Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Intikam E Mohabbat by Esha Noor Episode06

Intikam E Mohabbat by Esha Noor Episode06

سارا کیا دیکھ رہی ہو ۔۔
رضا نے سارا سے سوال کیا
۔۔۔”یہ وہی لڑکا ہے نا ۔۔۔۔؟؟” سارا نے ایک طرف اشارہ کیا
سھل نے گردن موڑ کر پیچھے دیکھا ۔۔
” کتنا ہینڈ سم لگ رہا ہے ۔آگے جملہ رانیہ نے پورا کیا ۔
” یہ تو کنگال تھا ۔۔۔” رضا کہاں پیچھے رہنے والوں میں تھا ۔
” ۔۔۔لگتا ہے لمبا ہاتھ مارا ہے ۔۔۔۔” وہاب کے منہ سے ہمیشہ شعلے ہی نکلتے تھے ۔
بلیک شرٹ کے ساتھ جینز پہنے ۔۔۔۔وہ چھ فٹ دو انچ قد ۔۔۔۔
شاہ رخ خان اسٹائل ہئیر کٹ ۔۔۔گلاسز لگائے ۔۔۔۔۔اس نے اپنا ۔۔۔
اپنا سیل فون نکالے ۔۔۔۔فرنٹ کیمرہ کھولے خود کے بال سیٹ کر رہا تھا ۔
” اووو یہ یہاں ۔۔۔۔میں آتی ہوں ۔
سھل نے سگریٹ کو بائیک پر ہی مسلہ اور اس کی جانب لپکی ۔
☆☆☆☆☆♡◇◇
” مجھے لیٹ فی جمع کروا لینی چاہیے۔۔۔۔اس نے خود کو سیٹ کیا ۔۔۔
جلدی جلدی فارم جمع کروانے کے لیے ۔۔۔۔کلرک آفس کی جانب رخ کیا ۔۔۔۔
سامنے سے وہی لڑکی چلتی ہوئی نظر آئی ۔۔۔
” مر گئے ۔۔۔۔یہ موت کے فرشتے کی طرح ہر جگہ کیسے پہنچ جاتی ہے ۔
عین اس کے سامنے کھڑی ہو گئی ۔۔۔۔
وہ جس جانب جاتا ۔۔۔وہ اس کے آگے آجاتی ۔۔
” دیکھیں بی بی ۔۔۔میں شریف آدمی ہوں خدا کے لیے میرا پیچھا چھوڑ دیں ۔۔۔آخر کیا بگاڑا ہے میں نے آپ کا ۔۔
اس نے آخر کار ہار ماننے والے انداز میں کہا ۔۔
وہ اسے سر سے پیر تک غور سے دیکھ رہی تھی ۔۔۔۔جیسے اس کی ناپ لینی ہو ۔۔
” ہممم. not bad ۔۔۔وہ جانے لگا پھر سامنے کھڑی ہو گئی ۔۔۔
اب اس کے صبر کا پیمانہ لبریز ہو چکا تھا ۔۔۔۔۔
اس نے ایک ہاتھ کے جھٹکے سے اسے دور ہٹایا اور تیز تیز قدم اٹھاتا ۔۔۔آفس کی جانب بھاگا ۔۔۔
اس نے اپنی اور ھما کی فیس جمع کروائی ۔
جب باہر نکلا تو اس کا سر گھوم گیا ۔۔۔
اس کی بائیک کا ٹائر پنکچر تھا ۔۔۔۔
اور وہ لڑکی پن لیے بائیک کے پاس کھڑی مسکرا رہی تھی ۔۔۔
” اچھا پھنسا ہوں اس لڑکی سے میں ۔
وہ اس کے قریب جا کر ۔۔۔اسے گھور رہا تھا ۔
” آپ کو مجھ سے کیا مسئلہ ہے ۔
” کچھ نہیں۔
وہ ادائے بے نیازی سے گویا ہوئی ۔۔
” پھر کیوں آپ مجھے ہر وقت نقصان دینے پہ تلی ہیں ۔۔”
دل ہی دل میں اس کے لیے گالیاں نکل رہی تھی ۔۔
” تم میرا ایک کام کرو ۔۔۔میں تجھے تنگ نہیں کروں گی ۔۔۔”
وہ لڑکی ۔۔۔انگلی اس کی پیشانی سے ٹھوڑی تک گھما کر بولی ۔۔
“میں فارغ نہیں ہوں ۔۔۔۔” وہ جانے لگا تو اس نے اپنا ہاتھ اس روکنے والے انداز میں آگے کیا ۔
” نام کیا ہے تمہارا ۔۔۔۔”
اس نے سوچا ۔۔۔اصلی کی بجائے ۔۔۔نکلی نام ہی ٹھیک رہے گا ۔
” شاہ رخ خان ۔۔۔”
اس لڑکی ۔۔کی پیشانی پہ شکن آئی۔۔۔۔
” وہ تو اتنا ہینڈسم نہیں ۔۔۔۔یو آر ۔۔۔”
وہ آگے سننے کا منتظر تھا ۔۔۔۔
نجانے اس لڑکی کے ذہن میں کیا آیا ۔۔۔اس نے اس کا راستہ چھوڑ دیا ۔۔
اسے اب اپنی بائیک گھسیٹ کے لے جانی تھی ۔۔
” عجیب آفت گلے پڑی ہے ۔۔۔۔ہر جگہ آن ٹپکتی ہے ۔۔۔۔بن بادل برسات کی طرح ۔۔
وہ غصے میں بڑبڑاتا جا رہا تھا۔
♡♡♡♡♡◇◇◇◇
وہ اس کی جانب گئی تو وہ کچھ جلدی میں تھا ۔۔
وہ جس طرف جاتا سھل سامنے آجاتی ۔۔۔
اس کا چہرہ دیکھنے لائق تھا ۔۔۔
اسے چھیڑنے میں سھل کو مزہ. آرہا تھا ۔۔۔۔
جب اس نے زور سے دھکیل کے اسے سائیڈ پہ کیا ۔۔۔اسے غصہ آگیا ۔
اس نے اپنے بالوں سے پن نکالی اور بائیک کے ٹائر کو پنکچر کر دیا ۔۔۔
ہاتھ جھاڑ کر کھڑی ہوگئی ۔۔۔
کافی اسٹوڈنٹ کھڑے ہوکر اس۔۔۔بدمعاش لڑکی کو دیکھ رہے تھے ۔۔۔۔
جو پورے کالج میں دندناتی پھرتی ۔۔۔اس واقعہ کے بعد کسی کی مجال نہ ہوئی اس کے قریب جائے ۔۔۔
دشمنی تو دور کی بات ۔۔دوستی کرنے سے بھی ڈرنے لگے تھے ۔۔۔۔۔
پرنسپل سعادت سے شکایت لگا چکا تھا ۔۔۔۔
لیکن کوئی ایکشن نہیں تھا ۔۔۔الٹا ۔۔پرنسپل کو چپ کرا دیا گیا۔۔۔۔
” بیچارا ۔۔۔” وہ سب اس پہ ہنس رہے۔ تھے ۔۔۔۔۔
” سھل آپ نا بہت بری ہو ۔۔۔بیچارے کو آج کا دن تو چھوڑ دیتی ۔۔
سارا نقل اتارتے ہوئے کہنے لگی ۔۔
” چلیں یار ۔۔۔۔دیر ہو رہی ۔۔ہے ۔۔۔”
وہاب بیزاری سے بول رہا تھا ۔۔۔۔وہ اس کے منہ پے بارہ بجتے دیکھ رہی تھی ۔۔
♡♡♡♡♡♡♡◇◇◇◇◇
وہ بائیک گھیسٹتا یونیورسٹی کے قریب ایک موٹر مکینک کے پاس لے گیا ۔۔۔
اچانک گولی چلنے کی آواز آئی اور سب اسی جانب بھاگے ۔
وہ وہیں کھڑا منظر دیکھ رہا تھا ۔
” کیا ہوا ہے ۔۔۔؟؟” وہ اس شخص سے پوچھنے لگا جو مجمع سے اس طرف آیا ۔۔۔۔
” ایک لڑکی پے قاتلانہ حملہ ہوا ۔۔۔ہے بال بال بچی ہے لڑکی ۔۔۔”
” اور حملہ ؟؟؟”
اس کا آدھا جملہ اس شخص نے پورا کیا ۔
” اور حملہ آور ہمیشہ کی طرح بھاگ گئے ۔۔۔۔لڑکی بھی وہی تھی ۔۔جو اس دن نیوز میں دیکھی تھی ۔۔۔پکا اسی لڑکی نے گولی چلوائی ہے ۔۔۔”
اس کے سر پے تو جیسے کوئی بم پھوڑ گیا ۔۔
” یہ لڑکی کہیں مجھ پے ہی نہ الزام لگا دے ۔۔۔۔۔” وہ دل ہی دل میں سوچنے لگا ۔۔۔اس منظر سے زرا چھپ کے کھڑا ہوگیا ۔۔۔
تاکہ اس لڑکی کی نظر اس پر نہ پڑے ۔۔۔۔۔
” بھائی جلدی کریں ۔۔۔”
اسے ڈر تھا وہ کہیں پھر سے اس کے سر پہ آن نہ ٹپکے ۔۔۔
☆☆☆☆☆♡◇◇◇◇◇
” کیا مطلب ۔۔۔” شھربانو کے جسم سے جیسے جان نکل گئی ۔۔۔
” ک۔۔۔ک۔۔۔ب ۔۔ہوا ۔سھل تو ٹھیک ہے ۔۔۔” شھربانو کسی سے کال پہ بات کر رہی تھی ۔۔۔۔
اس نے کال بند کر دی ۔
۔۔وہ سعادت کو کال ملانے لگی ۔۔۔۔جو ملک سے باہر تھا ۔۔۔۔
پر کوئی جواب نہ آیا ۔۔۔۔
” مجھے ہی کچھ نہ کچھ کرنا ہوگا ۔۔۔۔سھل کی زندگی کو خطرہ ہے
اس نے اپنا بیگ اٹھایا ۔۔۔اور باہر کی طرف لپکی ۔
♡♡♡♡♡♡♡◇◇◇
” سھل تم ٹھیک ہو ۔۔۔”وہاب اور رضا اس کا بازو پکڑے ہوئے تھے ۔۔۔جس کو گولی چھو کر گزر گئی ۔۔۔۔
اس نے بازو دیکھا ۔۔۔جہاں ہلکی سی خراش آئی تھی ۔۔
” یہ سب کس نے کیا ہے میں جانتی ہوں ۔
مجمع ہٹا سب اپنے کام میں لگ گئے ۔۔۔۔وہ بھی سب سائیڈ کے ریسٹورنٹ پر بیٹھ گئے ۔۔
وہاں کچھ ہی دیر میں پولیس پہنچ چکی تھی ۔۔۔
” آپ تھانے چل کے ایف آئی آر درج کروائیں•
ایک پولیس آفیسر اس سے کہنے لگا ۔۔
” مجھے کسی پر ایف آئی آر درج نہیں کروانی ۔۔۔۔کس نے کیا ہے اور کیوں ۔۔۔۔ آپ لوگ سب جانتے ہیں•
اس کا اشارہ تیمور کی طرف تھا۔
” کہاں ہو تم ۔۔۔۔جلدی پہنچو ۔۔
اس نے۔ اس شخص کی آواز سنی اور خود کو کسی بڑی مصیبت کے لیے تیار کرنے لگا ۔۔
” پکا پکا یہ مجھ سے خود کش دھماکہ ہی کروائے گا ۔۔
زندگی سب کو پیاری ہوتی ہے اسے بھی تھی ۔
وہ مرے مرے قدم اٹھاتا اس شخص کے پاس پہنچا۔۔۔
” کیا نام بتایا تھا ۔۔۔م۔۔م ۔۔ط۔۔ر”
اس شخص نے اس کا نام بگاڑ کے رکھ دیا تھا۔
” مطھر۔
” جو بھی ہے ۔۔۔یہ لے پچاس لاکھ اور ۔
اس نے ایک بیگ اس کی جانب بڑھایا ۔
” گن لے ۔۔اپنے سب جھنجھٹ ختم کر ۔۔پرسوں تجھے نکلنا ہے۔۔۔۔تین مہینے تک اپنی شکل گم رکھنی ہے ۔۔
۔۔۔اپنے خاندان کے سارے مسئلے حل کر جلدی ۔۔
اس نے بیگ کھولا ۔۔۔۔پانچ پانچ ہزار کے نوٹ بڑے ترتیب سے رکھے تھے ۔۔
وہ دلدل میں پیر رکھ چکا تھا ۔۔
پینتیس لاکھ نکال کہ باقی پیسے بینک میں کچھ اپنے اور کچھ اپنی بہن کے اکائونٹ میں جمع کروا کے آیا تھا ۔۔
اپارٹمنٹ وہ پہلے ہی دیکھ چکا تھا ۔
بس اب خریدنا تھا ۔
◇◇◇◇◇◇◇◇◇◇◇
” رابی مطھر نہیں آیا ۔۔” صبیحہ بی بی کو آپریشن کے لیے ۔۔۔لے کر جا رہے تھے جب ۔وہ بار بار مطھر کا پوچھ رہی تھی ۔
ربیعہ اور ھما ہاسپیٹل میں تھی ۔۔
” امی ۔۔۔کو لے گئے ۔۔۔۔آپی ۔۔؟؟؟؟۔” وہ جب تک پہنچا ۔۔۔صبیحہ بی بی کو آپریشن کے لیے لے کر جا چکے تھے ۔۔۔۔ اس کا بھائی اس کے سامنے کھڑا تھا ۔۔۔وہ جانتی تھی ۔۔۔وہ کچھ نہ کچھ غلط کر رہا ہے ۔۔
پر وہ سب بے انتہا۔۔مجبور تھے ۔۔۔
” ہاں وہ آپ کا ہی پوچھ رہی تھی ۔۔۔۔درد کی شدت بہت زیادہ تھی ۔۔
وہ کچھ تاسف سے گویا ہوا ۔۔
” اچھا آپی چلتا ہوں کچھ کام نپٹا کے ابھی آیا ۔۔۔”
وہ اپنے بھائی کو دیکھ رہی تھی ۔
جو اپنا آپ ۔۔۔کہیں بیچ آیا تھا ۔۔۔۔۔۔بے بسی انتہا کو تھی ۔
وہ ھما کو گلے لگا کر رونے لگی ۔۔
▪▪▪▪▪▪▪▪▪
” یہ لیں ایڈوانس ۔۔۔باقی کے پیسے کاغذات پورے بننے پر آپ کو میری بڑی بہن ادا کر دیں گی ۔
پراپرٹی ڈیلر نے اپارٹمنٹ کی چابی ان کے حوالے کی
۔۔۔۔” جی بس کاغذات ۔چھ دن میں ریڈی ہوجائیں گے ۔۔۔۔”
فرنشڈ اپارٹمنٹ تھا ۔۔۔ضروریات زندگی کی ہر چیز موجود تھی ۔۔
اب اگلا مرحلہ سیکنڈ ہینڈ گاڑی خریدنے کا تھا۔
وہ بھی پہلے طے کر چکا تھا ۔
گاڑی اسے ربیعہ اور مدثر کو چلانا آتی تھی ۔۔۔
وہ ردا اور مظفر کو۔۔اپارٹمنٹ گاڑی پہ لے کر آیا
” بھائی گاڑی ہماری ہے ۔۔۔”
اس نے بس اثبات میں سر ہلایا ۔۔۔
وہ اپنے والد کی چھبتی نظروں کا سامنا نہیں۔ کر پا رہا تھا ۔۔۔۔
” بھائی یہ گھر بھی ہمارا ہے ۔۔۔۔” اتنا اچھا گھر تو ان کے پاس پہلے بھی نہیں تھا ۔۔البتہ مظفر کے پاس گاڑی ضرور تھی۔۔۔۔
” ہاں گڑیا ۔۔۔” ردا کمروں کے دروازے بار بار کھول کے دیکھتی ۔۔۔۔
” میں نے نرس کا بندوبست کر دیا ہے امی ابو ۔۔کے لیے ۔۔۔”
وہ کال پہ کسی کو بتا رہا تھا۔۔
” بابا یہ گاڑی کے کاغذات ہیں گاڑی گھر سب آپ کے نام ہیں آپی کے اکائونٹ میں کچھ امائونٹ ہے ۔۔۔وہ گھر کی بقایاجات ادا کر دے گی ۔۔۔۔ ۔۔۔”
وہ اب بھی اپنے والد سے نظر نہیں ملا رہا تھا ۔۔۔۔
وہ اٹھ کر باہر چلا گیا ۔۔۔
اس نے اپنے لیے کیا کیا نا سوچا تھا ۔۔۔۔بے بسی نے اسے کہاں لا کر۔۔۔چھوڑا تھا ۔
” تیمور یار ۔۔۔۔۔باہر میڈیا والے جمع ہیں “
وسیم جو باہر جا کر واپس بھاگتا ہوا آیا۔
” کیوں جمع ہیں ۔۔؟؟”
” یار اس لڑکی پے قاتلانہ حملہ ہوا ہے ۔۔اور سب کا شک تمہاری طرف ہے ۔۔۔۔”
تیمور کی خوف کے مارے آنکھیں پھیل گئی ۔۔۔
” یار یہ لڑکی بہت ہی خطرناک ہے ہمیں پھنسانے کے لیے ۔۔۔اپنے اوپر قاتلانہ حملہ ۔۔۔:”
باہر صادق خان میڈیا نمائندگان کو جواب دے رہے تھے ۔۔۔
تیمور سن رہا تھا ۔۔۔۔
” میرا بیٹا ۔۔جیل میں تھا ۔۔”
صادق خان اپنے بیٹے کی دفاع میں بولا ۔۔۔
” لیکن سر ہم نے سنا ہے آپ کا بیٹا پہلے آزاد ہوا تھا ۔۔گولی اس کے بعد چلی ہے ۔۔۔”
صادق خان اس کے سوال پر طیش میں آگئے ۔۔۔۔۔
” یہ سب جھوٹ ہے ۔۔۔ہمیں پھنسایا۔۔جا رہا ہے ۔۔۔۔الیکش سر پہ ہیں یہ سب مخالفین کی سازش ہے ۔۔۔”
وہ ان سب کو جواب دے کر ۔۔۔وکیل سے بات کرنے لگا ۔۔
” تم نے تو کچھ نہیں کروایا۔۔؟؟؟ ۔۔۔” صادق خان جیسے ہی اپنے بیٹے سے مخاطب ہوا ۔۔۔
وہ قسمیں کھانا شروع ہو گیا ۔۔۔۔
” یہ سب اس لڑکی نے خود کروایا ۔ہے صرف اور صرف مجھے پھنسانے کے لیے ۔۔۔”
تیمور نے بس یہی رٹ لگائی ہوئی تھی ۔۔
صادق خان اسے غصے سے دیکھ رہا تھا ۔۔
۔۔۔۔” تم میرا نام ۔۔۔میری شہرت سب کچھ ڈبو کے رکھ دو ۔۔۔
صادق خان غصے میں کال ملانے لگا۔۔۔۔
” ہیلو سعادت ۔
▪▪▪▪▪▪▪▪▪▪▪
” بی بی کوئی آپ سے ملنے آیا ہے ” ۔۔۔۔رضیہ ہاتھ باندھے کھڑی تھی ۔۔۔
” کون ہے ۔۔۔” شھربانو آئینے کے سامنے بیٹھی ۔۔۔خود کو سنوار رہی تھی اس پہ سعادت کی رفاقت کا رنگ چڑھ چکا تھا ۔۔۔سعادت اسے پہلے کی طرح سیدھا سادا سمجھتا تھا ۔ ۔
لیکن شھربانو سے وہ کب مسز سعادت ملک بن گئی وہ بھی نا سمجھ سکی ۔۔۔
کب اس میں اس سیاست کی چال بازیوں کو سمجھنے کی ۔۔۔۔صلاحیت آئی ۔۔۔۔
” جی کوئی صادق خان ہے ۔۔۔”
” تم چلو ہم کچھ دیر میں آتے ہیں ۔۔۔”
وہ گردن ہلا کے چلی گئی ۔
اس کے آنے پر صادق خان ۔۔اس کے استقبال کے لیے اٹھا ۔۔
شھربانو اسے وزیر کی حد تک جانتی تھی ۔۔۔۔لیکن ذاتی طور پر وہ ایک دوسرے سے ناواقف تھے ۔۔۔۔
” جی میں صادق خان ۔۔۔۔تیمور کا والد ۔۔
شھربانو کا چہرہ بے تاثر تھے ۔۔
” میں کس سلسلے میں ملنے آیا ہوں آپ سمجھ گئی ہیں شاید “
صادق خان اس کی خوبصورتی سے متاثر ہوئے بنا نہ رہ سکا ۔
” نہیں میں نہیں جانتی ۔۔
صادق خان کچھ ڈھیلا پڑا ۔
واقعی میں وہ دوسرے بزنس ومین اور سیاستدانوں کی طرح نہیں تھی ۔۔۔
” کل جو آپ کی بیٹی پر حملہ ہوا ۔۔اس میں ہمارا کوئی ہاتھ نہیں ۔تو میں اسی “
اس کی بات پوری ہوتی ۔ اس سے پہلے ۔۔۔شھربانو نے اپنی بات اس کے سامنے رکھی ۔۔
” میں جانتی ہوں ۔۔۔لیکن میں اس سلسلے میں فلحال کچھ نہیں کر سکتی ۔۔۔۔آپ کے بیٹے نے کھلے عام دھمکیاں دی ہیں ۔۔۔اس کے نتائج اسے بھگتنے پڑیں گے ۔۔” ۔
وہ کچھ کہتا شھربانو اٹھ کر اندر چلی گئی ۔۔۔۔
” ہاں سعادت ہوگئی ہے اس سے بات ۔۔۔”
سعادت کا بے حد نرم لہجہ تھا۔ ” شیری تم مجھے پہلے کی طرح سادی کیوں نہیں کہتی ۔۔۔
وہ جیسے تڑپ کر بولا ۔۔۔
” سعادت ۔۔۔آپ سادی کو مار چکے ہیں ۔۔۔۔”
وہ کچھ اور کہتی سامنے سے کال بند ہو گئی ۔
” سعادت ملک اب آپ بس سعادت ملک ہیں اور سونیا کے والد ۔۔۔۔بس “
اس نے موبائل بیڈ پر پھینکا ۔۔
کوئی کام یاد آتے ہی ۔۔۔۔
باہر نکل گئی ۔
▪▪▪▪▪▪▪
اس کا سیل فون پھر بجنے لگا ۔۔۔۔۔وہ نمبر دیکھ کر سائیڈ پر ہوا ۔۔۔۔۔
” بولیں ۔۔۔”
سامنے والے کا لہجہ کاٹ دار تھا ۔۔۔۔
” اوئے پیسے مل گئے تو کیسے بات کر رہا ہے ۔۔۔”
” سر آپ نے ہمیں کل۔آنے کا حکم دیا تھا ۔۔۔۔ہم پیش ہو جائیں گے “
اس کہ لہجے میں تلخی تھی ۔۔۔۔
” کل نہیں آج!! ۔۔۔آج ہی پہنچو اپنا ضروری سامان پیک کر لینا ۔اور تھوڑا جلدی ۔۔۔۔۔۔”
اس کا دل کیا ۔۔۔سیل فون زمین پر پھینک دے ۔۔۔
پر اسے ضبط کرنا تھا ۔۔
وہ۔۔ربیعہ کے پاس آیا ۔
” آپی میں جا رہا ہوں تین مہینے کے کیے ۔۔۔آپ اپارٹمنٹ دیکھ آئیں جب تک میں یہاں ہوں ۔۔
” اپارٹمنٹ کیسا اپارٹمنٹ ۔۔۔؟؟؟” ۔۔۔ربیعہ کی ۔۔۔آر پار ہوتی نگاہیں ۔۔۔اس کے دل کو چھلنی کر رہی تھی ۔۔۔
اس نے پتا بتایا ۔۔۔
۔” آپی جلدی آنا ۔۔۔مجھے جانا ہے ۔۔۔
وہ ربیعہ کو نا جاتا دیکھ کر کہنے لگا ۔
” ھما تم بھی جائو ۔۔۔۔آپی ردا کو ساتھ لے آئے گی ۔۔۔وہاں اب سیکورٹی کا کوئی مسئلہ نہیں ۔
◇◇◇◇◇◇◇◇◇◇
شھربانو کو سھل کے حوالے سے تشویش ہونے لگی۔
اس کا شک یقین میں بدلنے لگا ۔
اسے اپنی بیٹی کو بچانا تھا اس کے شوہر کی نشانی کو بچانا تھا ۔
” سھل کہاں جا رہی ہو ۔۔۔۔؟؟”
شھربانو اسے باہر جاتا دیکھ کر اس سے مخاطب ہوئی ۔
” مارشل آرٹ کی کلاسز شروع کی تھی ۔۔۔وہ آپ بھول گئی ؟؟”
شھربانو واقعی گھبرا گئی تھی ۔۔
اسے سھل کو روکنا تھا ۔
پر وہ رکنے والوں میں نہ تھا
◇◇◇◇◇◇◇◇◇◇◇
اس کا سیل پھر بجا نمبر دیکھ کر وہ سمجھ گیا ۔۔
۔” آرہا ہوں ۔۔۔”
سامنے والا شخص کافی غصے میں تھا ۔۔۔۔
” آدھے گھنٹے میں پہنچو “
اس نے ربیعہ کو کال کی
۔۔۔” آپی جلدی آئیں ۔۔۔۔مجھے جانا ہے ۔۔
وہ اپنی ماں کے پاس گیا ۔۔۔
جس کا ہاتھ کاٹ دیا گیا تھا ۔۔۔۔
وہ دوائیوں کے زیر اثر تھی ۔۔۔
ربیعہ آچکی تھی ۔۔۔۔اب اسے جانا تھا ۔۔
” آپی دعا کرنا ۔۔۔۔امی سے بھی کہنا دعا کرے ۔۔۔۔شاید کام جلدی ختم ہو جائے ۔۔۔”
وہ جانتا تھا وہ ان کو جھوٹی تسلی دے رہا تھا
▪▪▪▪▪▪▪▪▪
” وہ لڑکی کہاں آتی جاتی ہے اس پر نظر رکھو ۔۔۔”
تیمور اپنے آدمیوں سے کہہ رہا تھا ۔۔
” آج رہنے دو کل موقع دیکھ کر لڑکی اغوا کر لیں گے ایک بار ۔۔
ہتھے چڑھ جائے ۔۔۔پھر منہ چھپاتی پھرے گی ۔
۔تیمور اپنے بال پیچھے کرتا ہوا وسیم اور شہباز کو دیکھ رہا تھا ۔۔
” چل ہم تینوں نکلتے ہیں ۔۔۔۔تھائی لینڈ کی ٹکٹس کنفرم ہیں اپنی ۔۔۔”
تیمور شہباز ۔۔کے کندھے کو دبا رہا تھا ۔۔۔۔۔
” واہ یار کیا پلان بنایا ہے ۔۔۔۔جب وہ اغوا ہوگی ہم یہاں پر ہونگے ہی نہیں ۔۔۔اور کچھ دن بعد۔۔۔ہا۔۔ہا۔۔۔ہا “
وہ تینوں قہقہے لگا رہے تھے ۔۔۔۔
جیسے بس جیت ان کی ہی ہوگی ۔۔
▪▪▪▪▪▪▪▪▪
اسے اس جگہ آنا بلکل پسند نہ تھا ۔۔۔۔۔وہاں کا ماحول گھٹن زدہ تھا ۔۔۔۔عجیب سی بو ہر طرف پھیلی تھی ۔۔
جگہ جگہ پانچ چھ لڑکے ٹولیوں کی صورت میں بیٹھے جوا کھیل رہے تھے۔
کس کہ منہ میں گٹکہ.. سگریٹ ..!!! شراب کھلے عام چل رہی تھی ۔۔۔
قانون کے رکھوالے ہی قانون توڑ رہے تھے ۔۔۔
” سن لڑکے مطر ۔۔۔”
اس۔ شخص نے پھر سے اس کے نام کو بگاڑ کے رکھ دیا
” سر مطھر ” ۔وہ شخص کہیں سے بھی۔ سر نہیں لگ رہا تھا ۔۔
پر جس کے پاس کام کریں ۔۔۔وہی سرکار ہے ۔۔
اس شخص نے ایک میپ سامنے رکھا ۔۔
” یہ ہے سوات ۔۔تمہیں سوات پہنچنا ہے ۔۔۔۔وہاں تجھے مال دیا جائے گا ۔۔۔۔وہ اس راستے سے تمہیں کالام تک لے جانا ۔۔۔۔(وہ ایک پہاڑی خفیہ راستہ دکھا رہا تھا ۔
اس راستے پے فورسز ہیں ۔۔۔( وہ میپ پر ایک لکیر پر انگلی رکھہ کر کہنے لگا ۔ ۔۔اس کے متبادل دوسرا راستہ ہے ۔۔جیپ ٹریک ہے ۔۔
وہ ایک دم سے نقشہ چھوڑ کر اس کی جانب متوجہ ہوا ۔۔
” گاڑی تو چلانی آتی ہے نا ۔؟؟؟۔۔” اس نے بس گردن ہلائی
” راستہ تھوڑا خطرناک ہے ۔۔۔وادی ۔۔کالام میں مہوڈند ۔۔جھیل ہے پھر اس سے آگے ۔۔۔جیپ ٹریک ۔۔جیپ نہ جائے تو گھوڑے مل جائیں گے سامان اس پے لاد دینا ۔۔۔تجھے گبرال میں رکنا ہے ۔
وہ کچھ دیر سوچنے والے انداز میں خاموش ہوا
” برف باری اکتوبر میں ہی شروع ہو جاتی ہے تجھے مال لے کر اس جگہ پہنچنا ہے اس کے بعد راستے بند ہو جائیں گے ۔
وہاں تجھے دو ڈھائی مہینے وہاں رہنا ہے ۔
تمہیں ہمارے سگنل آنے تک وہی رکنا ہے ۔۔
” کیا مطلب ہمیں وہاں رہنا ہے ۔۔۔۔ہم تو وہاں سردی اور بھوک سے مر جائیں گے ۔
اس شخص نے اس کی بات ان سنی کر دی ۔۔
پھر وہی سے بات شروع کی جہاں سے چھوڑی تھی
“ہر چیز وہاں تمہیں مل جائے گی ۔۔۔ہمارے لوگ تمہاری مدد کرے گے ۔۔۔پر کہیں کہیں تجھ خود بھی ہمت کرنی ہے “
اس نے نقشہ بند کیا۔۔
” سمجھ گئے نا میری بات ۔۔۔۔یہ لو لسٹ اور یہ لو پیسے ۔۔۔یہ چیزیں یہاں سے خرید لو ۔۔۔یا سوات سے ۔۔۔۔۔
ایک ہی بات ہے “
اس نے لسٹ دیکھی۔۔۔۔لسٹ میں جو چیزیں تھی ۔۔۔وہ ایک کوہ پیما۔۔۔سیاح۔۔۔کے ضرورت کے مطابق تھی ۔۔۔۔
” میں کیا پہاڑ سر کرنے جا رہا ہوں؟ ؟؟
اس شخص نے غصے سے اسے دیکھا ۔۔
” جتنا کہا جائے اتنا کر ۔۔۔۔۔۔یہ لے کپڑے ۔۔۔۔اور یہ کچھ چیزیں ہیں ۔۔جا اپنا حلیہ بدل
اس علاقے کے حساب سے لباس تھا ۔۔۔۔۔اس میں نقلی موچھیں اور بال بھی تھے ۔۔۔۔
” جلدی کر “
وہ ابھی چیزیں دیکھ رہا تھا ۔۔۔
اس پہ حکم صادر ہو گیا ۔۔
وہ بھیس بدل کر نکلا تو بلکل سواتی لگ رہا تھا ۔۔
” اوئے ہیرے اس کی فوٹو بنا ۔۔۔۔اس کارڈ پہ لگوا کہ آ ۔۔جلدی جا ایک گھنٹہ ہے تیرے پاس ۔
جاری ہے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *