Log Kia Kahe Gy by Umme Hani NovelR50418

Log Kia Kahe Gy by Umme Hani NovelR50418 Log Kia Kahe Gy Episode 15

491.6K
51

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Log Kia Kahe Gy Episode 15

Log Kia Kahe Gy by Umme Hani

” بات سنے آپ کہاں گھسی جا رہی ہیں کمرے میں ۔۔ باہر آئیے ” نوفل نے زولیخہ کو سیدھا مائرہ کے کمرے جاتے دیکھا تیز چلتا ہوئے اس کے پاس آ کر بولا عمار بھی وہیں آ گیا اور نوفل پر حاوی ہونے کی کوشش کرنے لگا

” چپ رہو تم ۔۔۔ تم اکیلے حق دار نہیں ہو ہر چیز کے ۔۔۔ مائرہ اور اسکے بچے بھی ہیں ” عمار کی بے محل پر وہ متحیر ہوا تھا

” تو میں نے کب انکار کیا ہے ۔۔۔ بھابھی بے شک سے حق دار ہیں لیکن آپ لوگ نہیں۔۔۔۔ اس لئے کمرے سے باہر نکلیے ” زولیخہ مائرہ کے کمرے میں داخل ہو چکی تھی

” ہم بھی اسی کے کہنے پر یہاں آئیں ہیں اس کا کچھ سامان لینا ہے ” یہ کہہ کر زولیخہ مائرہ کی الماری کی طرف بڑھی تھی لیکن کسی بھی الماری کی چابی موجود نہیں تھی الماری کے دروازے بھی

لوک تھے

“چابی دو الماری کی ” عمار نے نوفل سے حق جماتے ہوئے کہا

” نا دوں تو ؟ نوفل نے اکھڑے لہجے بولا

” دیکھوں ہم تمہیں مائرہ کا حصہ ہتھیانے نہیں دیں گئے ۔۔۔

ویسے بھی وہ اب ہماری زمہ داری ہے ۔۔۔ ہم ہی اسکے اپنے ہیں ۔۔۔۔ وہ اب ہمیشہ ہمارے ساتھ رہے گی ” عمار نے جیسے اپنا فیصلہ سنایا

” کیوں رہیں گئیں وہ آپ کے ساتھ بس پندرہ دن کی بات ہے ۔۔۔ بھابھی کی عدت ختم ہوتے ہی میں انہیں واپس لے آؤں گا “

” وہ نہیں آئے گی ۔۔۔۔ اس لئے چابی دو ہمہیں ۔۔۔ ” زولیخہ نے کڑے تیور دیکھائے تھے

” فی الحال تو آپ جائیں یہاں سے جو بات ہوگی وہ عدت کے بعد ہو گئ بھابھی کی ہر چیز یہاں محفوظ ہے ان کی امانت ہے وہ خود آکر جو چاہیں لے جائیں ۔۔ لیکن میں آپ لوگوں کو کچھ نہیں دونگا ۔۔ “

” ہم مائرہ کی مرضی سے آئیں ہیں اسکی والدہ کے گھر کے کاغذات لینے “

” کچھ نہیں ملے گا آپ کو۔۔۔۔ اس لئے نکلیں میرے گھر سے ورنہ پولیس کو کال کر دو گا کہ آپ لوگ زبردستی میرے گھر میں گھس آئے ہیں ۔۔۔ ” نوفل کی دھمکی پر وہ گھبرا سے گئے تھے نوفل انکے ہونق چہرے دیکھ کر سمجھ گیا تھا کہ ضرور کچھ گڑ بڑ ہے ۔۔۔۔۔ اچھے تو وہ دونوں اڈے پہلے بھی کبھی نہیں لگے تھے ۔۔۔ لیکن جب سے وہ انہیں پیسے دینے لگا تھا عمار کی خوشی چھپائے نہیں چھپتی تھی جیسے پیسے مائرہ کے بجائے اسکی جیب میں جاتے ہوں کچھ کچھ شک تو اسے تھا لیکن جس طرح سے وہ لوگ گھر آ گھسے تھے اب تو یقین ہو چلا تھا کہ واقع کچھ غلط ہو رہا ہے

” دیکھوں ہمہیں پولیس کی دھمکی دے کر ڈراؤ۔ مت ۔۔۔” عمار کے چہرے کی ہوائیاں اڑی ہوئیں تھیں

اگر مائرہ کی رضامندی ہوتی تووہ لوگ یوں خوفزدہ نا ہوتے

” او کے ” یہ کہہ کر نوفل نے جیب سے موبائل نکالا اور کال کرنے لگا دونوں۔ میاں بیوی کے رنگ اڑے تھے

” ٹھیک ہے ۔۔ٹھیک ہے ہم جا رہے ہیں ۔۔ اب تم سے عدت کے بعد ہی عدالت میں ملاقات کریں گئے ” دونوں ہی گھبرائے ہوئے تھے ۔۔ نوفل سمجھ گیا تھا کہ یہ سب وہ خود سے کر رہے ہیں اس لئے بڑے مطمئن انداز سے بولا

” ڈن ۔۔۔” نوفل نے انہیں انگوٹھا دیکھا کر کہا

” جاؤ۔ شاباش عدالت جاؤں ۔۔۔ ایف آئی آر کٹواں ۔۔۔ کیس کروں مجھ پر ۔۔۔ جو چاہے کرو ۔۔ لیکن اس وقت میرے گھر سے باہر نکلو۔۔۔ آوٹ ” نوفل نے چٹکی بجا کر انہیں باہر کا راستہ دیکھایا

” نہایت ہی بدتمیز شخص ہے یہ ” زولیخہ نے غصے سے دانت چبا کر کہا

” ہاں ہوں میں بدتمیز ۔۔۔۔ اگر پانچ منٹ میں باہر نا نکلے تو پھر دیکھنا ۔۔۔ کیا کرتا ہے میں ۔۔۔۔ دھکے دے کر نکالوں گا تم لوگوں کو “وہ دونوں کی اسے گھورتے ہوئے گھر سے نکلے تھے ۔۔۔ گھر جا کر زولیخہ نے ایک کی دس مائرہ کو بتائیں تھیں

” لیکن بھابھی آپ لوگ گئے کیوں تھے وہاں ۔۔۔ ” مائرہ ہر بات سے انجان تھی زولیخہ نے متعجب ہوتے ہوئے کہا

” لو یہ کیا عجیب بات کی ہے تم نے۔۔۔وہ تمہارا دیور

تمہاری والدہ کے گھر پر بھی قبضہ کرنے کے چکر میں ہے ۔۔۔پھر ہم پر بھی دھونس جما رہا تھا کہ تمہیں عدت ختم ہوتے ہی واپس لے جائے گا۔۔۔۔ ارے کس رشتے سے لے جائے گا ۔۔۔۔ ” زولیخہ نے موضوع بدلہ تھا

” وہ میری چیزوں پر حق نہیں رکھتا ۔۔۔ اس لئے میں جب چاہوں اس سے لے سکتی ہوں اگر اس نے انکار کیا تو کیس بھی کر دوں گی لیکن آپ لوگوں کو مجھ سے پوچھے بنا نہیں جانا چاہیے تھا ۔۔۔۔ “

مائرہ کے جواب زولیخہ نے مدافعانہ انداز اپنایا

” ٹھیک ہے بھیا ہمارا کیا ہے ۔۔۔۔ بھلے کاتوزمانہ ہی نہیں ہے ۔۔۔۔ ہم نے نیکی کی تھی تمہارے ساتھ لیکن کنوئیں میں جا گری ۔۔۔ نہیں جاتے بھی تمہاااارے گھر ” زولیخہ نے آبرو چڑھاتے ہوئے تمہارے گھر پر زور دے کر کہا مائرہ تذبذب کا شکار ہوئی تھی

” میرا یہ مطلب ہر گز نہیں تھا بھابھی ۔۔۔۔۔ مجھے افسوس ہے کہ نوفل نے جو کیا غلط کیا ۔۔۔۔ میرا موبائل بھی گھر رہ گیا تھا ورنہ میں خود بات کر لیتی اس سے لیکن عدت میں بھی تو ہوں آپ ہی کہتی ہیں کہ غیر محرم سے بات نہیں کرنی ۔۔۔۔ ” مائرہ کو نوفل پر غصہ بھی تھا اور افسوس بھی

” ہاں میں کون سا جھوٹ کہہ رہی ہوں ۔۔۔ دین کی بات ہے اللہ رسول کا فرمان ہے ۔۔۔۔ “

” اب آپ دل برا نا کریں ” مائرہ ہی خفت میں مبتلہ ہوئی تھی ۔۔۔ اب تک تو وہی لوگ اسے سنبھال رہے تھے ۔۔۔۔ نوفل کی شروع کی حرکتیں یاد آنے لگیں ۔۔۔

بس بھائی کا ڈر تھا ۔۔۔ اب تو کھلی چھٹی مل گئ ہے اسے ۔۔۔۔۔ میرا کیا رہ گیا ہے وہاں کچھ بھی تو نہیں ۔۔۔۔۔ بس عدت ختم ہوتے ہی امی کے گھر چلی جاؤں گی ۔۔۔۔ نوکری کر لوں گی ۔۔۔ زندگی تو بہرحال گزارنی ہی ہے ” مائرہ نے رنجیدگی سے سوچا زندگی کی آسودگی تو جیسے خواب سی ہو گئ تھی

*******……..

نوفل اپنی جگہ پریشان تھا ۔۔۔۔ ان کے اصل چہرے نظر آ گئے تھے ۔۔۔۔ دونوں میاں بیوی لالچی تھے ۔۔۔۔

مائرہ سے بات کرنا۔ چاہتا تھا لیکن زولیخہ کے مطابق عدت میں مائرہ کسی سے بات نہیں کر سکتی تھی بچیاں ابھی چھوٹی تھیں نا بات سمجھ سکتی تھیں نا بتا سکتیں تھیں ۔۔۔۔

کئ بار اس نے عائزہ سے پوچھنے کی کوشش بھی کی تھی لیکن وہ سہم سی جاتی تھی نفی میں سر ہلانے لگتی تھی ۔۔۔۔ جیسے کسی نے ڈرایا دھمکایا ہو

نوفل کو یہ ڈر تھا کہ کہیں عمار اور زولیخہ مائرہ کو اسکے خلاف ناا ورغلا دیں اگر وہ انکی باتوں میں آگئی تو اس کاسب کچھ کھائیں گئے دونوں میاں بیوی

دوسرا رمشہ پر بھی غصہ تھا ۔۔۔۔۔ کیا تھا جو نکاح پر مان جاتی

رمشہ نے آفس میں دو چار بار۔ نوفل سے بات کرنی چاہی اسے باہر ملنے کے لئے بھی کہا لیکن نوفل نے انکار کر دیا

” رمشہ اب ہم جو بھی بار کریں گئے شادی کے بعد ہی کریں گئے ۔۔۔۔ بہتر ہے کے آفس میں تم گھریلوں مسائل کو ڈسکس مت کروں ۔۔۔۔ ” رمشہ سے اس کا دل اس وجہ سے اٹھ چکا تھا کہ اس کے اوپر اتنا بڑا غم کا پہاڑ ٹوٹا تھا جس وقت اسے اس کی سہارے کی ضرورت تھی وہ بہانہ بنائے گھر بیٹھی رہی ۔۔۔۔ اگر کوئی اور موقع ہوتاتووہ پروا بھی نا کرتا صاف انکار کر دیتا ۔۔۔ رمشہ اسے پسند ضرور تھی لیکن محبت نہیں لیکن اس وقت مجبوری یہ تھی مائرہ اور بچوں کو واپس لانے کے لئے نوفل کو اسکی ضرورت تھی ۔۔۔۔

صبح آفس جانے سے پہلے اس نے مائرہ کے سارے زیوارت کیش اسکی والدہ کے گھر کے کاغذات بنک لوکر میں رکھوا دیے جا طرح عمار اور زولیخہ مائرہ کی الماری تک پہنچ گئے تھے اگر چابی لگی ہوتی تو وہ ضرورت زبردستی اس کی چیزیں نکال لے جاتے اور اب بھی خبر نہیں تھی کہ اس کے پیچھے سے چوری چھپے یہ حرکت کر گزریں ۔۔۔

آفس جانے کے بجائے وہ ایک مدرسے میں آ گیا ۔۔۔

وہاں موجود ایک مفتی صاحب کے پاس بیٹھ گیا

ساری غلط فہمیوں کی وجہ صرف اس کا مائرہ سے عدت کی وجہ سے بات نا کرنا تھا ۔۔۔ اور بلکل انجان تھا اس مسائل سے اس لئے رہنمائی تو وہیں سے مل سکتی تھی

مفتی صاحب کے سامنے وہ ادب سے بیٹھ گیا

مفتی صاحب بھی کوئی عمر رسیدہ شخص نہیں تھے ۔۔۔۔ چالیس کے لگ بھگ ہی تھے ۔۔۔

” جی کہیں کیا خدمت کر سکتا ہوں آپ کی ” مفتی صاحب نے نرم لہجے سے پوچھا

مفتی صاحب مجھے آپ سے کچھ پوچھنا ہے “

“جی پوچھیں “

” میرے بھائی کے انتقال کو تین ماہ سے اوپر کاعرصہ گزر چکا ہے میرے گھرمیں میری بھابھی کے علاؤہ اور کوئی خاتون نہیں رہتی تھیں لیکن اب وہ بیوہ ہو چکی ہیں ۔۔۔ اس لئے وہ عدت کے لئے اپنے چچا زاد بھائی کے ساتھ انکے گھر چلی گئ کیونکہ چچا زاد کی بیوی اور بچے موجود ہیں ۔۔۔ لیکن وہ مالی حالات میں اتنے مضبوط نہیں کہ بھابھی کی کفالت اٹھا سکیں ۔۔۔ اس لئے ہر ماہ میں انکے کزن کے ہاتھ میں۔ خرچہ رکھتا ہوں ۔۔۔۔ لیکن ۔مجھے شک ہے کہ وہ پیسے میری بھابھی کو نہیں ملتے ۔۔۔ مجھے وہ میاں بیوی جھوٹے اور لالچی لگتے ہیں ۔۔۔ انہوں نے عدت کے نام پر بھابھی کو صرف ایک کمرے تک محدود کر رکھا وہ باہر نہیں آ سکتیں اس لئے کے عدت میں ہیں ۔۔۔ میں پردے میں بھی ان سے بات نہیں کر سکتا ۔۔۔ حالانکہ میں کوئی غیر ضروری بات نہیں کرنا چاہتا بس یہ پوچھنا چاہتا ہوں کے پیسے انہیں مل رہے ہیں کہ نہیں ۔۔۔ کیا شرع میں ایسی کوئی اجازت نہیں ہے ؟” نوفل کی بات پوری بات انہوں نے خوشی سے سنی تھی

” یہ سب ہمارے معاشرے کی بنائی ہوئی رسمیں ہیں ۔۔۔۔ دین اتنا پیچیدہ نہیں ہے جتنا ہم بنا کے ہیں ۔۔۔ بہت آسان ہے آسانیاں پیدا کرتا ہے ۔۔۔۔ مشکل تو ہم نے انہیں بنا دیا ۔۔۔۔ ہمارے معاشرے کے لوگوں نے بنا دیا ہے ۔۔۔۔

پردہ ہر عورت پر فرض ہے ۔۔۔۔ چاہے وہ عدت میں ہو یا نا ہو ۔۔۔۔ لیکن ہم نے اسے عدت کے ساتھ مشروط کر دیا ہے ۔۔۔۔ جس طرح سے ایک بیوی سے ہمارا معاشرہ عدت میں جبرا پردہ کرواتا ہے ۔۔۔۔ ایسا کہیں ثابت نہیں کہ عورت کو ایک کمرے کا قیدی بنا دیا جائے

(عدت کے لئے مصلحتیں ہیں جن میں سے بعض یہ ہیں اللہ تعالی کی رضامندی کا حصول ہوتا ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ کے حکم کو بجالانا عبادت ہے اور عبادت سے اللہ کا قرب حاصل ہوتا ہے۔

عدت کو واجب قرار دینے کی اہم مصلحت اس بات کا یقین حاصل کرنا ہے کہ پہلے شوہر کا کوئی بھی اثر عورت کے وجود میں نہ رہے اور بچے کے نسب میں کوئی شبہ باقی نہ رہے۔ نکاح چونکہ اللہ تعالی کی ایک عظیم نعمت ہے، اس لئے اس کے زوال پر عدت واجب قرار دی گئی۔

نکاح کے بلند وبالا مقصد کی معرفت کے لئے عدت واجب قرار دی گئی تاکہ انسان اس کو بچوں کا کھیل نہ بنالے۔

شوہر کے انتقال کی وجہ سے گھر /خاندان میں جو ایک خلا پیدا ہوا ہے اس کی یاد کچھ مدت تک باقی رکھنے کی غرض سے عورت کے لئے عدت ضروری قرار دی گئی۔ :متفرق مسائل

حاملہ عورت (مطلقہ یا بیوہ) کی عدت ہر صورت میں وضع حمل یا سقوط حمل تک ہی رہے گی۔جو شوہر کی وفات یا طلاق دینے کے وقت شروع ہوجاتی ہے

عدت کے اہمیت قرآن کے احکامات کی روشنی میں

کے بارے میں یہ ہیں

مطلقہ یا بیو ہ عورت کو عدت کے دوران بلا عذر شرعی گھر سے باہر نکلنا نہیں چاہئے۔ کسی وجہ سے شوہر کے گھر عدت گزارنا مشکل ہو تو عورت

اپنے میکے یا کسی دوسرے گھر میں بھی عدت گزار سکتی

ہے۔ (سورۂ الطلاق۱)

عورت کے لئے عدت کے دوران دوسری شادی کرنا جائز نہیں ہے، البتہ رشتہ کا پیغام عورت کو اشارہ دیا جاسکتا ہے۔ ( البقرة۲۳۴/ ۲۳۵)

جس عورت کے شوہر کا انتقال ہوجائے تو اس کو عدت کے

دوران خوشبو لگانا، سنگھار کرنا، سرمہ اور خوشبو کا تیل

بلاضرورت لگانا، مہندی لگانا اور زیادہ چمک دمک والے کپڑے

پہننا درست نہیں ہے۔ اگر عورت شوہر کے انتقال یا طلاق کی صورت میں عدت نہ کرے یا عدت تو شروع کی مگر مکمل نہ کی تو وہ اللہ تعالی کے بنائے ہوئے قانون کو توڑنے والی کہلائے گی جو بڑا گناہ ہے، لہذا اللہ تعالیٰ سے توبہ واستغفار کرکے ایسی عورت کے لئے عدت کو مکمل کرنا ضروری ہے۔

ترجمہ: اور جب تک عدت پوری نہ ہو جاۓ تم (ان سے ) عقد نکاح کا عزم نہ کرو،(البقرۃ:235)‘‘۔ مذکورہ بالا نصوص قرآنیہ کی روشنی میں طلاق وفات کی عدت گزارنا لازم وفرض ہے تکمیل عدت سے پہلے وہ کسی دوسرے مرد سے نکاح نہیں کرسکتی ، بفعل حرام اور گناہ کبیرہ ہے ، البتہ جب عدت پوری ہو جاۓ تو وہ اپنی آزادانہ مرضی سے جہاں چاہے، نکاح کرسکتی ہے ۔

بیوگی کی عدت کے دوران عورت کے لیے حکم ترميم

بیوگی کی عدت کے دوران میں عورت کے لیے کن چیزوں کی پابندی شرعاً ضروری ہے، اس ضمن میں بہت سی غلط فہمیاں عوام میں پھیلی ہوئی ہیں اور اتنی پختہ ہیں کہ ان کی پابندی، اصل شریعت سے بھی زیادہ ضروری سمجھی جاتی ہے۔ بیوہ کے لیے عدت میں شریعت نے درج ذیل امور کی پابندی بیان کی ہے۔

1۔ وہ شوہر کی وفات سے لے کر چار ماہ دس دن تک سوگ کا عرصہ گزارے گی۔ اس دوران میں اسے ترجیحاً شوہر ہی کے گھر میں رہنا چاہیے اور بلا ضرورت گھر سے باہر کی سرگرمیوں سے اجتناب کرنا چاہیے۔

البتہ جن ملازمت پیشہ خواتین کا کوئی اور معاشی سہارا نہ ہو اور گزر بسر کا بھی کوئی متبادل انتظام نہ ہو، ان کا معاملہ الگ ہے۔ وہ ضرورت کے اصول پر دوران عدت میں بھی اپنی ملازمت جاری رکھ سکتی ہیں۔

2۔ عدت کے دوران میں وہ سادہ لباس پہنے اور زیب وزینت سے اجتناب کرے۔ میک اپ، زیورات کا استعمال اور شوخ لباس پہننا نامناسب ہے۔ لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ وہ صاف ستھری نہ رہے۔

3۔ عدت کے عرصے میں اسے نئے نکاح کا واضح پیغام دینے سے اجتناب کیا جائے۔ اشارے کنایے میں مدعا اس تک پہنچایا جا سکتا ہے، لیکن صاف اور صریح پیغام نکاح نہیں دیا جا سکتا۔

عوام میں بہت سی غلط فہمیاں بہت عام ہیں۔ ایک یہ کہ اس عرصے میں بیوہ کو گھر کے کسی کمرے میں محصور ہو کر رہنا پڑتا ہے اور وہ گھر کے کام کاج بھی نہیں کر سکتی۔ دوسری یہ کہ اس عرصے میں اس کے لیے پردے کا اہتمام عام معمول سے زیادہ لازم ہے

شدید بیماری کی صورت میں وہ علاج معالجہ کے لئے باہر نہیں جاسکتی ہے ۔۔۔ حالانکہ کے بیماری کی صورت میں عورت کو اجازت ہے

رہ گئ پردے کی بات تو

شریعت نے محرم اور غیرمحرم کے اعتبار سے صرف دو تقسیم کی ہے جن سے نکاح ہمیشہ کے لیے حرام ہے وہ محرم ہیں اور جن سے نکاح ہمیشہ کے لیے حرام نہیں ہے وہ غیرمحرم ہیں، غیرمحرم اور غیررشتہ دار محرم میں کوئی فرق نہیں کیا ہے، غیرمحرم مرد کے لیے اپنے غیرمحرم رشتہ دار عورت سے پردہ کرنا ضرور ی ہے ، اگر اپنے غیرمحرم رشتہ دار کی خیر خبر لینی ہو تو ان کے گھر کے کسی بھی مرد سے لے سکتے ہیں، اگر بوقت ضرورت پردہ کی آڑ میں ان سے ہی بات کرلی جائے تو اس کی گنجائش ہے، محض بلاواسطہ، بلا حجاب بات نہ کرنے یا ملاقات نہ ہونے کی وجہ سے رشتہ ختم کرنے کی اجازت نہیں، ان کے ساتھ اچھا برتاوٴ اس کے بغیر بھی ہوسکتا ہے اور وہ یہ ہے کہ بیچ میں ان کے کسی محرم رشتہ دار کو واسطہ بنالیا جائے، دیور اور بھابھی کو چاہیے کہ حتی الوسع ایک جگہ جمع نہ ہوں، اگر کبھی اجتماع کی نوبت آجائے تو ہرایک نگاہ نیچی رکھے اور حدود شرع کی رعایت کرے۔

(24) سورۃ النور (مدنی — کل آیات 64)

وَقُلْ لِّلْمُؤْمِنَاتِ يَغْضُضْنَ مِنْ اَبْصَارِهِنَّ وَيَحْفَظْنَ فُرُوْجَهُنَّ وَلَا يُبْدِيْنَ زِيْنَتَهُنَّ اِلَّا مَا ظَهَرَ مِنْـهَا ۖ وَلْيَضْرِبْنَ بِخُمُرِهِنَّ عَلٰى جُيُوْبِهِنَّ ۖ وَلَا يُبْدِيْنَ زِيْنَتَهُنَّ اِلَّا لِبُعُوْلَتِهِنَّ اَوْ اٰبَآئِهِنَّ اَوْ اٰبَآءِ بُعُوْلَتِهِنَّ اَوْ اَبْنَآئِهِنَّ اَوْ اَبْنَآءِ بُعُوْلَتِهِنَّ اَوْ اِخْوَانِهِنَّ اَوْ بَنِىٓ اِخْوَانِهِنَّ اَوْ بَنِىٓ اَخَوَاتِهِنَّ اَوْ نِسَآئِهِنَّ اَوْ مَا مَلَكَتْ اَيْمَانُهُنَّ اَوِ التَّابِعِيْنَ غَيْـرِ اُولِى الْاِرْبَةِ مِنَ الرِّجَالِ اَوِ الطِّفْلِ الَّـذِيْنَ لَمْ يَظْهَرُوْا عَلٰى عَوْرَاتِ النِّسَآءِ ۖ وَلَا يَضْرِبْنَ بِاَرْجُلِهِنَّ لِيُعْلَمَ مَا يُخْفِيْنَ مِنْ زِيْنَتِهِنَّ ۚ وَتُوْبُـوٓا اِلَى اللّـٰهِ جَـمِيْعًا اَيُّهَ الْمُؤْمِنُـوْنَ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُوْنَ (31)

اور ایمان والیوں سے کہہ دو کہ اپنی نگاہ نیچی رکھیں اور اپنی عصمت کی حفاظت کریں اور اپنی زینت کو ظاہر نہ کریں مگر جو جگہ اس میں سے کھلی رہتی ہے، اور اپنے دوپٹے اپنے سینوں پر ڈالے رکھیں، اور اپنی زینت ظاہر نہ کریں مگر اپنے خاوندوں پر یا اپنے باپ یا خاوند کے باپ یا اپنے بیٹوں یا خاوند کے بیٹوں یا اپنے بھائیوں یا بھتیجوں یا بھانجوں پر یا اپنی عورتوں پر یا اپنے غلاموں پر یا ان خدمت گاروں پر جنہیں عورت کی حاجت نہیں یا ان لڑکوں پر جو عورتوں کی پردہ کی چیزوں سے واقف نہیں، اور اپنے پاؤں زمین پر زور سے نہ ماریں کہ ان کا مخفی زیور معلوم ہوجائے، اور اے مسلمانو! تم سب اللہ کے سامنے توبہ کرو تاکہ تم نجات پاؤ۔

اب آپکے تیسرے سوال کا جواب

وفات کی عدت کے بعد مرحوم شوہرنے اگر ترکہ میں مکان چھوڑا ہو تو بیوہ اس میں حصے کی حق دار ہے اور گھر میں اپنے حصے کے بقدر رہائش کا حق رکھتی ہے۔ ایسی صورت میں اپنا حصہ تقسیم کرکے وصول کرنے تک شوہر کے مکان میں رہ سکتی ہے،بیوہ کو شوہر کے گھر سے جبری طور پر بے دخل کرنا جائز نہیں ہوگا۔تاہم غیر محارم (دیور وغیرہ) سے پردے کا اہتمام کرے۔ اور اگر شوہر نے مکان نہیں چھوڑا ہے تو بیوہ شوہر کے مال میں سے اپنے حصہ وراثت کی حق دار ہے۔اگر بیوہ کے پاس اپنا یا شوہر سے وراثت کا اتنا مال ہو کہ وہ اپنی رہائش کا بندوبست کرسکے تو اس پر خود اپنی رہائش کا انتظام ضروری ہے، اور اس کے پاس وسائل نہیں ہیں توقریبی رشتہ داروں پر اس کی رہائش کا بندوبست واجب ہے۔))

اگر آپ بیوی بھابھی اور بھتجوں کی کفالت کا زمہ اٹھاتے ہیں تو آپکی اس نیکی کی ذیادہ حق دار آپکے بھائی کی بیٹیاں ہیں ۔۔۔

ایک بار حضرت سعد بن الربیع رضی اللہ عنہ کی بیوہ خدمت نبویﷺ میں حاضر ہوکر عرض کیا کہ یہ دونوں بیٹیاں سعد بن ربیع کی ہیں جو غزوہ احد میں شہید ہوگئے ہیں ، اب ان کے چچا ان کا حق نہیں دینا چاہتے،جس پر آیت میراث نازل ہوئی، آپﷺنے ان بچیوں کے چچا کو بلا کر فرمایا کہ سعد کی دونوں بیٹیوں کو دو تہائی حصہ دو اور انکی بیوہ کو آٹھواں حصہ اور اس کے بعد جو بچے وہ تمہارا ہے۔([24])

آپکی بھابھی اور بھتجیوں کا آپ پر جو حق ہے وہ آپ خود اسلوبی سے ادا کریں

اور اگر اس کے علاؤہ بھی کچھ بھلائی کرنا چائیں تو یقینا اجر و ثواب کا باعث ہے ۔۔۔ “

” بہت شکریہ مفتی صاحب ۔۔۔ میں اس وجہ سے بہت پریشان تھا کیونکہ عام طور پر ان باتوں کی تعلیم دی نہیں جاتی اور یہی وجہ ہے کہ ہم شاید انہیں روایات کی پاسداری کرتے نظر آتے ہیں جو اسلام سے پہلے دور جہالیت میں عورت کے ساتھ برتے جاتے تھے ” نوفل کی بات پر مفتی صاحب نے اثبات میں سر ہلایا

“جی ہاں

ابتدائے اسلام میں بیوہ کی عدّت ایک سال کی تھی اور ایک سال کامل وہ شوہر کے یہاں رہ کر نان و نفقہ پانے کی مستحق ہوتی تھی کہ عرب کے لوگ اپنے مورث کی بیوہ کانکلنایاغیر سے نکاح کرنابالکل گوارا ہی نہ کرتے تھے اور اس کو عار سمجھتے تھے اس لئے اگر ایک دم چار ماہ دس روز کی عدت مقرر کی جاتی تو یہ ان پر بہت شاق ہوتی لہذا بتدریج انہیں راہ پر لایا گیا، یہ آیت کریمہ تلاوت کے اعتبار سے اگرچہ مقدم ہے مگر نزول کے اعتبار سے موخر ہے، پھر ایک سال کی عدت تو اس آیت سے منسوخ ہوئی۔

وَالَّذِيْنَ يُتَوَفَّوْنَ مِنْكُمْ وَيَذَرُوْنَ اَزْوَاجًا يَّتَرَبَّصْنَ بِاَنْفُسِهِنَّ اَرْبَعَةَ اَشْهُرٍ وَّعَشْرًا ۚ فَاِذَا بَلَغْنَ اَجَلَهُنَّ فَلَا جُنَاحَ عَلَيْكُمْ فِيْمَا فَعَلْنَ فِيْٓ اَنْفُسِهِنَّ بِالْمَعْرُوْفِ ۭ وَاللّٰهُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ خَبِيْرٌ۔

’’اور جو لوگ مر جاویں تم میں سے اور چھوڑجاویں اپنی عورتیں تو چاہیے کہ وہ عورتیں انتظار میں رکھیں اپنے آپ کو چار مہینے اور دس دن، پھر جب پورا کر چکیں اپنی عدت کو تم پر کچھ گناہ نہیں اس بات میں کہ کریں وہ اپنے حق میں فائدے کے موافق اور اللہ کو تمہارے تمام کاموں کی خبرہے۔‘‘([21])

بیوہ عورت کی عدت کی مدت بہت زیادہ ہونے کی وجہ سے خرابیاں اور پریشانیاں بھی بہت تھیں، تو دین اسلام نے عدت کی مدت بھی چار مہینہ دس دن کردی، اور اس میں خرابی اور پریشانی بھی نہیں۔ انقضاء عدت کے بعد ایسی عورتیں دستور کے مطابق جو کریں اس میں ورثاء پر کوئی گناہ نہیں، کیونکہ عدت گزرنے کے بعد ان کو زیب وزینت اختیار کرنے اور نئے نکاح کی اجازت ہے۔ اور جو زیب و زینت اس سے پہلے ان کے لیے ممنوع تھی وہ اب مباح ہوگئی۔ ہاں اگر عدت کی تکمیل سے پہلے اس طرح کی کوئی بات کرتیں تو ان کے سرپرستوں اور دوسرے مسلمانوں کو ان کے روکنے کا حق تھا۔ یہاں تک کہ ان کو اس سلسلہ میں حکومت وقت سے مدد لینے کی ضرورت پڑتی تو بھی لیتے۔ لیکن عدت کو پورا کر لینے کے بعد ان پر ایسی کوئی روک اور پابندی روا نہیں ۔ بلکہ وہ اپنے معاملے میں آزاد اور خود مختار ہیں ۔اور اس آیت سے معلوم ہوا کہ بیوہ کے عقد ثانی کو برا سمجھنا چاہئے نہ اس میں رکاوٹ ڈالنی چاہئے، جیسا کہ ہندؤں کے اثرات سے ہمارے معاشرے میں یہ چیز پائی جاتی ہے۔

جاہل لوگ انہیں اپنے ظلم کا تختہء مشق بنائے ہوئے تھے ، خاص کر بیوہ عورت پر ایک ظلم یہ بھی ہوتا تھا کہ شوہر کے مر جانے کے بعد اس کے گھر کے لوگ اس کے مال کی طرح اس کی عورت کے بھی زبردستی وارث بن بیٹھتے تھےاگر وہ چاہتے تو دوسرے کسی کے نکاح میں دے دیتے اگر چاہتے تو نکاح ہی نہ کرنے دیتے میکے والوں سے زیادہ اس عورت کے حقدار سسرال والے ہی گنے جاتے تھے، وہ لوگ اس عورت کو مجبور کرتے کہ وہ مہر کے حق سے دست بردار ہو جائے یا یونہی بغیرنکاح کیے بیٹھی رہے اور ساری عمر یونہی رہنے پر مجبور ہوتی، یا خاوند کےمرتے ہی کوئی بھی آ کر اس پر اپنا کپڑا ڈال دیتااور وہی اس کا مختار سمجھا جاتا ، اسلام نے ظلم کے ان تمام طریقوں سے منع فرمایا اورجاہلیت کی اس رسم کے خلاف یہ آیت نازل ہوئی۔([22])

يٰٓاَيُّھَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا لَا يَحِلُّ لَكُمْ اَنْ تَرِثُوا النِّسَاۗءَ كَرْهًا ۭوَلَا تَعْضُلُوْھُنَّ لِتَذْهَبُوْا بِبَعْضِ مَآ اٰتَيْتُمُوْھُنَّ اِلَّآ اَنْ يَّاْتِيْنَ بِفَاحِشَةٍ مُّبَيِّنَةٍ ۚ وَعَاشِرُوْھُنَّ بِالْمَعْرُوْفِ ۚ فَاِنْ كَرِھْتُمُوْھُنَّ فَعَسٰٓى اَنْ تَكْرَهُوْا شَـيْـــــًٔـا وَّيَجْعَلَ اللّٰهُ فِيْهِ خَيْرًا كَثِيْرًا۔

’’ اے ایمان والو! حلال نہیں تم کو کہ میراث میں لے لو عورتوں کو زور سے (زبردستی) ۔ اور نہ ان کو بند کرو (دباؤ ڈالو) ، کہ لے لو ان سے کچھ اپنا دیا، مگر کہ وہ کریں بے حیائی صریح۔ اور گذران (برتاؤ) کرو عورتوں کے ساتھ معقول۔ پھر اگر وہ تم کو نہ بھائیں (نا پسند ہو) ، تو شاید تم کو نہ بھائے (نا پسند ہو) ایک چیز اور اللہ اس میں رکھے بہت خوبی۔‘‘([23])

ہندوستان میں ہندو مت کے ماننے والے لوگوں کے ہاں ’’ستی‘‘ جیسی بھیانک رسم رہی ہے، کہ خاوند کی وفات کے بعد اس بیوہ عورت سے زندہ رہنے کا حق ہی چھین لیا جاتا تھا، رسم ستی کے بارے میں ابو ریحان البیرونی کتاب الہندمیں تحریر کرتے ہیں : عورت کا شوہر جب مر جاتا تو اسے بیاہ کرنے کا حق نہیں ہے اور اس کو دو حال میں سے ایک اختیار کرنا ہو گا، یا زندگی بھر بیوہ رہے یا جل کر ہلاک ہو جائے اور دونوں صورتوں میں سےستی اس کے لیے زیادہ بہتر ہے۔ اس لیے کہ وہ مدت العمر عذاب میں رہے گی، ہندوؤں کا دستور یہ ہے کہ وہ راجاؤں کی بیویوں کو جلا دیتے ہیں، خواہ وہ جلنا چاہیں یا اس سے انکار کریں، راجہ کی بیویوں میں صرف بوڑھی عورتیں اور صاحب اولاد، جن کے بیٹے ماں کو بچائے رکھنے کی اور حفاظت کی ذمہ داری کریں، چھوڑ دی جاتی ہیں۔([14])

جو عورت ستی ہو جاتی تو ہندومذہب کے مطابق اس کارتبہ اورمقام ایک مقدس دیوی جیساہوتا جوکہ وفاداری کی وجہ سے اپنےشوہرپرقربان ہوتی تھی، زندہ رہنےکی صورت میں جواسکی حالت ہوتی وہ موت سےبھی بدتر ہوتی، جوکہ درحقیقت ستی ہی کی ایک قسم ہے کہ وہ بیوہ عورت بس ایک زندہ لاش بن کررہتی اور تا حیات رنگین کپڑوں اوربناؤسنگھارسے محروم کردی جاتی۔

ہمارے ہاں شوہر کے ساتھ جلایا تو نہیں جاتا لیکن

بہت سے قصبوں میں دین کی دوری کی وجہ اور جہالت عام ہونے کی صورت میں عورت کو تمام عمر بیوہ بنے رہنے پر مجبور ضرور کیا جاتا ہے ۔۔۔۔

انہیں منحوس قرار دیا جاتا ہے ۔۔ یہاں تک کے نئ نویلی دلہن کو اسکے سائے دور رکھا جاتا ہے ۔۔۔ اچھوت سمجھا جاتا ہے ۔۔۔۔ بنگلہ دیش میں پہلے پہل تو بیواں کو اچھی خوارک سے بھی محروم کر دیتے تھے کہ انہیں اچھی خوارک کھانے حق نہیں ہے۔۔۔۔ ” مفتی صاحب نے گہری سانس لی

” بہرحال ہم اور آپ پورے معاشرے کی سوچ کو بدلنے سے قاصر ہیں ۔۔۔۔ جہاں برے لوگ ہیں وہاں دینداری کے باعث بیوی بہن بھابھی کے ساتھ بہت اچھا اور حسن سلوک بھی کیا جا رہا ہے ۔۔۔۔

بہت سے لوگ بہت محبت سے رکھتے ہیں میں بہت سے گھرانے ایسے دیکھے ہیں جہاں بیوی بھائی کو اپنے گھر ہی رکھ کر ۔۔۔ تمام دیور جیٹھ مل کر بیوہ بھابھی کی کفالت کرتے ہیں عزت اور احترام دیتے ہیں آنے سگے بھتجے بھتجیوں کی ضروریات با خوشی پورا کرتے ہیں ۔۔۔ اور اگر بھابھی جوان ہے تو اچھا رشتہ ڈھونڈ کر شادی بھی کر دی جاتی ہے ۔۔۔ ایسے لوگ بھی ہمارے ہی معاشرے کا حصہ ہیں ۔۔۔ اور تنگ نظری بھی نہیں دیکھاتے ۔۔۔۔۔ ” مفتی صاحب نے کوئی پہلو چھوڑا نہیں تھا

نوفل بہت مطمئن سا ہو کر وہاں اٹھا تھا

******……..

وقت بہرحال گزر ہی جاتا ہے ۔۔۔ عدت بھی مائرہ کی ختم چکی تھی ۔۔۔۔ چار ماہ دس دن بعد وہ کمرے سے نکلی تھی سورج کی روشنی دیکھی تھی پہلی بار دیکھنے میں زولیخہ کے گھر کا چھوٹا سا صحن بھی بہت بڑا لگ رہا تھا ۔۔۔۔ سفید چادر اس نے اب بھی اپنے سر پر اچھی طرح لپیٹ رکھی تھی ۔۔۔ کمرے سے نکل کر زولیخہ کے گلے لگ کر بہت روئی تھی ۔۔۔۔۔ عمار بھی وہیں موجود تھا اس کی نظر اس پراب پڑی تھی ۔۔۔۔۔ بہت عرصے بعد مائرہ کو دیکھا تھا ۔۔۔۔ آخری بات اسے تب دیکھاتھا جب وہ فرسٹ ائیر میں پڑھتی تھی ۔۔۔۔ تب ہی وہ آخری بار زولیخہ کے ساتھ شادی کے بعد مائرہ کے گھر آیا تھا ۔۔۔ اس وقت تو بچی سی لگتی تھی۔ دو چٹیا باندھے دبلی پتلی سی ۔۔۔۔ عمار بھائی عمار بھائی کہتی نہیں تھکتی تھی ۔۔۔۔ زولیخہ سے اچھی دوستی لگا لی تھی اس نے ۔۔۔۔۔ عمار اور زولیخہ کے گھر اولاد شادی پانچ سال بعد ہوئی تھی ۔۔۔۔ اس لئے اسکی بیٹیاں انم اور آرزو عائزہ اور منزہ کی ہم عمر ہی تھیں ۔۔۔۔ لاہور سے کافی عرصے بعد وہ کراچی آیا تھا مائرہ کی شادی پر بھی نہیں آ سکا تھا پھر جب یہاں شفٹ ہوا تھا زولیخہ اکیلی ہی بچوں کے ساتھ مائرہ سے ملنے گئ تھی ۔۔۔ عمار اپنے آفس کے کام میں مصروف تھا اس لئے جا نہیں سکا ۔۔۔ اسکے کچھ ماہ بعد ہی زریاب کا انتقال ہو گیا ۔۔۔ اس وقت بھی وہ اپنے کام کے سلسلے میں لاہور میں تھا ۔۔۔۔ جب زولیخہ نے اسے یہ خبر سنائی تھی ۔۔۔۔ دکھ تو اس وقت اسے بھی بہت ہوا تھا ٹیکسی میں۔ بھی جب وہ بیٹھی تو خاصے لمبے گھونگھٹ میں تھی بس اسکی سسکیاں ہی سنی تھی بس عمار نے چند جملے لفظی افسوس کے ہی مائرہ سے کہے تھا ۔۔۔۔پھر تو وہ ایسا کمرے میں بیٹھی تھی اب باہر نکلی تھی

مائرہ کا سفید لباس سفید چادر میں میں لپٹا وجود جو اب وہ دیکھ رہا تھا جو بہت الگ ہی تھا ۔۔۔ چہرہ بے شک بے رونق سا تھا آنکھوں کے گرد ہلکے بھی تھے ۔۔۔لیکن رنگت سفید تھی ۔۔۔ ان پانچ سالوں میں وہ پہلے سے کئ ذیادہ خوبصورت ہو گئ تھی ۔۔۔۔ اس نے ایک نظر ہی عمار کی طرف دیکھا تھا وہ رو رہی تھی ۔۔۔ زولیخہ نے ہی عمار کو پکار کر ہوش کی دنیا میں واپس بلایا تھا

” بہن کے سر پر ہاتھ رکھوں عمار حوصلہ دو اسے “

“ہمم ۔۔۔ ہاں ۔۔۔ ہاں ” وہ بوکھلا سا گیا تھا بس اس کے سر پر ہاتھ رکھ کر ہٹا لیا ۔۔۔۔

” اللہ تمہیں صبر دے ” یہ کہہ کر اندر کمرے میں چلا گیا ۔۔۔۔ زولیخہ کو اسکی عجلت سمجھ نہیں آئی تھی

” یہ عمار بھی نا ۔۔۔۔ انہیں دنیا داری نبھانی ہی نہیں آتی ۔۔۔۔ ” زولیخہ کو عمار کا یوں کترا کر اندر جانا سمجھ نہیں آیا تھا ۔۔۔

” کوئی بات نہیں بھابھی ۔۔۔۔ دنیاداری غیروں سے بنائی جاتی ہے بہن سے کیا نبھانی شاید میرا دیکھ برداشت نہیں کر پائے۔۔۔ میرے سامنے آنسوں نہیں بہانا چاہیے ہوں گئے اس لئے کمرے میں چلے گئے ہوں گئے ” مائرہ کو لگا کہ اسکی بیوگی بھائی سے دیکھی نہیں گئ ۔۔۔۔ یہ کہاں پتہ تھا کہ وہ بھائی کی نظر سے دیکھ ہی کب رہا تھا ۔۔۔۔۔

” ہاں ایسا ہی ہوا ہو گا ۔۔۔ عمار کا دل بڑا دکھی رہتا ہے تمہارے لئے ” زولیخہ نے مصنوعی افسردگی چہرے پر سجا کر کہا ۔۔

” یہاں تو ہمارا خاندان برادری نہیں ہے ورنہ جب کوئی عورت عدت سے اٹھتی ہے تو سارے رشتے دار اسے باری باری اپنے گھر بلاتے ہیں دعوتیں ہوتی ہیں ۔۔۔ ہمارے لاہور میں تو ہوتا ہے ۔۔۔یہ بھی ایک رسم ہے “

” دعوتیں ہوتی ہیں ؟ ۔۔۔۔ کس بات کی دعوت ۔۔۔۔ “

” ارے عدت سے اٹھنے کی اور کس بات کی “

” اگر ایسی کوئی رسم ہے تو نہایت گھٹیا ہے ۔۔۔۔ میرا غم تو اب بھی ہرا ہے ۔۔۔۔ شاید کبھی بھرے ہی نا ۔۔۔۔ ہر عورت کا غم اتنا ہی ہوتا ہو گا جواس حالات سے دو چار ہے ۔۔۔ کیا لوگوں کو یہ سب کرتے ہوئے شرم نہیں آتی ۔۔۔۔ “مائرہ کو سن کر افسوس ہوا تھا ۔۔۔

” تم چھوڑو یہ سب باتیں ۔۔۔۔ بس اب جلدی سے اپنی امی کا گھر خالی کرواں تا کہ ہم سب وہاں شفٹ ہو سکیں ۔۔۔ اتنا کرایہ ہے اس گھر کا کہ مت پوچھو ۔۔۔ اچھا ہے کہ اپنا سائبان ہو جائے گا۔۔۔ تم اکیلی بھی نہیں ہو گی ۔۔۔۔ اکیلی عورت کا رہنا خطرے سے خالی تھوڑی ہے۔۔۔۔ ہم ساتھ ہوں گئے تو کسی کی جرت بھی نہیں ہو گی کہ تمہیں کچھ کہہ سکے ۔۔۔ ” یہ نئ سوچ زولیخہ نے مائرہ کے ذہن میں ڈالی تھی ۔۔۔۔ مائرہ کو بھی یہی ٹھیک لگ رہا تھا۔۔۔۔۔ اپنا گھر تو ہو گا۔۔۔۔ پھر بھائی بھابھی ساتھ ہوں گئے تو اس کا وقت بھی ا جس گزر ہی جائے گا ۔۔۔۔

” میں کل ہی گھر جا کر اپنا موبائل اور ضرورت کاسامان کے آؤں گی ۔۔۔ پھر فون کر کے کراے داروں سے کہہ دونگی کہ گھر خالی کر دیں ” مائرہ بھی راضی ہو چکی تھی

“ہاں تو اور کیا ۔۔۔ لیکن اکیلی مت جانا تمہارا دیور اچھا نہیں ہے عمار اور میں ساتھ جائیں گئے ” زولیخہ بڑا میٹھا میٹھا سا بول رہی تھی ۔۔۔۔ اگلے روز ہی نوفل انہیں لینے کے لئے پہنچ گیا تھا ۔۔۔۔ پڑوس کی خالہ سے بات کر کے آیا تھا کہ چند دن وہ مائرہ کے پاس رک جائیں رمشہ سے سادگی سے شادی وہ چند دن میں کرلے گا “

نوفل کو دیکھ کر زولیخہ کے ماتھے پر بل پڑے تھے ۔۔۔ عمار بھی اسے گھور رہا تھا وہ بس صحن میں ہی کھڑا تھا ان دونوں کو نظر انداز کر کے عائزہ کو پکارنے لگا چچا کی آواز سن کر وہ دونوں کمرے سے نکلنے لگی

” چاچو ” وہ دونوں چارپائی سے اتر کر باہر کی طرف لپکیں

” عائزہ منی ۔۔۔ بیٹھو دونوں ادھر کوئی باہر نہیں جائے گا ۔۔۔۔ ” مائرہ کے سخت لہجے پر منزہ تو چپ ہو گئ لیکن عائزہ کی تو جان بستی تھی چچا میں

“مما چاچو آئے ہیں مجھے ان سے ملنا ہے “

” نہیں ملنا تم نے اس سے ۔۔۔ بیٹھی رہو یہیں پر خبردار تم دونوں میں سے کوئی باہر بھی آیا تو ” یہ کہہ کر وہ چادر اچھی طرح سے اوڑھے کمرے سے باہر نکلی تھی صحن میں سامنے نوفل کھڑا تھا ۔۔۔ شیو بڑھی ہوئی تھی بال بھی بے ترتیب سے تھے ۔۔۔ چہرے پر گہری سنجیدگی تھی پہلی نظر میں مائرہ کو لگا زریاب کھڑا ہے ۔۔۔

کیونکہ شیو وہی رکھتا تھا نوفل تو ہر وقت کلین شیو ہی رہتا تھا ۔۔۔ شکل وصورت میں دونوں بھائیوں کی بہت مماثلت تھی بس زریاب کی آنکھیں کھلتی براؤن تھی چہرے پر ہلکی ہلکی دھاڑی سی تھی اور نوفل کی آنکھیں سیاہ تھیں ۔۔۔۔

زریاب کی رنگت نوفل سے ذیادہ سفید تھی ۔۔۔ البتہ قد کاٹھ ایک دونوں کا ایک جیسا تھا ۔۔۔ مائرہ کو دیکھ کر اس نے سلام کیا مائرہ جواب میں بس سر ہی اثبات میں ہلایا تھا

” اپنا سامان پیک کر لیں بھابھی اور گھر چلیں میرے ساتھ ” بنا تمہید باندھے نوفل نے کہا تھا

” کس لئے ؟ مائرہ کے اسپاٹ لہجے پر وہ متحیر تھا

” اس لئے کہ وہ آپ کا گھر ہے “

” وہ میرا گھر تب تک تھا جب تک زریاب تھے ۔۔۔ تم سے میرا رشتہ بھی اسی وقت تک تھا ۔۔۔۔ نا تو اب میرا تم سے کوئی تعلق ہے نا اس گھر سے ۔۔۔ تم بھائی کا حصہ اس کے بچوں کو دینا چاہوں تو دے سکتے ہو ۔۔۔۔ نا دینا چاہوں تو بے شک نا دو ۔۔۔ میں تم سے مطالبہ نہیں کروں گی لیکن میری چیزیں مجھے لوٹا دو ۔۔۔۔ ” مائرہ کے بے لچک لہجے پر وہ کچھ پل کے لئے خاموش سا ہو گیا تھا پہلے عمار اور زولیخہ کو غصے سے دیکھا سارا شہر انہیں کا بھرا ہوا تھا

” بھابھی جو زہر ان دونوں نے آپ کے دل میں میرے لئے بھرا ہے ۔۔۔ وہ بے بنیاد ہے ۔۔۔ میری بات سنیں

بھائی کا جو کچھ بھی ہے وہ آپ کا ہے ۔مجھے اس میں سے کچھ بھی نہیں چاہیے ۔۔۔ بہت اچھاوقت جزرا ہے ہمارا بلکل بہن بھائی کے رشتے جیسا ۔۔۔ بھائی کہا تھا آپ نے مجھے۔۔۔۔ پھر کیسے ہر تعلق توڑ سکتی ہیں ” نم آنکھوں سے اس نے یاد دلایا تھا ۔۔۔ کچھ پل تو مائرہ کے سامنے بھی اپنا ہنستا بستا گھر گھومنے لگا تھا

“میرے ساتھ چلیں بھابھی خالی گھر کاٹنے کو دوڑتا ہے ۔۔۔۔ رمشہ کے والدین میری شادی کی بات آپ سے کرنا چاہتے ہیں

میں چند دن میں رمشہ سے نکاح کر کے اسے گھر لے آؤں گا ۔۔۔۔ پھر تو کوئی مسلہ نہیں ہو گا ۔۔۔۔ ہم ایک گھر میں رہ سکتے ہیں ۔۔۔ بڑی مشکل سے میں نے بچوں کے بغیر یہ وقت کاٹا ہے ۔۔۔۔ میرے بھائی کی میرے پاس یہ دونوں ہی تو نشانیاں ہیں ۔۔۔۔ مجھے ان سے دور مت کریں ساری زندگی عائزہ اور منزہ کو اپنے سینے سے لگا کر رکھنا چاہتا ہوں ۔۔۔ جو پیار ساری زندگی بھائی نے مجھے دیا ہے ۔۔۔ وہی میں عائزہ اور منزہ کو دینا چاہتا ہوں ۔۔۔۔ خدا کی قسم آپکی بھی عزت اور احترام میں ذرا کمی نہیں آنے دوں گا

گھر کا ہر معاملہ آپ ہی دیکھیں گئیں جیسے پہلے دیکھتی تھیں ۔۔۔ بھابھی پلیز میرے ساتھ چلیں ” نوفل اس کی منت کر رہا تھا آنکھوں میں آنکھوں جھلملا رہے تھے

” مائرہ کچھ پل تو بول ہی نہیں پائی ۔۔۔۔ باتوں سے تووہ بھی سچا لگ رہا تھا ۔۔۔۔ نا وہ کسی چیز پر حق جما رہا تھا نا دینے سے انکار کر رہا تھا ۔۔۔۔

” بڑے گھنے میسنے ہو تم ۔۔۔۔ مائرہ کی جائیداد دیکھ کر کیسے چاپلوسی پر اتر آئے ہو ۔۔۔۔ ” زولیخہ کو جب یہ لگا کہ مائرہ کا دل کچھ پگھلنے لگا ہے تو فورا سے بولی پھر مائرہ کے پاس آ گئ

“اس کی باتوں میں مت آؤں مائرہ ۔۔۔ یہ تمہاری ماں کا گھر بھی تم سے ہتھیانا چاہتا ہے” زولیخہ نے پھر سے آگ سلگانی چاہی تھی

” بھابھی ان کی باتوں کر توجہ مت دیں لالچ کی پٹی ان دونوں کی آنکھوں میں بندھی ہے ۔۔۔۔ کبھی یہ لوگ اس دن آپکی الماری تک پہنچے تھے اور میں پورے وثوق سے کہہ سکتا ہوں کہ انکی اس قسم کی کارکردگی سے آپ بلکل انجان ہو گئیں ” نوفل کی بات بھی اپنی جگہ درست تھی

” دیکھو ۔۔۔ کیسے منہ پر جھوٹ بول رہا ہے ۔۔۔ میں نے تمہیں آکر سب کچھ بتا دیا تھا نا مائرہ کیا جھوٹ بولا تھا ۔۔۔ کہ تمہیں لے جا کر اپنی بیوی کا غلام بنا دے گا ۔۔۔۔ دیکھ لینا تم ” زولیخہ اپنی پوری کوشش کر رہی تھی

بس ایک مائرہ چپ تھی سمجھ نہیں پارہی تھی کس کی بات کااعتبار کرے