Intikam E Mohabbat by Esha Noor NovelR50798 Intikam E Mohabbat by Esha Noor Episode29
No Download Link
253K
35
Rate this Novel
Intikam E Mohabbat by Esha Noor Episode01 Intikam E Mohabbat by Esha Noor Episode02 Intikam E Mohabbat by Esha Noor Episode03 Intikam E Mohabbat by Esha Noor Episode04 Intikam E Mohabbat by Esha Noor Episode05 Intikam E Mohabbat by Esha Noor Episode06 Intikam E Mohabbat by Esha Noor Episode07 Intikam E Mohabbat by Esha Noor Episode08 Intikam E Mohabbat by Esha Noor Episode09 Intikam E Mohabbat by Esha Noor Episode10 Intikam E Mohabbat by Esha Noor Episode11 Intikam E Mohabbat by Esha Noor Episode12 Intikam E Mohabbat by Esha Noor Episode13 Intikam E Mohabbat by Esha Noor Episode14 Intikam E Mohabbat by Esha Noor Episode15 Intikam E Mohabbat by Esha Noor Episode16 Intikam E Mohabbat by Esha Noor Episode17 Intikam E Mohabbat by Esha Noor Episode18 Intikam E Mohabbat by Esha Noor Episode19 Intikam E Mohabbat by Esha Noor Episode20 Intikam E Mohabbat by Esha Noor Episode21 Intikam E Mohabbat by Esha Noor Episode22 Intikam E Mohabbat by Esha Noor Episode23 Intikam E Mohabbat by Esha Noor Episode24 Intikam E Mohabbat by Esha Noor Episode25 Intikam E Mohabbat by Esha Noor Episode26 Intikam E Mohabbat by Esha Noor Episode27 Intikam E Mohabbat by Esha Noor Episode28 Intikam E Mohabbat by Esha Noor Episode29 (Watching)Intikam E Mohabbat by Esha Noor Episode30 Intikam E Mohabbat by Esha Noor Episode31 Intikam E Mohabbat by Esha Noor Episode32 Intikam E Mohabbat by Esha Noor Episode33 Intikam E Mohabbat by Esha Noor Episode34 Intikam E Mohabbat by Esha Noor Last Episode
Intikam E Mohabbat by Esha Noor Episode29
Intikam E Mohabbat by Esha Noor Episode29
اس کی آنکھ کھلی تو ہر طرف باوردی ڈاکٹرز موجود تھے ۔
” اب کیسی طبیعت ہے…؟ ایک لیڈی ڈاکٹر اس کے سرہانے کھڑی تھی ۔
اسے اپنا دماغ سن سا محسوس ہوا کوئی بھی بات اسے ٹھیک سے یاد نہیں آرہی تھی ۔۔۔۔
اسے بس اپنے گھر والے ہی یاد تھے ۔۔۔” میں کہاں ہوں … مام!!!۔۔۔ ڈیڈ کہاں ہے ۔۔۔؟؟؟”
ایک انجان سی جگہ تھی۔۔۔ جیسے کوئی کیمپ ۔۔۔ہو ۔۔۔۔وہ وہاں کیسے پہنچی اسے کچھ سمجھ نہیں آرہا تھا ۔۔۔وہ ذہن پہ زور دینے لگی ۔۔۔تو سر میں درد کی ٹیسیں اٹھنے لگی
۔۔۔اس نے سر پکڑ لیا ۔۔۔” آپ زیادہ نہ سوچیں بس اپنے والد کا نام بتائیں ۔۔”
ایک نسوانی آواز اس کی سماعت سے ٹکرائی
” میں …میں سھل ۔۔۔سعادت۔۔ ملک ۔۔”
اس نے کچھ اور کہنا چاہا لیکن زبان نے ساتھ نا دیا اور وہ کہہ نہ سکی ۔۔
۔” ۔اوکے ۔۔۔اب تم آرام کرو ۔۔۔”
اسے اس لیڈی ڈاکٹر نے انجیکشن دیا ۔۔۔اور وہ واپس نیند کی وادی میں کھو گئی ۔۔۔
☆◇◇◇◇◇◇◇◇◇◇◇◇◇◇
ماضی
اس کے کمرے کا دروازہ دھڑام سے کھلا ۔۔۔
سعادت لڑکھڑاتا اس کے پاس آرہا تھا ۔۔۔
وہ جو بیڈ کے پاس وہی زمین پر ڈھے جانے والے انداز میں بیٹھی تھی ۔۔
اس اپنے پاس آتا دیکھ کر کھڑی ہو گئی ۔۔
وہ اب بلکل اس کے پاس تھا
۔۔۔۔” شیری میری جان مجھے معاف کر دو میں جانتا ہوں تم ۔۔۔ تم میرا ہی انتظار کر رہی تھی۔۔نا ۔۔۔ کتنی خوبصورت لگ رہی ہو ۔۔۔
وہ اس کے پاس آکر اس کے چہرے پہ بکھرے بال انگلی سے ہٹانے لگا
” ہاتھ مت لگائو مجھے ۔۔۔۔” وہ غرائی ۔۔۔
سعادت نے اسے زور سے دھکا دے کر ۔۔۔بیڈ پر گرایا ۔۔۔۔
” (گالی ) ۔۔۔زبان چلاتی ہے ۔۔۔۔خود کو میری شیری سمجھتی ہے ۔۔۔تیری پوری قیمت ادا کی ہے ۔۔اس لیے منہ بند ۔۔۔۔”
اس نے انگلی اپنے ہونٹوں پہ رکھی ۔۔۔۔ وہ اس سے اپنا آپ چھڑانے لگی ۔۔۔۔” مر گئی تیری شیری ۔۔۔۔کھا گئے اسے بھیڑیے ۔۔
زور کا تھپڑ اس کے گال پر پڑا۔ اس کے کان سائیں سائیں کرنے لگے ۔۔۔رخسار تھپڑ کی وجہ سے جلنے لگا ۔۔” (گالی ) تو میری شیری کے بارے میں ایسا کہتی ہے تیری ہمت کیسے ہوئی ۔۔۔دیکھ میں تیری کیا حالت کرتا ہوں۔۔۔ تو کسئ کو منہ دکھانے کے لائق بھی نہیں رہے گی ۔۔۔
(” دیکھو سادی مجھے محبت میں کبھی آزمانا مت ۔۔۔میں تیری محبت میں کسی حد تک بھی چلی جائوں گی ۔۔۔” ۔۔۔وہ روتے ہوئے اس کی طرف دیکھ رہی تھی ۔۔وہ کچھ فاصلے پر اس کے ساتھ بیٹھا ہوا تھا ۔۔۔
” شیری میری جان میں تجھے کبھی بھی نہیں آزمائوں گا ۔۔۔اگر تمہاری مرضی بھی ہوئی تب بھی نہیں ۔۔۔۔کیونکہ مجھے حلال کھانا پسند ہے حرام نہیں ۔۔۔۔اور تم یہ کیا اوٹ پٹانگ سوچ رہی ہو ۔۔۔تجھے چھونے کا حق مجھے صرف نکاح کے بعد ہے ۔۔۔۔پھر تم میری جو ہوجائو گی ۔۔۔اس نے شرما کہ سر جھکا لیا ۔
اس نے اپنا ہاتھ اس کے ہاتھ پر رکھ لیا ۔)
۔وہ ۔۔جو پیار میں حد رکھتا تھا ۔۔۔اس کی نفرت نے اسے ہر حد پار کرنے پر مجبور کر دیا ۔۔۔۔۔
شھربانو کا دوپٹہ بھی سرک جاتا تو وہ نظریں جھکا لیتا ۔۔۔۔
جس نے خود پہ ایک حد مقرر کر رکھی تھی ۔۔۔وہ آج ہر حد توڑ چکا تھا۔۔۔وہ بستر سے اٹھی اور روتی ہوئی باتھ روم کی طرف بھاگی ۔۔۔
☆◇◇◇◇◇◇◇◇◇◇◇◇
سعادت کی آنکھ کھلی تو ہر چیز بکھری ہوئی تھی۔۔۔
شھربانو کا رخ دوسری طرف تھا وہ ان سب چیزوں کو سمیٹ رہی تھی ۔
لمبے کھلے سیاہ بال جو کمر سے بھی نیچے تک آتے وہ اسے دیکھ رہا تھا ۔
شھربانو کی پیٹھ سعادت کی طرف تھی ۔۔
” یہ سب تم کیوں کر رہی ہو ۔۔۔۔نوکروں کی فوج کیوں رکھی ہے گھر میں ؟
اس کی بات کا اس نے کوئی جواب نا دیا ۔۔۔
” تمہارے کپڑے نکال دیے ہیں ۔۔
وہ شھربانو کا اتنا نرم رویہ دیکھ کر پریشان ہوگیا ۔۔۔
اسے رات کی پوری بات یاد آنے لگی ۔۔۔۔وہ شھربانو کو تھپڑ مارنا اسے بالوں سے کھینچنا ۔اسے شھربانو کو برا بھلا کہنے پر اس سے زبردستی کرنا ۔
وہ ایک دم سے اٹھا ۔۔۔شھربانو کے سامنے آیا ۔۔۔اسے شانوں سے پکڑ کر گھما گھما کر دیکھنے لگا ۔۔۔
” یہ سب!!!۔۔۔ یہ سب میں نے کیا ہے؟؟
وہ اپنا سر پکڑ کر بیٹھ گیا ۔۔۔
گردن اور گالوں پہ اس کی رات کے دی ہوئی سوغات کے نشانات واضع تھے ۔۔
” واہ ۔۔۔” شھربانو کے چہرے پر طنزیہ مسکراہٹ پھیل گئی ۔۔۔
” کیا اداکاری کرتے ہو ۔۔۔۔مسٹر سعادت ملک ۔۔۔۔۔ایک رات بھی صبر نہ ہو سکا اتنے بڑے دعوے ۔۔۔۔ایک رات میں سامنے آگئے ۔
وہ اسے گھور رہی تھی ۔۔۔اور وہ اس سے نظر ملانے کے قابل بھی نہیں رہا تھا ۔۔۔
وہ گردن جھکائے ٹاول لے کر باتھ روم میں چلا آیا ۔۔۔۔۔
وہ جتنی اس کی غلط فہمیاں دور کرنا چاہتا تھا ۔۔لیکن ۔پھر اس سے غلطیاں ہو جاتی تھی ۔۔
وہ۔اندر جا کے زور زور سے دیوار پر مکے مارنے لگا ۔۔۔۔اس نے زور سے شیشے پہ مکہ مارا شیشہ ٹوٹ کہ بکھر گیا ۔۔۔شیشے کی کرچیاں اس کی ہاتھ میں دھنس گئی تھی
۔” میں نے اپنی شیری پہ ہاتھ اٹھایا “
۔۔اس کا پورا ہاتھ چھلنی ہوگیا ۔۔
وہ باتھ روم سے باہر نکلا تب بھی اس کے ہاتھ سے خون نکل رہا تھا ۔۔
شھربانو فرسٹ ایڈ باکس لیے گھٹنوں کے بل اس کے پاس زمین پر بیٹھ گئی ۔۔
اس نے ایک پل کے لیے اس مورت کو دیکھا ۔۔۔
” یہ مت سمجھ لینا مجھے تیرا زخم دیکھ کر تم پر ترس آرہا ہے۔۔
۔جتنے زخم تم نے مجھے زندگی میں دیے ہیں اس کے سامنے یہ رتی بھر بھی نہیں ۔۔۔۔۔امی آج سھل کو لے کر یہی رہنے آرہی ہے ۔۔۔۔اس لیے میں کوئی ڈرامہ نہیں چاہتی ۔” وہ اسے ہاتھ پہ پٹی باندھ رہی تھی ۔۔۔اور وہ کسی مجرم کی طرح سر جھکائے خاموشی سے اس کی باتیں سن رہا تھا ۔۔۔ ۔۔” ۔۔تمہاری پسندیدہ مشروب بھی تمہارے مخصوص کمرے میں شفٹ کر دی ہے ۔۔
اس کے چہرے اور گردن پر اب نشانات نظر نہیں آرہے تھے شاید اس نے کسی چیز سے اسے کور کیا تھا ۔۔
” اسے بھی اٹھا کر گھر سے باہر پھینک دو یہ جو سب رات کو ہوا۔۔۔ اسی کی وجہ سے ہوا ہے ۔۔۔”
وہ اب بھی گردن جھکائے ہوئے تھا ۔۔۔
” اچھا ۔۔” طنزیہ کہا گیا ۔۔
” تو کیا یہ چیز باہر سے پی کر نہیں آئو گے!!!!! ۔۔۔۔رات جو ہوا سہی ہوا ۔۔۔میں اپنی اوقات بھول گئی تھی ۔۔۔اچھا ہوا تم نے یاد دلا دی ۔۔۔۔”
وہ اٹھ کر باہر چلا گیا وہاں اور کچھ دیر ٹھہرتا ۔۔۔تو شھربانو کی طنز کے تیر اسے سے اور برداشت نہ ہوتے۔۔۔اور وہ پھر غصے میں کچھ کر بیٹھتا ۔۔۔
☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆
ممتاز بیگم کے آنے کی وجہ سے شھربانو
روایتی بیویوں کی طرح رہنے لگی تھی ۔
لیکن وہ سب بیڈروم سے باہر تک تھا ۔
بیڈروم کے اندر وہی جنگ چھڑی تھی ۔۔
لیکن سعادت اب کھل کے ڈرنک نہیں کر سکتا تھا ۔۔
۔اس کی راتیں اب گھر سے باہر گزرنے لگی تھی۔۔۔۔وہ اکثر فارم ہاوس میں ہوتا ۔۔۔۔یا دوسرے شہر ۔۔۔۔۔
ممتاز بیگم کچھ دن سحر کے گھر رہنے گئی تب ہی سعادت واپس رات کو گھر آیا ۔
وہ جو محبت میں اپنے آپ سونپنے کو تیار تھی ۔۔۔۔آج وہ حق اپنے شوہر کو دینے سے انکاری تھی
۔۔” تم کیوں کر رہی ہو میرے ساتھ ایسا ۔۔۔میرے تڑپنے پہ تجھے ترس نہیں آتا ۔۔۔کیوں اتنی سنگدل ہو گئی ہو ۔۔۔۔۔”
وہ گویا درد سے تڑپ کر بولا ۔۔۔۔
” ترس ۔۔۔ہاہاہا ۔۔۔۔مجھے تو تجھے تڑپتا دیکھ کر سکون ملتا ہے ۔۔۔۔۔جا شاباس ڈرنک کر ۔۔۔۔اور پھر آکر مجھے اذیت دے ۔۔۔۔۔لیکن پتاہے اس اذیت میں بھی توں تڑپ رہا ہوتا ہے۔۔۔
وہ پھر سے قہقہہ لگا کر ہنسنے لگی ۔۔
۔لیکن اس رات اس نے خود پر کنٹرول رکھا ۔۔
اور خاموشی سے آکر بیڈ پر سو گیا ۔۔
☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆
شھربانو کو کبھی کبھی اس پر ترس آنے لگتا ۔۔
وہ خود کو اور سعادت کو نفرت کی آگ میں تباہ کر رہی تھی ۔
کبھی کبھی سوچتی یہ تو وہی سادی ہے اس کی پہلی محبت ۔۔
لیکن شاید نفرت اور انا کی جنگ میں محبت ہار چکی تھی ۔۔
جب بھی وہ پرانی باتیں بھول کر سعادت کو معاف کرنے کا سوچتی ۔۔۔تبھی سعادت پھر سے کوئی ایسی غلطی کر بیٹھتا ۔۔۔۔۔اس کی ۔ساری امیدیں دم توڑ جاتی ۔۔۔۔۔پھر سے نفرت کا سانپ پھن نکالے پھنکار رہا ہوتا ۔۔
☆◇◇◇◇◇◇◇◇◇◇◇◇◇
حال
وہ خاموشی سے اپنی آفس میں کرسی سے ٹیک لگائے ۔۔۔کسی گہری سوچ میں ڈوبا تھا ۔۔۔۔
تبھی اسے ایک نئے نمبر سے کال آئی ۔۔
کال خود ریسیو کرنے کی بجائے زمان کو کال ریسیو کرنے کا اشارہ کیا ۔۔
” یس زمان اسپیکنگ ۔۔۔”
سامنے سے شاید نام۔پوچھا گیا تھا ۔۔۔۔
سعادت نے اسے اسپیکر آن کرنے کا اشارہ کیا ۔۔۔۔
زمان نے اسپیکر کو ٹچ کیا ۔۔۔۔تو سامنے والے کی آواز کمرے میں گونجنے لگی
” ہمیں سعادت ملک سے بات کرنی ہے ۔۔۔اس کی بیٹی کے بارے میں ۔۔۔” جیسے ہی سعادت نے بیٹی لفظ کہتے سنا ۔۔موبائل تقریبن چھیننے والے انداز میں اس سے لے لیا ۔۔۔
اسپیکر آف کر دیا ۔۔۔
” جی سعادت بات کر رہا ہوں ۔۔
◇◇◇◇◇◇◇◇◇◇◇◇◇◇
وہ پریشانی اور غصے کی ملی جلی کیفیت میں ان لوگوں کو ایک گھنٹے میں سات بار کال کر چکی تھی ۔
” تم لوگوں نے اس کام کی منہ مانگی رقم لی تھی۔۔۔اور کام بھی ٹھیک سے نہیں کر سکتے ۔۔مجھے میری بیٹی کا پتا چاہیے ۔۔ورنہ میں سعادت کو بتادوں گی اور وہ تم لوگوں کا کیا حال کرے گا تم لوگ خوب جانتے ہو ۔۔
سامنے سے بس جی میڈم اور ہم کوشش کر رہے ہیں جیسے کلمات دہرائے جا رہے تھے ۔
” تم لوگوں کے پاس چوبیس گھنٹے کی مہلت ہے ۔۔۔۔مجھے ہر حال میں سھل چاہیے ۔۔
اس نے غصے میں کال۔کٹ کر دی ۔۔
ابھی ان سے بات کر کے غصے میں اپنے موبائل کی طرف ہی دیکھ رہی تھی ۔۔۔
سامنے زیڈ ایم کالنگ کا نام نظر آرہا تھا ۔۔۔۔
” ہاں بولو زمان ۔۔
” میڈم سھل بی بی کا پتہ سعادت صاحب کو چل گیا ہے ۔۔
یہ بات سن کہ اس کی تو جیسے جان ہی نکل گئی ۔۔۔
” کیا مطلب ۔۔۔کیا کہہ رہے ہو تم “
وہ گویا چلا اٹھی ۔۔
” جی میڈم وہ تیزی سے باہر کی جانب گئے ہیں ۔۔۔میں نے ایک آدمی ان کے پیچھے بھیج دیا ہے ۔۔۔آپ بس۔۔۔۔ جلدی سے آئے ۔۔۔۔ہمیں ان کے پیچھے جانا ہے ۔۔۔
۔۔” ہاں زمان میں نکل چکی ہوں ۔۔۔
تم لوگ کہاں ہو ۔۔؟
وہ تیز تیز قدم اٹھاتی گاڑی تک پہنچ چکی تھی ۔۔۔۔کال کا سلسلہ منطقع نہیں کیا ۔۔وہ اب تک زمان سے رابطے میں تھی
اس نے گاڑی مینگورہ جانے والی سڑک کی طرف موڑ دی ۔۔۔۔کیونکہ وہ جانتی تھی ۔۔۔۔سھل کہاں ہے ۔۔۔۔
☆☆☆☆☆◇◇◇◇◇◇◇◇◇◇
مطھر کو واپس راولپنڈی پہنچا دیا گیا تھا ۔
وہ جانتا تھا وہ گھر گیا ۔۔ تو ۔وہ لوگ پہنچ جائیں گے ۔۔۔۔
اس نے گھر جانے کی بجائے ۔۔۔ایک چھوٹے سے علاقے میں سستے سے ہوٹل میں ایک کمرہ کرائے پر لے لیا ۔۔۔۔۔۔
وہ ابھی بینک جانے کا رسک بھی نہیں لے سکتا تھا ۔۔۔۔
بینک سے پیسے نا نکلوانے کی وجہ سے اس کے پاس کمرے کے کرائے کے پیسے بھی نہیں تھے ۔۔
” کیا مجھے ہوٹل میں کام مل سکتا ہے ۔۔۔
ہوٹل کے مالک نے مشکوک نظروں سے اسے دیکھا ۔۔۔
” پولیس سے چھپتے پھر رہے ہو ۔۔۔؟؟۔۔۔سچ سچ بتانا ۔۔۔ڈرنے کی کوئی بات نہیں ۔۔یہاں تمہیں کوئی نقصان نہیں پہنچا سکتا ۔۔
اس نے آنکھ مار کر اسے کچھ جتانا چاہا ۔۔۔۔
” میں کسی سے چھپتا نہیں پھر رہا ۔۔۔گھر سے ناراض ہو کر نکلا تھا ۔۔۔نا رہنے کی جگہ تھی نا کوئی کام ۔۔۔اس وجہ سے اس جگہ پہ ہوں ۔۔۔۔” اس نے چاروں اطراف کچھ عجیب سی نظروں سے دیکھا ۔۔۔
” اچھا اچھا ۔۔۔۔اچھے خاندان سے لگتا ہے ۔۔کیوں ناراض ہو کے نکلا تھا ۔۔
اس نے مصنوعی غصہ دکھایا ۔۔
” آپ کو اگر کام نہیں دینا تو ٹھیک ہے ہم کہیں اور جگہ ڈھونڈ لیں گے ۔۔۔خدا کی زمین بہت بڑی ہے ۔
وہ شخص اس کے تیور دیکھ کر ٹھنڈا پڑا ۔۔۔۔
” ارے نوجوان تم تو واقعی غصے کے بہت تیز ہو ۔۔۔۔اچھا یہ بتائو کیا کام کر سکتے ہو ۔۔۔کچھ بنانا بھی آتا ہے ۔۔۔؟
اس نے سر نفی میں ہلایا ۔۔
” اچھا چلو کوئی بات نہیں بیرا گیری تو کر لو گے ۔۔
” جی کر لوں گا ۔۔
اسے وہاں آئے تیسرا دن تھا ۔۔
اسے سھل کی بیوفائی نے کافی دکھ پہنچایا تھا ۔
۔” سھل تم میرے ساتھ ایسا کیسے کر سکتی ہو ۔۔۔کیا پتا وہ مجھے بچانے کے لیے یہ سب کر م رہی ہو ۔ نہیں وہ ایک بگڑی امیر زادی ہے ۔ میں اس کے لیے کبھی خاص تھا ہی نہیں ۔۔۔وہ بس وقت گزارا۔ کر رہی تھی۔” اس کا دل ایک عجیب سی کشمکش تھا ۔۔۔
” ۔لیکن مجھے اسے وہاں اس طرح چھوڑ کے نہیں آنا چاہیے تھا ۔۔۔لیکن میں کیا کرتا ۔۔”
وہ کافی دیر تک خود سے ہم کلام رہا ۔۔۔۔وہ فیصلہ نہیں کر پایا تھا ۔۔۔وہ سہی تھی ۔۔۔یا غلط
☆☆☆☆♡♡♡♡♡◇◇◇◇
اسے اب سب کچھ یاد آنے لگا تھا ۔۔۔
اس کے ساتھ کیا کیا ہوا تھا ۔۔۔
اس کی نظریں مطھر کی متلاشی تھی ۔۔
” اب کیسی طبعیت ہے آپ کی ۔” ایک نسوانی آواز اس کی سماعت سے ٹکرائی۔۔وہ جو اپنی سوچوں میں گم تھی مڑ کر اسی جانب دیکھا ۔۔۔۔آپ کے والد کو اطلاع کر دی گئی ہے ۔۔۔وہ بس پہنچنے والے ہوں گے ۔۔
ایک لیڈی ڈاکٹر اس کا روٹین چیک اپ کرتے ہوئے اس سے مخاطب تھی ۔۔
” میرے پاپا کو ۔۔۔؟؟؟۔۔۔” سامنے کھڑی لیڈی ڈاکٹر نے اس کی بات پر اثبات میں سر ہلایا ۔۔
” ایک لڑکا بھی تھا میرے ساتھ ۔۔۔۔وہ کہاں گیا ۔۔۔؟
وہ اب سوالیہ نظروں سے اس لیڈی ڈاکٹر کی طرف دیکھ رہی تھی ۔
” کونسا لڑکا ہم نے تو آپ کے ساتھ کسی لڑکے کو نہیں دیکھا ۔
اس نے اس کی کیس فائل سے کچھ پل کے لیے نگاہیں اٹھا کر اسے دیکھا۔۔۔اور پھر سے اسی فائل کو پڑھنے میں مصروف نظر آئی ۔۔۔
“میرے ساتھ ایک لڑکا تھا ۔۔۔اسے بلا لیا
وہ گویا التجا کر رہی تھی ۔
اس لیڈی ڈاکٹر نے سر کو ہلکی جنبش دی ۔۔۔اور اس کیمپ نما کمرے سے باہر چلی گئی ۔۔
اور وہ آس پاس اس خالی کمرے کو تکنے لگی ۔ذہن میں ساری باتیں گڈمڈ ہو رہی تھی
☆☆☆☆☆♡♡◇◇◇◇◇◇
اس اب تک سعادت کی گاڑی نظر نہیں آئی تھی ۔۔۔۔اس گھر سے نکلے آدھا گھنٹہ ہو چکا تھا ۔۔۔۔
زمان اس سے مسلسل۔رابطے میں تھا ۔۔
” زمان تمہارا آدمی ہماری غلط رہنمائی تو نہیں کر رہا ۔۔وہ ہمیں دھوکہ تو نہیں دے رہا ۔
سعادت کی گاڑی نظر نا آنے کی وجہ سے وہ پریشان ہونے لگی ۔۔۔
اسے زمان اور اس کے آدمی پر شک ہونے لگا تھا ۔۔
” میڈم آپ کے سامنے جو گاڑی جا رہی ہے وہ ہمارے آدمی کی ہے ۔۔آپ بس اس گاڑی کے پیچھے رہیں ۔۔۔تاکہ سعادت صاحب کو آپ پر شک نہ ہو ۔۔
اسے سامنے ایک سوزوکی مہران نظر آرہی تھی ۔۔۔
” مجھے کیا کرنا کیا نہیں یہ میں تم سے بہتر جانتی ہوں ۔۔۔تمہیں جتنا کہا جائے اتنا کام کیا کرو ۔
وہ غصے میں غرائی ۔۔۔۔۔سعادت کو سھل کا پتا لگنے کا غصہ وہ اب زمان پہ نکال رہی تھی ۔۔۔۔
اس نے سامنے سے بس اوکے میڈم کہا ۔۔۔
اسے کسی بھی حال میں سعادت کے ساتھ وہاں پہچنا تھا
☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆
ماضی
وہ اٹھی تو اس کا سر بوجھل ہو رہا تھا ۔۔۔عجیب سی حالت ہو رہی تھی ۔۔۔۔۔وہ بمشکل باتھ روم تک جا سکی ۔۔۔۔۔وہ واپس نڈھال سی ہو کے بیڈ پر گری ۔۔۔۔بارہ ماہ کی سھل دنیا بھر کی معصومیت لیے ۔۔۔۔بے خبر سو رہی تھی ۔۔۔۔۔
وہ ابھی تک رات والی رف سی ڈریس میں تھی ۔۔۔۔
دروازے پر نوک ہوئی تو ذہن ہلکا سا بیدار ہوا وہ بوجھل سے آواز میں گویا ہوئی ۔۔۔۔” آجائو ۔۔۔
سامنے سے ہاجرہ ہاتھ میں چائے لیئے کھڑی تھی ۔۔
” بیبی جی کیا ہوا ۔۔۔۔۔” وہ گاوں کی سادہ سی عورت تھی اور اس کے ساتھ مخلص لگتی تھی ۔۔۔
” کچھ نہیں بس ہلکا سا چکر آگیا تھا ۔۔
وہ اب بھی بیڈ کے کونے کو مضبوطی سے تھامے ہوئے تھی
” بیبی جی چلیں ڈاکٹر کے پاس ۔۔۔آپ ڈاکٹرنی سے چک اپ ( چیک اپ ) کروا لے مجھے آپ کی حالت ٹھیک نہیں لگ رہی ۔
لیکن وہ بلکل بیزار سی بیٹھی تھی ۔۔۔۔” ہاجرہ میرے کپڑے نکالو ۔۔۔اور یہ چائے لے جائو فریش جوس لے کر آئو فریش جوس لوں گی تو طبیعت سنبھل جائے گی ” اس نے غصے سے سامنے کھڑی ہاجرہ کو دیکھا ” ۔۔۔اب زیادہ شور مچانے کی ضرورت نہیں ۔۔۔اور ہاں اپنے صاحب کو رپورٹ کرنے کی بھی ضرورت نہیں ۔
وہ دیکھ رہی تھی ۔۔رپورٹ والی بات پر ہاجرہ کے دانت نکل رہے تھے جسے وہ ہاتھ سے چھپانے کی ناکام کوشش کر رہی تھی ۔
وہ اس کے کپڑے نکال کے جا چکی تھی ۔۔۔اور وہ جانتی تھی سعادت تک رپورٹ ضرور جائے گی ۔۔۔۔آخر کو تنخواہ جو اس سے ملتی تھی ۔۔۔
۔۔۔اس کی بیوٹیشن ۔۔ صبح نو بجے آجاتی تھی ۔۔۔
لیکن وہ اپنے اکثر کام خود ہی کرتی تھی ۔۔
اس نے ایک دو جگہ جاب کے لیے بھی اپلائے کر رکھا تھا ۔۔۔
اس کی بھنک بھی اس نے سعادت اور ممتاز بیگم کو نہیں پڑنے دی تھی ۔۔
لیکن آج اس کی طبیعت کسی بھی کام کرنے کی اجازت نہیں دے رہی تھی ۔۔۔آج اس نے ہاجرہ کے ساتھ اس بیوٹیشن کی بھی ضرورت محسوس ہو رہی تھی ۔
ہاجرہ جوس لے کر اندر داخل ہوئی ۔۔۔
” ہاجرہ ۔۔۔اس بیوٹیشن کو بلائو ، ۔۔۔!! کیا نام ہے اس کا۔۔۔؟؟
” ماریہ ۔۔۔” ہاجرہ نے پھٹ سے جواب دیا
” ہاں اسے بھیج دو ۔۔۔میرے بال سیٹ کر دے ۔۔
سھل اپنے بیبی سیف میں ۔۔۔اٹھنے کی تیاری کر رہی تھی ۔۔
اس نے ایک نظر سھل پر ڈالی ۔۔۔” اور ساتھ میں آیا کو بھی بھیج دینا وہ سھل۔کو چینج کرا دے ۔۔۔اور اسے فیڈ بھی کرا دے ۔۔۔” نجانے اس نے ایسا کیا کہہ دیا ۔۔۔ہاجرہ کے چہرہ خوشی سے چمک رہا تھا ۔۔
☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆
۔ہاجرہ کمرے سے باہر آتے ہی سب کو اپنے اپنے کام بتانے لگی ۔۔
سامنے سے اکڑو عالیہ ( ہوم مینجر ) چلتی ہوئی آرہی تھی ۔۔۔
” سب کو آرڈر دینا اور مینج کرنا میرا کام ہے ۔۔۔ تم اپنے کام سے کام رکھا کرو ۔۔۔۔ہر وقت میڈم کی چمچہ گیری کرنے کی کوئی ضرورت نہیں۔۔۔۔ میں جانتی ہوں ۔۔۔ تمہاری میڈم کے اس گھر میں اور کتنے دن باقی ہے ۔۔۔۔۔عنقریب یہاں ایک اور میڈم ہوگی ۔۔۔۔فل ماڈرن ۔۔۔۔وہ تم جیسے جاہل نوکروں کو باہر پھینکواں دے گی ۔۔
ہاجرہ دانت نکالے ہنسے جا رہی تھی ۔۔۔اور اس سے وہ اکڑو مینجر اور چڑ رہی تھی ۔۔
” فلحال میری میڈم نے مجھے جو کہا ہے میں وہ کر رہی ہوں ۔۔۔۔اور ہاں میری میڈم کہیں نہیں جا رہی ہے ۔۔صاحب اس سے بے انتہا محبت کرتے ہیں ۔۔۔۔تیرے اور تیری دوست کے ہتھکنڈے زیادہ دن نہیں چلنے والے ہاں ۔۔
وہ ہاتھ ہلا ہلا کے اس کو کچھ جتا رہی تھی ۔۔
وہ جو بلیک کوٹ کے ساتھ شارٹ اسکرٹ پہنے ۔۔۔بالوں کا جوڑہ بنائے ۔۔۔۔بلیک کلر کے ہیل والے کوٹ شوز پہنے ۔۔کسی فائیو اسٹار کی لیڈی مینجر لگ رہی تھی ۔۔۔غصے سے ہونہہ کر کے ۔۔۔۔نوکروں کی فوج کے پاس پلٹ گئی ۔۔۔۔
ہاجرہ یہی چاہتی تھی ۔۔۔۔۔اسے اب سعادت کے آفس فون کرنا تھا ۔۔وہ جانتی تھی وہاں اس کی وہ فراڈ دوست ۔۔۔سعادت سے بات نہیں کرنے دے گی ۔۔۔۔لیکن اس نے تو اپنا فرض پورا کرنا تھا ۔۔
☆☆☆☆☆☆☆◇◇◇◇◇◇◇◇
حورین نجانے کتنی بار اپنے بیگ سے چھوٹا سا آئینہ نکال کے خود کو دیکھ چکی تھی ۔۔
وہ اپنے ڈائے کیے بھورے بالوں کو برش کرتی اپنی لپ اسٹک ہر پندرہ منٹ کے بعد ٹھیک کرتی ۔
بار بار فیس پاوڈر کا ٹچ دیتی ۔۔۔اور ۔کاجل ٹھیک کرتی ۔۔۔۔
جب اسے گھر کا نمبر لینڈ لائن کے ڈیوائس میں چمکتا ہوا دکھائی دیا ۔۔۔۔( یہ وہ دور تھا جب موبائل ابھی اتنے عام نہیں ہوے تھے ۔
” اسلام وعلیکم حورین اسپیکنگ ۔۔مے آئی ہیلپ یو “
اس نے اپنے مخصوص پیشہ ورانہ انداز میں کال ریسیو کی ۔۔
” اوو۔۔۔حوری زیادہ انگریزی نا جھاڑ ۔۔۔صاحب سے بات کرا ۔۔” اس کی آواز تو جیسے حورین کی کانوں میں سیسہ انڈیل رہی تھی ۔۔۔اور اسے آج صبح صبح اس کی آواز سننے کو مل گئی تھی ۔۔۔۔وہ سن رہی تھی سامنے سے وہ اس کی نقل اتار رہی تھی ۔۔۔۔” کوئی میسج ہے تو مجھے بتا دیں سر میٹنگ میں مصروف ہے ( جاہل عورت ) ۔۔۔۔”
وہ جانتی تھی وہ سامنے سے پھر کچھ نہ کچھ سنا دے گی ۔۔
” اوو حوری انی سویر کہڑی مٹنگ ( میٹنگ ) لگی اے مینو پتہ سی ۔۔۔تو ہے ہی دو نمبر ۔۔
اس کی قوت برداشت اب دم توڑ چکی تھی ۔۔۔وہ جھٹ سے اپنی اصلیت پر آگئی ۔۔۔
” بکواس بند کرو اپنی کام کی بات کرو ۔۔۔مجھے جو آرڈر ملا تھا ۔۔۔میں اسی کو فالو کروں گی ۔۔
وہ گویا بھڑک کر بولی ۔۔۔
” ہاں اب آئی ہے نا اصلی مدے پر ۔۔۔صاحب کو بتانا بیبی کی طبیعت ٹھیک نہیں ہے ۔۔۔
” ( تو مر جائے میری بلا سے ۔۔۔) ” وہ منہ ہی منہ میں بڑبڑائی ۔۔۔
تو عالیہ کو کہو ڈاکٹر کو بلائے ہوم مینجر موجود ہے گھر کے معاملات انہیں سے طے کیا کرو ہر چھوٹی بڑی بات پہ آفس فون کر کے سر کو ڈسٹرب نہ کریں ۔۔۔سر دیر سے فارغ ہونگے تب تک میں انہیں کوئی کال۔کنکٹ کر کے نہیں دے رہی ۔سمجھی ۔۔۔” اس نے پھر سے خود کو آئینے میں دیکھا ” ۔۔۔اور ہاں تمہیں فکر کرنے کی ضرورت نہیں ۔۔۔عالیہ ہینڈل کر لے گی سب کچھ ۔۔”
اس نے سب کچھ ۔۔۔میں گویا اس میڈم کی چمچی کو واضع پیغام دیا تھا ۔۔۔
اس نے غصے سے ماوتھ پیس ڈوائس پہ مارا ۔۔۔
” یہ ہاجرہ کچھ زیادہ ہی اڑ رہی ہے اس کے بھی پر کاٹنے پڑیں گے اس پرانی ہوم مینجر کی طرح ۔۔۔۔۔۔” وہ دانت پیس کر بڑبڑائی ۔۔۔
☆☆◇◇◇◇◇◇◇◇◇◇
حال
سھل اس کیمپ کے چھوٹے سے کمرے کا جائزہ کئی بار لے چکی تھی ۔۔۔۔تبھی سامنے سے اس لیڈی ڈاکٹر کے ساتھ ۔۔۔کوئی اور بھی آتا دکھائی دیا ۔۔
” کیسی طبیعت ہے آپ کی ۔۔۔” سامنے والا شخص مسکرا کے گویا ہوا ۔۔۔۔
” میں ٹھیک ہوں ۔۔لیکن “
اس شخص نے اس کی بات مکمل ہی نہ ہونے دی ۔۔۔۔
” آپ شاید اس لڑکے کا پوچھ رہی ہیں ۔۔۔جسے آپ نے پہلے نہیں پہچانا تھا “
وہ حیرت زدہ سی اسے دیکھنے لگی ۔۔۔” میں نے ؟؟؟”
” جی آپ نے ۔۔۔وہ لڑکا جا چکا ہے ہم نے اسے اپنے گھر پہنچا دیا ہے ۔ ۔۔۔۔وہ ایک عجیب سی کہانی سنا رہا تھا ۔۔۔۔۔وہ شریف گھر کا لڑ لگ رہا تھا ۔۔۔ کسی بڑی مصیبت میں نا پھنس جائے ۔۔۔اسے ہم نے ۔۔بحفاظت اپنے شہر بھجوا دیا ہے ۔۔۔۔اور کچھ ۔۔۔
وہ تو مطھر کا سن کر ۔۔۔جیسے پتھر کا بت بن گئی ۔۔۔مطھر اسے اس حالت میں چھوڑ کے جا چکا تھا وہ بھی اکیلے اس انجان سی جگہ میں ۔۔۔
(“اسے بس اپنی فکر تھی اپنی جان بچا کہ وہ چلا گیا ۔۔۔۔وہ عہد و پیماں وہ محبت سب جھوٹ تھی کیا ۔۔مطھر ۔۔۔تم۔۔۔۔۔ تم میرے ساتھ ایسا کیسے کر سکتے ہو ۔۔۔۔کسی کے بھی کہنے میں آکر مجھے چھوڑ دوگے” ۔۔۔۔)
اس نے اپنا سر گھٹنوں پہ رکھ دیا ۔۔۔۔آنکھوں میں پہلی بار کسی کے کیے نمی آئی تھی ۔۔
مطھر اس کی کمزوری بن چکا تھا ۔۔
جاری ہے
