Intikam E Mohabbat by Esha Noor NovelR50798 Intikam E Mohabbat by Esha Noor Last Episode
No Download Link
253K
35
Rate this Novel
Intikam E Mohabbat by Esha Noor Episode01 Intikam E Mohabbat by Esha Noor Episode02 Intikam E Mohabbat by Esha Noor Episode03 Intikam E Mohabbat by Esha Noor Episode04 Intikam E Mohabbat by Esha Noor Episode05 Intikam E Mohabbat by Esha Noor Episode06 Intikam E Mohabbat by Esha Noor Episode07 Intikam E Mohabbat by Esha Noor Episode08 Intikam E Mohabbat by Esha Noor Episode09 Intikam E Mohabbat by Esha Noor Episode10 Intikam E Mohabbat by Esha Noor Episode11 Intikam E Mohabbat by Esha Noor Episode12 Intikam E Mohabbat by Esha Noor Episode13 Intikam E Mohabbat by Esha Noor Episode14 Intikam E Mohabbat by Esha Noor Episode15 Intikam E Mohabbat by Esha Noor Episode16 Intikam E Mohabbat by Esha Noor Episode17 Intikam E Mohabbat by Esha Noor Episode18 Intikam E Mohabbat by Esha Noor Episode19 Intikam E Mohabbat by Esha Noor Episode20 Intikam E Mohabbat by Esha Noor Episode21 Intikam E Mohabbat by Esha Noor Episode22 Intikam E Mohabbat by Esha Noor Episode23 Intikam E Mohabbat by Esha Noor Episode24 Intikam E Mohabbat by Esha Noor Episode25 Intikam E Mohabbat by Esha Noor Episode26 Intikam E Mohabbat by Esha Noor Episode27 Intikam E Mohabbat by Esha Noor Episode28 Intikam E Mohabbat by Esha Noor Episode29 Intikam E Mohabbat by Esha Noor Episode30 Intikam E Mohabbat by Esha Noor Episode31 Intikam E Mohabbat by Esha Noor Episode32 Intikam E Mohabbat by Esha Noor Episode33 Intikam E Mohabbat by Esha Noor Episode34 Intikam E Mohabbat by Esha Noor Last Episode (Watching)
Intikam E Mohabbat by Esha Noor Last Episode
Intikam E Mohabbat by Esha Noor Last Episode
شھربانو پورا دن پاگلوں کی طرح بھاگ دوڑ کرتی رہی ۔
۔۔۔آج اسے مجبوری میں زمان کی مدد بھی لینی پڑی ۔۔۔۔۔
اس نے گھر کی چابی رضیہ کے حوالے کی ۔۔۔
” یہ سب کور کر کے گھر بند کر دینا ۔۔۔۔ایک چابی اپنے پاس رکھنا اور ایک چوکیدار کو دے دینا ۔۔۔۔
زمان بھی کبھی کبھی گھر کا چکر لگا دیگا ۔۔
وہ سب کچھ نہایت دکھ سے بتا رہی تھی
۔۔۔وہ اس دن کو پچھتا رہی تھی جب وہ سعادت کے پیچھے گئی تھی ۔۔
۔۔اس کے وہم بے اعتباری اور ڈر نے اسے کہیں کا رہنے نہیں دیا تھا ۔۔
سارے اکائونٹ فریز ہوچکے تھے ۔۔۔۔جو گھر اس کے اور سھل کے نام تھا
۔۔۔اس کے کاغذات بھی سامنے والی پارٹی نے روک دہے تھے ۔
جب تک سعادت ٹھیک نہیں ہوجاتا
۔۔۔یا وہ مر نہیں جاتا اسے کچھ نہیں ملنا تھا ۔۔
لیکن اب معاملہ قتل کا تھا ۔۔۔
تفتیش تک سب کچھ انڈر تفتیش تھا ۔۔۔۔
اور وہ جانتی تھی یہ سب کس نے کروایا ہوگا
” سھل جلدی سے نکلو ۔۔۔۔ہمیں پہلے پہنچنا ہے ۔۔۔۔”
وہ سھل کوتنبیہہ کرتی ہوئی ۔۔۔گاڑی میں جاکر بیٹھ گئی ۔۔۔وہ دیکھ رہی تھی ۔
۔۔سھل ایک ایک دم کافی دیر کے بعد اٹھا رہی تھی ۔۔۔۔
☆☆◇◇◇◇◇◇◇◇
اس نے اپنا بیگ اٹھایا ۔
۔۔اور بوجھل قدم اٹھاتی گیراج تک پہنچی ۔۔
جہاں شھربانو اس کا انتظار کر رہی تھی ۔۔
شھربانو سھل کو آواز دیتی تو وہ دو قدم چلتی ۔۔۔اور پھر رک جاتی ۔۔
۔۔فلائٹ میں ابھی کافی وقت تھا ۔۔
۔لیکن شھربانو کو وہاں سے نکلنے کئ جلدی تھی ۔۔۔
سھل جانتی تھی اسے اتنی جلدی کیوں ہے ۔۔
وہ بار بار موبائل کو دیکھتی ۔۔۔پھر سڑک کی جانب دیکھتی ۔
۔۔لیکن مطھر کا کچھ اتا پتہ نہیں تھا ۔۔۔
” چلیں امی ۔۔۔” اس نے نہایت افسردہ ہو کے وہ الفاظ دہرائے ۔
☆☆☆☆☆☆◇◇◇◇◇◇◇◇
مطھر سہہ پہر کے چار بجے اٹھا ۔
۔۔۔موبائل
کھولناچاہا تو موبائل نے کھلنے سے انکار کر دیا ۔۔
وہ چارجر ڈھونڈنے لگا ۔۔۔لیکن کمرے کی ساری ترتیب ہی بدلی ہوئی تھی ۔۔۔۔
اس نے غصے میں موبائل بیڈ پہ پٹخہ اور خود باتھ روم میں گھس گیا ۔۔
وہ فریش ہو کر نیچے پہنچا ۔۔۔۔” ھما میرے کمرے کی سیٹنگ کس نے چینج کی ہے ۔۔۔؟؟”
ھما شانے اچکائے ۔۔۔کچن میں چلی گئی ۔۔۔۔
” ردا ۔۔۔ردا ۔۔۔۔” وہ زور سے آوازیں دینے لگا ۔۔۔۔
” کیا ہوا کیوں چلا رہے ہو ۔۔
وہ بھی غصے میں گویا ہوئی ۔۔
” میرا چارجر نہیں مل رہا ۔۔۔کمرے کی ساری ترتیب ہی بدلی ہوئی ہے ۔۔۔۔اور تم کہہ رہی ہو میں چلا کیوں رہا ہوں۔
اب کے ردا اس کے قریب آئی ۔۔
” بھائی وہ آئی تھی ۔۔۔
اس نے مطھر کے پاس آکر سرگوشی میں کہا ۔
” وہ کون ۔۔”
” ششس کسی کو نہیں پتہ آہستہ بولیں ۔۔۔”
مطھر نے حیرت سے اسے دیکھا ۔۔
وہ اس کا بازو پکڑ کر اسے اوپر لے گئی
” کیا ہوا ہے چھوڑ مجھے میں خود چل رہا ہوں ۔۔
وہ کمرے میں پہنچی ۔۔۔تو سیڑھیوں سے نیچے دیکھ رہی تھی ۔
مطھر کو اس کے سسپنس سے جھنجھلاہٹ ہونے لگی ۔۔۔۔
” میرا دماغ خراب مت کر ۔۔۔اور جلدی سے بتا ۔۔۔میرے پیٹ میں چوہے دوڑ رہے ہیں ۔۔
ردا نے کاغذ اس کی طرف بڑھایا ۔۔
اور وہ پھر سے کچھ ڈھونڈنے لگی ۔۔
” یہ سب کس نے لکھا ہے ۔۔۔کیا سھل یہاں آئی تھی ۔؟
وہ کاغذ ہاتھ میں پکڑے حیرت میں کھڑا ہوگیا ۔۔۔
” میں تب کہاں مر رہا تھا ۔۔۔۔” وہ غصے میں اب خود کو برا بھلا کہنے لگا ۔۔۔
” ہاں وہ آئی تھی جب آپ صاحب نے کال دیکھنے کے
باوجود میری کال نہیں اٹھائی اور الٹا موبائل ہی بند کردیا ۔۔۔
۔ضروری نہیں میں ہر بار آپ کو پیزا کے لیے ہی فون کروں ۔
وہ برا سا منہ بنا کہ بولی ۔۔۔۔
” افف یہ میں نے کیا کر دیا ۔۔۔۔”
” اور ہاں اس نے تمہارا سیل نمبر بھی لیا تھا ۔۔
” موبائل نمبر ۔۔۔۔لیکن یہ تو اب چارج بھی نہیں ۔۔۔تم اسے چارج پہ لگائو ۔۔۔میں ابھی آتا ہوں ۔۔
” لیکن بھائی ۔۔۔” اس نے گویا سنا ہی نہیں ۔۔
وہ بکھرے بالوں کے ساتھ حواس باختہ وہ ۔۔۔۔ملک ہاوس پہنچا ۔۔
” سھل گھر پر موجود ہے ۔۔۔۔؟؟
اس نے چڑھتے سانس کے ساتھ چوکیدار سے پوچھا ۔۔۔۔۔
” نہیں صاحب وہ لوگ جاچکے ہیں ۔۔۔انہیں ایئرپورٹ کے لیے نکلے آدھے گھنٹے سے زیادہ ہو چکا ہے ۔۔۔۔”
وہ تیزی سے کار کی طرف لپکا ۔۔۔
” میں بھاگ کیوں رہا ہوں اسے تو جانا ہے ۔۔۔۔۔پھر میں اس کے پیچھے بھاگ کے کیا کر لوں گا ۔۔۔۔”
وہ گاڑی چلاتے ہوئے بار بار یہی سوچ رہا تھا ۔۔
” اس نے موبائل نمبر لیا ۔۔۔یقینن اس نے کال کی ہوگی ۔۔۔”
اسنے جیب پر ہاتھ مارا۔۔۔۔” موبائل تو ردا کو دیا تھا ۔۔۔۔اوو شٹ اب کیا ہوگا ۔۔۔” ۔
وہ ائیرپورٹ تو پہنچا ۔۔۔لیکن اسے اندر جانے نہیں دیا جا رہا تھا ۔۔۔اسے بڑی مشکل سے اجازت ملی ۔۔۔
لیکن وہ تب تک سیکیورٹی زون میں جاچکے تھے شاید اسے وہ کہیں نظر نہیں آرہے تھے ۔۔۔۔
وہ کافی دیر تک ادھر سے اودھر نظر دوڑاتا ریا ۔۔۔۔
اس کی نظر سامنے مرکوز تھی جب وہ کسی سے ٹکرایا ۔۔۔۔◇◇◇◇◇◇◇◇◇◇◇◇
مطھر کا موبائل کچھ چارج ہوا تو اس نے موبائل اون کیا ۔۔۔
پاسورڈ تو ویسے بھی جانتی تھی ۔۔۔۔
اس نے موبائل اون کیا تو سھل کے میسج لگے تھے
۔۔۔ردا نے سھل کے نمبر پر کال کی ۔۔
” آگئی یاد ۔۔۔”
سھل کی طرف سے اور سلام آتا یہ ناممکن تھا ۔۔۔” لیکن ردا نے پہلے سلام کیا پھر بات شروع کی ۔۔۔۔” اوو تو یہ تم ہو ۔۔۔میں سمجھی مطھر ہے ۔۔۔”
” بھائی آپ کیطرف آیا ہے پلیز اس سے ایک بار مل لیں ۔۔۔۔”
” لیکن میں تو ائیرپورٹ میں ہوں ۔۔۔اور اس کا موبائل تمہارے پاس ۔۔۔اب “
ردا کے پاس اب کوئی جواب نہیں بچا تھا ۔۔۔اس نے خاموشی سے موبائل فون چارج پہ لگا دیا ۔۔۔۔۔
☆☆☆◇♡♡♡◇◇◇◇
وہ ادھر اودھر دیکھ رہا تھا ۔۔۔تبھی وہ شھربانو سے ٹکرا گیا ۔۔
” تم یہاں بھی پہنچ گئے ۔۔۔اس کا مطلب ہے تم ہماری جاسوسی کر رہے ہو ۔۔”
اس نے غصے سے شھربانو کی طرف دیکھا ۔۔۔۔ٹکرایا بھی تو کس سے ۔۔۔جو اس وقت اس کی سب سے بڑی دشمن تھی ۔۔
” میں یہاں کیسے آیا اس بات کو چھوڑو ۔۔۔تم ملک صاحب کو لے کر کہاں فرار ہو رہی ہو۔۔
۔۔یہاں مار نہیں سکی ۔۔
۔تو اب آسان راستہ ڈھونڈ لیا ہے وہ اتنا سفر کر نہیں پائے گا
۔۔۔اور آسانی سے جان سے جائے گا “
وہ اس کا غصے سے سرخ ہوتا چہرہ دیکھ رہا تھا ۔۔۔۔۔
” یہ ہمارا پرسنل معاملہ ہے تم بیچ میں نہ پڑو تو بہتر ہے ۔
۔۔۔ملک صاحب کا تو پتہ نہیں لیکن تمہیں ضرور لمبے سفر پر بھیج سکتی ہوں ۔۔۔”
وہ دانت پیس کر بولی ۔۔۔۔
” اوووو بہت عمدہ ۔۔۔تو آپ قتل بھی کرتی ہیں ۔۔۔”
لیکن وہ اسے نظر انداز کر کے چلی گئ۔
نہ اسے سھل ملنی تھی نہ ہی اسے ملی ۔۔۔۔۔
بہت دیر ہو گئی تھی اسے ۔۔۔۔۔
☆☆☆☆♡♡◇◇◇◇◇◇◇◇
۔۔۔وہ مایوس گھر لوٹ آیا تھا ۔۔
اور سھل جا چکی تھی ۔۔۔
اس کے سب سوشل میڈیا اکائونٹ ڈی ایکٹو ہو چکے تھے ۔۔
وہ کہیں نہیں تھی ۔
وہ اسے اداس اور تنہا چھوڑ کر جاچکی تھی ۔۔
وہ بار بار اس کے وہ میسج پڑھتا ۔۔
” میں آیا تھا ۔۔۔۔مجھ میں محبت اور وفا باقی ہے ۔۔۔بس شاید آخری ملاقات قسمت میں نہ تھی
وہ ہر ہفتے ملک ہاوس کا چکر لگاتا ۔
اپنا موبائل چیک کرتا
۔۔۔نہ اس کاکوئی میسج آتا نہ ہی کال وہ روز اپنے نوٹیفیکیشن چیک کرتا
۔۔۔۔شاید کہیں تو سھل نظر آجائے ۔۔۔۔
لیکن وہ تو جیسے کہیں تھی ہی نہیں ۔۔
وہ انتظار کرتا رہا ۔۔
۔دن ہفتوں میں ۔۔اور ہفتے مہینوں میں اور مہینے سالوں میں بدل گئے ۔۔۔لیکن کوئی پیغام نہ آیا پردیس سے ۔۔
مطھر نے اب وہاں جانا چھوڑ دیا تھا
۔۔۔وہ اسٹڈی کے ساتھ جاب بھی کر رہا تھا ۔۔
اپنی زندگی کو وہ اب اتنا مصروف کر چکا تھا ۔۔۔
اس کے پاس دوسری باتیں سوچنے کے لیے وقت ہی نہیں بچتا تھا ۔۔۔
بس ایک سھل تھی جو اس کے دل ودماغ سے
نکلنے کا نام نہیں لیتی تھی ۔
ربیعہ اور ھما اپنے گھر کی ہوچکی تھی ۔۔۔مدثر کی بھی شادی ہو چکی تھی ۔۔۔۔
☆☆☆☆☆♡◇◇♡◇◇
پچیس ماہ بعد۔
آج ملک ہاوس پر نئی صبح اتری تھی ۔
شھربانو دو دن پہلے پاکستان پہنچی تھی ۔۔
وہ دو دن سے ملک ہاوس کی ڈیکوریشن کروا رہی تھی ۔۔۔۔۔
اس سے پہلے رنگ وروغن کا کافی کام زمان کروا چکا تھا ۔۔۔۔
سارے آفس ورکر کب سے اس کے گھر کے آگے پھول لیے کھڑے تھے ۔۔۔زندگی کی نئی بہار ملک ہاوس پہ اتر چکی تھی
۔۔۔ہر طرف رونق باغ او بہار لگی تھی ۔۔۔۔پرانے سارے نوکر لوٹ آئے تھے ۔۔۔۔
مطھر کے پاس بھی کچھ اڑتی اڑتی خبریں پہنچی تھی ۔۔۔۔
وہ بھی ملک ہاوس پہنچا ۔۔۔پورے پندرہ ماہ بعد وہ ملک ہاوس آیا تھا ۔۔۔لیکن وہ دور کھڑا سب منظر دیکھ رہا تھا
☆☆☆☆☆☆◇◇◇◇◇◇◇
سعادت ملک گاڑی سے اتر کر سب ورکر سے مل رہا تھا ۔
وہ سب اس پر پھول نچھاور کر رہے تھے ۔۔۔۔
وہ بلکل پہلے جیسا ہی سعادت ملک بن کے آیا تھا ۔۔۔۔
دوسری گاڑی سے سھل اتری ۔۔۔لیکن اس کے ساتھ ایک اور لڑکا بھی موجود تھا ۔۔۔
مطھر کو اس لڑکے کو پہچاننے میں ایک پل نہیں لگا تھا ۔۔
۔۔مطھر سب چہرے بھول سکتا تھا لیکن تیمور کا چہرہ وہ ہزاروں میں پہچان سکتا تھا ۔۔۔
سھل اس کے ساتھ ہنس ہنس کے بات کر رہی تھی ۔۔۔اور وہ بار بار ۔۔۔سھل کے کافی قریب آرہا تھا ۔۔۔۔
مطھر کو اس وقت اس کی پہلی ملاقات والا منظر لگا ۔۔۔۔
جب سھل نے سب کو چلا چلا کر اکٹھا کر لیا تھا ۔
۔اور آج اسی شخص کے ساتھ ۔۔۔اتنا یارانہ ہو چکا تھا ۔۔۔۔
مطھر کا اب وہاں زیادہ رکنا محال تھا ۔
وہ جانے ہی لگا تو اسے اپنے پیچھے کوئی کھڑا ہو محسوس ہوا ۔۔۔
وہاں تو سھل کھڑی تھی ۔۔۔۔” آگئے تم اتنی دیر کر دی ۔۔۔۔”
اس نے سر کو جھٹکہ ۔۔۔سھل تو وہیں تھی تیمور کے ساتھ ۔
۔۔۔تو اس کے قریب کون تھا
۔۔شاید اس کا بھرم ۔۔۔۔۔جو پچھلے پچیس ماہ سے اس کے ساتھ تھا ۔۔
☆♡◇◇◇◇◇♡◇◇◇◇
سعادت آئینے کے سامنے کھڑا تھا ۔۔۔۔اور شھربانو اسے کوٹ پہنا رہی تھی ۔۔۔۔
سعادت کے چہرے پر پر سکون مسکراہٹ تھی ۔۔۔۔
شھربانو ابھی تک پشیمانی سے نہیں نکل پائی تھی ۔۔۔۔
” تم پھر سے یوں اداس ۔۔۔۔میری شیری مجھے مل گئی سادی واپس آگیا ۔۔۔۔اب تو سب ٹھیک ہوگیا ہے پھر یہ آج اداسی کیوں ۔۔۔۔۔”
سعادت نے اس کا جھکا سر اوپر اٹھایا ۔۔۔۔
” مجھے آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بات کرنے والی شھربانو پسند ہے یوں جھکے سر والی نہیں ۔۔۔۔۔”
شھربانو کی آنکھوں میں ہلکی سی نمی تھی ۔۔۔۔
” سعادت ۔۔۔” ۔
شھربانو نے سعادت پکارا سعادت نے اسے ٹوک دیا
۔۔” ہمممم سعادت نہیں “
” اچھا ٹھیک ہے سادی ۔۔۔۔۔اب چپ کر کے میری بات سنو ۔۔”
سعادت کو بھی شرارت سوجھی ۔۔۔۔
” مجھے لگتا ہے ۔۔۔مجھے آفس کے لیے دیر ہو رہی ہے ۔۔۔۔”
شھربانو نے تیوری چڑھائی تو سعادت مسکرایا ۔۔۔
” اچھا چلو بتائو ۔۔۔۔”
اس کی توجہ کا مرکز شھربانو کا چہرہ تھا ۔۔۔جو ان تیس ماہ میں کملا گیا تھا ۔۔۔( سعادت کو ٹھیک ہوے چھ ماہ ہوگئے تھے
” میں سھل کی وجہ سے پریشان ہوں ۔”
سعادت نے سر کو ہلایا اور شھربانو کی پوری بات سننے لگا ۔۔
☆☆☆☆◇◇♧◇◇◇♧
” بیٹا آج بھی آفس جا رہے ہو ۔۔۔
مطھر نے بس سر کو ہلکی سی جنبش دی ۔۔۔۔
” آج تمہاری بہن کو لوگ دیکھنے آرہے ہیں ۔۔۔!!! ۔۔۔کیا ہوا ہے کل۔سے کچھ پریشان لگ رہے ہو ۔۔۔”
اس نے نفی میں سر ہلایا ۔۔۔
” بابا بہت ضروری کام ہے۔۔۔ آج ۔۔۔اور آپ سب ہو آپی ہے ھما ہے بھابھی امی بھائی سب گھروالے ہوں گے
۔۔۔میرے نہ ہونے سے زیادہ فرق نہیں پڑے گا ۔۔۔۔کسی ایک کے نہ ہونے سے ۔۔۔
اس کی جگہ کوئی دوسرا لے لیتا ہے ۔”
اس کی سوچ کہیں اور جگہ بھٹک رہی تھی ۔۔
اس نےبات پوری بھی نہ کی۔۔۔ اور جلدی میں گاڑی کی چابی اٹھا کر گاڑی کی طرف آگیا ۔۔۔
آنکھوں میں آئی نمی ٹشو سے صاف کی
۔۔۔اسے بار بار سھل کا تیمور کے سامنے مسکرانا یاد آرہا تھا ۔۔۔۔
وہ آفس پہنچا ۔۔۔وہاں بھی اس سے کوئی کام نہیں ہو رہا تھا ۔۔۔۔
” اچھا ہوتا میں وہاں جاتا ہی نہیں ۔۔۔۔”
وہ منہ ہی منہ میں بڑبڑایا ۔۔
” اوئے کیا کہہ رہا ہے ۔۔۔بڑا ڈسٹرب لگ رہا ہے ۔۔
وہ بھول۔گیا تھا ۔۔۔وہ آفس میں ہے
۔۔” واہ آج تو ہر جگہ سعادت ملک۔چھایا ہوا ہے ۔۔۔۔اور میرے حواسوں پر اس کی بیٹی ۔۔۔۔۔لگ ہی نہیں رہا یہ وہ پہلے والی لڑکی ہے”
مطھر کے دماغ پر جیسے کسی نے بم پھوڑا ہو۔۔
وہ اٹھا اور سہیل کا گریبان پکڑ کے زور کا گھونسہ اس کے منہ پر مارا ” کیا بکواس کر رہا ہے ۔۔۔۔”
۔۔سارے آفس میں شور مچ گیا ۔
وہ دونوں اب اپنے باس کی آفس میں موجود تھے ۔۔۔
” پہلے تم بتائو کیا ہوا تھا ۔۔۔۔” اس کے باس نے سہیل سے پوچھا ۔۔۔
” سر کچھ نہیں ۔۔۔میں ایک سیاستدان کی تصویریں اسے دکھا رہا تھا ۔۔۔نجانے کیوں یہ بھڑک اٹھا ۔۔۔”
” نہیں سر یہ اس کی بیٹی کے بارے میں نازیبہ الفاظ کہہ رہا تھا ۔۔۔۔”
” ایسا میں نے کچھ نہیں کہا تھا ۔۔۔ویسے تھوڑا بہت کہہ دیا تو ان سیاستدانوں کی کونسی عزت ہوتی ہے ۔۔۔”
اس کے باس نے سہیل کو غصے میں جھڑکا ۔۔۔
” سہیل بہنیں بیٹیاں سب کی سانجھی ہوتی ہے ۔۔۔۔ایسے الفاظ کسی کی بھی بیٹی کے بارے میں نہیں کہتے ۔۔۔۔چاہے وہ دشمن کی بیٹی کیوں نہن ہو ۔۔۔اور تم ” اس کا باس اب اس سے مخاطب تھا ۔۔۔
” ہاتھ کا استعمال کم کیا کرو ۔۔۔۔”
اس نے اثبات میں سر ہلایا
سہیل باہر جا کے بھی چپ نہیں ہوا ۔۔۔
” اوئے تجھے اتنا غصہ کیوں چڑھا تھا ۔۔۔۔رشتے دار ہے کیا تیری ۔۔۔”
لیکن اس نے کوئی جواب نہیں دیا ۔۔۔اپنا کوٹ اٹھایا موبائل اور گاڑی کی چابی اٹھائی
” صاحب کو بتا دینا ۔۔۔میں نے ہاف لیو لی۔ہے ۔۔۔۔”
اس نے آیک بار پھر شعلہ بار نظروں سے سہیل کو دیکھا
وہ ڈسٹرب تھا اسے کھلی ہوا چاہیے تھی ۔۔۔۔۔
اس نے گاڑی ایک پارک کے قریب روکی ۔۔۔۔بوجھل قدم اٹھاتا
بینچ پر جا بیٹھا وہ آتے جاتے لوگ دیکھ رہا تھا ۔۔۔
اس نے وہ خط نکالا اور اسے پڑھنے لگا ۔۔
” جب واپس میری زندگی میں نہیں آنا تھا ۔۔۔اتنا انتظار کیوں کروایا ۔۔۔”
مطھر کا موبائل چلانے لگا ۔۔۔۔اس دن کے بعد وہ پھر موبائل بند نہ کر سکا ۔
☆☆☆☆◇◇◇◇◇◇◇◇◇◇
ردا نے کال کر کے مطھر کو گھر بلایا تھا۔
۔۔۔مطھر جلد بازی میں گھر پہنچا ۔
لیکن گھر میں بلکل خاموشی تھی ۔
۔۔۔کہیں سے بھی یہ محسوس نہیں ہو رہا تھا
ردا کا رشتہ دیکھنے والے لوگ آئے ہوئے ہیں
اس کے ذہن میں عجیب سےخدشات اٹھنے لگے ۔
( ” کیا وہ لوگ ناپسند کر کے چلے گئے ۔۔۔۔؟؟؟”)
ذہن میں ایک انجانہ سا خوف سر اٹھانے لگا ۔۔۔
اتنی خاموشی دیکھ کر اس کا دل دہل گیا ۔۔
اچانک سے پورے گھر میں روشنی ہوگئی ۔۔۔۔
سب اپنے اپنے کمروں سے نکل آئے
۔۔۔” ہیپی برتھ ڈے ٹو یو ۔۔ ہیپی برتھ ڈے ٹو یو ۔۔۔۔ہیپی برتھ ڈے ڈیئر مطھر ۔۔
ہیپی برتھ ڈے ۔
سب کلیپنگ کرتے ہوئے اس پر چمکیلی پتیاں نچھاور کر رہے تھے ۔۔۔
کوئی اسپرے لیے کھڑا تھا ۔۔۔توکوئی کچھ ۔۔۔
مطھر کی جان میں جان آئی ۔۔۔
” تم لوگ۔۔۔۔بھی نہ ۔۔۔۔ کوئی اتنا سسپنس کرتا ہے ۔۔۔” سب زور سے قہقہے لگانے لگے ۔۔
مطھر کا چہرہ دیکھنے لائک تھا ۔۔۔۔۔
وہ سب مطھر کا چہرہ دیکھ کر ہنسے جا رہے تھے ۔۔۔
پوری فیملی وہاں موجود تھی ۔۔۔۔ھما اور ربیعہ ان کے شوہر ۔۔۔۔ مدثر اور اس کی بیوی بھی اس پارٹی میں پیش پیش تھے
لیکن اگلے ہی پل سب اسٹیچو ہوگئے ۔۔
وہ شور ایک دم سے تھم گیا ۔۔۔۔
بس ہائے ہیل کی ٹک ٹک کی آواز لائونج میں گونجنے لگی۔
کوئی تالی بجاتے رک گیا تو کوئی ہنستے ہوئے ۔۔۔ایسا لگتا تھا ۔۔۔۔گویا وقت تھم گیا ہو ۔۔۔
” اووو ہم بلکل سہی وقت پر آئے ہیں ۔
سامنے مہرون ساڑھی پہنے شھربانو کھڑی تھی ۔۔۔۔۔
اس کے ساتھ اس کا نوکر اور نوکرانی بھی موجود تھے ۔۔۔۔
مطھر نے شھربانو کو دیکھ کر ان سب کی طرف دیکھا ۔۔۔۔
لیکن سب نے شانے اچکا کر نہیں معلوم کا اشارہ کیا ۔۔
” آپ سب کو میرے اس طرح آنے پر حیرت ہوئی ہوگی ۔۔
لیکن میں صرف آپ سب کو اپنے گھر انوائیٹ کرنے آئی ہوں۔۔
۔۔۔کل شام ہمارے گھر سعادت کے ٹھیک ہونے کی خوشی میں ایک شاندار پارٹی کا اہتمام کیا گیا ہے میں ۔۔۔اس پارٹی کا
اس نے ایک کارڈ مطھر کی طرف بڑھایا ۔۔
” اس پارٹی کا دعوت نامہ دینے آئی تھی۔۔۔اب ہم چلتے ہیں ۔۔۔کیا آپ ہمیں باہر تک چھوڑنے نہیں آئیں گے ۔۔۔۔”
اس نے مطھر کی جانب اشارہ کیا ۔۔۔۔مطھر کو نا چاہتے ہوئے بھی ۔۔۔اخلاقی تقاضے پورے کرنے تھے ۔۔۔
اس نے سر کو ہلکی سی جنبش دی ۔۔۔
وہ دونوں اب باہر گاڑی کے پاس کھڑے تھے ۔۔۔
” گاڑی میں بیٹھو ۔۔” جو انداز سب کے سامنے تھا وہ ایک پل میں غائب ہو گیا ۔۔۔۔
” ہم نے جو ڈیل کرنی تھی اس کے بارے میں بات کرنی ہے ۔۔۔”
مطھر کو ساری بات سمجھ آچکی تھی ۔
وہ گاڑی میں بیٹھا تو شھربانو نے ڈرائیور کو چلنے کا اشارہ کیا
” یہ سب کیا ہے میرے گھر میں سب میرے لیے بیٹھے ہیں ۔۔۔۔اور آپ مجھے اس طرح اغو کر کے کہاں لے جا رہی ہیں
وہ تو گویا احتجاج کرنے لگا ۔۔۔۔۔
اس نے ایک جگہ رکنے کا اشارہ کیا
ڈرائیور تم باہر انتظار کرو ۔۔۔۔
وہ گاڑی پارک کر کے اتر گیا ۔۔
” تم سب جانتے ہو ہم یہاں کیوں آئے ہیں ۔۔۔۔بہتر ہوتا تم پیپر سائن کر دیتے ۔
” تو آپ کو نقلی نہ بنانے پڑتے ۔۔۔۔وہی پیپر دکھا کہ ہی آپ نے اسے تیمور کے قریب کیا ہے ۔۔
اس نے سوالیہ نظروں سے اسے دیکھا ۔۔
” تم کیا کہہ رہے ہو میں نہیں سمجھ رہی ۔۔۔لیکن اب وقت آچکا ہے گھی سیدھی انگلی سے نہ نکلے تو انگلی کو ٹیڑھا کرنا پڑتا ہے ۔۔۔”
مطھر نے شھربانو کو دیکھا اور طنزیہ قہقہہ لگایا ۔۔۔
” کام اگر انگلی ٹیڑھی کرنے سے ہوجاتا ۔۔۔تو آپ بار بار میرا دروازہ نہ کھٹکھٹاتی ۔۔۔
” یہ رہے پیپر اور یہ رہی رقم ۔۔کل شام تک پیپر سائن ہو جانے چاہیے ۔۔۔پارٹی میں آئو تو یہ ساتھ ضرور لے آنا۔۔۔”
شھربانو نے گویا اس کی بات سنی ہی نہیں تھی ۔۔۔
اس نے ڈرائیور کو واپس آنے کا اشارہ کیا ۔۔۔اور وہ آپ گاڑی سے اتر چکی تھی ۔۔۔
” اسے اپنے گھر چھوڑ آئو ۔۔۔میں دوسری گاڑی سے واپس جا رہی ہوں ۔۔۔”
اس نے ایک شانے سے پلو کھینچا اور دوسرے شانے کو ڈھانپتی ایک ادا سے چلتی ۔
۔۔اس کی نظروں سے اوجھل ہوگئی ۔۔
☆◇◇◇◇♡◇◇◇◇◇◇◇◇
وہ پوری رات اس پریشانی میں سو نہ سکا ۔۔
کئی بار وہ پیپر نکال کے دیکھ چکا تھا ۔۔
اس نے یہ طے کرلیا تھا سائن کرنے سے پہلے ۔۔وہ ایک آخری بار سھل سے ضرور ملے گا ۔۔۔۔ لیکن پیسے اس نے نہیں رکھے تھے ۔
وہ پارٹی کے لیے بلیک تھری پیس سوٹ پہن کر تیار کھڑا تھا ۔
” آپ میں سے کوئی نہیں چل رہا ۔۔۔؟؟؟”
گھر میں ان کے سوا اسے کوئی بھی تیار نظر نہیں آرہا تھا ۔۔
” بھائی میں تو کہتی ہوں آپ بھی نہ جائیں ۔۔۔۔”
ردا رونی سی صورت بنائیں کھڑی تھی ۔۔۔
” کچھ نہیں ہوتا ۔۔۔میری گڑیا ۔۔۔”
وہ اس کے بال بیکھرتا باہر نکل گیا ۔۔۔۔
◇◇◇◇◇◇◇◇◇
ملک ہاوس پر ہر طرف رنگ
ونور کی برسات ہو رہی تھی ۔۔۔ملک ہاوس کو سجانے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی گئی تھی ۔۔۔
۔گویا پیسہ پانی کی طرح بہایا گیا تھا ۔۔
ہر طرف رنگ برنگے پھوارے لگے ہوئے تھے ۔۔۔۔گویا وہ آسمان کو چھو رہے ہوں ۔۔۔
استقبال کے لیے جیسے کہیں سے پریاں چن کے لائیں ہو ۔۔۔۔
پارٹی میں ملکی سیاستدانوں کے علاوہ غیر ملکی سفیر بھی شامل تھے ۔۔۔۔
پارٹی میں سب خاصم خاص لوگ ۔۔مدعو تھے ۔۔۔۔
ایسے میں وہ محلوں کی شہزادی خراماں خراماں چلتی ہوئی آرہی تھی ۔۔۔۔
بغیر آستینوں کی سیاہ میکسی جس پر چھوٹے چھوٹے ڈائمنڈ چمک رہے تھے ۔۔۔۔۔شانوں پہ اسٹول ڈالے ۔۔۔بال جوڑے میں لپیٹے ۔۔۔کچھ لٹیں جان بوجھ کر چھوڑی گئی تھی جو اس کے خوبصورت گالوں کو چھو رہی تھی ۔۔۔۔۔۔۔۔
آنکھوں میں آئی لائنر کی لکیر کھینچے ۔۔۔نئے اور پرانے وقتوں کا حسین امتزاج لگ رہی تھی ۔۔۔
وہ سب کو سر کی ہلکی سی جنبش سے سلام کر رہی تھی ۔۔۔
تبھی تیمور اس کے پاس آکر کھڑا ہوگیا ۔۔۔
” ہائے بیوٹی فل ۔۔غضب ڈھا رہی ہو آج تو آپ ۔۔
وہ اس بدتمیز لڑکے کو دیکھ رہی تھی ۔۔۔جس پر اب ادب اور اخلاق کی مینہ برس رہی تھی ۔۔۔
ہلکا ہلکا میوزک ماحول کو خوشگوار بنا رہا تھا ۔۔۔۔۔
☆☆☆☆◇◇◇◇◇◇◇◇◇◇◇
وہ تیار ہو کر ہاتھوں میں فلاور اور تحفہ لیے ۔۔۔ملک ہاوس پہنچا ۔۔۔
سب سے پہلے اس سے اس کا انویٹیشن کارڈ پوچھا گیا ۔۔۔۔
کچھ قدم چلا تو اسے سیکیوریٹی گیٹ سے گزارا گیا ۔۔۔
اسے اب ایسا لگ رہا تھا وہ ملک ہاوس نہیں وہائٹ ہاؤس جا رہا ہے ۔۔۔۔
دو تین جگہ چیک کرنے کے بعد اسے اندر چھوڑا گیا ۔۔۔
اندر آتے ہی اتنے بڑے لوگوں میں اسے اپنا آپ چھوٹا لگنے لگا تھا ۔۔۔۔
اس کا دل کیا ابھی اسی وقت واپس چلا جائے لیکن جس طرح وہ راستہ عبور کر کے پہنچا تھا
اس میں اب اتنی جلدی ان سب چیزوں کا سامنہ کرنے کی ہمت نہیں تھی ۔۔۔۔
” سعادت کی بیٹی دیکھی ہے کتنی خوبصورت ہو گئی ہے ۔۔۔۔اس کی میکسی دیکھی کتنی اکیسپینسو ہے ۔۔۔۔”
وہاں کچھ چھوٹے سیاست دانوں کی بیویاں کھڑی آپس میں بات کر رہی تھی ۔۔۔جو اڑ کر مطھر تک بھی پہنچ رہی تھی ۔۔۔
” ہاں سنا ہے پورے بیس کروڑ کا جوڑا ہے ۔۔۔۔رئیل ڈائمنڈ لگے ہیں “
ایک خاموش ہوئی تو دوسری نے وہیں سے سلسلہ جوڑا ۔۔۔
” آج سعادت کی بیٹی کی ایگینجمنٹ بھی ہے ۔۔۔”
مطھر کے ہاتھ میں پڑے پھول کانپنے لگے ۔۔۔۔
وہ تو چاند بن گئی تھی ۔۔۔جسے بس وہ دیکھ سکتا تھا ۔۔۔نہ اب وہ اس کے قریب جا سکتا تھا ۔۔نا اسے چھو سکتا تھا ۔۔۔نہیں وہ تو چاند نہیں سورج بن گئی تھی ۔۔۔
اس کے گلے میں پہنا ہیرے کا نیکلس اس کے کانوں میں پہنے ڈائمنڈ کے ٹاپس ۔۔۔
دیکھنے والے کی آنکھیں چندھیاں جاتی ۔۔۔۔
اس پر تو اب نظر ہی نہیں ٹھہر رہی تھی ۔۔۔کہاں وہ اور کہاں یہ
۔۔۔۔۔اس نے ایک پل کے لیے اپنے آپ کو دیکھا اسے اپنا قد چھوٹا لگنے لگا تھا ۔۔۔ایسا لگ رہا تھا وہ ان لمبے لوگوں میں کوئی بونا کھڑا ہو ۔۔۔۔
وہ کافی دیر تک کھڑا خود سے الجھتا رہا ۔۔۔اور اس اپسرا کو دیکھتا رہا وہ کہیں سے بھی اس کی سھل نہیں لگ رہی تھی ۔۔۔۔
اس نے وہ پھول ایک طرف پھینکے ۔۔۔گھر جا کر پیپر سائن کرنے کا فیصلہ کر دیا ۔۔۔۔
” سھل تمہارے سامنے میرا قد چھوٹا ہو جاتا ہے “
وہ خود سے ہمکلام ہو کے جانے کے لیے مڑا ۔۔۔۔۔
لیکن پیچھے سے کسی نے اس کا ہاتھ تھام لیا تھا ۔
☆☆☆☆☆◇◇◇◇◇◇◇◇
چار ماہ پہلے ۔۔
” سھل اب تم بھی فیصلہ کر لو کب تک اس طرح تیمور کے ساتھ گھومتی رہو گی
۔۔۔اب تو تمہارے پاپا بھی ٹھیک ہوگئے ہیں ۔۔۔جان چھڑائو اس مڈل کلاس سے ۔۔۔”
سھل نے ٹھنڈی آہ بھری ۔۔۔۔۔” مام میں بھی تو مڈل کلاس ہوں ۔۔۔راحیل کی بیٹی ۔”
وہ الفاظ شھربانو پر بجلیاں بن کر گرے ۔۔
” سھل یہ تم کیا کہہ رہی ہو ۔۔۔۔”
” وہی کہہ رہی ہوں جو آپ آج تک مجھ سے کہتی رہی تھی ۔
۔۔۔آخر کار میں نے بھی تسلیم کر لیا۔۔”
وہ شھربانو کے چہرے کی اڑتی رنگت دیکھ رہی تھی ۔۔۔
” سھل تمہارے پاپا ۔۔۔”
” میرے پاپا اکیس سال پہلے مر چکے ہیں یہ سونیا کہ پاپا ہیں ۔۔۔آپ سونیا کی شادی اپنے اسٹیٹس کے لوگوں میں کروانا ۔۔۔۔ ۔
۔۔۔ہم اپنے جیسے لوگوں کے ساتھ ہی ٹھیک ہیں
شھربانو کو تو جیسے سانپ سونگھ گیا تھا ۔۔
” سھل میری جان یہ سب تمہارا اور سونیا ہی کا تو ہے ۔۔۔”
سھل نفی میں سر ہلانے لگی ۔۔۔
” نہیں مام یہ سب صرف سونیا کا ہے ۔۔۔۔میں راحیل کی بیٹی ہوں ۔۔۔اور اسی کی رہوں گی ۔۔۔آپ دونوں کی رنجشیں ختم ہوگئی ۔۔
۔اب مجھے اپنی منزل کی طرف جانے دیں ۔۔۔جو رشتہ آپ نے مجبوری میں جوڑا تھا ۔۔۔میں اب اسے دل سے نبھانا چاہتی ہوں ۔۔۔”
” لیکن بیٹا مجبوری کے رشتے ۔۔۔”
سھل نے اسے بات پوری کرنے نہیں دی ۔۔۔
” مام آپ بھی تو اتنے سالوں سے مجبوری میں پاپا کے ساتھ تھی ۔۔۔۔آپ کی محبت مجبوری بن گئی ۔۔۔۔لیکن میری مجبوری محبت بن گئی ہے ۔۔۔۔بہت فرق ہے ان دونوں میں ۔۔”
شھربانو لاجواب ہو چکی تھی ۔۔۔
” سھل میری ایک شرط ہے میں اسے آخری بار ضرور آزمائوں گی۔۔۔”
” مجھے منظور ہے ۔۔۔۔” سھل نے گردن اٹھا کہ کہا ۔۔۔
سعادت کلیپنگ کرتا کمرے میں داخل ہوا ۔۔۔۔۔۔
☆☆☆☆☆◇◇◇◇◇◇◇
اسے محسوس ہوا کسی نے اس کا ہاتھ تھام لیا ہے ۔۔۔۔
اس نے پلٹ کر دیکھا تو اسے اپنی آنکھوں پر یقین نہیں آیا ۔۔۔
” آج پھر چپکے سے مجھے چھوڑ کر جا رہے تھے ۔۔۔۔”
وہ اپسرا وہ چاند اس کے پاس تھا ۔۔۔۔۔جسے دیکھنے سے آنکھیں خیرہ ہو رہی تھی وہ اس کی آنکھوں میں سما رہی تھی
ہلکے ہلکے میوزک کی آواز ماحول کو اور خوشگوار کر رہی تھی ۔۔۔
۔۔( دو دل مل رہے ہیں ۔۔۔۔مگر چپکے چپکے ۔۔
وہ چاند اس کے پہلو میں تھا ۔۔۔۔
” سھل۔۔ یہ واقعی میں تم ہو ۔۔۔؟؟؟”
اس کے پاوں گویا زمین پر نہ تھے ۔۔
سھل نے اس کے ہاتھ کی پشت اپنے رخسار سے لگائی ۔۔۔۔
( سب کو ہو رہی ہے ۔۔۔۔سب کو ہو رہی ہے خبر چپکے چپکے ۔۔
وہ دونوں ایک دوسرے کا ہاتھ تھامے کھڑے تھے
۔۔۔وقت بادل چاند گھڑی کی ٹک ٹک سب وہی رک چکے تھے ۔۔۔۔۔بس دو دل دھڑک رہے تھے ۔۔
آج سھل اور مطھر ۔۔۔۔شیری اور سادی مل چکے تھے ۔۔
۔۔ختم شد
