Log Kia Kahe Gy by Umme Hani NovelR50418

Log Kia Kahe Gy by Umme Hani NovelR50418 Log Kia Kahe Gy Episode 38

608.9K
51

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Log Kia Kahe Gy Episode 38

Log Kia Kahe Gy by Umme Hani

عرفان اماں جی کے کمرے میں دستک دے کر داخل ہونے لگا تو فرقان اور عبیرہ پہلے سے ہی موجود تھے ۔۔۔ عبیرہ اماں جی کے پاؤں دبا رہی تھی ۔۔ اور اماں جی اس پر صدقے واری ہوئے جا رہیں۔ تھیں

” میرے توبھاگ ہی کھل گئے تم جیسی خدمت گزار بہو پا کر ۔۔۔۔ ” یہ سن کر ایک ٹھیس سی اٹھی تھی عرفان کے سینے میں ۔۔۔ خدمت تو شزا بھی انکی بہت کرتی تھی روز پاؤں بھی دباتی تھی ۔۔۔۔ کیا تھا کہ منہ بنانے کے بجائے یہ ایک فقرے اماں جی اسے بھی کہہ دیتیں ۔۔۔۔ میرا بھی دل خوش ہو جاتا اور شزا بھی یوں بے گھر نا ہوتی ۔۔۔۔ نا چاہیے ہوئے بھی عرفان کی آنکھوں میں۔ نمی در آئی تھی ۔۔۔

پچھتاوے کی ایسی آگ اندر دھکی تھی ۔۔۔ جس میں عرفان پل پل جلتا تھا ۔۔۔

فرقان بھی وہیں موجود تھاعرفان کو دیکھ کر رخ بدل گیا ۔۔۔ عرفان فرقان سے بھی شرمندہ اور شرمسار ہی رہتا تھا ۔۔۔ کیسے اپنے بھائی کو بد کردار سمجھ لیا ۔۔۔ اپنے ہی خون پر شک کیا تھا؟ ۔۔۔۔ یک طرفہ بات سن کر اسی پر ڈٹے رہنے سے کبھی کبھی اپنا بہت بڑا نقصان ہو جاتا ہے عرفان نے بھی یہی کیا تھا صرف اماں جی اور شبو کی ہی سنی اور اسی نظر سے دیکھنے لگا ۔۔۔ نا بیوی سے وجہ دریافت کرنے کی کوشش کی نا بھائی سے ۔۔۔۔اور اب سب کچھ اسی کا کھو گیا تھا ۔۔۔۔

اپنے اندر بند خول میں رہنا بھی ایک اذیت ہے جس سے عرفان گزر رہا تھا ۔۔۔۔ وہاں رکنا نہیں چاہتا تھا اس لئے جیب سے مہینے بھر کا خرچہ نکالا اور اماں جی کے ہاتھ میں رکھ دیا

“اماں جی یہ مہینے بھر کا خرچہ ” ایک اچھی معقول رقم عرفان نے ماں کے حضور پیش کی تھی ۔۔۔

” ہاں لاؤ لاؤ ۔۔۔ عرفان ۔۔ ” اماں جی نے بھی پیسے مٹھی میں دبائے تھے ۔۔

” فرقان تم کب خرچہ دو گئے نیا مہینہ چڑھے دو تین دن گزر گئے ہیں ۔۔۔ تم تو چپکے بیٹھے ہو ” ماں جی نے فرقان سے دریافت کیا

” عبیرہ کودے تو دیا ہے اماں جی۔ ۔۔۔ اور یہ پیسے بھی آپ عبیرہ کو پکڑا دیں ۔۔۔ یہ جانے اور گھر جانے ۔۔۔۔ آپ نے بہت سر کھپائی کر لی گھر کو سنبھالنے میں ۔۔۔۔ بس اب آپ اللہ اللہ ہی کیا کریں باقی ساری ذمہ داری عبیرہ کی ہے ” اماں جی تو سن کو ششدد میں آئیں تھیں پہلے لوکر کی چابی بھی عبیرہ کو دے چکی۔ تھیں ۔۔۔ وہ تو یہ تسلی تھی کہ لوکر انکے کمرے کی الماری میں ہی تھا ۔۔۔ اس لئے رات بھر بار بار نیند سے جاگ کر یہ دیکھتی رہتی کہ کہیں کوئی لوکر تو نہیں کھول رہا سکون کی نیند تو عبیرہ کو چابی تھماتے ہی اڑن چھو ہو چکی تھی اور اب خرچہ بھی جا رہا تھا ۔۔۔ فرقان ان سے انکی ذمہ داریاں نہیں بلکہ انکا اقتدار چھین رہا تھا ۔۔۔۔

” لیکن فرقان سارے گھر کو تو میں ہی لیکر چل سکتی ہوں کل کی آئی عبیرہ کو کیا پتہ ” اماں جی کے ماتھے پر سلوٹیں پڑیں تھی اپنی بادشاہت بھی کبھی ساس نے بہو کو خوشی سے دی ہے

” اماں جی آج سے کرے گی تبھی تو آپکی طرح سمجھدار ۔۔۔باشعور ۔۔۔۔۔ معاملہ فہم ۔۔۔۔ بنے گی ۔۔۔۔ اماں جی میں چاہتا تو عبیرہ بلکل آپ کی پرچھائی بن جائے ۔۔۔۔ اب لائیں یہ پیسے مجھے دیں ۔۔۔ اور سارا بوجھ عبیرہ پر ڈال دیں ۔۔۔ ” فرقان نے ماں کے ہاتھ سے پیسے لیکر عبیرہ کو پکڑا دیے ۔۔۔۔ عرفان خاموشی سے دیکھ رہا تھا ۔۔۔۔۔۔

پھر یاد آنے لگا کہ وہ کیسے شزا کو ماں کے سامنے ذلیل و رسوا کر کے رکھ دیتا تھا ۔۔۔۔۔

” یہ تم کیا بار بار اماں جی کے کپڑوں کو دیکھ رہی ہو ۔۔نظر لگاو گی میرے ماں کے کپڑوں کو ؟ ” ایک بار عرفان اماں جی کے لئے موسم گرما کے حساب سے لان کے سوٹ لیکر آیا تھا ۔۔۔۔ سب ہی ایک سے بڑھ کر ایک تھے ۔۔۔

سب ہی دیکھ رہے تھے ۔۔۔۔ زرنش بینش ۔۔ شبو نے تو ایک جوڑا اٹھا کر کہہ بھی دیا کہ یہ مجھے پسند ہے میں رکھوں گی ۔۔۔۔ شزا تو دیکھ رہی تھی ۔۔۔ عرفان بول پڑا شزا نے وہیں وہ جوڑے رکھ واپس رکھ دئے ۔۔۔

” عرفان میں بھلا اماں جی کے کپڑوں کو کیوں نظر لگاؤں گی ۔۔۔۔ سب دیکھ رہے ہیں ۔۔۔ میں نے دیکھ لیا تو نظر لگ جائے گی ؟

” بس بس جانتا ہوں تمہیں۔۔۔۔ کل ہی تو تم مجھ سے اپنے کپڑوں کاتذکرہ کر رہی تھی کہ تمہیں موسم گرما کی شاپنگ کروا دوں ۔۔۔۔ تمہارے بجائے میں اپنی ماں کے لیے جو لے آیا ہوں ۔۔ تکلیف تو تمہیں لازمی ہو گی ۔۔۔۔ ” عرفان ماں کی اس قسم کی باتیں سن سنکر شزا کے بارے میں اماں جی اور شبو جیسی ہی سوچ رکھنے لگا تھا ۔۔۔ عرفان کی بات پر اماں جی برجستہ بول اٹھیں

” آئے ہائے کون سے کپڑے کیسے کپڑے ۔۔۔۔ ابھی تو شادی پر ڈھیروں کپڑے سلوائے ہیں اس کے ۔۔۔ “اماں جی تو سن کر لال پیلی ہوئیں تھیں ۔۔۔۔

عرفان کا بھی سن کر موڈ بگڑا تھا

“اماں جی وہ سب ریشمی ہیں اور فینسی ہیں ۔۔۔۔ میں اتنی گرمی میں وہ پہن کر کچن میں کام نہیں کر سکتی ” شزا کی وضاحت پر وہ تلخ لہجے سے گویا ہوئیں

” ارے بی بی ایسے نخرے میرے گھر نہیں چلیں گئے ۔۔۔۔۔” شزا کو آنکھیں دیکھانے کے بعد عرفان کی طرف متوجہ ہوئیں

” عرفان خبردار جو تم نے ایک بھی جوڑااپنی بیوی کو لا کر دیا تو ۔۔۔ ارے اتنے خرچے ہیں گھر بھر کے ۔۔۔۔ مجھے پتہ ہے کیسے میں اتنی قلیل پیسوں میں گھر چلاتی ہوں ۔۔۔۔ ” عرفان کو ماں کی ہر بات ہی سچی لگتی تھی ۔۔۔۔۔

جو ہمت فرقان دیکھا رہا تھا عرفان توایسا کرنے کاسوچ بھی نہیں سکتا تھا ۔۔۔۔ ماں کے چہرے پر پھیلی نا گواری دیکھ چکا تھا ۔۔۔ لیکن ماں میں اتنی ہمت نہیں تھی کے فرقان پر یہ حکم صادر کرتی کہ تمہاری بیوی کون ہوتی ہے سارے اختیارات اپنے نام کرنے والی ۔۔۔۔ لیکن چپ تھیں ۔۔۔

عرفان اٹھ کر اپنے کمرے میں چلا گیا ۔۔۔۔۔

بڑی شدت سے شزا کی یاد نے تڑپایا تھا ۔۔۔۔ آنکھیں اسکی یاد میں برسی تھی کب سے خود پر ضبط باندھے ہوا تھا لیکن آج تو انسوں کی جھڑی سی لگ گئ تھی ۔۔۔۔۔ ایک مضبوط مرد ہوتے ہوئے ہچکیوں سے رو رہا تھا ۔۔۔۔ ظلم کر بیٹھا تھا اس لڑکی پر جو سب کے لئے بلکل بے ضرر سی تھی ۔۔۔۔

یہ بھی پتہ تھا کہ ایک سال سے شزا نے اپنے گھر سےایک قدم باہر نہیں نکالا ۔۔۔۔۔ ایک ہی تو محلہ تھا اور ایسے معاملات ہو جائیں تو محلے داروں کی عین ذمہ داری یہ ہوتی ہے ادھر کی خبر ادھر ضرور پہنچاتے ہیں ۔۔۔ اماں جی کے پاس اکثر محلے کی خواتین آ کر شزا کا تذکرہ چھیڑ دیتیں تھیں عرفان کے نا چاہتے ہوئے کان کھڑے سے ہو جاتے تھے

” بیمار شمار ہی رہتی ہے اب تو ۔۔۔ ہم تو جب جائیں یہی سننے کو ملتا ہے کمرے سے نہیں نکلتی ۔۔۔۔ ہک ہاں ۔۔۔۔۔ پہلے زبان سنبھال کر نہیں رکھتیں پھر مرد غصے سے آپے سے باہر جائے تو ۔۔۔۔ روتی دیکھی نہیں جاتیں ۔۔۔۔۔ ” محلے کی عورتیں دو دھاری تلوار کا کام کرتی تھیں ۔۔۔۔ یہاں شزا کی بڑائی اور شزا کے گھر عرفان کی برائی ۔۔۔۔

” بس کیا کہہ سکتے ہیں ۔۔۔ اب میری چھوٹی بہو کو کی دیکھ لو آتے ہی سارا گھر سنبھال لیا ہے ۔۔۔۔ اب اگر ساس بری ہو تو سوری کو کیوں بسائے ؟ وہ بھی تو بسی ہوئی ہے میرے گھر میں ” اماں جی نے چھالیہ چباتے ہوئے کہا ۔۔۔ یہ بات وہ عورت بھی جانتی تھی چھوٹی بہو کو آئے ابھی پندرہ دن بھی نہیں گزرے ۔۔۔۔ لیکن اثبات میں یوں سر ہلا رہی تھی جیسے عبیرہ کی شادی کو پندرہ سال گزر گئے ہوں ۔۔۔۔۔ شزا اب عرفان کی بیوی نہیں تھی لیکن پھر بھی اپنا کمرہ لاک کیے کئ گھنٹے عرفان اسکی تصویریں دیکھتا تھااس سے معافی مانگتا تھا ۔۔۔۔ روتا تھا گڑگڑاتا تھا

اس وقت پر خود کو نوچنے کا جی چاہتا جب طلاق جیسے قبیح لفظوں کو بے لگام زبان سے ادا کیا تھا ۔۔۔۔۔

شزا اس کے لئے کیا تھی ۔۔۔ یہ ایک سال میں اسے اچھی طرح معلوم ہو گیا تھا ۔۔۔۔۔

وہ اس سے کتنی محبت کرنے لگا تھا اس کااندازہ بھی ایک سال میں اچھی طرح سے ہو چکا تھا ۔۔۔ لیکن ہاتھ میں کچھ بھی نہیں بچا تھا ۔۔۔۔ کاش کے ایک طلاق دے دیتا ۔۔۔ مصلحت کی کوئی صورت تو باقی رہتی ۔۔۔۔ اللہ کو ایسی یک مشت تین طلاقیں نا پسند ہیں کیونکہ پچھاوا ایسے شخص کو ضرور تڑپاتا ہے جس نے ذیادتی کی ہو ۔۔۔۔ آج اللہ کے اس احکام کی قدر عرفان کو شدت سے ہو رہی تھی ۔۔۔۔۔

کوئی نہیں تھااس کا ہمدرد ۔۔۔۔ جو اسکے آنسوں پونچتا اسکے دل درد کا مداوا کرتا ۔۔۔۔ جن کی خاطر یہ قدم اٹھایا تھا وہ ہاتھ جھاڑے پیچھے ہٹ گئے تھے ۔۔۔

۔۔۔ وہ بیوی تھی ۔۔۔ عرفان سے محبت بھی بہت کرتی تھی اور اس کا خیال بھی بہت رکھتی تھی۔۔ عرفان ذرا سا بیمار ہو جاتا تو خود کو بھلائے اسکی خدمت میں جت جاتی تھی ۔۔۔ لیکن اسے کبھی قدر ہی نہیں ہوئی اب معلوم ہو رہا تھا جب دو دو دن بخار میں کمرے پڑا رہتا تھا اور کوئی پوچھنے بھی نہیں آتا تھا کہ یہ تک کوئی نہیں پوچھتا تھا کہ جی رہے ہو یا مر گئے ۔۔۔ فرقان نے اسکے بعد نا عرفان سے بات کی تھی نا وہ اس کے کمرے میں قدم رکھا تھا ۔۔۔۔ بس چھوٹا بھائی صفیان تھا جو کبھی کبھی پوچھ لیتا تھا ۔۔۔ ماں بہنوں کا کردار صرف بھائی کا گھر برباد کرنے تک ہی آگے آگے تھا ۔۔۔۔سووہ کر کے چھوٹی دونوں تو اپنے گھر سدھار گئیں تھیں لیکن شبو کا طور طریقہ وہی تھا اپنا گھر بار چھوڑنے میکے کی دہلیز پر بیٹھے رہنا ۔۔۔۔ لیکن اب شہزاد کاحوصلہ جواب دے گیا تھا ۔۔۔۔ اب وہ شبو سے لڑنے لگا تھا ۔۔۔۔ کہ اپنے گھر رہا کرو ۔۔۔ مگر شبو تو اس بات پر وہ افتاد مچاتی کے شہزاد کو ہی خاموش ہونا پڑتا ۔۔۔۔ پھر شادی کے چار سال بیت گئے تھے لیکن اولاد نہیں ہوئی تھی ۔۔۔۔۔

اب تو شبو باقاعدگی سے علاج کروا رہی تھی لیکن یہ بھول گی تھی کہ جب کسی کی گود کو اجاڑا جائے تو کیسے یہ امید رکھ سکتے ہیں کہ خود صاحب اولاد ہو جاؤ گئے ۔۔۔۔ ظلم ایک واحد گناہ ہے جس کی سزا دنیا میں ملنی ہی شروع ہو جاتی ہے ۔۔۔۔ ہے ۔۔۔۔

لیکن پھر بھی یہ ظلم ازل سے چلا آ رہا ہے اور ابد تک چلتا رہے گا ۔۔۔۔ لوگ کبھی یہ نہیں سوچیں گئے کہ اگر ہم کسی کا دل دکھا کر جائیں تو جائیں کہاں ؟

اوپر آسمانوں کے اوپر بیٹھی ذات بڑی منصف ہے ۔۔۔۔۔ مظلوم کی آہ سات آسمانوں کی چیرتے ہوئے رب کے حضور پہنچ جاتی ہے ۔۔۔ پھر وہ رب جو رات کے اندھیرے میں کالے پتھر کے اندر پیدا ہوئے کیڑے کی رینگنے کی آواز کو بھی سن سکتا ہے ۔۔۔ اسے اس۔ پتھر کے اندر رزق پہنچا سکتا ہے کیسے کسی مظلوم کو کے دل کی اٹھتی ٹیٹس کو محسوس نہیں کرے گا کیسے اس کے آنسوں کو بے مول کر دے گا ۔۔۔۔

جو اپنی محبت کی تشبیہ بھی ستر ماؤں سے دیتا ہے ۔۔۔ وہ سب کا رب ہے ۔۔۔۔۔

۔۔۔۔ کیوں بھول جاتے ہیں ہم ۔۔۔۔۔

*******……..

عفیرہ کو پورا یقین تھا ۔۔۔۔ مائرہ نوفل کو راضی کر لے گی ۔۔۔۔۔ ولی کا رو رو کے برا حال تھا ۔۔۔ بخار سے تپ رہا تھا ۔۔۔۔ لیکن عفیرہ کو پروا تک نہیں تھی ۔۔۔ چھوٹی بہن ہی اسے سنبھالے ہوئی تھی

ولی اسکی گود میں چپ نہیں کر رہا تھا کب سے وہ اسے بہلانے کی کوشش کر رہی تھی ۔۔۔ عفیرہ تو بستر سے اٹھنے کو تیار نہیں تھی جب سے آئی تھی کھانا پینا سب بیڈ پر ۔۔۔ کام کو کیا ہاتھ لگانا تھاولی کو سنبھالنے سے بھی کترا رہی تھی چھوٹی بہن نے تھک ہار کر روتے ہوئے ولی کو عفیرہ کی گود میں بیٹھا دیا

“اپیہ سنبھالو اسے خود ۔۔۔۔ مجھ سے نہیں چپ ہو رہا یہ ” ولی ماں کی گود میں آتے ہی مائرہ کا پوچھنے لگا

” مما پاش جاؤنگا ۔۔۔۔ آپی پاس چلو چچی۔۔۔۔ چچی اٹھو ۔۔۔۔ مما پاش لے کے جاؤں “

” اب وہ عفیرہ کو اپنے چھوٹے چھوٹے ہاتھوں سے مارتے ہوئے ضد پر اتر آیا تھا عفیرہ نے کوفت سے اسے بیڈ پر پٹخا تھا

” کیا مصبت ہے ولی ۔۔۔۔ اب اگر تمہارے باپ کو ہی تمہاری پروا نہیں تو میں کیا کرو “

ولی بیڈ پر گرنے سے چلا کر رونے لگا ۔۔۔۔ عابدہ بیگم ولی کے تڑپ کر رونے پر بھاگم بھاگ کمرے کے پاس پہنچی تھیں ۔۔۔عفیرہ کو دیکھ کو غصے سے بولیں

” اری اوہ کم بخت بچے کو کیوں مار رہی ہے ۔۔۔۔ اس معصوم کو کیا پتہ۔۔۔۔ ” عابدہ بیگم اس کمرے کے دروازے پر کھڑی کہنے لگیں

” اماں میں نہیں سنبھال سکتی اسے ۔ ۔۔ ” عفیرہ کے قطعی لہجے اور ماتھے پر پڑی تیوری دیکھ کر عابدہ بیگم کی جان جلی تھی اسکے پاس آ کر ولی کو گود میں لے لیا

” کیسی بے حس ہے تو عفی ۔۔۔۔ ماں کے سینے میں تو اولاد کا درد سب سے پہلے اٹھتا ہے کیسا پتھر دل ہے تیرا ۔۔۔ “

” اماں یہ مجھے مت سیکھاوں ۔۔۔ اپنے چھوٹے بھائیوں کو تیری گود میں پلتے دیکھا ہے میں نے ؟ ۔۔۔ ایک نیکر اور بنیان میں چار سال کی عمر کاٹی ہے انہوں نے ۔۔۔نا تجھے انکے فیڈر کی فکر ہوتی تھی نا ہی کپڑوں کی۔۔۔ ننگے گندی گلیوں میں گھومتے ہوئے پلے ہیں بات کرتی ہو اولاد کی محبت کی ۔۔۔۔ ظاہر ہے میں بھی جو دیکھوں گی وہی کروں گی بھی ۔۔۔۔ ” عفیرہ نے ماں کی تربیت پر کھلی چوٹ کی تھی

” چلو پال تو لئے نا ۔۔۔ تیری طرح میاں سے طلاق لیکر اماں کے گھر تو نہیں آ بیٹھی ۔۔۔۔” عابدہ بیگم کے طنز پر وہ تلملا سی گئ تھی

” اماں کل جب میں میں تجھے مائرہ بھابھی کا قیمتی میک اپ اور گھر کا سامان لا لا کر تیرا یہ کباڑ خانے بھر رہی تھی تب تو تجھے میں بڑی اچھی لگتی تھی ۔۔۔۔واری صدقے جاتی تھی مجھ پر ۔۔۔نہال ہوتی تھی ۔۔۔۔ اور آج ؟ مجھ برا وقت کیا آیا تیری تو آنکھیں ہی بدل گئیں ۔۔۔ لیکن بے فکر رہ

نوفل ضرور دوبارہ مجھ سے نکاح کر لے گا ۔۔۔۔

اور قسم ہے

مجھے جو تجھے ایک پھوٹی کوٹی بھی دوں تو ؟” عفیرہ ک گھمنڈ اپنی جگہ برقرار تھا ۔۔۔۔

عابدہ بیگم ولی کو لیکر باہر چلیں گئیں عفیرہ اٹھ کر سامنے لگے شنگھار میز کے سامنے کھڑی ہو گی ۔۔۔ بکھیرے بال متورم آنکھیں ۔۔۔۔ بڑھتے ہوئے ہلکے وہ صدیوں کی بیمار لگ رہی تھی ۔۔۔

” میں نے بھی کل سے اپنا آپ چھوڑ رکھا ہے ۔۔۔

اب اگر وہ رات کو ہی حلالہ کرنے پہنچ گیا تو ۔۔۔۔ ” عفیرہ کو اب بھی لگ رہا تھا کہ نوفل اسے اپنا لے گا

“مجھے چھوڑ کیسے سکتا ہے ۔۔۔ مجھ جیسی اسے دوبارہ ملے گی کہاں ” خود پسندی کا زعم اب بھی برقرار تھا اکمل صاحب لاہور واپس جا چکے تھے لوگوں سے سامنا کرنے کی ہمت ان میں نہیں تھی ۔۔۔۔۔

ساری زندگی بیوی نے نا انکی سنی تھی نا مانی تھی ۔۔۔۔ بس صبر کا دامن لئے جوانی کو بڑھاپے کی دہلیز پر لائے تھے۔۔۔ گھر کاسکون کیا ہوتا ہے ۔۔۔ یہ تو عابدہ بیگم سے شادی کے بعد بھول ہی گئے تھے ۔۔۔ جیسے ایک اچھی عورت گھر کو جنت بنا دیتی ہے ایسے ہی ایک بری عورت گھر کو جہنم بھی بنا دیتی ہے

*******……..

رمشہ نے آجکل ایک نیا شوشا چھوڑ رکھا تھاکہ اسے اس محلے اور گھر میں نہیں رہنا جہاں اس کی ماڈرن سہلیاں آنے سے کتراتی ہیں۔ ناک بھوں چڑھاتی ہیں ۔۔۔۔

” بدر یہ میرا آخری فیصلہ ہے ۔۔ میں اس گھر میں مزید نہیں رہ سکتی ۔۔۔ “

” اماں نہیں مانے گی ۔۔۔اس گھر میں ۔۔ اس محلے میں انکی ایک عمر گزری ہے دلی وابستگی سی ہے انہیں یہاں سے ۔۔۔ ورنہ میرا کیا ہے ۔۔۔۔ مجھے صرف سونا ہی تو ہوتا ہے ۔۔۔ یہ گھر ہو کوئی اور ۔۔۔۔ گھر بدلنے سے کون سی میری قسمت بدل جائے گی ” بدر لیپ ٹاپ دیکھتے ہوئے بات کر رہا تھا ۔۔۔۔

” یہ کیا بات ہوئی ۔۔۔ تمہاری اماں کی فرسودہ سوچ کی خاطر میں اپنا لائف اسٹائل نہیں بدل سکتی ۔۔۔ کیاسارے سمجھوتے ۔میرے لئے ہی رہ گئے ہیں ۔۔۔ ” رمشہ کا ہر بار کا وہی راگ تھاجووقتا فوقتا الانپتی تھی بدر نے لیپ ٹاپ سے نظریں ہٹا اس اسے دیکھا

” کیاسمجھوتا کیا ہے اب تک تم نے ۔۔ ایک کپ چائے تک کا بنا کر تو آج تک دیا نہیں ہے تم نے ۔۔۔۔ نا ہی کسی کام کو ہاتھ لگاتی ہو ۔۔۔ کس بات کاسمجھوتا کیا ہے ؟”

بدر کی بات پر رمشہ تعجب سے دونوں ابرو بڑے نخوت سے چڑھائے

” ذرا آئینہ جا دیکھ لیں پتہ چل جائے گا ۔۔۔۔ کہ میں کیسے کیسے سمجھوتے کر رہی ہوں ” رمشہ نے اسکی رنگت پر چوٹ کرتے ہوئے کہا وہ کمرے سے باہر نکل گئ ۔۔۔ بدر بس اسے جاتے ہوئے دیکھا رہا ۔۔۔۔

” کتنا زعم ہے تمہیں اپنے حسین ہونے پر ۔۔۔۔اگر میرے دل سے پوچھو تو پتہ چلے کہ تمہارا یہ حسن مجھے آج تک متاثر نہیں کر سکا جس پر تمہیں اتنا گھمنڈ کرتی ہو ۔۔۔۔۔ خاک کی چیز خاک میں مل جاتی ہے چاہے رنگت سفید ہو یا کالی ۔۔۔۔ تمہاری تعلیم بھی تمہیں یہ شعور نا دے سکی کہ شوہر کی ایک پسندیدہ نظر سانولی اور بدھے نین نقش کی عورت کو حسن بخش دیتی ہے تو کیا فائدہ ایسی تعلیم کا ۔۔۔۔۔ جو پیا کے من کو ہی بھا سکے ۔۔۔ اس کا حسن کس کام کا ہے ۔۔۔۔۔ ” تاسف سے یہ کہتے ہوئے دوبارہ لیپ ٹاپ پر مصروف ہو گیا

**********……..

بدر کو دیکھ کر آفرین چونکہ ضرور تھی لیکن پھر سنبھل گئ ۔۔۔۔ بدر اب اسکے نزدیک ایک ایسی شخصیت تھی ۔۔۔ جس کا ہونا نا ہونا ایک برابر تھا

مظہر کی محبت نے آفرین کو مکمل س کر دیا تھا ۔۔۔۔ اسی محبتیں بہت جلد دم توڑ جاتیں ہیں ۔۔۔ جو خوف کے زیر اثر کیں جائیں ۔۔۔۔ کئ سال بدر نے آفرین کو چاہا تھا اب تک وہی اسکے دل میں تھی ۔۔۔ لیکن ماں کے خوف سے کبھی مضبوط قدم نہیں اٹھا پایا تھا ۔۔۔۔۔

آفرین نے بھائی کی عزت کی خاطر قدم پیچھے کیے تھے ۔۔۔۔ محبت پر عزت کو فوقیت دی تھی اور آج اسکے پاس عزت کے ساتھ ساتھ مظہر کی بے پناہ محبت بھی تھی ۔۔۔ اس لئے دل میں نا کوئی افسوس تھا نا ملال ۔۔۔ نا ہی کوئی خوف ۔۔۔ کیونکہ اس نے بدر کی خاطر کوئی ایس غلط قدم نہیں اٹھایا تھا کہ اسے اب مظہر کے سامنے شرمندہ ہونا پڑتا ۔۔۔۔ بدر کے ساتھ اس کا کوئی ماضی نہیں تھا اس لئے ہر خوف سے معمور تھی ۔۔۔۔ با اعتماد تھیں

دل ائنے کی طرح سے شفاف تھا ۔۔۔ دل میں اگر کوئی تھا تو اس کا محرم تھا ۔۔۔۔

آبان نے آ کر ممتا کو بھی مکمل سا کر دیا تھا ۔۔۔۔ اپنے رب کا جتنا وہ شکر ادا کرتی اتنا۔ تھا ۔۔۔۔۔

*******………

مائرہ یک دم ہی اسکے مقابل کھڑی ہوئی تھی

” کیا کہا تم نے ۔۔۔۔۔ ہوش میں تو کو تم ” بات کچھ ایسی تھی کہ زونیرہ بھی اپنی جگہ ہل کر رہ گئ تھی ۔۔۔ اور مائرہ کے گمان میں بھی کبھی یہ بات نہیں آئی تھی ۔۔۔ جو بڑے آرام سے کہہ رہا تھا ۔۔۔

” ہاں پورے پوش ہواس میں ہوں ۔۔۔۔ سارے۔ مسائل کا آسان حل یہی ہے کہ میں آپ سے نکاح کر لو ۔۔۔۔ اور اس میں کوئی حرج بھی نہیں ہے ۔۔۔۔ لوگوں کے منہ بھی بند ہو جائیں گئے ۔۔۔ ” مائرہ کا جی چاہا سامنے کھڑے شخص کا قتل کر ڈالے ۔۔۔

” ابھی کے ابھی میری۔ نظروں کے سامنے سے دفع ہو جاؤں ۔۔۔ ایک لفظ بھی اور کہا تو جان سے مار ڈالوں گی تمہیں ۔۔۔۔ ” مائرہ کے جارحانہ تاثرات کی نوفل کو پروا نہیں تھی ۔۔۔۔

” آپ سمجھ نہیں رہی ہیں ۔۔۔ دیکھیں میری بات سنیں ۔۔۔۔ میں آپ سے نکاح ۔۔۔۔۔ ” اس سے پہلے کے وہ کچھ اور گل فشانیاں سناتا مائرہ اپنے آپے سے باہر ہوئی تھیں ۔۔۔ سامنے ٹیبل پر رکھے شیشے کا گلدان اٹھا کر چلا ہی پڑی تھی

۔” نوفل دفع ہو جاؤں یہاں ورنہ مر جاؤں گئے میرے ہاتھوں ۔۔۔ کیسے بے شرموں کی طرح تم میرے سامنے کھڑے کب سے بک بک کیے جا رہے ہو ۔۔۔۔ ایک پل کے لئے یہ نہیں سوچا کہ بول کیا رہے ہو ۔۔۔ کہہ کس سے رہے ہو ۔۔۔۔ ” مائرہ کے ہاتھ میں گلدان دیکھ کر وہ یک دم کئ قدم پیچھے ہٹا تھا ۔۔۔۔

” بھابھی پہلے یہ گلدان نیچے رکھیں اور میری بات ٹھنڈے دماغ سے سنیں۔۔۔ ” نوفل نے اس کے خطرناک تیور دیکھ دھیمے لہجے میں سمجھانا چاہا لیکن وہ کچھ سننے کو تیار نہیں تھی ۔۔۔

” شرم تو بیچ کھائی ہے تم نے نوفل۔۔۔ اسی منہ سے بھابھی کہہ رہے ہو اور اسی سے نکاح کا بول رہے ہو ۔۔۔۔ میں مر کر بھی کبھی تم سے نکاح نہیں کر سکتی ” مائرہ نے آنکھیں پھاڑے اسے دیکھا

” اور میں بھی آپ سے کہہ رہا ہوں کہ نکاح میں آپ سے ضرور کروں گا اور وہ بھی آج ” نوفل کی بات سن کر مائرہ گلدان کا نشانہ سیدھا نوفل کے سر کی طرف بنایا تھا ۔۔۔۔ زونیرہ اور وصی ہونقوں کی طرح دونوں کو لڑتے ہوئے دیکھ رہے تھے

وصی نوفل کے برابر میں حیران پریشان کھڑا تھا ۔۔۔۔ نوفل کی جلد بازی پر اسکا ذہن بند ہوا تھا ۔۔۔ نوفل یک دم وصی کے پیچھے چھپ گیا ۔۔۔ اور وصی کے دونون بازو عقب سے پکڑ کر مائرہ سے اپنا بچاؤں کرنے لگا۔۔۔

۔” تم نے یہ بات سوچ بھی کیسے لی نوفل ۔۔۔آج نہیں بچوں گئے مجھ سے ۔۔۔۔ ” وہ جس جانب سے ہاتھ میں گلدان لئے نوفل کی طرف بڑھنے لگتی نوفل وصی کو جھٹ سے آگے کر دیتا۔۔۔ اس کام میں نوفل کو کافی مہارت حاصل تھی زریاب کے ساتھ بھی یہی کرتا تھا ۔۔۔ البتہ وصی ضرور گھوم کے رہ گیا تھا ۔۔۔۔بوکھلاہٹ کا شکار الگ سے تھا معاملہ سدھارے کیسے ۔۔۔ زونیرہ بھی چپ کھڑی تھی

” پہلے میری بات سن لیں ” نوفل وصی کے پیچھے سے ذرا سا منہ نکال کر بولا ماہرہ جیسے ہی آگے بڑی اس نے منہ وصی کے پیچھے چھپا لیا

” وصی تم ہٹو پیچھے ۔۔۔۔ اس نے ایسی گھٹیا بات میرے بارے میں سوچی بھی کیسے ۔۔۔۔ بھائی سمجھتی ہوں میں اسے ۔۔۔۔ اور یہ ۔۔۔ ؟ وصی بیچارہ اس وقت دونوں کے بیچ کھڑا ہاتھوں سے اپنا بچاؤں کر رہا تھا

” میں بھی آپ کو بہن سمجھتا ہوں ۔۔۔۔۔ لیکن لوگ صرف محرم رشتے کو ہی اہم سمجھتے ہیں ۔۔۔ اور میں چاہ کر بھی آپ کا بھائی نہیں بن سکتا ۔۔۔ اس لئے جو بن سکتا ہوں وہ تو ضرور بنوں گا یہی ہم دونوں کے لئے بہتر ہے ” وصی کے پیچھے سے نوفل نے جواب دیا ۔۔۔

” بھابھی آپ گلدان تو پہلے پیچھے کریں نوفل کے لگے نا لگے میرے ضرور لگ جائے گا٫” ۔۔۔۔ وصی کوسو فیصد یقین تھا جیتنے غصے

میں مائرہ تھی ۔۔۔ اور جیسے بار بار نوفل پر وار کرنے کی کوشش کر رہی تھی ہر بار بیچارے وصی کا ہی سر سامنے آ رہا تھا ۔۔۔۔

مائرہ نے گلدان پٹخ کرٹیبل ہر رکھا

” وصی اسے یہاں سے اسوقت باہر لے جاؤں ۔۔۔ ورنہ نا جانے کیا بیٹھوں گی میں ۔۔۔۔ بس یہی ایک بات سننے والی رہ گی تھی ۔۔۔ لیکن یہ نہیں پتہ تھا کہ اس کے منہ سے سنو گی ۔۔۔۔ زریاب ہوتے تو کیا ہمت ہوتی اسکی مجھے اس نظر سے دیکھنے اور ایسا سوچنے کی بھی ۔۔۔۔ ؟ مائرہ اب بے بسی سے رونے لگی تھی ۔۔۔ نوفل صرف وصی کے دائیں کندھے سے آنکھیں باہر نکالے اسے دیکھ رہا تھا لیکن سب اسے یوں روتے دیکھ کر سیدھا کھڑا ہو گیا ۔۔۔ وصی کو بیچ سے پیچھے کر کے مائرہ کے سامنے جا کھڑا ہوا پھر چور آنکھیں سے اسے دیکھا ۔۔۔۔ جو رو رہی تھی شرمندگی سے منہ لٹکائے ۔۔۔ گلدان ٹیبل سے پکڑ کر سسکیاں بھرتی مائرہ کے سامنے بڑھانے لگا ۔۔۔ کینہ توز نظروں۔ سے مائرہ نے اسے دیکھا تھا ۔۔۔ دوسری نظر اسکے ہاتھ پر پکڑے گلدان پر ڈالی

” یہ لیں ۔۔۔۔مار لیں ۔۔مجھے۔۔۔۔ جتنا غصہ مجھ پر ہے سارا نکال لیں ۔۔۔ افف بھی نہیں کروں گا ۔۔۔ لیکن ایک بار میری بات تو سکون سے سن لیں ” نوفل کو ذیادہ تکلیف مائرہ کی سسکیاں سن کر ہو رہی تھی ۔۔۔۔

” مجھے کچھ نہیں سننا نوفل ۔۔۔۔” مائرہ نے ہاتھ کی پشت سے بے دردی سے آنسوں پونچے ۔۔۔۔ نوفل نے منت کرتے ہوئے کہا

” بھابھی ۔۔۔۔ پلیز ایک بار میری بات سن تو لیں ۔۔۔ میں کبھی بھی آپ سے زبردستی نکاح نہیں کر سکتا ہوں ۔۔۔ یہ آپ بھی اچھی طرح جانتی ہیں ۔۔۔” یہ کہہ کر اس نے مائرہ کا ہاتھ پکڑا اور اسے ساتھ لئے صوفے پر بیٹھ گیا ۔۔۔۔

پہلی بار مائرہ نے غصے سے اس کے ہاتھ سے اپنا ہاتھ چھڑوایا تھا

” دور ہٹ کر بیٹھوں مجھ سے ۔۔۔۔ تم نے تواس رشتے سے بھی میرا اعتبار ختم کر دیا ہے ” وہ غصے سے بھرائی ہوئی آواز سے بولی ۔۔۔ نوفل پرے ہٹ کر بیٹھ گیا ۔۔۔وہ نا متاسف تھا نا ہی نادم کیونکہ ابھی بھی وہ اسے اسی عزت اور احترام سے دیکھتا تھا ۔۔۔ نظروں میں ردی برابر بھی فرق نہیں آیا تھا ۔۔۔۔

” بھابھی میں قسم کھانے کو تیار ہوں ۔۔ میں نے عفیرہ سے آخری حد تک نبھانے کی کوشش کی تھی ۔۔۔۔ اسکی ہر بات کو نظر انداز کیے زندگی گزار رہا تھا خدا گواہ ہے صرف اسی لئے کہ آپ پر کوئی انگلی نا اٹھے ۔۔۔۔ لیکن جو کچھ اس نے میرے ساتھ کیا مجھے آپ کو بتاتے ہوئے بھی شرم آتی ہے ۔۔۔ مرد عورت کی ہر بدتمیزی برداشت کر سکتا ہے لیکن اسکی زندگی میں دوسرے مرد کو برداشت نہیں کر سکتا ۔۔۔ میں بھی نہیں کر سکا ” نوفل کی آنکھوں میں نمی تھی اور لہجے میں سچائی ۔۔۔۔ وہ جھوٹ نہیں بول رہا تھا پھر زیان اور عفیرہ کی ہر بات اسے مختصر سی بتا دی ۔۔ مائرہ کے لئے تو وہ بات ہی عجیب انکشاف تھی ۔۔۔۔ عفیرہ کایہ رنگ ڈھنگ بھی ہو سکتا ہے ۔۔۔۔۔ کچھ پل کے لئے نوفل بے قصور ہی لگا تھا۔۔۔۔ لیکن مائرہ سے نکاح مسلے کا کہاں سے حل تھا

” بھابھی میں عفیرہ کے ساتھ زندگی نہیں گزارسکتا وجہ اب آپ جانتی ہیں ۔۔۔اور آپ کو بھی لوگوں کی باتوں کی وجہ سے در بدر کی ٹھوکریں کھانے کے لئے گھر سے بے گھر نہیں کر سکتا ۔۔۔ نا ہی خود گھر سے باہر نکل کر آپ کو تحفظ دے سکتا ہوں ۔۔۔۔۔ ” مائرہ اب تک چپ تھی نوفل کے لئے یہی کافی تھا کہ وہ اسکی بات سن رہی ہے ۔۔۔ پھر اس سے نظریں چراتے ہوئے بولا

” ہم ایک گھر میں ایک چھت کے نیچے دیور بھابھی کی حثیت سے نہیں رہ سکتے ۔۔۔ نا معاشرہ جینے دے گا نا شریعت ایسی اجازت دے گی ۔۔۔۔ اور نا ہی اب میں جلد بازی میں کسی عفیرہ جیسی کو اپنے سر پر بیٹھا سکتا ہوں ۔۔۔۔ ” نوفل کی بات سن کر مائرہ نفی میں سر ہلانے لگی

” نہیں ۔۔۔۔ نہیں نوفل ۔۔۔۔ میں ۔۔۔۔۔ ن۔۔۔کا۔۔۔ ح ۔۔۔۔ ہر گز نہیں کر سکتی ۔۔۔۔۔ زریاب سے بہت محبت کرتی ہوں ۔۔۔ تم مجھے ۔۔۔۔۔ اس آزمائش ۔میں ہر گز مت ڈالو ۔۔۔۔ کیا سمجھتے ہو تم ۔۔۔۔ لوگ کیا تب باتیں نہیں کریں گئے ۔۔۔ ؟ نہیں ۔۔۔ تب بھی مجھ پر ہی الازام آئے گا کہ میں نے جان بوجھ کر دیوارنی کا گھر بسنے نہیں دیا کیونکہ میری نیٹ غلط تھی میں شادی کرنا چاہتی تھی اس لئے یہ کھیل رچایا ۔۔۔۔

عفیرہ کی طلاق کروا دی ۔۔۔ نہیں ۔۔۔ نہیں ۔۔۔ ہر گز بھی نہیں ۔۔۔ ” مائرہ کے لئے یہ سوچنا ہی محال تھا ۔۔ کجا کرنا تو نا ممکنات میں سے تھا

” تو میں کس لئے ہوں بھابھی ۔۔۔۔۔ کوئی انگلی اٹھا کر تو دیکھیں ۔۔۔ وہیں توڑ کر رکھ گا ۔۔۔ اگر کسی نے کچھ بھی کہنے کی کوشش کی تو مجھے چپ کروانا آتا ہے ۔۔۔۔ یہ آپ بھی اچھے طریقے سے جانتی ہیں ۔۔۔۔ ” نوفل اب سنجیدگی سے کہہ رہا تھا ۔۔۔ زونیرہ وصی بھی اپنی جگہ چپ گم صم بیٹھے تھے۔۔۔۔ مائرہ بار بار نفی میں سر ہلا رہی تھی

“نہیں ۔۔۔۔ نوفل ۔۔۔۔۔ تم نہیں ۔۔۔۔۔ نکاح ؟ ۔۔۔۔ نہیں کر سکتی ۔۔۔۔۔ زریاب کی جگہ کسی کو نہیں دے سکتی ۔۔۔۔ ہر گز نہیں ” مائرہ کے لئے یہ بات ماننا ممکن ہی نہیں تھا

” آپ سے کس نے کہہ دیا کہ مجھے بھائی کی جگہ چاہیے ایسا تو میں بھی کبھی نہیں سوچ سکتا بھائی کی جگہ لینے کی کوشش کرو ۔۔۔۔ میں صرف آپ کو اپنا نام دینا چاہتا ہوں ۔۔۔۔ بس نکاح ہو گا ہمارا اور کچھ نہیں۔۔۔۔۔ جیسے ہم زندگی گزار رہے ہیں ایسے ہی گزرے گی ۔۔۔۔

میری نظر میں آپکی عزت اور احترام میں کبھی فرق نہیں آئے گا ۔۔۔۔ مجھے آپ سے کوئی حق نہیں چاہیے ۔۔۔۔ ” نوفل کی بات پر وصی اور زونیرہ نے پہلے تو حیرت سے آنکھیں پھیلائے نوفل کی طرف دیکھا کہ یہ قسم کا نکاح کرنے جا رہا ہے ۔۔۔۔

پھر مائرہ کی طرف دیکھا جس کاسر اب نفی میں نہیں گھوما تھا ۔۔۔۔ پھر ایک دوسرے کواستفہامیہ نظروں سے دیکھنے لگے ۔۔۔ کہ یہ لوگ کرنا کیا چاہتے ہیں ۔۔۔

” میں جانتا ہوں آپ بھائی سے کتنی محبت کرتی ہیں ۔۔۔ میں بھی کبھی یہ نہیں چاہو گا کہ آپ کے دل میں بھائی کے مقام میں ذرا بھی کمی آئے ۔۔۔۔ بھابھی میں آپ کے بارے اس انداز سے نہیں سوچ سکتا ہوں ۔۔۔۔ بس لوگوں کا منہ بند کرنے کا سرٹفکیٹ مل جائے گا مجھے ۔۔۔۔ ” نوفل کی بات پر اب مائرہ سوچ میں پڑ گئ تھی

” اور تم ؟ ۔۔۔۔۔ تم کیا پوری زندگی یونہی گزارا دو گئے ۔۔۔۔ ” مائرہ کو دوسرے خدشے نے آن گھیرا تھا

” میں کیوں اپنی زندگی ایسے گزاروں گا ۔۔۔۔ جب بھی ایک اچھی لڑکی مل گئ ۔۔۔ جو آپ کو بھی میری بیوی کے طور پر با خوشی قبول کر لے گی ۔۔۔ میں شادی کر لوں گا ۔۔۔۔ ” اس بات پر تو وصی تپ کر رہ گیا تھا ۔۔۔۔۔ خشمگین نظروں سے نوفل کو دیکھ رہا تھا ۔۔۔ وصی نے کیا سمجھانا چاہ تھی اسے اور وہ کیا سمجھا تھا ۔۔۔۔ زونیرہ کن انکھیوں سے وصی کو دیکھ رہی تھی ۔۔۔۔ دونوں دیور بھابھی اپنے مذکرات میں مصروف تھے ۔۔۔۔ یہ کون سا نیا طریقہ تھا کسی کو سہارا دینے کا ۔۔۔۔

” ٹھیک ہے ۔۔۔ تم شادی ضرور کروں گئے ۔۔۔۔ اور کوشش کرنا کہ ایک سال کے اندر اندر کوئی بھی اچھی لڑکی پسند کر لینا ۔۔۔ میں خود اسے ساری حقیقت بتا دوں گی کہ کس وجہ سے ہم یہ قدم اٹھا رہے ہیں ۔۔۔۔ ” بلا آخر مائرہ بھی راضی ہو چکی تھی ۔۔۔۔

” آپ توآپ کو اعتراض نہیں ہے نا ؟ ” نوفل نے پھر سے تسلی چاہی ” ۔

” نہیں ۔۔۔۔ مجھے کوئی اعتراض نہیں ہے ” مائرہ کا مان جانے پر نوفل پر سکون سانس لیا تھا ۔۔۔

” نوفل ذرا باہر آؤں میرے ساتھ ” وصی کو اس پر غصہ ساانے لگا تھا بھلا یہ کیاشرائط تھیں ۔۔۔

” بعد بات کریں گئے ابھی تو کسی مولوی کاانتظام کرو ۔۔۔۔ میں برابر سے خالہ اور چچا کو بلا کر لاتا ہوں ۔۔۔ اور آپ آفرین آپی کو اور اسکے ہسبنڈ کو بھی بلا لیں ۔۔۔۔ ” نوفل نے جھٹ پٹ سب طے کیا تھا مائرہ ضرور کچھ متزلزل سی ہو رہی تھی ۔۔۔۔

لیکن دوسرا کوئی راستہ بھی نہیں تھا ۔۔۔۔

ایک گھنٹے سب کچھ ہو چکا تھا خالہ تو حواس باختہ سی بیٹھی ہوئی۔ تھیں انہیں تو سرے سے عفیرہ کی طلاق کی خبر بھی نہیں ہوئی تھی اور نوفل کا مائرہ سے نکاح ؟ ۔۔۔۔

لیکن چچا ضرور خوش تھے ۔۔۔۔ انیلا پر یہ سنتے ہی

حیرت کا پہاڑ ٹوٹا تھا ۔۔۔۔ کل عفیرہ کو طلاق ہوئی اور آج مائرہ سے نکاح ۔۔۔۔ انیلا اور انیلا جیسی جتنی بھی خاتون محلے میں رہتی تھی سب کی سوچ ایک ہی طرف گئ تھی کہ ضرور دیور بھابھی کا ہی آپس میں۔ چکر ہو گا ۔۔۔ لیکن کسی میں اتنی ہمت نہیں تھی کہ نوفل کے سامنے کھسر پھسر بھی کر جاتیں ۔۔ محلے کے۔ چند بڑے بزرگوں کے سامنے نکاح بھی سر انجام پا چکا تھا ۔۔۔۔ منی اب بھی مائرہ کی گود میں انجان تھی لیکن عائزہ کی ہر بات پر گہری نظر تھی ۔۔۔۔ چچااور ماں کا ایجاب وقبول کو سنا بھی تھااور دیکھتا بھی تھا ۔۔۔۔

مائرہ کا دل مٹھی میں بند ہوا تھا ۔۔۔ ہاتھ بھی بری طرح کانپے تھے جب نکاح نامہ سامنے رکھا گیا تھا ۔۔۔۔

زیاب کی بیوہ کے بجائے نوفل کی بیوی کے طور پر نکاح نامے پر دستخط کرتے ہوئے وہ ضبط کھو بیٹھی تھی ۔۔۔۔ سائن کرنے کے بعد آفرین کے گلے لگ کر پھوٹ پھوٹ کر روئی تھی ۔۔۔۔۔