Log Kia Kahe Gy by Umme Hani NovelR50418 Log Kia Kahe Gy Episode 12
Rate this Novel
Log Kia Kahe Gy Episode 12
Log Kia Kahe Gy by Umme Hani
آفرین کے ذہن میں منفی سوچوں کی یلغار سی چلنے لگی
” میں۔ نے ایک عورت ہو کر ایک سال انکی پہلی بیوی کے ساتھ کیسا اذیتوں بھرا گزارا ہے ۔۔۔ بنا افف کیے ۔۔۔۔ ایک سوتن کا کون سا ظلم نہیں سہا ۔۔ جو نفسیاتی اور نیم پاگل تھی ۔۔۔۔ اور مظہر ؟ کیسے صاف انکار کیا انہوں نے ۔۔۔ میری معصوم سی دوست جس پر قیامت ٹوٹ گئ جسے اس وقت میری سب سے ذیادہ ضرورت ہے ۔۔۔ انکے اتنے محل جیسے گھر میں گنجائش نہیں ہے ” آفرین لب سے تو کچھ نہیں بولی تھی لیکن دل بد گمان سا ہو گیا تھا
” آفرین جو تم سوچ رہی ہو ویسا میرے دل میں کچھ نہیں ہے ۔۔۔۔ ” مظہر کی بات پروہ متذبذب سی ہوئی تھی
” میں نے ایسا تو کچھ نہیں سوچا ” وہ سامنے دیکھ کر بات کر رہا تھا جانتا تھا کہ وہ خفا ہے
” میں جانتا ہوں تمہیں مائرہ بہت عزیز ہے میرے لئے بھی بہنوں جیسی ہے ۔۔ لیکن لوگ ایسے منہ بھولے رشتوں کو نہیں مانتے بس الزامات کی بوچھاڑ لگا دیتے ہیں ۔۔۔ اس لئے ہمارے معاشرے میں کوئی چاہ کر بھی کسی بیوہ کے ساتھ ہمدردی نہیں کر سکتا۔ ۔۔۔ وہ بول بھائی سمجھ کر بھی بعل دو تو ۔۔۔ لوگ شک کی نظر سے دیکھنے لگتے ہیں گھثیاں فقرے کستے ہیں ۔۔۔۔ برسوں میں بنائی گئ عزت کو روندنے میں دو منٹ نہیں لگاتے ۔۔۔۔ تم اگر جذبات کے بجائے ٹھنڈے دماغ سے سوچو۔ گی تو میری بات سمجھ آئے گی ۔۔۔۔” مظہر کی بات کا اس نے کوئی جواب نہیں دیا تھا ۔۔آفرین کو ۔ اس وقت بس مائرہ کی فکر ہی ستائی تھی ۔۔۔۔
******…….
پورا گھر خالی ہو چکا تھا ۔۔۔ ایک شخص کے جانے سے گھر گھر سے ویرانہ لگنے لگا تھا ۔۔۔۔
بھائی تھا تو گھر بھی بھرا سا لگتا تھا ۔۔۔ نوفل اکیلا صوفے پر بیٹھا ہوا تھا ۔۔ سامنے اپنے کمرے کے کھلے دروازے کے اندر اپنا کمرہ بکھیرا نظر آیا تو زریاب کی یاد آنے لگی
” نوفل ! کتنا تنگ کرتے ہو تم مجھے ۔۔ یہ دیکھوں گندے موزے تم نے یونہی بیڈ پر پھنکے ہوئے ہیں ۔۔ تمہارے کمرے میں جاتے ہی چڑیا گھر کا منظر نظر آتا ہے ۔۔۔ جوتے کہیں موزے کہیں تمہارے کپڑے ہمیشہ زمین پر ہی ملتے ہیں الماری کھولوں تو ایک کپڑوں ڈھیر اوپر گرتا ہے ” شادی سے پہلے نوفل کے کمرے کی صفائی وہی کرتا تھا بس کچن نوفل سنبھالتا تھا
۔” ہاں تو یہ میرا کام تھوڑی ہے برو ۔۔۔ “کچن سے منہ باہر نکال کر اس نے کہا
” ہاں یہ میرا کام ہے ۔۔۔ تم سدھر جاؤں نوفل ۔۔۔ اپنی چیزیں ترتیب سے رکھا کرو میں کب تک تمہیں سنبھالوں گا ۔۔۔ کہیں چلا گیا تب سمجھ آئے گی تمہیں ” زریاب کی بات یاد آتے ہی جیسے ایک جھٹکا سا لگا تھا نوفل کو ۔۔۔۔ دل پر جیسے گھونسا لگا تھا ۔۔۔ ہل کر رہ گیا تھا وہ ۔۔۔ اس وقت تو بھائی کی بات اس نے ہوا میں اڑائی تھی
لیکن اب ذرا ذرا سی وہ بات بھی جو عام طور پر انسان بس یونہی بول جاتا ہے۔۔ بہت بڑی لگ رہی تھی ۔۔۔ جی چاہا کہ وقت پیچھے کو چلا جائے ۔۔۔ زریاب کی ساری باتیں وہ مان لے ۔۔۔۔۔ جو پہلے کبھی نہیں مانی تھی ۔۔۔
” بچوں کی طرح سوتے ہو تم نوفل میرے ہاتھ پر سر رکھ کر میرے اوپر ٹانگ رکھے ۔۔ اب بڑے ہو گئے ہو کچھ تو تمیز سیکھوں ۔۔۔ ” زریاب جب بھی سونے کے لئے لیٹتا نوفل اچھل کر بیڈ پر بیٹھتا تھا پھر بڑے لاڈ سے زریاب کا ہاتھ سیدھا کرتا اور سر رکھ کر اپنی ٹانگ بھی اس پر رکھ لیتا ۔۔۔ وہ جھٹکے سے اس کی ٹانگ پیچھے کرتا تھا بدلے میں نوفل مسکرا کر ایک آنکھ کھولے شرارت سے اس کے غصے بھرے انداز کو دیکھتا ۔۔
” آپ کو کیا پتہ بھائی آپ کے ساتھ یوں لیٹ کر سوتا ہوں تو سکوووون سے سوتا ہوں ۔۔۔ ہوش ہی نہیں رہتی بڑے مزے کی نیند آتی ہے ۔۔۔۔ “
” ہاں اس چکر میں چاہے میرا بازو دکھنے لگے ۔۔۔ سر دیکھوں اپنا کتنا بھاری ہے ” زریاب کی ڈانٹ اسے کبھی بری لگی ہی نہیں تھی ۔۔۔ وہ بس ہنستا رہتا تھا اس بات پر بھی اس کا ہاتھ چومنے لگا
” میں بھی کیا کروں بھائی مجھے امی کی مہک بھی آپ سے آتی ہے اور ابو کی شفقت بھی آپ کے چہرے پر دیکھتی ہے ۔۔۔ بہن جیسا خیال بھی آپ ہی رکھتے ہیں ۔۔۔ مجھے ہر رشتہ آپ میں نظر آتا ہے ۔۔ اس لئے میں ہر رشتے کی کمی آپ میں پوری کرتا ہوں ۔۔۔ ” اس کے سینے پر ہاتھ رکھے وہ بڑے حق جمانے والے انداز سے زریاب کے اور بھی قریب ہو کر بلکل چیک کو آنکھیں بند کر لیتا تھا وہ دوسرے ہاتھ سے زریاب کسی ماں کی طرح اس کا سر سہلانے لگتا اس کا ماتھا چومتا
” تم میرے بھائی نہیں ہو نوفل ۔۔۔ ” زریاب نے کسی خیال کے زیر اثر کہا نوفل نے اپنی آنکھیں کھول کر اسے حیرت سے دیکھا
” پھر کیا ہوں ؟” نوفل نے کے سوال پر بڑے پیار اسے دیکھ کر بولا
۔” پتہ نہیں کیا ہو ۔۔ جان ہو میری ۔۔۔۔ بڑا ٹوٹ کر پیار آتا ہے تم پر ۔۔۔۔ جب تم ماں سمجھ کر میری گود ۔میں سر رکھتے ہو تو میرا دل تمہارے لئے بے اختیار ہو جاتا ہے ۔۔۔ جب مجھے باپ جیسا مان دیتے ہو تو میری محبت کا بھی اندازہ بدل جاتا ہے
جب کسی دوست کی طرح یہ کہتے ہو کہ
بھائی ! بتاؤں کیا کروں کیسے کرو ” تم سب کچھ مجھ پر چھوڑ دیتے ہو تو لگتا ہے میں واقع تمہارا دوست ہوں ۔۔۔ ہم دونوں شاید ایک دوسرے کے لئے لازم و ملزوم کی حیثیت رکھنے لگیں ہیں ۔۔۔۔ سوچتا ہوں ہم میں اتنی محبت ہے کہ ایک دوسرے کے بغیر رہنا مشکل ہے ۔۔۔ پتہ نہیں ہماری زندگی میں آنے والیاں کیسی ہوں گئیں مل کر رہیں گی بھی یا ہمہیں جدا کر دیں گئیں ” چہرے پر گہری سنجیدگی لئے زریاب نے کہا تھا
” میں تو اپنی بیوی کو تیر کی طرح سیدھا رکھوں گا مجال ہے کہ سوچ بھی لے الگ ہونے کا ۔۔۔ ہاں آپ کا پتہ نہیں ؟ ” آنکھوں میں شرارت لئے نوفل نے بڑے مان سے کہا تھا زریاب نے اسے گھورتے ہوئے دریافت کیا
” کیا مطلب ۔۔۔ میرا پتہ نہیں ؟ “
” اس لئے کے آپ بہت شریف قسم کے انسان ہیں کوئی ایسی ویسی مل گئ تو لے اڑا لے جائے گی آپ کو ۔۔۔ “
” جی نہیں میری بیوی میری طرح ہو گی شریف سی نبھانے والی ۔۔۔ ہاں تمہاری اگر تمہاری طرح ہوئی تو کچھ نہیں کہہ نہیں۔ سکتے ” زریاب نے بھی یقین دہانی کروائی تھی
” میں آپ ایسا لگتا ہوں کہ چھوڑ دوں گا آپ کو ؟
” ہاں بیوی کے غلام ہو جاؤں گئے ۔۔۔ دیکھ لینا ” زریاب اسے چھیڑتے ہوئے بولا
” جی نہیں بھائی میں ایسا ہر گز نہیں کروں گا ۔۔۔
پتہ ہے بھائی میں کیا سوچتا ہوں ۔۔۔ ابھی کتنی خاموشی سی ہے ہمارے گھر میں لیکن چند سال بعد آپ کی شادی ہو جائے گی ۔۔۔ پھر اسکے بعد میری بھی ہو جائے گی ۔۔۔ہمارے بچے ہوں گئے ۔۔۔ کتنا ہلا گلا ہو گا نا ہمارے گھر میں ہر وقت شور مچا رہے گا ۔۔۔۔ بچے مل کر کھیلا کریں بیویاں کچن میں مزے کے کھانے پکایا کریں گئیں اور ہم مزے سے دونوں بیٹھ کر ٹی وی دیکھا کریں گئے ۔۔۔ اور ہاں ہم بچوں میں بلکل فرق نہیں رکھیں گئے۔ بھائی۔۔۔۔ میرے بچے آپ پالیں گئے اور آپکے بچے میں پال لوں گا ۔۔۔تا کہ جب وہ بڑے ہوں تو انہیں یہ تک فرق محسوس نا ہو کے چچا ذیادہ پیار کرتا ہے یا باپ ۔۔۔۔میں تو اپنے بچوں سے کہوں گا کہ آپ کو تایا کے بجائے بابا کہا کریں اور میرے بھتیجے بھتجیاں مجھے چچا کے بجائے پاپا ۔۔۔ اور ہم بچوں کے رشتے بھی آپس میں کریں گئے بھائی ۔۔۔۔ اس کے بعد جب ہم دادا نانا بن جائیں گئے تو مل کر اپنے پوتوں پوتیوں کو اپنی محبت کی داستاں سنایا کریں گئے ۔۔۔۔ ” ٹپ ٹپ آنسوں نوفل کی آنکھوں سے گرنے لگے تھے ۔۔۔۔ کتنی لمبی عمر کے خواب دیکھے تھے ۔۔۔۔۔ کتنی مختصر سی عمر پائی تھی ۔۔۔۔
پورا گھر خالی تھا ۔۔۔۔ نا بھائی تھا نا اسکی گھر گرہستی ۔۔۔۔ ایک ویرانہ تھا ۔۔۔۔ دل دہلا دینے والی خاموشی تھی ۔۔۔۔۔ ذرا سی آہٹ پر
پل بھر کے لئے تو خوف کے مارے وہ بری طرح سے ڈر سا گیا تھا ۔۔۔ چہرے پر خوف سے پسینے آنے لگے اپنی ہی سانس کی آمدورفت بھی سنائی دے رہی تھی آنسوں کے ساتھ چہرے سے پیسنے سے بہنے لگے ۔۔۔۔ اس وقت پورے گھر میں وہ تنہا تھا ۔۔۔ پہلی بار بری طرح خوف محسوس ہو رہا تھا ۔۔۔
رات کا ایک بج رہا ۔۔۔ اس نے پہلے رمشہ کو کال کی
تا کہ اکیلا پن دور ہو جائے لیکن وہ شاید سو چکی تھی پھر وصی کو کال کی اس نے فون اٹھا لیا تھا
“ہ۔۔۔ہہ۔۔ہیلو ۔۔۔وصی ” وہ خوفزدہ سا ہو رہا تھا
” نوفل اس وقت ۔۔۔ خیر تو ہے ۔۔۔ تم ٹھیک تو ہو ؟”
” تم آ سکتے ہو ؟ ۔۔۔۔ ” بے بسی سے نوفل نے اس کی منت کی تھی
” اس وقت ۔۔۔۔ ہوا کیا ہے ” وصی اٹھ کر بیٹھ گیا
” مجھے ۔۔۔ مجھے ڈر لگ رہا ہے ۔۔۔ ” ٹپ ٹپ آنسوں بہہ رہے تھے ڈپریشن اور خوف کے مارے سانس لینے میں دشواری سی محسوس ہو رہی تھی
” نوفل ۔۔۔۔ ہو کیا گیا ہے تمہیں ۔۔۔۔ بہادر بنو یار ۔۔۔ زونیرہ اکیلی ہے اور رات کا بھی ایک بج رہا ہے ۔۔۔
ایسا کروں ریلیکس ہو جاؤں ۔۔۔۔کال پر مجھ سے بات کرتے رہو ۔۔۔ تمہارا خوف۔ دور ہو جائے گا ۔۔۔۔ ” وصی لحاف اتار کر کمرے سے باہر آ گیا تھا تا کے بیوی ڈسٹرب نا ہو ۔۔۔ کافی دیر وہ نوفل سے ادھر ادھر کی باتیں کرتا رہا
” نوفل میری بات مانو تو رمشہ سے جلد سادگی سے نکاح کر لو ۔۔۔۔ کیونکہ تمہیں بھی ایک سہارے کی اشد ضرورت ہے ۔۔۔۔ ایک ایساساتھی جو اس صدمے اور غم میں تمہارے پاس ہو ۔۔۔۔ تمہیں تسلی دے سکے زریاب بھائی تمہارے لئے کیا تھے یہ میں اچھی طرح جانتا ہوں ۔۔۔ ناممکن سی بات ہے تم اس صدمے کو اکیلے سہہ سکوں کوئی تو کندھا تمہیں بھی چاہیے ۔۔۔ جس پر سر رکھ کر رو سکو ۔۔۔
کوئی ایسا ہو جس سے جی بھر کے باتیں کر کے اپناغم ہلکا کر سکوں ۔۔۔ ” وصی کی بات سو فیصد درست تھی
” تم ٹھیک کہہ رہے ہو ۔۔۔ میرا نکاح ہی اس مسلے کا حل ہے مجھے یقین ہے رمشہ بھابھی کے ساتھ ساتھ مجھے بھی سنبھال لے گی ۔۔۔۔ پھر خالی گھر کاٹ کھانے کو دوڑ رہا ہے ۔۔۔ ” بات کرتے ہوئے بھی وہ بار بار اپنے آنسوں پونچ رہا تھا ۔۔۔
“کل ہی اس کے گھر جاؤں اسکی فیملی سے بات کرو “
” ہاں کرتا ہوں بات ۔۔۔ “
“اور پلیز سونے کی کوشش کرو ” وصی نے اپنایت سے کہا تھا ۔۔۔ نوفل فون بند کر دیا مصمم ارادہ کر چکا تھا کہ رمشہ کی فیملی سے سیدھا سادگی سے نکاح کا کہے گا ۔۔۔ وہ بھی جانتے ہیں کہ وہ کس تکلیف سے دو چار ہیں اس لئے اعتراض کا تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا
نوفل کو پختہ یقین تھا کہ وہ لوگ اس کی مجبوری کو سمجھیں گئے
******……
اگلے روز ہی سب بڑے صحن میں چائے پی رہے تھے
” پھر طے ہے کہ احمر کے ولیمے پر ہی ہم زیان کی بارات بھی رکھ لیں گئے ” غفار (زیان ) کے والد نے بات پکی کی تھی زیان بھی وہیں موجود تھا ۔۔۔
” ٹھیک ہے بس اللہ مبارک گھڑی لائے ” اعجاز صاحب نے بھی کہہ دیا سب ہی خوش تھے زیان کھڑا ہو گیا بات تواسے کرنی تھی ۔۔ لیکن دل بڑی زور سے دھڑک رہا تھا
” ابو تایا مجھے آپ لوگوں سے بات کرنی ہے ” زیان کی بات پر وہ دونوں متوجہ تو ہوئے تھے لیکن مسکراتے ہوئے
” ہاں ہاں دولہے میاں بولو ۔۔۔۔ ” غفار بڑے اچھے موڈ میں بولے تھے
” میں شزا سے شادی نہیں کر سکتا ” بنا تمہید باندھے اس نے نظریں چراتے ہوئے کہا تھا غفار کے ساتھ سب ہی کو چپ لگ گئ تھی ۔۔۔ سب حیران اور پریشان تھے کمرے کھڑکی کے پاس کھڑی شزا دبی سسکیوں سے سب کچھ سن رہی تھیجس کی آنکھوں نے بچپن سے صرف اسی کے خواب سجائے تھے
” ہوش میں تو کو تم ” غفار غصے سے کھڑے ہو گئے
” میں کسی لی کو پسند کرتا ہوں ۔۔ اور شادی بھی اسی سے کروں گا ” یہ کہنے کی دیر تھی کہ غفار تیزی سے زیان کے پاس آئے اور زور سے تھپڑ اس کے منہ پر مارا ۔۔۔ وہ گرتے ہوئے بچا تھا
ماں کے دل پر ہاتھ پڑا تھا ۔۔ لیکن بیٹا اس قدر سر کشی پر آ جائے گا اس کا اندازہ نہیں تھا
اعجاز نے ہی آگے بڑھ کر غفار صاحب کو پیچھے کیا
” غفار پیچھے ہٹو جوان اولاد پر ہاتھ اٹھا رہے ہو ؟
” چھوڑ دیں مجھے بھائی صاحب ۔۔۔۔ اس لڑکے نے سمجھ کیا رکھا ہے ہمہیں ۔۔۔۔ یہ وقت ہے اس بکواس کا ۔۔۔
بچپن سے یہ بات طے تھی جب منگنی کی رسم کی گئ میں نے اس سے خود پوچھا تھا کہ زور زبردستی نہیں ہے تب تو فرمابرداری میں سر جھکا کر اقرار کیا تھا اور اب ” غفار صاحب کا غصہ کسی طور کم نہیں ہو رہا تھا شور کی آواز سے فاروق اور اسکی بیوی بھی باہر آ گئے احمر پہلے سے باہر موجود تھا بڑے اشتعال سے زیان کو دیکھ رہا تھا
” ابو میں اسی لڑکی سے شادی کروں گا ۔۔۔ مجھ پر زور زبردستی مت کیجیے ” یہ کہہ وہ اپنے کمرےہں چلا گیا
” بکواس کر رہا ہے میرے سامنے۔ جان لے لوں گا اسکی ۔۔۔ میری بچی کو مزاق سمجھا ہے اس کمینے نے ۔۔۔ دیکھتا ہوں ہوں کیسے شادی نہیں کرتا ” غفار صاحب کا غصہ عروج پر تھا
” ابھی تو تم اپنا بی پی ہائی مت کرو ۔۔۔ بیٹھوں ادھر احمر تم چچا کے لئے پانی لیکر آؤں ۔۔۔ غصے سے غفار صاحب کا سانس پھول گیا تھا۔۔۔ غصہ تواحمر کو بھی بہت آ۔ رہا تھا لیکن بولا کچھ نہیں
بڑوں کے سامنے کسی بھی بچے کی بولنے ہمت نہیں ہوتی تھی ۔۔۔ بڑی اچھی تربیت کی گئ تھی بچوں کی ۔۔۔۔ ماں باپ کی بات کو ہی ہمیشہ اہمیت دیتے تھے ۔۔۔ فاروق بھی کچھ کچھ بات سمجھ گیا تھا ۔۔۔۔ ماتھے پر بل ڈالے نظری۔ جھکائے کھڑا تھا بیوی بھی اسکی پریشان سی ہو گئ تھی دونوں دیورانی جھٹانی الگ دنگ سی رہ گئیں تھیں ایسا تو زیان کبھی نہیں تھا ۔۔۔۔
ہ۔یشہ نظریں جھکائے بڑوں کی بات پر سر ہی جھکایا تھا پھر شزا سے رضندی بھی خود ظاہر کی تھی ۔۔۔۔ بس عفیرہ کی چالبازی میں بعد میں پھنس گیا تھا ۔۔۔۔
کچھ اسکی قربت کے چھوئے ان چھوئے سے انداز نے دل کو بے ایمان سا کر دی تھا ۔۔۔عفیرہ کا ہاتھ پکڑنا ۔۔۔ قریب بیٹھنا ۔۔۔بے تکلف ہونا ۔۔۔ قریب ہوتے ہوتے دور ہٹ جانا ۔۔۔ اس کے جذبات کو الگ سا رنگ دینے لگے تھے بس اس لئے اسکی چاہ سی بڑھنے لگی تھی پھر جذبات میں جو کچھ عفیرہ سے ریسٹورانٹ میں کر چکا تھا ۔۔۔۔ یہی سمجھ رہا تھا ۔۔۔ اسے اپنے حق میں کر چکا ہے ۔۔۔۔ اس لئے دوسری لڑکی کا توسوال ہی پیدا نہیں ہوتا
*****……
مائرہ کو گھر لے جاتے ہی زولیخہ ۔۔ صحن میں بنے الگ تھلگ سے کمرے کے پاس لے گئ ۔۔۔۔ وہ کمرہ پورے گھر سے ہٹ کر بنا ہوا تھا۔۔۔۔ صحن کے ایک کونے میں اسکی چھت بھی پکی نہیں تھی اسٹیل کی شیٹ سی ڈلی ہوئیں تھیں ۔۔۔ وہ خاصی پرانی سے جنہیں اوپر سمنٹ کے بلاک سے ٹکایا گیا تھا ۔۔۔ کمرے کا تالا زولیخہ نے کھولا ۔۔۔۔ فرش بھی سمنٹ کا تھا دیوریں بھی سیم زدہ سی تھیں ۔۔۔۔ ہر دیوار بھی کئ جگہ دراڑیں سی پڑ چکی تھی ۔۔۔ ایک عجیب مٹی جیسی باس تھی جو کمرے سے آ رہی تھی۔۔۔جیسے کمرہ بافی مہنوں سے کھلا نا ہو ۔۔۔۔ اوپر بس چھت پر پنکھا تک نہیں لگا ہو تھا۔ جگہ جگہ سے وہ اسٹیل کی بچھی چادروں میں سوراخ سے تھے رنگبالود سی چھت تھی ۔۔۔۔ کمرے میں دو چارپائیاں بچھی ہوئیں۔ تھیں ۔۔۔۔ ان پر سفید چادریں ۔۔۔ کمرے میں ایک کونے میں کچھ کاٹ کباڑ رکھا ہوا تھا ۔۔۔۔۔ ایک اسٹینڈ فین تھا ۔۔۔ لوئے کے دو صندوق ایک طرف رکھے ہوئے تھے ۔۔۔ ایک صندوق کے اوپر جائے نماز اور تسبیح رکھی تھی ۔۔۔۔
کونے ایک چھوٹا سا غسل خانے تھا ۔۔۔ دونوں بچیاں تھک چکیں تھیں ۔۔۔ نیند سے بوجھل آنکھوں سے کبھی اس عجیب اسٹور نما کمرے کو دیکھ رہی تھیں کبھی اپنی ماں کو دیکھ رہیں تھیں ۔۔۔ جس کے چہرے پر اتنی سادگی اور بے رونقی پہلے کبھی نہیں دیکھی تھی ۔۔۔۔
” مما نیند آ رہی ہے ۔۔۔ ” منزہ نے ماں کی چادر کھنچ کر متوجہ کیا تھا ۔۔
” ہاں ہاں ۔۔۔ سو جاؤں میں نے صبح خود کمرہ صاف ستھرا کر دیا تھا ۔۔” زولیخہ نے منزہ سے کہا اور پنکھے کاسوئچ لگانے لگی دیوار پر لگے بٹن بھی پرانے زمانے کے تھے ۔۔۔ لکڑی کا بورڈ اور اس پر کالے رنگ موٹے سے پلاسٹک کے بٹن
مائرہ تو کمرہ دیکھ گھبرائی تھی ۔۔۔ نا ماں کے گھر ایسا کوئی کمرہ دیکھا تھا نا سسرال میں ۔۔۔ اپنے کمرے کی ہر چیز یاد آئی تھی اپنے کمرے میں تو ائیر کنڈیشنر تک لگا ہوا تھا ۔۔۔ زریاب نے عائزہ کی پیدائش کے بعد لگوا لیا تھا تا اسکی ننھی شہزادی کو گرمی نا لگے ۔۔۔۔ دل میں ایک ٹیس سی اٹھی تھی ۔۔۔ کمرے میں گھٹن بھی بہت زیادہ تھی ۔۔۔ مائرہ موٹی سفید چادر اتار کر ایک طرف رکھ دی اس وقت کمرے میں مائرہ اور بچیوں کے علاؤہ صرف زولیخہ ہی تو تھی
” ہائے ہائے مائرہ کیا غضب کر رہی ہو فرشتے لعنت ملامت کر رہے ہوں گئے تم پر ۔۔۔ چادر اوڑھا سر پر سر کو ایک لمحے کے لئے بھی بنا چادر کے مت رکھنا ورنہ گناہ تو تمہارے زریاب کو ملے گا ۔۔۔۔ ” مائرہ گھبرا سی گئ تھی ۔۔۔ کہ نا جانے کون س کبیرہ گناہ کر بیٹھی ہے ۔۔۔ فورا سے چادر سے سر لپیٹ لیا ۔۔۔ زریاب کو تکلیف دینے کا سوچ بھی نہیں سکتی تھی ۔۔۔۔ پھر دین کے اس قسم کے مسائل سے بلکل ناواقف تھی اس لئے جیسا زولیخہ کہہ رہی تھی وہ بنا چون و چراں مان رہی تھی ۔۔۔
” ہاں ایسے ہی رہنا ہمیشہ سمجھوں اس سفید چادر سے تمہیں اب قبر تک یونہی لینی ہے ۔۔۔۔ ہاری قسمت میں لکھی جا چکی ہے ” زولیخہ بڑی تلخ سی دل دکھا جانے والی باتیں نا جانے کیسے بڑے آرام سے کہہ جاتی تھی
” کچھ کھاؤں گی تو بتا دو ۔۔۔ عمار سے کہہ دونگا بازار سے کھانا لے آئے میں نے تو آج کچھ پکایا ہی نہیں ۔۔۔ “
” نہیں بھابھی بھوک نہیں لگی ” مائرہ نے جواب دیا اور منزہ کو بستر پر لیٹانے لگی ۔۔۔ چارپائی کچھ ڈھیلی سی تھی شاید منزہ کے لیٹتے ہی کچھ نیچے کو جھک گئ ۔۔چارپذئی کی چوں چوں کی آوازیں بتا رہی تھیں کہ چارپائیوں کی بھی حالت ابتر سی ہے ۔۔۔
“اچھا میں پانی کا جگ یہاں رکھ دیتی ہوں ۔۔۔ تم بس کمرے سے باہر مت نکلنا ” یہ کہہ کر زولیخہ کمرے سے باہر نکل گئ ۔۔۔ گرمیوں کے دن تھے پنکھے کا رخ مائرہ نے منزہ کی جانب کر دیا مٹی سے اٹا ہوا پنکھا تھا پورا ہاتھ مائرہ کا مٹی سے بھر گیا تھا شروع سے ہی وہ نفاست پسند تھی ۔۔۔ اور زریاب بھی اسی مزاج کا تھا ۔۔۔ اس لئے گھر کی صفائی وہ یوں کرواتی تھی ہر چیز آئنے کی طرح صاف ہوتی تھی ۔۔۔۔ بس ایک نوفل کا کمرہ بےبترتیب سا رہتا تھا لیکن گنددگی وہ بھی پسند نہیں کرتا تھا ۔۔۔
منزہ تو لیٹتے ہی سو گئے تھی لیکن عائزہ کمرہ دیکھ کر ناک چڑھا رہی تھی
” مما مجھے یہاں نہیں رہنا بابا کو بولو ہمہیں یہاں سے گھر لے کر جائیں ” عائزہ کو گھر اور باپ کی یاد ستائی تھی
” مجھے تنگ مت کرو۔ عائزہ لیٹ جاؤں آرام سے ۔۔”
” نہیں مما مجھے نہیں سونا کتنی مٹی ہے یہاں بد بو آ رہی ہے ۔۔۔ گرمی بھی لگ رہی ہے “
” عائزہ کیا ہے نا میں نے چپ چاپ لیٹ جاؤں ” اس بات وہ سختی سے بولی تھی عائزہ خاموشی سے منزہ کے ساتھ لیٹ گئ زولیخہ پانی رکھ کر چلی گئ
مائرہ بھی لیٹ گئ ویسے ہی ڈوپٹہ لپیٹے
” بابا کو آنے دیں کل ۔۔۔ میں آپ کی شکایت لگاؤں گی ۔۔۔ ان سے کیوں کے امی نے بابا کی شہزادی کو ڈانٹا ہے چاچو سے کہوں گی مما نے ڈانٹا ہے ۔۔۔ ” زریاب ہمیشہ عائزہ کو بابا کی شہزادی کہتا تھا اس لئے عائزہ بھی خود کو یہی کہہ کر مخاطب کرتی تھی
کیا بتاتی اسکو کہ بیٹیاں صرف باپ کے ہوتے ہوئے ہی شہزادیاں ہوتی ہیں ۔۔۔
اسے ساتھ لگائے رونے لگی
