Intikam E Mohabbat by Esha Noor

" ماما ۔۔۔ماما ۔۔" باہر سے پھر سھل کہ چلانے کی آواز آ رہی تھی ۔۔
" کیا ہے سھل انسان بنو "شھربانو سر پکڑے بیٹھی تھی ۔۔۔
" ماما میں نے چار سو سی سی بائیک کا کہا تھا کہاں ہے وہ ۔۔۔۔"
شھربانو تنگ آگئی تھی ۔۔سھل کی حرکتوں سے ۔۔۔
" بیٹا ۔۔۔ایک مہینہ ہوا ہے اسپورٹس کار خریدی تھی ۔"
" تو۔۔۔۔ تو ۔۔۔۔کیا کروں مجھے بائیک چاہیے ۔۔۔۔شام تک ۔۔۔"
وہ اپنی ماں سے بھی نہایت بدتمیزی سے بات کر رہی تھی ۔۔۔۔
شھربانو سھل کی حرکتوں کی وجہ سے کافی پریشان تھی ۔۔۔۔
وہ دن بدن ہاتھ سے نکلتی جا رہی تھی ۔۔۔۔۔
اور وہ سب سعادت کر رہا تھا ۔۔۔
اسے ہر غلط کام پر بھی اس کا ساتھ دیتا ۔۔۔۔
شھربانو کو سمجھ نہیں آرہی تھی ۔۔وہ اس سے دوستی نباہ رہا ہے یا دشمنی ۔۔
☆☆▪▪♡◇♡♡◇◇◇◇◇◇
" تیمور یار دن بدن ۔۔ہینڈ سم ہوتا جا رہا ہے ۔۔۔۔کیا بات ہے ۔۔۔"
شہباز بھنویں اچکا کر بولا ۔۔۔۔
۔" کالج کی ہر لڑکی تجھ پہ مرتی ہے ۔۔۔۔۔"
شہباز اس کی پیٹھ پر ہاتھ مار کر بولا ۔۔۔۔
چوڑا سینا گھنگریالے بال ۔۔۔۔چہرے پر ہلکی ہلکی شیو ۔۔۔
چھ فٹ کا گبرو جوان ۔۔۔تھا ۔۔وہ کالج میں سب سے سینئر تھا ۔۔۔۔
لڑکیوں سے فلرٹ کرنا اس کا پسندیدہ مشغلہ تھا ۔۔۔۔۔۔۔
سب لڑکیاں جانتی تھی ۔۔۔۔۔
لیکن اس کی شخصیت کے سحر میں پھر بھی آجاتی ۔۔۔
اپنی باتوں ۔۔اور اپنے مسلز دکھا کہ وہ ہر دوسری لڑکی پٹا لیتا ۔۔۔
کچھ لڑکیوں کو اس نے بلیک میل کر رکھا تھا ۔۔
اس کا کالج میں آخری سال تھا ۔۔۔
شہباز اور وسیم اس کے چمچے تھے ۔۔۔
" اوئے ٹمی ۔۔۔کیا پٹاخہ آرہا ہے یار ۔۔۔۔۔ررر۔۔"
شہباز اور وسیم کی آنکھیں پھٹی کی پھٹی رہ گئی ۔۔
" واہ یار کیا فگر ہے ۔۔۔۔کیا لڑکی ہے کیا اسٹائل ہے ۔۔۔
تیمور کی نظر سامنے آتی لڑکی پر پڑی ۔۔۔ہرنی جیسی آنکھیں صراحی دار گردن ۔۔۔دراز قد ۔۔۔نکھرا رنگ ۔۔۔۔۔
تیمور کا منہ کھلا کا کھلا رہ گیا ۔۔۔۔
" یار کیا ڈریسنگ ہے لگتا ہے فرسٹ ٹائم آئی ہے کالج ۔۔۔"
وسیم جو منہ پھاڑے اسے دیکھ رہا تھا ۔۔۔۔۔۔تیمور نے
وسیم کی پیٹھ پر دھماکے دار ہاتھ مار کر بولا ۔۔۔" جا پتہ کر ۔۔۔۔فٹا فٹ ۔۔۔۔"
لڑکی کہ ساتھ ۔۔۔دو لڑکے اور دو لڑکیاں تھی ۔۔۔۔
جو اس کہ باڈی گارڈ بننے کا کام کر رہی تھی ۔۔
وسیم واپس دوڑتا ہوا آیا ۔۔۔۔
" وہ یار کالج کا اونر ہے نا ۔۔۔نا ۔۔۔"
تیمور کا پھر سے جھانپڑ اس کی پیٹھ پر پڑا
۔۔۔۔" آگے بک ۔۔
" یہ اس کی بیٹی ہے ۔۔۔کچھ دن پہلے ہی یہ لوگ لندن سے آئے ہیں ۔۔۔"
" اچھا " ۔۔۔تیمور اپنی داڑھی پہ ہاتھ گھماتے ہوئے بولا ۔۔۔۔
" یار لڑکے تو دیکھ کیسے دیدے پھاڑ کہ دیکھ رہے ہیں ۔۔۔۔
تیمور یار یہ بڑی مچھلی پھنسا تو مانے ۔۔۔۔"
شہباز نے پھر سے تیمور کو شہہ دی
" ارے آج تک کوئی لڑکی تیمور سے بچ پائی ہے ۔۔۔۔تیمور۔۔دیکھتا ۔۔ہے تو لڑکیاں بے ہوش ہو کہ گرتی ہیں ۔۔۔"
تیمور اپنے کالر کو ہاتھ مار کر فخریہ انداز میں اپنے قصے سنا رہا تھا ۔۔
وسیم جس کی نظر اس سے نہیں ہٹ رہی تھی ۔۔وہ گویا ہوا ۔۔۔
" پر یار وہ لڑکیاں تھی ۔۔۔یہ تو پٹاخہ ہے ۔۔۔کہیں ہاتھ لگانے سے پھٹ نہ جائے ۔۔۔"
تینوں تالی مار کر قہقہے مارنے لگے ۔۔۔
" چل یار لائن مارتے ہیں ۔۔۔"
تیمور دونوں کے اوپر اپنے بازو رکھ کر دونوں کو آگے کی طرف دھکیلتے ہوئے بولا ۔
" تیمور سوچ لے ۔۔۔فری میں بے عزتی نہ ہو جائے ۔۔۔"
تیمور اور شہباز ہنستے ہوئے ۔۔وسیم کی طرف دیکھنے لگے ۔۔۔۔
" وہ لڑکی نہ بیہوش ہو جائے ۔۔۔تیمور بھائی کو دیکھ کہ ۔۔"
شہباز نے تیمور کو اور شہہ دی ۔۔۔۔
۔۔وہ لڑکی کالج میں سامنے سے چلتی ہوئی آرہی تھی ہر کسی
کی طرف اشارہ کرتی اس کا مذاق اڑاتی ۔۔۔
تیمور نے باڈی اسپرے لگایا ۔۔۔۔۔۔
آئینے میں دیکھ کر بال بنائے ۔۔۔
فریش آپ منہ میں رکھا ۔۔۔
اسٹائل میں چلتا ہوا ۔۔۔اس لڑکی کہ سامنے آیا ۔۔۔
وہ لڑکی اسے دیکھ کر ایک پل کو ٹھٹھکی ۔۔
تیمور نے ہاتھ آگے بڑھایا ۔۔۔۔۔" مجھے تیمور صادق خان کہتے ہیں ۔۔"
اس لڑکی نے ۔۔۔ہاتھ آگے کر ۔۔۔جھٹ سے پیچھے کیا اپنے بالوں پہ ہاتھ پھیرنے لگی ۔۔۔۔۔
اس کہ ساتھ جو لڑکے لڑکیاں کھڑی تھی ۔۔۔۔
تیمور پہ تمسخر کر کہ زور سے ہنسنے لگے ۔۔۔۔
" چلیں ڈئیر ۔۔اتنی سمیل آرہی ہے ۔۔۔لگتا ہے بڑا سستا پرفیوم لگایا ۔۔۔ہے ۔۔۔"
وہ سب پھر ایک دوسرے کو تالی مار کہ ہنسنے لگے ۔۔
تیمور کی اچھی خاصی تذلیل ہو چکی تھی ۔۔۔
آدھے سے زیادہ کالج اس پہ ہنس رہا تھا ۔۔۔۔
جس میں زیادہ تر لڑکے تھے جن کی دل کی مراد ۔۔۔۔
اس لڑکی نے پوری کر دی تھی ۔۔
وسیم تیمور کو گھسیٹ کر وہاں سے لے گیا ۔
" چھوڑو گا نہیں اس کو سمجھتی کیا ہے خود کو ۔
وہ لڑکی پیچھے سے آکر بولی ۔۔۔
" سھل سعادت ملک "
وہ ایک ادا سے مڑ کر چلی گئی ۔۔۔۔۔
وسیم پھر منہ کھولے اس تکتا رہا ۔۔۔۔
تیمور کی تھپڑ نے اس کے حواس بحال کیے ۔۔
" خبردار جو اب اس لڑکی کی طرف دیکھا ۔۔۔یہ جانتی نہیں ۔۔۔۔تیمور صادق خان کو ۔۔۔۔اس کو اپنی اوقات نہ یاد دلائی ۔۔۔"
تیمور کی بات کو شہباز نے کاٹا ۔۔۔۔
" چھوڑ یار ایسا بھی کچھ خاص نہیں ہوا ۔۔۔"
تیمور غصے سے اسے دیکھ کر ۔۔۔وہاں سے اٹھ کر چلا گیا ۔

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *