Log Kia Kahe Gy by Umme Hani NovelR50418

Log Kia Kahe Gy by Umme Hani NovelR50418 Log Kia Kahe Gy Episode 9

491.6K
51

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Log Kia Kahe Gy Episode 9

Log Kia Kahe Gy by Umme Hani

مائرہ نے سی گرین رنگ کا ہلکے کام کاجوڑا پہنا تھا میک اپ بھی خوب دل سے کیا تھا کانچ کی چوڑیوں سے دونوں ہاتھ بھرے تھے منہ دیکھائی کے کنگن تو ہمیشہ اس کے ہاتھ کی زینت ہی بنے ہی رہتے تھے ۔۔۔۔ بالوں کی چند لٹوں کو اوپر سے اٹھا کر اس نے کیچر لگایا اور باقی کے بالوں کو کھلا چھوڑ دیا تھا ۔۔۔ صبح سے وہ صفائی اور سجاوٹ کر کے اب تیار ہوئی تھی ۔۔۔ دونوں بیٹیوں فیری فراک پہنائے تھے ۔۔۔۔ باہر پورا لاونج میں رنک برنگی قمقموں کی طرح جلتی بجھتی لائٹوں سے جگمگ جگمگ کر رہا تھا دیواروں پر کہیں کہیں غبارے میں لگائے تھے۔۔۔۔ کیک بھی بیک ہو چکا تھا ۔۔۔ اسکی آئسنگ کر کے مائرہ نے کیک ٹیبل پر سجا دیا ۔۔۔ پارٹی پیک بھی ٹیبل پر رکھا تھا ارادہ یہ تھا کہ جیسے ہی نوفل اور زریاب اندر داخل ہوں گئے وہ پارٹی پیک تب کھولے گی ۔۔۔ ہر بار زریاب نوفل کے ساتھ ملکر مائرہ کو سرپرائز دیتا تھا ۔۔۔ لیکن اس بار وہ بھول گیا تھا اس لئے مائرہ بھی کوئی کمی نہیں چھوڑنا چاہتی تھی ۔۔۔

بس اب بے چینی سے زریاب اور نوفل کا انتظار تھا ۔۔۔۔

لیکن کافی وقت گزر چکا تھا مائرہ نے کال کی لیکن زریاب کافون آف تھا نوفل کے فون پر رنگ ہو رہی تھی لیکن فون نہیں اٹھا رہا تھا۔۔۔۔

” یہ نوفل بھی نا ۔۔۔ باز نہیں آ سکتا ضرور زریاب کو بتا چکا ہو گا میرے سرپرائز کے بارے میں ۔۔۔۔ پیٹ کا ہلکاجو ہے ۔۔۔ بھائی کو بتائے بغیر اس کا کھانا تھوڑی ہضم ہوتا ہے ۔۔۔ اس لئے دونوں بھائی مجھے ویٹ کروانا چاہ رہے ہیں ۔۔۔۔ کوئی بات نہیں ۔۔۔ آئے ذرا۔ یہ نوفل کا بچہ اگر اس نے میرا سرپرائز خراب کیا تو آج نہیں بچے گا میرے ہاتھوں ” نوفل کی عادت سے بھی وہ واقف تھی۔۔۔ جب تک زریاب سے ہر بات نہیں کر لیتا تھا ۔۔۔ اسے نیند نہیں آتی تھی ۔۔۔۔۔

مائرہ بار بار گھڑی دیکھ رہی تھی ۔۔۔۔

” ممی مجھے بھوک لگ رہی ہے ۔۔۔ بابا اور چاچو کب آئیں گئے ۔۔۔ ہم کیک کب کاٹیں گئے ” عائزہ بھی تھکنے لگی تھی منزہ صوفے پر بیٹھی غبارے سے کھیل رہی تھی

” بس میری جان آنے والے ہیں ۔۔۔ تھوڑا سا انتظار کر لو ۔۔۔۔۔ ” مائرہ نے اسے بہلاتے ہوئے کہا

گلی سے ایمبولنس کی آوازیں آنے لگیں تھیں ۔۔۔

” اللہ خیر کرے ۔۔۔ پتہ نہیں کون بیمار ہے ” مائرہ لاونج کادروازہ کھول کر باہر چلی گئ ۔۔۔۔ ایمبولنس ۔۔۔ اس نے گیٹ ذرا ساکھولا تا کہ جھانک کر دیکھ سکے ایمونس کس کے گھر آئی ہے ۔۔۔۔ ایمونس اسی کے گھر کے سامنے کھڑی ہوئی تھی پچھلا دروازہ کھلا تھا۔۔۔۔۔ اسٹیچر پر خون سے لت پت وجود دیکھ کر مائرہ کے جسم سے جان ہی تو نکل گئ تھی

********………

“۔ آفرین کسی روز گھر آؤں ۔۔۔ رات کا کھانا ہمارے ساتھ کھاؤں تین ماہ ہو گئے تمہاری شادی کو تم تو جیسے ہمہیں بھول ہی بیٹھی ہو ” آفرین کی شادی کے چند دن بعد ہی شرافت اور نزاکت اپنے بیوی بچوں کے ساتھ واپس پردیس جا چکے تھے ۔۔۔ پہلے تو عامرہ نے جلن اور حسد۔ کے مارے آفرین کو گھر آنے کی دعوت ہی نہیں دی سوچا خود ہی آنا ہو گا تو آ جائے گی۔۔۔ لیکن تین ماہ گزر گئے تھے ۔۔۔۔ آفرین نے فون تک پلٹ کر نہیں کیا تھا ۔۔۔۔ اس لئے عامرہ ایک دن بچوں کو لیاقت کے ساتھ مظہر کے گھر جا پہنچی تھی ۔۔۔ گھرکہاں تھا کوئی شیش محل تھا وہ ۔۔۔۔۔

عامرہ کا منہ کھلےکا کھلا رہ گیا تھا ۔۔۔ حسرت بھری ٹھنڈی ٹھنڈی آہیں بھر رہی تھی ۔۔۔۔

آفرین بس دور سے ہی سلام کیا تھا ۔۔۔ گلے نہیں ملی تھی۔ لیاقت شدت جذبات سے سر پر پیار کرنے کے لئے آگے بڑھا تھا لیکن آفرین نے سر پر پیار لینے کے لئے سر آگے نہیں کیا نا بھائی ساتھ لگی

” بیٹھیں نا آپ لوگ ” لیاقت سے تو اس نے سلام بھی نہیں لیا ۔۔۔ لیاقت کا ہاتھ ہوا میں کی معلق رہ گیا تھا ۔۔۔

وہ سامنے صوفے پر بیٹھ چکی تھی اس وقت تیار تھی اس لئے بہت پیاری لگ رہی تھی قیمتی لباس اور قیمتی چیزیں بھی انسان کی وقعت بڑھا دیتے ہیں ۔۔۔۔۔۔ لیاقت کا مسکراتا چہرہ بجھ گیا تھا ۔۔۔ نظریں خود با خود جھک گئیں تھیں ۔۔۔ مظہر پینٹ کوٹ پہنے ہاتھ میں گھڑی پہنتے ہوئے نیچے اتر رہا تھا لیاقت اور عامرہ کو دیکھ کر مسکرا کر انہیں کی طرف آ گیا لیاقت سے بغل گیر بھی ہوا۔ عامرہ کو سلام کیا ۔۔عامرہ کو جیسے یاد آ گیا تھا کہ آفرین کودعوت بھی دینی ہے

اس لئے طنز میں ڈوبے لہجے سے کہا

” بس بھابھی مظہر کے اتنے دوست احباب ہیں کہ دعوتوں سے فرصت نہیں ملتی آج بھی ہم کونٹنٹل ہوٹل میں انوائٹیڈ ہیں ۔۔۔ ایم سوری آپ کو میں بلکل وقت نہیں دے سکتی ۔۔۔۔۔ ” آفرین نے سہولت سے انکار کی تھا

” لیاقت بھائی آپ لوگوں کو بتا کر آنا چاہیے تھا ۔۔۔ آج تو ہم بلکل وقت نہیں دے سکتے آپ لوگوں کو ” مظہر نے بھی گھڑی دیکھتے ہوئے کہا تھا ۔۔

عامرہ کا خفت کے مارے برا حال تھا ۔۔۔ اپنے آنے پر خود پر ملامت کر رہی تھی

” بس یہ غلطی ہو گئ ہم سے ۔۔ لیکن کوئی نہیں پھر کبھی صحیح ” لیاقت کی حالت بھی عامرہ جیسی ہی تھی ۔۔۔ دونوں کے چہرے اتر گئے تھے ۔۔۔

” لیکن پلیز آپ لوگ ڈنر کیے بغیر مت جائیے گا ۔۔ ” مظہر نےکچھ مروت دیکھائی تھی پھر ایک ملازمہ سے کہا جو انکے سامنے جوس رکھ رہی تھی

“آیا یہ میرے ان لوز ہیں اس لئے انہیں کھانا کھلائے بغیر مت جانے دیجیے گا ۔۔۔ لیاقت بھائی آپ لوگ پلیز بیٹھیں ” مظہر نے جب انہیں کھڑادیکھا تو مہمان نوازی نبھائی

” نہیں اس کی ضرورت نہیں ہے ہم تو بس آپ لوگوں سے ملنے ہی آئے تھے سوچا کھانے کی دعوت دے دیں ” عامرہ نے تیوری۔ چڑھائے نا گواری سے کہا

” کھانا آپ کے گھر کھائیں یا آپ ہمادے گھر ایک ہی بات ہے ۔۔۔ مجھے خوشی ہو گی اگر آپ کھانا کھا کر جائیں تو ” مظہر کی بات لیاقت ٹال نہیں سکتا تھا

” ہاں جی کیوں نہیں ۔۔۔ آپ لوگ بے فکر ہو کر جائیں ۔۔۔ ” لیاقت نے مظہر کو کہنے کے بعد بیوی کو بھی گھورا تھا کہ چپ چاپ بیٹھ جائے جو وہاں ایک پل رکنے کو تیار نہیں تھی ۔۔۔

” آفرین کم آن یار جلدی چلو ہم لیٹ ہو رہے ہیں ” مظہر نے آفرین کو صوفے پر براجمان دیکھا تو عجلت دیکھاتے ہوئے کہا

آفرین فورا سے اٹھ گی

” او کے بائے لیاقت بھائی ہمہیں اجازت دیں ” عامرہ کو بلکل نظر انداز کیے وہ لیاقت کوالودعی کلمات کہہ کر آفرین کے ہمراہ باہر چلا گیا ۔۔۔۔

گاڑی میں بیٹھتے ہی اس نے بڑی سنجیدگی سے آفرین کو دیکھا تھا ۔۔

” اب بتاؤں ۔۔۔ کہاں جانا ہے ۔۔۔۔ بھائی بھابھی کے سامنے تو ڈرامہ رچا لیا کہ دعوت ہے ” مظہر نے آفرین کے بجھے ہوئے چہرے کو دیکھ کر کہا ۔۔۔

” کہیں بھی لے جائیں مظہر ۔۔۔۔ جب تک لیاقت بھائی گھر پر ہیں “

” سی ویو چلتے ہیں ۔۔۔۔ ” گاڑی کو مین روڈ پر لے جاتے ہوئے مظہر نے کہا آفرین خاموش ہی بیٹھی رہی مظہر نے اسے چپ دیکھ کر کہا

“آفرین کوئی وجہ بھی تو اتنے اکھڑے ہوئے رویے کی ؟۔۔ اپنے ساتھ تم نے مجھے بھی شامل کر لیا ہے سچ پوچھو تو بلکل اچھا نہیں لگ رہا ” مظہر نے تاسف کا اظہار کیا تھا وہ کمرے اپنے کمرے میں ہی تھی مظہر بھی وہیں تھا جب ملازم نے آ کر لیاقت کی آمد کے بارے میں بتایا ۔۔۔ آفرین نے مظہر سے ہی کہا تھا وہ بہانہ کر دے وہ ان سے ملنا نہیں چاہتی ۔۔۔۔۔ بنا کچھ پوچھے ہی وہ مان گیا تھا

” اگر آپ مجھ کچھ نہیں پوچھیں گئے اور یونہی مجھ پر اعتبار کریں گئے تو مجھے بہت اچھا لگے گا ۔۔۔ لیکن پھر بھی آپ چاہتے ہیں کہ سب کچھ آپ کو بتا دوں تو بتا دیتی ہوں ” آفرین اب بھی کچھ نہیں بتانا چاہتی تھی

” نہیں رہنے دو ۔۔۔۔ تم پر اعتبار ہے ۔۔۔۔ جب جی چاہے تب بتا دینا ۔۔۔ اگر مجھ پر بھی تمہیں اعتبار ہو ؟ ” مظہر نے مسکرا کر اس سے کہا تھا

” آپ کے لئے تو جان حاضر ہے ۔۔۔ کبھی مانگیں گئے تو ایک پل میں دیدوں گی بنا کوئی سوال کیے ۔۔ اتنا عتبار ہے آپ پر ” آفرین کی بات پر گاڑی کو بریک لگی تھی ۔۔ خالی گلیوں میں گاڑی رواں دواں تھی ۔۔۔ جھٹکے سے گاڑی رکی تھی ۔۔۔ مظہر نے غصے سے آفرین کو دیکھا تھا ۔۔۔

جو گاڑی کے جھٹکے سے ہل کر رہ گئ تھی ۔۔۔۔

” آئندہ جان دینے کی بات مت کرنا مجھ سے ۔۔۔۔۔ پلیز ” اپنے غصے کو ضبط کرتے ہوئے اس نے کہا ۔۔ آفرین چپ سی ہو گئ تھی کچھ سہم بھی گئ تھی ۔۔۔ شادی کے تین ماہ میں پہلی بار مظہر کو اتنے غصے میں دیکھا تھا ۔۔۔ ورنہ اب تک تو وہ اس کے دھیمے لہجے کو ہی سنتی آ رہی تھی ۔۔۔ عجیب شخص تھا ۔۔۔ محبت کے لئے اسے لفظوں کی ضرورت نہیں تھی۔ ۔۔۔ نا ہی ذیادہ اظہار کرنے کا،قائل تھا

لیکن اس کے ہر عمل سے محبت چھلکتی تھی

رات کو وہ لوگ ڈنر کے بعد ہی گھر لوٹے تھے ۔۔۔۔

******……

رمشہ بڑے خراب موڈ میں تھی نوفل کی باتوں سے دلبرداشتہ ہوئی تھی ۔۔۔ اب بھی شام کی چائے کے لئے انکار کر دیا تھا آفس سے آتے ہی اپنے کمرے میں جا کر لیٹ گئ تھی اسکی والدہ اس کے کمرے میں داخل ہوئیں تو وہ اٹھ کر بیٹھ گئ

” کیا بات ہے کل سے موڈ کیوں آف ہے تمہارا ” وہ رمشہ کے پاس بیٹھ کر پوچھنے لگیں

” امی نوفل کی لائف میں بس اسکی فیملی ہی امپوڈنڈ ہے ۔۔۔ جب دیکھوں کبھی بھائی کی خوبیاں تو کبھی بھابھی کی ۔۔۔”

” تم فکر مت کروں ۔۔۔ شادی کے بعد اپنی طرف مائل کر لینا ۔۔۔ “

” امی آپ جانتی ہیں میں جوائن فیملی میں نہیں رہ سکتی اور نوفل تو بھائی کا کلمہ پڑھتا نہیں تھکتا ” وہ چڑ کر بی تھی

” ایک شادی ہو لینے دو اس کے بھائی بھابھی سے ہی کہہ دونگی کہ میری بیٹی یوں رہنے کی عادی نہیں ہے ۔۔۔ گھر تمہارے بابا تمہیں لیں دیں گئے ایک ہی تو بیٹی ہو تم ہماری “

” امی آپ کو لگتا ہے کہ وہ میرے دیے ہوئے گھر

میں۔ رہے گا ۔۔۔ خوداری کا کیڑا ہے اس میں ۔۔۔۔ ” رمشہ نوفل کے مزاج سے واقف تھی

” یہ سب کہنے کی باتیں ہوتیں ہیں ۔۔۔ بعد کی بعد میں دیکھی جائے گی ۔۔۔ تم فکر مت کروں اور اب اٹھو چلو میرے ساتھ چائے پیو ” رمشہ کی والدہ نے بات ختم کی تھی

******…….

آفرین کو صرف ملازمین کے سر پر کھڑے ہو کر کام ہی کرونا ہوتا تھا ۔۔۔ کبھی مالی سے باہر لان کی صفائی وہ کروا رہی ہوتی تو کبھی کچن میں ڈنر کے لئے مظہر کی پسند کی ڈشز بنوا رہی ہوتی آبان بھئ موڈی قسم کا بچہ تھا ۔۔۔

بہت نخروں سے کھانا کھاتا تھا ۔۔۔ اسے کھانا کھلا کر تھک کر وہ اپنے کمرے میں جا کر لیٹی تھی ۔۔۔

ماضی کی یادیں جہاں تلخ تھیں وہ مظہر کی وجہ سے بہت حیسن بھی گزریں تھی۔

شادی کے اگلے روز ہی اسکی پہلی بیوی کے کمرے سے چیخنے کی آوازیں آ رہیں تھیں ۔۔۔ آفرین کی آنکھ اسی شور سے کھلی تھی ۔۔۔۔ اس نے بیڈ کی طرف دیکھا تو مظہر وہاں موجود نہیں تھا وہ اٹھ کر بیٹھ گئ ۔۔ چلانے کا اتنا شور تھا کہ مجبورا اسے باہر آنا پڑا سامنے کا کمرہ شاہد مظہر کی پہلی بیوی کا تھا شور وہیں سے اٹھ رہا تھا

آفرین خرامہ خرامہ قدم اٹھاتی وہاں پہنچی تھی ۔۔۔

” مظہر تم میرے ہو ۔۔۔ میری ہو نا ” آفرین کے قدم وہیں جم گئے تھے

” ہاں ماریہ تمہارا ہی ہوں ۔۔۔ ” مظہر اسے شاید اپنی محبت کا یقین دلا رہا تھا

” نہیں تم جھوٹ بول رہے ہو ۔۔۔۔ رات تم میرے پاس نہیں تھے ۔۔۔۔ کہاں گئے تھے؟ ۔۔۔ کیوں گئے تھے ۔؟۔۔۔ اپنی ۔۔۔ اپنی دوسری بیوی کے پاس گئے تھے؟ ۔۔ بتاؤں مجھے کہاں گئے تھے؟ ” وہ چلا کر پوچھ رہی تھی آفرین باہر کھڑی اس کی چیخ پر وہ گھبرا کر ایک قدم پیچھے ہٹی تھی ۔۔۔ خوف سے دل کی دھڑکنوں میں اضافہ ہو تھا ۔۔۔

” کیا ہو گیا ہے تمہیں ماریہ ۔۔۔ تمہیں نے ضد کی تھی مجھ سے کہ میں دوسری شادی کر لوں ” مظہر کا لہجہ متوازن ہی تھا شاید اسے سمجھا رہا تھا

” اسے چھوڑ دو مظہر ۔۔۔۔ اسے چھوڑ دو میں پوری رات نہیں سو پائی ۔۔۔ مجھے جب بھی یہ احساس ہوتا کہ تم اس کے پاس ہو میرے سر میں درد شروع ہونے لگتا تھا ۔۔۔ میرا دل برداشت نہیں کر رہا مظہر ۔۔ مجھے گھٹن ہو رہی ہے دیکھوں دیکھوں مجھے سانس نہیں آ رہا ۔۔۔

مجھے لگتا ہے مجھے کوئی فرق نہیں پڑے گا ۔۔۔لیکن نہیں میں نہیں سہہ سکتی ۔۔۔۔ میں تمہیں کسی کے ساتھ شیر نہیں کر سکتی۔۔۔ مجھے اولاد نہیں چاہیے ۔۔ مجھے کچھ بھی نہیں چاہیے ۔۔۔ ۔مجھے صرف تم چاہیے ہو ۔۔۔ صرف تم” ماریہ بے تحاشہ رو نے کی آوازیں آ رہیں تھیں آفرین کو لگا کہ شاید یہ سائبان بھی عارضی ہے

” میں تمہارا ہی ہوں صرف تمہارا ۔۔۔۔ کسی کا نہیں ہوں تم سے محبت کرتا ہوں ۔۔۔ تمہارے پاس ہی ہوں ۔۔۔۔ ” مظہر کی بات پر نا چاہتے ہوئے بھی اس کے آنسوں چھلک گئے تھے ۔۔۔۔ یہ جانتی تھی کہ وہ شادی شدہ ہے پہلی بیوی بھی ہے ۔۔۔ لیکن شاید جو جیلس اندر بیٹھی ماریہ آفرین کے لئے رکھ رہی تھی وہی جیلس باہر کھڑی آفرین کو بھی محسوس ہو رہی تھی ۔۔۔

” وعدہ کرو اس کے پاس نہیں جاؤں گئے ۔۔۔۔۔ وعدہ کرو اسے چھونے گئے بھی نہیں ۔۔۔۔ تمہاری محبت پر میرا حق کے مظہر۔۔۔۔ چھوڑ دو اسے ۔۔۔۔ اس لڑکی کو چھوڑ دو ۔۔۔ ورنہ میراسر درد سے پھٹ جائے گا ” آفرین کی نے بے اختیار اپنے منہ پر ہاتھ رکھ اپنی سسکیاں دبائیں تھیں اگر مظہر نے چھوڑ دیا تو کیا کرے گی کہاں جائے گی

” ماریہ ہوش میں آوں۔۔۔۔ ہو کیا گیا ہے تمہیں۔۔۔ پچھلے چھ ماہ سے تم ایک ہی رٹ لگائے ہوئے تھی ۔۔ کبھی کہتی تمہیں چھوڑ دوں ۔۔۔ کبھی کہتی تھی دوسری شادی کر لوں اور اب کہہ رہی ہو کہ اسے چھوڑ دوں ۔۔۔۔ مجھے انسان رہنے دو خدا کے لئے۔۔۔۔۔ دوا لو اپنی حالت دیکھوں کیا ہو گئ ہے تمہاری” مظہر بے بسی سے بول رہا تھا

باہر کھڑی آفرین جیسے پتھر کی ہوئی تھی ۔۔۔ رات کو مظہر کی باتوں سے لگا تھا کہ شاید امتحان ختم ہو چکے ہیں ۔۔۔ اسے بھی ایک مستقل ٹھکانہ مل گیا ہے لیکن اب لگ تھا سب کچھ ریت کی دیوار ہے ۔۔۔۔ پہلی بیوی اس کی کزن ہے محبت ہے ۔۔۔

وہ کیا ہے ۔۔۔۔ کچھ بھی تو نہیں ۔۔۔

” مظہر تم رات کو اس کے پاس نہیں جاؤں گئے ۔۔۔ مظہر تم میرے ساتھ رہو گئے “

” ٹھیک ہے میں تمہارے پاس ہی رہوں گا ۔۔ کہیں نہیں جاؤں گا ۔۔۔۔ لیکن ابھی تم لیٹ جاؤں ۔۔۔ ورنہ پھر سے سر درد ہو گا ۔۔۔ “

” اگر میں سو گئ تو تم اسکے پاس چلے جاؤں گئے “

” نہیں جاؤں گا کہیں بھی تمہارے ہی بیٹھا ہوں ۔۔۔ ” اس سے ذیادہ کیاسنتی

آفرین مرے مرے قدم اٹھاتی اپنے کمرے میں چلی تھی ۔۔۔۔ الماتی سے ایک سمپل سا جوڑا نکالا اور نہا کر پہن لیا ۔۔۔۔۔

کچھ دیر بعد ہی ایک ملازمہ اس کے کمرے میں آئی تھی

” بی بی جی ناشتہ کمرے میں لے آؤں یاڈائنگ میں کریں گئیں “

” ڈائنگ میں میرے علاؤہ اور کون ہو گا ؟

” کوئی نہیں جی بڑی بیگم صاحبہ تواپنے کمرے میں ہی کرتی ہیں اور صاحب جی نے ماریہ جی کے ساتھ ناشتہ انکے کمرے میں کیا ہے ۔۔ ” ملازمہ کی بات سے دل مزید بوجھل ہوا تھا

” جب مجھے اکیلے ہی کھانا ہے تو کمرہ ہی ٹھیک ہے ” وہ بے یںسے بولی

” بی بی جی کیا کھانا پسند کریں گئیں “

” بس ایک مگ چائے ساتھ چند بسکٹ۔۔۔ اور کچھ مت لانا ” آفرین کی بات سن کر وہ چلی گئیں ناشتے میں چائے کے ساتھ کئ قسم کے بسکٹ ہی تھے ابھی وہ ناشتہ کر ہی رہی تھی جب مظہر کمرے میں آیاتھا اسے سامنے کرسی پر بیٹھے ناشتہ کرتے دیکھ کر مسکرایا تھا

” اچھا کیا آپ نے ناشتہ کر لیا ۔۔۔۔ ورنہ میرے انتظار میں نا جانے کب تک بھوکی بیٹھی رہتیں ” مظہر نے شکوہ کیا تھا یاواقعے ہی اسے کہا تھا آفرین سمجھ نہیں پائی تھی وہ آفرین کے برابر رکھی کرسی پر بیٹھ گیا

” آپ تو ناشتہ کر چکے تھے ۔۔۔۔ اس لئے میں کس کے انتظار میں بھوکی رہتی ” نا چاہتے ہوئے بھی وہ طنز کر گئ تھی مظہر کی مسکراہٹ اور گہری ہوئی تھی

” میں نے صرف ماریہ کو ناشتہ کروایا تھا بس چند نوالے اسکے ساتھ لئے تھے ۔۔۔ فکر آپ کی بھی تھی ۔۔۔ کہ کہیں میرے انتظار میں بھوکی نا بیٹھیں رہیں ” نا جانے کیوں آفرین مظہر کی بات پر شرمندہ سی ہوئی تھی

” سوری مجھے لگا آپ ناشتہ کر چکے ہوں گئے ۔۔۔ وہ ملازمہ نے بھی یہی بتایا تھا ۔۔۔ کہ آپ اپنی وائف کے ساتھ ناشتہ کر چکے ہیں ۔۔۔ اس لئے میں نے بھی آپ کانتظار نہیں کیا ورنہ ضرور کرتی “

” وائف کے ساتھ ہی کرنا چاہتا تھا ۔۔ خیر ۔۔۔ اب کر لیتے ہیں ۔۔۔ لیکن ناشتہ بھی تو ہو ۔۔۔ خالی بسکٹ اور اتنا بڑا مگ وہ بھی چائے کا ” مظہر نے اس کے ہاتھ سے چائے کا مگ کر سائیڈ پر رکھا دروازے پر دستک ہوئی تھی

” اندر آ جائیں ” مظہر کی اجازت پر ایک ملازم ناشتے سے بھری ٹرالی اندر لایا تھا ۔۔۔ کئ قسم کے جواسز تھے ۔۔ ناشتے میں بھی اہتمام تھا ۔۔ مظہر اور آفرین کے سامنے رکھے ٹیبل پر سب سجا کر ملازم جا چکا تھا ۔۔۔۔ ایک گلاس میں اونج جوس ڈال کر مظہر نے آفرین کے ہاتھ میں تھمایا تھا

” پہلے یہ پئیں ۔۔۔ ناشتہ کی باری بعد کی ہے “

” میں کر چکی ہوں ۔۔۔ اب تو گنجائش نہیں ہے “

” اتنا ساناشتہ کرتی ہیں آپ ۔۔۔ جبھی تو اتنی سلم ہیں ۔۔ لیکن اب میرے ساتھ کریں گئ تو ٹھیک ہو جائیں گی ۔۔۔ ” جوس آفرین کے لبوں پر لگاتے ہوئے وہ بولا پہلا گھونٹ اس نے مظہر کے ہاتھ سے پیا تھا ۔۔۔۔

پھر گلاس آفرین نے پکڑ لیا ۔۔

” گڈ ۔۔۔۔ ” یہ کہہ کر وہ اس کے لئے بریڈ کے سلائس پر مکھن لگانے لگا

” سنئے میں یہ نہیں کھاتی ” آفرین کے پکارنے کے انداز پر وہ ہنسا تھا

” آپ مجھے سنئے ۔۔۔ سنئے کہا کریں گئیں آفرین ۔۔۔ سیریسلی ۔۔۔۔ ” آفرین کو لگا کچھ غلط کہہ گئ ہے شاید ۔۔۔ پھر اسے سلائس ہاتھ میں پکڑتے ہوئے کہا

” میاں بیوی میں اگر دوستی ہو جائے تو ۔۔۔۔ رشتہ اور بھی مضبوط ہو جاتا ہے ۔۔۔ اور پائیدار ہو جاتا ہے ۔۔۔ اس لئے نو۔۔ سنئیے ۔۔۔ اونلی مظہر” اب وہ دوسرے سلائس پربٹر لگانے لگا ۔۔۔ آفرین وہ سلائس کھانے لگی حالانکہ پسند نہیں تھا لیکن دینے والے کو انکار کرنے کی ہمت نہیں ہوئی تھی۔۔۔۔ دوسرا سلائس وہ خود کھا رہا تھا

” آفرین میں پہلی ہی رات بیوی کو لیکچر سنانے کو اچھا نہیں سمجھتا ۔۔۔ بہت دقیانوسی سی سوچ لگتی ہے ۔۔۔ کہ ایک لڑکی کو آتے ہی ایک گھنٹے کے اندر اپنے گھر اور گھر والوں کے مزاج اور طریقے کار کو ایک سبق کی طرح سنایا جائے اور گلی صبح سب فیملی ممبر اس ایک رات کی دلہن سے یہ امید رکھیں کہ اب اس لڑکی کا ہر قدم ہمارے مطابق چلے گا ۔۔۔۔ آپ کا کیا خیال ہے ؟ ” مظہر کی بات پر وہ کیا رائے دے سکتی تھی ۔۔۔۔ آج تک جتنی شادیاں اس نے دیکھیں تھیں ۔۔۔ یہیں تو روج تھا دولہا سب سے پہلے اپنے گھر کی فیملی اور مزاج کے بارے میں ایک طویل لیکچر دیتا ہے ۔۔۔ امی اس مزاج کی ہیں انہیں یہ یہ باتیں پسند نہیں ذرا خیال رکھنا ۔۔۔ ابو کے سامنے ایسے بات کرنا بہن بھائیوں سے یوں رہنا ۔۔۔۔ دولہا بھی شاید مجبور ہوتا ہے کیونکہ ماں بہنوں نے اچھی پالش کر کے اسے دلہن کے پاس بھیجا ہوتا ہے ۔۔۔۔

اور صبح سب لوگ اس دلہن سے یہ توقع رکھتے ہیں کہ وہ بائیس سال جس ماحول سے گزار کر آئی ہے اسے چھوڑ کر بارہ گھنٹے گزارنے کے بعد میاں کے لیکچر کے مطابق سب کے ساتھ پیش آئے گی ۔۔۔۔۔

مائیں تو یہ تک کہتی ہیں کچے گھڑے کو شروع میں جو رنگ دیدو گئے وہی چڑھے گا ابھی سے اسکی چٹیا کھنچ کے رکھوں گئے تو ساری زندگی زبان نہیں چلائے گی ۔۔۔ اور اگر پہلے ہی سر۔ چڑھا لیا تو تمہارے سر پے ناچے گی ۔۔۔۔ یہ باتیں ایک شوہر کو بیوی کے ساتھ حاکم اور غلام کا درس دیتی ہیں ۔۔۔ جسے سمجھداری سمجھ کر ماں اپنے بیٹے کو بیوی رکھنے کے گن سیکھاتی ہیں ۔۔۔۔ ایک نئ زندگی کا آغاز ایک مرد لوگوں کی باتوں کی وجہ سے یوں ایک نئ نویلی دلہن سے کرتا ہے جیسا کوئی مالک اپنی کنیز سے ۔۔۔۔ پھر گاہے بگاہے بیٹے کو بیوی کی ہر خامی دیکھائی جاتی ہے ۔۔۔ ہر خوبی چھپائی جاتی ہے ۔۔۔۔ اور کب وہ شوہر کم اور ساس ذیادہ بن جاتا ہے اسے بھی خبر نہیں ہوتی ۔۔۔اور جھگڑے فسادات کا ایسا دور چلتا ہے کہ ساس رہے نا رہے اس کے پیغامات سلامت رہتے ہیں ۔۔۔ شوہر اور میں ذیادہ فرق نہیں رہتا

آفرین بھی رات کو منتظر تو تھی کہ کب مظہر اسے بھی یہ بتائے گا کہ اسکی والدہ کے ساتھ کیسے رہنا ہے ۔۔۔ اور پہلی بیوی کے ساتھ کیسے پیش آنا ہے ۔۔۔۔ کب سونا ہے کب جاگنا ہے ۔۔۔ لیکن اس نے کچھ نہیں کہا تھا ۔۔۔۔ اور اب بھی دوستی کا خواہشمند تھا ۔۔۔۔

” میں نے کبھی یہ سوچا نہیں ” آفریں نے جوس کا گھونٹ بھر کر کہا حالانکہ دل یہ کہہ رہا تھا کہ میں نے کبھی یہ دیکھا سنا نہیں ۔۔۔۔۔ “

” دوستی کے بارے میں کیا خیال ہے ۔۔۔۔ میں بہت بہترین دوست ثابت ہو سکتا ہوں ۔۔۔ آزمائش شرط ہے ” مظہر نے موضوع بدل دیا تھا جس اپنایت سے دوستی کا کہا تھا وہ کہاں انکار کر سکتی تھی اس وقت تو اسے شوہر سے ذیادہ ایک دوست کی ہی ضرورت تھی”

” مجھے منظور ہے ” آفرین کے اقرار پر س نے گہری سانس لی تھی”

” شکر ہے آفریں آپ نے مجھے اس قابل سمجھا ” مظہر عجیب سا شخص تھا ۔۔ اس کی سمجھ سے بالاتر ۔۔۔۔۔ آفرین سے اس نے ایک۔ بار یہ نہیں کہا کہ جاؤں اور میری ماں کو سلام کرو جا کر ۔۔۔ آج کے بعد انہیں امی کہہ کر پکارنا وہ میری ماں ہے اس لئے تم بھی امی کہو ” لیکن آفرین ناشتے کے بعد ہی سب سے پہلے ساس کے کمرے میں گئ تھی ۔۔۔ انہیں سلام کیا سر پیار لیا کچھ گھنٹے انہی کے پاس بتائے ۔۔۔ وہ بیمار سی تھیں ذیادہ باتیں کرتی تو سانس پھولنے لگتا ۔۔۔ آفرین نے ملازمہ سے پوچھ کر انکی ساری میڈسن سمجھ لیں تھیں کہ کب کونسی دینی ہے ۔۔۔۔

” امی کل سے آپ کو میں دوا میں خود کھلایا کروں گی “

” رہنے دو بیٹا ۔۔۔ یہ ہے نا کھلا دیا کرے گی ۔۔ مظہر اسے تنخواہ دیتا تو ہے ۔۔۔ تم ساری ذمے داری لو گی تو یہ تو ہٹ حرام ہو جائے گی “وہ نقاہت کی وجہ سے ٹہر ٹہر کر بول رہیں تھیں ۔۔۔

” میں بہت چھوٹی تھی دس سال کی جب امی کی وفات ہو گئ ۔۔۔۔ بہت ترسی ہوں ماں کی محبت کو ۔۔۔ آپ کی ذرا سی خدمت مجھے بہت سکون بخشے گی ۔۔۔ اس لئے مجھے وہ سب کرنے دیں جو میں کرنا چاہتی ہوں ۔۔۔۔ ” آفرین بات سن کر انہوں کانپتے ہاتھوں سے پکڑ کر ساتھ لگایا تھا

” میں تو بہت ۔۔۔۔ خوش نصیب ہوں ۔۔۔۔ دونوں بہوئیں مجھے ہیرے جیسی ہی ملیں ہیں ۔۔۔ ماریہ جب ٹھیک تھی تو وہ بھی ایسے ہی پیاری پیاری باتیں کرتی تھی ۔۔۔ کتنے خوش تھے میرے بچے آپس میں ایک دوسرے کے ساتھ لیکن یہ لوگ کہاں کسی کوسکھی دیکھ سکتے ہیں۔۔۔لوگوں کی نظر کھا گئ میری بچی کو ۔۔۔۔ چپ چاپ اب کی باتیں سن کر دل پر لیتی رہی دیکھوں تو حالت کیا ہو گئ ہے اسکی ۔۔۔۔ سوکھ کا کانٹا ہو گئ ہے ۔۔۔ رنگت ایک دم پیلی پڑ گئ ہے جب درد سے تڑپتی ہے تو میرا کلیجہ پھٹنے کو آتا ہے ۔۔۔ لوگوں کی باتوں نے کہیں کا نہیں چھوڑا میری بچی کو ۔۔۔۔ ” انکی آبدیدہ آنکھوں کو آفرین نے اپنے ہاتھ سے صاف کیا تھا۔۔۔

” ٹھیک ہو جائیں گئی۔ وہ بھی “

” کہاں بیٹا۔۔۔۔ اتنی مہلت اسے زندگی دے ہی کب رہی ہے ۔۔۔ بہت ذیادہ بھی جی گئ تو سال بھر ہی جئیے گی ۔۔۔ لیکن جس طرح سے اس کے درد اٹھتا ہے ۔۔۔ شاید اتنا بھی نا جی سکے ” وہ رنجیدگی سے بولیں ۔۔۔۔

فون کی بیل بجی تھی تو آفریں ماضی سے حال میں آئی تھی ۔۔۔ مظہر کا فون تھا ۔۔۔ آفرین نے فون اٹھایا جو خبر مظہر نے اسے سنائی تھی آفرین کے ہاتھ سے موبائل چھوٹ کر بیٹھ گرا تھا ۔۔۔۔

” مائرہ ۔۔۔۔ نہیں نہیں ” کئ آنسوں آنکھوں سے بہے تھے

******……..

اس بار زیان عفیرہ کو جس ریسٹورنٹ میں لایا تھا ذیادہ مہنگا تو نہیں تھا لیکن الگ الگ چھوٹے چھوٹے کیبن سے بنے ہوئے تھے اور ہر کیبن کے اندر چار کرسیاں اور ایک چھوٹا سا گول میز رکھا تھا ہرکیبن کے بیرونی طرف ایک پردہ سا لگایا گیا تھا

کہ اگر کوئی با پردہ خاتون بھی کھانا کھانا چاہے تو اپنی فیملی میں بنا نقاب کے کھا سکتی تھی ۔۔۔

زیان نے عفیرہ کو بیٹھے کا اشارہ کیا اور خود اسکے سامنے بیٹھنے کے بجائے اس کے برابر والی کرسی پر بیٹھ گیا ۔۔۔ پہلے بھی کئی بار عفیرہ اس کے ساتھ آئی تھی لیکن وہ ریسورنٹ اوپن سے ہوتے تھے ۔۔۔ اور زیان ہمیشہ اسکے سامنے والی کرسی پر بیٹھتا تھا ۔۔۔ ایک لمبا چوڑا آڈر زیان نے وئٹر کو دیا تھا

” سنو یہ پردہ ٹھیک کر کے جاؤں ” وئٹر باہر نکلنے لگا تو زیان کی پکار پر اس نے پردہ درست کر دیاپھر عفیرہ کو مسکرا کر دیکھنے لگا ۔۔

” یہ بلکل سیو ہے ۔۔۔ “

” ہاں اچھا ہے انسان ذرا کھل کر بات کر سکتا ہے ” عفیرہ نے سر سے دوپٹہ بھی اتار دیا تھا ۔۔۔

” ہاں تم ایزی ہو کر بیٹھو ۔۔۔۔ نو پرابلم ” زیان نے عفیرہ سے کہا خاصا گہرہ سا گلا تھا اسکی قیمیض کا یا شاید وہ ہمیشہ اسکے سامنے بیٹھتا تھا آج برابر میں بیٹھا تھا پھر عفیرہ نے سر سے دوپٹہ اتار کر کندھے کے ایک جانب ہی لٹکا رہنے دیا تھا ۔۔۔پھیلا کر نہیں لیا تھا زیان کی نظر اچانک ہی اسکی طرف اٹھی تھی ۔۔۔ جلدی سے ہٹا بھی لی تھی ۔۔۔ لیکن دل کے اندر بیٹھا شیطان اپناوار چل چکا تھا ۔۔۔ نظروں کی خطا کرنے کے لئے دل نے پھر سے اکسایا تھا ۔۔۔ ایسے موقع پر سب کچھ جانتے بوجھتے ۔۔ نظروں کی بے باکی کو بھانپتے ہوئے بھی عفیرہ بے نیاز بن جاتی تھی ورنہ عورت خود پر اٹھنے والی نظروں کو جان جاتی ہے ۔۔۔

” زیان وہ ۔۔۔ وائٹ گولڈ چین لی تم نے ” عفیرہ کو بس یہی ایک فکر تھی

” ہاں لیکر آیا ہوں جبھی تو ایسا ریسٹورنٹ چوس کیا ہے تا کے تمہیں اپنے ہاتھوں سے پہناسکوں

جیب سے اس نے ڈبیہ نکالی عفیرہ کی آنکھیں چمکیں تھیں ۔۔۔۔ لالچ بھی آندھی دیوی کا نام ہے جس کی بھوک کبھی نہیں مٹتی ۔۔۔۔ اور اپنی بڑھتی بھوک کی تسکین کے لئے وہ ہر چیز داؤ پر لگا دیتی ہے ۔۔۔۔ ایسی ہی ایک دیوی کا نام عفیرہ تھا ۔۔۔۔ چین دیکھ کر وہ اتنی خوش تھی جیسے پاگل سی ہو گئ ہو ۔۔۔

” تھنک یو سو مچ زیان ” شدت جذبات سے زیان کا ہاتھ بڑے غلط وقت پر تھام کر چوم بیٹھی تھی ۔۔۔ وہ تو پہلے ہی اپنے جذبات کو قابو میں نہیں رکھ پا رہا تھا عفیرہ کی یہ بے ساختہ حرکت نے جیسے اندر آگ سی لگا دی تھی ۔۔۔۔ عفیرہ نے باقی کاڈوپٹہ بھی پیچھے کھسکایا آگے آئے گھنگرالے ڈائی شدہ بالوں کو پیچھے کر کے گویا اسے چین پہنانے کی دعوت دی تھی ۔۔۔۔ چین پہناتے ہوئے زیان کا چہرہ بلکل عفیرہ کے چہرے کے مقابل تھا قریب بھی بہت تھا نظریں اسی پر جمی ہوئیں تھیں چین پہنانے کے بعد جو گستاخی اس نے سر زد کی تھی اسکی توقع عفیرہ کو ہر گز نہیں تھی ۔۔۔۔ عفیرہ کا ۔ اپنا آپ اسکی گرفت سے چھڑونا مشکل ہوا تھا چند لمحوں بعد وہ پیچھے ہٹا تھا ۔۔۔۔۔

” زیان شیم آن یو ” بے اختیار وہ بولی تھی

” اتنا تو حق بنتا تھا میرا ۔۔۔۔۔ مجھے بھی تو چند لمحے یاد گار کرنے تھے ۔۔۔۔ اب جب بھی چین کو تم دیکھو۔ گئ میرے ساتھ بتائے خوبصورت لمحے یاد آئیں گئے ” کوئی اور موقع ہوتا تو عفیرہ اٹھ کر چلی جاتی لیکن سونے کی چین کا شاید وزن بہت زیادہ تھا ۔۔۔۔ کہ وہ ہل بھی نہیں پائی تھی ۔۔۔۔

کچھ ہی دیر میں وئٹر کھانا لیکر پہنچ چکا تھا ۔۔۔ چند نوالوں کے سوا عفیرہ کے حلق میں کچھ نہیں اترا تھا ۔۔۔ واپسی پر عفیرہ کو اسکی مطلوبہ بس کے پاس زیان نے اسے بائیک سے اتارا تھا ۔۔۔

” لو یو عفی اینڈ ٹیک کئیر ” آنکھ ونک کر کے وہ بائیک آگے بڑھا چکا تھا ۔۔۔ عفیرہ کو پہلی بار وہ برا لگا تھا ۔۔۔ اپنی حرکتوں پر شاید وہ ذہنی طور پر پردہ پوشی ڈال چکی تھی ۔۔۔ اس لئے غلطی بس زیان کی نظر آئی ۔۔۔ کسی اجنبی لڑکے کا ہاتھ بلا تکلف پکڑنا ۔۔۔ اس کے ساتھ بنا فاصلہ رکھے بیٹھنا محبت کے نام پر کندھے سے کندھا جوڑنا ۔۔۔ اس کا بازو پکڑنا شاید عفیرہ کے لئے جائز تھا ۔۔۔ جب کسی غیر مرد کواتنی بے تکلفی کوئی لڑکی دیکھائے گی تو وہ کیوں جھجکے کا ۔۔۔ زیان کا حوصلہ کھولنے والی وہی تھی

لیکن اندر بیٹھا شیطان کہاں اپنی غلطی مانتا ہے ۔۔۔۔

” بے شرم انسان اب کبھی نہیں ملو گی اس سے ” یہ کہہ کر وہ بس میں بیٹھ گئ

*******……..

بلی کا بچہ نوفل کے پاؤں میں اچانک سے آیا تھا اس کو بچانے کے چکر میں وہ سامنے سے تیز رفتار گاڑی کو دیکھ نہیں پایا تھا

” نوفل ” زیاب کی جان ہی تو نکل گئ تھی تیزی سے وہ نوفل کی جانب بھاگا تھا ایک زور دار دھکا نوفل کو لگا تھا دور جا کر وہ گرا تھا سر زمین سے ٹکرایا ۔ماتھے سے خون رسنے لگا تھا سب کچھ اتنی تیزی سے ہوا تھا کہ وہ اب بھی سمجھ نہیں پایا تھا ۔۔۔ شور کی آوازوں پر اس نے بے ساختہ پلٹ کر دیکھا زریاب سڑک پر گرا ہوا تھا ۔۔۔ بہت سے لوگ اسکے پاس موجود تھے ۔۔۔ کوئی گاڑی وہاں موجود نہیں تھی لیکن اس کاسر اور چہرہ خون وخون ہو چکا تھا ۔۔۔ وہ بھاگتے ہوئے زریاب کے پاس پہنچا تھا ۔۔۔

” جلدی اسے اسے ہوسپٹل لے جاؤں سرپر چوٹ لگی ہے خون بہت بہہ گیا ہے” ۔۔۔ ایک بزرگ فکرمندی سے بولا نوفل نے جلدی سے اسے گود میں اٹھایا تھا اپنی گاڑی کی پچھلی نشست کھول کر اسے لیٹایا ۔۔۔ چند نوجوان بھی اسکی مدد کے لئے پہنچ گئے تھے

” آپ اپنے بھائی کے ساتھ بیٹھ جائیں گاڑی میں ڈرائیو کر کے ہاسپٹل لے جاتا ہوں ” ان میں ایک نوجوان نے کہا نوفل خود بھی اس کنڈشن میں نہیں تھا کہ گاڑی چلا سکے اس نے چابی نکال کے نوجوان کے حوالے کر دی خود زریاب کاسر اپنی گود میں رکھے پیچھے بیٹھ گیا لڑکا بھی بہت تیز ڈرائیو کر رہا تھا ۔۔۔

” بھائی آپ کو کیسے لگ گئ ۔۔۔ ” آنسوں اس کی آنکھوں سے ٹپ ٹپ بہہ رہے تھے ۔۔۔

“تم ۔۔۔۔ تم ۔۔۔۔ ٹھیک تو ہو ۔۔۔۔۔ نو۔۔۔ فل ۔۔۔ تمہیں ۔۔۔۔ چوٹ ۔۔۔تو نہیں آئی ” زریاب سانس بھی کھنچ کھینچ کے لے رہا تھا ۔۔۔ فکر اب بھی نوفل کی تھی

” بھائی آپ کیسے گاڑی کے سامنے آ گئے ۔۔۔ ” نوفل اب تک س

جی نہیں پایا تھا کے اڈے تھکا دینے کے بعد زریاب کی مہلت بھی ختم ہو چکی تھی

” نوفل ۔۔۔۔ ما۔۔۔۔ ئرہ ۔۔۔۔۔۔ ما ئرہ ۔۔۔۔ کو کبھی اکیلے ۔۔۔۔۔۔ مت چھوڑنا ۔۔۔۔۔۔ میری بچیوں ۔۔۔۔۔ کو بے ۔۔۔۔۔سہارا مت ۔۔۔ کرنا ۔۔۔۔ میری ۔۔۔ ما ئرہ ۔۔۔۔۔۔ ” زریاب کا سانس اکھڑ رہا تھا بند ہوتی آنکھوں کو زبردستی کھولنے کی کوشش کر رہا تھا

” بھائی آپ کو کچھ نہیں ہو گا ۔۔۔ آپ ٹھیک ہو جائیں گئے۔” زریاب کے چہرے پر لگا خون پونچ کر وہ رائیونگ کرتے لڑکے کو چلا کر بولنے لگا

۔”۔ خدا کے لئے گاڑی تیز چلاؤ ۔۔۔ یہ ہاسپٹل کیوں نہیں آ رہا ہے نوفل کی بے چینی عروج پر تھی ۔۔۔ لڑکے نے گاڑی کی اسپیڈ اور تیز کی تھی نوفل زریاب کے سر سے بہتے خون کو بار بار اپنے ہاتھ سے صاف کر رہا تھا ۔۔۔۔

” نو۔۔۔ فل ۔۔۔۔۔ وعدہ کرو ۔۔۔۔ مجھ ۔۔۔۔ سے ۔۔۔ مائرہ ۔۔۔۔۔۔کو اکیلا ۔۔۔۔ نہیں۔۔۔۔ چھوڑو۔۔۔ گئے ” با مشکل لفظ اس کی زبان سے ادا ہو رہے تھے

” بھائی آپ کو کچھ نہیں ہو گا خدا کے لئے یوں مت کہیں “

” زریاب نے اپنا ہاتھ نوفل کے ہاتھ میں رکھا

” و۔۔۔۔ ع۔۔۔دہ ۔۔۔۔ کرو ۔۔۔نو ۔۔۔فل ” سانس ڈوب رہا تھا آنکھوں کے سامنے مائرہ عائزہ اور منزہ کا ہنستا مسکراتا چہرہ نظر آنے لگا

” میں کبھی بھابھی کو اکیلا نہیں چھوڑو گا بھائی ۔۔۔ آپ بھی ٹھیک ہو جائیں کیوں ایسی باتیں کر رہے ہیں مجھ سے ” نوفل بتدریج روئے جا رہا تھا اکھڑے اکھڑے لفظوں سے زریاب نے کلمہ پڑھنا شروع کیا تھا

” لا الہ اللہ محمد “

” نہیں بھائی بھائی آپ کو کچھ نہیں ہو گا ۔۔۔ ” وہ تڑپ کر بول رہا تھا اس کا ہاتھ چوم رہا تھا ۔۔۔ لیکن زریاب کی آنکھیں جیسے گاڑی کی چھت پر ٹہر سی گئیں تھیں ۔۔۔

” رسول اللہ” زبان اوپر کے تلو پر لگی کی لگی رہ گئ زریاب کا ہاتھ نوفل کے ہاتھ میں بے جان ہوا تھا ۔۔۔ نوفل کو لگا اس کی اپنی بھی روح پرواز کر گئ ہے گاڑی تیزی سے ہاسپٹل کے سامنے جا کر رکی تھی

وہ لڑکا تیزی سے گاڑی سے اترا تھا لیکن نوفل کو لگا اس کا اپنا بھی دل بند ہو چکا ہے ۔۔۔۔ جس بات کی گواہی اس کا دل دے چکا تھا ۔۔۔۔ وہ گم صم بیٹھا ہوا تھا پوری شرٹ زریاب کے خون سے بھر چکی تھی۔۔۔ہاتھوں میں زریاب کا بے جان ہاتھ تھا ۔۔۔ اس لڑکے نے ہی ہاسپٹل کے اسٹاف کے ساتھ ملکر زریاب کو گاڑی سے باہر نکالا تھا ۔۔۔ نوفل تو جیسے پتھر کا ہو چکا تھا ۔۔۔۔ اس لڑکے نے ہی ہمت دیکھائی تھی نوفل کو بھی باہر نکال کر اپنے ساتھ لیکر اندر داخل ہوا ایمرجنسی میں جاتے ہی ۔۔۔۔ ڈاکٹر نے چیک کرتے معذرت کی تھی ۔۔۔۔ کچھ دیر پہلے نوفل اسے دوکان سے لیکر آیا تھا ۔۔۔۔ ابھی ایک گھنٹہ پہلے ہی تو اس کا بھائی بلکل ٹھیک ٹھاک ہشاش بشاش تھا پھر کچھ ہی دیر میں ۔۔۔ کیسے اسے ہمیشہ کے لئے چھوڑ کے جا سکتا تھا ۔۔۔۔ ” جج۔۔۔ ججھو۔۔۔۔جھوٹ ہے ۔۔۔ کوئی۔۔۔۔ کوئی بہناک سا خواب ۔۔۔۔ نہیں۔۔۔۔ بھائی نہیں ۔۔۔۔۔ ایسے کیسے جا سکتے ہیں ۔۔۔۔ نہیں جاسکتے ۔۔۔ جھوٹ ہے ۔۔۔۔ ” وہ اپنے قدم پیچھے کی جانب لینے لگا سامنے زریاب کا بے جان وجود خون سے لت پت پڑا تھا آنکھیں کھولیں ہوئیں تھیں ۔۔۔ زبان اب بھی کلمے کی ادائیگی کے آخری لفظ پر تلو سے لگی ہوئی تھی ۔ ۔

نوفل پیچھے ہوتے ہوئے ایمرجنسی وارڈ سے باہر نکل گیا تھا بری طرح نفی میں سر ہلا رہا تھا بہتے آنسوں کو ششرٹ کی آستینوں سے صاف کر رہا تھا

” نہیں بھائی ۔۔۔۔نہیں ۔۔۔ نہیں نا ۔۔۔۔ بھائی نہیں نا۔۔۔۔

جھوٹ ہے ۔۔۔۔ کچھ نہیں ہو سکتا آپ کو ” وہ چلا رہا تھا پھوٹ پھوٹ کر رو رہا تھا ساری دنیا ہی اسکی لٹ چکی تھی ایک پل میں بادشاہ سے فقیر ہوا تھا ۔۔۔ اس کے پاس سے گزرنے والے لوگ اسے یوں دیوانہ وار چلاتا دیکھ کر وہیں رک گئے تھے ۔۔۔۔ وہی لڑکا جو گاڑی ڈرائیور کر کے اسے یہاں لایا تھا ۔۔۔ باہر آ کر نوفل کو سنبھالنے لگا اسے ساتھ لگائے تسلی دینے لگا

” اللہ کی مرضی ہے دوست ۔۔۔ ہم بے بس ہیں اس کے سامنے “

” نہیں میرا بھائی نہیں جا سکتا ۔۔۔ کیسے جا سکتا ہے ۔۔۔ ابھی ۔۔۔۔ ابھی تو میرے ساتھ تھا ۔۔۔۔ میری گاڑی میں ۔۔۔۔ میرے ساتھ بیٹھا تھا مجھ باتیں کر رہا تھا ” نوفل ہزیانی سی کیفت میں بولے جا رہا تھا اس لڑکے سے اپنا آپ چھڑوا کر بولا

” میرا بھائی نہیں جا سکتا ۔۔۔ سنا تم نے نہیں جا سکتا وہ ۔۔۔ ” وہ چلا کر بولا پھر واپس سے تیزی سے ایمرجنسی وارڈ میں گیا ۔۔۔۔۔

زریاب کے پاس جا اس کاچہرہ اپنے دونوں ہاتھوں میں لیا

” بھائی اٹھیں ۔۔۔ اٹھیں بھائی ۔۔ آپ کو کچھ نہیں ہو سکتا ۔۔۔ میں کیسے جیو گا ۔۔۔۔ نہیں جی سکتا ۔۔۔ مجھے آپ کے بغیر کہاں جینا آتا ہے ۔۔۔ آپ نے وعدہ کیا تھا۔۔۔ کہا تھا مجھ سے کے امی ابو کی طرح آپ مجھے چھوڑ کر نہیں جائیں گئے ۔۔۔ کہا تھا نا بھائی ” وہ روتے ہوئے اپنے بچپن کی باتیں اس سے دوہراہ رہا تھا پھر بے سختی سے اسکا ماتھا چومنے لگا

” اٹھ جاؤں نا یار ۔۔۔۔ میری خاطر اٹھ جاو۔۔ بھائی ۔۔۔ اٹھو نا میرے بھائی خدا کے لئے اٹھ جاؤں ” منتیں کر رہا تھا ۔۔۔ رو رہا تھا ۔۔۔۔ اس کے سینے سے منہ چھپائے رونے لگا تھا ۔۔۔۔ کافی دیر بعد جا کر ذہن کچھ سوچنے سمجھنے کے قبل ہوا تھا ۔۔۔۔ وہ لڑکا بھی اسکے پیچھے کھڑا آنسوں بہا رہا تھا ۔۔۔۔ نوفل کے پاس اس وقت کوئی اپنا نہیں تھا اور جو اپنا تھا وہ اسے چھوڑ کر بہت دور جا چکا تھا ۔۔۔

اس لڑکے نے نوفل کے کندھے پر ہاتھ رکھا ۔۔۔ نوفل پپلٹ کر اسی کے گلے لگ کر رونے لگا ۔۔۔

” چپ ہو جاؤں دوست ۔۔۔ اللہ تمہیں صبر دے ۔۔۔ ایمبولنس میں نے بک کروا لی ہے ۔۔۔ ڈیڈ باڈی کو گھر لے چلتے ہیں ۔۔۔ “

” ابھی تو وہ اس کازریاب بھائی تھا جب کچھ دیر پہلے سانس لیتا زندہ وجود تھا لیکن روح پرواز کرتے ہی۔۔۔ کیسے انسان باپ بھائی شوہر سے ڈیڈ باڈی اور میت ہو کر رہ جاتا ہے ۔۔۔۔ گھر کے ذکر پر پہلا خیال مائرہ کا ایا تھا جو گھر کو سجائے اپنی شادی کی سال گرہ کی تیاری کیے زریاب کی منتظر تھی ۔۔۔ دل ایسے کانپا کے پورا وجود ہل کر رہ گیا تھا ۔۔۔ کیسے بتائے گا اسے ۔۔۔۔ کیا کہے گا۔۔۔۔۔ ایک اذیت ابھی ٹھیک سے سہی نہیں گئ تھی اور دوسری اسکی منتظر تھی ۔۔۔۔

چپ چاپ ایمبولنس میں زریاب کی ڈیڈ باڈی کے ساتھ بیٹھ گیا ۔۔۔۔ اسکی گاڑی وہ لڑکا ہی ڈرائیو کر رہا تھا ۔۔۔۔ گھر تک وہ ساتھ ہی گیا تھا ۔۔۔۔