Intikam E Mohabbat by Esha Noor NovelR50798 Intikam E Mohabbat by Esha Noor Episode07
No Download Link
253K
35
Rate this Novel
Intikam E Mohabbat by Esha Noor Episode01 Intikam E Mohabbat by Esha Noor Episode02 Intikam E Mohabbat by Esha Noor Episode03 Intikam E Mohabbat by Esha Noor Episode04 Intikam E Mohabbat by Esha Noor Episode05 Intikam E Mohabbat by Esha Noor Episode06 Intikam E Mohabbat by Esha Noor Episode07 (Watching)Intikam E Mohabbat by Esha Noor Episode08 Intikam E Mohabbat by Esha Noor Episode09 Intikam E Mohabbat by Esha Noor Episode10 Intikam E Mohabbat by Esha Noor Episode11 Intikam E Mohabbat by Esha Noor Episode12 Intikam E Mohabbat by Esha Noor Episode13 Intikam E Mohabbat by Esha Noor Episode14 Intikam E Mohabbat by Esha Noor Episode15 Intikam E Mohabbat by Esha Noor Episode16 Intikam E Mohabbat by Esha Noor Episode17 Intikam E Mohabbat by Esha Noor Episode18 Intikam E Mohabbat by Esha Noor Episode19 Intikam E Mohabbat by Esha Noor Episode20 Intikam E Mohabbat by Esha Noor Episode21 Intikam E Mohabbat by Esha Noor Episode22 Intikam E Mohabbat by Esha Noor Episode23 Intikam E Mohabbat by Esha Noor Episode24 Intikam E Mohabbat by Esha Noor Episode25 Intikam E Mohabbat by Esha Noor Episode26 Intikam E Mohabbat by Esha Noor Episode27 Intikam E Mohabbat by Esha Noor Episode28 Intikam E Mohabbat by Esha Noor Episode29 Intikam E Mohabbat by Esha Noor Episode30 Intikam E Mohabbat by Esha Noor Episode31 Intikam E Mohabbat by Esha Noor Episode32 Intikam E Mohabbat by Esha Noor Episode33 Intikam E Mohabbat by Esha Noor Episode34 Intikam E Mohabbat by Esha Noor Last Episode
Intikam E Mohabbat by Esha Noor Episode07
Intikam E Mohabbat by Esha Noor Episode07
نکلی بال نکلی موچھیں پختوں لباس پہنے ۔۔۔۔گورا رنگ تو پہلے ہی تھا اس کا وہ بلکل ایک پختون لگ رہا تھا ۔۔۔
سلوار قمیص ۔۔پہ سواتی ٹوپی ۔۔۔۔پشاوری چپل ۔
وہ خود کو بھی پہچان نہ پایا
” ہاں اب ٹھیک ہے ۔۔ارے میڈم آپ ۔۔”
اس نے پیچھے مڑ کر دیکھا
۔۔۔ایک برقع پوش عورت وہاں داخل ہوئی ۔
نقاب سے بس اس کی آنکھیں نمایاں تھی۔۔
وہ ہرنی جیسی آنکھیں۔۔۔کسی بھی شیر کا شکار کر سکتی تھی ۔
اس کے پرفیوم کی مہک پورے کمرے میں پھیل گئی ۔۔۔
وہ اس گھٹن زدہ ماحول میں ہوا کا تازہ جھونکا لگی ۔۔
وہ کوئی جادوگرنی تھی ۔۔۔۔جس نے جادو سے اسے پتھر کا کر دیا
نجانے کون اب سوالوں کے جواب دے کر اسے پتھر سے انسان کرے گا ۔
وہ اس کی آنکھوں کے سحر سے سحرزدہ ہوگیا ۔۔
” یہ آنکھیں میں نے کہیں دیکھی ہے ۔۔۔” وہ دل ہی دل میں سوچنے لگا ۔
وہ لڑکی نہیں تھی ۔۔۔۔عورت تھی ۔
پر وہ اس پے فدا ہو چکا تھا ۔
اس کی آواز بھی کوئل جیسی سریلی تھی
” یہ ہے وہ لڑکا ۔
اس لیڈی نے اس کی جانب ہی اشارہ کیا ۔۔
” اوئے یہ موچھیں اور بال اتار ۔۔۔۔”
اس نے پھٹ سے اتارے ۔
” میڈم ہم نے آپ کو تصویریں بھیجی تھی آپ نے ہی اس کو ۔۔۔چنا تھا ۔۔
اس کا دل خوشی سے اچھل کے باہر آ رہا تھا ۔۔
” نام کیا ہے تمہارا ۔۔۔”
اب وہ عورت براہ راست اس سے مخاطب تھی ۔۔
” مطھر ۔۔
اس کی خوشی اس سے کنٹرول نہیں ہو رہی تھی ۔
اس عورت نے سامنے بیٹھے شخص کو کوئی اشارہ کیا ۔
” لڑکے تم باہر بیٹھو ۔۔۔تمہیں بعد میں بلاتا ہوں
اسے اس عورت کا اس شخص کے ساتھ بیٹھنا اچھا نہیں لگ رہا تھا ۔
لیکن وہ ٹھہرا نوکر آدمی ۔
وہ خاموشی سے آکر باہر بیٹھ گیا ۔۔
آدھے گھنٹے بعد وہ عورت باہر نکلی ۔۔۔
بلیک ہائے ہیل میں اس کے سفید سنگ مر مر جیسے پاؤں ۔۔۔
اس میں ایک خاص بات تھی ۔اس نے پیر کے انگوٹھے میں بھی ڈائمنڈ جڑا چھلا پہن رکھا تھا۔۔۔
وہ رکی ۔۔اس کی نظر اس پر پڑی ۔۔۔
اس کی نظر اسے اپنے دل کے۔ پار ہوتی ہوئی محسوس ہوئی ۔
اس نے سر سے پاؤں تک اسے دیکھا ۔
” نشہ کرتے ہو ۔۔؟؟”
وہ تو ان کی آنکھوں میں ڈوبا تھا ۔۔۔۔
اچانک سے غیر متوقع سوال پوچھا گیا ۔۔۔
” اس نے نفی میں سر ہلایا ۔۔
کچھ بولتا زبان نے ساتھ دینے سے انکار کر دیا ۔۔
اسے لگا وہ مسکرائی ہے ۔
وہ جا چکی تھی ۔۔۔
اس کی خوشبو ابھی بھی فضا کو معطر کیے ہوئے تھی ۔۔۔
” چل صاحب بلا رہا ہے ۔۔۔
” تم اب ارباز خان مروت ہو۔” ۔۔اس کا نکلی شناختی کارڈ ایک گھنٹے میں بن آیا تھا ۔
شاید اس میں بس تصویر لگانے کی دیر تھی ۔۔
☆☆☆






” سھل کہاں سے آرہی ہو
وہ غصے میں گھر میں داخل ہوئی ۔۔۔۔
جب شھربانو کی آواز ان کی سماعتوں سے ٹکرائی ۔
” بھاگ گیا کمینہ ۔۔۔ملک چھوڑ کر ۔۔۔۔”
اس نے پسٹل نکالی ۔۔۔اس کھول کے گولیاں نکالنے لگی ۔۔۔۔
” سھل یہ کھلونا نہیں ہے ۔۔۔”
اس نے ایک ٹیٹڈی پلیئر لیا ۔۔۔۔اس پہ پسٹل رکھ کے فائر کھولا ۔۔
گولی اسے چیرتی دیوار میں پیوست ہو گئی ۔۔
روئی نکلی ۔۔۔جو ہوا میں بکھر گئی ۔۔
” سھل ۔
شھربانو کی آواز تیز ہوئی ۔۔
” یہ سب ہم سنبھال لیں گے ۔۔۔تم بس آرام سے بیٹھو ۔۔
وہ اس کے سامنے صوفے پر سامنے کی طرف جھک کر بیٹھی ۔۔
” لیکن پاپا نے تو کہا تھا ۔۔۔جا کے اسے شوٹ کر آئوں ۔۔۔”
شھربانو کے چہرے پر کیا تاثر تھے ۔۔۔
وہ دیکھنا بھی نہیں چاہتی تھی ۔۔
” کہاں بھاگے ۔۔۔گا ۔۔۔تو تیمور ۔۔
وہ اٹھی پسٹل اس کے ہاتھ میں تھی ۔۔۔جس کا رخ زمین کی جانب تھا ۔۔۔
اس نے ایک اور فائر کیا ۔۔۔سعادت ہائوس گولی کی آواز سے گونج اٹھا ۔۔
اس نے پسٹل کی نالی کو پھونک ماری ۔۔۔۔
اپنے کمرے کی جانب چلی گئی۔
اس نے سوئمنگ ڈریس پہنی اور سوئمنگ پول کی طرف چلی گئی ۔۔
وہ اب پانی میں بیٹھ کر یوگا کرنا چاہتی تھی ۔۔
موسم بدل رہا تھا ۔۔۔سوئمنگ پول کا پانی ٹھنڈا ہو رہا تھا ۔۔
موسم سرما آچکا تھا ۔
☆☆☆☆







اسے ایک ٹرک ڈرائیور کے ساتھ سوات کی جانب روانہ کیا گیا ۔۔
پنڈی سے سوات اتنا دور نہیں تھا ۔۔۔لیکن اسے ایک دن پہلے بھیج دیا گیا ۔تھا ۔۔۔کیونکہ بقول اس شخص کے۔۔۔مال کل پہنچنا تھا ۔۔
” تمہارا نام کیا ہے ” ٹرک ڈرائیور اس کا نام پوچھ رہا تھا ۔۔
” ارباز خان
” اچھا ارباز خان ۔۔۔۔۔مروت ۔۔۔ہماری بات غور سے سنو ۔۔۔
تجھے آدمی ملیں گے ۔۔۔تیرا کارڈ چیک کریں گے ۔۔۔۔
پھر تجھے کہیں گے ۔۔۔۔تیری گھڑی کا رنگ کالا ۔۔۔ہے “
ڈرائیور کی بات پوری ۔۔ہونے سے پہلے ۔۔۔اس نے بیچ میں ٹوکا ۔۔۔
” گھڑی میرے ہاتھ میں تو کوئی گھڑی نہیں ۔۔۔
” اوئے چپ کر کے ہماری بات سن ۔۔۔وہ تمہارا کوڈ ہے ۔۔تم کہنا ۔میری گھڑی کا رنگ لال ہے ۔۔کیا کہے گا ۔۔
وہ ٹرک تو ایسے ڈرائیو کر رہا تھا جیسے اس کے دائیں بائیں آگے پیچھے آنکھیں ہو ۔۔۔۔
” میری گھڑی کا رنگ لال ہے ۔۔
” شاباس ۔۔ابھی ہم پہنچے گا تجھے ۔۔۔وہاں ۔۔مینگورہ سے آگے جیپ مل جائے گا ۔۔۔سامان کا پرچہ بھی اسے دینا
وہ سب سنبھال دے گا ۔۔
ڈرائیور مسلسل نسوار منہ میں ڈال رہا تھا ۔۔۔
اسے دیکھ کر ہی اسے متلی ہونے لگی ۔۔۔۔
اس نے کچھ دیر کے لیے آنکھیں بند کی تو۔ اسے وہی آنکھیں نظر آنے لگی ۔۔۔۔
کیا جادوگرنی تھی ۔۔۔کیا سحر تھا اسی کی آنکھوں میں ۔۔
وہ سوات پہنچ چکا تھا ۔۔
” میں گھر فون کر سکتا ہوں ۔۔؟؟”
وہ اس ٹرک ڈرائیور سے پوچھنے لگا۔۔۔
” ہاں کر لے ۔۔۔پر مال ملنے کے بعد تجھے فون بند کر دینا ہے ۔
اس نے اثبات میں سر ہلایا
اس نے ربیعہ سے بات کی ۔
۔۔اپنے اکائونٹ کے سارے پیسے اس کے اکائونٹ میں ٹرانسفر کر دیے ۔۔۔
اسے جیپ بمع سامان مل گئی تھی ۔۔۔
وہ ایک گاؤں تھا جس میں اسے رکنا تھا ۔۔
سردی کی شدت کافی زیادہ تھی ۔۔
اسے ابھی تک تسلی تھی اس سے ایسا کوئی کام نہیں لیا گیا تھا ۔
☆☆☆☆◇◇◇◇◇◇
” تم لوگ تیار ہو ۔۔۔وہ ابھی کالج کے لیے نکلے گی ۔
تیمور اپنے چھوڑے ہوئے غنڈوں کو ۔۔۔۔ہدایت دے ریا تھا ۔
” دیکھتا ہوں کب تک بچتی ہے ۔۔۔”
وسیم اس کے ساتھ نہیں تھا پر شہباز اس کے ساتھ ۔۔
تھائی لینڈ آیا تھا ۔۔
” اسے اغوا کرانا اتنا آسان نہیں ۔۔۔وہ خود بہت تیز لڑکی ہے ۔
شہباز شراب کے گلاس میں برف ڈال رہا تھا ۔۔
” تو میں نے بھی ہلکے غنڈے نہیں خریدے ۔۔۔”
شہباز پر سوچ انداز میں گردن ہلانے لگا ۔۔۔
” اس بار کوئی غلطی نہیں ہوگی ” ۔۔۔۔۔تیمور نے بھی بوٹل سے شراب گلاس میں انڈیلی ۔۔وائٹ سوڈا مکس کیا ۔۔۔
چمٹے سے برف کا ٹکڑا ۔۔۔۔۔گلاس میں ڈالا ۔۔۔۔
” کچھ دن میں وہ میرے پاس ہوگی ۔۔۔۔۔
مجھ سے اپنی عزت کی بھیک مانگے گی ۔۔۔۔۔۔ہا ہا ہا ۔۔۔”
ان دونوں نے گلاس ٹکرائے ۔۔۔
اور اپنے لبوں تک لے گئے ۔
☆☆☆





” سعادت میری بیٹی پر قاتلانہ حملہ ہوا ہے ۔۔۔اور تم ابھی تک دبئی سے واپس نہیں آئے “
شھربانو سعادت سے روٹھے سے انداز میں بولی ۔۔
“شیری میں جہاں بھی رہوں ۔۔میری نظر گھر پر ضرور رہتی ہے ۔۔۔۔تم سھل سے کہو باڈی گارڈ ساتھ رکھے ۔۔۔”
شھربانو نے کال۔ بند کر دی ۔۔
اسے سعادت پر غصہ آرہا تھا ۔۔۔
وہ جانتی تھی سھل ۔۔۔گارڈ نہیں رکھے گی ۔۔۔۔
نا ہی ۔۔وہ اس کی بات مانے گی ۔۔۔
وہ کال کٹ کر کے دوسرا نمبر ڈائل کرنے لگی ۔۔۔
☆☆






سھل کی آنکھ کھلی شھربانو سرہانے کھڑی تھی ۔۔۔۔
اس کے سر پر ہاتھ پھیر رہی تھی ۔۔۔
اسے وہ کافی پریشان لگی ۔۔۔
اس کی نظر وال کلاک پر پڑی ۔۔۔
” ماما مجھے جگایا نہیں ۔۔مجھے اتنی نیند کیسے آگئی ۔۔۔”
وہ جلدی سے اٹھی ۔۔۔۔
وہ تیار ہو رہی تھی ۔۔۔شھربانو اسے دیکھ رہی تھی ۔۔۔
” کیا ہوا ماما ۔۔۔آپ مجھے آج ایسے کیوں دیکھ رہی ہو ۔۔”
اسے اپنی ماں کی نظروں میں عجیب بے بسی محسوس ہوئی ۔۔۔۔
” سھل مجھے ڈر لگا رہا ہے ۔تمہیں کچھ ہو نا جائے ۔۔۔”
آج پہلی مرتبہ اسے اپنی ماں پر ترس آ رہا تھا
” مجھے کیا ہونا ہے ۔۔۔آپ کی بیٹی اتنی کمزور نہیں ۔۔۔”
شھربانو اس کے لیے ایک ڈریس لیے کھڑی تھی۔
” سھل بیٹا آج یہ پہن لو ۔۔۔۔”
جینز کے ساتھ گھٹنوں تک آتی شرٹ تھی ۔
” : اوکے پہن لیتی ہوں ۔۔لیکن آپ یہ ڈرنا چھوڑ دیں ۔۔۔جو ڈر گیا سمجھو مر گیا ۔
وہ کپڑے بدل آئی تھی ۔۔۔اس نے اتنی لمبی شرٹ پہلی دفعہ پہنی ۔۔تھی ۔
اس نے اپنا بیگ اٹھایا ۔۔۔۔۔
شھربانو نے اسے گلے لگایا ۔۔۔
سھل کو کچھ عجیب سا محسوس ہوا ۔۔
خطروں سے تو وہ روز کھیلتی تھی ۔۔۔
لیکن اسے آج کے دن ۔۔۔کوئی اور ہی احساس ہو رہا تھا ۔۔
☆☆☆☆






سھل بائیک پر نکلی ۔۔۔۔
اس نے سیل فون اٹھایا ۔۔” ۔۔سگنل ویک ۔۔۔او ایم جی ۔۔۔یہ آج سگنل کو کیا ہوا ہے ۔۔۔”
وہ بائیک اسٹارٹ کر کے نکلی ۔۔۔
اس کی چھٹی حس اسے کسی بڑے خطرے سے آگاہ کر رہی تھی ۔
اس کی لفٹ آنکھ پھڑکنے لگی ۔۔۔۔
اس کے گھر اور کالج۔ کے بیچ ۔۔۔کچھ علاقہ ویران تھا ۔۔
اسے کسی خطرے کی بو آرہی تھی ۔۔۔۔۔
اچانک اس کی بائیں جانب تیزی سے ایک وین گذری ۔۔۔
جو عین اس کے بائیک کے سامنے آکے رکی ۔۔۔
اس نے بھی پھرتی سے بائیک کو موڑا ۔۔۔۔اور دوسری جانب کیا ۔۔۔
لیکن ۔۔۔
سامنے سے ایک اور وین رکی ۔
اسے بیچ میں گھیر لیا گیا ۔۔
اس نے پسٹل نکالنے کے لیے پرس میں ہاتھ ڈالا ۔۔۔
پسٹل نہیں تھی
سامنے کی وین سے چار بندے اترے ۔
پیچھے کی وین سے دو بندے اترے ۔۔وہ باری باری دونوں جانب دیکھ رہی تھی ۔۔۔۔
اس نے سامنے والے دو لڑکوں پر فلائنگ کک ماری دونوں کچھ فاصلے پر گرے ۔۔
وہ کچھ اور مزاحمت کرتی۔پر ۔۔وہ زیادہ تھے اور یہ ایک وہ بھی بنا ہتھیار کے
اس کے منہ پہ رومال رکھ دیا گیا ۔۔۔۔
اس کی آنکھوں کے سامنے اندھیرا چھا گیا ۔۔۔۔۔
وہ ہاتھ پاؤں مارتی رہی ۔۔۔۔
لیکن اسے اپنا وجود سن ہوتا ہوا محسوس ہو ۔۔۔
اسے وہاں آئے دوسرا دن تھا ۔۔۔۔بقول ان کے آج مال پہنچنا تھا ۔۔
وہ انتظار کر رہا تھا۔۔۔
دل میں عجیب سے وسوسے پیدا ہونے لگے ۔۔۔
” نجانے کیا ہوگا ۔۔ہتھیار ۔۔؟
اس کے لیے کوئی اتنے پیسے تو نہیں دیتا ۔” اس کے ابھی سے پسینے چھوٹنے لگے
۔وہ ایک ویران سی جگہ تھی ۔۔۔۔جہاں ایک ڈھابہ بنا تھا ۔۔
وہ وہی جاکر بیٹھ گیا۔۔۔۔ایک مشکوک شخص اس کے پاس آکر بیٹھا ۔۔۔۔
تھوڑا اس کے قریب ہوا ۔۔۔۔” تم ارباز خان ہو ۔۔۔؟؟”
اس نے گویا سرگوشی کی ۔۔۔
” آئی ڈی کارڈ دکھا ” ۔۔
اس نے آئی ڈی کارڈ بنا کسی سوال جواب کے اس کے آگے کیا ۔
” تیری ۔۔گھڑی کا رنگ کالا ہے “
ایک دم سے اس کا ماتھا ٹھنکا ۔۔۔۔
(یہ تو کوڈ ہے ۔۔۔) وہ ذہن پہ زور دے کر سوچنے لگا ۔۔۔۔۔
” نہیں میری گھڑی کا رنگ لال ہے “
اس نے اپنا کوڈ بتایا ۔
اسے اشارے سے سائیڈ پہ چلنے کا کہا ۔۔۔۔
☆☆☆☆☆☆☆☆☆
سھل کے اغوا کی خبر ہر نیوز چینل پر تھی ۔۔۔
کوئی اسے ڈراما کوئی انتقام ۔۔۔تو کوئی اسے اغوا برائے تاوان کا نام دے رہا۔ تھا ۔۔۔۔
جتنے منہ اتنی باتیں ۔۔۔
شھربانو نجانے کتنے چینل بدل چکی تھی ۔۔۔
(” کسی مہرباں نے آکے میری زندگی سجا دی ۔۔
شھربانو کا سیل بج رہا تھا ۔۔۔سعادت کی کال تھی جس پر وہ نغمہ چل رہا تھا ۔۔
سعادت کی تصویر جل بجھ رہی تھی ۔۔۔
اس نے پانچ منٹ بعد کال اٹھائی ۔
” یہ میں کیا سن رہا ہوں ۔۔۔۔۔شیری ۔۔۔۔تم سھل کو نہ سنبھال سکی ۔۔۔میں نے کہا بھی تھا ۔۔۔۔۔کے گارڈ ان کے ساتھ ۔۔بھیجو
اس کے آواز سے غصہ صاف ظاہر تھا ۔۔۔
لیکن وہ خاموش تھی ۔۔
سعادت نے بات ختم کر دی تھی ۔۔
پر وہ تو جیسے کسی اور کے انتظار میں تھی ۔۔۔
اس کا موبائل پھر بجا ۔۔۔۔پر اس بار کوئی سانگ نہ تھا ۔۔۔
” میری بیٹی کو کچھ نہیں ہونا چاہیے ۔۔۔۔۔ورنہ ۔۔
لیکن وہ بہت کچھ ضبط کر گئی ۔۔
وہ اداس تھی ۔۔۔۔پر پریشان نہ تھی ۔۔
☆☆





” کیا بکواس کر رہے ہو
تیمور کا غصہ آئوٹ آف کنٹرول ہو رہا تھا ۔
” ہم وہاں پہنچے کوئی اور ہی اسے اغوا کر کے لے گیا •
سامنے سے اس شخص کی آواز ۔۔۔تیمور پر ہتھوڑے برسا رہی تھی ۔۔۔۔
تیمور نے اس شخص کو گالیاں دے کر ۔۔
کال بند کر دی
” میں جانتا ہوں یہ سب اس کا اپنا پلان ہے ۔۔
تیمور کا بس نہیں چل رہا تھا ۔۔۔وہ زمین ۔۔۔کو اوپر اٹھا کہ نیچے پھینک دے۔۔
” یار وہ لڑکی بہت تیز نکلی ۔۔۔۔ہماری سوچوں سے بھی تیز ۔
شہباز صوفے سے ٹیک لگائے اسے ہی دیکھ رہا تھا
اس نے پاکستانی نیوز چینل لگائے ۔
جس میں اس کا نام سر فہرست تھا ۔۔
” اب کیا ہوگا ۔۔۔اب کی بار بہت برے پھنسے ہیں “
☆☆






وہ شخص اسے سائیڈ پر لے گیا ۔۔۔” یہ لو۔۔۔۔ یہ ڈیوائس تجھے
راستہ سمجھائے۔ گی ۔۔اور یہ واکی ٹاکی تمہیں استعمال کرنی ہے ۔۔
موبائل تمہیں بند رکھنا۔۔۔ہے ۔
وہ شخص بار بار راستے کی جانب دیکھ رہا تھا ۔۔۔
وہ اس شخص کو دیکھ رہا تھا ۔۔۔۔
جو اب کسی کو کال ملانے میں لگا تھا ۔۔۔
” ہاں۔۔۔ اچھا ۔۔۔۔ٹھیک ہے ہم تیار ہیں ” سامنے والا شخص فون پر بات کر کے اس کی جانب متوجہ ہوا ۔۔۔۔۔۔
” سن لڑکے مال نکل چکا ہے ۔۔۔۔۔تمہیں اس مال کو پندرہ بیس دن قابو میں رکھنا ہے اس کے بعد راستے خود ہی بند ہو جائیں گے۔۔۔”
اس کی ساری باتیں کسی پرائمری کے بچے کی طرح سن رہا تھا ۔
سوات بہت خوبصورت وادی تھی ۔۔۔وہ سارے نظارے دیکھ کر قدرت کی کاریگری پہ دنگ رہ گیا تھا ۔۔۔۔
تا حد نظر اونچے پہاڑ ۔۔۔
اس کے پاس بہتا۔ دریا ۔۔۔دریائے سوات ۔۔۔۔اس کا شفاف پانی جس میں دو رنگ نمایاں ہو رہے تھے ۔۔۔۔
پہاڑوں کے سبزے کا عکس ۔۔۔۔۔نیلے آسمان کے بادلوں کا عکس
سردی کی وجہ سے دریا میں پانی کا شور کم تھا ۔۔۔۔
پھر بھی اس کی خوبصورتی سے نظر نہیں ہٹ رہی تھی ۔۔۔۔
اوپر پہاڑوں پر ۔۔۔۔لکڑی سے بنی جھونپڑی نما گھر ۔۔۔۔۔
جن پہ لال رنگ کیا گیا تھا ۔۔
سرخ اور سبز رنگ کا حسین امتزاج ۔۔۔
درختوں پر ۔۔۔ہر جگہ ہم لوگ کے پھل پک کے لال ہوچکے تھے ۔۔
” (جنت تو نہیں دیکھی ۔۔۔پر سوات میں جنت کا کچھ نہ کچھ عکس ضرور تھا ۔
وہ انہی منظر میں کھویا تھا ۔۔۔۔
جب سامنے والے شخص نے اسے مخاطب کیا ۔۔۔۔
” کچے میں جیپ چلا سکتے ہو ۔۔۔؟؟ یا میرے ڈرائیور کو بھیجوں ۔
وہ میدانی علاقے کا باشندہ کہاں کوہستان میں گاڑی چلا سکتا تھا ۔۔
جو سیدھے راستے بمشکل چلا پاتا تھا ۔۔۔۔
” جی آپ کے ڈرائیور سے کہہ دیں ۔۔۔۔مجھے پہاڑی راستے کا کوئی تجربہ نہیں ۔۔۔”
وہ پہاڑی راستہ دیکھ کر خوفزدہ ہو گیا تھا ۔۔۔۔
اس پر گاڑی ۔۔۔موت کے کنویں میں بائیک چلانے کے مترادف تھی ۔۔
” پھر تجھے کیوں بھیج دیا ہے ۔۔۔۔استاد نے ۔۔
وہ شخص شاید اسے استاد کہہ رہا تھا ۔۔
جس شخص نے اسے پیسے دیے تھے
” لگتا ہے کوئی کام نہیں آتا ۔۔۔عمر کیا ہے تمہاری ۔۔۔؟؟
اس شخص کے چہرے سے اسے ناپسند کرنے کے آثار نمایاں تھے ۔۔
” اکیس سال ۔۔
وہ بغور اس کے چہرے کو دیکھ رہا تھا ۔۔۔
جیسے اس کا چہرہ نہیں خزانے کا نقشہ ہو ۔۔۔جسے وہ سمجھ نا پا رہا ہو ۔
” قسم سے استاد بھی کیا نمونے بھیج دیتا ہے ۔۔۔
سامنے والا شخص سر جھٹک کر بولا ۔۔۔
وہ مضطرب سا کھڑا تھا ۔۔۔۔پر کٹے پرندے کی طرح بے چین تھا ۔۔۔پر وہ ان کی جال میں پھنس چکا تھا ۔۔
وہ آدمی بار بار اس سڑک کی طرف دیکھ رہا تھا ۔۔۔۔۔
بقول اس شخص کے جس راستے سے مال آنا تھا ۔۔
دوپہر کے بارہ بج چکے تھے ۔۔۔
سورج اور بادلوں کی آنکھ مچولی جاری تھی ۔۔۔۔
رات کے وقت جتنی ٹھنڈک تھی ۔۔۔
سورج کی شعاعیں اتنی ہی تیز تھی ۔۔۔۔۔
وہ شخص آسمان کی جانب دیکھنے لگا ۔۔۔۔۔
” لگتا ہے آج بارش ہوگا ۔۔۔مال آنے میں ابھی دو تین گھنٹے لگے گا ۔۔۔۔چل دوپہر کا کھانا کھا کے آتے ہیں ۔۔۔”
اس نے اثبات میں سر ہلایا ۔۔۔ اور اس کے پیچھے ہو لیا’
________________
ماضی بائیس سال پہلے
” کیا ہوا بانو ۔۔۔ایسے کیوں بیٹھی ہوں ۔”
زویا اس کے پاس کھڑی تھی ۔۔۔۔۔۔
وہ پھر بھی چپ رہی ۔۔۔۔
” کیا ہوا کوئی پریشانی ہے ۔۔۔”
” مجھے لگتا ہے ۔۔۔کوئی میرا پیچھا کرتا ہے ۔۔۔۔مجھے چھپ چھپ کر دیکھتا ہے ۔۔۔”
زویا اس کی بات پہ کھلکھلا کہ ہنس دی ۔۔۔۔
” اب اتنی خوبصورت لڑکی کو تو ہر کوئی دیکھے گا نا ۔۔۔”
اس وقت اسے وہ ہنستے ہوئے زہر لگی ۔۔۔
” میں پریشان ہوں زوئی اور تم ہنسے جا رہی ہو “
وہ اسے دیکھ کر اور بھڑک گئی ۔۔
” تم دونوں یہاں بیٹھی ہو۔۔۔میں کب سے ڈھونڈ رہی ہوں ۔۔۔”
عنبر غصے میں ان دونوں کو دیکھ رہی تھی ۔۔۔
” اور یہ شھربانو کو کیا ہوا اس کے منہ ۔ پر ۔پونے بارہ کیوں بجے ہیں ۔۔۔”
اس کی بجائے زویا نے جواب دیا ۔
۔۔” اسے شک ہے کہ کوئی اسے چھپ چھپ کر دیکھ رہا ہے ۔۔۔۔
اس کے پیچھے لگا ہے ۔۔۔
اسے ان دونوں پہ غصہ آرہا تھا ۔۔۔
” یار میں سچ کہہ رہی ہوں تم دونوں اس کو سنجیدہ لو ۔۔۔”
عنبر اس بینچ کے دوسری طرف بیٹھ گئی ۔۔
” تمہیں کس پر شک ہے ۔۔تمہارے ساتھ کچھ ہوا ہے ۔۔”
وہ بس نفی میں سر ہلاتی رہ گئی ۔۔
☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆
زمان حال ۔۔۔
وہ اپنے ماضی سے باہر آئی ۔۔۔۔
سعادت کی آواز آرہی تھی ۔۔۔۔۔
” شھربانو ۔۔۔”
وہ جانتی تھی وہ غصے میں ہے ۔۔۔۔
( وہ غصے میں اسے شیری سے شھربانو پکارتا ۔ تھا )
وہ خاموش صوفے پہ بیٹھی تھی ۔۔۔۔
” سھل کا کچھ پتہ چلا۔۔۔اور تم ایسے آرام سے کیوں بیٹھی ہو ۔۔۔
سعادت کی آواز تیز ہوئی ۔۔۔
“میں آپ کو آرام سے بیٹھی ہوئی لگ رہی ہوں ۔۔۔جس کی بیٹی اغوا ہو جائے ۔۔۔۔وہ ۔۔۔”
اسے شاید اچھی اداکاری نہیں آرہی تھی ۔۔۔۔پر وہ اداس تھی ۔۔۔کچھ بھی تھا اسے اپنی بیٹی کی فکر تھی ۔۔
” سوری میرا وہ مطلب نہیں تھا ۔۔۔
سعادت نے ٹائی اتار کہ صوفے پر پھینکی ۔۔
سعادت کو دیکھتے دیکھتے واپس وہ اپنے ماضی میں چلی گئی۔
جاری ہے
