Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Intikam E Mohabbat by Esha Noor Episode08

Intikam E Mohabbat by Esha Noor Episode08

بائیس سال پہلے
” میری اسائنمنٹ کس نے تیار کر کے جمع کروائی ۔۔۔۔؟
شھربانو زویا سے پوچھنے لگی ۔۔
” میں نے تو نہیں شاید عنبر نے کروائی ہو ۔۔۔تم نے اسائنمنٹ بنا لی تھی ؟
” میں نے نہیں بنائی تھی اس لیے پوچھ رہی ہوں ۔۔۔”
شھربانو اب اور زیادہ پریشان ہو گئی ۔۔۔
اس کہ سب کام ان کے کرنے سے پہلے ہو رہے تھے ۔۔
آخر وہ تھا کون ؟؟؟
ذہن سوچ سوچ کہ تھک چکا تھا ۔۔
” کیا ہوا ۔۔۔”
زویا تھی یا نہیں اسے اس کا ہوش نہیں رہا تھا ۔۔
اس کے پوچھنے پر وہ اس کی جانب متوجہ ہوئی ۔۔۔
” کچھ نہیں “
اس وقت اسے وہی جواب سمجھ آیا ۔۔۔۔۔
” شھربانو آپ نے اپنی اسائنمنٹ ارم کے ہاتھ کیوں بھجوائی آئندہ آپ خود جمع کروائیے گا ۔۔
میڈم یاسمین شھربانو سے پو چھنے لگی
اس نے حیرت سے ارم کو دیکھا ۔۔۔۔جس نے مسکرا کر ہاتھ ہلایا۔۔۔
جیسے اس کے سوال کا جواب دے رہی ہو ۔۔
کلاس کے بعد وہ سیدھی ارم کے پاس آئی ۔۔۔۔
” میری اسائنمنٹ تم نے تیار کی ۔۔؟؟؟”
شھربانو حیرت زدہ تھی ۔۔
ارم اور اس کی اسائنمنٹ بنائے ۔۔۔۔ناممکن تھا ۔
” میں کیوں بنانے لگی ۔۔۔مجھے ایک لڑکا دے گیا تھا ۔۔۔شاید چائے والا تھا ۔۔یا پھول والا ۔۔اس نے کہا میں آپ کو دے دوں ۔۔۔تم ملی نہیں تو میں نے میڈم کے پاس جمع کروادی ۔۔۔۔اب کہاں سے تمہیں ڈھونڈھتی پھرتی ۔۔۔”
ارم شانے اچکا کر جا چکی تھی ۔۔۔
روز ایک نیا انکشاف ۔
شھربانو کی سوچ ۔۔۔کسی پہاڑ سے ٹکرا کے واپس آجاتی ۔
کون ہے وہ ۔۔۔جو اس کی مدد اس طرح سے کر رہا تھا۔۔
☆◇◇◇◇◇◇◇◇
حال
سعادت کمرے میں آیا تب وہ کہیں کھوئی ہوئی تھی۔۔
” شھربانو پریشان مت ہو ۔۔۔میں اسے ڈھونڈ لوں گا “
۔۔وہ چونک کر سوچ سے واپس پلٹی ۔۔
” کس کو اسائنمنٹ بنانے والے کو ۔۔”
سعادت کے ہونٹوں پر پر سکون مسکراہٹ بکھر گئی ۔۔
” نہیں شیری ۔۔۔سھل کو ۔۔۔ڈھونڈ لوں گا ۔۔”
اس اپنے کہے ہوئے جملے پر خود ہی حیرت ہوئی ۔
وہ ہر بار ماضی اور حال میں ایک ساتھ رہتی ۔۔۔
سعادت شھربانو کے پاس آکر بیٹھ گیا ۔۔۔
اس نے بھی اپنا سر اس کے شانے پہ رکھ دیا ۔
وہ پیار سے اس کی طرف دیکھنے لگا ۔۔۔
جو اب ان کی زندگیوں میں کہیں نہیں تھا ۔۔
▪▪▪▪▪▪▪▪▪
ماضی
وہ یونیورسٹی کے بینچ پہ اکیلی بیٹھی ۔۔۔عنبر اور زویا کا انتظار کر رہی تھی ۔۔۔۔
جب ایک بچہ آج پھر ایک پھول اسے دے گیا ۔۔۔
یہ سلسلہ پچھلے تین مہینے سے چل رہا تھا ۔۔۔
پہلے سفید پھول ۔۔۔( دوستی کی علامت ) ۔۔
اور آج اسے وہ بچہ ایک گلاب دے گیا تھا ۔۔
وہ کچھ پوچھتی پر بچہ تیزی سے بھاگ جاتا ۔۔
لیکن آج اس نے بچے کو پکڑ لیا تھا
” بتائو کس نے دیا ہے “
اسنے تھرڈ فلور ( تیسری منزل ) ۔۔۔کی طرف اشارہ کیا ۔۔
اس نے اوپر کی جانب دیکھا ۔۔تب تک بچہ وہاں سے بھاگ چکا تھا ۔
▪▪▪▪▪▪▪▪▪▪
” یہ لے اپنی فیس کی رسید ۔۔۔پلیز فام فل کر دیں ۔۔
کائونٹر پہ بیٹھا کلرک اس سے مخاطب تھا ۔۔
” میری فیس ۔۔۔” شھربانو حیرت زدہ ہو کر بولی ۔۔۔
” میری فیس کس نے جمع کروائی ۔۔۔؟؟۔۔۔۔پلیز آپ اسے واپس کر دیں میں خود جمع کروالوں گی ۔۔۔
” آپ اسے پیسے دے دیجیے گا ۔۔۔آج آخری تاریخ تھی ۔۔آگے لیٹ فی لگے گی۔۔۔”
اب شھربانو کے پاس کوئی جواب نہ بن پایا ۔۔۔
کلرک کافی مصروف تھا وہ ان سے تفصیل سے پوچھنا چاہتی تھی ۔۔۔
پر اس کے پاس اتنا ٹائم نہیں تھا ۔۔
اس نے فام فل کر کے جمع کروایا ۔۔
اب وہ اس شخص کو کہاں سے تلاش کرے ۔۔۔جو ایک فرشتے کی طرح ۔۔۔بنا دکھائی دیے اس کی مدد کر رہا تھا ۔۔
وہ جانتی تھی آج پھر اسے بچہ پھول دینے آئے گا ۔۔۔
وہ چوکنہ ہو کر بیٹھی تھی ۔۔۔
جیسے ہی بچہ آئے گا وہ اسے پکڑ لے گی۔۔
حسب معمول وہی ہوا ۔۔۔۔۔
جیسے ہی بچہ پھول دینے آیا اسے پکڑ کر اس سے پوچھنے لگی ۔۔
اس نے ایک جانب اشارہ کیا ۔۔۔
درخت کے پاس کوئی کھڑا تھا ۔۔۔
وہ صرف اس کی گرے کلر کی شرٹ دیکھ سکی ۔۔
جیسے وہ چھپ کر اسے ہی دیکھ رہا تھا
وہ تیزی سے اس جانب لپکی ۔۔
☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆
وہ تیزی سے اس درخت کی جانب لپکی ۔۔۔پر وہاں کوئی نہیں تھا ۔۔۔
کیا تھا وہ شخص کوئی بھوت، چھلاوا ۔۔۔یا کچھ اور ۔۔۔۔۔
◇◇◇◇◇◇◇◇◇
حال
دن کے بارہ بج چک تھے ۔۔۔۔لیکن سیاہ بادل نے سورج کو اس طرح ڈھانپ رکھا تھا ۔۔۔ دن میں بھی رات سا سماں تھا ۔۔۔۔
سورج نکلتا تو ایسی تپش ہوتی ۔۔۔جیسے وہ خود کو چھپانے کا بدلہ لے رہا ہو ۔۔
اس شخص کے مال پہچنے کو ابھی کافی وقت تھا ۔۔۔
بقول اس کے مال چار بجے سے پہلے نہیں پہنچ سکتا ۔۔
” وہ لوگ سیدھے راستے کی بجائے ۔۔۔۔۔ٹیڑھا راستے اختیار کر کے آرہے ہیں ۔۔
تاکہ پکڑے جانے کے سارے امکانات ختم ہو جائے ۔
اس لیے وہ چار گھنٹے کا راستہ ۔۔۔
آٹھ گھنٹے میں طے کر رہے ہیں “
وہ شخص اسے بتا رہا تھا ۔۔۔
مطھر بھی اس مال کا ( جو اسے دینا تھا ۔۔۔) بے چینی سے انتظار کر رہا تھا
وہ بس یہ دیکھنا چاہتا تھا ۔۔آخر ہے کیا جس کے لیے اسے اتنی بڑی رقم دی گئی ہے ۔۔۔۔
نجانے کون کون سے خدشات اس کے دل میں سر اٹھا رہے تھے ۔۔۔۔
بارودی مواد ۔۔۔ہی ہوگا ۔۔۔اب وہ اس بات کو دل میں بٹھا چکا تھا ۔۔۔
” کچھ بھی ہو وہ فورسز پہ کبھی حملہ نہیں کرے گا ۔۔۔چاہے اس کے لیے اسے اپنی جان ہی کیوں نہ دینی پڑے ۔۔۔
وہ کسی کھائی میں کود جائے گا ۔۔۔
موت کا تصور ہی بہت خوفناک تھا ۔۔۔۔
اسے کی پیشانی پہ پسینہ آگیا ۔۔۔
گھبراہٹ سے اس کا جسم ٹھنڈا پڑنے لگا ۔۔۔
اب وہ یہی دعا کر رہا تھا ۔۔۔۔
کہ کبھی چار نہ بجے اور نہ ہی وہ مال پہنچے ۔۔۔
◇◇◇◇◇◇◇◇◇◇◇
ماضی
شھربانو کی بے چینی بڑھتی جا رہی تھی ۔
وہ عنبر اور زویا کے ساتھ بھی کم بیٹھتی تھی ۔۔
آخر وہ کون شخص تھا ۔۔۔جس کی وہ مقروض ہوتی جا رہی تھی ۔۔۔
ایک دن پھول نہ آتا وہ بے چین ہو جاتی ۔۔
چار مہینے ہو چکے تھے ۔۔
وہ جتنے دن یونیورسٹی نہ آتی ۔۔
اتنے دن کے پھول ۔۔۔گن کے اس میں شمار ہوتے ۔۔
لیکن شاید اب شھربانو کا انتظار ختم ہونے والے تھا ۔۔
اس کی یونیورسٹی میں ۔کچھ نیو ایڈمیش تھے ۔
اوباش قسم کے لڑکے تھے
وہ آتے جاتی لڑکیوں کو تنگ کرتے ۔۔
پر سب ٹولیوں کی صورت میں ہوتے ۔۔
شھربانو کو بھی وہی سے گزرنا تھا ۔۔
اس کے ساتھ عنبر اور زویا بھی نہیں تھی ۔۔
وہ نیچے نظریں کئی جلدی سے وہاں سے گزرنے لگی ۔
وہ اپنی چادر ٹھیک کرتے وہاں سے گزری ۔۔۔۔ایک آواز اس
کے کانوں میں سیسہ انڈیل رہی تھی ۔
” ۔۔ہائے کیا لڑکی ہے ۔۔
پھر دوسرے لڑکے کی آواز آئی ۔۔
” جان من کہاں جا رہی ہو ۔۔
ان کے قہقہے اسکے سر پر ہتھوڑے برسا رہے تھے
اچانک ایک لڑکا اس کے سامنے آگیا ۔۔۔
جیسے ہی اسنے چھیڑنے کے لیے ہاتھ بڑھایا ۔
ایک زور کا گھونسہ اس کے منہ پر لگا
وہ شخص دو چار قدم پیچھے لڑھک گیا ۔
شھربانو گھبرا کر ایک کونہ پکڑ کے بیٹھ گئی ۔
وہ ایک شخص تھا ۔۔۔۔وہ لڑکے چار پانچ ۔
اچانک سے اس لڑکے کے دوست بھی آگئے ۔۔۔وہ سب ایک
دوسرے سے لڑنا شروع ہوگئے ۔۔
تب تک اس لڑکے کو اچھی خاصی مار پڑ چکی تھی ۔۔
کچھ اور لڑکوں نے آکر ان کی صلح کروائی ۔۔
معاملہ ٹھنڈا ہو چکا تھا ۔۔۔
لیکن شھربانو جس بات سے ڈر رہی تھی ۔۔۔وہ ہو چکی تھی ۔۔۔
عنبر اور زویا ۔۔روز اسے کہتی تھی ۔۔
” بانو تم یونیورسٹی میں فساد کروائو گی ۔۔
نجانے وہ اس کی خوبصورتی کی تعریف تھی ۔۔۔یا تنقید ۔
شھربانو اس لڑکے کو دیکھنے عنبر اور زویا کے ساتھ گئی ۔
وہ بہت ڈری ہوئی تھی ۔۔۔اکیلے رہنے کا رسک وہ نہیں لینا چاہتی تھی ۔۔۔
لڑائی کی وجہ سے وہ اس لڑکے کو دیکھ نہیں پائی تھی ۔۔
” آپ کو ان سے اس طرح ۔۔۔لڑنا نہیں چاہیے تھا ۔
اس کے دوست غصے سے ۔۔۔اس کی طرف گھور رہے تھے ۔۔
جیسے یہ سب شھربانو نے جان بوجھ کے کیا ہو ۔۔
” میرا مطلب تھا میری وجہ سے الجھنا نہیں چاہیے تھ
” آپ کی وجہ سے اس نے نجانے ۔۔
وہ لڑکا کچھ اور بھی کہنا چاہتا تھا ۔
لیکن ان دو لڑکوں نے منع کر دیا ۔
جس لڑکے نے مار کھائی تھی ۔۔۔
وہ تو اس کی بات پر کچھ زیادہ ہی غصہ کر رہا تھا ۔۔
شھربانو پلٹ کر جانے لگی ۔۔۔کچھ قدم چل کر وہ واپس پلٹی ۔۔۔یہی سوچ کر کہ اس کا نام پوچھ لے ۔
جو الفاظ اس نے وہاں واپس آکر سنے ۔۔جن سوالوں کے جواب وہ پچھلے چند ماہ سے ڈھونڈ رہی تھی وہ سب جواب اسے مل۔ گئے ۔۔تھے ۔۔
▪▪▪▪▪▪▪▪
حال
” ہاں صادق بولو ۔۔”
سعادت کرسی کی پشت سے ٹیک لگائے ۔۔۔آنکھیں بند کیے بیٹھا تھا ۔
” یار میرے بیٹے کا اس میں کوئی ہاتھ نہیں ہے ۔۔۔میں سچ کہہ رہا ہوں ۔۔۔
صادق اپنی صفائیاں پیش کر رہا تھا ۔۔
” وہ تو میں پتہ لگا لوں گا کس کا ہاتھ ۔۔۔۔۔جس کا ہوا نہ ۔۔۔اس کی ایک ایک انگلی کے اتنے ٹکڑے کروں گا ۔۔۔”
سعادت بات بہت سخت کہہ رہا رہا ۔تھا ۔
۔لیکن چہرے پہ کوئی تاثر نہ تھا ۔۔
صادق کہ چہرے کا۔ رنگ کب کا اڑ چکا تھا ۔۔
سعادت اب صادق خان کو ایسے گھور رہا تھا ۔۔۔۔جیسے اس کی نظر نہیں کوئی لیزر گن ہے ۔۔
☆☆☆♧♧♧♧♧
صبیحہ بی بی ہوش میں آنے کے بعد نجانے کتنی بار مطھر کا پوچھ چکی تھی ۔۔۔۔
” امی بھائی کام سے گیا ہے “
ربیعہ ماں کو تسلی دینے لگی ۔۔
” ایسا بھی کیا کام ماں سے ہاسپیٹل میں مل نہیں سکتا ۔۔
ربیعہ کو اپنی ماں کی پریشانی کا بخوبی اندازہ تھا
پر کوئی ایسے اتنی بڑی رقم نہیں دیتا ۔
اپنا آپ داؤ پہ لگانا پڑتا۔ ہے اور اس نے وہی سب کچھ کیا ۔۔
” آجائے گا امی ۔۔اسے ملک سے باہر جانا تھا ۔۔۔اس کی ٹکٹ تھی جہاز کی وہ نہیں رک سکتا تھا ۔۔
ربیعہ جانتی تھی اس کی ماں اس کے باتوں کا اعتبار
نہیں کرے ۔۔۔لیکن اس کے بس میں کچھ نہ تھا ۔۔
☆◇◇◇◇◇◇◇◇◇
سہہ پہر کے تین بج چکے تھے ۔۔۔۔سردی بڑھنے لگی تھی ۔۔
بادل ابھی تک ان پہ مہربان تھے ۔۔۔۔
اسے ایسا لگ رہا تھا چار بجے گے ۔۔۔اور اس کے موت کے
پروانے پر دستخط ہو جائیں گے
☆☆☆☆☆☆☆☆
اسے جتنی قرآن پاک کی آیتیں حفظ تھی وہ ان سب کا نجانے کتنی بار ورد کر چکا تھا ۔۔۔
” یااللہ مجھے مزید آزمائش میں نہ ڈال ۔۔۔۔میں جانتا ہوں مجھ سے بہت بڑا گناہ ہو چکا ہے ۔۔۔۔میں نے وہ پیسے لے لیے ۔۔۔
جو کسی صورت حلال کے نہیں لگتے ۔۔۔۔۔یااللہ انہیں میرے لیے حلال کر دے ۔۔۔مجھ سے کوئی ایسا کام نہ کروانا جس میں کسی انسان کو کوئی نقصان پہنچے ۔۔۔۔
یااللہ میری مدد فرما ۔۔۔”
دعا مانگتے مانگتے اس کی آنکھیں نم ہوئی ۔۔۔پانی کب کا اپنا بند توڑ چکا تھا ۔۔۔
وہ اسے لا علم رہا ۔۔۔۔وہ آج دل سے رو رہا تھا ۔
☆☆☆☆☆◇◇♧♧♧
ماضی
شھربانو دوسرے دن اس لڑکے کا انتظار کرنے لگی ۔
اسے اس کے دوست نظر آ گئے ۔۔۔
” میں ابھی آئی ۔۔۔”
وہ عنبر اور زویا کے پاس بیگ چھوڑ کر اپنا چھوٹا پرس ہاتھ میں لیے ان کی طرف گئی ۔۔۔
” سنیں ” ان دونوں نے پلٹ کر اسے دیکھا ۔۔۔
” آپ کا دوست کیسا ہے ۔۔۔
وہ دونوں ایک دوسرے کا چہرہ دیکھنے لگے ۔
جیسے اس نے کوئی پہیلی پوچھی ہو ۔۔
” پہلے سے بہتر ہے ۔۔۔” وہ پھر پلٹ کر جانے لگے ۔۔
ان دونوں کا رویہ ایسا تھا ۔۔۔جیسے وہ شھربانو سے۔ بات نہ کرنا چاہتے ہوں
” آپ لوگ دو منٹ رک کے میری بات سن سکتے ہیں
ان دونوں میں سے ایک شھربانو کی طرف متوجہ ہوا ۔۔۔
جو کل بھی اسے کچھ کہہ رہا تھا ۔۔۔
” جی فرمائیے ۔
اس کا تاثر ایسا تھا ۔۔۔۔جیسے وہ رک اس پر احسان کر رہا تھا ۔۔۔۔
” وہ ۔۔۔وہ ۔۔
اسے سمجھ نہ آیا وہ بات کہاں سے شروع کرے ۔۔۔
جتنا سوچ کہ آئی تھی ۔۔۔۔وہ سب ان دونوں شخص کے سرد مہری کی وجہ سے بھول گئی تھی ۔
وہ کچھ کہتی ۔اس سے پہلے وہ لڑکا خود ہی بول اٹھا ۔
” دیکھیں مس آپ جو بھی ہیں برائے مہربانی ہمارے دوست سے دور رہیں ۔۔۔اس کے باپ نے بڑی مشکل سے پیسے جوڑ کر اسے پڑھنے کے لیے بھیجا ہے ۔۔۔۔
وہ وقت اور پیسا ۔۔دونوں آپ پر ضائع کر رہا ہے ۔۔
شھربانو ان کی باتوں سے ہکا بکا رہ گئی ۔۔۔۔
اس کے منہ سے زبان تو جیسے کسی نے کھینچ کر نکال دی تھی ۔
” وہ خود کو تھکا رہا ہے اس کے اخراجات ۔۔تو اس کے والد
پورے کر دیتے ہیں ۔۔۔لیکن وہ آپ کے اخراجات پورے کرنے کے لیے ۔۔دو جگہ نوکری کر رہا ۔۔۔۔
یہاں تک تو ٹھیک تھا ۔۔۔پر اب آپ کی وجہ سے وہ دشمنیاں مول لے رہا ہے ۔۔۔
گاؤں میں پہلے ہی ان کے بہت دشمن ہے ان سے بچانے کے ۔۔۔لیے چاچا نے اسے شہر بھیجا ۔۔۔
لیکن یہاں اسے آپ مل گئی ۔۔برباد ۔۔
شھربانو کو ضبط جواب دے گیا ۔۔۔
” ایک منٹ مسٹر میں نہ ان سے کبھی ملی ہوں ۔۔۔نہ میں ان کے پیچھے پڑی ۔۔۔ہوں ۔۔ان فیکٹ میں نے تو اس دن سے پہلے اسے دیکھا تک نہ تھا ۔۔۔”
وہ دانت پیستے ہوئے بولی ۔۔
” آپ اتنے بڑے الزامات مجھ پر کیسے لگا سکتے ہیں ۔۔۔۔میں تو صرف ان کے پیسے واپس کرنے آئی تھی ۔۔۔۔”
وہ اب غصے میں کانپنے لگی ۔۔
” ایک منٹ میڈم ۔۔۔۔آپ برابر کی شریک ہیں ۔۔۔۔وہ کینٹین سے روز برگر۔۔۔وہ فیس کے پیسے ۔۔۔۔چلیں آپ کے والدین کے ہاسپیٹل کے بل کا آپ کو نہ پتہ ہو ۔۔۔
لیکن ان سب کو تو آپ کو پتہ تھا ۔۔۔آپ نے بھی سب مزے سے لے لیا ۔۔۔۔اور اب کیسے پارسا بن رہی ہو”
اس لڑکے کا چہرہ غصے میں تپ رہا تھا ۔
” چلو اسد ۔۔۔سادی کو پتہ لگا ۔۔تو وہ ہم پہ بہت غصہ کرے گا ۔۔۔شاید دوستی بھی ختم کردے ۔۔
وہ دوسرا لڑکا ۔۔۔اس لڑکے کو کہہ رہا تھا ۔۔۔جو شھربانو پہ الزام لگا رہا تھا ۔۔
” اگر اس نے اس لڑکی کی وجہ سے دوستی ختم کی ۔۔۔تو میں اسے زندہ نہیں چھوڑوں گا ۔۔۔”
ایک لمحے کی لیے شھربانو کانپ کر رہ گئی۔۔
اس لڑکے کی آنکھوں میں ۔۔اسکے لیے نفرت اور حقارت تھی ۔۔۔
اس کی باتوں کے نشتر اس کی روح کو چھلنی کر گئے ۔۔۔
وہ کانپتی آواز سے گویا ہوئی ۔۔۔۔۔
روح زخمی ہوئی ۔۔اسکا سیدھا اثر اس کی آنکھوں پہ ہوا ۔
جہاں سے دو ننھے پانی کے قطرے ۔۔۔رخسار پہ آگئے
بلاوجہ وہ اس لڑکے کو صفائی دینے لگی ۔۔
” دیکھیں مجھے پہلے پتہ نہیں تھا ۔۔۔کینٹین سے کون چیزیں لے کر دیتا ہے ۔۔۔میں سمجھی عنبر اور زویا ۔۔۔چھپا کہ بھیج دیتی ہے ۔۔۔۔تاکہ مجھے شرمندگی ۔۔نہ ہو ۔۔۔لیکن جب “
وہ آگے کچھ کہتی ۔۔۔۔اس سے پہلے اس لڑکے نے اس کی بات کاٹ دی ۔۔۔
” آئی ایم سوری ۔۔بھابھی ۔۔” جیسے ہی اس نے بھابھی کہا ۔۔۔
شھربانو نے غصے سے اسے گھورا ۔
” او سوری ۔۔۔مس ۔۔۔میرا مطلب آپ کو ہرٹ کرنا نہیں تھا ۔
لیکن کل جو سعادت کی حالت کی ہے ان لوگوں نے ۔۔۔مجھ سے برداشت نہیں ہوا ۔۔۔۔
مجھے نہیں لگتا وہ سر پھرے لڑکے آگے اسے نقصان نہیں دیں گے ۔۔
وہ موقع دیکھ کے پھر سادی سے لڑیں گے ۔۔۔۔میں جانتا ہوں
اس میں آپ کا کوئی قصور نہیں ۔۔۔۔پلیز آپ یہ سب سادی کو مت بتائیے گا ۔۔وہ آپ کے معاملے میں بہت حساس ہے “
جو لڑکا پہلے اس پہ غصہ کر رہا تھا ۔۔۔
اب کان پکڑ کر معذرت کر رہا تھا ۔۔
” پلیز پلیز آپ مجھے معاف کر دینا ۔۔۔”
شھربانو اسے اس طرح بچوں کی طرح معافی مانگتے دیکھ کر مسکرا دی ۔۔
” یہ پیسے آپ اپنے دوست کو دے دیجیے گا ۔۔۔۔باقی کا حساب کر دیں میں سب واپس کر دوں گی۔۔۔
” لگتا ہے آپ نے ہمیں معاف نہیں کیا ۔۔۔۔”
وہ لڑکا منہ بنا کہ کھڑا تھا ۔۔۔۔
” نہیں ایسی بات نہیں ہے ۔۔۔میں کسی اجنبی کا احسان نہیں لے سکتی ۔۔۔” ۔
شھربانو اب پورے اعتماد سے کہہ رہی تھی ۔
” آپ اسے دیکھنے نہیں جائیں گی ۔۔۔آپ کے گھر کے نزدیک تو ہے اس کا گھر ۔
شھربانو حیرت سے اب انہیں دیکھ رہی تھی ۔۔۔
” جی میں کیسے ۔۔۔”
دل تو اس کا بھی چاہ رہا تھا ۔
وہ اس شخص کو دیکھے جو اتنے ۔۔۔
دن سے اس کی مدد کر رہا تھا ۔
” آپ کی فیملی تو اسے جانتی ہے ۔۔۔آپ اپنی کسی دوست کے ساتھ آجانا ۔
شھربانو نے مسکرا اسے دیکھا ۔۔
” لیکن ابھی تو آپ کچھ اور کہہ رہے تھے ۔۔
اب کی بار وہ بھی مسکرا کر سر کھجانے لگا
☆☆☆▪▪▪▪▪▪▪▪▪
(شھربانو کی بہن سحر بانو کا رشتہ اس کے دور کے رشتے دار کے گھر ہوا تھا ۔۔
سحربانو کے شوہر محمود اور اس کی ماں بہت لالچی تھے ۔
انہوں نے سحربانو کی شادی کے بعد ہر وقت ۔۔۔۔کوئی نہ کوئی مطالبہ پیش کر دیتے ۔۔۔۔
جہیز بھی ان لوگوں نے بہت زیادہ لیا۔۔۔۔
لیکن ان کے بعد بھی ان کی فرمائشیں ختم ہونے کا نام نہ لیتی
خادم حسین ۔۔ان کے مطالبات پورے کرتے کرتے ۔۔۔قرضوں کے بوجھ تلے دب چکا ۔تھا ۔۔۔۔لیکن سحر بانو کا غصہ کم نہ ہوتا ۔۔۔وہ چاہتی تھی اس کے والدین کسی بھی طرح اس کا گھر بچائیں ۔۔۔
خادم حسین کو تباہ کرنے میں ان کی اپنی بیٹی کا ہاتھ بھی ۔۔تھا ۔۔۔
جو آئے دن پیسے لینے آجاتی ۔
” ماں باپ اپنے بچوں کے لیے نجانے کیا کیا کرتے ہیں ۔۔۔۔اور
ایک آپ لوگ ہو ۔۔ہر وقت شھربانو شھربانو کرتے رہتے ہو ۔۔میں تو جیسے آپ کی کچھ نہیں لگتی ۔۔۔”
وہ شھربانو جیسی خوبصورت نہیں تھی۔۔۔ اس احساس کمتری نے اس کے اندر حسد پیدا کر دیا تھا ۔۔۔۔
وہ شھربانو سے چڑنے لگی تھی ۔۔۔۔
” تم پھر آگئی اب ہمارے پاس کچھ نہیں بچا ۔۔۔۔تمہیں دینے کو ۔۔۔”
ممتاز بیگم اپنی بیٹی کو دیکھ کر کہنے لگی ۔۔
” ہم نے تو شھربانو کے لیے کچھ نہیں چھوڑا ۔۔
جیسے ہی سحر نے شھربانو کا نام سنا وہ بھڑک اٹھی ۔۔
” تو رکھ دیتے کچھ اس کے لیے ۔۔۔۔میں واپس نہیں جائوں گی ۔۔جب تک مجھے پچاس ہزار نہیں دوگے محمود کو پچاس ہزار کی ضرورت ہے ۔۔۔
” تو نہ جائو کچھ نہیں ہمارے پاس ۔۔۔تمہارے بابا ریٹائر ہو چکے ہیں ۔۔۔۔کاروبار بھی اچھا نہیں چل رہا ۔۔۔۔”
سحربانو کا ایک بیٹا بھی تھا۔۔۔
وہ بیٹے کو بھی اپنے ساتھ لے آئی تھی ۔۔
سحر بانو سمجھ گئی تھی ۔۔۔اب دھمکیوں سے کچھ نہیں ہوگا ۔۔۔
واقعی ان کے میکے کے حالات ٹھیک نہیں تھے ۔
کچھ دن رہ کر اسے یہ احساس ہو گیا تھا ۔
تب ہی وہ کچھ نرم پڑی ۔۔
“امی آپ شھربانو کا رشتہ ۔۔۔میرے دیور مظفر۔ سے کر دیں ۔۔
ممتاز بیگم کا ہاتھ اٹھتے اٹھتے رکا ۔۔
جاری ہے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *