Intikam E Mohabbat by Esha Noor NovelR50798 Intikam E Mohabbat by Esha Noor Episode16
No Download Link
253K
35
Rate this Novel
Intikam E Mohabbat by Esha Noor Episode01 Intikam E Mohabbat by Esha Noor Episode02 Intikam E Mohabbat by Esha Noor Episode03 Intikam E Mohabbat by Esha Noor Episode04 Intikam E Mohabbat by Esha Noor Episode05 Intikam E Mohabbat by Esha Noor Episode06 Intikam E Mohabbat by Esha Noor Episode07 Intikam E Mohabbat by Esha Noor Episode08 Intikam E Mohabbat by Esha Noor Episode09 Intikam E Mohabbat by Esha Noor Episode10 Intikam E Mohabbat by Esha Noor Episode11 Intikam E Mohabbat by Esha Noor Episode12 Intikam E Mohabbat by Esha Noor Episode13 Intikam E Mohabbat by Esha Noor Episode14 Intikam E Mohabbat by Esha Noor Episode15 Intikam E Mohabbat by Esha Noor Episode16 (Watching)Intikam E Mohabbat by Esha Noor Episode17 Intikam E Mohabbat by Esha Noor Episode18 Intikam E Mohabbat by Esha Noor Episode19 Intikam E Mohabbat by Esha Noor Episode20 Intikam E Mohabbat by Esha Noor Episode21 Intikam E Mohabbat by Esha Noor Episode22 Intikam E Mohabbat by Esha Noor Episode23 Intikam E Mohabbat by Esha Noor Episode24 Intikam E Mohabbat by Esha Noor Episode25 Intikam E Mohabbat by Esha Noor Episode26 Intikam E Mohabbat by Esha Noor Episode27 Intikam E Mohabbat by Esha Noor Episode28 Intikam E Mohabbat by Esha Noor Episode29 Intikam E Mohabbat by Esha Noor Episode30 Intikam E Mohabbat by Esha Noor Episode31 Intikam E Mohabbat by Esha Noor Episode32 Intikam E Mohabbat by Esha Noor Episode33 Intikam E Mohabbat by Esha Noor Episode34 Intikam E Mohabbat by Esha Noor Last Episode
Intikam E Mohabbat by Esha Noor Episode16
Intikam E Mohabbat by Esha Noor Episode16
راحیل دو دن کا کہہ جا چکا تھا ۔
سعادت کی باتوں کی بازگشت ان کے آس پاس گونج رہی تھی۔۔۔۔
” سادی مجھ سے محبت کے اتنے بڑے دعوے اور اب بس نفرت ۔
تصور میں سعادت کی تصویر تھی ۔۔۔جس سے وہ محو گفتگو تھی۔۔
☆☆☆☆♡◇◇◇◇◇
اس کا ضبط جواب دے چکا تھا ۔۔۔۔
غصے اور بیوفائی کی آگ اسے جھلسا رہی تھی ۔۔
” محبت ۔۔۔۔بکواس ہے یہ سب ۔۔۔۔چھوڑو گا نہیں تجھے میں بنت خادم حسین ۔۔
۔برباد کر دیا تم نے سادی کو ۔۔۔
مر گیا سادی ۔۔۔اسی درخت کے نیچے مدفن ہے ۔۔۔یہ ایک بھٹکتی بدروح ۔۔۔جو اس دنیا سے بدلہ لینے آئی ہے ۔۔۔” وہ پاگلوں اور جنونیوں کی طرح قہقہے لگانے لگا ۔۔
” یہ ایک انتقام ہے ۔۔محبت میں بیوفائی کا انتقام ۔۔۔۔بیوفائی کو مجبوری کا نام دینے والی بنت خادم حسین تم ۔۔ناک رگڑتی ہوئی آئو گی
سعادت ملک کے پاس ۔
کچھ نہ بچا تھا اس کے پاس ۔۔۔نہ وہ اس دن گاوں جاتا ۔۔۔
نہ ہی ان کی سوئی ہوئی دشمنی پھر جاگتی ۔۔۔نہ
اس دن سے پھر ان کی بربادی کی داستاں شروع ہوئی ۔۔
جبار ملک جتنا بھی مظبوط بنتا آخر کو ایک باپ تھا ۔۔۔
اپنے جوان پوتے کی لاش دیکھ کر ۔۔۔
اس پہ فالج کا اٹیک ہوا ۔۔
جس سے وہ اپاہج ہو کر رہ گیا ۔۔۔
لیکن وہ یہ سوچ کر واپس آیا کوئی ہے جو اس کے زخموں
پر مرہم رکھے گا وہ اس کے لیے تو گاوں گیا تھا ۔۔
وہ اس کے ہر درد کو اپنے دامن میں سمیٹ لے گی ۔۔۔
لیکن جب مسیحا قاتل بن جائے تو درد کی دوا کون کرے گا ۔
وہ زخمی شیر بن گیا ۔۔
جو ہر کسی کو چیر پھاڑ کہ رکھ دیتا ہے ۔۔۔
اس نے اسی دن جا کہ سائیں داد کے لوگ پر اندھا دھند فائرنگ کر دی ۔
وہ ڈاکووں کے ساتھ مل گیا ۔۔۔
بڑے بڑے ۔۔سفید پوش ڈاکو اسے سے آن ملے ۔۔۔
وہ ایک سال تک روپوش رہا ۔۔۔
سب کیس ختم ہو چکے تھے ۔۔۔اب وہ ایک نئی شخصیت بن کے ابھرا ۔
سیاست دانوں کا مہرہ ۔۔۔۔
کام کے بدلے پیسے ۔۔۔لیکن وہ صرف پیسے نہیں لے سکتا تھا ان سب کی کمزوری ضرور اپنے پاس رکھتا ۔۔۔
جو ان بڑے بڑے مگر مچھوں کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کر دیتی ۔
اس نے شھربانو سے لاکھ نفرت کرنی چاہی ۔۔۔پر کوئی اور اسے چھو لے ۔۔۔وہ کہاں برداشت کر پاتا ۔۔۔
☆☆☆☆◇◇◇◇◇◇◇◇◇◇◇◇
” کیا ہو گیاہے تمہیں سعادت کو دیکھ کر
ممتاز بیگم اس کے فق ہوتے چہرے کو دیکھ رہی تھی ۔۔
” امی آپ اسے کیوں لائی تھی ۔
۔۔آپ جانتی ہے میں نے کتنی مشکل سے سسرال میں اپنی جگہ بنائی ہے میں نہیں چاہتی کسی کوبھی کبھی میرے ماضی کی بھنک پڑے ۔۔۔
۔آپ نے سعادت کے تیور نہیں دیکھے تھے ۔۔
وہ اب ممتاز بیگم کو سمجھانے لگی ۔۔۔
” اس کو دیکھ رہی تھی پر تمہارے ۔۔۔”
دروازے پر دستک سے وہ ماں بیٹی خاموش ہو گئی ۔
” یہ تیرے بابا اتنی جلدی کیسے آگئے ۔۔
ممتاز بیگم جانے لگی ۔
” امی میں دیکھتی ہوں ۔۔۔بابا کو سرپرائز دوں گی ۔
اس نے جلدی سے دوپٹہ ٹھیک کیا اور دروازہ کھولنے چلی گئی ۔
لیکن دروازے پہ کوئی شخص ہاتھوں میں کچھ شاپر لیے کھڑا تھا
پیچھے سعادت بھی آچکا تھا ۔۔۔۔
سعادت کو دیکھ کر اس کی جان حلق تک آگئی ۔۔
” یہ یہی رکھ دو تم جائو گاڑی میں ۔۔میں آتا ہوں ۔۔۔”
سعادت اس شخص سے مخاطب تھا ۔۔۔جس کے ہاتھ میں شاپر تھے ۔۔
اس نے جواب دینے کے لیے لب کھولے ہی تھے ۔
” کون ہے بانو ۔۔۔دروازے پر ہی چمٹ کہ رہ گئی ۔۔۔ہو ۔۔
وہ دروازے پر بت بنی کھڑی تھی ۔۔۔
جب ممتاز بیگم کو دیکھنے کے لیے ۔۔وہ تھوڑا ہلی تو سعادت ۔۔اس کی سائیڈ سے اندر چلا گیا دونوں کے شانے ٹکرائے ۔
اسے تو جیسے کرنٹ لگا تھا
سعادت کی آنکھوں میں اب اس کے لیے حقارت تھی ۔۔
سعادت کے ایک ہاتھ پر بینڈج تھا ۔۔۔
اس نے ایک ہاتھ سے کچھ شاپر اٹھا کہ ٹیبل پر رکھے ۔۔۔پھر
دروازے کی جانب آیا اور دوسرے بھی اٹھا کہ لے آیا ۔۔۔
اب کی بار وہ تھوڑا سائیڈ پہ ہو گئی تھی ۔
” ارے سعادت بیٹا تم۔۔۔۔ اور یہ سب کیا ہے ۔۔
” آنٹی آپ کے سارے شاپر تو وہاں زمین پر گر گئے تھے سودا سلف سب ضائع ہوگیا تھا تو سوچا آپ کے لیے ضرورت کی چیزیں لے لوں ۔۔جو آپ کی میری وجہ سے ضائع ہوگئی ۔۔۔
اور ہاں آنٹی اب آپ کو کچھ بھی چاہیے ۔۔۔ آپ ہمیں بتائیں گی ۔۔
اتنی گرمی میں آپ اپنے آپ کو مشقت میں نہیں ڈالیں گی ۔۔۔”
شھربانو وہ سب چیزیں اٹھا رہی تھی ۔۔۔جو سعادت لے کر آیا تھا ۔۔۔
وہ وہی کرسی پہ ٹیک لگائے آنکھیں بند کیے بیٹھا تھا ۔۔۔
شھربانو اس کی اس ڈھیٹائی پر دانت پیس کر رہ گئی۔۔
ممتاز بیگم کو کچن میں مصروف دیکھ کر ۔۔وہ سعادت سے مخاطب ہوئی ۔۔
” اب یہاں رکنے کی وجہ۔۔۔ جائو یہاں سے ۔۔۔”
لیکن وہ تو جیسے جانے کے موڈ میں ہی نہیں تھا ۔۔
” آنٹی میری چائے ۔۔؟؟”
” سنا نہیں تم نے جائو یہاں سے ۔۔۔دوبارہ آنے کی کوشش بھی مت کرنا ۔۔۔”
☆☆☆☆☆☆♡◇◇◇◇◇◇
وہ آنکھیں بند کیے کرسی سے ٹیک لگائے بیٹھا تھا ۔۔
جب شھربانو اس سے مخاطب ہوئی
۔۔۔اس سے اپنا غصہ ضبط کرنا مشکل ہو رہا تھا ۔۔۔
لیکن۔ وہ ممتاز بیگم کی محبت کو اس طرح نظر انداز نہیں کر سکتا تھا ۔۔
اس کی آنکھوں میں اس کے لیے درد اور جذبات دیکھ کر ۔۔
وہ نرم پڑ گیا ۔۔لیکن شھربانو کے لیے اس کے دل میں صرف نفرت تھی ۔۔
وہ مسلسل شھربانو کو نظر انداز کر رہا تھا ۔۔
لیکن وہ پھر بھی اس سے مخاطب ہو رہی تھی ۔۔
اس نے شعلہ بار نگاہوں سے اسے دیکھا
اور کلائی سے کھینچتا ایک سائیڈ پہ لے گیا ۔۔
” سعادت چھوڑو مجھے امی دیکھ لے گی چھوڑو مجھے ۔۔۔”
اس نے اسے زور سے دیوار سے لگایا جو گھر کی بیک سائیڈ تھی ۔۔
” مجھے نہیں پتا تھا تم یہاں موجود ہو ورنہ میں کبھی نہیں آتا ۔۔۔
تم میرے لیے صرف نفرت کے قابل ہو ۔۔۔بس ۔۔۔شھربانو یہ
جو تمہارے چہرے پر اطمینان اور سکون پے اسے ۔۔میں نے بے سکونی میں نہ بدلا تو میرا نام سعادت ملک نہیں ۔۔”
☆☆☆☆☆☆☆☆
سعادت کی انگلیاں اس کے گالوں میں دھنس رہی تھی ۔۔
اسے ایسا لگ رہا تھا اس کا جبڑا ٹوٹ جائے گے ۔۔۔
وہ ایک سانپ کی طرح پھنکار رہا تھا ۔۔
” چھوڑو مجھے درد ہو رہا ہے ۔۔۔۔”
اس کی انگارہ آنکھیں ۔۔۔جس کو دیکھنے کی سکت شھربانو میں نہ تھی ۔۔
” وہ جو ریسٹورنٹ میں تمہارے ساتھ تھا ۔۔۔وہ تمہارا شوہر تھا نا ۔۔۔
دیکھ میں اسے کس طرح برباد کرتا ہوں ۔۔۔۔”
سعادت کی بات سن کر وہ اندر تک دہل گئی ۔۔
” سعادت تم ۔۔۔۔”
وہ تب تک ممتاز بیگم کے بلانے پر جا چکا تھا ۔۔
” راحیل ۔۔نہیں راحیل کو کچھ نہیں ہوگا ۔۔۔”
☆☆☆☆♡◇◇◇◇◇◇◇◇◇
حال
” سر میڈم ابھی اپنی گاڑی خود ڈرائیو کر کے نکلی ہے ۔۔
سعادت کو ایک شخص نے کال کر کے اطلاع دی ۔۔
” ہممم تم اس کا پیچھے جائو ۔۔۔اور وہ کہاں جا رہی ہے مجھے پوری کنفرم معلومات چاہیے ۔۔۔
سامنے سےجی سر کہہ کر رابطہ منقطع کیا گیا ۔۔
” شھربانو تم مجھ سے گیم کھیل رہی ہو سعادت ملک سے ۔
۔۔تجھے تیری ہی گیم میں مات ملے گی ۔۔۔
شیری ڈارلنگ ۔۔۔بس دیکھتی جائو ۔۔”
☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆
شھربانو کو گھر سے نکلتے ہی یہ احساس ہو چکا تھا کہ
کوئی اس کے پیچھا کر رہا ہے ۔۔۔
کوئی اس کے تعاقب میں لگا ہے ۔۔۔
وہ جانتی تھی ایسا ہی کچھ ہوگا ۔۔۔
وہ بھی ایک بلڈنگ کے اندر چلی گئی ۔۔
اسے اب پورا یقین ہو چکا تھا کوئی اس کا تعاقب کر رہا ہے ۔
☆☆☆☆☆☆☆
اس بلڈنگ کے کچھ حصہ ابھی بھی زیر تعمیر تھا ۔۔۔۔
اس نے وہاں برقعہ پہنا ۔۔۔
اور اس شخص کے ادھر اودھر ہونے کا انتظار کرنے لگی ۔۔۔
☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆
” سر میڈم ایک بلڈنگ کے اندر گئی ہے آدھا گھنٹہ ہو چکا ہے وہ ابھی تک باہر نہیں آئی ۔۔۔مجھے لگتا ہے وہ اپنے کسی جاننے والے سے ملنے۔ آئی ہے ۔۔۔”
سعادت کا یہ سب سن کر دماغ گھوم گیا۔۔
” بکواس بند کرو دیکھو وہ پچھلے رستے سے نکل گئی ہوگی ۔۔۔دیکھو جا کے کوئی بیک سائیڈ پہ راستہ ہوگا نکلنے کا “
وہ غصے میں اپنے روم میں آگے پیچھے ٹہلنے لگا ۔۔۔
” صاحب زمان خان آیا ہے ۔۔۔”
اس کے نوکر نے آکر اسے اطلاع دی ۔۔۔
” اسے ڈرائنگ روم میں بٹھائو میں آتا ہوں ۔۔۔
وہ اثبات میں سر ہلا کہ باہر چلا گیا ۔۔۔۔
☆☆☆☆◇◇◇◇◇◇
وہ شخص وہی موجود تھا وہ بار بار چھپ کے اسے دیکھ رہی تھی ۔۔
۔اچانک وہ گاڑی سے اتر کہ کہیں جانے لگا ۔۔
یہی موقع تھا ۔۔
شھربانو کے پاس وہاں سے نکلنے کا ۔۔
وہ گاڑی وہیں چھوڑ کے خود پیدل ہی نکل گئی ۔۔۔
اس نے کچھ فاصلہ طے کیا اس کے بعد اس نے ٹیکسی لی اور اپنی مطلوبہ جگہ پہنچ گئی ۔۔
☆☆☆☆◇◇◇◇◇◇◇◇
” تمہیں باہر نکلنے کی ضرورت ہی نہیں ” ۔۔۔وہ عجیب سے انداز میں مسکرا رہا تھا ۔۔۔
جیسے اس کی بیوقوفی کا مذاق اڑا رہا ہو۔۔۔۔
” اس لڑکی کو اس کمرے میں رکھنا ۔۔۔دروازے پر کوڈ لگا دینا ۔۔۔اس جگہ سے کھانا دے دینا ۔۔۔”
اس شخص نے ایک جانب اشارہ کیا ۔۔۔جہاں ایک چھوٹی سے کھڑکی۔ بنی تھی ۔۔۔۔” کوئی ہوشیاری نہیں کرنا ۔۔۔ورنہ تجھے بھی ایسے بند کر دیں گے ۔۔۔” اس شخص نے پھر سے اپنے پیلے دانت نکالے
وہ شخص ان کو وہاں چھوڑ کے جا چکا تھا ۔۔۔
اس غار میں بنے بنگلے کا دروازہ خود بہ خود بند ہوگیا ۔۔۔
اس نے اس لڑکی کو اس کمرے کے بیڈ پہ لٹایا
وہ ابھی تک بے ہوش تھی۔۔۔اس کی چہرے کی معصومیت پر کچھ پل کے لیے اس کا دل پگھلا ۔۔۔
اس نے سر جھٹک کر اپنے ذہن میں آنے والے نرم گوشے کو ایک طرف کر دیا ۔
۔۔۔اس نے نکلتے ہوئے دروازے پر کوڈ لگایا ۔۔۔
چھوٹے چھوٹے قدم اٹھاتا ۔۔صوفے کی جانب بڑھا ۔۔۔
اور خود بھی ڈھے جانے والے انداز پہ صوفے پہ گرا۔۔۔۔۔ مسلسل سفر سے کافی بیزار ہو چکا تھا ۔۔۔
وہ کب نیند کی وادی میں جا پہنچا اسے خود بھی کچھ اندازا نہ تھا ۔۔۔
☆☆☆☆☆◇◇◇◇◇◇◇
” بولو زمان “۔۔۔سعادت سگار کا کش لگاتے ۔۔۔اس کی طرف گھور رہا تھا ۔۔
لمبی موچھیں سانولا رنگ کاٹن کے سفید شلوار قمیص ۔۔۔
ان کا مینجر کم زمیدار زیادہ لگ رہا تھا ۔۔۔۔
” سر ان لوگوں کا پتہ لگ چکا ہے وہ اب میڈم کے لیے نہیں ہمارے لیے کام کریں گے ۔۔۔”
سعادت کن آنکھیوں سے اس کی طرف دیکھنے لگا ۔۔۔
ایک پرسکون مسکراہٹ سعادت کے چہرے پہ پھیل گئی ۔
☆☆☆☆☆♡♡◇◇◇◇◇◇◇
شھربانو اپنا کام نپٹا کہ آچکی تھی ۔۔
اسے اب کچھ دیر وہی انتظار کرنا تھا ۔۔
اسے کچھ عورتیں نظر آئی جو اس کی طرح عبایہ پہنے ہوئی تھی ۔
وہ بھی ان میں شامل ہوگئی
وہ عورتیں اس بلڈنگ سے گزری تو وہ تیزی سے اسی بلڈنگ میں داخل ہوگئی ۔۔
جہاں سے وہ پہلے نکلی تھی ۔۔
وہاں اس نے ایک جگہ رک کے عبایہ اتارا اپنے اسی حلیے میں واپس آئی ۔۔۔
اپنی گاڑی کی جانب لپکی ۔۔اس کا تعاقب کرنے والا شخص۔ اب بھی وہاں موجود تھا ۔۔۔وہ اپنی گاڑی ڈرائیو کرتی جان بوجھ کر زویا کہ گھر کی طرف چلی گئی ۔۔۔۔
وہ شخص اب بھی اس کے پیچھے تھا ۔۔۔
☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆
ماضی
سعادت وہاں سے جا چکا تھا ۔۔۔اس کا سکون چین سب لے کر ۔۔۔اب اسے راحیل کی فکر ہونے لگی تھی ۔۔۔
سعادت وہاں پھر نہیں آیا ۔۔۔
جب تک راحیل واپس نہیں آیا تب تک اسے سکون کہاں آنا تھا ۔۔
راحیل کو صحیح سلامت دیکھ کر اس کی جان میں جان آئی ۔۔۔
” آپ آگئے ” اس کی خوشی شاید اس کے چہرے سے عیاں ہو رہی تھی ۔۔۔
وہ راحیل کی آنکھوں میں چمک دیکھ رہی تھی ۔۔۔
” ہماری بیگم سے ہماری دو دن کی جدائی برداشت نہیں ہوئی ۔۔
۔۔۔راحیل اس کے چہرے سے بال ہٹا رہا تھا ۔۔۔
اس کے پیار کی چمک اس کے آنکھوں سے عیاں تھی ۔۔۔
ایک پل کے لیے اسے یہ سب دھوکہ لگا ( ” کیا اسے راحیل کی فکر تھی یا سعادت کی ” ) وہ خود اس بات کو سمجھنے سے قاصر تھی ۔
☆☆☆☆☆☆◇◇◇◇◇◇
حال
” سر وہ اس بلڈنگ سے نکل کر ۔۔۔ایک اور جگہ پہنچی ہے ۔۔۔وہ کسی کا گھر ہے ۔۔۔”
سعادت اس شخص کی باتیں سن رہا تھا ۔۔۔
وہ شخص کال کر کر کے پل پل کی خبر اسے دے رہا تھا ۔۔
” ٹھیک ہے تم میڈ م پر نظر رکھو ۔۔۔
اس نے کال منقطع کی ۔۔
کھڑکی سے باہر دیکھنے لگا ۔۔
” شھربانو تم واقعی میں مسز سعادت بن چکی ہو ۔۔۔۔کیا کھیل کھیل رہی ہو ۔۔۔۔میرے ساتھ “
☆☆☆☆☆◇◇◇◇◇◇◇◇◇◇
” شھربانو تم ۔۔۔” زویا اسے دیکھتے ہی جیسے کھل اٹھی تھی ۔۔
” یار اتنے دن بعد ہماری یاد کیسے آگئی ۔۔۔”
شھربانو کو آج واقعی میں زویا کی ضرورت آن پڑی تھی ۔۔
وہ کسی پر بھی بھروسہ نہیں کر سکتی تھی ۔۔۔
” زویا میرا ایک کام کرو گی ۔۔۔”
زویا نے اثبات میں سر ہلایا ۔۔۔
” کیا ہوا بانو ۔۔۔تم ٹھیک تو ہو ۔۔۔سعادت اور بچیاں ٹھیک ہیں “
شھربانو اپنی گھبراہٹ چھپانے میں ناکام ہوئی تھی ۔۔
اس کی پریشانی ۔۔اس کے چہرے سے عیاں تھی ۔۔
” زویا تمہیں مظفر یاد ہے ۔۔۔؟
وہ اب زویا کا چہرہ بغور دیکھ رہی تھی ۔۔۔۔
زویا بھی اسے پریشان دیکھ کر خود بھی پریشان ہو گئی تھی ۔
☆☆☆☆☆☆♡◇◇◇◇◇◇
” مطھر آیا ؟؟” صبیحہ بی بی جیسے ہوش میں آئی تھی یہ سوال اپنی تینوں بیٹیوں سے کئی بار پوچھ چکی تھی ۔۔۔
اسے ہاسپیٹل میں پانچواں دن تھا ۔۔۔
اس کا ایک ہاتھ کٹ چکا تھا ۔۔۔
ربیعہ ماں کی حالت دیکھ کر تڑپ جاتی ۔۔
وہ بار بار اپنا کٹا ہاتھ دیکھ کر رونے لگتی ۔۔
ربیعہ کو کئی بار یہ محسوس ہوا کہ کوئی اس کا تعاقب کر رہا ہے ۔۔۔
تین جوان بہنیں ایک معذور باپ ۔۔۔۔
ربیعہ کی پریشانی بڑھنے لگی ۔۔
( ” نجانے مطھر کن لوگوں کے لیے کام کر رہا ہے وہ ٹھیک بھی ہے یا نہیں ۔۔۔”)
ہر دن کے ساتھ ربیعہ کی پریشانی مطھر کے لیے بڑھنے لگی تھی ۔۔۔۔
کوئی رابطہ تک نہ تھا ۔۔۔۔
ربیعہ ماں کو تسلی دیتے دیتے خود کمزور پڑنے لگی تھی ۔۔۔۔
☆☆☆☆☆☆☆♡◇◇◇◇◇
شھربانو زویا سے ملنے کے بعد گھر پہنچ چکی تھی ۔۔۔۔
اس شخص نے زویا اور شھربانو کی تصویر ۔۔۔سعادت کو واٹس اپ کر چکا تھا ۔۔۔
اس بلڈنگ اس گھر کی تصویر بھی اسے واٹس اپ کر دی تھی ۔۔
” بلڈنگ میں شھربانو کس سے ملنے گئی تھی ۔۔۔؟؟
سعادت کو سارے معاملے میں کچھ نہ کچھ گڑ بڑ لگی تھی ۔۔۔
” آخر اس بلڈنگ میں شھربانو کا ایسا کونسا جاننے والا رہتا تھا جسے میں نہیں جانتا ۔۔۔”
سعادت خود سے ہی ہمکلام تھا ۔۔۔
اسے اپنے سوالوں کے جواب نہیں مل رہے تھے ۔۔۔
☆☆☆☆☆☆◇◇◇◇◇
اسے کافی تھکان محسوس ہو رہی تھی ۔۔
” میڈم کھانا لگا دوں ۔۔” شھربانو کے پہنچتے ہی نوکروں کی آئو بھگت شروع ہو جاتی ۔
” کھانا میں کھا کہ آئی ہوں ۔۔بس ایک کپ اسٹرانگ چائے ۔۔۔”
وہ کہتے ہوئی رکی نہیں تھی ۔۔اپنے کمرے کی طرف چل دی ۔۔
موبائل اٹھا کہ ایک کال ملانے لگی ۔۔” ہاں زمان کیا کہا اپنے صاحب کو تم نے ۔۔۔”
اسے کہ لبوں پہ ایک شاطرانہ مسکراہٹ آئی ۔۔۔
تیری چال تجھ پے ہی الٹی نہ پڑی ۔۔۔۔
تو میں بھی مسز سعادت ملک نہیں ۔۔۔۔۔۔وہ سوچ ہی سوچ میں مسکرا دی ۔۔۔
☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆
اسکی آنکھ کسی کے چلانے پر کھلی ۔
کسی لڑکی کی آواز اس کی سماعت سے ٹکرائی ۔۔۔
وہ جو خواب خرگوش کے مزے لوٹ رہا تھا ۔۔
واپس جب اپنی دنیا میں لوٹا ۔۔۔
تو ذہن پوری طرح بیدار نہیں تھا ۔۔۔۔
پہلے تو اسے کچھ سمجھ نہیں آیا کہ وہ کہاں موجود ہے ۔۔۔جب ذہن بیدار ہوا تو سب سمجھ آچکا تھا کون ہے اور کیوں چلا رہی ہے ۔۔۔
کھڑکی(کھڑکی کیا تھی پوری دیوار تھی) پہ بلٹ پروف شیشہ لگا تھا ۔۔۔جس سے وہ نظر آرہی تھی ۔۔۔لیکن وہ کانچ اتنا مظبوط تھا ۔۔۔کہ اسے گن سے بھی توڑا نہیں جا سکتا تھا ۔۔۔اس کی آواز تو دیوار پہ لگے مائیک سے آرہی تھی ۔۔
جو ایک دوسرے کی آواز سننے کے لیے لگایا گیا تھا ۔۔۔
وہ آنکھیں ملتا ہوا اب اس کی جانب دیکھ رہا تھا ۔۔۔
جو اسے انٹر نیشنل گالیوں سے نواز رہی تھی ۔۔۔
“نکالو مجھے یہاں سے ۔۔۔۔۔” ۔گالی کے بعد آگے بات مکمل کی
” کھانا کھائو گی ؟؟؟ ۔۔
وہ اس کی ہر بات ان سنی کر کے تقریبن چلانے والے انداز میں گویا ہوا ۔۔۔
گالئ۔ دینے کے بعد ” ۔۔۔بکواس بند کر اپنے باپ کو بول نکالے مجھے یہاں سے ۔۔۔میرے پاپا تم میں سے کسی کو بھی زندہ نہیں چھوڑیں گے ۔”
وہ غصے میں پورا کمرہ تہس نہس کر رہی تھی ۔۔۔
وہ بھی خاموشی سے بیٹھ گیا ۔۔۔۔۔وہ اس کا غصہ ٹھنڈے ہونے کا انتظار کرنے لگا ۔۔۔
وہ جانتا تھا جب وہ تھک جائے گی ۔۔۔تو خود ہی نارمل ہو جائے گی ۔۔۔اتنے دن ساتھ سفر کرنے سے وہ اسے اتنا تو جان ہی چکا تھا ۔۔۔
☆☆☆☆☆♡◇◇◇◇◇◇◇
اسے ہوش آیا تو اس نے خود کو ایک اجنبی جگہ پایا ۔۔۔۔
کمرہ کافی کشادہ تھا ۔۔۔
لیکن کہیں کوئی کھڑکی اور دروازہ نظر نہیں آرہا تھا ۔۔۔
بنا کھڑکی دروازے والا کمرہ ۔۔بس ایک دیوار تھی بظاہر و کانچ۔ کی نظر آرہی تھی ۔۔۔
ایک شیشہ لگا تھا جسے دیوار کہ اس پار بھی اسے نظر آرہا تھا ۔۔۔
اسے اتنی تو سمجھ آچکی تھی ۔۔۔کہ وہ قید میں ہے ۔۔۔
پتھروں سے بنا کمرہ ۔۔۔عمدہ فرنیچر ۔۔۔لیکن ان سب میں کچھ تو عجیب تھا۔۔۔۔
وہ کیا تھا اسے سمجھ نہیں آرہا تھا ۔۔۔
اس کا ضبط جواب دے چکا تھا ۔
اس کے ہاتھ میں جو چیز آرہی تھی وہ اس کانچ کی دیوار پہ مار رہی تھی ۔۔۔۔۔
وہ غصے سے ہانپنے لگی ۔۔۔
اس کی نظر پانی کی بوتل پر پڑی ۔۔۔
اس نے پانی کی بوتل منہ سے لگائی پانی گھونٹ گھونٹ حلق سے اتارا ۔۔۔ ۔۔۔۔
” غصہ کر کے خود کو ہی نقصان دے رہی ہوں ۔۔
اس کا غصہ کچھ کم ہوا
تو اس نے آس پاس نظر پھیری ۔۔۔اسے کمرے میں ایک بیگ نظر آیا ۔۔۔
وہ گھٹنوں کے بل بیگ کے پاس زمین پر بیٹھ گئی ۔۔۔اسے وہ بیگ ۔ کچھ جانا پہچانا لگا ۔۔۔
اس نے بیگ کھولا تو اسے حیرت ہوئی اس میں اس کی ہی چیزیں تھی ۔۔۔
اسکا بیگ اور اس کے پاس کہاں سے آیا ۔۔۔
اس نے فل میکسی اور ٹائٹ نکالی ۔۔۔۔
اور فریش ہونے چلی گئی ۔۔۔
☆☆☆☆☆☆☆☆◇◇◇◇◇◇◇
اسے یاد آیا وہ کھانا کھائے۔بغیر سو گیا تھا ۔اس لیے پیٹ میں چوہے دوڑ رہے تھے ۔۔اسے اب بڑی شدت کی بھوک لگی تھی ۔۔۔
لائونج میں ہی اوپن کچن تھا ۔۔۔
” اففف اب کھانے کے لیے بھی کچھ بنانا پڑے گا مجھے تو کچھ بنانا بھی نہیں آتا ۔۔”
لیکن بنا بنایا کھانا دیکھ کر اس کی بھوک۔۔۔۔۔۔ اور شدت سے چمک اٹھی۔۔۔۔
” بھلا ہو ان کا کھانا تو تیار کر گئے ۔ ورنہ ہم تو بھوک سی مر جاتے ۔۔” وہ خود سے ہی۔ ہم کلام تھا ۔۔۔۔۔
اس نے ٹیبل پر کھانا لگایا اس نے جیسے ہی نوالہ توڑ کر منہ کے قریب کیا اسے اس لڑکی کا خیال آیا ( ” سھل نے بھی تو صبح سے کچھ نہیں کھایا ۔
دل کی دھڑکن سھل کے نام سے کچھ بے ترتیب ہوئی ۔۔
اس نے کھانا جیسے ہی کھڑکی کے پاس رکھا وہ تختہ سرکنے لگا کھانے کی ٹرے اندر چلی گئی۔۔۔۔” واہ بھئی کیا کمال کاسائنسی گھر ہے ۔
وہ شانے اچکا کر خود سے ہی مخاطب تھا ۔۔
شیشے کی دیوار سے پار اسے وہ کمرے میں کہیں نظر نہیں آ رہی تھی ۔۔۔۔اس کی نگاہیں اسے تلاش کرنے لگی ۔۔۔
کچھ دیر میں ہی وہ اسے نظر آگئی ۔۔
وہ سر پہ ٹاول لپیٹے بلیک میکسی پہنے فریش ہو کہ نکلی تھی ۔
دونوں کی نظر ایک پل کے لیے ٹکرائی ۔۔۔۔۔اس کے لبوں پہ ہلکی سی مسکراہٹ آئی ۔۔۔۔
لیکن سامنے کھڑی لڑکی نے منہ پھیر لیا ۔۔۔
☆☆☆☆☆☆◇◇◇◇◇◇◇◇
اس کا پورے وجود سے درد کی ٹیسیں اٹھ رہی تھی ۔۔۔
اسے اپنے جسم میں کئی جگہ نیل پڑے نشان نظر آئے
“بے ہوشی میں نجانے ان لوگوں نے کہاں کہاں پھینکا ہوگا ۔۔۔”
پیشانی پر چوٹ لگنے سے نشان پڑ چکا تھا ۔۔۔
وہ کمزور نہیں تھی ۔۔۔پر نجانے کیوں اسے اس وقت رونا آنا آرہا تھا ۔
اس کا دل کیا مطھر کا گریبان پکڑ کے پوچھے ۔۔۔وہ سب اس کے ساتھ کیوں کر رہا ہے اس کا بدلہ ابھی تک پورا نہیں ہوا تھا ۔۔۔
اسے آنکھوں میں جلن محسوس ہوئی ۔۔۔۔آئینے میں۔ اس کا عکس دھندھلا ہونے لگا ۔
اس نے ٹھنڈے پانی کی چھینٹے اپنے چہرے پہ ڈالے ۔۔۔
گرم پانی سے غسل کے بعد اس کی تھکن اور درد کچھ کم ہوا ۔۔۔
اس کی نظر ایک روشن دان پر پڑی ۔۔۔۔وہ روشن دان سے باہر دیکھنے کے لیے ایڑی اونچی کی لیکن باہر گھپ اندھیرا تھا
لگتا ہے دن میں ہی باہر کا منظر دیکھنا پڑے گا ۔
جیسے ہی وہ باتھ روم سے باہرنکلی ۔۔۔شیشے کی دیوار کے پاس ہی اسے وہ نظر آگیا ۔ ۔۔اس کے سوا تھا ہی کون ۔۔۔۔وہ اسے دیکھ کر مسکرایا
اس کی مسکراہٹ اسے زہر لگی ۔۔۔۔۔
وہ اس وقت اس کا سامنہ نہیں کرنا چاہتی تھی ۔۔۔۔
وہ خود کو کمزور ثابت نہیں کر سکتی تھی ۔۔
اس نے کھڑکی پہ رکھا کھانا نظر آچکا تھا ۔۔۔۔
وہ کھانے کی ٹرے اٹھا لائی ۔۔
دل اب بھی بوجھل تھا ۔۔۔۔اسے مطھر کی بے حسی پہ نجانے کیوں رونا آرہا تھا۔۔۔۔
اسے تو کسی کی پرواہ نہیں تھی ۔۔۔۔وہ تو کبھی سعادت اور سونیا کی بے حسی پہ کمزور نہیں ہوئی آج اس لڑکے کی وجہ سے ۔۔۔۔
” یہ کیا ہو رہا ہے مجھے ۔۔۔” اس نے گردن پھیر کے دیکھا وہ اسی کی جانب دیکھ رہا تھا لیکن اب کی بار چہرے پہ کوئی تاثر نہیں تھا ۔۔۔
جیسے وہ دیکھ اس کی جانب رہا تھا ۔۔۔پر تھا وہ کہیں اور ۔۔
۔☆☆☆☆☆☆☆
سھل کی آنکھیں سرخ ہو رہئ تھی ۔۔۔جیسے وہ بہت روئی ہو ۔۔۔اس کا اترا چہرہ دیکھ کر ۔۔۔اسے اپنا دل بند ہوتا محسوس ہوا ۔۔۔
( ” میں اتنا خود غرض کیسے ہوگیا ۔۔۔اپنی فیملی کے لیے کسی اور کی فیملی تباہ کر رہا ہوں ۔۔۔۔
میں ایک لڑکی کے اغوا میں ملوث ہو گیا ہوں ۔۔۔۔
جب کہ میں خود تین بہنوں کا بھائی ہوں ۔۔۔۔
یہ بھی تو کسی کی بہن بیٹی ہے ان پر کیا بیت رہی ہوگی ۔۔۔وہ لوگوں کا سامنہ کیسے کریں گے ۔۔۔
گھر بڑا ہو یا چھوٹا ۔۔۔بیٹیاں تو عزت ہوتی ہیں ۔۔۔۔”
اسے خود سے نفرت ہونے لگی ۔۔۔
” کچھ بھی ہوجائے مجھے اس لڑکی کو اپنے گھر پہنچانے میں اس کی مدد کرنی چاہیے ۔
۔۔۔کیا وہ میری بات سنے گی “
وہ اپنی بات تحریر کرنے کے لیے کاغذ قلم ڈھونڈنے لگا ۔۔۔۔
وہ جانتا تھا وہ بات کرنے گیا تو وہ اس کا منہ توڑ لے گی ۔۔۔
ہر جگہ کیمرے اور مائیک ہونے کی وجہ سے وہ ایسا کوئی پلان زبانی تو بتا نہیں سکتا تھا ۔۔
جاری ہے
