Intikam E Mohabbat by Esha Noor NovelR50798 Intikam E Mohabbat by Esha Noor Episode24
No Download Link
253K
35
Rate this Novel
Intikam E Mohabbat by Esha Noor Episode01 Intikam E Mohabbat by Esha Noor Episode02 Intikam E Mohabbat by Esha Noor Episode03 Intikam E Mohabbat by Esha Noor Episode04 Intikam E Mohabbat by Esha Noor Episode05 Intikam E Mohabbat by Esha Noor Episode06 Intikam E Mohabbat by Esha Noor Episode07 Intikam E Mohabbat by Esha Noor Episode08 Intikam E Mohabbat by Esha Noor Episode09 Intikam E Mohabbat by Esha Noor Episode10 Intikam E Mohabbat by Esha Noor Episode11 Intikam E Mohabbat by Esha Noor Episode12 Intikam E Mohabbat by Esha Noor Episode13 Intikam E Mohabbat by Esha Noor Episode14 Intikam E Mohabbat by Esha Noor Episode15 Intikam E Mohabbat by Esha Noor Episode16 Intikam E Mohabbat by Esha Noor Episode17 Intikam E Mohabbat by Esha Noor Episode18 Intikam E Mohabbat by Esha Noor Episode19 Intikam E Mohabbat by Esha Noor Episode20 Intikam E Mohabbat by Esha Noor Episode21 Intikam E Mohabbat by Esha Noor Episode22 Intikam E Mohabbat by Esha Noor Episode23 Intikam E Mohabbat by Esha Noor Episode24 (Watching)Intikam E Mohabbat by Esha Noor Episode25 Intikam E Mohabbat by Esha Noor Episode26 Intikam E Mohabbat by Esha Noor Episode27 Intikam E Mohabbat by Esha Noor Episode28 Intikam E Mohabbat by Esha Noor Episode29 Intikam E Mohabbat by Esha Noor Episode30 Intikam E Mohabbat by Esha Noor Episode31 Intikam E Mohabbat by Esha Noor Episode32 Intikam E Mohabbat by Esha Noor Episode33 Intikam E Mohabbat by Esha Noor Episode34 Intikam E Mohabbat by Esha Noor Last Episode
Intikam E Mohabbat by Esha Noor Episode24
Intikam E Mohabbat by Esha Noor Episode24
سارا الزام بھی اس کی بیٹی پر لگا کہ اسے بے آسرا ہاسپیٹل میں چھوڑ آئے تھے۔۔۔۔
راحیل کہ حادثے کو نو دن گزر چکے تھے
” وہ لوگ تمہیں نہیں آنے دیں گے ۔
ممتاز بیگم اب بھی اس کی طرف نہیں دیکھ رہی تھی ۔۔۔
” امی میرا اپنا الگ گھر ہے ۔۔۔۔”
وہ اپنی ماں کو دیکھ رہئ تھی جو اسے دیکھ کر پل پل مر رہی تھی ۔۔۔
” وہ تمہارے گھر کا سارا سامان یہاں چھوڑ گئے ہیں وہ گھر ہاسپیٹل والوں نے دیا تھا
۔۔۔انہوں نے راحیل کی موت کے بعد واپس لے لیا ہے ۔۔۔کس کے گھر جائو گی ۔
۔۔اس کے گھر والے تجھے قبول نہیں کریں گے ۔۔۔
لیکن اسے اس وقت صرف سھل کی فکر تھی۔ وہ اسے اپنے گھر والوں سے الگ نہیں کرنا چاہتی تھی ۔۔
وہ اب اپنے آپ کو راحیل کا مجرم سمجھ رہی تھی ۔۔۔۔اور اس کا مجرم سعادت تھا ۔۔
۔جس کہ وجہ سے اس کی زندگی تباہ ہو گئی ۔۔تھی ۔
” کیوں آئی ہو تم یہاں ۔۔۔
راحیل کی ماں تو اسے دیکھ کر آپے سے باہر ہوگئی ۔۔۔
” میرے بیٹے کو مار کہ بھی تجھے سکون نہیں ملا ۔۔۔”
وہ خاموشی سے گردن جھکائے دروازے پر کھڑی تھی ۔۔۔
” امی آپ بھابھی کو اندر تو آنے دیں ۔۔۔
حوریہ اس کا بیگ اندر لے جانے لگی ۔
” حوریہ تم اندر جائو ۔۔۔اور لڑکی تم۔باہر ۔
وہ انگلی کہ اشارے سے اسے باہر کا راستہ دکھا رہی تھی
” آنٹی کم سے کم راحیل کی آخری نشانی کی خاطر ہمیں اس گھر میں رہنے کی اجازت دے دیں ۔۔۔
وہ اب ہاتھ جوڑے کھڑی تھی ۔۔۔اسے تو بس احساس ندامت تھا ۔۔۔
” کونسی نشانی اپنے یار کا گناہ ہمارے سر پہ ڈال رہی ہو ۔۔
۔لے جائو اس گناہ کی پوٹلی کو ۔۔۔نہیں ہے یہ ہمارا خون ۔۔۔”
وہ چپ چاپ سب سن رہی تھی پر اپنی بچی کہ بارے میں اتنی بڑی بات وہ نہ سن سکی ۔۔۔
” کچھ تو خدا کا خوف کریں اتنی بڑی تہمت لگادی ۔۔۔۔”
اس نے جیسے ہی منہ کھولا ۔۔۔راحیل کی ماں اسے دھکے دینے لگی ۔۔
اس کا بیگ بھی اٹھا کر باہر پھینک دیا ۔۔
” امی کیا تماشہ ہو رہا ہے ۔۔۔بھابھی آپ اندر چلیں ۔۔”
راحیل کے بڑے بھائی نے آکے معاملے کو سنبھالا ۔۔
راحیل کا بڑا بھائی اسے اندر لے آیا۔۔۔
” بھابھی آپ راحیل کے کمرے میں جائیں میں امی کو سمجھاتا ہوں ۔۔۔”
وہ اپنا بیگ اٹھانے لگی ۔۔۔” ارمان چاچی کا بیگ لے جائو ۔۔۔۔”
اسے خوشی ہوئی کہ اسے وہاں رہنے کی اجازت مل گئی تھی ۔۔۔
وہ اسی کمرے میں آگئی جہاں وہ بیاہ کر پہلے دن آئی تھی ۔
یادیں پھر تنگ کرنے لگی ۔۔
راحیل کی یاد میں وہ بلک بلک کر رونے لگی ۔۔
☆☆♡♡♡♡♡♡♡♡♡
ممتاز بیگم کو سعادت اپنے گھر لے آیا تھا ۔۔
ممتاز بیگم کے لیے اس نے ایک نوکرانی کا
بندوبست کر دیا تھا ۔۔۔جو ہر وقت اس کے ساتھ رہتی ۔تھی ۔
” بانو وہاں خوش نہیں ہے ۔۔اسے واپس لے آئو ۔۔۔ہم ماں بیٹی رہ لیں گے ۔۔۔
ماں کا دل تھا دور رہتے بھی سب سمجھ رہا تھا ۔۔
سعادت اور سحر یہ بات ہر روز سنتے تھے ۔۔
” امی بانو واپس نہیں آرہی تو ہم کیا کر سکتے ہیں ۔۔۔آپ ہمیں کہنے کی بجائے بانو کو سمجھائیں
۔ نوکرانیوں کی طرح رہ رہی ہے وہاں ۔۔اور پھر بھی کہتی ہے میں وہاں ٹھیک ہوں ۔۔۔
سحر بہت بار کہہ چکی تھی۔۔لیکن شھربانو بھی بضد تھی ۔۔
☆☆☆☆☆◇◇◇◇◇
دوسرے دن ہی اس کی جیٹھانی نے اپنا رنگ دکھانا شروع کر دیا ۔۔
” آپ نے اسے روک تو لیا ہے ۔۔۔۔یہاں رہنا ہے تو مہہ رانی کو کام کرنا پڑے گا۔۔ ہم اس کے نوکر نہیں لگے ۔۔
راحیل کو گذرے ابھی بیس دن ہی ہوئے تھے ۔۔۔عدت تو وہ مسلسل گھر بدلنے کی وجہ سے نا کر سکی ۔۔۔
وہ بس خاموشی سے کمرے میں بیٹھی سب باتیں سن رہی تھی ۔۔۔
” چل اٹھ کام کر یہاں بیٹھ کہ یہ۔مگر مچھ کہ آنسو بہانے سے کچھ نہیں ملنے والا ۔۔
اس کی ساس نے آکر اس پر حکم صادر کر دیا ۔۔
وہ آنسو صاف کرتی کچن کی طرف بڑھ گئی
کچن کیا تھا گند کا ڈھیر بنا ہوا تھا ۔۔۔
اس دن کے بعد بس دن بھر کام ۔۔
لیکن اس سے بھی ان کے گھر والوں کا جی نہ بھرا ۔۔
” جب دیکھو اس کے آگے پیچھے گھومتے رہتے ہو ۔۔۔خوب سمجھتی ہوں میں تمہاری نیت ۔۔
آئے دن جیٹھانی اور جیٹھ کا جھگڑا رہنے لگا ساس کی باتیں الگ سے سننے کو مل رہی تھی ۔۔
لیکن وہ تو جیسے خود کو سزا دے رہی تھی۔
کسی گناہ کا کفارہ تھی زندگی جو وہ ادا کر رہی تھی ۔
☆☆☆◇◇◇◇◇◇♡◇
سعادت روز شھربانو کے گھر کے پاس جاتا ۔۔۔لیکن اتنی ہمت نہ ہوتی کہ وہ ان کا حال احوال پوچھ سکے ۔۔۔
اس گھر میں اسے زیادہ کوئی نہیں جانتا تھا سوائے حوریہ کہ ۔
اس کا روز معمول بن چکا تھا ۔۔۔گاڑی میں بیٹھا اس کے گھر کے دروازے کو دیکھتا رہتا ۔
☆☆☆◇◇◇◇◇◇◇
” توں اب میرے شوہر کے ساتھ چکر چلا رہی ہے ۔۔۔۔”
اس کی جیٹھانی میکے سے آتے ہی اس پر برس پڑی ۔۔
” مجھے نہیں پتا تھا تم ابھی آن ٹپکو گی ۔۔۔۔ورنہ میں بھابھی سے چائے کا نا کہتا ۔۔
وہ چپ چاپ میاں بیوی کا تماشہ دیکھ رہی تھی ۔۔۔
” اب یہ اس گھر میں رہے گی یا میں رہوں گی ۔۔۔”
اب اس کی ساس کی باری تھی ۔۔۔
” تو کیوں جائے گی یہ جائے گی یہاں سے ۔۔
ایک بیٹا کھا گئی دوسرے کا گھر برباد کرنے آگئی ۔ ہے ۔۔”
” کوئی یہاں سے نہیں جا رہا میں ہی چلا جاتا ہوں ۔۔۔۔”
غصے میں اس کا جیٹھ باہر نکل گیا ۔۔
اب ان دونوں کی توپوں کا رخ شھربانو کی طرف تھا ۔۔۔
وہ دونوں اب اسے گھر سے نکالنے کے لیے کمر کس چکی تھی ۔۔
اسے اس طوفانی شام کو بے سروسامان گھر سے نکال دیا گیا ۔۔
اس کے پاس کرائے تک کہ پیسے نہ تھے جو وہ اپنی ماں کے گھر تک پہنچ پاتی ۔
☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆
سعادت کا وہاں روز آنا ۔۔۔۔۔لوگوں کی نظروں میں اسے مشکوک بنا رہا تھا ۔۔۔۔
کچھ دنوں تک تو وہ آکر بس گاڑی میں بیٹھا رہتا ۔۔
۔پر وہاں اس طرح چپ چاپ ایک کونے میں کھڑا رہنا ۔
۔۔۔اسے ہر شخص شک کی نظر سے دیکھنے لگا ۔۔
۔۔۔مجبورن اسے جان پہچان بنانی پڑی ۔۔۔
وہاں روز ایک دکان دار کے پاس آکر اس پورے محلے کی خبر گیری کرتا۔۔۔
” ارے بھائی ۔۔ہم تو زیادہ لوگوں کو نہیں جانتے ۔۔۔سلیمان صاحب کو اپنے کام میں ملا لو ۔۔
وہ سب جانتا ہے کس نے گھر بیچنا ہے کس نے خریدنا ہے ۔۔۔ساری معلومات رکھتا ہے ۔۔۔تم دو روپے کمیشن کے بڑھا دو ۔
۔وہ آپ کے لیے کام کرنا شروع کر دے گا۔۔۔”
اس سلیمان نامی شخص سے اسے کافی معلومات مل جاتی ۔۔۔
کام کی باتوں کے علاوہ اس شخص کی بیوی ۔۔گھر گھر جا کر معلومات اکٹھی کرتی تھی ۔۔
وہ اس علاقے میں پراپرٹی ڈیلر کی حثیت سے جانا جانے لگا
۔اس نے اس علاقے میں اپنی پہچان اسی حثیت سے کروائی تھی ۔۔
۔۔۔وجہ صرف شھربانو تھی
۔۔وہ کافی ٹٹولتا پر اسے شھربانو کے حوالے سے زیادہ کچھ پتہ نہ لگ سکا
۔۔۔۔جولائی میں اکثر طوفانی بارشیں ہوتئ رہتی ۔تھی ۔۔۔۔
وہ بھی جولائی کی ایک شام تھی
اسے اس علاقے کی طرف جاتے ہوئے
۔۔۔بڑی سی چادر میں ایک عورت بیگ لے کر جاتی ہوئی نظر آئی۔۔۔ چہرہ اس نے چادر میں چھپایا ہوا تھا ۔۔
نجانے کیوں وہ عورت اسے اپنی اپنی لگی ۔۔
☆♡◇◇◇◇◇◇
اس نے گاڑی ریورس گیر میں ڈال کر ۔
ایک طرف پارک کی ۔
اس عورت کے لیے بچہ اور بیگ ایک ساتھ سنبھالنا مشکل ہو رہا تھا ۔۔۔
وہ اتر کے کنفرم کرنا چاہتا تھا ۔
آخر وہ ہے کون ۔۔
اسے نجانے کیوں اس عورت پہ شھربانو ہونے گماں گزرا ۔۔
” ۔کیا واقعی وہ شھربانو ہی ہے یا کوئی اور “
وہ گاڑی سے اتر کر اس عورت کی جانب بڑھا ۔۔۔۔
جیسے ہی وہ اس کے سامنے آیا اسے اپنے سب سوالو کے جواب مل گئے تھے ۔۔
وہ وہی تھی ۔۔۔
” کہاں جا رہی ہو ۔۔۔۔؟
وہ اور بھی تیز تیز چلنے لگی ۔۔۔۔
وہ بھی اس کے ہمقدم چلنے لگا ۔۔۔۔بیگ اس کے ہاتھ سے لے لیا ۔
۔جسے وہ دینا نہیں چاہتی تھی ۔۔۔۔
اس نے تقریبن چھننے والے انداز میں بیگ لیا ۔۔
” شیری کچھ دیر میں بارش ہو جائے گی کہاں معصوم بچی کو لیکر جا رہی ہو ۔۔۔”
وہ تو جیسے کوئی بات سن ہی نہیں رہی تھی ۔
اس نے بیگ چھننے پر بھی کوئی زیادہ مزاحمت نا کی
” شیری اچھا میرے ساتھ نہ چلو ۔۔۔بتا دو کہاں جانا ہے ٹیکسی کروا دیتا ہوں ۔
وہ پھر بھی ناک کی سیدھ میں چلتی جا رہی تھی ۔۔۔۔
وہ بھی اس کے پیچھے چلنے لگا ۔۔۔۔
تیز تیز چلنے کی وجہ سے وہ ہانپ رہی تھی ۔
۔۔” آرام سے تو چلو یار ۔۔۔ ۔!!!۔۔امی کے پاس جا رہی ہو ۔۔؟؟؟۔لیکن وہ گھر پر نہیں ہے ۔۔۔”
اس بات پہ وہ ایک پل کے لیے ٹھہری ۔۔۔اس نے ایک سوالیہ نظر اس پر ڈالی ۔۔۔
آنکھوں کے گرد حلقے ۔۔۔مایوسی اور بے بسی کی داستاں سناتی آنکھیں ۔
اس کی اداس آنکھیں اس کے دل کو چیر کہ رکھ گئی ۔۔۔۔
” پوچھو گی نہیں وہ کہاں ہے “
” شیری ۔اس نے زور سے اس کی کلائی کو پکڑا ۔۔
وہ چپ چاپ کھڑی تھی
” شیری کچھ تو بولو ۔۔۔۔خدا کے لیے ۔۔۔
وہ گویا رو دینے کو تھا ۔۔
” میرا پیچھا چھوڑ دو ۔۔۔۔ورنہ اس کا نتیجا اچھا نہیں ہوگا ۔۔۔
اس کی آواز سے نفرت چھلک رہی تھی
۔۔۔اسے لگا وہ بول بھی بمشکل سے پا رہی ہے ۔۔۔۔وہ اتنی کمزور ہو چکی تھی ۔۔۔وہ چند الفاظ ادا کرتے وقت بھی ہانپنے لگی ۔۔۔
” لیکن تم جا کہاں رہی ہو ۔؟”
وہ وہی کچھ دیر بیٹھ گئی شاید اب اس میں اور چلنے کی سکت نہیں بچی تھی۔۔۔
موسم خراب ہونے لگا تھا ۔۔
” شیری جو کچھ ہوا مقدر میں لکھا تھا ۔۔۔ہم اور تم کچھ نہیں کر سکتے ۔تھے ۔۔۔”
وہ ایک دم سے کانوں پہ ہاتھ رکھ کے چلانے لگی
” چپ ہوجائو ۔۔ چپ ہو جاٶ ۔۔”
ایک دم سے تیز ہوا چلنے لگی ۔ تیز ہوا کی وجہ سے اس کی چادر اڑنے لگی ۔۔
۔۔کچھ ہی دیر میں
۔۔تیز ہوا کے ساتھ بارش ہونے لگی ۔
۔۔۔وہ دونوں فٹ پاتھ پر بیٹھے بارش میں بھیگ رہے تھے ۔۔۔
☆☆◇◇◇◇◇◇◇◇◇◇
اسے وہ لوگ بے عزت کر کے گھر سے نکال چکے تھے ۔۔۔۔
اس نے چادر اوڑھی سھل کو بھی چادر سے ڈھانپ لیا ۔۔۔۔
موسم خراب ہونے کی وجہ سے سواری ملنے کا امکان بھی بہت کم تھا ۔
پیسے بھی نہیں تھے اس کے پاس ۔۔۔وہ پیدل ہی چلنے لگی ۔۔۔بڑی سڑک تک اسے پیدل ہی چلنا تھا ۔۔۔جہاں سے اسے بس مل جاتی ۔۔
وہ آہستہ آہستہ چھوٹے چھوٹے قدم اٹھاتی ۔۔۔سڑک کے کنارے چل رہی تھی۔۔۔جب کوئی اس کے سامنے آ رکا
۔۔وہ کوئی اور نہیں سعادت ہی تھا راحیل کا
قاتل۔۔۔ اس نے ہی تو اسے سڑک پے لا چھوڑا تھا ۔
۔اب جھوٹی ہمدردی دکھانے پہنچ گیا ۔
وہ بار بار اس کے سامنے آجاتا ۔۔۔۔اس کا بس نہیں چل رہا تھا
وہ اسے بھی وہاں پہنچا دے جہاں اس نے راحیل کو پہنچا دیا تھا ۔
جب اسے یہ پتا چلا ممتاز بیگم بھی اس کے گھر ہے ۔
۔۔اس کی بے بسی کی انتہا تھی ۔
۔اچانک سے بارش تیز ہوا کے ساتھ شروع ہوگئی ۔۔۔۔
اسے اب اس چھوٹی سی بچی کی فکر ہونے لگی۔۔۔۔
اس نے بیگ سے ایک چھوٹا سا کمبل نکال کے سھل کو لپیٹا ۔۔
” ضد چھوڑو چلو گاڑی میں بیٹھو ۔۔۔” اس
شخص کے الفاظ اسے تیر کی طرح چبھ رہے تھے ۔۔
وہ بارش میں پوری طرح بھیگ چکی تھی ۔۔۔۔
☆☆☆☆☆☆☆☆◇◇
وہ تو جیسے وہی مجسم ہوگئی ۔
” شیری چلو بچی بیمار ہو جائے گی ۔۔
اس نے سھل۔اس کی گود سے اٹھا لی ۔ چھوڑو میری بچی کو ۔۔۔”
اسے بھی کھینچتے ہوئے گاڑی کی طرف لے گیا
وہ بے جان وجود کی طرح اس کے ساتھ پیر گھسیٹتی اس کے ساتھ چلی جا رہی تھی
۔۔۔گاڑی کا دروازہ کھول کر اسے اندر دھکیلا
” پاگل ہوگئی ہو تم بچی کو مارنا چاہتی ہو ۔۔۔”
” میری بچی ہے میں جو چاہے کروں اس کے ساتھ ۔۔۔تم کون ہوتے ہو رعب جھاڑنے والے ۔۔۔
۔ گاڑی روکو ورنہ میں کود جاٶں گی ۔۔۔”
اس نے گاڑی اور تیز کر دی ۔
۔”۔۔گاڑی کا دروازہ میرئ مرضی کے بغیر نہیں کھلے گا ۔۔۔چلانا ہے تو چلائو۔۔۔”
اس کی سسکیاں اس کی روح کو چھلنی کر رہی رہی تھی ۔
” شیری پلیز رونا بند کرو ۔۔۔۔
وہ اور زور سے رونے لگی ۔۔
” شیری سھل۔کو دیکھو وہ ٹھیک تو ہے ۔۔۔؟؟
وہ بار بار مڑ کر اس کی طرف دیکھ رہا تھا ۔۔۔
اس نے گاڑی ہاسپیٹل کے آگے روکی ۔۔۔
اس نے گاڑی کا دروازہ کھولا لیکن وہ اپنی جگہ سے ہلی تک نہ تھی ۔۔
اس نے بنا کچھ کہے اسے کلائی سے تھاما اسے زبردستی ہاسپیٹل کے اندر لے گیا ۔۔۔
وہ اب تینوں ڈاکٹر کے پاس موجود تھے ۔۔۔
☆☆☆☆☆♡♡♡♡♡♡♡♡
” خطرے کی کوئی بات نہیں ۔۔۔ آپ کی بیوی اور بچی کو بس تھوڑی سردی لگ گئی ہے
۔۔۔آپ انہیں گھر لے جا سکتے ہیں ۔۔۔۔بس تھوڑی احتیاط کیجیئے گا ۔۔
وہ ڈاکٹر کے بیوی کہنے پر کھا جانے والی نظروں سے اسے گھورنے لگی ۔۔۔
“چلیں ۔۔” اس نے اس کی غصیلے نگاہ کا جواب مسکرا کر دیا ۔۔
☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆
۔حال
نکاح کے دس دنوں بعد وہ آمنے سامنے بیٹھے تھے ۔۔۔۔
” آج رات ہم نکل جائیں گے ۔۔۔ اس نے موبائل پہ ٹیکسٹ کر کے اسے دکھایا ۔۔
” تم تیار رہنا ۔۔
سھل نے دیکھنے والوں کو دھوکہ دینے کے لیے جان بوجھ کر ایسی شکل بنائی جس سے
۔۔دیکھنے والوں کو یہ گماں گزرے ۔۔۔اس نے اسے کچھ ایسا کہا ہے جو اسے اچھا نہیں لگا ۔۔۔
” میں سو بار کہہ چکی ہوں میں تم۔جیسے ڈفر سے پیار نہیں کرتی ۔۔۔۔اپنی یہ بکواس تحریر اپنے پاس رکھا کرو ۔۔
اب کی بار مطھر کو بھی شرارت سوجھی ۔
اس نے آئی لو یو میری جان لکھ کہ کس کا
ایموجی لگا کہ موبائل اس کی طرف کیا ۔۔۔
◇◇◇◇◇◇◇◇◇◇◇◇
اب کی بار ٹیکسٹ دیکھ کہ وہ واقعی تپ گئی تھی ۔۔۔
” شکل دیکھی ہے اپنی ۔۔خود کو نجانے کیا سمجھتا ہے ۔۔۔۔جوکر کہیں کا ۔
اس نے موبائل اس سے چھین لیا ۔۔۔اور موبائل والا ہاتھ ہوا میں بلند کیا ۔۔۔
“اوئے کیا کرنے والی ہے میرے موبائل کے ساتھ ۔۔۔۔”
وہ اسے اپنے موبائل۔کے لیے پریشان دیکھ کر مسکرانے لگی ۔
“یہ تو اب نہیں بچے گا ۔۔”
وہ قہقہے مار کے ہنسنے لگی ۔۔
وہ اب بھی اس سے موبائل چھننے کی کوشش کر رہا تھا ۔
۔لیکن وہ بھی ایک افلاطون لڑکی تھی ۔۔۔
وہ صوفے پر چڑھ گئی وہ دوسری طرف سے آیا تو وہ نیچے کود گئی ۔
۔۔جیسے ہی وہ فرش پر کودی اسے ایسا لگا اس کے پیر زمین پر نہیں ٹکے ۔۔۔۔
زمین وہاں سے سرک چکی تھی ۔۔۔۔وہ کسی کنویں میں گرتی جا رہی تھی ۔۔۔۔
وہ دھڑام سے آکر اسے اندھیری قبر میں جا گری ۔۔
وہ ابھی وہی اوندھے منہ پڑی تھی اسے کسی اور کہ بھی گرنے کی آواز آئی ۔۔۔
جیسے اس نے آنکھیں کھولی وہاں کا منظر دیکھ کر اس کے رونگٹے کھڑے ہو گئے ۔۔ ۔
☆☆☆☆☆♡◇◇◇◇
وہ اس سے موبائل چھین کر کچھ بھی کر سکتی تھی ۔
۔۔(” اگر اس سر پھری نے موبائل توڑ دیا تو پھر ۔۔۔ہم رابطہ کیسے کریں گے باہر کیسے نکلے گے ۔۔۔؟؟؟ ” )
یہ سب سوچ کر وہ پریشان ہو گیا ۔۔
وہ جانتا تھا اس سر پھری لڑکی سے موبائل واپس لینے کے لیے نرم رویہ اپنانا پڑے گا ۔۔
لیکن اس لڑکی کو تو جیسے کوئی گیم مل۔گئی تھی ۔۔۔
وہ تو پکڑن پکڑائی کی طرح اچھل کود کرنے لگی ۔۔۔
وہ دل کھول کر پہلی بار ہنسی تھی ۔۔۔۔
اسی کھیل کھیل میں اس کے زور سے کودنے پر زمین سرک گئی اور وہ اس میں اچانک سے غائب ہوگئی ۔۔
وہ بھی اس کے پیچھے تھا ۔۔۔وہ بھی اپنا توازن برقرار نا رکھ سکا ۔۔۔اور اس کنویں میں گرتا چلا گیا ۔
◇◇◇◇◇◇◇◇◇◇◇◇
” شیری ۔۔۔ہمیں ہاسپیٹل چلنا ہوگا ۔۔۔ایک انیس سالہ لڑکی کی لاش ملی ہے جس کی شناخت کروانے کے لیے ہمیں ہاسپیٹل بلوایا گیا ہے •
سعادت اس کے سامنے افسردہ ہو کہ کھڑا تھا ۔۔۔
کچھ پل کے لیے اسے اپنے پاوں کہ نیچے سے زمین نکلتی ہوئی محسوس ہوئی ۔۔۔
لیکن وہ سعادت کا اعتبار کیونکر کرے ۔۔
لیکن وہ ایک ماں تھی
۔۔۔۔خبر جھوٹی تھی یا سچی لیکن ایک ماں کا دل ضرور دہل جاتا ۔
وہ جو لیپ ٹاپ پر اس علاقے کا میپ کھولے دیکھ رہی تھی
۔۔ایک پل کے لیے کچھ سمجھ نہ آیا ۔۔۔۔
اور لیپ ٹاپ بند کر کے پوری طرح اس کی طرف متوجہ ہوٸی
” کیا مطلب۔۔۔کس کی لڑکی کونسی لڑکی ؟؟۔
وہ اس کے قریب أیا۔۔۔ اس کے دونوں شانوں پر ہاتھ رکھے ۔۔اسے گویا تسلی دے رہا تھا ۔۔۔
” شیری میں جانتا ہوں یہ خبر کافی دردناک ہے ۔۔پر ۔۔۔”
اس کے أگے کچھ بولنے سے پہلے اس کے صبر کا پیمانہ لبریز ہو گیا ۔
” بکواس بند کرو اپنی ۔۔۔میں سب سمجھ رہی ہوں تم کیا کہہ رہے ہو کیا کرنا چاہتے ہو ۔۔۔
سچ میں نہ مار سکے تو ۔۔۔۔اب یہ کہانی گھڑ دی !!۔
۔۔تم سعادت۔۔!! تم ۔۔۔اتنے گر جائو گے ۔۔۔”
وہ مٹھیاں بھینچے اپنی جگہ ساکت کھڑی تھی ۔۔۔۔
” کیا بول رہی ہو ہوش میں تو ہو ۔۔۔میں اپنی بچی کو کیوں ماروں گا۔۔”
” اووو ۔۔۔۔تمہاری بچی ۔۔۔تم نے اسے اپنا سمجھا کب تھا ۔۔۔بند کرو اپنی یہ سب مکاری ۔۔۔!!! سب جانتی ہوں میں ۔۔۔۔تم کیا ہو اور کیا کر سکتے ہو ۔۔۔وہ حملہ تم نے ہی کروایا ۔۔۔تھا ۔۔۔”
اس نے اپنا ہاتھ اپنے پرس پر رکھ دیا ۔۔۔
” شیری ۔۔۔ تم سب جانتی ہو لیکن وہ پورا سچ نہیں ۔۔۔۔
میں اسے مارنا نہیں چاہتا تھا ۔۔۔بس ایک دکھاوا کرنا چاہتا تھا ۔
” بس کردو سعادت یہ جھوٹ بولنا ۔۔۔۔۔جس دن میرے پاس کوئی ثبوت آگیا ۔۔۔میں خود تجھے اپنے ہاتھوں سے گولی مار دوں گی ۔۔۔۔تم نے میرے جسم ۔۔کو تو زبردستی حاصل کر لیا ۔۔۔لیکن میری روح تک کبھی پہنچ نہ پائو گے ۔۔۔۔”
◇◇◇◇◇◇◇◇◇◇◇
اسے سدھیر کے دیے ہوئے مشورے پر اب عمل۔کرنا تھا ۔
( تم ایک انیس سالہ لڑکی کی لاش حاصل کرو ۔۔۔جس کا قد باڈی سھل جیسی ہو۔۔۔اسے تم سھل ثابت کر دینا ۔۔۔
” لیکن ڈی این اے ۔۔رپورٹ سے سب ثابت ہو جائے گا ۔۔۔”
” پیسہ پھینک تماشہ دیکھ یار پیسے سے سب کچھ بدلا جا سکتا ہے ۔۔۔تو پیسا دے دیکھ ڈی این رپورٹ کیسے بدلتی ہے ۔۔۔۔اس کا اتنا بڑا مسئلہ نہیں ہے ۔۔۔ایک دو لیبارٹریز کو پیسے دے کر یہ کام ہو جائے گا ۔۔۔
پھر ساری رقم تیرے اکائونٹ میں ٹرانسفر ۔۔
اب اسی کام کو مکمل کرنے کا وقت تھا ۔
لیکن وہ کام اتنا آسان بھی نہ تھا ۔۔جتنا سدھیر نے کہہ دیا تھا ۔
پہلا مشکل مرحلہ شھربانو کو راضی کرنا تھ
” شیری کیا تمہیں مجھ سے کبھی محبت نہیں تھی ۔۔۔۔وہ سب کیا تھا ۔۔۔۔وہ تڑپنا ۔۔وہ خودکشی کی کوشش ۔۔۔وہ سب کیا تھا ۔۔۔تیری روح میرے لیے ہی تڑپتی تھی مجھے آج بھی یاد ہے ۔
اسے شھربانو کی اس بات نے بہت زیادہ تکلیف دی ۔۔۔۔
” وہ سب راحیل سے نکاح کے وقت ختم ہوچکا تھا ۔۔۔”
” راحیل راحیل راحیل زہر لگتا ہے اب مجھے یہ نام ۔۔۔۔وہ مر کر بھی کیوں ہمارے بیچ میں آجاتا ہے ۔۔”
اس نے غصے سے سامنے رکھی ٹیبل کو لات مار کر الٹ دیا ۔۔۔
” جب تو اس طرح تڑپتا ہے مجھے پتا ہے کتنا ۔۔۔۔سکون ملتا ہے ۔۔
” تمہیں میرے ساتھ چلنا ہے بس ۔۔۔اور بکواس میں نہیں سننا چاہتا ۔۔
وہ اسے ہمیشہ سے ایسے ہی ذہنی طور پر ٹارچر کرتی ۔۔۔۔
” میں نہیں بنوں گی تمہارے اس ناٹک کا حصہ ۔۔۔ویسے بھی میں سھل کا نکاح کرواچکی ہوں ۔۔۔بس نکاح نامے پہنچنے کا انتظار ہے تیرے ہاتھ کچھ نہیں لگنے والا مسٹر سعادت ملک ۔۔
وہ اس کے چہرے کہ اتار چڑھاؤ دیکھ رہا تھا ۔۔۔
” کیا بکواس کیسا نکاح کس کے ساتھ ۔۔۔۔۔میں اسے بھی جان سے مار دوں گا ۔۔۔”
سعادت غصے میں پھر وہی الفاظ کہہ گیا تھا ۔۔۔
جس کی وجہ سے شھربانو اس سےنفرت کرنے لگی تھی ۔۔۔۔
” اسے مارو گے تو اس کے رشتے داروں کو سب کچھ مل جائے گا ۔۔۔۔۔تیرے ہاتھ تو پھر بھی خالی رہیں گے ۔۔۔۔ہا ہا ہا ۔۔
وہ دیکھ رہا تھا وہ اس کے غصے میں تلملانے اور تڑپنے سے محظوظ ہو رہی تھی ۔۔۔۔
اسے خود پہ کنٹرول کرنا تھا لیکن وہ ہمیشہ شھربانو کے سامنے کنٹرول کھو دیتا ۔۔۔۔وہ اس کی کمزوری تھی ۔۔۔۔
” اگر اتنی نفرت ہے مجھ سے ۔۔کیوں ہو میرے ساتھ ۔۔۔خلع کیوں نہیں لے لیتی ۔۔کیوں ایک ناپسندیدہ شخص کے ساتھ زندگی گزار رہی ہو ۔۔۔۔۔جھوٹ کہتی ہو تم !!۔
۔۔۔تم مجھ سے نفرت کر ہی نہیں سکتی ۔۔۔”
وہ اب بھی اپنے دل کو جھوٹی تسلی دے رہا تھا ۔۔۔۔
” اس کی دو وجہ ہے ۔۔۔ایک میں نے اپنی ماں سے وعدہ کیا تھا
۔۔۔دوسرا ۔۔۔میں تجھے ایسے تڑپتے کیسے دیکھتی پھر ۔۔۔۔ہاں ۔۔۔بولو ۔۔۔ہا ہا ہا !!!!۔۔۔بولو دو تم نے راحیل کو نہیں مارا ۔۔۔۔تم نے سھل پہ اٹیک نہیں کروایا ۔۔۔تو میں شاید تمہیں معاف کردوں ۔۔تجھ سے خلع لے لوں ۔۔۔”
سعادت جس کا غصہ سوا نیزے پر تھا ۔۔” ہاں میں نے مارا ہے اس شخص کو ۔۔۔جو بھی آئے گا ہمارے بیچ اسے میں ختم کردوں گا ۔۔۔۔ وہ اگر پھر زندہ ہو کے واپس آ بھی گیا ۔
۔۔تو اس کے اتنے ٹکڑے کروں گا کوئی پہچان بھی نہ سکے!!!
تب بھی میرے دل کو سکون نہیں ملے گا ۔۔
سامنے کھڑی شخصیت کے کیا تاثرات تھے اس کے اس جواب پر وہ بنا دیکھے لمبے ڈگ بھرتا کمرے سے باہر جا چکا تھا ۔۔
☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆
ماضی
اسے سعادت اپنے گھر لے آیا تھا ۔۔۔لیکن وہ کمرے میں ہی زیادہ تر بند رہتی ۔۔۔۔
شھربانو کو اس کے گھر آئے دو ہفتے گذر چکے تھے ۔۔۔
لیکن وہ کمرے تک ہی محدود تھی ۔
۔کھانا پینا سب کمرے تک ہی تھا ۔۔۔
اسے آئے دن دورے پڑنے لگے ۔۔۔اچانک سے وہ زور زور سے چلانے لگتی
” شیری میری جان خود کو سنبھالو
وہ اسے سنبھالنے کی ناکام کوشش کر رہا تھا۔۔
وہ ہر چیز زمین بوس کر رہی تھی ۔۔
۔۔۔” وصی (ڈاکٹر ) یہ سب کیوں ہو رہا ہے یار ۔
ممتاز بیگم اس کے بال ٹھیک کر رہی تھی ۔۔۔اسے انجیکشن دے کر سلا دیا گیا تھا ۔۔۔
” یہ وقت کے ساتھ ٹھیک ہوجائے گی ڈپریشن (ذہنی دباؤ ) کی وجہ سے اس کی یہ حالت ہوئی ہے اسے زیادہ آرام اور ذہنی طور پر پر سکون رکھیے ۔۔۔۔۔
۔۔ اسے محبت اور سہی توجہ کی ضرورت ہے ۔۔۔زیادہ پریشانی کی بات نہیں اللہ بہتر کرے گا ۔۔
ڈاکٹر اسے تسلی دے کر چلا گیا.
جاری ہے
