Log Kia Kahe Gy by Umme Hani NovelR50418 Log Kia Kahe Gy Episode 47
Rate this Novel
Log Kia Kahe Gy Episode 47
Log Kya Kahe Gy by Umme Hani
باقی کے دن تیزی سے گزر گئے تھے ۔۔۔۔ شزا کی شادی کا دن بھی آن پہنچا تھا شادی کیس تھی بس چند لوگوں کی موجودگی میں نکاح تھا۔۔۔۔۔۔
زیان اپنے کمرے میں ہی بند تھا ۔۔۔۔ باقی سب اعجاز صاحب کے گھر چکے تھے ۔۔۔۔ زیان کی والدہ بھی خوش تھیں ۔۔۔۔ احمر کا دل اس رشتے سے خوش نہیں تھا کیونکہ جہاں شزا کا رشتہ طے ہوا تھا وہ عمر میں اعجاز صاحب کا ہم عمر تھا ۔۔۔ جوان اولاد تھی اس شخص کی انکی شادی کر چکا تھا ۔۔۔ بیوی حیات نہیں تھی اس لئے شادی کا خواہشمند تھا ۔۔۔ کیوں نکہ اسے ایسی عورت درکار تھی جس سے اولاد نا ہو سکے ۔۔۔۔
دل تو اعجاز صاحب کا بھی اندر سے ٹوٹا ہوا تھا اور عذرہ بیگم بھئ مغموم تھیں لیکن شزا اس رشتے کے حق میں فیصلہ سنا چکی تھی ۔۔۔۔ کافی دن سے شزا رو رہی تھی ۔۔۔۔
نا محبت بس میں تھی نا اپنا نصیب ۔۔۔۔ اتنی بھی سنگ دل نہیں تھی کہ زیان کو عمر بھر کی سزا سناتی ۔۔۔ دل کی بھڑاس تو اس سے نکال ہی چکی تھی ۔۔۔ لیکن زیان کی والدہ کی بات اسے ٹھیک ہی لگی تھی ۔۔۔۔ وہ کیوں زیان کی زندگی سے اس کی خوشیوں کو چھنتی ۔۔۔ شادی کے بعد ہر انسان کی پہلی خواہش اولاد کی ہی ہوتی ہے ۔۔۔۔ اور زیان کے کون سے اور بہن بھائی تھے جو اسکی والدہ صبر کر جاتیں اس لئے اس بار پھر شزا ہی قربانی دینے کے لئے تیار تھی ۔۔۔ جانتی تھی اگر وہ اس گھر میں رہی تو زیان کسی دوسری لڑکی سے شادی نہیں کرے گا ۔۔۔ ہاں اگر وہ رخصت ہو کر چکی جائے تو ضرور وہ کسی اور لڑکی کے لئے سوچے گا ۔۔۔۔ زیان کی محبت نے اب تک اس سے قربانیاں ہی مانگیں تھیں ۔۔۔ اور عجیب بات تھی کہ وہ انکار ایک بار بھی نہیں کر پائی تھی ۔۔۔۔ اب بھی دلہن بنی بیٹھی تھی ایک نئ آزمائش کے لئے ۔۔۔
احمر کا دل بہن کے بیوقوفانہ فیصلے پر کٹ کے رہ گیا تھا ۔۔۔ شزا سے بھی بات کر چکا تھا لیکن۔ وہ اپنی فیصلے پر قائم تھی ۔۔۔۔ اس لئے اب زیان کے پاس آیا تھا ۔۔۔۔ دروازے کی دستک پر زیان جو لگا کہ اسکی والدہ بلانے آئیں ہیں
” امی میں نہیں جاؤں گا تایا ابو کے گھر ۔۔۔۔ بار بار مجھے پریشان مت کریں ۔۔۔۔ میرے ارمانوں کی اصل قاتل آپ ہیں ۔۔۔۔ جائیں جا کر جشن منائیں ” وہ چڑ کر بولا تھا لیکن دروازہ پھر کھٹکا تھا بلکہ بتدریج دست جاری تھی مجبورا ہی زیان کو دروازہ کھولنا پڑا سامنے احمر کھڑا تھا ۔۔۔ زیان کا بکھیرا سا حلیہ دیکھ رہا تھا ۔۔۔ زیان نظریں چرا گیا ۔۔۔
” میں سمجھا امی ہیں ” ۔
“شزا سے محبت کرتے ہو ؟ احمر کے بلا تامل پوچھے گئے سوال پر زیان کے چہرے پر کچھ حیرت سی ابھری تھی ۔۔۔ ایسے کسی سوال کی توقع وہ فاروق اور احمر سے نہیں کر سکتا تھا اور وہ اس وقت شزا کے نکاح کے موقع پر لیکن اگر احمر نے پوچھ ہی لیا تھا تو زیان نے بھی جھوٹ نہیں کہا تھا
” ہاں بہت محبت کرنے لگا ہوں ” ۔
” کیا کر سکتے ہو اس کے لئے ؟” احمر کا ہر سوال اسے حیرت میں ڈال رہا تھا
” تم بتاؤں کیا کرو ۔۔۔۔ تایا ابو سے اپنے منہ سے رشتہ مانگا ہے ۔۔۔ امی بھی ساتھ دینے کے بجائے ضد کیے بیٹھیں ہیں اس کے باوجود میں نے ۔۔۔۔۔۔شزا کی منتیں کیں ہیں اپنے کوتاہی کی معافی بھی مانگ چکا ہوں اس سے ۔۔۔ اور اب بھی بہت کچھ کر دیتا لیکن تم دونوں میرا گریبان پکڑ لو گئے
کہ میں نے تمہاری بہن کا بستا ہوا گھر اجاڑ دیا ۔۔۔ لیکن مجھے بتاؤں احمر کیا ایسے بستے ہیں گھر ؟۔۔۔۔۔ وہ خوش نہیں ہے احمر ایک اور سمجھوتا کرنے جا رہی ہے ۔۔۔۔ ” زیان کی آنکھوں میں۔ آنسوں کی سطح بلند ہوئی تھی آبدیدہ آنکھوں سے احمر کا چہرہ بھی دھندلایا ہوا نظر آ رہا تھا
” میں تمہیں اجازت دیتا ہوں زیان ۔۔۔۔ جاؤں اور نکاح روک دو شزا کا ۔۔۔۔۔ اپنی محبت کو ثابت کر دو ۔۔۔ میں تمہارے ساتھ ہوں ۔۔۔۔ ” احمر کا جواب غیر متوقع تھا ۔۔۔۔ زیان چند ثانیے تو حیرت سے کنگ سا رہ گیا تھا ۔۔۔۔
” جتنا خوش تم اسے رکھ سکتے ہو ۔۔۔ کوئی نہیں رکھ سکتا ۔۔۔۔ جاؤں ۔۔۔۔ تمہیں ایک موقع دیتا ہوں ۔۔ شزا کے لئے جو کر سکتے ہو وہ کر گزرو ” زیان نے آنسوں صاف کیے تھے پھر مشکور نظروں سے احمر کو دیکھ کر اسکے گلے لگ گیا ۔۔۔۔ اس نے بھی اسے اپنے ساتھ لگا لیا تھا
پھر اس کا ہاتھ پکڑے اسے صحن میں لے آیا ۔۔۔۔ جہاں بارات آ چکی تھی ۔۔۔۔ باپ کی عمر کے برابر شخص کو دلہا بنا دیکھ کر زیان کی رگوں خون کے بجائے آگ سی دوڑنے لگی تھی ۔۔۔۔۔
کیا تھی یہ لڑکی ۔۔۔۔ اپنی زندگی کو ہر بار دوسروں کی خوشیوں اور خواہشات کی نظر کرنے سے پہلے بلکل نہیں سوچتی تھی ۔۔۔۔ کاش کے اپنے معاملے تھوڑی سی خود غرض ہو جاتی ۔۔۔۔ اس وقت بھی جب میں نے انکار کرنے کے لئے کیا تھا
کہہ دیتی کہ زیان ۔۔۔ میرے ساتھ زیادتی کرنے والے تم ہوتے کون ہو ۔۔۔۔۔ مجھے کیوں بچپن سے اپنے نام سے باندھے رکھا ۔۔۔۔ اور اگر رشتہ جوڑا ہے تو ۔۔۔ اب ہر صورت نبھاؤ ۔۔۔۔ لیکن نہیں اس وقت بھی کہہ دیا کہ آپ انکار کر دیں ۔۔۔ میں بھی منع کر دوں گی ۔۔۔۔
اور آج بھی امی کے کہنے پر اس شخص سے شادی کر رہی ہے تا کہ میں اس کے علاؤہ کسی اور سے شادی کر لوں ۔۔۔ بے اولاد نا رہو ۔۔۔ ہر بار صرف میرے لئے قربانی دینے کا مطلب میں کیاسمجھوں
کہ تم مجھ سے محبت نہیں کرتی؟ ۔۔۔۔ محبت اور کیا ہوتی شزا ۔۔۔۔ لیکن آج میری باری ہے ۔۔۔۔ آج تمہاری نہیں سنو گا ۔۔۔۔ ” خود سے ایک مصمم ارادہ کر کے وہ آگے بڑھ کر اپنے تایا ابو کے سامنے کھڑا ہو گیا ۔۔۔ نکاح بس شروع ہی ہونے والا تھا
” زیان تم ۔۔۔ آوں آؤں بیٹا بیٹھو “
” بیٹھنے نہیں آیا ہوں میں ۔۔۔۔ بس یہ بتادیں ۔۔۔۔۔ شزا میں ایسا کیاعیب ہے جو آپ اس بڈھے کے حوالے کر رہے ہیں اسے ” زیان نے پہلی بار لحاظ کو برطرف رکھ بات کی تھی ۔۔۔ وہ شخص اور اس کے ساتھ آئے چند مرد حضرات اور خواتین سن کر ہی اشتعال میں آ کر کھڑے ہو گئے ۔۔۔۔
” کون ہے یہ اعجاز صاحب اتنا بدتمیز شخص ۔۔۔ ” وہ شخص غصے سے بھبک کر بولا زیان اس کے سامنے جس کر کھڑا ہو گیا
” ایک مطلقہ کو سہارا دینے کااگر اتنا ہی جذبہ دل میں ابھر رہا تھا اپنی عمر کی خاتون کو سہارا کیوں نہیں دیتے ۔۔۔۔ اپنی بیٹی کی عمر کی ہی لڑکیاں ہی کیوں پسند کی جاتی ہیں ۔۔۔ ” زیان کی بات سن کر وہ تڑخ کر بولا
” دیکھوں زبان سنبھال کر بات کرو ہم یہاں سب کی باہمی رضا مندی سے آئے ہیں ۔۔۔۔ پھر جب لڑکی کے والدین کو اعتراض نہیں تو تم کون ہوتے ہو “
” میں بحث نہیں کرنا چاہتا ۔۔۔ ابھی کے ابھی نکلیں یہاں سے کوئی نکاح نہیں ہو گا یہاں “
” زیان یہ کیا بدتمیزی ہے ” زیان کے والد زیان کے پاس آ کر غصے سے اسے گھورنے لگے ۔۔۔ اعجاز صاحب بھی اشتعال میں آ گئے اس کی والدہ بھی زیان کے پاس پہنچ گئیں اعجاز صاحب اس شخص کو بیٹھنے کا کہنے لگے فاروق زیان کو غصے سے پھنکار کر بولا کے وہ وہاں سے چلا جائے ہماری بے عزتی کااسے کسی نے حق نہیں دیا ایک احمر وہاں چپ تھا ۔۔۔۔
” فاروق بھائی آج میں چپ نہیں رہو گا ۔۔۔
میں پوچھتا ہوں مجھ میں ایسا کیا عیب نظر آیا ہے آپ کو ۔۔۔ جوآپ مجھ پر اس شخص کوترجعی دے رہے ہیں ۔۔۔ شزا نے ایک بار میرے لئے انکار کر دیا ۔۔۔ توآپ نے دوبارہ اسے سمجھانے کی بھی کوشش نہیں کی۔۔ وجہ جاننے کی کوشش نہیں کی کہ وہ انکار کر کیوں رہی ہے ۔۔۔۔ کیسے بھائی ہیں آپ ۔۔۔۔ ؟
” اب ان باتوں کا وقت نہیں ہے زیان ۔۔۔۔ جاؤ یہاں سے ” فاروق اسے غصے سے دیکھ رہا تھا
” زیان تم اندر جاؤں ۔۔۔۔ پاگل ہو گئے ہو کیا ۔۔۔ ” زیان کی والدہ اسے بازو سے پکڑ کر وہاں سے لے جانے لگیں
” چھوڑیں امی مجھے ۔۔۔۔ کیسی ماں ہیں آپ ۔۔۔ ساری زندگی شزا کو بیٹی سمجھ کر پیار کرتی رہیں ۔۔۔۔ اور جب سچ میں ماں بننے کا وقت آیاتو چچی بن کے دیکھا دیا ۔۔۔۔ میں پوچھتا ہوں ۔۔۔ کہ میں اس سے شادی کیوں نہیں کر سکتا ۔۔۔۔ صرف اس لئے کہ وہ مطلقہ ہے اور میں کنوارا ہوں لوگ باتیں بنائیں۔ گئے ۔۔۔ مجھ سے میرے عیب پوچھنے کی کوشش کریں گئے ۔۔۔ کہ میں نے کس وجہ ایک مطلقہ سے شادی کرنے کا کڑوا گھونٹ پیا ہے ۔۔۔۔ “
” زیان تم کیسی باتیں کر رہے ہو ‘” زیان کی والدہ متذبذب سی ہوئی تھیں
” مجھے صرف ایک بات کا جواب دیدیں امی ماشاءاللہ سے۔ہم سب مسلمان ہیں آپ صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم کے امتی ہونے کے دعویدار ہیں ۔۔۔۔ ایک مشت داڑھی رکھنا سنت ہے ۔۔۔ ٹخنوں سے اونچی شلوار رکھنا،سنت ہے ۔۔۔۔۔۔
اور ایک مطلقہ یابیوہ سے نکاح کرنا کیا ہے ۔۔؟
ہم اگر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی حیات طیبہ کا مطالعہ کریں تو آپ صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم نے پہلی شادی حضرت خدیجہ الکبریٰ سے اسوقت کی تھی جب انکی عمر مبارک پچیس برس تھی اور حضرت خدیجہ الکبریٰ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی عمر چالیس برس ۔۔۔۔
((
(((سیدہ خدیجہ ام المومنین کے بارے میں بیان کیا جاتا ہے کہ رسول اللہ ﷺسے نکاح ہوا تو ان کی عمر چالیس سال تھی۔ یہ ایک تاریخی روایت تھی جس کا حقیقت پر مبنی ہونا کوئی ضروری نہ تھا لیکن اس کا پراپگینڈا اس حد تک کیا گیا کہ اس نے مذہبی حیثیت اختیار کر لی۔ حتیٰ کہ یہ ثابت کرنے کی کوشش کی گئی کہ رسول اللہ نے اپنا شباب ایک بوڑھی عورت کے ساتھ گزار دیا۔ صاحبزادیاں ،سیدہ زینب ، رقیہ ، ام کلثوم اور فاطمہ اور تین صاحبزادے جن کا نام قاسم ، طیب اور طاہر پیدا ہوئے اور بقول بعض کے چار صاحبزادے پیدا ہوئے جن میں سے ایک صاحبزادے کا نام عبداللہ تھا۔ اور بعض حضرات کا قول ہے کہ عبداللہ ہی کو طیب اور طاہر کہا جاتا ہے۔ سیدہ خدیجہ کے دو نکاح پہلے ہو چکے تھے۔ ایک ابو ہالہ ہند بن بناش بن زرارہ تمیمی سے ہوا ان سے ایک لڑکا اور ایک لڑکی پیدا ہوئے لڑکے کا نام ہند اور لڑکی کا نام ہالہ تھا۔ ابو ہالہ کے انتقال کے بعد عتیق بن عائد مخزومی کے عقد نکاح میں آئیں۔ اس سے ایک لڑکی پیدا ہوئی اس کا نام بھی ہند تھا۔ اسی باعث سیدہ خدیجہ ام المومنین کی کنیت ام ہند تھی۔ )))))
یہ ہمارے نبی پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی حیات طیبہ تھی ۔۔۔
انہوں نے اپنی زندگی کے۔ لئے بہترین خاتون کاانتخاب کرتے وقت ۔۔۔نا انکی عمر کا چھوٹا ہونا لازمی سمجھا گیا تھا نا ہی کنورہ ہونا لازمی تھا
آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تمام ازواج مطہرات میں سے صرف حضرت عائشہ صدیقہ کنوری تھیں ۔۔۔۔ باقی سب ازواج مطہرات مطلقہ تھیں یا پھر بیوہ ۔۔۔۔ اگر ہم اپنی۔نبی پاک کی زندگی کو سامنے رکھیں تو ۔۔۔ بیوہ اور مطلقہ خواتین اگر اچھوت ہوتیں تو آپ صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم انکا سہارا کیونکر بنتے ۔۔۔۔۔
ہم صرف اپنی آسانی کی سنتوں کو ہی کیوں دیکھتے اور اپناتے ہیں ۔۔۔۔
آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی حیات طیبہ ہمارے لئے مشعل راہ ہے ۔۔۔۔۔ لیکن ہمارا معاشرہ ایسے شخص کا جینا دوبھر کر دیتا ہے جو کنورہ ہوتے ہوئے کسی بیوہ یا مطلقہ سے شادی کر لے ۔۔ سوسوسوال اس سے پوچھے جاتے ہیں ۔۔۔
میں پوچھتا ہوں ایک شادی شدہ بال بچے دار مرد اگر کسی کنوری لڑکی سے شادی کر لے تو
اسے کوئی کیوں نہیں پوچھتا کہ تم نے طلاق یافتہ ہوتے ہوئے تم نے کنواری لڑکی سے شادی کیوں کی ۔۔۔۔ بلکہ اکثریت ہمارے معاشرے کی یہی ہے کہ طلاق یافتہ یا رنڈوا مرد بھی اپنے لئے کم عمر اور کنوری لڑکی ہی ڈھونڈتا ہے ۔۔۔ پہلی ترجعی
اسی بات کو دی جاتی ہے ۔۔۔۔کہ لڑکی کنوری یو
تو پھر ایسی خواتین کے لئے ۔۔۔ عمر رسیدہ مرد ہی کیوں اپنی خدمات پیش کرتے ہیں ۔۔۔ ہم جیسے کنوارے نوجوان کیوں نہیں ۔۔۔۔ ‘”
مجمع خاموش سامعی بن گیا تھا۔۔۔ وہ شخص اعجاز صاحب کو غصیلی نظروں سے دیکھنے لگا
” ہمہیں آپ نے بے عزت کرنے کے لئے یہاں بلایا تھا چلو بھئ یہاں سے ۔۔۔۔۔ آخر ہماری بھی کوئی عزت ہے ” سب لوگ جو بارات کے ساتھ آئے تھے وہ جس چکے تھے ۔۔۔
” کیا ملا ت۔ہیں یہ سب تماشہ لگا کر ۔۔۔ جب خزاں کی اپنی ہی مرضی نہیں تھی ” زیان کی والدہ نے چنگھارتے ہوئے زیان سے پوچھا
” آپ کی وجہ سے انکار کیا ہے اس نے ۔۔۔ ؟ میں آپکی باتیں سن چکا تھا امی ۔۔۔ ایسی کیاقسمیں اور اور وعدے لئے تھے آپ نے شزا سے ۔۔۔۔ کووہ اس بڈھے کے ساتھ شادی کے لئے مجبور ہو گئ ۔۔۔ ” زیان کے والداور باقی گھر والے بھی اس نئے انکشاف پر متحیر ہوئے تھے ۔۔۔
زیان کی والدہ پہلو بدلنے لگیں ۔۔۔
” تم نے کچھ کہاشزا سے ” زیان کے والد بھی ان سے باز پرس کرنے لگے ۔۔۔ وہ بات کرنے سے کترا رہیں تھیں ۔۔۔
” میں ۔۔۔۔ کیا کرتی زیان کے ابا ۔۔۔ لوگوں نے توجھ سے ہی سوسو سوال کرنے تھے ۔۔۔ ” زیان کے والد تواپے سے باہر ہوئے تھے
” میں سوچ بھی نہیں سکتا تھا بیگم کہ تم میری بچی کواس طرح سے پابند کرو گی ۔۔۔۔ “
” امی میری بات کان کھول کر سن لیں اگر آپ نے میری شزا سے شادی نہیں ہونے دی تو ۔۔میں دبی واپس چلا جاؤں اور پھر لوٹ کر کبھی واپس نہیں آؤں گا ” زیان کی دھمکی پر اسکی والدہ کا دل دہلا تھا
” تایا ابو میں ابھی اسی وقت شزاسے نکاح کرنا چاہتا ہوں ” عابدہ بیگم نے شکوہ کناں نظروں سے دیوارنی کو دیکھا تھا ۔۔۔
” شزا تو جیسے مان جائے گی نا ۔۔۔۔ ؟ اسے یہ بھی خبر نہیں باہر کیا تماشہ لگ چکا ہے “
” بھابھی آپ پریشان نا ہو سارا کیا دھرا اس عورت کا ہے ۔۔۔ اس لئے یہی اسے رضا مند کرے گی ۔۔۔ جاؤں اور جا کر شزا اپنے وعدوں سے آذاد کرو ۔۔۔ مناؤں اسے کہ وہ یہ نکاح اپنی دلی آمدگی سے کرے ۔۔۔۔ ” زیان کے والد نے سخت لہجے سے کہا تھا ۔۔۔ وہ شزا کے پاس اندر کمرے ۔میں چلیں گئیں
شزا باہر کے ہنگامے سے بے خبر تھی ۔۔۔ نکاح کے لئے ہلکا فینسی سا جوڑا ہی زیب تن کیا تھا ۔۔۔ نازک سا جیولری سیٹ پہنا تھا میک اپ بھی برائے نام ہی کیا تھا ۔۔۔۔
شادی دل کی خواہش ہو نہیں کسی کی بات کا مان رکھنے کے لئے کرنے جا رہی تھی ۔۔۔۔ اگر دل کی آرزو ہو تو عمروں کا فرق بے معنی سا رہ جاتا ہے ۔۔۔
اسے لگا تھا شاید اسکے والد مولوی صاحب کے ہمراہ نکاح کے فریضے کے لئے تشریف لائے ہیں اس لئے ڈوپٹے کو ذراسا کھسکا کر گھوگھٹ نکال کر بیٹھ گئ تھی بڑا مشکل سا مرحلہ نہیں چاہتی تھی کہ آنکھوں میں آنے والی نمی کو دیکھے۔۔۔۔
لیکن سامنے چچی کو روتے دیکھ کر پریشان ہوئی تھی
” چچی آپ کو کیا ہوا ہے ” انہیں روتے دیکھ کر بھی شزا کو لگا شاید اسکی رخصتی کے غم میں رو رہیں ہیں ۔۔۔ ۔وہ اس کے پاس آکر روتے ہوئے بولیں
” شزا خدا کے لئے زیان سے نکاح کر لو ” شزا کا دماغ چکرا کر رہ گیا تھا پل پل بدلتی باتیں سن کر
” چچی میری بارات باہر آ چکی ہے ۔۔۔ کچھ دیر میں نکاح ہونے والا اور آپ ۔۔۔۔۔ ” شزا متعجب تھی
” واپسی چلی گئی ہے تمہاری بارات زیان نے واپس بھیج دیاہے انہیں ۔۔۔۔ ہماری باتیں سن لیں تھی زیان نے ۔۔۔ سب مجھے قصور وار سمجھ رہے ہیں کہہ رہے ہیں میں نے تمہیں ایسے رشتے کے لئے مجبور کیا ہے تا کہ میرا بیٹا تم سے شادی نا کر لے ۔۔۔ بیٹا میں نے تو بس یہی چاہا تھا کہ ” اتنی بات کر کے ہی وہ پھوٹ پھوٹ کے رونے لگیں
“شزا خدا نا خواستہ تمہارا برا نہیں چاہ رہی تھی بس ماں ہوں تو اپنے بیٹے کے لئے کچھ خود غرض ہو کر سوچنے لگی تھی ” شزا نے انہیں اپنے ساتھ لگا لیا
” میں جانتی ہوں چچی ۔۔۔ میں نے آپ کوط سمجھا بھی نہیں کے آپ کی جگہ امی بھی ہوتی تو وہی سوچتی جو آپ نے سوچا۔۔۔۔۔ زیان کو آپکی ممتا پر شک نہیں کرنا چاہیے تھا ۔۔۔ کیوں کیا اس نے ایسا ۔۔۔ انکار میں نے کیا تھا ۔۔ میں اس بات کی ا حق رکھتی تھی ۔۔۔ دوسری جگہ شادی کے لئے بھی میں نے اپنی رضامندی دی تھی ۔۔۔ پھر کیا ضرورت تھی اسے یوں تماشہ لگانے کی ۔۔۔ اور اب بھی آپ کو مجبور کر کے بھیج رہا کہ میں اس کے لئے رضامندی دے دوں ۔۔۔ شرم نہیں آئی اسے ۔۔۔ ” شزا کو زیان ہر غصہ آنے لگا تھا ۔۔۔ اندازہ نہیں تھا کہ یوں بھی تماشہ لگا کے رکھ دے گا
” جا کر کہہ دیں اس سے کے میں اس سے اب بھی نکاح نہیں کروں گی ۔۔۔۔ کیا کر لے گا ۔۔۔ زبردستی تو نہیں کر سکتا میرے ساتھ ” شزا نے تلخ لہجے سے کہا تھا
” یوں مت کہو بھابھی اعجاز بھائی اور تمہارے چچا سب مجھے ہی قصور وار کہیں گئے ۔۔۔ تم نکاح کر لو اس سے ورنہ واپس چلا جائے گا دبی دوبارہ لوث کر بھی نہیں آئے گا ۔۔۔۔ شزا میں زیان کے بغیر نہیں رہ پاؤں گی ۔۔۔ خدارا انکار مت کرنا ” زیان کی والدہ روتے ہوئے اس سے التجا کرنے لگیں ۔۔۔ پھر اس کے سامنے ہاتھ جوڑنے لگیں
” انکار مت کرو ۔۔۔ شزا ” شزا نے انکے جڑے ہوئے ہاتھ تھام لئے
” آپ کیوں مجھے گناہگار کر رہیں ہیں چچی ۔۔۔۔ “
” بس تم انکار مت کرو ” شزا انکے سامنے بے بس ہوئی تھی
” ٹھیک ہے ۔۔۔ لیکن میں رخصتی ابھی نہیں چاہتی ۔۔۔۔ ” شزا کا اقرار ہی زیان کی والدہ کو پر سکون کر گیا تھا ۔۔۔۔
” جیتی رہو آباد رہو ۔۔۔ ” اسے اپنے ساتھ لگا کر وہ اسکی مشکور ہوتے ہوئے باہر چلیں گئیں شزا کی رضا مندی کے ساتھ اسکی شرط بھی بتا دی زیان نے شزا کی شرط پر ہامی نہیں بھری تھی ۔۔۔ بس مولوی صاحب کے پاس بیٹھ گیا تھا ۔۔۔ نکاح کے بعد ہی جو چند مہمان وہاں موجود تھے جا چکے تھے ۔۔۔۔ فاروق نے صرف زیان سے ہاتھ ہی ملایاتھا لیکن احمر نے اسکے گلے لگ کر اسے مبارک باد دی تھی ۔۔۔
اعجاز صاٹ بھی اندر سے خوش اور مطمئن تھے ۔۔۔ زیان تو انہیں ہمیشہ سے ہی پسند تھا ۔۔۔
” تائی امی شزا سے کہیں کہ میں اس کا باہر انتظار کر رہا ہوں ۔۔۔ اپنی بیوی کو لئے بغیر یہاں سے نہیں جاؤں گا ۔۔۔ ” زیان کی بات پر عذرہ بیگم متذبذب سی ہوئی تھیں
” مگر زیان ۔۔ شزا نے تو ۔۔۔ “
” جب نکاح ہو چکا ہے امی تو رخصتی میں کیا قباحت ہے ۔۔۔ میں لاتا ہوا شزا کو باہر ۔۔۔ ۔۔۔ ” احمر نے اپنی والدہ کی بات بیچ میں سے ہی اچک لی تھی ۔۔۔۔اور شزا کے کمرے کی جانب بڑھ گیا تھا ۔۔۔
******……
جب تک بدر کی والدہ رمشہ کے لئے کھانے کاسامان لیکر آئی۔ تھیں آس پاس کے فلیٹ کے کے نوجوان لڑکے انکا مین دروازے کو دھکے سے کھولنے کی کوشش کر رہے تھے اندر سے رمشہ کی چلانے کی آوازیں آ رہی۔ تھیں ۔۔۔ کالے دھوائیں اور آگ کی لپٹیں کھڑکی سے باہر سے نظر آ رہیں تھیں ۔۔۔ بدر کی والدہ کی تو جان ہی نکل گئ تھی ۔۔۔
” ارے آگ کیسے لگ گئ میری بہو کیوں چیخ رہی ہے ۔۔۔ ” وہ بوکھلا کر رہ گئیں تھیں ۔۔۔
” اندر آگ لگ گئ ہے ۔۔۔ دعا کریں آپ کی بہو بچ گئ ہو جیسی چیخوں پکار ہے ۔۔۔ لگتا ہے آگ کی لپیٹ میں آ چکی ہے ۔۔۔۔ ” ایک خاتون نے رمشہ کی بے تحاشہ چیخنے اور تڑپنے سے اندازہ لگایا ۔۔۔ بدر کی والدہ تو دل پکڑ کر رہ گئیں ۔۔۔۔ دروازہ کھول گیا تھا ۔۔۔ رمشہ کے لباس آگ کی لپیٹ میں تھا کچن کی کھڑکی کے پاس لگے پردے کو بھی آگ لگ چکی تھی ۔۔۔ نوجوانوں نے لاونج میں صوفوں ہر بچھی چادر کو اٹھا کر رمشہ کے اوپر ڈال کر آگ بجھائی تھی ۔۔۔ بدر کو یہ خبر آفس میں ملی تھی بھاگتے ہوئے وہ سیدھا ہاسپٹل پہنچا تھا فلیٹ کے دو نوجوان لڑکوں کے ہمراہ بدر کی والدہ رمشہ کو ہاسپٹل لے گئ تھی ۔۔۔۔
چہرہ بازر گردن بری طرح سے جل گیا تھا آدھا چہرہ جھلس چکا تھا ۔۔۔ بے ہوشی میں بھی وہ چلا رہی تھی ۔۔۔۔ تڑپ رہی تھی ۔۔۔۔ بدر کی والدہ روئے جارہی۔ تھیں ۔۔ وہ رمشہ کے پاس جا کر کھڑا ہو گیا ۔۔۔ پہلے ڈاکٹر سے اسکے بارے میں دریافت کیا ۔۔۔۔
” ابھی تو انکی کنڈشن بہت بری ہے ۔۔۔۔ ہم کچھ نہیں کہہ سکتے ۔۔۔۔ ” ڈاکٹر نا جانے کون کون سے انجکشن اور دوائیں اسے دے رہے تھے ۔۔۔۔ وہ برابر میں کھڑی اپنی والدہ سے پوچھنے لگا
” امی یہ سب کیسے ہو گیا ۔۔۔ “
” میں نہیں جانتی بدر ۔۔ مجھ سے رمشہ نے کہا کہ تھا گیس نہیں آرہا مجھے بازار سے کچھ کھانے کو کا دیں میں بیکری سے اس کے لئے سامان لینے گئ تھی ۔۔۔ جب آئی تو رمشہ کی چلانے کی آوازیں سنائی دے رہیں پھر اس پاس کے لوگوں نے ہی دروزہ کھولا اور ہمہیں ہسپتال تک لے آئے ۔۔۔۔ “
بدر بار بار رمشہ کی تکلیف کے باعث نکلتیں بے اختیار چیخوں پر یوں اندر سے تڑپ رہا تھا کہ جیسے رمشہ کے بجائے خود اس اذیت میں مبتلہ ہو
” بہت برا ہوا ہے امی ۔۔۔۔ رمشہ کو تو ذرا سی سوئی بھی چبھ جائے تو برداشت نہیں کر پاتی تھی ۔۔۔ اور یہ اذیت تو ” بدر دوبارہ سے رمشہ کے پاس جا کر کھڑا ہو گیا ۔۔۔۔ رات تک وہ مکمل بے ہوش ہو چکی تھی ۔۔۔ بدر نے اسکے گھر پر بھی اطلاع دے دی تھی ۔۔۔ اسکی والدہ ب کا بھی رو رو کے برا حال تھا ۔۔۔ چار دن تک وہ بے ہوش ہی رکھی تھی جیسے ہوش آتا درد اور جلن سے رونے اور تڑپنے لگتی ۔ پھر سے اسے بے ہوشی کا انجکشن لگا دیا جاتا ۔۔۔۔ ۔۔
دوست پندرہ دن وہ ہاسپٹل میں رہی تھی ۔۔۔۔ بدر کونا گھر کی ہوش تھی نا آفس کی نا ہی اپنی ۔۔۔ رمشہ کے ساتھ وہ ہر پل موجود تھا ۔۔۔۔
ہاتھ گردن پر تو اتنا نقصان نہیں ہوا تھا لیکن آدھا چہرہ جھلس س گیا تھا تھا ۔۔۔ جو دیکھنے آتا تھا کانپ کر رخ بدل جاتا تھا کسی میں اتنی تاب نہیں تھی کہ اس کے چہرے کو دو منٹ بھی مسلسل دیکھ نہیں پاتا تھا ۔۔۔ آفرین اور مظہر بھی اسکی عیادت کے آئے تھے ۔۔۔ پہلی بار آفرین نے مظہر کی موجودگی میں ہی براہراست بدر سے سے رمشہ کے لئے افسوس کیاتھا۔۔۔
” مجھے بہت دکھ اور افسوس ہے ۔۔۔ آپکی وائف کو دیکھ کر ۔۔۔۔ کسی بھی قسم کی مدد یا چیز کی ضرورت ہو تو پلیز بلا تکلف کہہ دیجیے گا “
” بس دعا کیجے گا کہ رمشہ ٹھیک ہو جائے ” گلو گیر لہجے ۔ہں وہ بس یہی کہہ پایا تھا ۔۔۔
” بھابھی جب کچھ بہتر ہو جائیں تو سرجری کروا لینا بدر اور پیسوں کی بلکل فکر مت کرنا ۔۔۔ ” مظہر نے اس کے ہاتھ میں پیسے تھامتے ہوئے کہا
” سر اسکی کی ضرورت ہر گز نہیں ہے ۔۔ پیسے میرے پاس ہیں سب آپ لوگ اپنا سمجھ کر آئیں ہیں یہی میرے لئے بہت بڑی بات ہے ” بدر نے پیسے مظہر کوواپس دینے چاہے
” اپنا سمجھ کر ہی تمہیں دے رہا ہوں ۔۔۔ تم بھی اب آپ سمجھوں اور رکھ لو ” پیسے مظہر نے واپس نہیں لئے تھے ۔۔۔۔
گھر واپس آ کر رمشہ چپ سی ہو کر رہ گئ تھی ۔۔۔۔ اسکے گھر پر لانے سے پہلے بدر نے کمرے سے تمام شیشے ہٹوا دیے تھے ۔۔۔ تا کہ رمشہ اپناعکس تک نا دیکھ سکے ۔۔۔۔۔
وہ نہیں چاہتا تھا کہ رمشہ مزید ذہنی اذیت میں مبتلہ ہو
*****……
اسلام آباد پہنچ کر چند دن تو انہوں گھر کو سیٹ کرنے میں ہی لگ گئے تھے ۔۔ کیونکہ اسلام باد کا گھر کافی بڑا تھا دو کمرے نیچے تھے اور تین کمرے اوپر ۔۔۔ باہر چھوٹاسے پورچ کے علاؤہ لان بھی موجود تھا ۔۔۔۔
” نوفل یہ تو بہت بڑا گھر ہے ۔۔۔ کیسے مینج کروں گی اسے “, مائرہ ہوتا گھر دیکھ کر کچھ تذبذب کا شکار ہوئی تھی
” اس میں مسلہ کیا ہے۔۔۔۔ اوپر کا ایک کمرہ آپکا ایک میرا اور ایک بچوں کا ہو جائے گا “
” بچوں کا الگ سے کیوں بچے میرے ساتھ ہی ایڈجسٹ کر لیں گئے ” مائرہ کو نوفل کا مشورہ پسند نہیں آیا تھا ۔۔۔
” نہیں مما ہمہیں سپریٹ روم ہی چاہیے ۔۔۔ میں اور منزہ اپنے کمرے کو اپنی پسند سے ریکوریٹ کریں گئے ” عائزہ تو خوش سی ہو گئ تھی”
” بلکل ٹھیک ہے ۔۔۔ کل ہی میں تمہاری پسند سے تمہارا کمرہ سیٹ کروا دوں گا اب خوش ” نوفل نے عائزہ کو گود میں اٹھا کر چومتے ہوئے بولا ولی صاحب کو بھی یہ بات محسوس ہوئی کہ اس کا بھی ایک الگ سے کمرہ ہونا چاہیے ۔۔ باشکل ہی لیکن وہ بھی نوفل کے پاس آ کر اسکی پینٹ کھینچ کر اسے متوجہ کرنے لگا
” چاچو مجھے بھی سپپ روم چاہیے ” بیچارے کو کہاں ابھی لفظ اتنے صاف طریقے سے بولنے آتے تھے ۔۔۔ ولی کے فقرے پر سب ہی ہسنے لگے تھے ۔۔۔
” تم اپنی ماں کے ساتھ ہی رہو گئے سمجھے ۔۔۔۔ بولنا آتا نہیں ہے اور روم الگ چاپیے اسے” نوفل نے اسے پیار سے گھورتے ہوئے کہا ۔۔۔ مائرہ نے مسکراتے ہوئے علی کو گود میں لیا تھا ۔۔۔ ۔”
” میرا ولی مما کے ساتھ رہے گا ۔۔۔ ٹھیک ہے میں آپ کو مزے مزے کی کہانیاں بھی سناؤں گی ۔۔۔ عائزہ آپی اور منی آپی ۔۔۔ کو رہنے دو اکیلے ” مائرہ نے اسے لاڈ سے کہا سب کمرے سیٹ ہو چکے تھے ۔۔۔ مائرہ نے زریاب کی تصویروں کے فریم سے لپٹے کاغذ کو پھاڑ کر زمین پر پھنکا ۔۔۔ نوفل لاونج میں ہی وال کلاک لگا رہا تھا ۔۔۔
” نوفل یہ تصویر میرے کمرے میں لگا دو ۔۔۔ ” نوفل اسٹول سے اتر کر دیکھ رہا تھا کہ وال کلاک دیوار پر لگ کیسا رہا ہے مائرہ کی بات پر اس نے پلٹ کر زریاب کی اپنی تصویر کو دیکھا تھا ۔۔۔ پھر ایک نظر مائرہ کی طرف دیکھا ۔۔۔ جس ایک خیالی دنیاصرف اس تصویر سے آباد تھی ۔۔۔۔ جہاں وہ زریاب کے ساتھ دلہن بنی کھڑی تھی ۔۔۔۔ نوفل بھی اس کے ساتھ ہی کھڑا تھا لیکن فریم میں۔ لگی اس تصویر میں اسے کبھی نظر ہی نہیں آیا تھا ۔۔۔ نوفل کاتصویر میں ہونا نا ہونا مائرہ کے لئے ایک برابر ہی تھا ۔۔۔۔
” اس تصویر کو یہں اسی پورشن کے سامنے والے کمرے میں لگاتے ہیں ۔۔۔ بھائی کی اور میری ایک اور تصویر بھی ہے وہ بھی یہیں لگائیں گئے”
” وہ تم تم جہاں چاہے لگاؤ ۔۔۔لیکن یہ تصویر ہمیشہ میرے بیڈ روم میں ہی ہوتی تھی ۔۔۔ اب بھی وہیں لگے گی ” مائرہ نے اٹل انداز سے کہا
” کیوں زریاب بھائی پر صرف آپ ہی کا حق ہے ؟۔۔۔ وہ میرے کچھ نہیں لگتے ۔۔۔ میرا بھی دل چاہتا رات کو اٹھ کر بھائی سے ڈھیروں باتیں کیا کرو ۔۔۔ لیکن کیسے کیا کرو ۔۔۔ تصویریں اس کمرے میں ہوں گی تو میرا بھی جب جی چاہا کرے گا میں یہاں آ کر ان سے بات کر لیا کرو گا ۔۔۔ جب آپ کا جی چاہے آپ کر لینا ” کندھے اچکائے وہ بڑے لاپروا سےاندراز میں کہہ رہا تھا اصل مقصد مائرہ کے کمرے سے تصویر کو ہٹانا تھا ۔۔۔ تا کہ وہ تصور سے نکل کر حقیقت کو تسلیم کر سکے
” نوفل تم یہ تصویر میرے کمرے ۔میں رہنے دو ۔۔۔۔ ” مائرہ بھی مجبور تھی کیسے اپنے حسین خوابوں کو ایک الگ کمرے میں رکھ دیتی
” ٹھیک ہے پھر مجھےاپنے کمرے میں آنے کی اجازت دے دیں ۔۔۔ تا کہ مجھے جب بھی بھائی یاد آئے میں آپ کے کمرے میں آ جایا کرو “
” نوفل ” مائرہ اسکی اس قسم کی باتوں سے اکھڑ سی جاتی تھی
” ہاں تو اسی لئے کہہ رہا ہوں ۔۔۔ میری بات سنیں ۔۔۔ جتنی محبت آپ بھائی سے کرتی ہیں اتنی محبت میں بھی ان سے کرتا ہوں ۔۔۔۔ بھائی کی ہر چیز اسی کمرے میں رہے گی ۔۔۔۔ جب آپ چاہیں آپ یہاں آ سکتی ہیں ۔۔۔ جب میرا جی چاہے میں بھی یہاں آنے کے لئے آزاد ہوں ۔۔۔۔ مجھے نہیں لگتا کہ ہمہیں اس پر لڑنا چاہیے ۔۔۔۔ ” وہ بڑی رسانیت سے اسے بات کر رہا تھا ۔۔۔۔
مائرہ چند ثانیے تک سوچتی رہی ۔۔۔ پھر اسکی بات مان گئ
زریاب کے کپڑے الماری کے کبڈ میں ۔۔ شادی البم ۔۔۔۔ فریم میں لگیں تصویریں سب کچھ نیچے کے ایک کمرے میں سجا دی گئیں۔ تھیں
گھر ایک ہفتے کی تک و دو کے بعد سیٹ ہو چکا تھا
ناول نےچاگس جانا شروع کر دیا تھا اپنے پروجیکٹ پر وہ کافی محنت کر رہا تھا ۔۔۔
گھر آ کر بھی لیپ ٹاپ پر بزی رہتا تھا ۔۔۔۔ اب بھی صوفے پر بیٹھا ۔۔۔ گود میں لیپ ٹاپ رکھے اپنے ک میں مصروف تھا اسکے برابر میں عائزہ بیٹھی ٹی وی پر کارٹون دیکھ رہی تھی ۔۔۔۔ لیکن کی سرثعن اسے بور سے کرنے لگے تھے اس لئے ۔۔ چینل بدلنے لگی ۔۔۔ چاہ رہی تھی کے اپنی مرضی کے کارٹون لگا لے ۔۔ لیکن ڈرامے کے ایک سین نے اسکی متحرک انگلیاں کو ر کنے پر مجبور کیا تھا ۔۔۔۔ رات کے کھانے کاوقت تھا مائرہ ٹیبل پر کھانا کھا رہی تھی ولی اور مزہ اپنے کھلونوں کے ساتھ کھیل رہے تھے
ڈرامے میں شادی کاسین چل رہا تھا ۔۔۔۔ دلہا دلہن کے ایجاب و قبول کو سن کر عائزہ کچھ نروس سی ہوئی تھی ۔۔۔ چچا کو دلہا بنا بھی دیکھ چکی تھی اور عفیرہ کو بھی دلہن کے روپ میں دیکھا تھا اور یاد بھی تھا پھر اتنا بھی معلوم تھا کہ دلہا دلہن ایسے ہی ہوتے ہیں سجے سنورے سے لیکن
(قبول ہے )کے اعتراف نے ۔۔۔ نوفل اور مائرہ کا نکاح ذہن کے پردے پر دہرایا تھا ۔۔۔۔ یہ بات اسے پریشان سی کرنے لگی تھی
” چاچو کیا یہ دلہن اس دلہا کی ہے ” نوفل کو کندھے سے ہلا کر وہ ٹی وی کی طرف متوجہ کرنے لگی نوفل کاسارازہ۔ لیپ ٹاپ کی جانب تھا ۔۔۔ اس نے اچٹتی سی نظر ٹی پر ڈالی نکاح کا سین کی چل رہا تھا ۔” ہاں ظاہر ہے ۔۔۔ جب دلہن کہہ رہی ہے کہ۔۔۔ قبول ہے۔۔۔۔ تو دلہن اس دولہے کی ہی ہو گئ ہے ۔۔۔۔ ” نوفل نے بے توجہی سے کہا تھا
” قبول ہے۔۔۔۔ کہنے سے کیا وہ دلہن دلہا کی ہو جاتی ہے ” عائزہ کے ذہن میں نوفل اور مائرہ کا نکاح ہی گھوم رہا تھا
” ہاں بھئ ہو جاتی ہے “
” چاچو تو کیا مما آپ کی دلہن ہیں ” عائزہ کے سوال نے جہاں نوفل کی توجہ لیپ ٹاپ سے ہٹائی تھی وہاں مائرہ کے ہاتھ سے بھی پانی کا جگ گرنے سے بچا تھا ۔۔۔۔ دونوں کے نظریں سب سے پہلے ایک دوسرے کی جانب اٹھیں تھیں ۔۔۔۔ مائرہ نے سرعت سے نظریں بدلیں تھیں لیکن نوفل کی نظریں اب ہر پابندی سے آذاد تھیں ۔۔۔۔ مائرہ گڑبڑا کر رہ گئ تھی ۔۔۔ عائزہ کے ذہن میں ایساسوال آیا بھی کیسے تھا ۔۔۔ مائرہ کے گمان بھی یہ بات نہیں تھی ایسا کوئی سوال عائزہ پوچھ سکتی ہے
