Log Kia Kahe Gy by Umme Hani NovelR50418 Log Kia Kahenge Episode 27
Rate this Novel
Log Kia Kahenge Episode 27
Log Kia Kahe Gy by Umme Hani
چار دن بعد وصی نوفل کے پاس پہنچا تھا ۔۔۔ وہ ٹی وی دیکھ رہا تھا وصی کی باتیں بھی لا پروائی سے سن رہا تھا ۔۔۔ مائرہ کچن میں تھی کھانا بنا رہی تھی اور عفیرہ کمرے میں
” یار نوفل انیلا بھابھی مائرہ بھابھی سے معافی مانگنے کو تیار ہیں ۔۔۔ آئندہ ان سے اس قسم کی کوئی بات نہیں کریں گئیں بس تم شمس الدین بھائی کو سچ بتا دو۔۔۔۔ رو رو کر فون پر میری منتیں کیں ہیں انہوں نے ۔۔۔ شمس بھائی انہیں گھر پر رکھنے تو تیار نہیں ہیں ۔۔۔۔ “
وصی کی بات کا نوفل نے کوئی جواب نہیں دیا ۔۔۔ بس ماتھے پر بل ڈالے ٹی وی کی طرف دیکھ رہا تھا ۔۔۔۔ ساتھ چپس کھا رہا تھا ۔۔۔ پاؤں سامنے ٹیبل پر تھے ۔۔۔ برابر میں عائزہ چاچے سے ساتھ لگ کر بیٹھی تھی
” نوفل تم سے کہہ رہا ہوں ۔۔۔ ” وصی زچ سا ہوا تھا کب سے وہ اس سے التجا کر دیااور وہ خاموشی سے کارٹون دیکھ رہا تھا ۔۔ وصی کے یوں چلانے پر اس نے ۔۔ ایک نظر اس پر ڈالی
” میرا ایسا کوئی موڈ نہیں ہے ۔۔۔۔ تمہیں تو خوش ہونا چاہیے ۔۔۔ تمہیں گھر سے نکلنے پر مجبور کیا تھا اس عورت نے ۔۔۔ ذرا چار دن اور انہیں بھی در بدر بھٹکنے دو ۔۔۔ شکر کرو تھوڑی غیرت تمہارے بھائی نے بھی دیکھا دی ورنہ مجھے تو یہ بھی امید نہیں تھی ۔۔۔” پھر سے ٹی وی کی جانب دیکھنے لگا۔۔۔ جہاں ٹام اینڈ جیری لگے ہوئے تھے
” نوفل ۔۔بس بھی کر دو اب۔۔۔ بھابھی کے بھائیوں نے انہیں۔ بہت ذلیل کیا ہے ۔۔۔ ” وصی اسکی منت پر اتر ایا ۔۔۔ نوفل نے ایک نظر اس پر ڈالی پھر چپس کا پیکٹ اس کی طرف بڑھایا
“تم ٹینشن کیوں لے رہے ہو وصی میری جان ۔۔۔ لو چپس کھاؤ۔ اور موج مناؤ ۔۔۔میں تو سوچ رہا تھا کہ دو چار پریم پتر بھی لکھ کر شمس الدین کو دیکھا دوں ۔۔۔۔ تھوڑا سا اور مزہ آئے گا ۔۔۔۔ ” نوفل کا اگلا لائحہ عمل سن کر مائرہ کچن سے باہر آئی تھی ۔۔۔۔ وصی نے نوفل کے سامنے ہاتھ جوڑے تھے
” اوہ یہ غضب مت کرنا یار ۔۔۔شمس بھائی طلاق دیدیں گئے انہیں ۔۔۔ چار دن میں اچھی خاصی ذلت اٹھا لی ہے انیلا بھابھی نے ۔۔۔ میں نے بہت سمجھایا بھائی کو کہ تم صرف مائرہ بھابھی کا بدلہ لے رہے تھے ۔۔۔ اور تم دونوں کا ایسا کوئی چکر نہیں ہے لیکن ۔۔۔ انہیں میری بات پر بھروسہ ہو تب نا ” وصی از حد پریشان تھا ۔۔۔ نوفل نے مسکرا کر ٹی کاوالیم بڑھایا تھا وصی اسکی بے نیازی سے زچ کی آخری حد پر تھا ۔۔۔ مائرہ نے دونوں کی طرف دیکھا ایک گہری سانس لی
” وصی تم شمس بھائی کو بلا کر لاؤ ۔۔۔۔ نوفل ابھی اسی وقت ہر بات کلیر کرے گا ” مائرہ کی بات سن کر نوفل نے چپس ساتھ بیٹھی عائزہ کو پکڑائی اور دونوں ہاتھ جھاڑتے ہوئے سیدھا ہو کر بیٹھ گیا
” میں ایسا کچھ بھی نہیں کہو گا ان سے ۔۔۔ “
” جتنا تم کر چکے اتنا کافی ہے نوفل اب بس ختم کرو یہ سب ۔۔۔ جاؤں وصی تم بلا کر لاؤ شمس بھائی کو یہ ہر بات ان سے ضرور کلیر کرے گا ” مائرہ کی بات سن کر وصی کچھ پر سکون ہوا تھا جانتا تھا کہ مائرہ کی بات وہ ٹالتا نہیں ہے
” پہلے اپنی بھابھی کو بلاؤ اور اس سے کہو مائرہ بھابھی سے ہاتھ جوڑ کر معافی مانگے وہ بھی پوری گلی کے سامنے ۔۔۔۔ اور یہ بھی کہے کے آئندہ زبان سنبھال کر بات کرے گی ۔۔۔ ” نوفل کی بات سن کر وصی نے مدد طلب نظروں سے مائرہ کو دیکھا تھا
” رہنے دو وصی مجھے کسی سے معافی نہیں منگوانی ” مائرہ انیلا کی شکل بھی دیکھنا نہیں چاہتی تھی ۔۔۔۔ پھر انیلا کبھی بھی یوں معافی نا مانگتی
” ٹھیک ہے پھر میں بھی کوئی بات کیر نہیں کروں گا” نوفل نے دوبارہ چپس کا پیکٹ عائزہ سے لیا اور کھانے لگا ۔۔ مائرہ اسے گھورتے ہوئے اس کے پاس آ کر کھڑی ہو گئ
” چاہتے کیا ہو تم ۔۔۔ “
” معافی ۔۔۔ وہ بھی سب کے سامنے ۔۔۔ “
” نوفل مجھے نہیں چاہیے ایسی معافی ” مائرہ نے دو ٹوک انداز سے کہا تھا
” لیکن مجھے تو کروانی ہے ۔۔۔۔ ” وہ اسی بے نیازی سے بولا
” تم میری بات سے انکار نہیں کر سکتے ۔۔۔۔ چلو شاباش شمس بھائی سے کہہ دو کہ ایسا کچھ نہیں ہے ۔۔۔۔ بات کو ختم کرو اب “
” ” اگر آپ یہ سمجھ رہی۔ ہیں کہ میں آپ کی ہر غلط بات پر سر جھکا دوں گا غلط سمجھ رہی ہیں
کوئی میری عزت پر غلط نظر ڈالے ۔۔۔ تو ڈالے کیسے ؟ کوئی میرے گھر کی خواتین پر انگلی اٹھائے تو توڑ نا دوں اسکی انگلی کو ۔۔۔۔ ” بڑے جتاتے ہوئے وہ سخت لہجے سے کہہ رہا تھا اور پھر وصی کو مخاطب کیا
” اپنی بھابھی سے کہو کہ سب کے سامنے مائرہ بھابھی سے معافی مانگے ورنہ بھول جاؤں ۔ کہ اسے میں رہنے بھی دونگا اس محلے میں ۔۔ ” نوفل نے کوئی لچک نہیں دیکھائی تھی ۔۔۔پھر برابر بیٹھی عائزہ سے بولا
” جاؤ۔ جا کر اپنی چچی کو بلا کر لاؤ کمرے کے علاؤہ دوسرا کوئی کام نہیں ہے اسے ۔۔۔۔۔ اسے کہو وصی چاچو آئے ہیں باہر۔۔۔ آ کر چائے بنائے ” عائزہ اٹھ کر اس کے کمرے میں جانے لگی
” چائے میں بنا دیتی ہوں ” مائرہ دوبارہ کچن میں جانے لگی تھی
” آپ رہنے دیں بھابھی کب سے آپ کچن میں ہیں ۔۔۔۔ وہ نواب کی بچی نہیں ہے ۔۔۔ جو مہارانیوں کی طرح بیٹھی رہے ۔۔۔ جاؤ عائزہ بلاؤ اسے ” کئ دن سے وہ عفیرہ کی یہی روٹین دیکھ رہا ۔۔۔ نوفل کے چھوٹے موٹے کام وہ اسے کہنے پر منہ پھلائے کر رہی تھی ۔۔۔ لیکن کچن میں قدم نہیں۔ رکھتی تھی
” رہنے دو تم۔۔ مجھے چائے نہیں پینی ۔۔۔۔۔ میں ویسے بھی جا رہا ہوں ۔۔۔ ” وصی اپنی پریشانی میں مبتلہ تھا ۔۔۔۔ شمس الدین انیلا کی شکل دیکھنے کا روادار نہیں تھا ۔۔۔۔ چار دن سے انیلا کے فون پر فون آ رہے تھے کبھی زونیرہ کی منتیں کر رہی تھی تو کبھی وصی کی
” آرام سے بیٹھو ادھر چائے پی کر جانا ۔۔۔ ” نوفل کے گھرکنے پر وہ مجبورا بیٹھ گیا ۔۔۔۔
عائزہ نے دروازہ ناک کیا اور دروازہ کھول کر اندر داخل ہوئی تو عفیرہ فون پر باتوں میں مصروف تھی ساتھ ہی ساتھ منہ سے اپنے ناخن بھی کتر رہی تھی ۔۔۔
“ہاں اماں ۔۔۔۔ ایسا فساد بھرپا کیا نوفل کی بھابھی نے پورے محلے میں کہ ہمیں واپس ہی آنا پڑا ۔۔۔ کتنادل تھا میرا کہ چند دن اور وہاں رکتے ” عابدہ بیگم سے وہ اپنے ہی دکھڑے رو رہی تھی جب عائزہ اندر داخل ہوئی تو عفیرہ اسے گھورنے لگی ۔۔
” تم کیا منہ اٹھائے اندر ا جاتی ہوں ” عفیرہ نے گھورتے ہوئے عائزہ سے کہا ۔۔ وہ بھی ناگواری دیکھانے لگی
“چچی چاچو کہہ رہے ہیں باہر آ کر چائے بنا دیں ۔۔۔۔” عائزہ یہ کہہ کر باہر چلی گئ اور دروازہ بھی بند کر دیا
” ہووو۔۔۔۔ عفی کیاابھی سے کام شروع کر دیاتم نے ۔۔۔ ابھی دن ہی کتنے ہوئے ہیں تمہاری شادی کو ۔۔۔۔ ” عابدہ بیگم نے پیچھے سے عائزہ کی آواز سن کر کہا
” کیا بتاؤ اماں ۔۔۔۔ بھابھی بڑی تیز ہے اسکی ۔۔۔۔ اور میسنی بھی ہے خود زبان سے کچھ نہیں کہتی بس نوفل کے ہی کان بھرتی ہے ۔۔۔۔۔ اور وہ ؟ ۔۔۔ اس نے تو بھابھی صاحبہ کو وہ اونچے تخت پر بیٹھا رکھا ہے پوچھو ہی مت ۔۔۔۔ ” عفیرہ کو بجائے سمجھانے کے ماں اسے الٹی ہی پٹیاں پڑھانے لگی
” ارے قابو میں رکھ اپنے میاں کو ۔۔۔۔ پر وقت نظر رکھا کر اکیلے بھابھی کے پاس پھٹکنے بھی مت دے ۔۔۔ اچھی خاصی جوان ہے وہ ۔۔۔ اوپر سے خوبصورت بھی ۔۔۔۔ ” عابدہ کی بات سن عفیرہ کے فسادی دماغ کوایک نئ راہ ملی تھی
” کیا مطلب اماں”
” تم تو سدا کی سیدھی اور معصوم ہو عفی ۔۔۔۔ ارے ہتھیا لے گی تیرے میاں کو ۔۔۔۔
دیکھ عفی ۔۔۔ یہ گھر نوفل کا ہے ۔۔۔۔ اور تو اسکی بیوی ہے ۔۔۔ اس لئے سارے گھر کا نظام اپنے ہاتھ میں لے ۔۔۔۔۔ ارے ایک بیوہ کو اسکی حیثیت میں رکھنا سیکھ ۔۔۔۔۔ اسے ایک چھت کا آسرا مل رہا ہے بس اتنا ہی کافی ہے ۔۔۔۔۔ نوفل کے قریب رہا کر ۔۔۔۔ اسے اکیلا چھوڑنے کی ضرورت نہیں ہے ۔۔۔ “
” ہاں یہ تو میں نے سوچا ہی نہیں اماں ۔۔۔۔۔ اچھا کیا تو نے بتا دیا ورنہ میں سدا کی سیدھی سادی ۔۔۔۔ بس یونہی حکم کی غلام ہی بنی رہتی ۔۔۔۔ ” عفیرہ نے بھی خود کو معصوم ہی سمجھ لیا تھا
” ارے کوئج ضرورت نہیں کام کر کر کے خود کو ہلکان کرنے کی ۔ دیکھ ۔۔۔ کام صرف میاں کو دیکھانے کے لئے کیا کر جب وہ گھر آئے بس کام کرنا کرنا شروع کر دیا اور بھابھی کی خدمت گزاری بھی ۔۔۔ نوفل جب یہ سب دیکھے کا تو خود ہی اپنارویہ تم سے بدل لے گا ۔۔۔ پھر بھابھی چاہے لاکھ کان بھرے وہ اسکی بات پر کان نہیں دھرے گا ” عابدہ بیگم کے نایاب مشورے شروع ہوئے تھے
” اچھا اماں میں ذرا چائے بنا دوں ورنہ پھر سے کسی کو بھیج دے گا ۔۔۔ شام کو بات کروں گی تجھ سے ” یہ کہہ کر عفیرہ نے فون رکھا ۔۔۔ پہلے ڈریسنگ کے سامنے جا کر خود کا جائزہ لیا ۔۔۔۔ بال کپڑے میک اپ سب ٹھیک تھا ۔۔۔۔ اپنے آپ سے تسلی ہونے کے بعد کو کمرے سے نکلی ۔۔۔ وصی کو سامنے دیکھ کر مجبورا ڈوپٹہ سر پر لیا تھا ۔۔۔ اسلام میں پہل وصی نے کی تھی ۔۔۔ سلام کا جواب دے کر کچن میں چلی گئ ۔۔۔ چائے بنا کر لانج میں رکھ کر پھر سے کمرے میں جانے لگی
” بیگم صاحبہ کمرے کا پیچھا کبھی چھوڑ بھی دیا کریں ۔۔۔۔ کھانا تو بھابھی بنا چکی ہیں جاؤں جا کر روٹیاں تم بناؤ ” نوفل نے چائے کا کپ اٹھا کر وصی کو تھماتے ہوئے عفیرہ سے کہا نوفل کی موجودگی میں مائرہ بھی کچھ نہیں بولی پتہ تھا کہ وہ سب کے سامنے اسے بھی ٹوک دے گا ۔۔۔۔
” لیکن مجھے تو روٹی بنانی نہیں آتی ” عفیرہ نے کندھے اچکاتا ہوئے لا پروائی سے کہا ۔۔۔۔
” کیوں ماں نے کیا سیکھا کر بھیجا ہے تمہیں ۔۔۔۔۔ تیار شیار ہونے کے علاؤہ ” اسکی تیاری پر نوفل نے چوٹ کی تھی جو یوں تیار تھی کہ ابھی کسی شادی کے فنگشن پر جانا ہو ۔۔۔۔ عفیرہ نے ایک غصیلی نظر نوفل پر ڈال کر کہا
” میری ماں کو کیا پتہ تھا ۔۔۔ اونچی دوکان کے پکوان اتنے پھیکے ہوتے ہیں ۔۔۔۔ اس نے سمجھا لڑکا گاڑی بنگلے والا ہے نوکر چاکر تو ہوں گئے اس کے گھر ۔۔۔ کیا خبر تھی ۔۔ اندر کنگلا نکلے گا ” عفیرہ لاکھ خود پر ضبط بھی کرتی تب بھی جو زبان درازی کی جو عادت اسے پڑ چکی تھی۔ زبان کہاں رک سکتی تھی ۔۔۔ نوفل کی تلوں پر لگی تھی اور سر پر جا کر بجھی تھی ۔۔۔۔ وصی بھی عفیرہ کی تیز مزاجی پر کچھ متحیر تھا ۔۔۔ نوفل اٹھ کر اسکے سامنے کھڑا ہو گیا
” تمہارے باپ سے میں نے کچھ نہیں چھپایا تھا ۔۔۔ میں کتنا رئیس ہوں یہ تمہاری ماں بھی جانتی تھی ۔۔۔۔۔ اس لئے آج کے بعد زبان سنبھال کر بات کرنا مجھ سے ۔۔۔۔ اور رات کو لیکر جاتا ہوں تمہارے باپ کے پاس تمہیں ۔۔۔۔جس نے مجھ سے کہا تھا کہ اسکی بیٹی گھر داری سے واقف ہے ۔۔۔۔ سب کچھ آتا ہے اسے ۔۔۔۔ جا کر پوچھتا ہوں ۔۔۔۔ کہ زبان درازی کے علاؤہ میں نے تو کوئی خوبی نہیں دیکھی اس میں ۔۔۔۔۔ ” نوفل نے انگلی اٹھا کر اسے تنبیہ کی اس کے خطرناک تیور دیکھ کر مائرہ کو اٹھنا پڑا تھا ۔۔۔۔ اسے پہلے بات کہیں کی کہیں پہنچ جاتی وہ ان دونوں کے پاس آ گئ ۔۔۔
” عفیرہ تم کچن میں جاؤں میں آ کر بتاتی ہوں روٹی کیسے بنتی ہے ” عفیرہ غصے سے کچن میں چلی گئ
” تم کیا ہر وقت غصہ ناک پر دھرے رکھتے ہو ۔۔۔ کوئی بات نہیں اگر اسے کچھ بنانا نہیں آتا سیکھ جائے گی آہستہ آہستہ ۔۔۔۔ ” مائرہ نے بات سنبھالتے ہوئے کہا
” آپ نے اسکی بات نہیں سنی بھابھی ۔۔۔ اکڑ کسے دیکھا رہی ہے یہ ؟ ۔۔۔۔۔ ہے کیا یہ ؟۔۔۔۔ آئی کہاں سے ہے ؟ ۔۔۔۔ پہلے اپنے گریبان میں جھانک کر تو دیکھے ۔۔۔۔ کس الو کے پٹھے نے گاڑی بنگلے کے خواب دیکھائے تھے اسے ۔۔۔۔ اسکے ابا آئے تھے نا ہمارا گھر ہماری حثیت دیکھنے ۔؟۔۔۔ کیا چھپایا تھا ان سے ہم نے ۔۔۔۔ کچھ بھی تو نہیں ۔۔۔پھر کیافضوم بول رہی ہے یہ ۔۔۔ ” نوفل کے اونچے لہجے پر وصی بھی اٹھ کر اس کے پاس آ گیا ۔۔۔
” چھوڑو نا یار ۔۔۔ بھابھی ہے نا گھر کی بڑی ہیں ۔۔ وہ سمجھا دیں گئیں انہیں “
” ہاں نوفل ۔۔۔۔ میں خود سمجھا دوں گی اسے ۔۔۔۔
تم بس اپنے غصے کو ذرا کنٹرول کرنا سیکھو ۔۔۔۔ “
” آپ ہی سمجھا دیں تو بہتر ہے ورنہ میرا طریقہ توایسا ہی ہے ۔۔۔۔۔ سو جھمیلے ہیں جنہیں مجھے اکیلے دیکھنا پڑ رہا ہے ۔۔۔ اور اوپر سے ایک ہے یہ کہ ۔۔۔۔۔”اس سے پہلے کہ وہ اور کوئی سخت لفظ بولتا ۔۔۔ مائرہ نے اسے ٹوک دیا
” تم سے کہہ دیا میں سمجھا دوں گی ۔۔۔ تم بھی چپ کرو اب ۔۔۔۔ “
” وصی اسے تم باہر لے جاؤ اپنے ساتھ ۔۔۔۔ گھر میں رہ کر شاید آپ سٹ سا ہو گیا ہے ” مائرہ نے ماحول بدلنا چاہا تھا ۔۔۔۔وصی نوفل کا بازو پکڑے اسے باہر لے گیا ۔۔۔۔
مائرہ کچن میں آئی تو عفیرہ غصے سے تیوری چڑھائے اٹے سے روٹی کے پیڑے بنا رہی تھی ۔۔ جو خوبیاں اکمل صاحب نے نوفل کو اپنی بیٹی کی بتائیں تھیں وہ عبیرہ کی تھیں ۔۔۔۔ عفیرہ کہاں کسی کام کو ذیادہ ہاتھ لگاتی تھی ۔۔۔۔ گھر کے کاموں سے بچنے کے لئے ہی تو اسکول میں ٹیچنگ شروع کی تھی ۔۔۔۔
” بے دلی سے آٹے کے عجیب بڑے بڑے سے پیڑے بنا رہی تھی یہ دیکھ کر مائرہ نے اسے بہت اپنایت سے پیڑے بنانے کا بتایا تھا ۔۔۔۔ روٹی بھی بنانا بتا رہی تھی لیکن وہ ہر چیز کو عدم دلچسپی سے ہی دیکھ رہی تھی ۔۔۔۔
” دیکھیں بھابھی یہ کھانا بنانا میرے بس کی بات نہیں ہے ۔۔۔ ایسا کریں کھانے کی ذمہ داری آپ ہی سنبھالیں ۔۔۔ ہاں میں برتن دھو دیا کروں گی ۔۔۔ باقی چھوٹے موٹے کام کر دوں گی ۔۔۔ ” عفیرہ نے نئ راہ نکالی تھی۔۔۔
” ٹھیک ہے ۔۔۔۔ لیکن کچھ کچھ بنانا بھی ساتھ ساتھ سیکھتی رہو ۔۔۔۔۔ کھانا بنانا تو لڑکیوں کو لازمی سیکھنا چاہیے ۔۔۔ لڑکی بیوی چاہے کسی مزدور ۔۔ کسان کی بنے یا بادشاہ کی۔۔۔ مرد کو وہی عورت بھاتی ہے جو اسے کھانا اپنے ہاتھ سے بنا کے دے اسکے چھوٹے موٹے کام خود کر کے دے ” مائرہ نے اسے رسانت سے سمجھانا چاہا تھا
” نہیں بھابھی مردو کو صرف خوبصورتی بھاری ہے ۔۔۔۔ سب ہی اسی کے پیچھے بھاگتے ہیں ۔۔۔۔ شادی کے لئے چاند سی دلہن کو ترجعی دی ہے ۔۔۔۔ اس لئے لڑکیاں اسی پر توجہ دیتیں ہیں ۔۔۔ اب اگر میں دکھنے میں اتنی خوبصورت نا ہوتی تو کیا آپ پسند کرتی مجھے ؟ ” وہی نخوت بھرا لہجہ وہ غرور وہی اکڑ مائرہ کو اسکی لڑکی سمجھ نہیں آتی تھی ہر وقت آنکھیں آسمانوں پر ہوتی تھیں ۔۔۔
” ہاں کر لیتی پسند ۔۔۔۔ نوفل نے مجھ سے ایسی کوئی ڈیمانڈ نہیں کی تھی ۔۔۔۔ با یہی کہا تھا ۔۔۔۔ گھر میں مل جل کر رہنے والی ہو گھر کے معاملات کو سمجھنے والی ہو ۔۔۔۔ ہمہیں شادی جلدی چاہیے تھی اس لئے ۔۔۔ پہلی تم ہی تھی جسے ہم دیکھنے آئے تھے ۔۔۔ اس لئے رضامندی بھی دے دی ” فریج میں سلاد کے لئے کھیرا اور ٹماٹر نکال کر مائرہ نے شلف پر رکھتے ہوئے کہا عفیرہ استزائیہ انداز سے ہنسی تھی
” ہاں وہ مجھ سے پہلے اپنی منگتر سے سارے شوق پورے کر چکے تھے ۔۔۔ جو خوبصورت بھی تھی اور بہت ساری خوبیوں کی مالک بھی لیکن اس اس سے دل بھر گیا ہو گا ۔۔۔۔ اس لئے سوچا ہو گا جو ملتی ہے مل جائے ۔۔۔اور اس معاملے میں بھی قسمت کے دھنی نکلے کے مجھ جیسی خوبصورت بیوی مل گئ ۔۔۔۔” مائرہ کھیرا کاٹتے ہوئے رک گئ تھی ۔۔۔ پھر عفیرہ کو دیکھنے لگی ۔۔۔ جو تنی حسین نہیں تھی جتنا خود کو سمجھتی تھی ۔۔۔۔ مائرہ عفیرہ کا نوفل کے کردار کو لیکر اس قسم کی باتیں کرنا برا لگا تھا
” ایسا لڑکا نہیں ہے وہ ۔۔۔۔۔ منگنی بے شک اسکی پسند سے ہوئی تھی ۔۔۔۔ لیکن ۔۔۔۔”,
” جانے بھی دیں نا بھابھی ۔۔۔۔ لڑکے کیسے ہوتے ہیں یہ مجھ سے بہتر کون جان سکتا ہے ۔۔۔۔ کسی لڑکی سے دوستی بھی کر لیں تو ۔۔۔۔ تب بھی اپنی خواہش پوری کرنے نہیں چونکتے ۔۔۔ وہ تو پھر منگتر تھی ۔۔۔۔ خیر مجھے کوئی فرق نہیں پڑتا ان باتوں سے ۔۔۔۔ میں کسی کے لئے بھی خود کو بدل نہیں سکتی جیسی ہوں ویسی ہی رہا گی ۔۔۔۔ خود کو صرف اس لئے بدلنا کہ اگر میں اسکے مطابق خود ڈھال لو تب ہی اسکی محبت کی مستحق ہو جاؤں گی تو ایسی کوئی خواہش نہیں ہے
مجھے ۔۔۔۔ ” عفیرہ کے خیالات سن کر مائرہ کچھ متذبذب سی ہوئی تھی
” عفیرہ جب محبت ہو جائے تو ۔۔۔ خود دل چاہتا ہے کہ ہم شوہر کے رنگ میں خود کو دیکھیں ۔۔۔۔ دیکھو وہ مرد ہے خود کو تمہارے مطابق تو کبھی نہیں ڈھالے گا ۔۔۔ تمہی کو پہل کرنی پڑے گی ۔۔۔ پھر وہ جذباتی بھی ہے ۔۔۔۔ زریاب کے حادثے کی وجہ سے ایک دم سے اسکی زندگی بدل کے رہ گئ ہے ۔۔۔۔ اس لئے کچھ چڑچڑا سا ہو گیا ہے ۔۔۔۔
تم اسے پیار سے بات کرو گئ تو ٹھیک ہو جائے گا تم سے ۔۔۔ دیکھوں میری بات سنو عفیرہ ۔۔۔ بیوی ۔۔۔ بیوی ہوتی ہے ۔۔۔ کوئی بھی عورت بیوی کی جگہ نہیں لے سکتی ۔۔۔۔ تھوڑا سا جھک جانے سے عورت بے مول نہیں ہو جاتی اور شوہر کوئی غیر تو نہیں ہے کہ اگر ہم اسکے سامنے جھک گئے تو ہماری عزت کم ہو جائے گی ۔۔۔۔ اسے تھوڑی سی توجہ اور اہمیت دو گی تو جان نچھاور کر دے گا تم ۔۔۔۔ ” مائرہ کا اپنایت بھرا لہجہ عفیرہ کی وادی طور پر بولتی بند کروا گیا تھا ۔۔۔ نا چاہتے ہوئے بھی اسے جواب نہیں دے پائی تھی
۔۔۔۔ شام کو انیلا سوجی ہوئی آنکھوں کے ساتھ باہر گیٹ پر موجود تھی ۔۔۔۔
محلے چند لوگ اور چوکیدار بھی ماتھے پر بل ڈالے کھڑا تھا جسے انیلا نے مائرہ کے حوالے بڑی باتیں سنائیں تھیں شمس الدین بھی رخ موڑے تیوری چڑھائے کھڑا تھا ۔۔۔
خالہ اور اس کا میاں بھی موجود تھا اور محلے چند بزرگ اور بھی تھے ۔۔۔۔ بات نوفل نے شروع میں تھی
” میں نے جس سے ہوش سنبھالا تھا تو اسی گھر اور محلے کو دیکھا تھا ۔۔۔۔۔ کتنے سالوں سے ہم لوگ یہیں رہ رہے ہیں ۔۔۔۔ اور امی ابو کے بعد زریاب بھائی محلے داری نبھانے میں کبھی پیچھے نہیں ہٹے آپ سب لوگ جانتے ہیں ا ھی طرح سے ۔۔۔۔ ہم صرف دو بھائی ہی کتنے سالوں سے یہاں رہ رہی۔ تھے ۔۔۔ کیا آج تک آپ لوگوں نے ہمہیں کوئی غیر مہذب حرکت کرتے دیکھا ہے ؟۔۔۔ سب کے گھروں میں بہن بیٹیاں موجود ہیں کیا کبھی ہم دنوں بھائیوں میں سے کسی نے آپ لوگوں کے گھر آنکھ اٹھا کر دیکھنے کی کوشش کی ہے تو بتائیں مجھے ۔۔۔ ” سب نے نوفل کی بات کی تائید کی تھی
” نہیں تم دونوں بھائی نہایت ہی شریف اطوار کے مالک ہو ۔۔۔۔ ” محلے کے ایک بزرگ نے جواب دیا ۔۔۔ “زریاب بھائی کی شادی پر رشتے داروں کے طور پر آپ سب لوگ ہی ہمارے ساتھ موجود تھے ۔۔۔۔ کیوں ؟ اس لئے نا بھائی نے کبھی بھی کسی کی عزت اور احترام میں کمی نہیں کی تھی ۔۔۔ کوئی بیمار ہے یا کسی کو پیسوں کی ضرورت آن پڑی تو سب سے پہلے بھائی نے اس کا ہاتھ تھاما تھا ۔۔۔۔ اور جب بھابھی ہمارے گھر میں آئیں تو یہ ذمہ داری انہوں نے با خوبی نبھائی ہے ۔۔۔۔ محلے میں کسی کی شادی ہے مائرہ کے ساتھ شاپنگ ہو رہی ہے ۔۔۔ قرآن خانی ہے تو کھانا کھلانے کی ذمہ داری مائرہ نبھا رہی ہے ۔۔۔۔ سب کے لئے وہ بہن بیٹی ہی رہی ہے ۔۔۔ کیا یہ رشتہ بھابھی سے آپ لوگوں کا بس اسی وقت تھا جب زندہ تھے ۔۔۔۔۔ کیا بھائی کے جاتے ہی آپ سب لوگوں کی نظریں بدل گئیں ہیں؟ ۔۔۔ اب کیوں سب کو وہ بہن بیٹی نہیں لگتیں ۔۔۔۔ صرف بیوہ کیوں لگتیں ہیں ۔۔۔۔ میں گھر سے چند دن کے اس لئے بے فکر ہو کر گیا تھا ۔۔۔۔ کہ انکا ایک ہی بھائی جارہا ہے ۔۔۔۔ باقی محلے میں بہت سے باپ بھائی موجود ہیں انکا خیال رکھنے کے لئے ۔۔۔۔ چوکیدار کو بھی کہہ کر گیا تھا ۔۔۔ وصی سے بھی میں نے ہی کہا تھا کہ بھابھی سے خیر خیریت پوچھتا رہے ” سب پہ نظریں جھکائے سن رہے تھے انیلا کے بھائی بھی موجود تھے ۔۔۔ پھر نوفل نے انیلا کی طرف دیکھ کر ہاتھ کے اشارے سے کہا
۔”۔۔۔ یہ میری محترم اور باعزت بھابھی صاحبہ نے دن دہاڑے ۔۔۔گھٹیا الزامات کی بوچھاڑ مائرہ بھابھی پر کر دی ۔۔۔۔۔ اس بوڑھے باپ جیسے چوکیدار کے ساتھ الزام تراشی ۔۔۔تو کبھی شمس بھائی کے ساتھ یہاں تک کے وصی کے ساتھ بھی کیا کیا بکواس نہیں کی انہوں نے ۔۔۔ لیکن آپ سب لوگوں کے گھر میں سے کوئی ایک غیرت مند مرد باہر نہیں نکلا جو انہیں چپ کروا سکتا ۔۔۔۔ میں پوچھ سکتا ہوں کہ کیوں ؟ ” نوفل نے تاسف سے ایک ایک کو دیکھا تھا
” بیٹا ۔۔۔۔ بات یہ ہے کہ ہمارا معاشرہ ہی کچھ ایسا ہے ۔۔۔۔ اگر ہم بیٹی سمجھ کر پوچھ لیتے تو جہاں چوکیدار وصی اور شمس بھائی عتاب کا نشانہ بنے ہیں چوتھا نام ہمارا بھی شامل ہوتا ۔۔۔۔ بیوہ سے ہمدردی اور بھائی بندی کا مطلب یہاں دوسرے لفظوں میں لیا جاتا ہے ۔۔۔۔اس لئے نیک نیتی کے باوجود کوئی آگے نہیں بڑھتا ” ایک دوسرے بزرگ نے جواب دیا نوفل کے پاس ہر جواب موجود۔ تھا
” یہ معاشرہ کس بنایا ہے چچا ۔۔۔۔۔ آپ جیسے ہم جیسے لوگوں نے ہی بنایا ہے۔۔۔۔ اسے بدلے گا کون ؟ ہم اور آپ ہی مل کر بدلیں گئے ۔۔۔۔۔ جب تک ایک کی زبان بند نہیں کروائی جائے گی ۔۔۔۔ ایک سے دو ہوتے چلیں جائیں گئے اور ایسی بیہودہ باتیں کسی رسم کی طرح ہمارے گھروں میں نبھائی جانے لگیں گئیں ۔۔۔ لیکن اگر ایک کو ہی وہیں روک دیا جائے تو دوسرے کاسوال ہی پیدا نہیں ہوتا ۔۔۔۔ معاشرہ خود با خود ٹھیک ہو جائے گا ۔۔۔۔ ” نوفل کی بات پر کسی کو اختلاف رائے نہیں تھی نوفل نے پھر شمس الدین کو مخاطب کیا
“شمس بھائی میرا آپ کی بیوی سے کوئی تعلق نہیں ہے ۔۔۔ وہ کل بھی میرے لئے بہن کادرجہ رکھتی تھیں ۔۔۔ آج بھی رکھتی ہیں ” نوفل کی بات سن کر انیلا فورا سے بول پڑی
” میں تو پہلے ہی کہتی تھی سے شمس ۔۔۔۔ نوفل نے کبھی مجھے آنکھ اٹھا کر نہیں دیکھا ۔۔۔۔ بے شک ویسے وہ چالاک اور تیز ہے “انیلا اپنی صفائی پیش کرنے کے ساتھ ساتھ دل کی کڑواہٹ بھی نکالی تھی ۔۔۔
” اچھا اچھا اب منہ بند کرو اپنا ۔۔” شمس الدین نے انیلا کو فورا سے چپ کروایا ۔۔۔۔
” میں مائرہ بھابھی کو بلا رہا ہوں ۔۔۔ یہ معافی مانگیں ان سے ۔۔۔۔ اور آئندہ اگر بھابھی کے لئے کسی نے بھی ان نا زیبا لفظوں استعمال کیا جو انیلا بھابھی نے کیے ہیں ۔۔۔ مجھ سے بھی پھر خیر کی امید مت رکھیے گا ۔۔۔ “یہ کہہ نوفل مائرہ کو بلا کر باہر لے آیا تھا ۔۔۔ انیلا نے مائرہ کو دیکھ کر نا فوری دیکھائی تھی ۔۔۔ شمس الدین نے گھورا تو وہ چلتی ہوئی مائرہ کے پاس آ گئ ہاتھ جوڑ کر معافی مانگنے لگی
” معاف کر دو مجھے ” مائرہ نے آگے بڑھ کر اسے گلے لگایا تھا
” معافی کی ضرورت نہیں تھی بھابھی ۔۔۔۔ میں نے تو بہت منع کیا تھا نوفل کو کہ ختم کرے بات ۔۔۔۔ اللہ آپ کا ہمیشہ سلامت رکھے ۔۔۔۔ ” مائرہ نے دل صاف کرنے میں وقت نہیں لگایا تھا
” بیٹااج کے بعد خود کو اکیلا کبھی مت سمجھنا ۔۔۔۔ ہمارے لئے تم ہماری بہن اور بیٹی ہو ۔۔۔۔
کوئی کام ہو بلا جھجک کہہ دینا ۔۔۔۔ “
” ہاں بیٹا ۔۔۔۔ کوئی بھی کام ہو بے شک کہہ دیا کرنا ۔۔۔” محلے کے بزرگوں کی آنکھیں بھی اب کھلیں تھیں ۔۔۔
” آپ لوگوں نے کہہ دیا ۔۔۔ میرے لئے یہی بہت بڑی بات ہے ۔۔۔۔ ” مائرہ نے بات خوش اسلوبی سے ختم کی تھی ۔۔۔
*******………
بدر کی شادی بھی ہو گئ تھی ۔۔۔ رمشہ کے والدین نے اسے صرف ایک کمرے کا ہی سامان دیا تھا ۔۔۔۔ سونے کے نام پر ساس کو ایک ماشہ بھی نہیں ملا تھا ۔۔۔۔ نا ہی کوئی پروٹوکول دیا گیا تھا ۔۔۔۔ دل تو بدر کی والدہ بہت برا ہوا تھا کیونکہ اکلوتی بہو کو دس تولہ زیوز حق مہر میں دینے کے لئے انہیں اپنا خاندانی سٹ تک تڑوا کر نئے ڈیزائن لا بنوانا پڑا تھا
بدر نے ایک لفظی۔ہمدری کا ماں سے نہیں کہا تھا ۔۔۔
رمشہ جتنی خوبصورت تھی اتنی ہی نخریلی بھی تھی ۔۔۔۔
بدر کو دیکھتے ہی ناگواری سی چہرے پر سجائی تھی ۔۔۔۔ اتنا بیوقوف تو وہ بھی نہیں تھا ۔۔۔ کہ اس کے چہرے کے تاثرات نا دیکھ سکتا ۔۔۔۔ دل میں اب بھی کہی۔ آفرین ہی بستی تھی اور اس پر بیوی کے بگڑتے زاویے نے دل پر بڑی کڑی ضرب سی لگائی تھی ۔۔۔ رونمائی کی انگوٹھی پہنانے کے لئے جب اس نے رمشہ کا ہاتھ تھاما تھا اسکی ہلکی گندمی رنگ میں اپنا سفید مومی ہاتھ رمشہ کو جچا نہیں تھا بڑی بے دردی سے اس نے اپنا ہاتھ اسکے ہاتھ سے کھنچا تھا ۔۔۔
” لائیں انگوٹھی مجھے دیں ۔۔۔ میں خود پہن لوں گی ” ایک ہتھک بھر انداز تھا ۔۔۔۔ بدر نے چپ چاپ سے انگوٹھی اس کے ہاتھ پر رکھ دی ۔۔۔ اور اٹھ کر کھڑا ہو گیا ۔۔۔
” آپ شاید تھک گئیں ہیں ۔۔۔۔ اس لئے آرام فرمائیے ۔۔۔ ” یہ کہہ وہ کمرے سے باہر نکل گیا ۔۔۔۔
” ہنہ کس مصیبت میں ڈال دیا ہے امی نے مجھے ۔۔۔ کیسی گہری رنگت ہے اس شخص کی ۔۔۔۔ اپنے ہاتھ دیکھے اور مجھے دیکھے ۔۔۔۔پتہ نہیں رہو گی کیسے اس کے ساتھ ۔۔۔۔ ” انگوٹھی بڑی بے دلی سے ہاتھ میں پہنی تھی ۔۔۔۔ پھر اٹھ کر اپنے کپڑے تبدیل کرنے کے لئے واڈراب کی جانب بڑھنے لگی تو سامنے شنگھار میز پر لگے قد آدم آئینے پر نظر پڑی ۔۔۔ دلہناپے توپ تو ٹوٹ کر اس پر چڑھا تھا نوفل کی باتیں یاد آنے لگیں
“رمشہ ہر چیز کاوقت ہوتا ہے ۔۔۔۔ جب وقت آئے گا تو رومانس بھی کر لوں گا ۔۔۔ لیکن شادی سے پہلے اس قسم کی باتیں میں نہیں کر سکتا ۔۔۔ شادی سے پہلے یہ سب باتیں بے معنی سی ہوتی ہیں ۔۔۔”
شادی بھی آج ہو گئ تھی دلہن بنی وہ۔ و صورت بھی بہت لگ رہی تھی ۔۔۔۔ منگنی سب کی ستائش بھری نظریں رمشہ اور نوفل پر تھیں ۔۔۔ دونوں ایک ساتھ پرفیکٹ کپل لگ رہے تھے ۔۔۔۔
اگر آج وہ بدر کی جگہ ہوتا تو شاید رمشہ کے لئے یہ دن بہت خاص ہوتا ۔۔۔۔۔ دل میں ایک ہوک سی اٹھی تھی ۔۔۔۔ سامنے اپنا ہی وجود اسے خود پر ہنستا ہوا محسوس ہو رہا تھا ۔۔۔۔
کتنی زعم تھا اسے اپنے حسن پر ۔۔۔ دولت پر محبت ہر سوچا یہی تھا ۔۔۔ جھک کر نوفل اسکے سامنے آ بیٹھے گا اس کی بات مان لے گا ۔۔۔۔ لیکن ہو کیا تھا ۔۔۔۔اس نے اسی تاریخ میں شادی کر لی جو رمشہ کے ساتھ طے تھی اسے یہ باورا کروایا کہ تم ہو نا کو نوفل کو فرق نہیں پڑتا ۔۔۔ پھر بدر کا چہرہ نظر آیا تو دل اور بھی دکھیبس ہو گیا۔۔۔
تو تھی میری قسمت ۔۔۔۔ بدر حسین ۔۔۔ معمولی شکل و صورت کا شخص ۔۔۔ معمولی سی تنخواہ گھر اپنا ہے لیکن محلہ تو پراناسا ہے ۔۔۔ میرے گھر والوں صرف اپنی عزت بچانے کے لئےمجھے دھوکے میں رکھ کر بڑی ذیادتی کی ہے میرے ساتھ اور وہ شخص جسے میرے شوہر ہونے شرف حاصل ہوا ہے اسکی تو چاندی ہو گئ کبھی خواب میں بھی آ نے یہ نہیں سوچا ہو گا کہ مجھ جیسی بیوی اسکے نصیب میں ہو گی ۔۔۔ ” اللہ انسان کو بار بار احساس دلاتا کہ وہ کہاں غلط ہے ۔۔۔ لیکن اسکی آنا اور گھمنڈ کبھی اسے اس بات کااحساس ہی ہونے دیتے ۔۔۔ وہ بس اپنی “میں “میں ہی مگن رہتا یہی حال اس وقت رمشہ کا تھا ۔۔۔۔
باہر دوسرے کمرے میں لیٹا بدر اپنی قسمت پر تب سے ماتم کر رہا تھا جب سے آفرین کو چھوڑا تھا ۔۔۔۔
ماں نے جو تذلیل اس معصوم اور بے قصور کی تھی ۔۔۔ سود سمیت بدر کے حصے آئی تھی ۔۔۔۔
پہلی رات دلہن سے اس قدر بیزاری اور کوفت ۔۔۔۔
جیسے کوئی گندی ناپسندیدہ چیز دیکھ لی ہو ۔۔۔۔۔
ہاتھ یوں پیچھے کیا جیسے میں کوئی بہت ہی بد صورت قسم کا شخص ہوں ۔۔۔۔ کتنی منتیں کیں تھیں آفرین نے میری ۔۔۔۔ ہر خوبی تھی اس میں بس وہ اتنی حسین نہیں تھی چاند جیسی ۔۔۔۔۔ تو میں بھی کوئی وجاہت سے بھرپور تھا عام س کی تو ہوں میرے لئے ایک عام سی لڑکی ہی ٹھیک تھی ۔۔۔۔ کیا تھا کہ امی اسے میرے مانگ لیتیں ۔۔۔ وہ تو پتہ نہیں کس انداز میں میری قدر کرتی ۔۔۔۔ لیکن نہیں چاند جیسی بہو چاہیے تھی میری ماں کو ۔۔۔ آگئ چاند جیسی بہو جس کا روئے زمین پر بسنے والوں سے کوئی تعلق ہی نہیں ہے ۔۔۔۔ آسمانوں پر دماغ ہے ۔۔۔۔ حالانکہ چاند کی طرح وہ بھی کچھ تو داغدار ہے ۔۔۔۔ نا جانے عین شادی سے چند دن پہلے اس کامنگتر انکار کر کے کیوں چلا گیا ۔۔۔۔۔ کچھ بات تو ہوئی ہو گی ۔۔۔۔ ورنہ مجھ جیسے کم شکل و صورت والے مرد کاانتخاب بلاوجہ تو کوئی چاند جیسی نہیں کر سکتی ۔۔۔۔ ” منفی سوچوں کی یلغار تھی دونوں جانب ۔۔۔ دونوں ہی دل کی دنیا میں کسی اور کو بسائے ہوئے ایک دوسرے کے نصیب سے جا ملے تھے ۔۔۔۔
******……..
شزا اب سب کے سامنے عرفان سے بات کرنے لگی تھی ۔۔۔۔
اپنی فرمائش کی چیزیں بھی اس منگواتی تھی ۔۔۔ البتہ چکن کام پورا وہی کرتی تھی ۔۔۔۔
” عرفان مجھے آئسکریم کھانی ہے پلیز کھانا کھا کر مجھے آئسکریم لا کر دیں ” کھانا کھاتے ہی شزا نے عرفان سے کہا ۔۔۔ اماں جی کاتو نوالہ ہاتھ رہ گیا تھا ۔۔۔ فرقان البتہ اپنی ہنسی دبا رہا تھا ۔۔۔ زرنش اور بینش بھی بھابھی کے بدلے تیور پر حیران تھیں لیکن سب سے بری حالت شبو کی تھی ۔۔۔ جو پانی پی رہی تھی شزا کی بات پر بڑی طرح اچھو لگا تھا ۔۔۔۔۔
عرفان تمام گھر والوں کے سامنے شرما شرمی بیوی سے نا ۔۔ ناں کہہ سکتا تھا نا ہاں
“فینٹسٹک آئیڈیا ہے بھابھی آپ کا ۔۔۔ عرفان بھائی ۔۔۔ آئسکریم تو میں بھی کھاؤ۔ گا ۔۔۔ ” صفیان بھی شزا کے ساتھ شامل ہو گیا تھا ویسے ان چیزوں کا شوقین تھا ۔۔۔۔ عرفان نظریں چرا گیا
” کوئی ضرورت نہیں فضول خرچی کی ۔۔۔۔ ویسے بھی زرنش کا رشتہ طے ہو چکا ہے چار ماہ بعد اسکی شادی کرنی ہے فضول کے خرچے بند کرو سب ۔۔۔۔ ڈھیر سارا تو جہیز کا سامان بنانا ہے ” اماں جی نے اپنا بڑا پن دیکھاتے ہوئے کہا ۔۔۔ شبو کا سانس بھی برجستہ بحال ہوا تھا
” اماں جی ایک سو دو سو کی آئسکریم سے زرنش کے ڈھیر سارے جہیز کون سی کمی ذیادتی آ جائے گی ۔۔۔ عرفان اب اٹھیں بھی ۔۔۔ دو سو کی روپے آئسکریم سے کوئی فرق نہیں پڑے گا ۔۔۔۔ ” شزا نے اماں جی بات کو ہو میں اڑایا تھا
” ہاں بھابھی ٹھیک کہہ رہی ہیں آپ ۔۔۔ بھلا دو سو روپے کی آئسکریم کے بدلے میں زرنش کے جہیز کا آنا کیا تھا ۔۔۔۔ ” فرقان نے بھی بھابھی کی ہاں میں ہاں ملائی تھی ۔۔۔
” اچھا ٹھیک میں ایک لیٹر کا پیک لے آتا ہوں سب مل کر کھا لیجیے گا ۔۔۔ ” عرفان نے بات سنبھالی تھی ۔۔۔۔
” عرفان قلفہ فلیور لائیے گا ۔۔۔ ” شزا نے اگلی فرمائش کی تھی
” ارے نہیں ۔۔۔۔ عرفان ایسا کرو پستہ فلیور لے آنا شبو اور میں وہی شوق سے کھاتے ہیں ” اماں جی سے کہاں برداشت تھا کہ بہو اپنی پسند کا کچھ منگوا لے
” نہیں بھائی قلفہ ذیادہ مزے کا ہے ۔۔میں تو وہی کھاؤں گا ” فرقان نے برجستہ کہا
” اور میں بھی ” صفیان بھی بول پڑا
” ہاں بھائی ویسے قلفہ فلیور ذیادہ مزے کا ہے ” بینش بھی بول پڑی
” ہو گیا فیصلہ ذیادہ ووٹ قلفے کے ہیں ۔۔۔۔ اس لئے عرفان بھائی آپ قلفہ ہی لائیے گا ” صفیان نے ووٹنگ بھی کر لی تھی ۔۔۔۔ آئسکریم سب نے مزے لیکر کر کھائی تھی سوائے اماں جی اور شبو کے ۔۔۔ دونو جی جلائے بیٹھیں تھیں ۔۔۔۔
اپنے شاطر دماغ میں پھر سے ایک ایسی ترکیب
لڑا رہیں تھیں جس سے شزا کو تکلیف پہنچاسکیں
******……
عفیرہ کے رویے میں بدلاؤ نہیں آیا تھا ۔۔۔۔ نوفل بھی اپنے کام سے کام رکھنے لگا تھا ۔۔۔۔ وصی کے گھر نوفل کی دعوت تھی پوری فیملی مدعو تھی ۔۔۔۔ زونیرہ کی مائرہ سے ہی ذیادہ دوستی تھی اس لئے وہ دونوں باتوں میں مصروف تھیں مائرہ کئ بار چاہا کہ عفیرہ بھی انکی باتوں میں شامل ہو جائے لیکن وہ ذرابھی اپنایت دیکھانے کو تیار ہی نہیں تھی ۔۔۔۔ عفیرہ بیگم کے تو مزاج ہی کسی سے نہیں ملتے تھے گرمیوں کا موسم تھا اس لئے سب خواتین زونیرہ کے کمرے میں اے سی چلائے بیٹھیں تھی۔ زونیرہ جب کھانا لگانے کمرے سے باہر جانے لگی تو مائرہ بھی اس کے ساتھ باہر نکل گئ ۔۔۔ عفیرہ اور عائزہ منزہ ہی کمرے میں بیٹھیں تھیں ۔۔۔سامنے ڈدسنگ پر سجے میک اور قیمتی پرفیوم دیکھ کر عفیرہ کے ہاتھوں میں خارش ہوئی تھی ۔۔۔ چیزیں چرانے کی عادت نے سر اٹھایا تھا ۔۔۔۔ پھر میک اپ اسکی کمزوری تھی ۔۔۔ کمرے میں کوئی نہیں تھا ۔۔۔ اس لئے عفیرہ ڈرسنگ کے پاس آ کر کھڑی ہو گئ ۔۔۔۔
سامنے لپ سٹک کے بہت سے شیڈ رکھے تھے پرفیوم بھی سب برینڈ کے تھے ۔۔۔ یہ نہیں کہ عفیرہ کے پاس میک اپ اور پرفیومز کی کمی تھی ۔۔۔ لیکن بس ایک عادت تھی ۔۔۔۔ کچھ لپ اسٹک کے نیو شیڈ دیکھ کر اسکی آنکھیں چمکیں تھیں ۔۔۔۔ اس لئے جلدی سے اس نے اپنے پرس میں دو تین لپ اسٹک رکھ لیں ۔۔۔۔ اور ایک پرفیوم بھی ۔۔۔۔ اسے لگا کسی نے اسے نہیں دیکھا ۔۔۔۔ عائزہ چھوٹی تھی لیکن دماغ اس نے تیز پایا تھا ۔۔۔ پھر نوفل کے ساتھ وہ ذیادہ اٹیچ تھی ۔۔۔۔ اسی کو فالو کرتی تھی ۔۔۔۔ اور ہر بات۔ اسی سے شیر بھی کرتی تھی ۔۔۔۔۔ آج تک اس نے ایسا کام کرتے کسی کو نہیں دیکھا تھا ۔۔۔۔ جوعفیرہ کر رہی تھی
حالانکہ بہت سے بچے دوسروں کے گھروں میں مہمان ہوتے ہوئے بھی ڈرسنگ پر رکھیں چیزوں اور دراز میں رکھیں چیزوں کی شامت لے آتے ہیں مائیں بچوں کو سنبھالتی ہی رہ جاتیں ہیں ۔۔۔۔ لیکن عائزہ منزہ میں یہ عادت نہیں تھی ۔۔۔ جہاں مائرہ بیٹھاتی تھی مجال ہے وہاں سے ہل بھی جائیں ۔۔۔۔ مائرہ کےآنکھ کے اشارے کو وہ اس چھوٹی سی عمر میں بھی خوب سمجھتیں۔ تھیں ۔۔۔ پھر وہ سمجھاتی بھی رہتی تھی کہ کسی کے گھر جا کسی چیز کو بھی ہاتھ نہیں لگانا یااسکول میں گری ہوئی چیز بھی اٹھا کر اپنی جیب میں نہیں رکھنی
اس لئے یوں زونیرہ کی چیزیں عفیرہ کو پرس میں۔ ڈالتے دیکھ کر عائزہ کو لگا کہ کچھ غلط ہوا ہے ۔۔۔۔
منزہ اپنے ساتھ لائی باربی ڈول سے ہی کھیل رہی تھی ۔۔۔ لیکن عائزہ کی نظر چچی پر تھی ۔۔۔۔ اور جس طرح عفیرہ عائزہ بات بات پر گھورتی تھی اسے عفیرہ پسند بھی نہیں تھی ۔۔۔
