بس رنگوں میں اچھی لگتی ۔۔۔ یہ واپس کروا دینا ۔۔۔ “

” زریاب آپ کے سامنے نہیں پہنوں گی لیکن محلے میں آئے دن قرآن خانی پر کوئی نا کوئی بلا لیتا ہے ۔۔۔ اس لئے لائی تھی ۔۔۔۔ ” اپنا ہی عکس وہ زریاب کی فریم میں بڑی سی لگی تصویر میں دیکھ رہی تھی جہاں اسے اپناسفید لباس میں لپٹا وجود نظر آ رہا تھا ۔۔۔۔۔

” زریاب ۔۔۔۔ مجھے رنگوں کی اتنی چاہ کبھی نہیں تھی جتنی آپ کی زندگی میں شامل ہو کر ہو گئ تھی ۔۔۔۔ آپ نے مجھے اتنے رنگوں سے متعارف کروایا کہ بس ایک سفید رنگ کو بھول بیٹھی تھی ۔۔۔۔ مجھے یاد ہی نہیں میں نے آپ کی کی سنگت میں رہتے ہوئے کبھی سفید رنگ بھی پہنا ہو ۔۔۔ کیوں چلے گئے آپ ۔۔۔۔۔ ” سسکیوں سے وہ رونے لگی تھی اس کی کے بلکل تصویر کے پاس کھڑی ہو گئ ۔۔۔۔

“ایک سفید کفن اپنے ساتھ مجھے بھی پہنا کر خود تو اوجھل ہو گئے ہو سب کی نظروں سے ۔۔۔۔ اور میں۔۔۔ ؟ میں اسے پہن کر اپنی قبر ڈھونڈتی پھرتی ہوں ۔۔۔۔ بیوگی کی چادر بڑی خار دار ہوتی ہے زریاب دیکھوں نا میری روح تک زخمی کر چکی ہے ۔۔۔۔ آپ کو پتہ ہے ۔۔۔۔ آپ مجھے نایاب کہتے تھے ۔۔۔اور لوگ۔۔؟ لوگ مجھے منحوس سمجھنے لگیں ہیں ۔۔۔۔

میرا کسی سہاگن کے پاس جانا بدشگن ہے ۔۔۔۔ ” تیزی سے بہتے آنسوں وہ سامنے لگی زریاب کی تصویر میں اپنے آنسوں دیکھ رہی ایک پل کو یہ شبہ ھوا کہ آنسوں زریاب کے مسکراتے چہرے سے بہہ رہے ہیں ۔۔۔ ہچکیوں سے رو رہی تھی ۔۔۔۔

” یہ مت سمجھنا کہ میں نے اپنے فرض نبھانے میں کوتاہی کی ہے

میں جانا چاہتی تھی شادی پر زریاب ۔۔۔۔ لیکن دیکھوں نا لوگوں نے آپ کی مائرہ کو منحوس سمجھ لیا ہے ۔۔۔۔ میراشمار بد بختوں میں ہو چکا ہے ۔۔۔۔ میں مائرہ زریاب جو خود کو خوش نصیب سمجھتی تھی ۔۔۔۔ میری ساری خوشی نصیبی تو شاید آپ کے ساتھ منوں مٹی کے نیچے جا کر دب گئ ہے ۔۔۔ اب میں صرف بیچاری مجبور اور لاچار سی مائرہ ہوں ۔۔۔۔۔”

کچھ پل کے لئے وہ اکیلی نہیں رو رہی زریاب بھی اسکے ساتھ آنسوں بہا رہا ہے ۔۔۔۔۔

پھر لگا جیسے کمرے کا دروازہ کھلا ہے سامنے زریاب کھڑا ہے سفید لباس میں اداس سا ۔رنجیدہ سا ۔۔۔ وہ بھاگ اس کے ساتھ جا کر لگ گئ تھی رونے لگی تھی وہ اسے اپنے حصار میں لئے ہوئے تھا ۔۔۔۔ ایک مخصوص سی مہک تھی جو مائرہ کو اس سے محسوس ہو رہی تھی ۔۔۔۔۔ کوئی لفظ نہیں تھا مائرہ کے پاس بس وہ اس کے ساتھ لگی رو رہی تھی ۔۔۔۔ وہ بھی خاموش تھا سب اسے اپنے اندر سمیٹے ہوئے تھا جب باہر کی ڈور بل پر وہ چونکی تھی ۔۔۔۔ وہ اب بھی تصویر کے سامنے کھڑی تھی کوئی اور وہاں نہیں تھا ۔۔۔۔ مائرہ کی نظر دروازے پر برجستہ اٹھی تھی دروازہ اب بھی بند تھا ۔۔۔ شاید کسی خیال کے زیر اثر تھی زریاب سب صرف ایک حسین تصور تھا ۔۔۔۔ دوسری ڈور بیل پر ہوش میں آئی تھی یادایا کہ نوفل آ گیا ہو گا جلدی سے کمرے لائٹ آف کی اور بیڈ پر لیٹ کر لحاف منہ تک اوڑھ لیا نو بہاتا دلہن کا سامنا نہیں کرنا چاہتی اپنے سائے سے اسے دور رکھنا چاہتی تھی ۔۔۔۔ ایسا نہیں تھا کہ بلکل لاعلم تھی جانتی تھی یہ باتیں لا یعنی ہے لیکن لوگوں کے رویے اچھے اچھوں کی عقل کو مات دے دیتے ہیں بہت کچھ ایساسوچنے پر مجبور کر دیتے ہیں ۔۔۔ کہ جیسے اس پر ہوئے والی آزمائش میں بھی اسی کاقصور ہو ۔۔۔۔ وہ واقع بری ہو بد قسمت کو منحوس ہو ۔۔۔۔

کمرے کادروازے پر دستک ہوئی تھی نوفل نے ہی اسے باہر سے پکار رہا تھا

” بھابھی ۔۔۔۔ ” لیکن مائرہ نے کوئی جواب نہیں دیا

” زونیرہ بھابھی اندر جا کر دیکھیں بھابھی کی طعبیت تو ٹھیک ہے ۔۔۔ ورنہ میں ڈاکٹر پر لے جاؤں انہیں ” نوفل کی آواز میں فکر مندی تھی ۔۔۔ دروازہ کھلا تھا نے آنکھوں پر بازو رکھ لیا تو رو کر اپنی آنکھیں سوجا بیٹھی تھی ۔۔۔۔ کسی کو دیکھانا نہیں چاہتی تھی ۔۔۔۔ زونیرہ نے اسے منہ تک چادر تانے دیکھا تو اندر نہیں آئی

” نوفل بھائی ۔۔۔۔بھابھی سو رہیں ہیں ۔۔۔ “

” اوہ اچھا ٹھیک ہے آپ عفیرہ کو کمرے میں لے جائیں عائزہ اور منزہ سو چکیں ہیں میں انہیں بیڈ پر لیٹا دیتا ہوں ۔۔۔ ” نوفل نے باری باری دونوں کو مائرہ کے بیڈ پر لیٹایا تھا ۔۔۔۔ پھر کمرے کادروازہ بند کر کے چلا گیا ۔۔۔۔

******…….

دو دن سے شزا کی الٹیاں نہیں تک رہیں تھیں ۔۔۔۔ عرفان کو پہلی بار بیوی کا خیال آیا تھا ۔۔۔۔

شزا کی پیلی زرد رنگت دیکھ کر پہلی بار دل کو برا سالگا تھا ۔۔۔ وہ واش روم سے ہانپتے ہوئے باہر نکلی تھی کچھ دیر اپنا پھولا ہواسانس بہال کرتی رہی ۔۔ پھر ڈوپٹہ اوڑھ کر کمرے سے باہر جانے لگی

” کہاں جا رہی تم ‘ عرفان اسی کو دیکھ رہا تھا ۔۔ بہت کمزور سی ہو گئ تھی ۔۔۔ اسکی مسلسل چپ نے جیسے عرفان کے اندر ہلچل مچانی شروع کی تھی ۔۔

” سب کے لئے ناشتہ بنانا ہے “

” رہنے دو تم ناشتہ ۔۔ حالت دیکھوں اپنی ۔۔۔ چادر اوڑھو اپنی ۔۔۔ تمہیں ڈاکٹر پر لیکر جاؤں ” شزا کو اپنے کانوں پر یقین نہیں آ رہا تھا ۔۔۔ کچھ پل تو بڑی حیرت سے عرفان کو دیکھا تھا

” کچھ کہہ رہا تم سے ” عرفان نے دوبارہ کہا تو شزا نے الماری سے چادر لی اور خود پر اوڑھ لی ۔۔۔۔

جب دونوں اماں جی سے اجازت لینے آئے تو وہ تو دونوں کو ایک ساتھ دیکھ متحیر ہوئیں تھیں۔۔۔

” اماں میں شزا کو ڈاکٹر پر لے کر جارہا ہوں طعبیت ٹھیک نہیں ہے اسکی ” عرفان نے اجازت نہیں مانگی تھی بتایا تھا

” لو ایسا کون مرض لاحق ہو گیا ہے اسے ۔۔۔ سب ناشتے کے لئے بھوکے بیٹھے ہیں ۔۔۔ اور تم اسے لے جارہے ہو ۔۔۔ کوئی ضرورت نہیں ہے ۔۔۔ سب ڈرامے بازیاں ہیں ” اماں نے صاف انکار کیا تھا

” اماں آپ کو اسکی حالت نظر نہیں آتی ہے ۔۔۔۔ کل سے بیمار کے وہ ۔۔۔۔ میں کہیں عیاشی کروانے نہیں لے جا رہااسے بس ڈاکٹر پر لے جا رہا ہوں کچھ دیر میں دوا لیکر واپس چھوڑ دونگا اسے زرنش اور بینش سے کہیں کے ناشتہ وہ بنا دیں ۔۔۔۔ ” عرفان کی بات سن کر اماں جی کی آنکھیں پھیلیں تھیں ۔۔۔۔ عرفان کے تیور دیکھ کر ہوش ہی تو اڑ گئے تھے ۔۔۔۔

ڈاکٹر نے چیک کے بعد جو خوشخبری سنائی تھی ایک پل تو عرفان بہت خوش ہوا تھا لیکن سماں کی بات یاد آتے ہی پل میں اداس سا ہو گیاتھا۔۔۔۔

شزاالبتہ بہت خوش تھی ۔۔۔۔

اس وقت تو ڈاکٹر کی دیے گئے ڈسکرپشن پیپر کے مطابق ساری میڈسن عرفان نے لے دیں تھیں ۔۔۔۔

بائیک گھر کے باہر کھڑی کر کے شزا سے کہنے لگا ۔” “سنو اماں جی کو کچھ مت بتانا ۔۔۔ کہہ دینا کہ دوا دی ہے ٹھیک ہو جاؤں گی تم ۔۔ ان سے میں خود بات کر لوں گا ” عرفان نے پہلا اسٹپ بیوی کے لئے اٹھایا تھا ۔۔۔

” جی ” یہ کہہ شزا دروازہ کھٹکھٹائے لگی

“شزا ” بائیک کو دوبارہ اسٹاٹ کرتے ہوئے ۔۔۔

عرفان نے اسے پھر سے پکارا تھا شزا نے پلٹ کر اسے دیکھا

” اپنا خیال رکھنا ۔۔۔ ” یہ کہہ وہ چلا گیا ۔۔۔ شزا کے لئے تو اسکی ایک مہربان نظر ہی دل کو خوش کرنے کے لئے کافی تھی ۔۔۔۔ مسکراہٹ خود با خود چہرے پر پھیل گئ تھی ۔۔۔۔ شاید اولاد میں کشش ہی اتنی ہوتی ہے کہ مرد بیوی کااحساس کرنے لگتا ہے ۔۔۔۔ دل میں نرم گوشہ پیدا ہونے لگتا ہے ۔۔۔۔

جوعرفان کے لہجے سے لگ رہا تھا

*******…….

گھر آتے ہی نوفل عفیرہ کو مائرہ ملوانا چاہتا تھا لیکن وہ سو چکی تھی دونوں بچیاں بھی سو گئ تھی وصی نے عائزہ کو صوفے پر لیٹا دیا تھا ۔۔۔ نوفل نے زونیرہ سے کہا کہ عفیرہ کو کمرے کے جائے ۔۔۔ اور خود باری باری دونوں بچیوں کو بیڈ پر لٹا کر کمرے کادروازہ بند کر دیا تھا ۔۔۔ کچھ دیر وہ وصی کے ساتھ باہر لاونج میں بیٹھا رہا ۔۔۔ ملازمہ سے چائے بنوا کر بھی وصی کے ساتھ پی تھی

زونیرہ نے عفیرہ کو کمرے میں بیٹھاتے ہی اے سی ان کر دیا تھا ۔۔۔ گرمیوں کا موسم تھا ۔۔ پھر دلہن کے پہناوئے میں تو گرمی برداشت کرنا مشکل ہوتا ہے ۔۔۔ عفیرہ بڑے بے تکلفانہ انداز سے بیڈ پر بیٹھی تھی ۔۔۔

” افف بہت گرمی ہے بھئ “۔۔۔ عفیرہ ہاتھ سے خود کو ہوا دینے لگی زونیرہ نے پنکھا بھی چلا دیا ۔۔۔

” پیلز ذرا میرے جوتے تو اتار دو ۔۔۔ ” عفیرہ نے زونیرہ سے کے سامنے اپنے پاؤں۔ بڑھا کر کہا زونیرہ کچھ پل تو اسے دیکھتی رہ گئ ۔۔۔ آئی کہاں سے تھی وہ ایک چھوٹے سے محلے کے چھوٹے سے گھر سے اور نخرے یوں دیکھا رہی تھی جیسے کوئی لین لاڈ ہو

” ایم سوری عفیرہ جوتے میں اپنے میاں کے علاؤہ کسی کے نہیں اتارتی۔۔۔ ” زونیرہ کون سی کم تھی ۔۔۔ دو با دو جواب دینا جانتی تھی ۔۔۔ عفیرہ ابرو چڑھا کر دیکھنے لگی ۔۔۔ جیسے وہ خود کوئی بہت اعلی خاندان سے تعلق رکھتی ہو اور سامنے والا کم حیثیت کا ہو ۔۔۔ پھر خود ہی اپنے پاؤں سے ہیل والے سینڈل اتارنے لگی ۔۔۔

” آپکو کچھ چاہیے تو۔ بتا دیں ۔۔۔ ” زونیرہ کو عفیرہ کا رویہ اچھا نہیں لگا تھا ۔۔۔ لیکن پھر بھی رسم پوچھ لیا

” بس تنہائی چاہیے اگر مل جائے تو ” عفیرہ نے تڑخ کر جواب دیا تھااور خود تکیے سے ٹیک لگا کر بیٹھ گئ ۔۔۔ زونیرہ کمرے سے باہر نکل گئ ۔۔۔ پہلی نظر میں اسے عفیرہ بد دماغ سی لگی تھی ۔۔۔۔ باہر آئی تو وصی مزے سے چائے پی رہا تھا۔۔۔ وہ بھی جا کر اسکے برابر میں بیٹھ گئ ۔۔۔۔

” تم آ بھی گئ اتنی جلدی مجھے تو لگا تھا ۔۔۔ خواتین کی باتیں کبھی ختم ہی نہیں ہوتیں ۔۔۔ لیکن تمہاری محفل تو بڑی جلدی برخاست ہو گئ ۔۔۔ ” زونیرہ کو دیکھ کر وصی نے چھیڑا تھا

” بس نیند آ رہی ہے کافی تھک گئ ہوں ۔۔۔ “

” اچھا چائے ختم کر لوں پھر چلتے ہیں

” وصی بھابھی کی طعبت ٹھیک نہیں ہے ۔۔۔۔ تم لوگ صبح آ جاؤں تو ” نوفل نے ملتجی لہجے میں درخواست کی تھی کافی دن سے زونیرہ مائرہ کے ساتھ ساتھ ہی تھی ۔۔۔ ظاہر ہے کب تک اپنا گھر چھوڑ سکتی تھی

” تم نا بھی کہتے تب بھی آجاتا ۔۔۔ ” خالی کپ ٹیبل پر رکھ وصی کھڑا ہو گیا ۔۔۔۔ نوفل سے گلے ملا اور اجازت لے کر چلا گیا ۔۔۔

ملازمہ بھی لاونج کے کونے بستر بچھانے لگی ۔۔۔ نوفل اپنے کمرے میں داخل ہوا کمرے سجایا نہیں گیا تھا ۔۔۔۔ سادہ سا کمرہ سادافرنیچر دیکھ کر عفیرہ بجھ سی گئ تھی گھر بھی بہت بڑا نہیں تھا باہر چھوٹاسا صحن تھا اندر ایک لاونج اور بس دو کمرے ۔۔۔ وہ تو کسی محل کاتصور باندھے آئی تھی ۔۔۔ پرانہ سا فرنیچر دیکھ کر دو پل اپنے جذباتی فیصلے پر افسوس ہوا تھا ۔۔۔ کمرہ بہت کشادہ نہیں تھا بس مناسب سا تھا ۔۔۔۔

پھر ایک گلاب کا پھول تک سجایا نہیں گیا تھا ۔۔۔

نوفل کے اندر داخل ہوئے پر وہ سیدھی ہو کر بیٹھی تھی ۔۔۔۔

بس ایک دولہا مطلب کا مل گیا تھا ۔۔۔۔ زیان سے کئ گنا زیادہ ہینڈ سم ۔۔۔ پہلی رات کی دلہن کی طرح شرمانہ نظریں چرانا عفیرہ کے بس کی بات نہیں تھی ۔۔۔ اس لئے بڑے مطمئن انداز سے بیٹھی تھی ۔۔۔ نوفل اس کے سامنے بیٹھ گیا ۔۔۔۔

اگر حالات ایسے نا ہوتے تو شاید اس رات کے لئے خواب اسکی آنکھوں میں بہت سے سجے ہوتے ۔۔۔

لیکن اس وقت آنکھیں اور دل خالی مکان تھا ۔۔۔

نوفل نے ایک نظر اس پر ڈالی تھی وہ اسی کو دیکھ رہی تھی ۔۔۔

نوفل سے نظروں کے تصادم پر بھی شرم سے نظریں نہیں چرائیں تھیں ۔۔ بس مسکرانے لگی تھی ۔۔۔

” عفیرہ میں بیوی کے ساتھ آپ جناب کا قائل نہیں ہوں ۔۔۔ نا ہی منافقت پر یقین رکھتا ہوں ۔۔۔۔ نا رشتے کی شروعات جھوٹ کے بنیادوں کر رکھنا پسند کرتا ہوں ۔۔۔۔

تم میری زندگی میں آنے والی پہلی لڑکی نہیں ہو ۔۔۔۔۔

میری پہلے بھی منگنی ہو چکی تھی اور یہ بات تمہارے والد کے علم میں میں لا چکا تھا ۔۔۔ ان سے کچھ نہیں چھپایا ۔۔۔۔ وہ لڑکی میری پسند تھی ۔۔۔لیکن اس سے زیادہ مجھے اپنی فیملی بہت پسند ہے میرے بھائی میں میری جان بستی تھی ۔۔۔ اور انکے بعد انکی بیٹیوں پر میں جان نچھاور کرتا ہوں ۔۔۔ ” وہ بلا جھجک اسکی آنکھوں جھانکتے ہوئے اسے بتا رہا تھا بلکہ اچھی طرح یہ سمجھا رہا تھا کہ اس کی فیملی اس کے لئے کتنی اہم ہے پہلی بار عفیرہ نے نظریں بدلیں تھیں ۔۔۔۔

” رمشہ ۔۔۔۔ میری سابقہ منگیتر کا نام ہے۔ کوئی برائی نہیں تھی اس میں ۔۔۔ تم سے زیادہ خوبصورت تھی ۔۔۔ دولت مند۔۔۔ تعلیم یافتہ ۔۔۔ گو وہ ہر خوبی جو مجھ جیسا لڑکا اپنی لائف پارٹنر میں چاہتا ہے ۔۔۔ بس اسے میرے فیملی سے پرابلم تھا وہ بھابھی کے ساتھ نہیں رہنا چاہتی تھی ۔۔۔۔ اکیلے رہنے کی متمنی تھی۔۔۔۔ میں نے ایک منٹ نہیں لگایا اور اسے اپنے رشتے سے آذاد کر دیا ۔۔۔۔

اور تمہیں دیکھے بنا۔۔۔ جانے بنا تم سے اس لئے شادی کر لی کیونکہ تمہارے والد نے وعدہ کیا ہے کہ انکی بیٹی ہمیشہ گھر کو جوڑ کر رکھے گئ ۔۔۔۔

میں چاہتا ہوں کے تم اس گھر کو اور یہاں کے مکینوں کو اپنی محبت سے جوڑ لو ۔۔۔ میری محبت اور چاہت کی حقدار تم خود با خود ہو جاؤں گی ۔۔۔۔

سمجھ رہی ہو نا میں کیا کہہ رہا ہوں” ساری باتیں عفیرہ کی توقع کے بر خلاف تھیں ۔۔۔ وہ تو سمجھی تھی دولہا میاں اس کے حسن کے قیصدے پڑھ کر سنائے گا ۔۔۔ اور وہ اس بات پر اترآئے گئ ۔۔۔ پہلی نظر ڈالتے ہی شاید اسکی بھابھی عفیرہ کو دیکھ کر جیسے اس پر فریفتہ ہوئی تھی دیور بھی جان نچھاور کر دے گا ۔۔۔ لیکن یہاں تو قصہ ہی اور تھا ۔۔۔۔ وہ بڑے مزاج سے بیٹھی رہی جواب نہیں دیا ۔۔۔

“زیان ہوتا تو ۔۔۔ شاید میری محبت میں دیوان ہی پڑھ دیتا ۔۔۔۔ اور یہ ۔۔۔ اسے اپنی سابقہ منگیتر اور اپنی فیملی یاد آ رہی ہے ۔۔۔۔ ہنہ ۔۔۔۔ جسے بڑا کوئی شہزادہ گلفام ہے ۔۔۔۔ اس کی زندگی میں اگر پہلے سے کوئی لڑکی تھی تو یہ کون سا میری زندگی میں آنے والا پہلا مرد ہے ۔۔۔ مجھے چاہنے والے بھی بہت تھے ” وہی خود پسندانہ سوچ تھی عفیرہ کی نوفل کی چٹکی پر وہ چونکی تھی

اسکی طرف برجستہ دیکھنے لگی

” کہاں گم ہو ۔۔۔۔ “

” جی آ گئ سمجھ ” وہ خفگی سے بولی

” ہمم ۔۔۔۔ ایسے ہی سمجھداری دیکھاوں گی ۔۔۔تو بہت نبھے گی ہماری ۔۔۔ ” سائیڈ ٹیبل کے اوپر رکھی مخملی ڈبیہ پکڑ کر اس میں سے سونے کے دو کنگن نکالے اور عفیرہ کا ہاتھ تھام کر اسے پہنادئیے ۔۔۔۔