Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Intikam E Mohabbat by Esha Noor Episode03

Intikam E Mohabbat by Esha Noor Episode03

تیمور بڑے فاتحانہ انداز میں چلتا ہوا اپنے دوستوں کہ پاس آیا ۔۔۔
” دیکھ پھنس گئی بڑی مچھلی ۔۔۔”
یہ کہتے ہوئے زور سے قہقہہ لگایا ۔۔۔
” تیمور یار مجھے کچھ گڑ بڑ لگ رہی ہے ۔۔۔” وسیم ایک جاسوس کی طرح بول رہا تھا ۔۔
” او یار یہ لڑکیاں کتنی بھی ماڈرن ہو جائیں رہیں گی تو لڑکیاں نا ۔۔۔”
شہباز اور وسیم کو گڑ بڑ لگ رہی تھی ۔۔۔
پر تیمور جو کچھ زیادہ ہی خود پسندی کا شکار تھا وہ ان دونوں کی کوئی بات بھی سننے کو تیار نہیں تھا ۔۔۔
☆☆☆☆☆☆☆☆☆¤¤¤¤¤¤
مطھر بس اسٹاپ پر اپنے دوست کا انتظار کر رہا تھا ۔۔۔۔۔
مطھر نے اس شخص کے پاس جانے کا فیصلہ کر لیا تھا ۔۔۔
حالات ایسے ہو چکے تھے ۔۔۔
اسے کوئی ۔۔۔راستہ نظر نہیں آرہا تھا ۔۔۔خود کشی کرنی ہے تو وہ کی جائے جس سے گھر والوں کو تو فائدہ ہو اس نے اپنے آپ کو بیچنے کا فیصلہ کر لیا تھا ۔۔۔
پر وہ شخص اسے نہ ملا شاید زندگی ۔۔اسے اس دلدل میں دھسنے سے پہلے ایک اور موقع دینا چاہتی تھی ۔۔۔
لیکن خالی ہاتھ بھی وہ گھر نہیں جانا چاہتاتھا ۔۔۔
وہ مزدوری تلاش کرنے کے لیے نکلا ۔۔۔
آج کل کہ دور میں مزدوری بھی اپنے من پسند لوگوں کی دی جاتی ہے۔۔۔
مطھر دو تین جگہ پر جانے کہ بعد ایک جگہ۔۔۔۔۔ منت سماجت کے بعد مزدوری مل گئی ۔۔
مزدوری میں بھی سیاست چل رہی تھی ۔۔۔
وہاں بھی یونین اور صدر لگے تھے ۔۔۔
مطھر کے لیے وہ ایک الگ دنیا تھی ۔۔۔۔۔
” دیکھ کام تجھے کم سے کم پورا ہفتہ کرنا پڑے گا اور مزدوری بھی پہلے ہفتے دوسرے مزدوروں سے کم ملے گی ۔۔۔منظور ہے تو بتا دو ۔۔۔”
مطھر کو تو کام چاہیے تھا ۔۔۔
مطھر نے ہر شرط مان لی ۔۔اس نے دیکھا سب مزدور اپنا کھانا ساتھ لائے تھے ۔۔۔
وہ تو کچھ بھی نہیں لایا تھا ۔۔۔۔۔۔
” آجا بیٹا ہمارے ساتھ کھا لے ” ۔۔۔وہاں چار پانچ مزدوروں نے اپنے لنچ باکس ساتھ رکھے ہوئے تھے ۔۔۔
پہلے مطھر ہچکچایا پر ان کے بار بار اسرار پر مان گیا تھا ۔۔
چوہے تو اس کہ پیٹ میں بھی دوڑ رہے تھے ۔۔۔
◇◇◇◇◇◇◇◇◇◇◇◇◇
سعادت دوپہر کو گھر واپس آیا ۔۔۔تو شھربانو اس کہ منانے کے لیے اس کی پسند کے کھانے تیار کر رکھے تھے ۔۔ اس کی پسند کا ڈریس۔ پہنا جیسے سعادت چاہتا تھا ویسے ہی تیار ہوئی ۔۔
پنتالیس سال کی عمر میں بھی اس کی خوبصورتی میں کوئی کمی نہیں آئی تھی ۔۔۔۔۔۔
وہ سعادت کی محبت نہیں اس کا جنون تھا ۔۔۔
سعادت نے شھربانو کو ایسے دیکھا ۔۔اس کا سارا غصہ ختم ہو گیا ۔۔۔۔
” دیکھ شھربانو تو جانتی ہے میں اس شخص کا نام نہیں سننا چاہتا ۔۔۔اب تم صرف میرے بارے میں بات کرو ۔۔۔
رہی بات سھل کی وہ تمہاری بیٹی نہیں میری بیٹی ہے ۔۔۔وہ چھ ماہ کی تھی جب میری گود میں آئی ۔۔۔
تم ایسی باتیں کرتی ہو میرا دل دکھتا ہے ۔۔۔
دیکھ شھربانو اگر میں اسے پیار نہیں دوں گا کل کو تم بھی شکایت کرتی
۔۔۔کہ میں نے سھل اور سونیا میں فرق کیا ۔۔۔میں نے سونیا سے زیادہ سھل کہ لاڈ اٹھائے ۔۔۔۔۔۔۔کہ کہیں آپ کو شکایت نہ ہو پر ہم کچھ بھی کر لیں ۔۔آپ کو ہماری محبت میں ہمیشہ کھوٹ لگی ۔۔۔۔۔یہی بات ہمیں تکلیف دیتی ہے ۔۔۔”
شھربانو گردن جھکائے سعادت کی باتیں سن رہی تھی ۔۔۔
نجانے کیوں اسے سعادت کی محبت کم جنون زیادہ لگتا ۔۔۔
وہ اسے ہمیشہ جنونی لگا ۔۔۔
لیکن کسی حد تک سعادت کی باتیں صحیح تھی ۔۔۔
☆◇◇◇◇◇◇◇◇
مطھر بہت خوش تھا مزدوری سے ہی صحیح پر وہ آج اپنے گھر کہ لیے کچھ کما کے لے جا رہا تھا ۔۔۔
وہ واقعی بہت مطمئن تھا ۔۔۔
وہ جانتا تھا ان پیسوں میں کچھ نہیں ہو سکتا پر پچھلے تین مہینوں سے وہ خالی ہاتھ گھر جا رہا تھا ۔۔۔
اس سے کہیں بہتر تھا ۔۔۔
مطھر کچھ دیر سستانے کہ لیے وہی ایک ریسٹورنٹ کے قریب ایک پارک میں بیٹھ گیا ۔۔۔وہاں دو چار مزدور اور بھی بیٹھے تھے جن کہ گھر کچھ دور تھے ۔
♡♡♡♡♡♡♡♡♡♡♡
سھل اپنے پلان کے مطابق ۔۔۔تیمور سے ملنے پہنچ گئی ۔
سھل نے اپنے پلان میں کچھ تبدیلی کی ۔۔۔
سھل نے ویسٹرن ڈریس پہنی بلکل ایسے جیسے وہ واقعی اپنے محبوب سے ملنے جا رہی ہے ۔۔۔۔۔
بلو کلر کی ویسٹرن ڈریس پہنی ۔۔۔
ہئیر اسٹائل بھی ویسٹرن ڈریس کے مطابق تھا ۔۔
” کہاں جا رہی ہو ۔۔۔”
شھربانو نے آج سے پہلے سھل کو اتنا تیار نہیں دیکھا تھا ۔۔
” ڈیٹ پہ جا رہی ہوں ۔۔۔”
سھل نے پھٹ سے جواب دیا ۔۔۔
تمیز لحاظ حدود ان باتوں سے تو بلکل نا واقف تھی ۔۔
” کیا بکواس کر رہی ہو شرم حیا بھی کوئی چیز ہے ۔۔۔”
سھل تو اپنی ماں کو اس طرح نظر انداز کر رہی تھی ۔۔۔جیسے اس کا کوئی وجود ہی نہیں ۔
” یہ پرنسس کہاں سے آئی ہے ۔۔۔”
سعادت نے سھل کو دیکھ کر کہا ۔۔۔
” سمجھائو اس کو ۔۔۔یہ کسی لڑکے سے ملنے جا رہی ہے ۔۔۔ڈریس بھی کتنا بکواس پہنا ہے “
شھربانو اب سعادت سے مدد مانگ رہی تھی
” واہ کون ہے وہ خوش نصیب جسے میری بیٹی نے ڈیٹ پر بلوایا ہے ۔۔۔”
شھربانو کو یہی توقع تھی سعادت سے ۔۔۔۔۔
” کوئی نہیں پاپا بس کسی کو سبق سکھانا ہے ۔۔۔ابھی کوئی پیدا ہی نہیں ہوا جو سھل کی نظروں کے سامنے ٹک سکے ۔۔
سھل اپنے مغرور انداز میں بولی ۔۔
” کون ہے وہ ۔۔۔مجھے بتائو۔۔۔اس کی ہڈی بھی کتوں کو نہیں ملے گی ۔۔۔”
سعادت غصہ دکھا کر بولا ۔۔۔
” نو پاپا اس کی لیے آپ کی پرنسس ہی کافی ہے ۔۔۔”
♡◇◇◇◇◇◇◇◇
” کیا زمانہ آگیا ۔۔ہے لڑکیاں کیسے کیسے کپڑے پہن کہ نکلتی ہیں ۔۔استغراللہ ۔۔۔۔”
مزدور کی تنقید پر ۔۔
مطھر جو وہی پارک میں لیٹا تھا سامنے والے ریسٹورنٹ کی طرف دیکھنے لگا ۔۔۔
مطھر کو اس لڑکی کو پہچاننے میں ایک منٹ نہیں لگا ۔۔
” خوبصورتی کہ ساتھ کچھ شرم اور حیا بھی ہوتی ۔۔۔”
مطھر کہ منہ سے بے اختیار نکلا ۔۔۔
مطھر نے نوٹ کیا وہ لڑکا بار بار اس کے قریب آرہا تھا ۔۔لیکن وہ بار بار اس کا ہاتھ اپنی کمر سے ہٹا رہی تھی ۔۔۔۔۔
” آجاتی ہیں ایسے کپڑے پہن کر لڑکوں کہ ساتھ ۔۔۔اور پھر دور بھاگتی ہیں ۔۔۔مجھے کیا ۔۔اچھا ہے ایسی لڑکیوں کہ ساتھ یہی ہونا چاہیے ۔۔”
مطھر اٹھ کر ۔۔۔اب سڑک پر آگیا تھا ۔
☆☆☆☆♤♡♡◇◇◇
سھل نے جیسا تیمور کو سمجھا تھا ۔۔۔وہ اس سے کہیں آگے تھا ۔۔۔۔
سھل جو ادھر ادھر دیکھ رہی تھی ۔۔۔
اچانک اس کی نظر مطھر پر ۔پڑی ۔۔۔
” تیمور ۔۔میں چلتی ہوں وہ پاپا کہ ایمپلائی نے مجھے دیکھ لیا ہے ۔۔۔”
اس نے مطھر کی طرف اشارہ کیا ۔۔۔
تیمور اسے عجیب نظروں سے دیکھ رہا تھا ۔۔۔
حقیقیت میں وہ کہیں سے بھی ایمپلائی نہیں لگ رہا تھا ۔۔۔پر سھل کو آج کا دن تیمور سے جان چھڑانی
تھی ۔۔
” سنو تجھے پاپا نے بھیجا ہے ۔۔۔”
سھل تیزی سے مطھر کہ پاس کھڑی ہو گئی ۔۔۔۔
” اے لڑکے ہاں کہنا ۔۔۔”
سھل مطھر کا چہرہ دیکھ رہی تھی جس پر نجانے کتنے رنگ آ جا رہے تھے ۔۔۔
” چلو اب گاڑی میں بیٹھو ۔۔میرا منہ کیا تک رہے ہو ۔۔۔پہچانا نہیں کیا ۔۔۔”
” میں آپ کو کیسے بھول سکتا ہوں۔
مطھر نے طنزیہ جواب دیا ۔۔
سھل اس کے قریب آکر بولی ۔۔۔۔” میں تمہیں گھر چھوڑ دوں گی ۔۔”
♧♧♧♧♧♧♧♧♧♧♧
مطھر اپنی ہی دھن میں جا رہا تھا ۔۔۔
جب اس لڑکی نے اسے آواز دی ۔۔۔۔
” یہ کالی بلی کہ طرح راستہ کیوں کاٹ جاتی ہے”
مطھر اپنی ہی سوچ میں گم تھا ۔۔۔۔۔
جب اس لڑکی نے اسے کیا سے کیا بنا دیا تھا ۔۔۔
وہ اس کے قریب آئی۔ ۔۔۔۔
اس کہ پرفیوم کی مہک ۔۔۔اس کی ۔۔خوبصورتی سے مطھر متاثر بنا ہوئے نہ رہ سکا ۔۔۔
لیکن وہ اپنی تذلیل بھی نہیں بھولا تھا ۔۔۔
مطھر نے وہ سب یاد کرتے ہی کہا ۔۔۔۔
” میں تمہیں کیسے بھول سکتا ہوں ۔۔۔
تیمور سے تھوڑے فاصلے پہ آتے ہی سھل اپنی اصلیت پر واپس آگئی ۔۔۔
” کتنی بدبو پسینے کی ۔۔۔نہاتے نہیں ہو ۔۔۔”
مطھر کو آج اس کی بات پر غصہ نہیں آرہا تھا ۔۔۔
” نہا کہ آیا تھا مزدور سے پسینے کی ہی خوشبو آتی ۔۔ہے “
مطھر گاڑی تک آیا پر گاڑی میں نہیں بیٹھا ۔
سھل گاڑی میں بیٹھی تو اس نے دیکھا تیمور اسی کی طرف دیکھ رہا ہے ۔
” گاڑی میں بیٹھو ۔۔۔”
سھل مطھر ہی کی طرف دیکھ رہی تھی ۔۔۔
” کیوں بیٹھوں ۔۔۔تاکہ تم جیسے کنگلے رئیس ہماری مزدوری بھی چھین لے ۔۔
مطھر نے کچھ سوچا پھر گاڑی میں بیٹھ گیا ۔۔۔
پورے راستے کوئی بات نہ ہوئی ۔۔۔
لیکن سھل مسلسل تیمور کو گالیاں دے رہی تھی ۔۔
سھل نے تھوڑا ہی فاصلہ طے کیا ۔۔۔اس سے اب مطھر کا وجود برداشت نہیں ہو رہا تھا ۔۔۔
اس نے بیچ سڑک پر گاڑی روک دی ۔۔۔
” اترو۔۔۔
سھل نے بے نیازی سے کہا ۔۔۔
” لیکن آپ نے مجھے گھر چھوڑنے کا کہا تھا ۔۔۔
سھل نے پانچ ہزار کا نوٹ نکالا ۔۔۔” یہ لو ٹیکسی پہ چلے جانا ۔۔۔”
صحیح روشنی نہ ہونے کی وجہ سے وہ نوٹ صحیح سے نہ دیکھ سکا ۔۔۔
☆☆☆☆☆◇◇◇◇◇◇◇
مطھر اتنی تیز رفتار گاڑی دیکھ کر حیرت میں آگیا۔۔۔
مطھر کی نظر بار بار سھل پر جاتی ۔۔
لیکن اس کے لباس کی وجہ سے ۔۔۔
وہ شرم سے نظر ہٹا لیتا ۔۔۔۔
بلو ڈریس میں اس کا سنگ مر مر جیسا وجود اور نکھر گیا تھا
بھورے بالوں پر فرنچ اسٹائل جھوڑا ۔۔۔
بالوں کی کچھ لٹیں جنہیں کرل کیا گیا تھا ۔۔۔اس کہ چہرے کی دونوں جانب تھی
واقعی میں پرستان سے آئی ہوئی پری لگ رہی تھی
مطھر کو پرستان سے واپس اس کی آواز لائی تھی
” اترو ” ۔۔
وہ جا چکی تھی مطھر نے رکشہ لیا اور گھر پہنچا ۔۔۔
کچھ دیر کا ساتھ ۔۔۔مطھر کے وجود کو معطر کر گیا ۔۔۔۔
مطھر گھر پہنچا تو اس۔ کے گھر والے اس کہ منتظر تھے ۔۔
ردا اپنے بھائی کہ پاس آئی ۔۔۔
” ردا یہ لو پیسے رابی آپی کو دیدو ۔۔۔” ۔۔۔۔۔۔
ردا کھڑی اپنے بھائی کہ ہاتھ دیکھ رہی تھی ۔۔
مطھر نے کبھی اتنا مشقت والا کام نہیں۔ کیا تھا ۔۔۔
وہ دیکھ رہا تھا ۔۔ردا اس کہ ہاتھ دیکھ رہی ہے ۔۔۔
” ھما کو کہو میرے کپڑے نکالے ” ۔۔۔
” بھائی یہ پانچ ہزار ۔۔۔”
ردا نے حیرت سے اس نوٹ کو دیکھا ۔۔۔۔
” بھائی مزدوری پانچ ہزار ملی ہے ۔۔۔”
مطھر نے بھی غور سے دیکھا ۔۔۔
جسے وہ پانچ سو سمجھا ۔۔وہ پانچ ہزار تھے ۔۔۔
” ارے یہ کسی اور کہ ہیں الگ سے رکھ دو ۔۔۔واپس کر دوں گا ۔۔”
مطھر سھل کی جادوئی آنکھوں سے ۔۔۔۔گھائل ہو چکا تھا۔۔۔۔
وہ اس کی ہی سوچوں میں نجانے۔ کب کی نیند کی وادی ۔۔۔۔۔میں جا پہنچا ۔۔۔۔
☆☆☆♡◇◇◇◇◇◇◇◇
” وہ شخص اتنا کمینہ ہوگا مجھے نہیں پتا تھا ۔۔”
سھل اب اپنے فرینڈز کو اپنی نکلی ڈیٹ کہ بارے میں بتا رہی تھی ۔۔۔
” یار ڈیٹ پر یہی سب کچھ ہوتا ہے اس سے بھی زیادہ “
رضا سھل کو تپانے کی کوشش میں تھا ۔۔
وہ سب سھل کہ کمرے میں برا جمان تھے
۔۔۔کوئی بیڈ پر تو کوئی زمین پر ۔۔۔۔۔سموکنگ کا دھواں پورے کمرے میں پھیلا تھا ۔۔۔
” کچھ بھی ہو کل پلان پہ عمل کرنا ہے ۔۔۔اور تم سب نے بر وقت پہنچنا ہے ۔۔۔سمجھے “
وہ کسی آفیسر کی طرح ان سب کو آرڈر دے رہی تھی ۔۔۔
ان سب نے اثبات میں سر ہلایا ۔۔۔
☆♡◇◇◇◇◇◇◇◇◇
مطھر صبح اٹھا تھا گھر کی حالت کچھ ٹھیک نہیں تھی ۔۔۔
” یہ سب کیا ہے آپی ۔۔” مطھر گھر کی بکھری چیزیں دیکھ رہا تھا ۔۔گھر میں جو چھوٹے سائز کا ٹی وی رکھا تھا ۔۔
وہ بھی نہیں تھا ۔۔۔
ربیعہ جو ہر روز فجر کہ بعد حسب معمول باورچی خانے میں موجود ہوتی ۔۔۔
” مدثر نے کیا ہے ۔۔۔۔سب کچھ ۔۔۔!!!!۔۔۔اسے نشے کہ لیے پیسے چاہیے تھے ۔۔۔اس نے ھما کو بھی مارا وہ اسے ٹی وی نہیں دے رہی تھی ۔۔۔مطھر اسے منشیات کے ادارے میں چھوڑ آئو ۔۔
مطھر یہ سب دیکھ کر گہری سانس لے کر رہ گیا ۔۔۔
مطھر اپنے والد کے کام سے فارغ ہو کر مزدوری کہ لیے چلا گیا ۔۔
☆♧♧♧♧♧♧♧
سھل کا استقبال تیمور نے کیا ۔۔۔ ہائے ڈارلنگ کیسی ہو ۔۔۔رات جو تم نے جلوہ دکھایا ۔۔۔پوری رات سو نہیں سکا ۔۔۔۔”
سھل جو ہمیشہ کی طرح جینز اور بنیان نما شرٹ میں ملبوس تھی ۔۔۔
تیمور کے بکواس پوز دیکھ کر تپ رہی تھی ۔۔۔۔
سھل کو اسے آج شام تک برداشت کرنا تھا ۔۔
” پھر کب ملو گی ۔۔۔جان من “
سھل کا دل کیا اس کا منہ نوچ لے پر یہ سزا اس کہ لیے کم تھی ۔۔۔
” آج ہی ملتے ہیں اسی جگہ ۔۔۔۔” سھل تیمور کو گھور رہی تھی ۔۔
سھل نے زبردستی مسکرانے کی کوشش کی ۔۔۔
☆☆☆☆◇♧♧♧♧♧♧♧
” ہاں تیمور۔ یار بتا نہ کیا ہوا تھا ” ۔۔
۔۔۔تیمور ہنس رہا تھا ۔۔۔
” ارے کچھ۔ نہیں تھا اس میں عام لڑکیوں کی طرح وہ بھی پہلی ڈیٹ پر گھبرا رہی تھی ۔۔۔میں تو سمجھا کافی بولڈ ہے ۔۔۔خود ہی لپٹ جائے گی ۔۔۔پر وہ تو دور بھاگ رہی تھی ۔۔۔”
تیمور نے پھر سے قہقہہ لگایا ۔۔۔
” پھر کیا ہوا ۔۔۔”
وسیم آگے سننے کو بے چین تھا ۔۔۔۔
” پھر کیا ۔۔۔ایک راہ چلتے لڑکے کو پکڑ کر بولی ۔۔۔یہ میرے باپ کا ایمپلائی ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔سعادت ملک کا ایمپلائی وہ بھی ایک مزدور ۔۔۔وہ تو کافی ڈرپوک لڑکی نکلی ۔۔۔
خود کو مجھ سے چھڑانے کے لیے ۔۔۔ایک راہ چلتے مزدور سے مدد مانگ لی ۔۔۔۔۔
میں بھی اس کہ سامنے ایسا بنا رہا ہے جیسے مجھے یقین آگیا ہو ۔۔۔۔ہا ۔۔۔ہا ۔۔۔ہا ۔۔”
تیمور بہت خوش تھا ۔۔۔۔
” ویسے یار لڑکی غضب کی ہے ۔۔۔۔
اس کی آنکھیں کمال کی ہے ۔۔۔۔۔۔دل کرتا ہے ان میں ڈوب جائیں ۔۔رات جو اس نے ڈریس پہنی تھی ۔۔۔
وہ تو مجھ پر فدا پو گئی ہے ۔۔۔ایسا بن ٹھن کہ کوئی اپنے محبوب کے لیے ہی آتا ہے ۔۔۔”
تیمور تو اب تک اس کی ملاقات کے حصار سے باہر نہیں نکلا تھا ۔۔۔
” بس یار اب صبر نہیں ہوتا ۔۔۔بس جلد ہی یہ لڑکی پٹ جائے ۔۔۔
پھر بس موجاں ہی موجاں “
وہ اپنے بازو وسیم اور شہباز کی گردن پہ رکھے ہوئے تھا ۔۔۔
وہ دونوں بھی سھل کہ خیالوں میں کھوئے تھے ۔۔۔
” چلتے ہیں یار پھر شام کی تیاری کرنی ہے ۔۔۔”
تیمور کے دل میں ابھی سے لڈو پھوٹ رہے تھے ۔۔۔
کب شام ہو اور کب وہ سھل سے ملنے جائے ۔۔۔۔
☆☆☆☆☆☆◇◇♡♡♡♡♡♡♡♡
” چل یار کینٹین میں چلتے ہیں ” سھل جو اپنے پلان کے بارے میں سوچ رہی تھی ۔۔۔رانیہ نے اسے مخاطب کیا۔۔۔
” ویسے یار تیمور اتنا بھی برا نہیں ۔۔۔”
سھل جیسے کسی گہری۔ سوچ کہ بعد کسی فیصلے پر پہنچی ہو ۔۔۔
” کیا۔۔۔۔ چاروں نے ایک ساتھ تقریباََ چلانے والے انداز میں کہا ۔۔۔
” تم پاگل ہو گئی ہو ۔۔۔۔۔تمہیں تیمور اچھا لگ رہا ہے ۔۔۔”
رانیہ اور سارا نے ایک ساتھ کہا ۔۔۔۔
” اوکے یار میں چلتی ہوں ۔۔۔پر شام کو سب پکا آجانا ۔۔۔
تیمور کو بھی پتہ چلے کس بلا سے پالا پڑا ہے ۔۔۔”
وہ چلتی ہوئی اپنی اسپورٹس کار کی طرف گئی ۔۔۔
ہاتھ ہلا کہ سب کو بائے کیا ۔۔۔
سھل ایک زیر تعمیرات عمارت کے سامنے سے گذری ۔
اس کی نظر مطھر پر پڑی جو وہی مزدوری کر رہا تھا ۔۔
سھل نے ۔۔ کچھ دیر گاڑی روک کے اس کا جائزہ لیا
وہی کچھ فاصلے پر وہ ریسٹورنٹ تھا ۔
وہ بغور ہر چیز کا جائزہ لینے لگی ۔۔
” یہ۔ لڑکا مجھے روز کیوں نظر آجاتا ہے “
سھل کی گاڑی کا رخ اب گھر کی جانب تھا ۔۔۔
☆☆☆☆◇♧♧◇◇◇◇
مطھر کام ختم کر کے پھر اسی پارک میں۔۔۔۔۔۔ کچھ دیر سستانے کو آگیا ۔۔۔۔
آدھا گھنٹا ۔۔ہی گذرا تھا ۔۔۔۔
وہی لڑکی لڑکا ۔۔۔اسی جگہ موجود تھے ۔۔۔۔کل کی بہ نسبت آج کپڑے کچھ ڈھنگ کے تھے ۔۔۔
بغیر آستین کی شرٹ کے ساتھ اسکرٹ پہنے ۔۔۔۔بال بھی کس کہ باندھ رکھے تھے ۔۔۔
کل کی بہ نسبت آج وہ لڑکی کافی حد تک سادہ تھی ۔۔
مطھر ان کا جائزہ لے رہا تھا ۔۔۔
مطھر کچھ دیر دیکھنے کہ بعد سر جھٹک کر بازو سرہانے کیے لیٹ گیا ۔۔۔۔
اچانک شور ہو گیا ۔۔۔وہ لڑکی چلانے لگی ۔۔۔
مطھر دیکھ رہا تھا ۔۔۔
” واہ کیا ڈرامے باز لڑکی ۔۔۔۔اسے اور لڑکوں سے ڈر لگے ۔۔۔”
مطھر خاموشی سے کھڑا ہو گیا اس لڑکے کی اچھی خاصی دھلائی ہو رہی تھی
اس کہ سائیڈ میں جو مزدور لیٹے تھے ۔۔۔وہ بھی اپنا حصہ ڈالنے دوڑے دوڑے گئے ۔۔
وہ لڑکی سائیڈ پہ ہو کہ مسکرا رہی تھی ۔۔۔اس کے دوست ویڈیو بنا رہے تھے ۔۔۔
” تم مجھے بچانے کیوں نہیں آئے ۔۔۔” اچانک ایک نسوانی آواز سے مطھر چونک گیا۔ ۔۔۔۔
مطھر نے دیکھا وہی لڑکی اس کہ پاس کھڑی ہے ۔۔۔۔
” کیا کہا پھر سے کہنا ۔۔۔”
مطھر نے طنزیہ لہجے میں کہا ۔۔۔۔
” جو تم نے سنا ۔۔”
” ہم آپ کا ڈرامہ خوب سمجھتے ہیں ۔۔۔ویسے آپ جیسی لڑکیوں کو لڑکوں کہ چھونے سے فرق پڑتا ہے ۔۔۔؟؟؟”
مطھر اس گھور رہا تھا ۔۔
” کیا مطلب ہم جیسی لڑکیاں “
مطھر نے دیکھا تیر نشانے پہ لگا ۔۔۔
” جی آپ جیسی آوارہ لڑکیاں ۔۔۔۔”
مطھر آگے کچھ کہتا ۔۔۔وہ غصے سے ۔۔۔مطھر کے سامنے آکر کھڑی ہوگئی ۔۔۔
” تم دو ٹکے کہ مزدور خود کو سمجھتے کیا ہو ۔۔۔۔”
مطھر دو قدم آگے آکر اس کہ سامنے آیا ۔۔۔
” میں تم جیسی لڑکیوں۔۔۔۔سے خود کو کئی درجے بہتر سمجھتا ہوں ۔۔۔۔ ۔۔ویسے میں آپ کے منہ نہیں لگنا چاہتا ۔۔۔۔سو پلیز جائے یہاں سے ۔۔۔ہم شریف لوگوں کو آپ جیسے لوگوں سے ڈر لگتا ہے ۔۔۔” ۔
سھل نے تھپڑ مارنے کہ لیے ہاتھ اٹھایا ۔۔۔
مطھر نے اس کا ہاتھ مروڑ کر پیچھے کیا ۔۔۔۔۔
☆☆☆♡♧♧♧♧♧♧
” یہ کمینہ تو پہلے ہی موجود ہے ۔۔۔” سھل غصے دانت پیس کر بولی ۔۔۔
ارد گرد کا جائزہ لیا ۔۔۔وہاب اسے نظر آگیا ۔۔۔رانیہ بھی تھی ۔۔
” یہ رضا اور سارا کہاں گئے ۔۔۔”
بغیر آستین کی شرٹ ۔۔کے ساتھ اسکرٹ پہنے ۔۔۔بالوں میں۔ بس پونی لگائے ۔۔۔وہ کل کی طرح بلکل تیار ہو کہ نہیں آئی ۔۔۔تھی ۔۔۔
وہ جانتی تھی اگر اتنی تیار ہو کہ گئی ۔۔۔تو سب کو شک پڑ جائے گا ۔۔۔یہ لڑکی واقعی ملنے کہ لیے آئی ہے ۔۔۔
” یہ لڑکا ۔۔۔یہ روز کیوں نظر آجاتا ہے ۔۔۔سڑیل ٹماٹر
کہیں کا ” ۔۔۔
وہ اپنی سوچ کے دائرے میں تھی ۔۔
” ہائے سویٹ ہارٹ “
سھل نے مصنوعی مسکراہٹ دی ۔۔
تیمور تھوڑا اور اس کے قریب آیا ۔۔۔۔
سھل کو اپنی کمر پر اس کا ہاتھ رینگتے ہوئے محسوس ہوا اس کے پورے وجود میں ایک کرنٹ سا لگا ۔۔۔
وہ ایک جھٹکے سے تھوڑا دور ہوئی ۔۔۔
تیمور اسے اس وقت زہر لگ رہا تھا۔۔۔
” کیا ہوا ۔۔۔ڈارلنگ ۔۔۔دور کیوں بھاگ رہی ہو ۔۔۔”
سھل خود کچھ قریب ہوئی ۔۔۔
” شکل دیکھو اور۔ کرتوت تو دیکھو ۔۔۔” ۔۔۔
تیمور نے کمر میں ہاتھ ڈال کہ ۔۔اسے اپنے قریب کیا ۔۔۔
” سھل چلائو چلائو یار وقت آگیا ۔۔۔ہے ” وہ اپنی سوچ میں خود کو آنے والے حالات کے لیے تیار کرنے لگی ۔۔۔
سھل نے جیسے دیکھا کچھ لوگ جمع ہیں اس نے جھٹ سے چلانا شروع کیا ۔۔۔
” بچائو بچائو ۔۔۔” سھل پورا زور لگا کہ چلائی ۔۔۔تیمور کے لیے یہ سب غیر متوقع تھا ۔۔۔
تیمور حواس باختہ ہوگیا ۔۔۔
سھل وہاں سے ہٹ گئی ۔۔۔
” یہ تو اپنی جگہ سے ہلا تک نہیں ” سھل اسی لڑکے کو دیکھ رہی تھی ۔۔۔
” یہ مجھے کیوں دیکھ رہا ہے ۔۔۔بات کرنی پڑے گی “
” سنو ۔۔۔تم مجھے بچانے کیوں نہیں آئے ۔۔۔”
سھل اس کی طنز بھری مسکراہٹ دیکھ رہی تھی ۔۔۔
آگے سے جو وہ بکواس کر رہا تھا ۔۔۔وہ سننا سھل کہ بس میں نہیں تھا ۔۔۔
جیسے اس نے ہاتھ اٹھایا ۔۔۔
اس نے ہاتھ مروڑ کہ پیچھے کر دیا ۔۔۔سھل کہ کلائی درد کرنے لگی ۔۔۔
وہ اب بلکل اس کہ کان کہ قریب بول رہا تھا ۔۔۔
” مس ایکس وائے زیڈ آپ جو بھی ہے ۔۔۔۔۔میرے پیچھے آنا چھوڑ دے ۔۔۔” سھل کو اپنی دل کی دھڑکن تیز ہوتی ہوئی محسوس ہوئی ۔۔۔
اس کہ بالوں کے پانی کہ قطرے سھل کہ چہرے پہ پڑ رہے تھے ۔۔
” میں چاہوں تا ابھی اپنی بے عزتی کا بدلہ لے سکتا ہوں ۔۔۔لیکن میں تم جیسی لڑکیوں کے منہ نہیں لگنا چاہتا ۔۔۔۔”
ایک جھٹکے سے اس نے سھل کو دور کیا ۔۔۔
سھل کے لیے یہ سب غیر متوقع تھا ۔۔۔
اچانک یہ سب ۔۔۔
کچھ منٹوں بعد سھل اپنے آپ میں واپس آئی ۔۔۔
” تم ۔۔۔۔تم ۔۔بھوکے ننگے ۔۔۔مجھ سے ایسے بات کرو ۔گے ۔۔۔”
سھل کو اب بھی اپنی سانس بے ترتیب ہوتی ہوئی محسوس ہو رہی تھی ۔۔۔
اس کہ آواز میں بھی وہ جوش نہیں تھا ۔۔
” سھل کنٹرول ۔۔۔ایک تھرڈ کلاس شخص کے بارے میں ۔۔۔”
وہ اپنے دل سے ہی بات کر رہی تھی ۔۔۔
” تم جہاں مزدوری کرتے ہو ۔۔۔وہ سب عمارتیں ۔۔۔میرے پاپا کہ انڈر ہیں ۔۔۔دیکھ میں تیرے ساتھ اب کیا کرتی۔۔ہوں ۔۔۔”
وہ جانے کے لیے پلٹی ۔۔۔پیچھے سے اس لڑکے نے آواز دی ۔۔۔
” او میڈم ۔۔۔”
وہ اس کہ سامنے آیا اس کا ہاتھ کھول کہ پانچ ہزار ۔۔اس کہ ہاتھ پہ رکھے ۔۔۔
” ہم بھکاریوں سے بھیک نہیں لیتے ” ۔۔۔
وہ جا چکا تھا ۔۔۔لیکن سھل غصے میں تپ رہی تھی ۔۔
خود کو سمجھتا کیا ہے ۔۔
اس کا تو وہ حشر کروں گی۔۔۔کے یاد رکھے گا ۔۔۔۔
جاری ہے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *