Log Kia Kahe Gy by Umme Hani NovelR50418 Log Kia Kahe Gy Episode 31
Rate this Novel
Log Kia Kahe Gy Episode 31
Log Kia Kahe Gy by Umme Hani
نوفل کی بات سن کر اس نے خفگی سے منہ پھلایا تھا ۔۔نوفل جو ولی کے ساتھ لیٹا تھا اٹھ کر بیٹھ گیا
” اچھا ایک بات بتاو۔۔۔۔ تمہارے ابا نے پیدا ہو کر تمہارے دادا کی نسل بڑھائی ہے ؟ ۔ رائٹ ” نوفل کی بات سن کر وہ بھی اٹھ کر بیٹھ گئ
” ظاہر سی بات ہے ۔۔۔
” ہمم تمہارے دادا کا کیا نام تھا “
“اجمل “
” انکے والد یعنی تمہارے پر دادا کا ۔۔۔
” شاید خورشید ” عفیرہ نے کچھ سوچتے ہوئے کہا
” اور انکے والد کا ۔۔۔۔ اور آگے انکے باپ دادا کا آج اپنا سارا شجرہ نسب بتاؤ مجھے “
” نوفل اب مجھے اتنا تو نہیں معلوم ۔۔۔۔ ” عفیرہ سوچ میں پڑ گئ تھی
” کیوں عفیرہ جن کی نسل بڑھانے کی بات تم کر رہی ہو جو لڑکے ہی آکر بڑھاتے چلے جا رہے ہیں ۔۔۔ ہمہیں اپنے خاندان کے اس پہلے شخص نام تو معلوم ہونا چاہیے ۔۔۔۔ جس کے ہم نام لیوا ہونے کے دعویدار ہیں۔۔۔ ” نوفل کی بات پر وہ چپ سی ہو گئ تھی
” تم کیا ہم میں سے کوئی بھی اپنی پچھلی دس پشتو کے نام بھی ٹھیک سے نہیں جانتا ہو گا ۔۔۔۔ اگریاد بھی ہیں تو ان سے پہلے والوں کو نہیں جانتا ہو گا ۔۔۔۔ پھر ہم کس نسل کے بڑھ جانے پر اتنا گھمنڈ کرتے ہیں بیٹا ہو جانے پر سینہ یوں چوڑا کرتے ہیں جیسے یہ ہمارا کارنامہ ہے ۔۔۔۔ اور عورت یہ سمجھ لیتی ہے کہ اس نے کوئی باکمال سا کارنامہ انجام دے دیا ہے ۔۔۔۔۔
ابو لہب کو اپنے بیٹوں پر بہت غرور تھا ۔۔۔۔ وہ کہتا تھا محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا کوئی بیٹا نہیں ہے اس کا کوئی نا لیوا نہیں ہو گا ۔۔۔۔ اور ۔میرے بیٹے ہیں ۔۔۔۔ وہی میرا نام آگے بڑھائیں گئے ۔۔۔۔۔
آپ صلی اللّٰہ علیہ وآلہ وسلم کا بھی کوئی بیٹا نہیں تھا ۔۔۔۔۔ لیکن اللہ نے انکے نا لیوا قیامت تک بنانے تھے اس لئے حضرت فاطمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے اسکی نسل کو آگے بڑھایا ۔۔۔ ایک بیٹی سے ۔
یہ بیٹوں کی برتری دور جہالیت سے چلی آ رہی ہے جسے اسلام نے ختم کر کے بیٹے اور بیٹی کے حقوق کو برابر کیا
بلکہ زریاب بھائی بتاتے تھے
کہ جب کسی کے بیٹا ہوتا ہے تو اللہ اس بچے کو کہتے ہیں کہ جاؤ اور جا کر اپنے والد کی کفالت کرو
اور جب بیٹی پیدا ہوتی ہے تو کہتے تم جاؤ اور تمہارے والد کی کفالت کی ذمہ داری میری ہے
جس کی ذمہ داری اللہ خود لے لیتا ہے اسے اور کیا چاہیے ۔۔۔۔
اایسا شخص جس کی دو یادو سے زائد بیٹیاں ہوں وہ انکی اچھی تربیت کرے تو تو قیامت کے دن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ ہو گا ۔۔۔۔ اور یہ انعام خاص کر کے بیٹی والوں کے نصیب میں ہے ۔۔۔۔
نا بیٹی ہونا ہماری چاہت پر منحصر ہے نا بیٹا ہونا ہمارے اختیار کی بات ۔۔۔ قرآن پاک میں بھی واضح طور پر اس بات کی و بیان کر دیا گیا ہے ۔۔ کہ بیٹا بیٹی اللہ کی چاہت اور اختیار کی بات ہے ۔۔۔۔ ان سب باتوں سے
۔۔۔۔ اللہ تعالیٰ یہ سمجھاتے ہیں کہ میں ہر چیز پر قادر ہوں
جب ارادہ کر لوں تو وہ ہو جاتا ہے ۔۔۔۔۔ اللہ کے لئے نسل بڑھانے کے لئے بیٹا ہونا ضروری نہیں
حضرت مریم ایک عورت تھیں اللہ نے ان کے بطن سے ایک نبی کی والادت کاارادہ فرمایا تو بنا شوہر کے ہی انہیں بیٹا عطا کر دیا ۔۔۔۔ یہ سب اللہ کی طاقت ہے جو بار بار وہ انسان کو یہ سمجھانے کے لئے دیکھاتا ہے کہ اختیار اس رب کا ہے ۔۔۔۔ انسان کی کوئی اوقات نہیں ۔۔۔ اس لئے بیٹا ہو یا بیٹی اللہ کے سامنےعاجزی سے رہنا چاہیے ۔۔۔ کیونکہ یہ اسکی عطا ہے۔۔۔۔ ہمارا کوئی کمال نہیں
۔۔۔۔ میری اگر بیٹی بھی ہوتی میں تب بھی اتنا ہی خوش ہوتا۔۔۔ جتنا اب خوش ہوں ۔۔۔۔۔
” صاف صاف کیوں نہیں کہہ دیتے کے کچھ دینا نہیں چاہتے ۔۔۔۔ اتنا لمبا لیکچر دینے کی کیا ضرورت تھی ” عفیرہ کو سمجھانا پتھر پر سر پھوڑنے کے مترادف تھا ۔۔۔ بجائے بار کو سمجھنے کے اسے بس اس چیز میں دلچسپی تھی بیٹا ہونے پر اسے تحفہ کیا ملے گا نوفل تاسف سے اسے دیکھنے لگا
” تمہیں سمجھانا اور بھینس کے آگے بین بجانا ایک برابر ہے ۔۔۔۔
کیا چاہیے تمہیں ۔۔۔ سونے کے ٹاپس ۔۔۔ یا انگوٹھی ۔۔۔ جسے پہن کر تم اپنی بہنوں اور اپنے محلے کی جاہل عورتوں کے سامنے سترا سکوکہ دیکھوں میرے میاں نے مجھے “بیٹا ” پیدا کرنے پر سونے انگوٹھی دی ہے ” نوفل نے لفظ بیٹا پر زور دے کر کہا ۔۔۔۔ عفیرہ کو نا تو نوفل کے طنز کی پروا تھی نا ہی کسی اور بات کی بڑے مزے سے وہ مسکرا کر ٹوپس کی فرمائش کرنے لگی ۔۔۔۔ نوفل نے اسے سونے کے ٹاپس کا دئیے تھے ۔۔۔ لیکن صرف اسے ہی نہیں ویسے ہی ٹاپس مائرہ کے لئے بھی لایا تھااور دونوں بھتجیوں کے لئے بھی سونے کی چھوٹی چھوٹی بالیاں لایا تھا ۔۔۔۔۔ اگر صرف عفیرہ کے لئے لاتا تو شاید عفیرہ کی خوشی قابل دید ہوتی لیکن ویسی ہی چیز مائرہ کے لئے دیکھ کر عفیرہ سلگ کر رہ گئ تھی۔۔۔
مائرہ نے بے یقنی سے اپنے ہاتھ میں وہ ٹاپس کی ڈبیہ دیکھی جو نوفل نے اسکے ہاتھ میں رکھی تھی
اور دونوں بچیوں کو خود انکے کاموں میں بالیاں پہنا رہا تھا ۔۔۔۔
” نوفل میں یہ کیا کروں گی ” مائرہ وہ لینا ہی نہیں چاہتی تھی ایک تو زیور نام کی ہر چیز سے وہ مبرا تھی۔۔۔ پھر عفیرہ کے بگڑتے تیور بھی دیکھ چکی تھی
” ارے بھئ اپنے کانوں میں پہنے ۔۔۔۔ اور کیا کریں گی ۔۔۔۔ اچار تھوڑی ڈلے گااس کا ۔۔۔۔ عفیرہ تمہارے اور بھابھی کے ٹاپس سیم ہیں ۔۔۔۔ پہلے خود پہنو پھر بھابھی کو بھی پہنا دو ” دونوں بچیوں کو وہ بالیاں پہنا چکا تھا
” نوفل یہ میں نہیں لوں گی ۔۔۔۔ تم واپس کر دینا ۔۔۔۔۔ ” مائرہ وہ ڈبیہ سامنے ٹیبل پر رکھ دی
یہ سن کر عفیرہ کا چہرہ کھل گیا تھا ۔۔۔۔
” آپ کیوں نہیں لیں گئیں ۔۔۔ میں بہت محبت اور اپنایت سے لایا ہوں ۔۔۔۔ “
” تمہارے خلاص بہت شکریہ ۔۔۔لیکن میں نہیں پہن سکتی ہوں نوفل ۔۔۔۔۔ لوگ کیا کہیں گئے ۔۔۔ کہ شاید مجھے اپنے شوہر کا غم ہی نہیں ہے ۔۔ کبھی یوں زیور پہنے لگیں ہوں ۔۔۔ تم یہ واپس کر دینا ۔۔۔ اور دوبارہ میرے لئے ایسا کبھی مت لانا ۔۔۔۔ ” مائرہ یہ کہہ کر اپنے کمرے میں چلی گئ ۔۔ عفیرہ کی خوشی عروج پر تھی اپنے ٹاپس کی ڈبیہ ایک ہاتھ میں دبائے اس نے ماریہ کی ڈبیہ بھی اٹھا لی ۔۔۔
” آپ بھی نا نوفل ۔۔۔۔ کیوں ایسے کام کرتے ہیں جس سے بھابھی کا دل دکھ جائے ۔۔۔۔ ب دیکھیں ۔۔۔ زریاب بھائی کو یاد کر کے روتی رہیں گئی۔ ۔۔۔ خود سوچیں ۔۔۔۔ زیورات تو صرف سہاگنوں پر ہی سجتے ہیں ۔۔۔۔۔ بھلا بیوہ نے پہن کر کسے دیکھانے ہے ۔۔۔۔ ” چہرے بلا کا درد سجائے عفیرہ نے نوفل کے سامنے مائرہ سے ہمدردی جتائیں تھی
” مجھے کیا پتہ کہ بیوہ ہونا اپنے آپ میں اتنی بڑی سزا ہے ۔۔۔۔ یہ تو واقع مجھ سے غلطی ہو گئ بھابھی اب بھائی کو یاد کر کے روتی رہیں گئیں ۔۔۔۔ یار تم جاؤں بھابھی کے پاس ۔۔۔۔۔ چپ کرواں انہیں ” نوفل یوں نادم تھا جیسے واقع کوئی غلط کر بیٹھا ہو ۔۔۔۔۔
عفیرہ کا دل تو خوشی سے بلیوں اچھل رہا تھا ۔۔۔۔
مائرہ واقع رو رہی تھی ۔۔۔۔۔ زریاب کب اسے یاد نہیں آتا تھا ۔۔۔۔ کون لمحہ آیاتھا کہ وہ زریاب کوبھولی بھی ہو ۔۔۔۔ اسکی ہر بات میں ہر یاد میں وہی تھا ۔۔۔۔۔
اس کے بغیر سجنا سنورنا وہ چاہتی ہی کب تھی ۔۔۔۔۔ عفیرہ نے مائرہ کے پاس بیٹھ کر بسازے ذراساپی ساتھ لگایا
” بس بھی کریں بھابھی دیکھیں کتنے ہلکے پڑ گئے ہیں رو رو کے آپ کی آنکھوں کے نیچے ۔۔۔۔ نوفل بھی نا بناسوچے سمجھے ہی چیزیں اٹھا لاتے ہیں ۔۔۔ اب سمجھا کرائی ہوں ۔۔۔ کہ مائرہ بھابھی اب بیوہ ہو چکیں ہیں ۔۔۔۔ یہ سب چیزیں پہنا کہاں انہیں جچتا ہے ۔۔۔۔ آخر دنیا داری کو تو دیکھنا پڑتا ہے ۔۔۔۔ یہ تو اب بیواؤں کی زندگی پھر بھی کچھ سہل ہو گئ ہے ورنہ امی بتاتیں ہیں کہ میری نانی کے زمانے میں تو بیوی عورتوں کے لمبے بالوں کو بھی کاٹ دیا جاتا تھا ” عفیرہ نے مائرہ کی لمبی چوٹی پکڑ کر کہا ۔۔۔۔ ننگے پاؤں بیچاریاں چلتی پھرتی تھیں ۔۔۔۔ آپ تو خوش نصیب ہیں کہ اس دور میں نہیں تھیں ۔۔۔۔
ورنہ جتنے حسین اور لمبےچاپ کے بال ہیں ۔۔۔۔ اب تک تو کٹ چکے ہوتے ۔۔۔۔ ” مائرہ نے ایک تاسف کی نظر اس پر ڈالی تھی جس کی آنکھوں میں ہتھک سی تھی ۔۔۔
” ویسے بھابھی میں سوچتی ہوں اس دور میں کرتے تو بلکل ٹھیک ہی تھے ۔۔۔۔ اب لمبے بال ۔۔۔ گورا رنگ خوبصورت جسامت ایک بیوہ نے کرنی کیا ہے ۔۔۔۔ آپ کو پتہ ہے میرے گھر کے پاس بھی ایک عورت بیوہ ہو گئ تھی تین بچے تھے اس کے ۔۔۔۔ آپ کی طرح خوبصورت اور جوان تھی پھر گھر میں جوان دیور۔ بھی تھے ۔۔۔۔ ساس نے تو پہلی فرصت میں اسکے بال بھی بے ڈھنگے کاٹ دیے اور اسے ہاسپٹل لے جا کر اسکا آپریشن کروا دیا تا کہ وہ کبھی بھی ماں نا بن سکے ۔۔۔۔ امی نے پوچھا کہ جوان بہو کے ساتھ یہ ظلم کیوں کیا تو کہنے لگی کاہے کا ظلم بہن ۔۔۔ جب میرا بیٹا ہی نا رہا تو یہ سب میری بہو کے پاس ہونا ہی نہیں چاہیے ۔۔۔۔ میرے گھر میں جوان بیٹے اور بھی ہیں ۔۔۔۔
میں نہیں چاہتی کہ کوئی بھابھی پر نظر بھی رکھے ۔۔۔۔۔ بھابھی اسکی ساس نے ٹھیک کیا نا ؟ ” عفیرہ نے یوں معصومیت سے پوچھا جیسے اسے بتا نا رہی ہو کچھ جتا رہی ہو ۔۔۔ مائرہ صرف دیکھ رہی تھی یہ بھی جانتی تھی کہ وہ کس انداز سے پوچھ رہی ہے لیکن چپ تھی
” جوان دیور آگ کے مترادف ہوتے ہیں ۔۔۔۔۔ پھر بیوہ بھابھی اگر حسین ہو تو ۔۔۔۔۔ کسی کا بھی دل کبھی بھی پھسل سکتا ہے ۔۔۔۔۔ مجھے تو اسکی ساس کی دور اندیشی بہت اچھی لگی ۔۔۔۔۔ ” عفیرہ یہ کہہ کر کھڑی ہو گئ ۔۔۔۔
پھر اسکے ڈرسنگ کے پاس آ گئ ۔۔۔۔ سامنے کچھ لوشن اور ہیر برش ہی رکھے تھے ۔۔۔۔
” یاد ایابھابھی ! آپ کا میک اپ وغیرہ کہاں ہے۔۔۔۔
اب تو آپ کو ویسے ہی اسکی ضرورت نہیں ہوگی ۔۔۔ اگر وہ میں اپنی امی کو دیدوں تو ۔۔۔۔۔۔۔” یہ کہہ عفیرہ چپ ہو گئ پھر کچھ توقف سے بولی
” مجھے نہیں لگتا کہ آپ کو اعتراض ہونا چاہیے ۔۔۔۔ ” مائرہ اس کے ہر انداز سے واقف تھی بچی نہیں تھی سب سمجھتی تھی کہ وہ کیسے کیسے اپنی مبہم باتوں سے اسکے دل کو کند چھری سے کاٹتی ہے ۔۔۔۔ لیکن چپ تھی کیوں کہ بے بس تھی ۔۔۔۔ اسے جواب دینے کا مقصد نوفل سے اسکی لڑائی تھی ۔۔۔۔
وہ چپ رہنا نہیں جانتی تھی ۔۔۔۔ اسے شاید اپنے گھر بسانے کی بھی پروا نہیں تھی ۔۔۔ لیکن یہ بھی سچ تھا کہ عفیرہ فی الوقت اس کے لئے لازم و ملزوم کی حیثیت رکھتی تھی ۔۔۔۔۔ اس کا ہونا مائرہ کی عزت بخش رہا تھا ورنہ لوگوں کی شک بھری نظریں ہی اس کو جیتے جی مارنے کے لئے کافی تھیں ۔۔۔۔ مائرہ نے ایک گہری سانس لی اپنے آنسوں پونچے
” یہ ڈرسنگ کے دراز میں سب کچھ ہے تم جو چاہے لے لو جسے چاہے دیدو ۔۔۔۔ ” یہ کہہ وہ کھڑی ہو گئ
” بھابھی وہ آج ڈنر میں یخنی پلاؤ ضرور بتائیے گا ۔۔۔ مجھے بہت پسند ہے ۔۔۔۔ ” یہ کہنے کا صاف مطلب یہ تھا کہ مائرہ بیگم جا کر کچن کا رخ کریں ۔۔۔۔ مائرہ کمرے سے نکل گئ ۔۔۔۔
*******……..
شزا یوں تھی کے جیسے کسی کے جسم سے روح کھنچ لی ہو ۔۔۔۔۔
فرقان بھی جہاں کھڑا تھا وہیں کھڑا رہ گیا ہوش تواماں جی کے بھی اڑ گئے تھے ۔۔۔۔
کافی دنوں سے وہ روز عرفان کے کان بھر رہیں تھیں کہ فرقان کے چلن میں مجھے شک سا ہو رہا ہے ۔۔۔۔ تیری بیوی کے ارادے بھی ٹھیک نہیں لگ رہے ۔۔۔تجھ سے بیزار ہو گئ ہے عرفان ۔۔۔۔ تو تو میرا فرمابردار ہے اس لئے اس کے جھانسے میں پھنس نہیں رہااس لئے اب فرقان کو پھنسارہی ہے ۔۔۔۔ دیکھ نہیں رہا تو ۔۔۔۔ شزا کی نااہلی کی بات ابھی میرے منہ ہوتی ہے اور فرقان اس کا وکیل بن جاتا ہے ۔۔۔۔ ارے میں پوچھتی ہوں کیا لگتی۔ شزا اسکی ۔۔۔۔۔ ” اماں جی غصے سے دانت کچکچا کر بولی تھیں
” اماں جی کیا ہو گیا ہے آپ کو ۔۔۔۔۔ کس قسم کی باتیں کر رہی ہیں ۔۔۔۔۔۔ شزا ایسی ہر گز نہیں ہے ” عرفان کو یہ بات پہلی بار ماں کے منہ سے سن کر بری لگی تھی۔۔۔۔۔ اماں جی نے دونوں بھونیں اوپر کیں ۔۔ تعجب سے بیٹے کو دیکھا
” ہاں میاں تم بس آنکھوں پر پٹی باندھے بیٹھے رہو ۔۔۔ جب وہ دونوں اپنا منہ کالا کر بیٹھیں گئے تب ہی تمہیں عقل آئے گی ۔۔۔۔ ” عرفان کا تو سن کر غصے سے برا حال ہوا تھا
” اماں خدا کے لئے چپ ہو جائیں ۔۔۔۔۔ فرقان آپ کا اپنا خون ہے آپکی تربیت ہے ۔۔۔۔ اور وہ بہن سمجھتا ہے شزا کو ” عرفان کو اماں جی کی بات سن کر افسوس ہو رہا تھا ۔۔۔۔
” تو مجھے چھوڑ تو خود دیکھ لے ۔۔۔ کیا کیااشارے بازیاں چلتی ہیں دونوں کے بیچ میں ۔۔۔۔ ” اماں نے ایک شک کا بیچ عرفان کے دل میں ڈال دیا تھا پہلے بھی وہ ان دونوں کو بات چیت کرتے دیکھتا تھا لیکن الگ نظر سے ۔۔۔۔ لیکن اب اس کے دیکھنے کا نظریہ بدل گیا تھا ۔۔۔۔
شزا کواکثر فرقان ہی بتاتا تھا کہ وہ کیسے شبو کے ساتھ پیش آئے اور جب وہ شزا شبو کو لاجواب کر دیتی تھی تووہ اسے داد ضرور دیتا تھا ۔۔۔۔
بلکل چھوٹی بہنوں کی طرح سمجھتا تھا پھر اپنی بہنوں کے مزاج سے بھی واقف تھا ۔۔۔۔
وہ بیچاری دور میں کچھ نہیں کہتی تھی سہتی ہی رہتی تھی پھر عرفان بھی اسکا بلکل بھی ساتھ نہیں دیتا تھا ۔۔۔۔
فرقان کو بھی کہاں اندازہ تھا کہ اسکی بھابھی سے کی جانے والی ہمدردی اسے اتنی میگی پڑے گی ۔۔۔۔ عرفان اب انکی ہر بات کو دوسرے رخ سے لینے لگا تھا ۔۔۔۔ شک کی نگاہ سے دیکھنے لگا تھا ۔۔۔۔ اندر ہی اندر وہی باتیں سوچنے لگا تھا جو اماں جی روز اس کے دماغ میں ڈال رہی۔ تھیں اب تو اختلاف بھی نہیں کرتا تھا ۔۔۔۔ شزا کو ڈانٹتا بھی بات بات پر تھا ۔۔۔۔ فرقان ہی عرفان کو یہ کہنے لگتا کہ بھابھی کا کیاقصور ہے جو آپ انہیں ڈانٹ رہے ہیں ” وہ یہ بات ہمدری کے طور پر کہتا تھا لیکن عرفان کسی اور رنگ میں لینے لگا تھا ۔۔۔۔ اندر ہی اندر شک کی جو آگ لگ چکی تھی ۔۔۔۔ وہ بڑھ بڑھ کر جوالہ مکھی بن کر باہر نکل چکا تھا ۔۔۔۔۔ اماں جی نے تو سوچا تھا کہ اس قسم کی باتوں پر عرفان شزا پر ہاتھ اٹھائے گا ۔۔۔ مارے گا ۔۔۔پیٹے گا،اور گھر کے کام کرنے پر مجبور بھی کرے گا
اور شزا جو انہیں جواب دینے لگی تھی اسکی بھی زبان بند ہو گی ۔۔۔۔
لیکن یہ نہیں پتہ تھا کہ عرفان اسے طلاق ہی دیدے گا ۔۔۔۔۔
طلاق کاسن کر تو اماں جی کے بھی ہوش اڑ گئے تھے ۔۔۔۔ افسوس طلاق کا نہیں تھااس بات کرنا کہ گھر کے کام کون کرے گا۔۔۔۔۔
” اے عرفان یہ کیا غضب کر دیا تو نے ۔۔۔۔ طلاق کیوں دیدی ۔۔۔۔ “
” تو کیا سر پر بیٹھا کے رکھتا ایسی عورت کو ۔۔۔۔ “
” ارے مار پیٹ کر بھی تو سمجھایا جاسکتا تھا ۔۔۔ کی کر دیا تو نے عرفان “, اماں جی رونے پیٹنے لگیں تھیں زرنش اور بینش جو اب تک تماشہ دیکھ رہیں
انکی بھی رنگ اڑ گئ تھی ۔۔۔۔۔
شزا چپ کھڑی تھی ۔۔۔۔ جیسے جو کچھ وہاں ہو رہا ہے ۔۔۔۔ کسی اور کے ساتھ ہو رہا ہے وہ صرف تماشہ دیکھ رہی ہے ۔۔۔۔۔ نا رو رہی تھی نا بول رہی تھی ۔۔۔۔۔
” بھائی یہ کیا کیا آپ نے ۔۔۔۔۔۔ ظلم کی انتہا کر دی آپ نے ۔۔۔۔۔۔ کچھ تو سوچا ہوتا بھائی ۔۔۔۔
کچھ تو سوچا ہوتا ۔۔۔۔ اگر کل آپ کو یہ پتہ لے کہ وہ سب جھوٹ تھا ۔۔۔۔۔ پھر کیا کریں گئے آپ ۔۔۔۔ ” فرقان رونے لگا تھا ۔۔۔۔۔ اپنی نیکی کا بہت برا بدلہ پایا تھا سامنے مجسمہ بنی بھابھی جو اسے ہمیشہ بھابھی کم اور چھوٹی بہن ذیادہ لگی تھی ۔۔۔۔ بنا کچھ کیے بہت بڑی سزا پا چکی تھی ۔۔۔۔
” بکواس مت کرو ۔۔۔۔۔ تم تو چاہتے ہی یہی تھے ۔۔۔ کہ میں اسے یہاں رہنے دوں تا کہ تم اپنی خواہش پوری کر سکتے ” عرفان کے دماغ کی بد گمانی عروج پر تھی ۔۔۔۔ فرقان طیش میں آ گیا
” لعنت ہے آپ کی سوچ پر ۔۔۔۔۔ آپ کے گھٹیا پن پر ۔۔۔۔ آپ کی چھوٹے اور سطحی کردار پر ” وہ ایک ایک قدم پیچھے لیتے ہوئے کہہ رہا تھا ۔۔۔۔ پھر اندر کمرے میں چلا گیا ۔۔۔۔ عرفان تو ویسے اندھا ہو چکا تھا اس وقت کچھ بھی سمجھ نہیں آ رہا تھا اس لئے شزا کا ہاتھ پکڑا اور کھنچتا ہوااسے گھر کے گیٹ سے باہر نکال کر گھر کادروازہ بند کر دیا ۔۔۔ اس بار وہ کچھ نہیں بولی تھی ۔۔۔۔ بولنے کو کچھ بچا ہی نہیں تھا ۔۔۔۔ اکیلی وہاں کھڑی تھی ۔۔۔۔۔ اسی لباس میں اسی ڈوپٹے میں جو گلے
ہاں تھا ۔۔۔۔
” سر پر چادر اچھی طرح اوڑھا کرو ۔۔۔۔ زمانہ بہت خراب ہو گیا ہے ۔۔۔۔ بڑے گھٹیا لوگ ہوتے ہیں ۔۔۔۔ برقعے والیوں کو بھی غلیظ نظروں سے دیکھتے ہیں ۔۔۔۔ ایسا کرو چادر سے اپنا منہ۔ بھی ڈھانپ لو ” عرفان کی باتیں یاد آئیں تھیں ۔۔۔۔۔ باہر جاتے ہوئے وہ شزا کو یوں چھپاتا تھا جیسے وہ بہت قیمتی ہے ۔۔۔۔ اور آج کیسے ننگے سر باہر دھکیل دیاتھا ۔۔۔
گھٹیا کون ہے ۔۔۔ باہر کھڑے وہ لوگ جو غلیظ نظروں سے دیکھتے ہیں یاوہ شخص جس نے بے آبرو کر کے گھر اور زندگی سے نکال باہر کیا تھا ۔۔۔۔۔
وہ چپ چاپ چلنے لگی ۔۔۔ میکا اس کے سسرال سے بہت دور نہیں تھا بس چند گلیوں کا فاصلہ تھا ۔۔۔ لیکن جب سے شزا کی شادی ہوئی تھی میکہ ہمیشہ کوسوں دور ہی لگا تھا کیونکہ نااسکے گھر والوں کو آنے کی اجازت تھی نااسے ذیادہ میکے جانے کی اجازت تھی ۔۔۔۔۔ لیکن آج اسے یہ مسافت دور نہیں لگ رہی تھی ۔۔۔۔۔ ویسے ہی گلے میں ڈوپٹہ پہنے ہی وہ مرے مرے قدموں سے چل رہی تھی ۔۔۔ کون اسے دیکھ رہا تھا ۔۔۔ کون فقرے کس رہا تھا ۔۔۔۔
وہ سن ہی کہاں رہی تھی ۔۔۔۔ جو سن کر آ رہی اس کے سامنے اب ہر لفظ ہر جمعلہ بے معنی اور چھوٹا تھا ۔۔۔۔ اپنے گھر کے دروازے پر پہنچ کر قدم کے ساتھ دل بھی جیسے تھم سا گیا تھا ۔۔۔۔ دروازے پر اس نے دستک دی ی شروع کی دروازہ احمر نے کھولا سامنے لٹھے جیسے سفید رنگ لئے شزا کھڑی تھی گلے میں بے ترتیب سا ڈوپٹہ لئے پگڑی پھٹی آنکھوں سے احمر کو دیکھ رہی تھی ۔۔۔۔
” شزا کیا ہوا ہے ۔۔۔۔ ٹھیک تو ہو تم ۔۔۔۔ ” شزا نے کوئی جواب نہیں دیا بس اندر داخل ہو گئ ۔۔۔۔
” شزا کیااکیلی آئی ہو ۔۔۔۔ ” احمر نے دروازے کے پیچھے سے جھانک کر دیکھا ۔۔۔۔ ۔ابھی وہ سمجھ بھی نہیں پایا تھا کہ شزا اس کے ساتھ لگ کر ہوش کی دنیا سے بیگانہ ہوئی تھی ۔۔ جلدی سے احمر نے اسے بانہوں میں سمیٹا تھا
” شزا ۔۔۔شزا ۔۔۔۔۔ کیا ہوا ہے تمہیں ” احمر تو سٹپٹا سا گیا تھا لیکن وہ بے ہوش ہو کر اسکی بانہوں میں جھول گئ تھی ۔۔۔۔
” امی ۔۔۔۔۔ امی۔۔۔۔۔ فاروق بھائی ۔۔۔ چاہتا۔ دیکھیں شزا کو کیا ہوا ہے ۔۔۔۔ ” احمر بوکھلایا ہواسب کو بلند آواز سے پکارنے لگا ۔۔۔۔۔
خزاں کو بھی گود میں بھر چکا تھا ۔۔۔ بہن کی پیلی پڑتی رنگت ۔۔۔۔بے جان سا وجود دیکھ کر احمر خود بھی پریشان ہوا تھا ۔۔۔۔
******……..
بدر یوں کرسی پر بیٹھا تھا جیسے اپنی سدھ بدھ کھو بیٹھا ہو ۔۔۔۔۔ آفرین کا لب لہجہ تو اس کے دل کے نہال خانوں میں رچے بسے تھے ۔۔۔ کئ سال اس نے صرف اسی ایک لڑکی کو چاہا تھا ۔۔۔۔
اسکی طالب رہ چکا تھا ۔۔۔۔ بیوی بھی ایسی ملی تھی جس سے نا محبت مل پائی تھی نا توجہ اس لئے آفرین دل میں اسی مقام پر موجود تھی
وہ سر پکڑ کر بیٹھ گیا تھا۔۔۔۔
کئ سال وہ اس کی ہر خبر سے بے خبر رہا تھا ۔۔۔۔ دل کی ضد پر بھی کبھی یہ جاننے کی کوشش نہیں کی کہ آفرین کی شادی کا سے کوئی ہے ۔۔۔
اور آج اس کا شوہر اسی کا باس تھا ۔۔۔ جو دولت میں ہی نہیں وجاہت میں بھی بدر کو مات دیتا تھا ۔۔۔۔ اس سے محبت بھی بہت کرتا تھا
وہ ایسا ہی شخص ڈیزو کرتی تھی ۔۔۔۔
دل میں ایک اطمینان سا اترا تھا ۔۔۔۔ لیکن ایک پل۔ بھی بڑی شدت سے جاگی تھی آفرین کوایکنظر دیکھنے کی طلب ۔۔۔۔۔ اب کیسی لگتی ہو گی ۔۔۔۔
بے چین دل میں تڑپ ڈی پیدا ہوئی تھی۔۔۔۔ ایک گھنٹے کی میٹنگ کے جب مظہر اندر داخل ہوا تو بدر کو خشمگین نظروں سے گھور رہا تھا ۔۔ بدر مظہر کی بوکھلا سا گیا جیسے اسکی چوری پکڑی گئ ہو ۔۔۔
“تمہیں نے کہا تھا آپ ی بھابھی کو ٹال کر تم میٹنگہں پہنچوں اور تم یہاں مزے سے بیٹھے ہوئے ہو ۔۔۔ ٹھیک ہے میں سخت قسم کا باس نہیں ہوں دوستانہ ماحولیں کام کرنا پسند کرتا ہوں لیکن ہوں تو باس ۔۔۔ ” وہ دھیرے دھیرے چلتا ہوا اس کے پاس آیا سامنے رکھے ٹیبل پر دونوں ہاتھ جما کر رکھے اور بدر کی آنکھوں میں دیکھنے لگا
” کن خیالوں میں کھوئے ہوئے ہو ” مظہر کے سوال پر وہ بڑی طرح سے سٹپٹایا تھا
” کک۔۔۔۔کہیں نہیں ۔۔۔ میری طبعیت کچھ ٹھیک نہیں ہے ۔۔۔۔ بہت گھبراہٹ سی ہو رہی ہے ۔۔۔ میں چھٹی لے سکتا ہوں بدر اس وقت مظہر کے سامنے بیٹھنے کی پوزیشن میں نہیں تھا ۔۔۔۔۔ جلد از جلد وہاں سے جانا چاہتا تھا ۔۔۔۔
” ہاں لے جاؤں لیکن ابھی تو کچھ دیر ہے تم ٹھیک تھے اچانک سے کیا ہو گیا ” مظہر اب اپنی چیر پر جا کر بیٹھ گیا ۔۔۔۔ بدر نے کوئی جواب نہیں دیا بس اٹھ کر باہر نکل گیا
*******…….
ولی مسلسل روئے جا رہا تھا عفیرہ اس کے رونے سے عاجز آئی تھی نوفل کی۔ بھی آنکھ کھل گئی ۔۔
” کیا تکلیف ہے تمہیں کیوں روئے چلے کا رہے ہو ۔۔۔ جب سے پیدا ہوئے ہو میرا جینا حرام کر دیا ہے تم نے ” عفیرہ کی اس قسم کی گل فشانیاں وہ روز سن رہا تھا ۔۔۔ روزاسے اسی بات پر ڈانٹتا بھی تھا ۔۔۔ لیکن وہ پر نوفل کی ہر بات بے اثر تھی اب بھی وہ ایمی الرجک سیرپ جس میں نیند شامل ہوتی ہے چمچ بھر کر ولی کو پلانے لگی ۔۔۔ دو ماہ کے بچے کے لئے وہ ڈوز بہت تیز تھی ۔۔۔ یہ مشورہ بھی عابدہ بیگم نے دیا تھا کہ بچے کو ڈمذرا نیند کی دوا دے کر سلا دیا کرو تا کہ تم رات کو سکون سے سو سکو ۔۔۔ پہلے تو یہ کام وہ نوفل سے چھپ کر رہی تھی لیکن آج نوفل کی آنکھ کھل گئی تھی اس سے پے کہ عفیرہ ولی کے حلق میں وہ دوا انڈیلتی نوفل نے لیٹے لیٹے اس کا ہاتھ پیچھے جھٹکا تھا سیرپ سے بھرا چمچ بیڈ پر ہی گر گیا تھا
” پاگل ہو گئ ہو تم کیا پلا رہی ہو اسے” نوفل اٹھ کر بیٹھ گیا
” نیند کی دوا ۔۔۔ یہ سوئے گا تو ہی مجھے بھی سونے دے گا ۔۔۔۔ ورنہ کم بخت رات بھر جاگاظت گا
مجھے” عفیفرہ بھی اکھڑ کر بولی تھی ۔۔۔
” کس سے پوچھ کر میرے بچے کو تم اس قسم کی دوا دے رہی ہو ۔۔۔۔ ” سختی اس کے لہجے میں عود آئی تھی
” نوفل میں اس کے ساتھ رات رات بھر نہیں جاگ سکتی ۔۔۔ اس لئے مجھے جو ٹھیک لگے گا میں ویسے ہی اسے پا لو گی ۔۔ ورنہ لو پکڑو اور سنبھالو اپنے بچے کو ” عفیرہ نے غصے سے ولی کو اپنے گود سے اٹھا کر نوفل کی گود میں ڈال دیا ۔۔۔۔ اور خود لیٹ گئ ۔۔۔۔ روتے ہوئے بچے کو نوفل نے اپنے ساتھ لگایا ۔۔۔ اور تیکھی نظروں سے عفیرہ کو دیکھا جو آنکھیں بند کئے ہوئے تھی نوفل اسے کمرے سے باہر لے آیا ۔۔۔۔۔ ولی کے رونے کی آواز سن کر مائرہ کی آنکھ کھل گئی تھی ۔۔۔۔ دن بھر وہ مائرہ کے پاس ہی رہتا تھا ۔۔۔۔ یا عائزہ منزہ علی سے پاس بیٹھی رہتیں تھیں ۔۔۔۔ انکے لئے ایک نیا پیارا سا جیتا جاگتا کھلونا تھا ۔۔۔۔ جو کبھی ہنستا تھا تو کبھی انہیں گھور گھور کر دیکھتا تھا ۔۔۔ کبھی روتا تھاوہ اس کے مختلف انداز کو دیکھ کر ہنستی رہتی تھیں
مائرہ کمرے سے باہر آئی تو نوفل ولی کو چپ کروانے کی کوشش کر رہا تھا ۔۔۔
” کیوں رو رہا ہے یہ ۔۔۔۔تم اسے لیکر بیٹھے ہو ۔۔۔ عفیرہ کہاں ہے “
” مر گئ ہے ۔۔۔۔ ” نوفل نے جل کر جواب دیا ۔۔۔ اسکی خاطر وہ خود کو بہت بدل چکا تھا ۔۔۔ اڈے بات بات پر چیختا بھی نہیں تھا ۔۔۔۔لیکن وہ سدھرنے کو تیار نہیں تھی
” یہ کہہ رہے ہو ہوش میں تو ہو ” مائرہ اسی کو سرزش کرنے لگی جانتی تھی کہ نیند خراب کیے یہاں بیٹھا ہے یقینا عفیرہ نے پھر سے ولی کو سنبھالنے سے انکار کیا ہو گا ۔۔۔
” اور کیا کہو ۔۔۔۔ قسم سے مجھ پر اگر ایک قاتل معاف ہوتے تواس عورت کا کر دیتا ۔۔۔۔ ماں کہلانے کے لائق نہیں ہے یہ عورت ” نوفل کی گود سے مائرہ ولی کو لے چکی تھی ۔۔۔۔ مائرہ کے پاس جاتے ہی وہ چپ ہو گیا تھا ۔۔۔۔ نوفل نے حیرت سے ولی کو دیکھا تھا
” ارے واہ چپ بھی ہو گیا ۔۔۔۔ ” نوفل کو تعجب سا ہوا تھا مائرہ نے اسے ساتھ لگا لیا ۔۔۔۔
اسے ہلکا ہلکا ہلانے جلانے لگی ۔۔۔
“جھے ہی یاد کر رہا ہو گا ۔۔۔ دن میں میرے ساتھ جو سوتا ہے ۔۔۔۔ شاید میری گود کی عادت ہو گئ ہے ۔۔۔۔ تم جا کر آرام کرو
” آرام میرے نصیب میں کہاں ہے ۔۔۔۔ قسم سے اگر ولی نا ہوتا تو میں واقع عفیرہ کو چھوڑ دیتا ۔۔۔۔ جس طرح سے یہ میری زندگی اجیرن کر چکی ہے ۔۔۔۔ نا بچے کی پروا ہے نا میری ۔۔۔۔ ایک سال میں ۔ بھی اس میں ذرا بدلاؤ نہیں آیا ہے ۔۔۔۔ “
“ہو جائے گی ٹھیک ۔۔۔جاسں آرام کرو ۔۔۔تم نے صبح آفس بھی جانا ہے ۔۔۔۔ اسے میں اپنے سلا لیتی ہوں ۔۔۔ ” مائرہ ولی کو اپنے کمرے میں لے گئ ۔۔۔ نوفل نے بھی سکون کا سانس لیا تھا ۔۔۔۔ بچوں کو سنبھالنے کاتجربہ کہاں تھااسے ۔۔۔۔۔
ایک سال مزید بیت چکا تھا ۔۔۔۔۔ عفیرہ اب بھی ویسی ہی تھی ۔۔۔ بلکہ مزید ضدیچاسر اڑیل ہو چکی تھی ۔۔۔۔۔
آجکل نوفل کی پل پل کی خبر رکھنا اس کی اولین ترجعی تھی۔۔۔۔ وہ ذراسا دوستوں میں دیر تک بیٹھ جاتا تو اسے فون پر فون کرنے لگتی ۔۔۔ کسی شادی میں وہ مدعوہوتے تو جنٹس ہال سے لیڈیز میں بلا کر اپنے ساتھ بیٹھ کر کھانا کھانے کی ضد کرنے لگتی ۔۔۔۔ عفیرہ کی کچھ پہلے سے جسامت بھر چکی تھی ۔۔۔۔ وجہ یہی تھی کہ کام کاج چھوڑ بیٹھی تھی ۔۔۔۔ اور نوفل ابھی بھی ویسا ہی دیکھتا تھا ۔۔۔ اس لئے خود کو ان سکیور محسوس کرنے لگی تھی ۔۔۔۔ ولی ماں سے زیادہ مائرہ کاعادی ہو چکا تھا ۔۔۔ عائزہ منزہ کو دیکھا دیکھی مائرہ کومما ہی کہتا تھا ۔۔۔۔
نوفل اور عفیرہ کو چاچو اور چچی ۔۔۔
نوفل نے مائرہ کی والدہ کے گھر کے کرایے اور زریاب کی دوکان کے کرایے سے ایک نئ کالونی میں پر پلاٹ بک کروا دیا تھا جس کی قسط وہ ہر ماہ انہیں پیسوں سے ادا کر رہا تھا جو کرایے میں ملتے تھے ۔۔۔۔ تا کہ اگلے پانچ سالوں میں مائرہ ایک پلاٹ کی بھی مالک بن جائے ۔۔۔۔
آفس سے نوفل کو پے میں ایک اچھی معقول رقم ملتی تھی اس لئے گھر کے اخراجات میں اسے کبھی مسلہ نہیں ہوا تھا ۔۔۔ اب بھی وہ گاڑی میں واپس آ رہا تھا جب سامنے سے آتی ٹیکسی اس کی گاڑی سے ٹکرا گئ ۔۔۔ دونوں گاڑیاں بال بال بچیں تھیں غلطی ٹیکسی ڈرائیور کی تھی۔ نوفل نیچے اترا گیا ٹیکسی ڈرائیور عمر ریسدہ تھا نظر کافی کمزور تھی اس لئے نوفل بھی چپ سا ہو گیا ٹیکسی کے پیچھے بیٹھا شخص بہت دیر سے نوفل کو غور سے دیکھ رہا ۔۔۔۔ ٹیکسی ڈرائیور نوفل سے معذرت کر رہا تھا ۔۔۔۔ وہ شخص گاڑی کا پچھلا دروازہ کھول کر باہر نکل آیا
نوفل کے پاس کھڑا ہو کر بولا
” آپ نوفل ہیں ناں ” نوفل کی توجہ ڈرائیور سے ہٹ کر اس لڑکے کی جانب مبذول ہوئی
“جی میں نوفل ہوں ” نوفل اس انجام شخص کو پہچان نہیں پایا تھا وہ شخص اسے دیکھ کر مسکرانے لگا
” مجھے پہچانا آپ نے “
” سیم سوری بلکل یاد نہیں آ رہا ” نوفل اپنے ذہن ہو زور ڈال دے ہوئے یاد کرنے لگا
” میں زیان ہوں ۔۔۔ “
” کون زیان ‘” نوفل اس نام کے کشی شخص کو نہیں جانتا تھا
