Intikam E Mohabbat by Esha Noor NovelR50798 Intikam E Mohabbat by Esha Noor Episode17
No Download Link
253K
35
Rate this Novel
Intikam E Mohabbat by Esha Noor Episode01 Intikam E Mohabbat by Esha Noor Episode02 Intikam E Mohabbat by Esha Noor Episode03 Intikam E Mohabbat by Esha Noor Episode04 Intikam E Mohabbat by Esha Noor Episode05 Intikam E Mohabbat by Esha Noor Episode06 Intikam E Mohabbat by Esha Noor Episode07 Intikam E Mohabbat by Esha Noor Episode08 Intikam E Mohabbat by Esha Noor Episode09 Intikam E Mohabbat by Esha Noor Episode10 Intikam E Mohabbat by Esha Noor Episode11 Intikam E Mohabbat by Esha Noor Episode12 Intikam E Mohabbat by Esha Noor Episode13 Intikam E Mohabbat by Esha Noor Episode14 Intikam E Mohabbat by Esha Noor Episode15 Intikam E Mohabbat by Esha Noor Episode16 Intikam E Mohabbat by Esha Noor Episode17 (Watching)Intikam E Mohabbat by Esha Noor Episode18 Intikam E Mohabbat by Esha Noor Episode19 Intikam E Mohabbat by Esha Noor Episode20 Intikam E Mohabbat by Esha Noor Episode21 Intikam E Mohabbat by Esha Noor Episode22 Intikam E Mohabbat by Esha Noor Episode23 Intikam E Mohabbat by Esha Noor Episode24 Intikam E Mohabbat by Esha Noor Episode25 Intikam E Mohabbat by Esha Noor Episode26 Intikam E Mohabbat by Esha Noor Episode27 Intikam E Mohabbat by Esha Noor Episode28 Intikam E Mohabbat by Esha Noor Episode29 Intikam E Mohabbat by Esha Noor Episode30 Intikam E Mohabbat by Esha Noor Episode31 Intikam E Mohabbat by Esha Noor Episode32 Intikam E Mohabbat by Esha Noor Episode33 Intikam E Mohabbat by Esha Noor Episode34 Intikam E Mohabbat by Esha Noor Last Episode
Intikam E Mohabbat by Esha Noor Episode17
Intikam E Mohabbat by Esha Noor Episode17
اسے ہر طرف دیکھنے کے بعد بھی کوئی قلم۔کاغذ نظر نہیں آیا ۔۔
بنگلے نما کاٹیج میں تین کمرے تھے ۔۔۔۔ایک کمرہ مقفل تھا دو ہی کھلے تھے ۔۔
۔ان میں ایک اس کے لیے ایک اس لڑکی کے لیے۔تھا ۔۔۔ اسے زیادہ تر لائونج میں ہی رہنے کی ہدایت کی گئی تھی ۔۔۔۔
اسے کاغذ تو نہیں لیکن پلے کارڈز نظر آگئے تھے ۔
اس نے موبائل پے ہی ٹیکسٹ کرنے کا سوچا
۔۔” لیکن موبائل اگر اسے دیا تو ان لوگوں کو شک ہوجائے گا ۔۔
رات کا پچھلا پہر تھا نیند دونوں کی آنکھوں سے کوسوں دور تھی ۔۔۔۔
وہ اب بیٹھ کہ آگے کا لائحہ عمل سوچنے لگا ۔۔جو بھی کرنا تھا تھوڑا جلدی کرنا تھا ۔۔۔برف باری کے بعد سارے راستے بند ہوجانے تھے ۔۔۔
☆☆◇◇◇◇◇♡◇◇◇◇◇◇
ماضی
وہ دو دن کے بعد اپنے گھر میں موجود تھی ۔۔۔۔
لیکن ساس کے تیور دیکھ کر وہ سمجھ گئی تھی ۔۔۔اس کی پیٹھ پیچھے اس کے کان بھرے گئے ہیں ۔۔
” لے آئے اپنی بیگم ۔!!!۔۔میں نے جو کچھ کہا اس پہ تو تمہں یقین آیا نہیں ہوگا ۔۔۔۔تجھے ایک دن سارے ثبوت لا کر دکھائوں گی پھر تو میری بات کا یقین ضرور کرے گا ۔۔۔
وہ غصہ کرتی اپنے کمرے کی جانب جا چکی تھی
وہ بے یقینی سے راحیل کی طرف دیکھنے لگی ۔۔
راحیل اس کی جانب نہیں دیکھ رہا تھا ۔۔۔۔۔وہ گردن جھکائے کسی سوچ میں گم تھا ۔۔۔۔
وہ تیز تیز قدم اٹھاتی اپنے کمرے کی جانب چلی گئی ۔۔۔
لیکن راحیل کمرے میں نہیں آیا ۔۔۔۔
اس کے دل میں برے برے خدشات سر اٹھانے لگے ۔۔۔۔۔۔
اسے گھر آئے ایک ہفتہ گذر چکا تھا ۔۔۔
راحیل پورا دن گھر سے باہر رہتا ۔۔۔
راحیل کا رویہ اسے کھٹکنے لگا ۔۔۔۔وہ ہر وقت اس سے کھنچا کھنچا رہنے لگا ۔۔۔بات کرنا بھی کم کر دی تھی ۔۔
” راحیل ” سامنے سے بس ہمم کی آواز آئی ۔۔۔
” کیا ہوا ہے تم اتنے الجھے پوئے کیوں ہو ۔۔۔ٹھیک طرح سے بات تک نہیں کرتے ۔۔۔مجھے سے کوئی غلطی ہوئی ہے۔۔۔۔
ناراض ہو ہم سے ۔۔۔۔؟؟؟”
لیکن سامنے سے بس ایک مختصر سا جواب آیا ۔۔۔
” سو جائو مجھے نیند آرہی ہے ۔۔۔”
شھربانو کی چھٹی حس اسے کسی خطرے سے آگاہ کر رہی تھی ۔۔۔
☆☆☆☆♡◇◇◇◇♡◇♡◇♡
حال
” آپی مطھر بھائی سے رابطہ ہوا۔۔۔۔؟؟
ردا اور ھما دونوں ربیعہ کے پاس برا جمان تھی ۔۔
صبیحہ بی بی کو ہاسپیٹل سے ڈسچارج کر دیا گیا ۔۔تھا ۔
وہ ہر وقت مطھر اور مدثر کا ورد کرتی رہتی ۔۔
مظفر بھی باقاعدہ ورزش اور علاج سے بہتر ہونے لگا ۔۔
مدثر کا علاج بھی شروع ہو چکا تھا ۔۔۔گھر کے حالات بھی کافی بدل چکے تھے ۔۔۔۔
بلڈنگ میں سیکیورٹی کافی سخت تھی ۔۔۔
۔کوئی بھی اجنبی شخص بلڈنگ میں کسی سے ملنے آتا پہلے اسے اطلاع دی جاتی۔۔۔
اسے اجازت کے بعد ہی اسے داخل ہونے دیے جاتا ۔انتقام محبت 47
” آپی کوئی زویا ہم سے ملنے آئی ہے ۔۔۔”
ردا سوالیہ نظروں سے ربیعہ کو دیکھنے لگی ۔۔۔۔۔
” زویا ۔۔۔۔؟؟؟!!! یہ کون ہے ہم تو کسی زویا کو نہیں جانتے ۔۔”
ربیعہ کو یہ نام کچھ سنا سنا تو لگ رہا تھا پر کہاں سنا تھا وہ یاد نہیں آرہا تھا ۔۔۔
” آپی گارڈ کہتے ہیں ۔۔۔اس عورت کو مظفر سے ملنا ہے ۔۔۔۔آپی جلدی بتائیں ۔۔۔سیکیورٹی گارڈ غصہ ہو رہے ہیں۔۔۔
” چلو بلالو دیکھتے ہیں کون عورت ہے ۔۔۔۔”
کچھ دیر میں ہی وہ ان کے درمیان موجود تھی ۔۔۔
کافی پروقار لیڈی تھی ۔۔۔۔اچھے کھاتے پیتے گھر کی لگ رہی تھی ۔۔۔
وہ عورت آتے ہی چاروں اطراف دیکھنے لگی ۔۔۔۔جیسے اسی کی نظر کسی چیز کی متلاشی ہوں ۔۔۔
” مظفر کہاں ہے ۔۔۔۔”
اس کی بات پورئ ہونے سے پہلے ہی ھما ویل چیئر دھکیلتی
ڈرائنگ روم میں آچکی تھی۔۔۔۔۔
وہ عورت اس کی حالت دیکھ کر جیسے اچھل پڑی ۔۔۔
” یہ کیا ہوگیا ہے آپ کو ۔۔۔۔”
” بیٹھ جائو ۔۔۔زویا یہ بہت لمبی کہانی ہے ۔۔۔۔”
اس نے ہاتھ کے اشارے سے اسے صوفے پر بیٹھنے کا کہا ۔۔۔
” آپ کو اتنے دن بعد ہماری یاد کیسے آگئی ۔
” کیا ہم اکیلے میں بات کر سکتے ہیں ۔۔۔۔” اس عورت نے
ایک نظر ربیعہ اور ھما کو دیکھا ۔۔۔
ھما اٹھ کر چلی گئی ۔۔۔پر وہ اس جگہ سے ہلی تک نہ تھی ۔۔
” آپ ربیعہ کے سامنے بات کر سکتی ہیں ۔۔۔۔اب یہی ہمارے گھر کا بڑا بیٹا ہے ۔۔۔۔”
اس عورت کے لبوں پہ کچھ پل کے لیے ہلکی مسکراہٹ آئی ۔۔
” لیکن مظفر بھائی ۔۔۔کچھ باتیں ۔۔اپنے بچوں سے بھی چھپانی پڑتی ہیں ۔۔۔چلو خیر آپ کی مرضی ۔۔۔۔۔مجھے بانو ملی تھی ۔۔۔آج پورے چھ سال بعد ۔۔”
ربیعہ دیکھ رہی تھی ۔۔۔بانو کے نام پر اس کے والد کے آنکھوں میں ہلکی چمک آکر مدھم ہوئی ۔۔۔
” اس نے تمہارا پوچھا تھا۔۔۔۔۔خیر میں زیادہ تمہید نہیں باندھ سکتی مدے کی بات پر آتی ہوں ۔۔۔۔ “
ڈرائنگ روم میں بس اس عورت کی ہی ہلکی آواز گونج رہی ۔ تھی ۔۔باقی ہستیاں بلکل خاموش تھی ۔۔
” آپ لوگوں کی جان کو خطرہ ہے ۔
◇◇◇◇◇◇◇◇◇◇◇
( مظفر جان کے خطرے کی بات سن کے کچھ سال پیچھے چلا گیا ۔۔۔۔۔
اسے ریسٹورنٹ میں ایک جانی پہچانی ہستی نظر آئی ۔۔۔
وہ چہرے پہ مسکراہٹ لیے اس کی جانب لپکا ۔۔
” اسلام وعلیکم بانو کیسی ہو آپ ۔۔۔”
شھربانو کو دیکھ کر اسے جتنی خوشی ہوئی ۔۔۔سامنے والی شخصیت اتنی ہی پریشان ہوئی تھی ۔۔۔شاید اس ہستی کے لیے اس کا سامنے آنا ۔۔۔تکلیف کا باعث بنا تھا ۔۔۔
” وعلیکم اسلام ۔۔۔۔آپ یہاں ۔۔
اس کی پیشانی پر پسینے کی چند بوندیں نمودار ہوئیں ۔۔
” لگتا ہے آپ کوہمارا اس طرح آنا اچھا نہیں لگا ۔۔۔”
وہ جانے کے لیے پلٹا ہی تھا ۔۔۔۔۔ایک آواز نے اسے روک لیا ۔۔
” ارے مظفر کہاں ۔۔بس شھربانو سے مل کر ہی چل دیے ۔۔۔”
وہ پلٹا تو سعادت بانہیں پھیلائے کھڑا تھا ۔۔۔
سعادت اسے ایک نظر نہ بھاتا تھا ۔۔۔
اسی کی وجہ سے دوسری بار بانو۔ اسے نہیں ملی تھی ۔۔۔
اور جو سعادت کے کارنامے تھے ۔۔۔وہ سب جانتے تھے ۔۔۔
کرپٹ ترین انسان ۔
اسے دیکھ کر نا چاہتے ہوئے بھی ۔۔۔چہرے پر ناپسندیدگی کے۔ آثار نمودار ہو چکے تھے ۔۔۔
” ملنا کیا تھا ۔۔۔۔بانو ن۔۔۔ن ظ۔۔۔” اس کا نظر والا لفظ اس کے منہ میں ہی ٹوٹ پھوٹ گیا ۔۔
” مسز سعادت ملک “
سامنے سے سعادت نے دانت پیستے ہوئے کہا
اسے عجیب تو لگا ۔۔۔۔لیکن اس شخص سے کچھ بعید نہ تھا ۔۔۔
مظفر بھی ہٹنے والوں میں سے نہ تھا ۔۔۔۔
” ہمارے لیے تو یہ بانو ہی ہے ۔۔۔۔ اوروں کے لیے ہوگی وہ مسز ۔۔۔”
وہ طنزیہ مسکراہٹ ان کی طرف اچھال کر چل دیا ۔۔۔
پر اسے کیا پتا تھا ۔۔۔اتنی سی بات اس کے لیے کیا مصیبت لانے والی ہے ۔۔۔۔
اس بات کو ایک دن ہی گذرا تھا۔۔۔۔۔
وہ گھر سے باہر نکلا تو سامنے گاڑی کے پاس کھڑی اسے شھربانو نظر آگئی ۔۔۔۔۔
وہ تیز تیز قدم اٹھاتا ۔۔۔اس کی جانب لپکا ۔۔۔
” ارے آپ یہاں ۔۔۔۔”
وہ کچھ اور کہتا ۔۔۔شھربانو نے اسے بازو سے پکڑکر گاڑی میں بٹھا دیا ۔۔
اس کے لیے یہ سب حیرت کا باعث تھا ۔۔۔۔شھربانو اور اس کی کلائی تھامے یہ تو اس کا خواب ہی رہ گیا تھا ۔۔۔
اب اتنے سال بعد ۔۔۔۔
اس طرح ۔۔۔۔” مجھے تم سے ضروری بات کرنی ہے ۔۔۔” یہ کہہ کر وہ گاڑی اسٹارٹ کر چکی تھی ۔۔۔
اس کہ منہ میں تو جیسے زبان ہی نہ تھی ۔۔۔
اس نے بلکل ایک انجان اور ویران جگہ پر گاڑی روکی ۔
وہ گاڑی بھی ایسے چلا رہی تھی ۔۔۔
جیسے کوئی اسے آکے پکڑ لے گا ۔۔۔۔۔
” سنو مظفر اس دن تم نے سعادت سے ایسے بات کر کے اپنی لیے خطرہ مول لے لیا ۔۔۔وہ میری وجہ سے ۔۔۔کتنا جذباتی ہے ۔۔
وہ اس کی بات کاٹ کے گویا ہوا ۔۔۔۔
” بانو تم اتنی گھبرائی ہوئی کیوں ۔۔۔ہو ۔۔۔۔ویسے میں نے ایسا کیا کہہ دیا تھا ۔۔۔۔بس بانو ہی کہا تھا ۔۔۔اب تمہیں بانو کہنے کا حق بھی تم مجھ سے چھین لینا چاہتی ہو ۔۔۔”
نجانے اتنے سالوں بعد ہی ۔۔۔اس بات پہ اسے اتنا درد کیوں ہوا تھا ۔۔۔
◇◇◇◇◇◇◇◇◇◇
” مظفر میں نے کوئی حق تمہیں دیا ہی کب تھا ۔۔۔۔خیر چھوڑو پرانی باتوں کو ۔۔۔۔”
اس کی …اس بات پر آج بھی اتنا ہی درد ہوا تھا جتنا پہلے دن محسوس ہوا تھا ۔۔۔۔
” جانتا ہوں ۔۔۔میں تمہاری پسند کبھی نہیں تھا ۔۔۔لیکن آپ کی پسند کا معیار تو ہم دیکھ چکے ہیں ۔۔۔” اس کے لبوں پر طنزیہ مسکراہٹ آئی ۔۔
وہ شاید شھربانو کو بہت بری لگی تھی ۔۔۔
” مذاق چھوڑو ۔۔۔اور میری بات غور سے سنو ۔۔۔
مظفر تو فل مذاق میں موڈ میں تھا ۔
” جی حکم کریں آقا ۔۔۔۔”
” پلیز تم یہاں سے کہیں اور چلے جائو۔۔۔۔۔سعادت آپ کو نہیں چھوڑے گا ۔
اس کی نگاہوں میں جہاں بھر کی حیرت سمٹ آئی۔۔
” جان کو خطرہ ۔۔؟؟!!۔۔۔ایسا کیا کر دیا ہم نے ۔۔آپ کے شوہر نامدار کو ۔۔۔۔ویسے بھی زندگی موت اس ہستی کے ہاتھ میں ہے ۔۔
اس نے انگلی آسمان کی طرف کی ۔۔۔
” مظفر خدارا میری بات کو سنجیدگی سے سوچو ۔۔۔۔۔شاید وقت بہت کم ہو ۔۔آپ کہیں چلے جائیں ۔۔۔کچھ دن کے لیے ہی سہی ۔۔
وہ اس عورت کی آواز پر ماضی سے واپس آیا ۔۔
◇◇◇◇◇◇◇◇◇◇
” آپ لوگوں کی جان کو خطرہ ہے ۔۔۔
۔ ۔۔اس لیے آپ لوگوں کو یہ جگہ چھوڑنے پڑے گی ۔۔۔۔۔۔
آپ پریشان نہ ہو جگہ کا بندوبست میں نے کر دیا ہے ۔۔۔۔وہاں ہر چیزموجود ہے آپ بس اپنی ضرورت کی چیزیں سمیٹیں ۔۔۔۔میرا ڈرائیور ۔۔۔کچھ دیر میں آپ کو لینے آئے گا ۔۔۔
جابر نام ہے اس کا ۔۔۔۔” زویا نے موبائل اس کی جانب کیا ۔۔۔
اور اس ڈرائیور کی تصویر اسے دکھائی ۔۔۔۔
” اب میں چلتی ہوں ۔۔۔۔محتاط رہیے گا ۔۔۔۔جب تک میرا ڈرائیور نہ آئے آپ کہیں مت جائیے گا ۔۔۔”
وہ دونوں جو سانس روکے اس کی بات سن رہے تھے
ایک دم سے کچھ متحرک ہوئے ۔۔۔” آنٹی آپ چائے تو پی کر جائیں ۔۔۔آپ نے اکیلے میں بات کرنے کا کہا تھا ۔۔۔تو ہم نے ھما کو روک دیا تھا ۔۔۔”
وہ کچھ شرمندگی سے گویا ہوئی ۔۔۔
” کوئی بات نہیں بیٹا ۔۔۔ویسے بھی آپ تکلفات کو چھوڑیں ۔۔۔اور جلدی سے سامان سمیٹے ۔۔۔۔وقت بہت کم ہے ۔۔آپ کی امی کو۔۔۔۔ میں لے جاتی ہوں اس کا روٹین چیک اپ۔۔۔اب ہمارے ذمے اب جلدی کرو بیٹا ۔۔۔۔اپنی امی کی کچھ ضروری چیزیں پیک کر لو ۔۔ہم دونوں گاڑی کی جانب جاتے ہیں ۔۔۔
ڈرائیور بیگ لینے آجائے گا ۔۔”
ربیعہ نے کچھ کہنا چاہا ۔۔۔
مظفر نے روک دیا ۔۔۔۔مظفر کی بامعنی نظروں نے ۔۔۔اسے خاموش کر دیا ۔۔۔
صبیحہ بی بی نے جاتے وقت کافی مزاحمت کی لیکن اسے قائل کر لیا گیا ۔۔
اور وہی وقت کی ضرورت تھی ۔۔۔ماضی میں کی گئی ۔۔۔غلطی وہ واپس دہرانا نہیں چاہتا تھا ۔۔۔۔
کیوں کس لیے ۔۔۔یہ سب پوچھنے کا وقت شاید ان لوگوں کے پاس نہیں تھا ۔۔۔۔
مظفر نے سب کچھ جلدی سمیٹنے کا کہا تھا ۔۔۔۔
لیکن اس کی سوچ ایک جگہ آکر رک گئی ۔
اس کے والد نے اتنی جلدی ان کی بات کا یقین کیسے کر لیا ۔۔۔
وہ سب جلدی جلدی میں اپنا سامان پیک کرنے لگی ۔۔۔
والدہ کا بیگ وہ پیک کر کے دے چکی تھی ۔۔۔
سوچوں میں الجھی۔۔۔اسے اپنی زندگی ایک پہیلی لگنے لگی ۔
۔جس کا کوئی سرا اس کے ہاتھ نہیں آرہا تھا ۔۔۔۔
کیا سب کی زندگیاں یوں الجھی ہوتی ہیں ۔۔۔؟؟؟؟
اس کے خود سے پوچھے سوالوں کی گونج کسی پہاڑ سے ٹکرا کے واپس آجاتی ۔۔۔۔
جس کا جواب اسے کسی نے نہیں دینا تھا
ان سوالوں کے جواب اسے خود ڈھونڈنے تھے ۔۔۔۔
☆☆☆☆♧♧♧♧♧♧♧♧
اسے اس زندان میں تین دن گذر چکے تھے ۔۔۔۔
وہ لڑکا اس سے رابطہ کرنے کے لیے کافی مرتبہ کوشش کر چکا تھا ۔۔
لیکن اس کی سرد مہری نے اسے پیچھے ہٹنے پر مجبور کر دیا ۔۔۔۔
اس نے صاف صاف کہہ دیا تھا اگر اس نے اس سے بات کرنے کی کوشش بھی کی تو وہ اس وقت کا کھانا نہیں کھائے گی ۔۔۔
کھانے حد درجہ بد مزہ تھے ۔۔۔۔
لیکن پیٹ کا جھنم تو بھرنا تھا ۔۔۔۔۔
اس نے غسل خانے کی روشن دان سے کئی مرتبہ باہر کا جائزہ لیا ۔۔۔
لیکن وہاں زمین تو جیسے تھی ہی نہیں ۔۔۔۔۔وہ گھر کسی پہاڑی علاقے کے ایسے سرے پہ بنا تھا جس کی دوسری طرف گہری کھائی تھی ۔۔
اور سامنے کا حصہ بلکل بند ۔۔
عجیب زندان خانہ تھا ۔۔۔اگر وہ قید نہ ہوتی تو دوسری طرف کا منظر نہایت ہی دلنشین تھا ۔۔۔
لیکن پنجرہ چاہے سونے کا ہو۔۔۔۔ ہوتا تو پنجرہ ہے ۔۔۔۔
وہ اسے سامنے سے آتا نظر آیا ۔۔۔اس دیوار کے اس پار ۔۔۔۔
اس کی آواز اب اس کے پتھروں سے بنے کمرے میں گونج رہی تھی ۔۔۔
” جب ساتھ ہی رہنا ہے تو کیوں نہ دوستی کر لیں ۔۔۔وقت تو اچھا گزرے گا ۔۔۔۔”
وہ غصے میں اسے گھورنے لگی ۔۔۔۔
اسے پورئ دنیا میں بس اسی شکل سے حد درجہ نفرت تھی ۔۔۔
تیمور سے نفرت تو اس سے بہت کم تھی ۔۔۔
نفرت کی انتہا مطھر پے ختم تھی ۔۔۔
☆☆☆☆☆☆◇◇◇◇◇◇◇
” کیا کروں میں اس کا ۔۔۔۔۔۔یہ تو مجھ سے بات کرنے تک کی روا نہیں ۔۔۔کیسے گزرے گا یہ وقت کیسے اسے سمجھائوں ۔۔۔”
وہ دل۔ہی دل میں سوچنے لگا ۔۔۔
اسے کچن میں ایک شیف بک مل گیا تھا ۔۔۔جس سے وہ ہر وقت کچھ بنانے کی ترکیبیں۔دیکھتا اور اسے بنانے کی کوشش میں۔ لگا رہتا ۔۔۔۔
سھل پے کبھی غصہ کبھی پیار آنے لگتا۔۔۔وہ تھی ہی ایسی ۔۔
“بات سنو” وہ اسی کھڑکی کے پاس کھڑا تھا جس سے اسے کھانا دیتا تھا ۔۔۔
وہ سامنے سے خاموش ہی رہی ۔۔۔
” پلے کارڈز کھیلے ۔یہ تو پکا تجھے کھیلنے آتے ہوں گے ۔۔۔”
سامنے سے خاموشی چھائی رہی ۔۔۔۔
اس نے پلے۔ کارڈز بھی اس ٹرے میں رکھ دیے تھے جو سرک کر کھانا اندر لے جاتی ۔۔۔
اب وہ سامنے شیشے کے سامنے آکر بیٹھ گیا ۔۔۔
اسے ایک واکی ٹاکی دی گئی تھی ۔۔جس سے بس وہی رابطہ کرتے تھے ۔۔۔
ٹی وی اور ڈش کی سہولت موجود تھی ۔
اس کا موبائل اس کے پاس تھا ۔۔۔لیکن بغیر سم کارڈ کے ۔۔۔
اس نے کچھ دیر بعد کھانے کے ٹرے اٹھائی تھی ۔۔
اس کی نظر سامنے والی ہستی پر جمی تھی ۔۔
وہ اس کے چہرے کے تاثرات دیکھنا چاہتا تھا ۔۔۔
لیکن وہاں کوئی تاثر نہ تھا ۔۔
وہ بیزار ہو کے اپنے کمرے کی جانب چلا گیا ۔۔۔
” خود کو بڑا ہوشیار سمجھتی ہے عقل نام کی کوئی چیز نہیں ۔۔۔” وہ خود سے ہی ہمکلام تھا ۔۔۔
” کچھ نہیں ہوسکتا اس کا ۔۔” ۔۔
نجانے کیوں اس وقت اسے وہاں گھٹن محسوس ہونے لگی ۔۔۔
وہ صوفے سے اٹھ کر باہر کی جانب گیا ۔۔۔
وہ اس بھوت بنگلے سے باہر جانا چاہتا تھا ۔۔۔
چوتھا دن تھا اسے اس بنگلے میں بند تھے ۔۔۔۔
وہ باہر کی جانب نکلا اس نے کوڈ کی جگہ اپنے ہاتھ کو ٹچ کیا ۔۔۔۔۔فنگر پرنٹ میچ ہونے سے وہ دروازہ سرکنے لگا ۔۔۔
اس کے سامنے کھلا میدان تھا ۔۔۔
لیکن چاروں اطراف پتھروں کی دیواریں تھی ۔۔۔
جیسے وہ ایک قلعے میں بند ہو ۔۔۔
سامنے وہی سرنگ تھی جس سے وہ اندر آیا تھا ۔۔۔۔اس کا رخ اب اسی جانب تھا ۔۔۔۔۔
سرنگ کافی کشادہ تھی وہ اسی راستے سے باہر کی جانب جا رہا تھا ۔۔۔جس راستے سے وہ اندر آیا تھا ۔۔۔
آخرکار سرنگ وہ سرا آگیا ۔۔۔جہاں سے وہ اس سرنگ میں داخل ہوئے تھے ۔۔۔
وہاں وہی پتھر کا بنا دروازہ موجود تھا ۔۔۔۔جب اس نے وہاں اپنا ہاتھ رکھا ۔۔۔۔
تو ہر طرف سے سائرن بجنے لگے ۔۔۔۔
اور سامنے سے نو میچ لکھا آرہا تھا اسے یاد آیا ۔۔۔
یہاں آتے وقت اس گیٹ پر اس شخص نے اس کا ہاتھ نہیں رکھوایا تھا ۔۔۔
اچانک اس کے جیب میں رکھا واکی ٹاکی بجنے لگا ۔۔
اس کی ٹون ک آواز سے وہ چونکا ۔۔۔۔
اس نے اپنا واکی ٹاکی نکال کے کان سے لگایا ۔۔۔آج سے پہلے یہ بلا اس نے کبھی استعمال نہیں کی تھی ۔۔۔۔
” تو یہاں کیا کر رہا ہے بھاگنے کی کوشش ۔۔۔” ایک گرج دار آواز کے ساتھ ایک قہقہ ابھرا ۔۔
” کیوں میں بھی مغوی ہوں کیا جو مجھے بھی بند رکھا گیا ہے ۔۔۔؟
اس کے لہجے میں التجائن شکایت در آئی
سامنے سے ایک اور قہقہہ ابھرا ۔۔۔” یہی سمجھ لو ۔۔۔۔”
” کیا مطلب میں بھی اس بند گھر میں ۔۔۔نہیں نہیں میں تو گھٹن سے مرجائوں گا ۔
” تو پیسے لینے سے پہلے سوچنا تھا ۔۔۔نا ۔۔۔گالی “
اب کی بار سامنے کی آواز میں غصہ در آیا
” آرام سے اندر بیٹھ تیرے جینے مرنے سے ہمیں کوئی سروکار نہیں ۔۔۔۔اس لڑکی کو کچھ نہیں ہونا چاہیے ۔۔۔۔کچھ نہیں مطلب کچھ نہیں ۔۔۔۔سمجھے “
اس شخص نے کچھ نہیں پر ۔۔۔کچھ زیادہ ہی زور دیا ۔۔۔
“واقعی میں ضرورت پورے کرنے کے لیے پیسے لیتے وقت انسان کو سوچنا چاہیے ۔۔۔۔
آگے اسے کرنے کو کیا کام دیا جا رہا ہے ۔۔۔۔مجبوری اور بے بسی ۔۔۔۔میں اس درجے تک گرنا نہیں چاہیے ۔۔”۔۔۔۔
وہ اب خود پہ ہی لعن طعن کرنے لگا اس کا ضمیر اسے جھنجھوڑ رہا تھا ۔۔۔
” اس لڑکی کو ویسے بھی میں کچھ نہیں ہونے دوں گا ۔۔۔۔۔”
ہلکی سی مسکراہٹ اس کے چہرے پہ پھیل گئی ۔۔۔۔۔
☆☆☆☆☆☆☆☆
” نو دن گذر چکے ہیں ۔۔۔۔پولیس اور تمہارے آدمی کیا کر رہے ہیں ۔۔۔”
سعادت اپنے گھر کے گارڈن میں عدالت لگائے کھڑا تھا ۔۔۔
جہاں ایس پی ‘ مینجر اور وہ لوگ بھی جمع تھے ۔۔۔جن کو سعادت نے اس کام پہ لگایا تھا ۔۔۔۔
” تمہارا آئی جی صاحب کیوں تشریف نہیں لائے ۔۔۔”
وہ ایس پی کو دیکھ رہا تھا ۔۔۔۔جو ہر دس سیکنڈ بعد پہلو بدل رہا تھا ۔۔۔
” تمہارے خفیہ ادارے ۔۔۔گھاس چر رہے ہیں ۔۔۔
اس کےنشانے پر ایس پی ہی تھا ۔۔
” سر ۔۔۔وہ “
” فیاض(مینجر ) تم چپ رہو ۔۔۔
اس کی نظر سامنے شال لپیٹی ہستی پر پڑی ۔
جو آہستہ آہستہ قدم بڑھاتی ان کی طرف آرہی تھی ۔
ان گہری خوبصورت آنکھوں ۔۔۔میں ہلکی گلابی ڈورے تیر رہے تھے ۔۔
کھلے سیاہ بال ۔۔۔۔ہوا کے جھونکے سے اڑ رہے تھے ۔۔۔
اس کا غصہ کچھ پل کے لیے کم ہوا ۔۔۔
(” واقعی وہ اداس ہے ۔۔۔؟؟؟ یا یہ سب دکھاوا ہے ۔۔۔” )
اس کی سوچ کچھ پل کے لیے بھٹک کر سامنے کھڑے مجسمے کی طرف گئی ۔۔
جو نظریں گاڑے ان سب کی طرف دیکھ رہی تھی ۔
ایس پی نے اٹھ کر اسے سلام کیا ۔۔۔جو اس نے سر کی ہلکی جنبش سے قبول کیا ۔۔۔
” تم آرام کرتی ۔۔۔میں ان سب کو دیکھ لوں گا ۔۔۔”
☆☆☆☆♡♡◇◇◇◇◇◇
سورج کی کرنیں اس کے چہرے پر پڑی ۔۔۔تو اس کی نیند نے اسے خیرباد کہا ۔۔۔
اس کی خاص نوکرانی نے کھڑکی کے پردے ہٹا دیے تھے ۔۔۔
یہ اس کا ہی حکم تھا ۔۔۔
جیسے ہی سعادت سے کوئی ملنے آئے وہ اسے جگا دے ۔۔۔
اگر کوئی روکے تو بھی وہ نا رکے ۔۔۔
اسی کا حکم بجا لانے کے لیے اس کی نوکرانی حاضر تھی ۔
” میڈم نیچے گارڈن میں سر سے کچھ لوگ ملنے آئے ہیں ۔۔”
وہ اس کے بلکل قریب کھڑی سرگوشی میں کہنے لگی ۔۔۔
اس کی آنکھیں جو ہلکی سی کھلی تھی پوری کھل گئی ۔۔۔
” تم ان پر نظر رکھو میں پانچ منٹ میں آئی ۔۔۔”
اس نے پھرتی سے بستر چھوڑا اور باتھ روم کا رخ کیا ۔۔
اسے اتنی جلدی تھی کہ اس نے چینج تک نہیں کیا ۔۔۔
بالوں میں جلدی سے ہلکا برش پھیرا شال لپیٹی ۔۔اور تیز تیز قدم اٹھاتی گارڈن کی طرف چل دی کوئی نوکرانی ناشتے کا پوچھتی رہی کوئی کپڑے نکالنے کا لیکن ۔۔۔اس نے نا کسی کا سوال سنا نہ جواب دیا ۔۔۔
نا ہی اس کے پاس وقت تھا ۔
باہر واقعی میں عدالت لگی تھی ۔۔۔
سعادت کے الفاظ سے۔۔۔۔ صاف ظاہر تھا ۔۔۔۔
وہ اسے یہاں سے جانے کا کہہ رہا ہے ۔۔۔۔
لیکن وہ جانے کے لیے تو نہیں آئی تھی ۔۔۔
سعادت ان پر برس رہا تھا ۔۔
اور وہ سعادت کی بے بسی اور ہار ہی تو دیکھنے آئی تھی ۔۔۔
اسے اب وہ سب گھریلو اور اچھئ بیوی بننے کے ڈھونگ ختم کرنے تھے ۔۔۔۔
بہت ہو چکا تھا ۔سب ڈرامہ ۔۔۔پانی اب سر سے گذر چکا تھا۔۔۔۔۔اب انتقام لینے کا وقت ۔تھا ۔۔۔لیکن یہ انتقام محبت کا تھا ۔۔۔
(” سعادت تو ہر بار نہیں جیت سکتا ۔۔۔”)
وہ کن انکھیوں سے اسے دیکھ رہی تھی ۔۔۔
جو اپنی ہار پر تلملا رہا تھا ۔۔۔
” تم لوگ جائو شام میں فارم ہاوس میں ملاقات ہوگی ۔۔۔
اپنے آئی جی کو کہنا آجائے ۔۔۔ورنہ جس نے آئی جی کی پوسٹ دلوائی ہے وہ لے بھی سکتا ہے ۔۔۔۔بات تو سمجھ آگئی ہوگی ۔۔۔”
وہ ایس پی سے مخاطب تھا ۔۔۔پر سنا وہ سب اسے ہی رہا تھا ۔۔۔
” آپ اپنی میٹنگ جاری رکھیں ۔۔۔۔میں بھی تو سنو میری بیٹی کے اغوا کے معاملے میں کتنی پیش رفت ہوئی ہے ۔۔۔
سعادت اسے غصے سے گھورنے لگا ۔۔۔
اور وہ اس کی اس گھوری پر ۔۔۔دل سے مطمئن تھی ۔۔۔
(” سعادت ۔۔۔اب کی بار ہار بس ہار ۔۔۔”) ۔۔۔۔
با معنی نظروں سے سعادت کو دیکھا ۔۔۔
تو اس نے نظریں پھیر لی ۔۔۔
(” بہت بار چھین چکے مجھ سے میرے پیارے ۔۔۔پر اب نہیں ۔۔۔”)
میٹنگ برخاست ہو چکی تھی ۔۔
سعادت نے غصے میں اپنا کوٹ اٹھایا اور گاڑی کا رخ کیا ۔۔
شھربانو کے ہونٹوں پر ہلکی سی مسکراہٹ پھیل گئی ۔۔۔
سعادت کے ڈرائیور نے گاڑی کا گیٹ کھولا ۔۔
اس نے بیٹھتے ہوئے ۔۔۔پھر سے ایک نظر اس کی طرف دیکھا ۔۔
ایک طنزیہ مسکراہٹ اس کے لبوں پر پھیلی ۔۔۔ایک طنز بھری نظر سے اسے دیکھا ۔۔۔
سعادت کے چہرے پر کئی رنگ آئے اور چلے گئے ۔۔۔
وہ بھی رخ پھیر کر اندر چلی گئی۔۔۔
اب وہ ان سب میڈ کو ان کے سوالوں کے جواب دے رہی تھی ۔۔۔۔ان کے ہیڈ میڈ ان سب کو یہ کام جلدی کرنے کا کہہ رہی تھی ۔۔
سعادت کے ساتھ جنگ میں اسے بھی تیار رہنا تھا ۔۔۔۔اس کا ہر دائو اس پر الٹنا جو تھا ۔۔
وہ فریش ہونے کے بعد آئینے کے سامنے بیٹھی ۔۔۔خود سے مخاطب تھی ۔۔
آج اس کا رخ عنبر کے گھر کی طرف تھا ۔۔۔جہاں اس نے زویا کو پہلے ہی پہنچنے کا کہہ دیا تھا
” سوری زویا ۔۔۔میں تمہیں تکلیف دے رہی ہوں ۔۔۔”
وہ پھر خود کا عکس آئینے میں دیکھ کر مسکرائی ۔۔۔
” محبت اور انتقام میں سب کچھ جائز ہے ۔۔۔”
وہ تیز تیز قدم اٹھاتی ۔۔کمرے سے باہر نکل گئی ۔۔
☆☆☆☆☆◇◇◇◇◇◇◇◇
وہ کانچ کی دیوار کے پاس آئی ۔۔۔اسے مطھر کہیں نظر نہیں آرہا تھا ۔۔۔۔
” شاید دوسرے کمرے میں ہو ۔۔۔۔لیکن یہ تو اس کے سونے کا ٹائم نہیں ۔۔۔”
اسے دو گھنٹے سے مطھر نظر نہیں آیا تو وہ گھبرا گئی ۔۔۔
نفرت کتنی بھی شدید تھی ۔۔۔پر اس سونے کے پنجرے میں اکیلے رہنے کا سوچتے ہی انسان کے رونگٹے کھڑے ہو جاتے
وہ اب کانچ کی دیوار کے۔ نزدیک ہو کر کھڑی تھی ۔۔۔اس کی نظریں اس شخص کی متلاشی تھی ۔۔
جس سے کہنے کو اسے سخت نفرت تھی۔۔۔۔
” کیا وہ مجھے چھوڑ کر چلا گیا اس زندان میں ۔۔۔۔”
وہ خود سے ہی ہمکلام تھی ۔۔
اسے اپنی سانسیں رکتی محسوس ہوئی ۔۔۔
سوچیں تھکنے لگی ۔۔۔۔
گھبراہٹ بڑھنے لگی ۔۔۔” نہیں وہ مجھے چھوڑ کے نہیں جا سکتا ۔۔۔
وہ اپنے دل کو تسلی دینے لگی کئی طرح کے خدشات اس کے دل میں سر اٹھانے لگے ۔۔۔
دل اور دماغ کی جنگ چھڑ چکی تھی ۔۔۔
جاری ہے
