Intikam E Mohabbat by Esha Noor NovelR50798 Intikam E Mohabbat by Esha Noor Episode19
No Download Link
253K
35
Rate this Novel
Intikam E Mohabbat by Esha Noor Episode01 Intikam E Mohabbat by Esha Noor Episode02 Intikam E Mohabbat by Esha Noor Episode03 Intikam E Mohabbat by Esha Noor Episode04 Intikam E Mohabbat by Esha Noor Episode05 Intikam E Mohabbat by Esha Noor Episode06 Intikam E Mohabbat by Esha Noor Episode07 Intikam E Mohabbat by Esha Noor Episode08 Intikam E Mohabbat by Esha Noor Episode09 Intikam E Mohabbat by Esha Noor Episode10 Intikam E Mohabbat by Esha Noor Episode11 Intikam E Mohabbat by Esha Noor Episode12 Intikam E Mohabbat by Esha Noor Episode13 Intikam E Mohabbat by Esha Noor Episode14 Intikam E Mohabbat by Esha Noor Episode15 Intikam E Mohabbat by Esha Noor Episode16 Intikam E Mohabbat by Esha Noor Episode17 Intikam E Mohabbat by Esha Noor Episode18 Intikam E Mohabbat by Esha Noor Episode19 (Watching)Intikam E Mohabbat by Esha Noor Episode20 Intikam E Mohabbat by Esha Noor Episode21 Intikam E Mohabbat by Esha Noor Episode22 Intikam E Mohabbat by Esha Noor Episode23 Intikam E Mohabbat by Esha Noor Episode24 Intikam E Mohabbat by Esha Noor Episode25 Intikam E Mohabbat by Esha Noor Episode26 Intikam E Mohabbat by Esha Noor Episode27 Intikam E Mohabbat by Esha Noor Episode28 Intikam E Mohabbat by Esha Noor Episode29 Intikam E Mohabbat by Esha Noor Episode30 Intikam E Mohabbat by Esha Noor Episode31 Intikam E Mohabbat by Esha Noor Episode32 Intikam E Mohabbat by Esha Noor Episode33 Intikam E Mohabbat by Esha Noor Episode34 Intikam E Mohabbat by Esha Noor Last Episode
Intikam E Mohabbat by Esha Noor Episode19
Intikam E Mohabbat by Esha Noor Episode19
راحیل دن بدن چڑچڑا ہوتا جا رہا تھا ۔۔۔۔شھربانو کو سمجھ نہیں آرہا تھا وہ کیا کرے ۔۔۔
ساس کی گالیاں سننا اب روز کا معمول تھا ۔۔۔
وہ جب میکے سے آتی اس پر ہزار تہمتیں لگ جاتی ۔۔۔۔
اب راحیل بھی اس کی طرفداری میں کچھ نہ کہتا ۔۔
جتنی شدت شروعات کے دنوں میں اس کی محبت میں تھی ۔۔۔۔اب اتنی ہی اجنبیت تھی ۔۔۔
وہ یہ سب سعادت کا پلان سمجھ رہی تھی ۔۔۔
لیکن ان کی اس خوشگوار زندگی کے دشمن اور لوگ بھی تھے ۔۔
جو اپنے داغ مٹانے کے لیے شھربانو کا گھر برباد کرنا چاہتے تھے ۔۔۔
تاکے سحر کو نکالنے کا جو طعنہ وہ سن رہے تھے وہ ختم ہو جائے ۔۔۔اور سب خادم حسین کی بیٹیوں کو قصوروار سمجھیں ۔۔۔۔
جب ہر طرف سے گھیرا تنگ ہونے لگے۔۔تو ایسے لوگوں پر زندگی بھی تنگ ہونے لگتی ہے ۔۔۔
شھربانو امید سے تھی ۔اس ۔حالت میں اس کی طبیعت بلکل ٹھیک نہیں رہتی تھی ۔
۔۔سسرال والوں کی عدم توجہی کے باعث اس کے لیے یہ دن گزارنا کسی امتحان سے کم نہ تھے ۔۔۔۔۔
ممتاز بیگم انہیں دنوں اسے اپنے گھر لے آئی تھی ۔۔۔وہ پہلی بار ماں بننے والی تھی ۔۔۔ان کے رسم و رواج کے مطابق جب تک زچگی نہ ہو جاتی
۔۔۔لڑکی میکے میں ہی رہتی تھی ۔۔۔
ان کی گود بھرائی کی رسم بھی میکے میں کی گئی ۔۔۔
سسرال سے کوئی نہیں آیا تھا ۔۔۔۔۔سوائے ایک نند کے اسے شھربانو بہت پسند تھی ۔۔۔
” حوریہ راحیل نہیں آئے ۔۔۔۔۔؟؟؟”
شھربانو بے یقینی سے پوچھنے لگی ۔۔۔
حوریہ مسلسل ایک جانب دیکھ رہی تھی ۔۔۔اس نے اس کی نظروں کا تعاقب کیا
۔۔۔اس کی نظریں سعادت پر جمی تھی ۔۔۔۔
(” یہ یہاں کیوں آگیا ۔۔۔”
اس نے پھر سے وہی بات دہرائی
لیکن حوریہ نے اس کی بات کے جواب دینے کی بجائے ۔۔۔اپنا سوال کیا ۔۔۔۔حوریہ نے وہی سوال پوچھا جس کا خدشہ تھا ۔۔
” یہ لڑکا ۔۔۔۔؟؟؟ یہ لڑکا کون ہے ۔۔
” کون سا لڑکا ۔۔؟؟”
وہ جان بوجھ کر انجان بنی ۔۔
لیکن وہ ادھوری خوشی بھی پل بھر کی تھی ۔۔
سامنے سے آتے شخص نے آکر اس کا بازو پکڑ لیا ۔۔
بھرے مجمعے میں جو الفاظ کہے گئے ۔۔۔۔۔وہ وہاں قیامت لانے کے لیے کافی تھی ۔۔۔
☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆
اس لڑکی کو بے ہوش ہوئے۔۔۔۔۔ (بے ہوش ہونے کی اداکاری کرتے ہوئے )
ایک گھنٹہ ہونے کو تھا ۔۔۔لیکن وہاں کسی انسان کا کیا پرندے کا بھی دخل نہیں ہوا تھا ۔۔۔
۔اسے سمجھ نہیں آرہا تھا ۔۔۔یہ اغواءکار اس لڑکی کے خیر خواہ تھے ۔۔۔یا بدخواہ ۔۔۔جو ابھی تک اس کی خیر خبر تک لینے نہیں آئے تھے ۔۔۔
(” کیا وہ اسے لاعلم تھے ۔ایسا ہو نہیں سکتا ۔۔۔نا کھانے کا وقت تھا نا سونے کا ۔۔وہ میری سوچ سے کہیں زیادہ چالاک نکلے ۔۔۔”
وہ اب کارپٹ بچھے فرش پر ۔۔۔گھٹنوں کے بل بیٹھا ۔۔۔” میں کمرے سے باہر جا رہا ہوں ۔۔۔تم دس پندرہ منٹ بعد سر پکڑ کر اٹھ جانا ۔۔۔”
اس نے جھک کر اس کے کان میں۔سرگوشی کی اس کی ۔اس کی کچھ دیر پہلے والی ادکاری سے ۔۔۔۔سھل کی
گردن میں ۔۔۔لال نشان پڑ چکے تھے ۔۔۔
ایک پل کے لیے نظر اس پر ٹھہر سی گئی ۔۔☆☆☆☆☆☆☆☆
ماضی
سامنے سے آتا شخص کوئی اجنبی نہ تھا ۔۔۔وہ تو اس کا راحیل تھا ۔۔۔
اس نے آتے ہی ایک جھٹکے سے اس کا بازو پکڑا ۔۔۔
” چلو یہاں سے ۔۔۔۔” وہ جس غصے سے اس کا بازو دبوچ رہا تھا ۔۔۔اسے ایسا لگ رہا تھا کچھ دیر میں
۔۔۔راحیل کی انگلیاں اس کی چمڑی پھاڑ کے اس ماس میں دھنس جائیں گی ۔۔۔
” راحیل سب ہماری طرف دیکھ رہے ہیں ۔۔۔آپ بیٹھ جائیں ۔۔۔” وہ التجا کر رہی تھی ۔۔۔۔تکلیف سے
آنکھوں سے دو ننھے قطرے ٹپک پڑے ۔۔۔۔
” کیا یہاں کوئی تماشہ لگا ہے چلو جائو سب اپنے گھر ۔۔۔۔۔چلیں چلیں ۔۔۔”
راحیل ہاتھ کے اشارے سے سب کو جانے کا کہہ رہا تھا ۔۔۔۔
کچھ عورتیں منہ بناتی کانوں کو ہاتھ لگاتی کوستی جا رہی تھی۔۔۔
وہ اپنے ماں باپ کے چہرے دیکھ رہی تھی ۔۔۔۔چہروں کا رنگ سفید پڑ چکا تھا ۔۔۔۔
” راحیل بھائی آپ حد سے تجاوز کر رہے ہیں ۔۔
حوریہ اور سحر اب راحیل کے مقابل کھڑی تھی ۔
” میری حد کیا ہے ۔۔۔میں جانتا ہوں ۔۔۔۔” اس کی نظر ارد گرد دیکھ رہی تھی ۔۔۔۔
سعادت زویا ، عنبر اور ان کے گھر والوں کے سوا اب کوئی موجود نہ تھا ۔۔
” تم چل رہی ہو ۔۔۔یا یہیں رہنا ہے ۔۔۔۔”
وہ جانے کے لیے چادر لینے لگی ۔۔۔
سحر نے چادر اٹھا کر دور پھینک دی ۔۔۔۔
” بانو یہ ہے تمہارے راحیل کا پیار ۔۔۔۔۔بھرے مجمعے میں بے عزت کرنا ۔۔
” آپی مجھے ۔۔۔۔” وہ کچھ کہتے کہتے راحیل کی بات پر رک گئی ۔۔
” یہ ہے نہ وہ شخص ۔۔۔۔جس کے لیے تمہیں میکے آنا پڑتا تھا ۔۔۔
اس نے سعادت کی طرف اشارہ کیا ۔۔۔
کچھ عورتیں اب بھی دروازے پر کھڑی تھی ۔۔۔کچھ لوگوں کو تماشہ دیکھنے کا تجسس ہوتا ہے ۔۔۔
وہ اپنے والد کی جانب دیکھ رہی تھی ۔۔۔۔
اس کی تو جیسے جان نکل رہی تھی ۔۔ وہ کسی چیز کا سہارا لیے کھڑے ہونے کی کوشش کر رہا تھا ۔۔۔۔۔۔۔اس کے ٹانگوں میں تو جیسے جان ہی نہ تھی ۔۔۔
زویا نے سعادت کے قریب جا کے مدھم سے آواز میں کچھ کہا ۔۔۔سعادت نے اپنا رخ دروازے کی جانب کیا ۔۔۔۔۔
” آپ کہاں جا رہے ہیں ۔۔۔۔اپنی محبوبہ کا دفاع نہیں کریں گے ۔۔۔”
شھربانو دعا کرنے لگی زمین پھٹ جائے اور وہ اس میں دھنس جائے ۔۔اسے اسی دن کا ڈر تھا ۔۔۔۔
سعادت کا آنا اسے اسی وجہ سے کھٹکتا تھا ۔۔۔۔۔
” راحیل بھائی آپ چلیں آپ ہوش میں نہیں ہیں ۔۔۔”
حوریہ اسے بازو سے پکڑ کر باہر کی طرف کھینچ رہی تھی ۔۔۔
باقی ان تین جانوں میں تو جیسے جان ہی نہ تھی ۔۔
” آج ہی تو ہوش میں آیا ہوں ۔۔۔۔اس کے حسن میں دیوانہ جو ہوچکا تھا ۔۔۔۔”
وہ راحیل کی طرف دیکھ رہی تھی ۔۔۔ جس کے ۔۔۔چہرے اور آنکھوں کا رنگ آگ کی مانند ہو چکا تھا ۔۔۔۔۔۔
سرخ آگ جو اس کے لفظوں کی صورت میں اس کے منہ سے نکل رہی تھی ۔۔۔
اس لفظوں کی آگ سے سب جھلس رہے تھے ۔۔۔
حتی کہ راحیل کی اپنی ذات بھی ۔۔۔
ان کی آنکھوں سے پانی آجاتا وہ غصے میں صاف کرتا ۔۔۔
اور اپنے لفظوں کی تیر چلانا شروع کر دیتا ۔۔۔
” یہ بچا بھی میرا ہے یا ۔۔۔۔۔”
شھربانو کو اس سے آگے کچھ سنائی نہ دیا ۔۔۔
اس کے جان نے جسم کا اور بوجھ اٹھانے سے انکار کر دیا ۔۔۔۔۔
اسے لگا وہ کسی کھائی میں گر رہی ہے ۔۔۔۔۔
گرتی جا رہی ہے ۔۔۔۔۔راحیل اس کھائی کے اوپر کھڑا اس پہ وہی الزام لگا رہا ہے ۔۔۔۔
اسکی سانس بند ہونے لگی ۔۔۔
شاید وہ کھائی میں گر چکی تھی ۔۔۔۔
☆☆♡◇◇◇◇◇♡◇◇◇
وہ کب سے اس شخص کی بکواس سن رہا تھا ۔۔۔
جس شخص سے وہ دنیا میں سب سے زیادہ نفرت کرتا تھا ۔۔۔
وہ شھربانو کے چہرے کا بدلتا رنگ دیکھ رہا تھا ۔۔۔۔
ممتاز بیگم اور خادم حسین کی بھی وہی حالت تھی ۔۔
جیسے ہی اس شخص نے شھربانو پر تہمت لگائی ۔۔۔۔تب اس کا ضبط جواب دے گیا ۔۔۔
اس نے زور کا گھونسہ راحیل کہ منہ پر جڑ دیا ۔۔
” تو تیرا بچہ ہے۔۔۔۔ جو اسکے پیٹ میں پل رہا ہے ۔۔۔۔”
عنقریب تھا کہ وہ راحیل کو جان سے مار دیتا ۔۔۔
لیکن شھربانو کے ساتھ اس کے والد بھی بے ہوش ہے کہ گر چکے تھے ۔۔
اس شخص کی بہن اسے گھسیٹ کر وہاں سے لے کے گئی ۔۔
سحر اپنے والد کی طرف دوڑی زویا اور عنبر شھربانو کی طرف ۔۔
۔۔وہ جلدی سے لینڈ لائن سے کال کر کے ۔۔۔ایمبولنس بلانے لگا۔
ہر طرف افراتفری کا عالم تھا ۔۔
لیکن اسے ایسا لگ رہا تھا ۔۔۔ وقت ہاتھ سے نکل۔رہا ہے ۔۔۔
اسے جو بھی کرنا تھا جلدی ۔۔۔
کسی نے ان سے کہا ۔۔۔” ان دونوں گاڑی میں لے جائو ۔۔۔ایمبولنس کا انتظار کیا تو شاید دونوں نا بچ سکیں ۔۔”
کون کہہ رہا تھا یہ دیکھنے سمجھنے ک وقت نہ تھا ۔۔
اس نے جلدی سے شھربانو کو اٹھا کر گاڑی میں ڈالا۔۔۔۔ اور کچھ لوگوں کی مدد سے خادم حسین کو بھی گاڑی میں ڈالا
دو جانیں اس کے رحم وکرم تھی ۔۔۔
خوشی کے گھر میں کہرام مچ گیا تھا ۔۔۔۔
۔وہ جتنی تیز گاڑی چلا سکتا تھا ۔۔۔اتنی تیزرفتاری سے ہاسپیٹل پہنچا ۔
راستے میں کتنی ہی بار وہ حادثے سے بچا
اس نے ہاسپیٹل سے ہی کال کر کے اپنے دوستوں کو اپنا مدد کے لیے ہاسپیٹل بلوا لیا تھا ۔۔۔
” ۔۔ زویا اور سحر کہاں ہیں ۔۔۔۔؟۔
اس نے عنبر کو دیکھتے ہی پہلا سوال یہی کیا ۔۔۔
” وہ آنٹی ۔۔۔سنبھالے نہیں سنبھل رہی تھی ۔۔۔۔تو زویا سحر کے ساتھ ہی رک گئی تھی ۔۔۔آپ بتائیں انکل اور شھربانو کیسے ہیں ۔۔۔
” انکل آئی سی یو میں ہیں ( انتہائی نگہداشت ) اور شھربانو کی آپریشن کے لیے اس کے شوہر یا رشتے دار کے دستخط چاہیے ۔۔۔۔”
اسے کچھ سمجھ نہیں آرہا تھا ۔۔۔۔۔
” تم سائن کر دو ۔۔شوہر نہ سہی بھائی بن کر ۔۔۔۔” زویا کی بات اس پر پہاڑ بن کر گری۔۔۔
” بھائی تو ہرگز نہیں ۔۔۔”
ہاسپیٹل عملہ واپس سائن لینے آگیا تھا ۔۔۔
اس نے پورا پیپر پڑھا ۔۔۔شوہر کے دستخط کی جگہ اس نے سائن کر لیے ۔۔۔
عنبر اسے سوالیہ نظروں سے دیکھ رہی تھی ۔۔۔
” میں اس کی زندگی کو یوں ختم ہوتے نہیں دیکھ سکتا ۔۔”
وہ عنبر کی آنکھوں میں آئے سوال کا مطلب سمجھ گیا تھا ۔۔۔
” لیکن اس کا شوہر تو پہلے ہی اس پر شک کر رہا ہے اور اب ۔۔
” بھاڑ میں گیا ایسا گھٹیا شخص ۔۔۔۔۔جو اپنی بیوی پر ایسے الزامات لگائے۔۔۔۔”
” لیکن سادی ۔۔۔اگر شھربانو کو پتہ لگا تو وہ بھی ناراض ہو جائے گی ۔۔”
” میں سمجھتا تھا وہ اپنے گھر میں بہت خوش ہے لیکن ۔۔
ایک نرس تیزی سے ان کی جانب آرہی تھی ۔۔۔
” خادم حسین کے ساتھ آپ ہیں ۔۔۔؟؟؟
وہ سعادت کی جانب اشارہ کر کے گویا ہوئی ۔۔۔
وہ بھی تیزی میں سر ہلاتا ۔۔۔۔نرس کی جانب لپکا ۔۔
” جلدی چلیں ان کے پاس وقت بہت کم ہیں ۔۔۔”
وہ چاروں ایک دوسرے کی جانب دیکھنے لگے ۔۔
♡♡◇◇◇◇◇◇◇
حال۔
شھربانو عنبر کے گھر پہنچ چکی تھی ۔۔
مظفر کی فیملی پہلے سے اس گھر میں موجود تھی ۔۔
شھربانو نے وہاں پہنچتے ہی اپنا حلیہ درست کیا ۔۔
وہ اب ایک لڑکی سے ایک عورت کے حلیے میں واپس آگئی تھی ۔
” شکر ہے یار تم۔پہنچ گئی۔” عنبر نے اسے دیکھتے ہی سکون کا سانس لیا ۔۔
اس نے بس سر کو ہلکی جنبش دی ۔۔۔
” کہاں ہیں سب لوگ ۔۔۔؟؟؟”
اسے گھر کے لائونج میں کوئی نظر نہ آیا ۔۔۔۔۔۔
” زویا بچیوں کے کمرے میں ہے ۔۔۔اور مظفر دوسرے کمرے میں ۔۔۔”
” اچھا ان سب کو بلائو ۔۔۔ان کے گھر کا بندوبست ہو چکا ہے ۔۔۔تمہارا بہت بہت شکریہ یار ۔۔۔۔۔۔”
وہ عنبر کا ہاتھ پکڑ کر اس کا شکریہ ادا کر رہی تھی ۔۔۔
” لیکن بانو انہیں کہاں لے کہ جا رہی ہو ۔۔۔یہی رہنے دیتی ۔۔۔”
” نہیں عنبر ۔۔۔تمہاری فیملی ڈسٹرب ہوگی ۔۔۔تم نے اپنی فیملی کو یہ تو نہیں بتایا کہ میں نے بھیجا تھا ان سب کو یہاں ۔۔
عنبر نے نفی میں سر ہلایا ۔۔
وہ سب کچھ دیر میں اب ان کے ساتھ ان کی گاڑی میں موجود تھے ۔۔۔
” بانو اب ہم کہاں جا رہے ہیں ۔۔۔اور یہ تم ہم سب کو چھپاتی کیوں پھر رہی ہو ۔۔۔”
وہ خاموشی سے گاڑی ڈرائیو کر رہی تھی ۔۔
” وقت آنے پر آپ کو سب سوالوں کے جواب مل جائیں گے ۔۔
” لیکن اگر آپ ہمیں نہیں بتائیں گی تو ہم آپ کے ساتھ نہیں جائیں گے ۔۔۔”
ان کی بڑی بیٹی غصے میں کہنے لگی ۔
” تم چپ کرو بڑے بات کر رہے ہیں نہ ۔۔۔
” لیکن ابو ۔۔۔” وہ کچھ کہتی ۔۔۔مظفر کی تیز نظر نے اسے خاموش کرا دیا ۔۔۔۔
” دیکھو ۔۔۔کیا نام ہے آپ کا ۔۔۔؟؟ ” اس نے ربیعہ کی جانب دیکھے بغیر کہا ۔۔۔
” ربیعہ ۔۔۔”
” دیکھو ربیعہ بیٹا آپ ہمیں سمجھدار لگ رہی ہیں ۔۔۔۔ہم آپ کو کسی مشکل میں نہیں ڈالنا چاہتے ۔۔۔بس کچھ دنوں کی بات ہے ۔۔۔پھر کوئی پریشانی نہیں ہوگی ۔۔۔”
اس کی بات پھر ربیعہ نے کاٹی ۔
” ۔۔مشکل میں تو آپ ہمیں ڈال چکی ہیں ۔۔۔تبھی تو ہم یوں در بدر ہو رہے ہیں ۔۔۔”
اس کے سوالوں کا اس وقت اس کے پاس کوئی جواب نہ تھا ۔۔۔
وہ خاموشی سے گاڑی ڈرائیو کرتی رہی ۔۔۔
اب کیا بتاتی ۔۔اس نے انجانے میں جس مطھر کو اپنی بیٹی
کے ساتھ بھیجا ہے وہ مظفر کا بیٹا تھا ۔۔۔
ایک بار پھر ان کی زندگی میں وہ لوگ آگئے تھے ۔۔۔۔۔
☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆
سھل نے بات سن کہ ۔۔ایک شریر سی مسکراہٹ کے ساتھ
اسے آنکھ ماری ۔
اس نے بھی مسکراہٹ کا تبادلہ کیا ۔۔
وہ کمرے سے باہر آگیا دروازہ اس نے جان بوجھ کر کھلا چھوڑ دیا ۔۔۔۔آج پہلی بار اسے وہ زندان بھی اچھا لگنے لگا تھا ۔۔
نجانے اس کی اس مسکراہٹ میں کیسی کشش تھی ۔۔۔۔
دل کا موسم اچھا ہونے لگا تھا ۔۔
۔۔دل کی بنجر زمین پر نئی کونپلیں کھل اٹھی تھی ۔۔۔۔۔دل کے خشک صحرا میں پہلی بارش سا سرور تھا ۔۔۔ ۔۔دل کے ۔سنگلاخ پہاڑوں سے جھرنے بہنے لگے ۔۔تھے ۔۔
کیا تھا وہ احساس جس نے دل کی خزاں میں بہار کی آمد کی نوید سنا دی تھی ۔۔۔
وہ کمرے سے باہر جا چکا تھا اپنا دل وہی ہار کے ۔۔۔۔
۔وہ اب سھل کی جانب نہیں دیکھ رہا تھا۔۔ اسے ایسا لگتا تھا وہ دیکھ لے گا ۔۔تو اس کے دل کی چوری پکڑی جائے گی ۔۔۔
۔۔اچانک اس کی جیب میں پڑا وائرلیس سیٹ ۔۔۔( واکی ٹاکی ) بجنے لگا ۔۔۔۔
☆☆☆☆☆♡◇◇◇◇◇◇◇◇◇
وہ کچھ دیر لیٹی رہی ۔۔۔
۔” اس جوکر نے کہا تھا پندرہ منٹ بعد اٹھ جانا ۔۔۔۔” وہ دل ہی دل میں سوچنے لگی ۔۔۔
اس نے ایک آنکھ کھولی ۔۔۔اب اسے اٹھنا تھا ۔۔۔وہ اٹھی تو اسے واقعی میں چکر آگیا تھا ۔۔۔
وہ سر پکڑ کر بیٹھ گئی ۔۔۔” او ایم جی یہ مجھے کیا ہو گیا ہے ۔۔۔” وہ آہستہ سے زیر لب بڑبڑائئ ۔۔۔
اس نے مطھر کی جانب دیکھا ۔۔سامنے سے ۔اس نے نظریں چرا لی ۔
” اس بندر کو کیا ہوا ہے لڑکیوں کی طرح شرما رہا ہے “
وہ کچھ دیر بیٹھی رہی پھر چھوٹے ۔۔۔چھوٹے قدم اٹھاتی ۔۔۔اپنے بیڈ کی جانب بڑھی ۔۔۔۔
” کیا پلان تھا اس جوکر کا کیا تو کچھ نہیں بس گردن میں بل ڈال دیا ہے ۔۔۔ڈفر ۔۔۔”
وہ اپنی گردن سہلانے لگی ۔۔۔وقفے وقفے سے اس کی جانب دیکھ رہی تھی جو ہر بار نظر ملنے پر ۔۔۔شرما کے سر جھکا لیتا ۔۔۔
” عجیب لڑکی نما لڑکا ہے ۔۔۔ہونہہ ۔۔۔”۔۔۔۔وہ اپنے کمرے کا جائزہ لینے لگی ۔۔۔۔کچھ تو نیا تھا ۔۔۔
اچانک اس کی نظر کھلے دروازے پر پڑی ۔۔۔
☆☆☆♡◇♤♡♡◇◇
” سر وہ فیملی وہاں نہیں ہے ۔۔۔” زمان سر جھکائے اس کے سامنے کھڑا تھا ۔۔۔
” بکواس بند کرو اپنی ۔۔۔گالی ۔۔۔سب کے سب کام چور ۔۔۔۔گالی ۔۔۔نکمے ۔۔۔۔ کسی کام کے نہیں ہو۔۔۔۔۔ حرام خور ہو تم سب ۔۔۔فیملی ایک دن میں کہاں غائب ہوگئی ۔۔۔زمین نگل گئی یا آسمان ۔۔۔۔۔۔۔”
وہ غصے میں اپنے فارم ہائوس کے لائونج میں نجانے کتنے چکر لگا چکا تھا۔۔۔
کون تھا جو اس سے بھی ایک قدم آگے تھا ۔۔۔۔اس کی سوچ سے بھی تیز ۔۔
ایش ٹرے میں سگریٹ کے آدھ جلے ٹکڑوں کا انبار لگ چک تھا ۔۔
جب وہ مطمئن ہوتا ۔۔۔تو سگار سلگاتا اور جب پریشان ہوتا ۔۔
سگریٹ پھونکتا ۔۔۔۔سامنے والا شخص بخوبی اس بات کا اندازہ لگا لیتا ۔۔۔۔وہ پریشان ہے یا مطمئن ۔۔
” سر ان کا اپنا لڑکا ۔۔کافی دن سے غائب ہے ۔سنا ہے ان کا بیٹا ۔۔۔کسی دہشت گرد تنظیم کے لیے کام کرتا تھا ۔۔۔اس لیے اس کی فیملی روپوش ہو گئی ہے ۔۔
سعادت نے اسے ہاتھ کے اشارے سے اسے خاموش رہنے کا کہا ۔۔۔
نوکر کی جانب متوجہ ہوا جو ابھی ابھی اس لائونج میں داخل (انٹر ) ہوا تھا ۔۔۔
سر کی ہلکی جنبش سے اس کے آنے کی وجہ پوچھی گئی ۔۔
” سر وہ آئی جی صاحب ۔اور ان کے ساتھ ایس پی اور فیاض(مینجر) بھی آئے ہیں ۔۔۔”
” ہممممم ۔۔۔” اس نے سوچنے والے انداز میں کہا ۔۔
“تم ۔۔۔آئی جی کو ۔۔۔میرے آفس بھیجو ۔۔۔”زمان کی طرف معنی خیز نظروں سے دیکھا ۔۔۔
وہ وہاں سے باہر چلا گیا۔۔۔اور وہ آفس کی جانب ۔۔۔
ون ٹو ون ملاقات کے بعد اب سب ڈرائنگ روم میں موجود تھے ۔۔۔۔
شاہانہ طرز کے ڈرائنگ روم میں سب بیڈ نما صوفوں پر براجمان تھے ۔۔۔۔
فینسی قیمتی پردے اور دبیز ایرانی قالین ۔۔۔اینٹی پیس اور دیواروں پہ لگی قیمتی پینٹنگ نے ڈرائنگ روم کی شان میں اور اضافہ کردیا ۔۔۔
۔۔۔۔” آج کی رات آئی جی صاحب ہمارے مہمان ہیں ۔۔۔۔ان کے لیے خاص انتظامات کیے جائیں ۔۔۔۔”
اس کی ذومعنی باتیں ان کے خاص لوگ ہی سمجھ پاتے تھے ۔۔۔۔
ڈرائنگ روم کے چاروں کونوں میں ۔۔۔چاک چوبند گارڈ کھڑے تھے ۔۔۔۔
ایک بیرا نما نوکر اندر آیا ۔۔۔۔جس کے ہاتھ میں ٹرے اور ٹرے میں مدہوش کرنے والا مشروب موجود تھا ۔۔۔
کافی دیر سے آئی جی اور ایس پی آپس میں کھسر پھسر کر رہے تھے ۔۔۔
” تم اس فیملی کا پتہ کیوں کرنا چاہتے ہو ۔۔۔ہم نے تو سنا ہے ان کا لڑکا ۔۔۔کسی دہشت گرد تنظیم کے ہتھے چڑھ گیا تھا۔۔
انہوں نے اسے خودکش بمبار بنا کے اڑا دیا ۔
آئی جی وسکی کا پیگ لیتے ہوئے کہنے لگا ۔۔
” تم اتنے یقین سے کیسے کہہ سکتے ہو ؟؟؟۔
وہ کن اکھیوں سے ۔۔۔آئی جی کی طرف دیکھ رہا تھا ۔۔۔جو اس غلیظ مشروب کے مزے لے رہا تھا ۔۔
“کیونکہ جس شخص نے اسے کام دلوایا تھا۔۔۔وہ اب ہماری حراست میں ہے۔۔۔۔۔۔”
اب کی بار جواب ایس پی نے دیا ۔۔۔
” ایک اور بات ۔۔۔سعادت صاحب ۔۔۔”
ایس پی اٹھ کر اس کے بلکل نزدیک آکر بیٹھ گیا ۔۔۔
” کوئی اندر کا آدمی آپ کی مخالف پارٹی سے ملا ہوا ہے ۔”
وہ یہ بات کرنے کے لیے گویا کان میں گھسہ جا رہا تھا ۔۔۔
” شراب تو ہوگئی ۔۔۔شباب کا کیا پروگرام ہے ۔
آئی جی جو وسکی کے دو تین پیگ چڑھا چکا تھا ۔
اپنی اصلیت ظاہر کر رہا تھا ۔۔
” اس کا بندوبست بھی ہوچکا ہے ۔۔۔” سعادت دانت بھینچ کر بولا۔
اسے اب آئی جی پر غصہ آرہا تھا ۔۔۔
اس نے جس کام کے لیے ملاقات رکھی تھی ۔۔۔
وہ کام نہ ہونے کے برابر ہوا تھا ۔۔
آئی جی اور ایس پی تو شراب اور شباب میں ڈوب چکے تھے ۔۔۔۔
سعادت غصے میں لائونج کے چکر کاٹ رہا تھا۔۔۔
” اگر وہ مر چکا ہے ۔۔۔۔نہیں یہی تو ایک راستہ تھا۔۔۔سھل تک پہنچنے کا ۔۔۔اگر وہ ملوث نہیں تو ۔۔۔اور کوئی نشان کیوں نہیں مل رہا ۔۔۔۔”
اسے ہر طرف سے اپنی ہار ہوتی ہوئی محسوس ہو رہی تھی ۔۔۔
جو ہر جنگ ہر میدان جیتتا آرہا تھا ۔۔۔۔وہ اپنی ہار پر تلملا اٹھا ۔۔۔۔
” شھربانو اب جنگ کھل کر لڑی جائے گی بہت ہوگیا چوہے بلی کا کھیل ۔۔۔۔”
وہ لمبے ڈگ بھرتا اپنے بیڈ روم کی جانب بڑھنے لگا ۔۔
☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆
” ۔۔آپ کے صاحب گھر نہیں پہنچے ۔۔۔ابھی تک “
وہ اپنی چادر اور بیگ بیڈ پر پھینکنے والے انداز میں رکھتے ہوئے اپنی نوکرانی کی جانب متوجہ تھی ۔۔
ہونٹوں پہ زہریلی مسکراہٹ ۔۔۔انداز فاتحانہ تھا ۔۔۔
سامنے کھڑی نوکرانی نے بس نفی میں سر ہلایا ۔۔۔۔
شھربانو کی پرسنل سیکرٹری بھی آ چکی تھی ۔۔۔
جسے وہ اپنے ساتھ لے کر نہیں گئی تھی ۔۔۔
” میڈم ۔۔۔مس سونیا آج رات پہنچ جائیں گی ۔۔۔۔آپ ائیرپورٹ لینے جائیں گی ۔۔۔؟؟؟؟”
شھربانو نے نفی میں سر ہلایا ۔
۔۔۔” ڈرائیور کے ساتھ تم چلی جانا لینے ۔ اس بات کا کسی اور کو تو پتا نہیں چلا نا ؟؟؟؟
وہ اپنے لمبے بالوں کو پیچھے گرا کر ۔۔۔۔ایک ذومعنی مسکراہٹ سے کہا.
جاری ہے
