Log Kia Kahe Gy by Umme Hani NovelR50418 Log Kia Kahe Gy Episode 16
Rate this Novel
Log Kia Kahe Gy Episode 16
Log Kia Kahe Gy by Umme Hani
شزا کی شادی کو چند دن ہی گزرے تھے ۔۔۔ کہ ایک صبح ناشتے پر اس نے یہ علان کر دیا کہ بہو آج سے کچن سنبھالے گی ۔۔۔۔ شادی شدہ نند کی رہائش قریب ہی تھی اس لئے روز ہی وہ میکے پہنچ جاتی تھی ہر کام میں شبو کی مداخلت تھی ۔۔۔۔ یہاں تک کے گھر میں اگر گھڑی میں لگنی ہے تو شبو بیگم کی مرضی سے لگنی ہے نام تو اس شبانہ تھا لیکن کہتے سب شبو تھے۔۔۔
چھوٹی دونوں بہنیں نک چڑھی اور منہ پھٹ تھیں اور ایک نمبر کی کام چور ۔۔۔ چھوٹے تینوں دیور کالج اور یونیورسٹی نے طالب علم تھے ۔۔۔ گھر کا سارا خرچہ عرفان ہی چلا رہا تھا ۔۔۔۔
ناشتہ کرتے ہی چھوٹی دونوں نندیں بینش اور زرنش اپنے کمرے میں جا گھسی تھیں ۔۔۔ بڑی نند شزا کو لیکر کچن میں آ گئ ۔۔۔ کچن کی حالت ایسی تھی کے ایک کپ چائے بنانے کو جی نا چاہے ۔۔۔۔ پوری شلفیں دھونے والے برتنوں سے بھری پڑیں تھیں ۔۔۔ اسٹو پر چائے گر کر جم چکی تھی ۔۔۔۔ شزا کو تو دیکھتے چکر سا آ گیا تھا ۔۔۔ اتنا گندا کچن کا حال تھا ساتھ کھڑی شبو نے کس جگہ کیا رکھا ہے بتانا شروع کیا
” سامنے والے کبنٹ میں مرچ مصالحے رکھیں ہیں اور یہ نیچے والے کبنٹ میں دیگچیاں وغیرہ ۔۔۔ دیکھوں بھئ بڑی نفاست پسند طعبیت ہے میری اور میری ماں کی تم بھی اس بات کا خیال رکھا ۔۔۔
یہ سب تو شادی کی وجہ سے بکھرا پڑا ہے ۔۔۔ ورنہ تو ہر چیز صاف شفاف نظر آتی ہے یہاں ۔۔۔” شزا بس گہری سانس لے کر رہ گئ ۔۔۔۔
” فریج میں مرغی رکھی ہے ۔۔۔ گوشت بھی ہے ۔۔۔۔ پلاؤ بنا لو اور ساتھ میں قورمہ ۔۔۔ شامی کباب سل پر پیسنا اس کا ذائقہ ذیادہ اچھا ہوتا ہے اور ہاں
میٹھے میں کھیر تو لازمی بنا لینا شہزاد بڑے شوق سے کھاتے ہیں ۔۔۔ چلو بھئ میں تو چلی شادی نے تھکا کے رکھ دیا ہے مجھے ۔۔۔ کچھ دیر کمر سیدھی کرو گی ” کمر پر ہاتھ کر وہ یوں اکڑ کر کھڑی ہوئی جسے دکھتی کمر سیدھی کی ہو ۔۔۔ شبو تو کچن سے نکل چکی تھی شزا یہ سوچ رہی تھی کہ شروع کہاں سے کرے ۔۔۔۔ پہلے تو اس نے فریج سے گوشت اور مرغی نکال کر باہر رکھی پھر برتن دھونے شروع کیے ۔۔۔۔۔ ایک گھنٹے اس نے کچن کا حلیہ درست کیا تھا ۔۔۔۔ کھانا بنا کر وہ شام تک فارغ ہو گئ تھی ۔۔۔۔
عرفان کے گھر لوٹنے سے پہلے وہ تیار ہو چکی تھی کھانا بھی اسی نے لگایا تھا ۔۔۔۔ شبو کا میاں بھی آ چکا تھا کھانے کی سب نے تعریف کی تھی عرفان کے چہرے پر بھی مسکراہٹ تھی ۔۔۔۔ بیوی کے ہاتھ میں کمال کا ذائقہ تھا ۔۔۔۔ سب ہی تعریف کر رہے تھے بڑی ستائشی نظروں سے اس نے شزا کو مسکرا کر دیکھ تھا ۔۔۔ ایک سکون کااحساس شزا کو بھی ہوا تھا ۔۔۔ شادی کے بعد یہ پہلی مہربان نظر میاں جی کی طرف سے ملی تھی لیکن شبو کی تیز نظریں۔ جیسے بھائی اور بھاوج پر ہی ٹکی ہوئیں تھیں
ماں کے برابر میں ہی وہ بیٹھی تھی ماں کو کہنی مار کر متوجہ کیا اپنی نظروں سے عرفان اور شزا کی طرف دیکھنے کا اشارہ کیا ۔۔۔ ماں سمجھ گئ کہ اس نے کیا کرنا ہے
” اے ہے ۔۔ بہو چاول کو ذرا دن تو اور دیتی ۔۔۔۔ منہ میں ڈالتے ہیں کچ کچ کرنے لگتے ہیں ۔۔۔۔ ” بد مزہ سا منہ بنا کر اس نے کہا تھا ۔۔۔ شزا کی مسکراہٹ دم توڑ گئ تھی
” نہیں امی ٹھیک تو ہیں ۔۔۔۔ بلکہ مزے کے بنے ہیں ” تینوں دیوروں میں سے ایک نے کہا جس کا نام فرقان تھا لیکن ماں نے کھرک کر اسے دیکھ کر ٹوکا
” تم تو چپکے بیٹھے رہو ۔۔۔۔ تمہارے آگے تو گھاس بھوس بھی نمک مرچ ملا کر رکھ تو تعریف کرتے ہوئے کھا جاؤں گئے ” مان کے کہنے کے بعد شبو نے بھی بھائی کو آنکھیں دیکھائی تھی ۔۔۔۔ تا کہ بیچ میں مداخلت نا کرے ۔۔۔
وہ بیچارہ چپ سا ہو گیا ۔۔۔ چھوٹی دونوں نندیں جو پہلے بڑے مزے سے کھا رہیں۔ تھی بھابھی کے بنائے چاول اب انہیں بھی کچے سے لگنے لگے تھے
” ہاں بھابھی ذرا دم اور دے دیتیں تو مزہ ہی آ جاتا ۔۔۔
“اور یہ کباب بھئ بڑی تیز مرچیں ہیں اس میں ” بینش نے منہ بسورتے ہوئے کباب منہ ڈالتے ہوئے کہا ۔۔۔ عرفان کے چہرے کے تاثرات بدلے تھے ۔۔۔ شاید ماں کے کہنے کے بعد اسے بھی ہر چیز میں عیب دیکھنے لگے تھے ۔۔۔۔
” شبو بھئ کھانا بہت لا جواب بنا ہے ۔۔۔۔ میں تو کہتا ہوں تم بھی عرفان کی بیگم سے کچھ بنانا سیکھ لو ۔۔۔۔ تو ہمہیں بھی گھر پر کچھ اچھا کھانا نصیب ہو جائے ” میاں کی بھاوج کے لیے تعریف تو جیسے شبو کو آگ لگا گئ تھی چمچ پٹخ کر پلیٹ میں پھنکا
” ہاں ہاں آپ تو جیسے فاقے کاٹ رہیں ہیں نا ۔۔۔۔ اتنی ذمہ داریاں ہیں مجھ پر ۔۔۔ اس کے باوجود کبھی شکایت کا موقع نہیں دیا۔۔۔ اور کیسے منہ بھر کے میرے میکے میں آپ نے سب کے سامنے مجھے ذلیل کر کے رکھ دیا کہ میں آپ کا خیال نہیں رکھتی ” شبو نے ٹسوئے بہاتے ہوئے ماحول کو بدل کے رکھ دیا تھا ۔۔۔۔ بیچارا شوہر تو ہڑبڑا سا گیا تھا کہ اس نے کہہ کیا دیا ہے ۔۔۔ بیوی کی بات ختم نہیں ہوئی تھی کہ ساس کے فرمان جاری ہوئے تھے
” بس اسی بات کا ڈر تھا مجھے ۔۔۔۔ یہ آجکل کی لڑکیاں گھر آتے ہی گھر میں فساد بھرپا کر دیتی ہیں ۔۔ ابھی جمعہ جمعہ آٹھ دن ہوئے نہیں اس لڑکی کو آئے ہوئے۔۔۔ اور دیکھو عرفان ۔۔۔ کیسے سب کو ہاتھوں میں لے رہی ہے ۔۔۔ پہنے فرقان نے تعریفوں کے جھنڈے گاڑ دیے اور اب شہزاد میاں کو اچھی خاصی سگھڑ بیوی میں نقص نظر آنے لگے ۔۔۔۔ حد ہے بھئ ” شزا ہلا بکا ہو کر ساس کو دیکھنے لگی ۔۔۔۔ اس نے تو کسی سے تعریف کرنے کے لئے نہیں کہا ۔۔۔ بلکہ پوچھا تک نہیں تھا کہ کھانا پکا کیسا ہے ۔۔۔
شبو روتے ہوئے کھانا چھوڑے کمرے سے نکل گئ ۔ ماں بھی شبو شبو کرتی بیٹی کے پیچھے چلی گئ ۔۔ شہزاد تو بات کر کے پچھتایا تھا فرقان اپنی جگہ شرمندہ تھا کہ بھابھی کی تعریف کر ہی کیوں دی۔ چپ چاپ ہی کھاتا رہتا ۔۔۔
عرفان کے تیور دیکھ کر شزا کو لگا بنا قصور کے ہی مجرم بن گئ ہے ۔۔۔ نا اس نے کسی سے تعریف کرنے کہا تھا نا ہی نند کی کوئی برائی کی ۔۔۔۔ چپ چاپ بیٹھی وہ قصور وار تھی ۔۔۔۔ کھانا جیسے حلق میں ہی پھنس کر رہ گیا تھا ۔۔۔۔ صبح سے بیچاری کچن میں لگی ہوئی تھی
” شہزاد بھائی آپ کو بھی سوچ سمجھ کر بات کرنی چاہیے تھی بھلا یہ بھی کوئی کرنے والی بات تھی۔۔۔ آپاں کا دل دکھ کر رہ گیا ۔۔۔۔ ” عرفان نے بہنوئی کو بنا لحاظ کے سنائی تھیں
” میں نے یونہی کہا تھا ۔۔۔ میں دیکھتا ہوں اسے کیا ہوا ہے ” بیچارا کھانا چھوڑ بیوی کے پیچھے لپکا تھا۔۔۔۔
عرفان کے ماتھے پڑے بل پھر دوبارہ ٹھیک نہیں ہوئے تھے زبان سے تو شزا سے کچھ نہیں کہا لیکن رویہ سخت سا رکھنا شروع کر دیا ۔۔۔۔
اب تو ماں بیٹی نے عادت ہی بنا لی تھی ۔۔۔ ہر بار ٹیبل پر پہلا نوالہ منہ جاتے ہی کھانے میں عیب نکالنے شروع کر دیتی تھی ۔۔۔۔ فرقان کی دوبارہ ہمت نہیں ہوئی کہ تعریف بھی کرے چھوٹا عمران بھی چپ ہی رہتا تھا ۔۔۔ صفیان ویسے تو خاموش رہتا تھا لیکن پھر بھی بھابھی کا احساس کر لیتا تھا فرسٹ ائیر میں پڑھتا تھا ۔۔۔۔ لیکن پڑھنے میں اتنا اچھا نہیں تھا ۔۔۔
شزا اکثر پڑھائی میں اس کی مدد کر دیتی تھی ۔۔۔۔
عرفان رات دیر تک ماں کے پاس ہی بیٹھا رہتا تھا
شزا کبھی کبھی تو انتظار کرتی رہتی لیکن کبھی کبھی تھک کر سو جاتی تھی ۔۔۔۔ کئ دن ایسے بھی گزر جاتے کے میاں بیوی میں بات چیت تک نہیں ہو پاتی تھی ۔۔۔۔ شزا کو لگتا تھا جیسے عرفان کو بیوی کی نہیں اپنے گھر کے لئے ملازمہ چاہیے تھی ۔۔۔۔
گھر کی بہت سی ذمہ داری اس پر آن پڑی تھیں
اب بھی وہ پیاس کی وجہ کمرے سے نکلی تھی کچن کے برابر میں ہی اسکی ساس کا کمرہ تھا عرفان بھی وہیں بیٹھا تھا باتوں کی آوازیں باہر تک آ رہیں تھیں
” میری بات کان کھول کے سن لو عرفان ۔۔۔۔ اپنی بیوی سے کہو ذرا کم سجا سنوار کرے جوان دیور اور نندوں والا گھر ہے ۔۔۔۔ خود سے تو اسے خیال ہی نہیں ہے اس بات کا “
” جی اماں کہہ دونگا ” عرفان نے جواب دیا
” اور ہاں ایک بات اور کہنی تھی تجھ سے ۔۔۔ “
” جی کہیے “
” دیکھ ابھی بچوں کے چکر مت پال لینا ۔۔۔۔ خیر سے تین بھائی اور دو بہنوں کی شادی تمہی نے کرنی ہے ۔۔۔ یہ آجکل کی لڑکیاں بچہ ہوتے ہی میاں کو بچوں میں لگا دیتی ہیں ۔۔۔۔ ارے میری تو ساری امیدیں تجھ سے ہیں ۔۔۔ “
” اماں ۔۔۔۔ یہ سب تو میرے اختیار میں نہیں ہے ” وہ نظریں چرا کر متذبذب سا ہوا تھا ۔۔۔۔ بھلا ماں کی اس قسم کی بات کا کیا جواب دے سکتا تھا ۔۔
” کیوں جواب نہیں دیکھ سکتا تیرے تیور تو مجھے بدلتے ہوئے ابھی سے نظر آ رہے ہیں”
” اچھا اماں ۔۔۔۔ جیسا آپ کہہ رہیں وہی کر لوں گا ۔۔۔۔ ” عرفان کا جواب سن کر وہ واپس کمرے میں آگئ ۔۔۔۔۔
ایسا اس نے اپنے گھرانے میں کہیں دیکھا تھا نا کبھی سنا تھا ۔۔۔۔ کیا بچے بھی ساس کی مرضی سے دنیا میں آئیں گئے ۔۔۔۔ عرفان صرف فرمابردار بیٹا اور بھائی ہی ثابت ہوا تھا ۔۔۔
******……..
اس سے پہلے کے ماریہ آفرین کے سر پر دور بین مار دیتی کمرے کا دروازہ کھلا تھا سامنے مظہر دونوں کو دیکھ کر ہونق سا ہوا تھا پھر ماریہ کے ہاتھ میں پکڑی دور بین سے اٹھا ہوا ہاتھ دیکھ کر بھاگ آفرین کے سامنے کھڑا ہوا تھا
” آفرین تم باہر جاؤں ” ماریہ کا دوربین والا ہاتھ پکڑ کر اس نے آفریں کو بلند لہجے میں کہا ۔۔۔۔ وہ اب بھی ماحول کو سمجھ نہیں پا رہی تھی ۔۔ ماریہ چلا کر بولی ایک جنون سااس پر سوار ہونے لگا تھا
” یہ تمہاری دوسری بیوی کیوں نہیں گئ ابھی تک۔۔۔۔ مظہر اسے ابھی طلاق دو ۔۔۔ اسے میرے سامنے دھکے دے کر باہر نکالو ” اب وہ چلا کر بولنے لگی تھی آفرین کی طرف لپکتے ہوئے بولی لیکن مظہر نے ماریہ کو اپنی حصار میں لیا تھا ۔۔ بڑی دبلی سی تھی لیکن اس وقت جنون میں مظہر سے بھی سنبھالی نہیں جا رہی تھی ۔۔۔ حالانکہ کے مظہر کا شمار بھرپور صحت مند مردو میں ہوتا تھا ۔۔۔
” آفرین باہر جاؤ ” اس بار مظہر چلا کر بولا تھا ماریہ مکمل طور پر اسے حصار میں تھی لیکن اپنا آپ چھڑوا رہی تھی ۔۔۔۔
آفرین کمرے سے نکل گئ ۔۔۔۔۔ ایک ہنگامہ سا مچ گیا تھا وہ ماریہ سے دوستی کرنے گئ تھی یہ نہیں معلوم تھا اس قدر سخت رد عمل کا اظہار کیا جائے گا ۔۔۔۔
دو گھنٹے بعد مظہر کمرے میں بڑے غصے سے داخل ہوا تھا کمرے کا دروازہ بھی پوری قوت سے بند کیا ۔۔۔ آفرین اچھل کر رہ گئ تھی پہلے ہی اس ہنگامے سے گھبرائی ہوئی تھی ۔۔۔۔ وہ سیدھا اس کے سامنے آ کر کھڑا ہو گیا اس وقت شدید غصے میں تھا
” مظہر میں تو بس ” آفرین نے اپنی صافی میں ابھی لب ہی وا کیے تھے کے وہ دھاڑتے ہوئے بولا
” اوہ شپ اپ ۔۔۔۔ ” پھر اس کا بازو زور سے پکڑ اسے جھنجھوڑ کر بولا
” کیوں گئ تھی ماریہ کے کمرے میں ؟ ۔۔۔۔ کس کی اجازت سے گئ تھی ؟ ۔۔۔۔ ” آفرین کا تو خون ہی خشک ہوا تھا اتنے غصے میں اس نے پہلے مظہر کو نہیں دیکھا تھا لہو رنگ آنکھیں لئے وہ کسی شیر کی طرح اس پر دھارا تھا آفرین کے گلے میں گرہیں بڑھی تھیں ۔۔۔۔ پورا وجود کانپ کر رہ گیا تھا ۔۔۔۔
” میں ۔۔۔۔ میں ” لزرتے ہونٹوں وہ بس یہی بول پائی تھی ۔۔۔۔ چہرے کا رنگ فق تھا ۔۔۔۔ آنکھوں میں آنسوں آنکھوں میں جھلملا رہے تھے ۔۔۔۔
” آج کے بعد اگر تم نے ماریہ کے کمرے کا رخ بھی کیا تو مجھ سے برا تمہارے لئے کوئی نہیں ہو گا ” غصے سے ایک ایک لفظ جما کر وہ بول رہا تھا دبی دبی سسکیوں لیتے ہوئے اس نے اثبات میں سر ہلایا تھا ۔۔۔ اس کا بازو چھوڑ کر وہ کمرے سے باہر نکل گیا آفرین کا رکا ہوا سانس بحال ہوا تھا کچھ پل کے لئے لگا کے بس ۔۔۔۔ اس کا شاید برا وقت شروع ہو چکا ہے ۔۔۔۔ بیڈ پر بیٹھ کر وہ پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی تھی ۔۔۔۔۔ تقریبا ایک گھنٹے بعد ایک ملازمہ کھانے کی ٹرالی لیکر اندر داخل ہوئی تھی دروازہ کھلنے سے آفرین کو لگا کے مظہر ہے بری طرح سے وہ چونکی تھی ۔۔ لیکن ملازمہ کو دیکھ کر سنبھل سی گئ ۔۔۔۔ وہ ٹرالی رکھ کر خاموشی سے واپس چلی گئ ۔۔۔۔۔
کچھ دیر بعد ہی مظہر اندر داخل ہوا تھا ۔۔۔۔ اس بار غصے میں نہیں تھا ۔۔۔ آفرین نے اسے دیکھ کر نظریں جھکا لیں ۔۔۔ وہ سیدھا سامنے رکھی کرسی پر بیٹھا تھا ۔۔۔۔ پھر ٹرالی کھنچ کر اپنے قریب کی ۔۔۔۔ ایک پلیٹ میں چاول ڈالے ۔۔۔ پھر ایک نظر روتی ہوئی آفرین پر ڈالی
” آفرین آ کر کھانا کھاؤ ۔۔۔۔ ” لہجہ اب بھی سخت تھا ۔۔۔ وہ بلا تامل اٹھ کر کھڑی ہو گئ اس کے برابر والی کرسی پر بیٹھ بھی گئ ۔۔۔ سب سے پہلے پانی گلاس میں بھرا ۔۔۔۔سسکیوں کے ساتھ پانی اندر انڈیلا تھا حلق خشک تھا ۔۔۔۔ پلیٹ اٹھا کر ذرا سے چاول ڈالے اور چمچ سے کھانے لگی ۔۔۔۔ مظہر کی نظریں مسلسل اسی پر تھیں ۔۔۔ اس کی پلیٹ میں مزید چاول مظہر نے ڈالے تھے ۔۔۔۔۔
آفرین چاہ کر بھی انکار نہیں کر پائی تھی ۔۔۔با
مشکل ہی اس نے پلیٹ خالی کی تھی ۔۔۔۔
کچھ دیر میں ملازمہ کھانے کی ٹرالی واپس لے گئ
” آپ چاہیں تو ماریہ کے پاس جا سکتے ہیں ” آفرین کو مظہر کی گھورتی نظروں سے خوف سا محسوس ہو رہا تھا ۔۔۔چاہتی تھی کے وہ باہر چلا جائے ۔۔۔۔ ماضی میں بھی ایک خوف میں زندگی گزارتی آئی تھی
کبھی بھائی کے غصے کا خوف کبھی بھابھی کی ناراضگی کا۔۔۔ مظہر نے شادی کے بعد جتنی محبت دی تھی خود با خود وہ با اعتماد ہونے لگی تھی ۔۔۔لیکن آج جس طرح سے وہ پیش آیا تھا آفرین کو لگا کے وہ واپس سے اپنا اعتماد کھو بیٹھی ہو ۔۔۔
” تمہارے کہنے پر نہیں جاؤں گا ۔۔۔ بیوی ہے وہ میری جب میرا جی چاہے گا تب جاؤں گا ۔۔۔۔۔ ” وہ اب بھی سخت لہجے سے بات کر رہا تھا آپ سے تم پر آ چکا تھا ۔۔۔ نرم لہجہ غائب ہو چکا تھا ۔۔۔
وہ اٹھ کر کمرے سے باہر جانے لگی ۔۔۔ وہ غصے میں تھا بہتر تھا کہ وہی باہر نکل جائے ۔۔۔
” کہاں جا رہی ہو تم ” وہ کھڑا ہو کر بولا
” میں نیچے ۔۔۔ امی کے پاس ‘ “
” اس وقت وہ سو جاتی ہیں ۔۔۔ ” اسکے قریب آ چکا تھا
” مجھے گھبراہٹ سی ہورہی ہے ۔۔۔۔ میں باہر لان میں جا رہی ہوں ” آفرین بہانے تراش رہی تھی اس وقت تنہائی چاہتی تھی
” ادھر آؤں میرے پاس تمہاری گھبراہٹ میں دور کر دیتا ہوں ” اس بار لہجہ ذرانرم تھا ۔۔۔ آفرین وہیں دروازے کے پاس کھڑی رہی ۔۔۔
” آفرین اس وقت میں غصے میں ہوں ۔۔۔۔ ” مظہر نے خود ہی وضاحت دی تھی
” جی مجھے معلوم ہے ۔۔۔ ایم سوری مظہر ۔۔۔ میں صرف ماریہ سے دوستی کرنا چاہتی تھی ۔۔۔ “
” یہ جانتے ہوئے کے وہ اپنے ہوش وحواس کھونے میں ایک سکینڈ نہیں لگاتی ۔۔۔۔ اگر میں وقت پر نا پہنچتا تو اس وقت تم اچھی خاصی زخمی ہو چکی ہوتی ۔۔۔۔۔ جب وہ اپنے جنون میں ہوتی ہے تو سامنے والے کو بچنے کا موقع نہیں دیتی ۔۔۔میں ایک مرد ہو کر بڑی مشکل سے اسے سنبھال پاتا ہوں ۔۔۔ تمہیں تو شاید وہ ویسے ہی جان سے مار ڈالتی ۔۔۔ ” مظہر کی بات وہ خاموشی سے گردن جھکائے سن رہی تھی ۔۔۔۔
“آئندہ نہیں جاؤں گی ” وہ فورا سے مان گئ تھی ۔۔۔
” لیکن میرا غصہ اب بھی باقی ہے ” مظہر کی نظروں میں اب شوخی تھی ہاتھ باندھ کر اسی کو دیکھ رہا تھا
” تو سزا دیں گئے مجھے ” ایک اچٹتی سی نظر مظہر پر ڈال کر بولی۔۔۔ مظہر نے آنے والی ہنسی روکی تھی ۔۔۔۔ خود ہی اپنے لئے سزا مانگ رہی تھی
” ہاں ارادہ تو یہی ہے ۔۔۔ کیونکہ میری بیوی کو شوہر کا غصہ بھی ختم کرنا نہیں آتا ۔۔۔۔ پتہ نہیں کون سی بیویاں ہوتی ہیں جو پل بھر میں شوہر کے گلے لگ کر اپنایت کا احساس دلاتی ہیں ۔۔۔ ایک میری بیوی ہے بس آنسوں بہانا جانتی ہے ۔۔۔ ” اسکے رخسار سے بہتے آنسوں صاف کرتے ہوئے کہہ رہا تھا ۔۔۔ آنکھوں میں غصے کی جگہ اپنایت نے لے لی تھی ۔۔۔ آفریں دو قدم پیچھے ہٹ گئ
” عجیب شوہر ہوں میں بھی اپنے راضی ہونے کا طریقہ بھی بیوی کو بتا چکا لیکن ۔۔۔ لیکن نو رسپونس ” بڑی مخمور نظروں سے وہ اسے دیکھتے ہوئے فرمائش کر رہا تھا کوئی اور موقع ہوتا توشایدوہ اسکی خواہش پوری بھی کر دیتی لیکن ۔۔۔ اس وقت تو یہ سب کرنا اس کے مزاج کے بر خلاف سی بات تھی کچھ دیر پہلے مظہر سے اچھی ڈانٹ کھائی تھی ۔۔۔ جی بھر کر روئی دھوئی تھی ۔۔۔ اسی کااثر دل سے ابھی تک گیا نہیں تھا ۔۔۔
” آفرین ۔۔۔۔ “
” میرا ایسا کوئی موڈ نہیں ہے ” وہ صاف گوئی سے بولی ۔۔۔ “
” مطلب صاف انکار کر رہی ہو مجھے ۔۔۔ مجھے ۔۔۔۔ اپنے مجازی خدا کو ۔۔۔۔ ” اس کے کندھے پر اپنے دونوں بازو رکھ کر اس نے آفرین کے ناراض چہرے کو دیکھا تھا ۔۔۔۔
” آپ نے مجھے بہت ۔۔۔۔۔ سختی سے ڈانٹا تھا ” آفرین نے روتے ہوئے شکوہ کیا تھا
” غصے میں ہر انسان سختی سے ڈانٹا ہے ۔۔۔ بھلا پیار سے بھی کسی کو ڈانٹتے ہوئے دیکھا ہے تم نے ” وہ اب شرارت سےاس سے پوچھ رہا تھا
” بات آرام سے بھی ہو سکتی تھی ۔۔۔ میں آپ کی بات سے۔ تب بھی اختلاف نہیں کرتی مان ہی لیتی ۔۔۔ “
” جانتا ہوں بہت برداشت ہے تم میں ۔۔۔۔ میری ہر بات تم بنا کسی اعتراض کے مان جاتی ۔۔۔ لیکن میں بھی اس وقت بہت غصے میں تھا ۔۔۔ اور میرا غصہ بھی جائز تھا ۔۔۔۔ ” اسے اپنے ساتھ لگائے وہ اب نرمی سے کہنے لگا
” ماریہ کو تو اپنی ہوش نہیں ہے ۔۔۔۔ کبھی بلکل ٹھیک باتیں کرتی تو کبھی دیوانہ پن اس پر سوار ہو جاتا ہے ۔۔۔ اس کے بھی اختیار سے باہر ہے یہ سب ۔۔۔۔ اگر اس کی وجہ سے تمہیں کچھ ہو جاتا پھر ؟ اس کے کمرے میں تمہیں دیکھ کر اورماریہ کے ہاتھ میں دور بین دیکھ کر میری جان ہی نکل گئ تھی ۔۔۔۔ وہ سکینڈ بھی نہیں لگاتی دور بین سے تمہیں بری طرح سے زخمی کر دیتی ۔۔۔” مظہر کی بات بھی ٹھیک تھی
” میں دوبارہ انکے کمرے میں نہیں جاؤں گی “
” اٹس مائے حمنبل ریکوسٹ ۔۔۔۔ دوبارہ ماریہ کے کمرے کا رخ بھی مت کرنا ” آفرین نے دوبارہ ماریہ کے کمرے جانے سے توبہ کی تھی ۔۔۔ چند دنوں میں ہی دونوں دوبارہ سے ایک دوسرے کے ساتھ ویسے ہی ٹھیک ہو چکے تھے ۔۔۔ جیسے پہلے رہتے تھے
*******…….
“بھابی جھوٹ میں نہیں یہ بول رہیں ہیں” نوفل نے غصے سے زولیخہ کو دیکھتے ہوئے بولا
” میں کچھ بھی سننا نہیں چاہتی ۔۔۔ کون سچا ہے کون جھوٹا میں نہیں جانتی ۔۔۔ لیکن میں تمہارے ساتھ بھی جانا نہیں چاہتی ۔۔۔ ” مائرہ کے جواب پر وہ چپ ہو گیا تھا ۔۔ قہر بھری نظروں سے عمار کو دیکھ رہا تھا جو مسنی ہنسی ہنس رہا تھا
” نوفل مجھے تم سے کوئی بھی واسطہ نہیں رکھنا ہے اس لئے برائے کرم تم یہاں سے چلے جاؤں ۔۔۔۔ مجھے بس وہ چیزیں لوٹا دو جو میری امی نے مجھے دیں تھیں ۔۔۔۔ ” مائرہ نے جیسے بات ہی ختم کر دی تھی زولیخہ اور عمار کا کلیجہ ٹھنڈا ہوا تھا ۔۔۔ نوفل کوشاپنی بے بسی پر رونا آیا تھا
” ٹھیک ہے ۔۔۔ مرضی ہے آپ کی ۔۔۔۔۔ میں آپ کو مجبور نہیں کر سکتا آپ اپنے فیصلے میں آذاد ہیں ۔۔۔۔” گلو گیر لہجے سے وہ بولا گلے میں جیسے آنسوں کا گولا سا پھنس گیا تھا ۔۔۔ بھائی کیا گیا تھا پورا گھر ہی اجڑ کے رہ گیا تھا ۔۔۔ مائرہ اس سے ذیادہ منت سماجت نہیں کر سکتا تھا ۔۔۔ لیکن سچ بتانا چاہتا تھا ۔۔۔
” بھائی کی دوکان صرف بھائی کی ملکیت ہے کیونکہ وہ انہوں نے اپنی محنت سے ہی خریدی تھی میں اس میں حق نہیں رکھتا ۔۔۔۔ اب آپ اسکی ورث ہیں ۔۔۔ اس کا کرایہ تیس ہراز ہے جو میں ہر ماہ آپکے کزن کو دے کر جاتا تھا میرے خیال سے وہ پیسے آپکی امانت تھے جو انہوں نے پوری ایمانداری سے آپ کو دیے ہوں گئے ” نوفل کی بات سن کر مائرہ نے زولیخہ کی طرف دیکھا تھا جو نظریں چرا رہی تھی عمار بھی۔ گھبرایا ہوا کھڑا تھا ۔۔۔۔
” کتنے جھوٹے شخص ہو تم ۔۔۔۔ منہ پر جھوٹ بول رہے ہو ۔۔۔ ارے میرے میاں نے ہماری ضرورتوں کو کم کر دیا تا کہ مائرہ اور اسکی بچیوں کو کسی چیز کی کمی نا محسوس ہو ۔۔۔ ہمارا سارا کیا دھرا اپنے نام لگوانے آ گئے ہو ۔۔۔۔ واہ میاں ” زولیخہ کی زبان کے ساتھ دماغ بھی بہت تیز تھا ۔۔۔ بڑی صفائی سے چھوٹ بول رہی تھی ۔۔۔۔
” میں جھوٹ بول رہا ہوں ؟ ” نوفل کے تو تلوں پر لگی تھی اور سر پر جا کر بجھی تھی
” ہاں تو اور کیا ۔۔۔۔ جھوٹ بول رہے ہو تم ” عمار نے بھی بیوی کا ساتھ دیا
” بھابھی یہ دونوں بکواس کر رہے ہیں ۔۔۔ میں خود ” نوفل جذبات میں مائرہ کے پاس آ کر کہنے لگا وہ کئ قدم پیچھے ہٹی تھی
” نوفل مجھے کچھ نہیں سننا جاؤں یہاں سے ۔۔۔ مجھے اپنی امی کے گھر ہی رہنا ہے ۔۔۔ اس لئے مجھے گھر کے کاغذ ۔۔ میرا زیور اور میرا موبائل چاہیے “
” بھابھی یہ لوگ جھوٹے ہیں ۔۔۔ لالچی ہیں ۔۔۔ آپ کاسب کچھ برباد کر دیں گئے ” نوفل نے پھر سے سمجھانا چاہا زولیخہ رونے لگی
” مائرہ تم چلی جاؤں اس کے ساتھ ۔۔۔ میں مزید الزام برداشت نہیں کر سکتی ۔۔۔۔ جو نیکی میں نے اور عمار نے کی اس کاصلہ اللہ ہمہیں دے دے گا ۔۔۔ تم بس جاؤں اس کے ساتھ ۔۔۔۔
پھر ذرا لوگوں کی باتیں سن لینا ۔۔۔ کیسے تمہارے کردار پر انگلیاں اٹھیں گئیں ۔۔۔۔ اس کا کیا ہے بس ڈر رہا ہے کہ تمہیں تمہارا حق دینے کے بعد اس کے پاس کچھ بچتا نہیں ہے سوائے نوکری کے ” زولیخہ کی تیز اور کرارہ زبان کے جوہر سن کر نوفل چپ ہو گیا ۔۔۔۔ مائرہ نے اپنے کمرے میں کا دروازہ بند کر لیا ۔۔ نوفل سمجھ گیا کہ وہ نہیں جائے گی ۔۔۔ کیونکہ بات اب مائرہ کے کردار پر کی جارہی تھی ۔۔۔
وہ مایوس ہو کر وہاں سے نکلا تھا ۔۔۔
جب ان سب باتوں کا علم رمشہ کو ہوا تو اس کی خوشی قابل دید تھی ۔۔۔۔
کہ مائرہ واپس لوٹ آنے کو تیار نہیں ہے ۔۔۔ اسکے والدین بھی جلد نکاح کے لئے راضی ہو گئے تھے
شادی تو بہرحال نوفل کو کرنی ہی تھی ۔۔۔۔
کیونکہ اکیلے گھر پر رہنا اس کے لئے بھی مشکل تھا
پندرہ دن بعد کی تاریخ رمشہ کے والدین نے با خوشی طے کہ تھی ۔۔۔
******….,
مائرہ کے پاس کوئی راستہ رہا نہیں تھا ۔۔۔۔ زولیخہ کی ہر بات اسے سچ لگ رہی تھی ۔۔۔
اگلے روز سے ہی زولیخہ نے اسے کچن کا رستہ دیکھا دیا تھا ۔۔۔
” تم بھی اکیلے بیٹھی بیٹھی تنگ آ گئ ہو گی اس لئے آج سے کچن تم ہی سنبھالو جو چاہے پکاؤ کھاؤں ۔۔۔۔ یہ تمہارا بھی گھر ہے ۔۔۔ ” اپنایت دیکھاتے ہوئے وہ کچن کا ہر کام اسی پر ڈال چکی تھی ۔۔۔۔
صبح کے ناشتے سے رات کے کھانے تک کی زمیداری وہ سنبھالنے لگی تھی ۔۔۔
اب عمار بھی بے دھڑک کچن میں آ جاتا تھا ۔۔۔ مائرہ سے بات کرنے لگا تھا وہ چادر میں ہی پلٹی ہوتی تھی ۔۔۔۔ لیکن کچن میں ایک مرد کی موجودگی ۔میں کام کرنا اس کے لئے مشکل ہی ہوتا تھا۔۔ وہ بڑی الجھن کا شکار ہونے لگی تھی بار بار وہ اسکے قریب آنے کی کوشش کرتا تھا ۔۔۔
” عمار بھائی آپ بھابھی کے پاس جائیں میں وہیں ناشتہ لگا دیتی ہوں “
” ہاں تو ٹھیک ہے ۔۔۔ تم بناؤں ناشتہ میں تو تمہارا دل بہلانے آ گیا تھا ۔۔۔۔ میری بہن کواکیلا پن نا محسوس ہو ۔۔۔ ” عمار کی نظریں کچھ اور زبان سے لفظوں کی ادائیگی کچھ اور ہی تھی
“آپ جائیں پلیز ۔۔۔ مجھے اکیلے کچن میں کام کرنے کی عادت ہے ” مائرہ نے لہجہ ذرا سخت کیا تو وہ باہر نکلا ۔۔۔۔
دس دن یونہی گزر گئے ۔۔۔۔ نوفل پلٹ کر دوبارہ نہیں آیا تھا نا اسکی والدہ کے گھر کے کاغذات لایا تھا نا ہی زیور ۔۔۔
زولیخہ تو روز ہی اسی انتظار میں آنکھیں بچائے ہوئے تھی ۔۔۔
” کیسا کمینہ ہے مائرہ تمہارا دیور ۔۔۔ دیکھوں تو ایسا گیا ہے واپس پلٹ کر نہیں پوچھا اور ہم پر جھوٹا الزام لگا رہا تھا ۔۔۔۔ پتہ نہیں کب تائی کی کے گھر کے کاغذ لائے گا عمار نے تو مالک مکان سے کہہ بھی دیا ہے اسی مہنے گھر خالی کر دیں گئے ۔۔۔ ” زولیخہ کی بات سن مائرہ بھی فکرمند ہوئی تھی
” دو دن تک خود جاتی ہوں گھر ۔۔۔ ” مائرہ بات سن کر زولیخہ مطمئن ہوئی تھی ۔۔۔۔ لیکن رات کی تیز برستی بارش نے ایک مائرہ کو بوکھلا کر رکھ دیا تھا ۔۔۔ سمیٹ کی پڑی چادروں میں جگہ جگہ سوراخ تھے ۔۔۔۔ پانی اندر ٹپکنے لگا تھا ۔۔۔
سیدھے بارش کے قطرے مسئرے کے چہرے پر گرے تھے ۔۔۔۔ مائرہ فوراسے اٹھ بیٹھی ۔۔۔۔ ہلکی روشنی میں دیکھا تو عائشہ اور منزہ پر بھی پانی گر رہا تھا چار پائیاں بارش کے پانی سے بھگنے لگیں تھیں ۔۔۔ مائرہ نے باہر کادروازہ کھول ا چاہا تھا تا کہ بچوں کو لیکر گھر کے اندرونی حصے میں چلی جائے بارش سے بچیاں بھیگ گئیں تو بیمار پڑ جائیں گئیں
لیکن جیسے ہی دروازے کی کنڈی کھولی دروازہ باہر سے بند تھا ۔۔۔
” باہر سے دروازہ کس نے بند کیا ہے ۔۔۔” اس نے دروازہ بجانا شروع کیا ۔۔۔ چار پائیاں کافی بھگ چکیں تھیں پورے کمرے میں پانی ٹپک رہا تھا ۔۔۔ دونوں بچیاں کچھ دروازے کے بجانے کے شور سے کچھ گیلے بستر کی وجہ سے اٹھ بیٹھیں تھیں مائرہ نے دونوں بچیوں کو کے ہاتھ پکڑے
” مما پانی آ رہا ہے میرے کپڑے گیلے ہو گئے ہیں ۔۔۔ ” عائزہ اور منزہ دونوں ہی بھیگ چلیں تھی
” بس ابھی دروازہ کھل جائے گا پتہ نہیں باہر سے دروازہ کس نے بند کیا ہے ” وہ دروازہ دھڑدھڑا رہی تھی ۔۔
پھر بچوں پر اپنی چادر اتار کر اوڑھا دی ۔۔۔ کمرہ کی لائٹ بھی بند ہو چکی تھی شاید بارش کی وجہ سے لائٹ چلی گئ تھی ۔۔۔۔ اس طرح کی صورت الحال سے کبھی واسطہ نہیں پڑا تھا ۔۔۔ سمجھ نہیں پا رہی تھی کہ کیا کرے بار بار دروازہ کھٹکھٹا رہی تھی زولیخہ کو پکار رہی تھی کمرہ پانی سے بھرنے لگا تھا ۔۔۔ اندھیرا اتنا تھا کے بچیاں بھی رونے لگیں تھیں مائرہ کو کچھ بھی نظر نہیں آ رہا تھا کہ روشنی ہو تو خود پر دوپٹہ اوڑھ کے چادر سے وہ دونوں بچیوں کو چھپا چکی تھی ۔۔۔۔
” کوئی تو دروازہ کھولو خدا کے لئے ” وہ چلا چلا کر کہہ رہی تھی ۔۔۔۔ رو بھی رہی تھی دونوں بچیاں بھی رو رہیں تھیں اپنے نازک ہاتھوں سے دروازہ بجا رہیں تھیں
کہ جب باہر سے کنڈی کھلی تھی دروازہ کھلا تو سامنے عمار کھڑا تھا ۔۔۔۔ سر پر چھتری تانے ہوا تھا ۔۔۔ اندھرے میں بھی مائرہ کا سفید لباس میں بھیگا وجود اسکی نظروں سے چھپ نہیں پایا تھا
