Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Intikam E Mohabbat by Esha Noor Episode05

Intikam E Mohabbat by Esha Noor Episode05

وہ بہت خوش تھا ۔۔۔آج اسے اجرت پوری مل گئی تھی ۔۔۔
وہ خوشی سے رہنے کو تیار تھا ۔۔۔۔
وہ واپس اپنے عارضی رہائشگاہ آگیا ۔۔۔۔۔
چار منزلہ عمارت کے نیچے والے حصے میں اس نے اپنا بندوبست کر رکھا تھا ۔۔۔۔
اس نے سیل اٹھایا گھر کا نمبر ڈائل کیا ۔۔۔۔۔
” آپی گھر میں سب خیریت ہے ۔۔۔۔۔”
اس کی آپی کی کانپتی آواز اس کے حواس سے ٹکرائی ۔۔۔
اس کے کانوں میں جیسے چھن سے کچھ ٹوٹا ہو ۔۔۔
” مطھر بھائی امی آج درد سے بیہوش ہو گئی تھی ” ۔۔۔۔
یہی آواز اب تک اس کی کانوں میں گونج رہی تھی ۔۔۔
تعمیراتی عمارت ۔۔۔جس کے ایک حصے میں وہ عارضی طور رہائش پذیر تھا ۔۔۔
اسے اب گھٹن ہونے لگی ۔۔۔۔
وہ اپنی مٹھی میں رکھے تین ہزار دس بار گن چکا تھا ۔۔۔
” دس ہزار ٹیسٹ کے ۔۔۔دو لاکھ آپریشن کے لیے ۔”
اسے لگا اس کی دماغ کی کوئی نس پھٹ جائے گی ۔۔۔
درد کی شدت آنکھوں کے راستے باہر آنے لگی ۔۔۔۔
وہ کمزور پڑ رہا تھا ۔۔۔
” مطھر بیٹا بہت درد ہے سونے نہیں دیتا ۔۔۔” اس کی ماں کی آواز ۔
☆☆☆☆☆☆☆☆☆
” چوکیدار ۔۔۔” اس نے آتی ہی چوکیدار کو بلایا ۔۔۔
” بی بی اس وقت یہاں اکیلے ؟؟؟
وہ اس کی بات کو نظر انداز کر گئی ۔۔۔
۔۔۔” یہاں ایک لڑکا ہوگا ۔۔۔بیس بائیس ۔۔۔ کے قریب پڑھا لکھا ۔۔۔لگتا ہے ۔۔۔۔”
وہ اس چوکیدار کو اس لڑکے کا سمجھا رہی تھی ۔۔جسے وہ جوکر کہتی تھی ۔۔۔
” جی بی بی اس طرف ہے ” ۔۔۔۔۔
چوکیدار کی استغفار اس کے کانوں تک پہنچ رہی تھی ۔۔۔
پر اسے کب کسی کی پرواہ تھی ۔۔۔
وہ اس عمارت میں پہنچی جہاں مدھم سی روشنی تھی ۔۔۔۔
اسے اپنا ٹارگٹ نظر آچکا تھا ۔۔۔
اس کی پیٹھ اس طرف تھی ۔۔۔
اس نے زور کی فلائنگ کک اس کی پیٹھ پر ماری ۔۔۔
وہ اوندھے منہ سامنے جا گرا۔۔۔۔
اس نے تیزی سے جمپ لگایا اور اس کے قریب پہنچی ۔۔۔اس کے گریبان کو پکڑ کر ۔۔۔اس سے مخاطب ہوئی ۔۔
” اب کر مقابلہ ۔۔۔”
سامنے سے جو وار ہوا ۔۔وہ اس کے حواس باختہ کرنے کے لیے کافی تھا ۔
وہ اپنے ہی خیالوں میں گم تھا ۔۔۔۔
پیچھے سے زوردار کک پڑی ۔۔۔وہ اپنا توازن برقرار نہ رکھ سکا ۔۔۔اوندھے منہ زمین پر جا پڑا ۔۔۔
لیکن ایک دم سے پلٹا ۔۔۔۔
سامنے اسی لڑکی کو دیکھ کر مسکرا کر دونوں ہتھیلیوں کی ٹیک سے سیدھا ہو کر بیٹھ گیا ۔۔۔
” اچھی خاصی یہ لڑکی میرے پیچھے پڑی ہے ۔۔۔”
وہ دل ہی دل میں اسے برا بھلا کہہ رہا تھا ۔۔
اس نے قریب آکر اس کے گریبان کو پکڑ لیا ۔۔۔۔
وہ اس کی اتنے قریب تھی کچھ پل کے لیے اس کی نظر بہکی ۔۔۔۔
وہ جس ویسٹرن لباس میں تھی ۔۔۔۔
وہ مشرقی معاشرے میں اخلاقی حدود سے باہر سمجھا جاتا تھا ۔۔۔
اگلے ہی پل اس نے کھینچ کے اس کو نیچے گرا دیا ۔۔۔
خود ہاتھ جھاڑتے ہوئے کھڑا ہوگیا ۔۔۔
اپنا ہاتھ اس کی طرف کیا ۔۔۔۔
” اٹھ جائو میڈم ۔۔۔اتنی کمزور سی ۔۔۔ہیں آپ ۔۔۔چھ فٹ کے مرد سے کیا ٹکرائیں گی ۔۔۔”
وہ اس کا ہاتھ دور ہٹا کر کھڑی ہو گئی ۔۔
دوسرا وار کرنے کے لیے اس کی طرف لپکی ۔۔۔۔
لیکن اس نے دونوں ہاتھ پکڑ کر پیچھے کر کے اس کو اپنے پاس کیا ۔
” کیا مسئلہ ہے آپ کا ۔۔۔۔کیوں آجاتی ہو میرے پاس “
اس کے پرفیوم کی خوشبو ۔۔۔۔اور اس کے بال مطھر کو تنگ کرنے لگے ۔۔۔
کتنا بھی نیک انسان اتنی رات میں اکیلی خوبصورت لڑکی سامنے ہو ۔۔۔۔
اچھے بھلے لوگوں کا ایمان ڈگمگا جائے ۔۔۔
” چھوڑو مجھے کمینے انسان ۔۔۔۔”
” گالی نہیں میڈم اس وقت آپ ہمارے رحم و کرم پر ہیں۔۔
اس نے ایک جھٹکے سے اسے خود سے دور کیا ۔۔۔
” ہم چاہیں تو آپ کا وہ حشر کریں ۔۔۔آپ کسی کو منہ دکھانے کے قابل نہ رہیں ۔۔۔۔لیکن ہم نے پہلے بھی کہا تھا ۔۔۔
ہم آپ جیسی لڑکیوں کو منہ نہیں لگاتے ۔۔۔”
وہ دیکھ رہا تھا اس نے اپنے پرس پہ ہاتھ رکھا ۔۔
جو مطھر نے ایک جھٹکے سے اپنی طرف کھینچ لیا ۔۔۔
مطھر نے چادر اٹھائی۔۔۔اس کو پہنائی ۔۔۔۔
” جائو یہاں سے اس سے پہلے کہ انسان کہ اندر بیٹھا شیطان جاگ جائے۔۔۔”
واقعی میں وہ اب گھبرا گئی تھی ۔۔۔☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆
اس نے ایک جھٹکے سے دھکا دیا اور وہ اپنا توازن برقرار نہ رکھ سکی ۔۔۔
سیدھی اس مٹی میں جا گری ۔۔۔
اسے لگا اب یہ لڑکا اس کہ ساتھ کچھ غلط کر دے گا ۔۔
لیکن وہ اٹھ کر کھڑا ہو گیا ۔۔۔
لیکن سھل کا غصہ کم نہ ہوا ۔۔۔
وہ واپس وار کرنے کے لیے پلٹی ۔۔۔لیکن اب کی بار بھی بازی وہ لے گیا ۔
اس نے ایک جھٹکے سے اس کے بازو پیچھے کیے ۔۔۔
اس کو اپنی کلائی ٹوٹتی ہوئی محسوس ہوئی ۔۔۔
اس کے کپڑوں پر لگی مٹی ۔۔۔سھل کہ شرٹ پر بھی لگ گئی تھی ۔۔۔
اسے لگا وہ آج گئی ۔۔
▪▪▪▪▪▪▪▪▪
لیکن وہ ہار کہاں ماننے والی تھی اس نے اپنا پرس جیسے ہی اٹھایا ۔۔۔
اس کا جوابی وار پہلے آگیا تھا ۔۔۔
لیکن اس کے بعد جو اس نے کیا سھل کو اپنا آپ اس کے سامنے چھوٹا لگنے لگا ۔۔۔
وہ جانے لگی ۔۔۔
اس کی آواز پر رک گئی ۔۔۔
” سنو آئندہ اتنی رات ۔۔میں کسی غیر مرد کے پاس مت جانا ۔۔۔چاہے تم اس کو جتنا بھی جانتی ہو ۔۔۔سب مطھر نہیں ہوتے ۔۔۔۔”
سھل نے چادر اتار دی اس نے اٹھا کہ پھر پہنا دی ۔۔۔
” رکو میں تمہیں گاڑی تک چھوڑ آتا ہوں ۔۔۔”
سھل غصے سے اسے دیکھنے لگی ۔۔۔
وہ اپنی چپل پہننے لگا ۔۔۔
” باہر چوکیدار ہیں ۔۔۔۔اور تم یہ کیا پہن کہ گھوم رہی ہو ۔۔۔وہ بھی اتنی رات میں ۔۔۔
میں نے کہیں پڑھا تھا دنیا میں سب سے کم عمر بچیوں کو حراساں یورپ اور امریکہ میں کیا جاتا ہے ۔۔۔
اب آپ ایسے لباس پہن کہ نکلو گے ۔۔۔”
وہ کچھ اور کہتا ۔۔سھل کا ضبط جواب دے گیا ۔۔۔
” کیا ہوا ہے میرے لباس کو ۔۔۔۔پورا تو پہنا ہے ۔۔۔”
اس نے اس کی طرف دیکھا ۔۔۔جہاں اب اس نے چادر اوڑھ رکھی تھی ۔۔۔
” شرٹ کا گلہ اتنا گہرہ ۔۔اور آستین ہے نہیں ۔۔۔اسکرٹ ۔۔۔۔
میڈم آپ گری تھی ۔۔۔
آپ کی لیگس۔۔۔۔۔۔
!!! ۔۔۔آپ میں اور انڈین ہیروئن میں کوئی فرق نہیں تھا ۔۔
وہ اس پر طنز کر رہا تھا ۔۔
” میری بات یاد رکھو گی ۔۔نہ دشمن۔۔”
سھل کا پارہ ہائے ہوتا جا رہا تھا۔۔
وہ اس گاڑی تک چھوڑ کے جا چکا تھا ۔۔۔
چوکیدار اس کو عجیب نظروں سے دیکھ رہا تھا ۔۔۔
وہ اس کے اور چوکیدار کے بیچ کھڑا ہوگیا ۔۔۔۔
سھل کچھ فاصلے تک چادر پہنی پھر اتار کہ پھینک دی ۔۔
وہ اسی حالت میں گھر پہنچی ۔۔۔
کچھ تو تھا اس کی باتوں میں ۔۔۔
جو سھل کو سحرزدہ کر گیا ۔۔۔
◇◇◇◇◇◇◇◇◇
اسے اپنی پیٹھ پر شدید درد محسوس ہوا ۔۔” ۔ایک دن پہلے بھی اس کی وجہ سے مار پڑی ۔۔۔آج وہ پھر ۔۔فضول میں پیٹ کے چلی گئی ۔۔۔لگتا ہے کمر کی ہڈی ٹوٹ گئی ہے ۔۔۔کل کی مزدوری کیسے کروں گا ۔۔۔۔۔”
وہ لڑکی کے سامنے کمزور نہیں ۔بننا چاہتا تھا ۔۔۔
لیکن اس کی ضرب تیز تھی ۔۔۔
واقعی میں اس کی کک کام کر گئی ۔۔۔تھی
” یار دو چار تھپڑ رسید کر دیتا وہ بھی نہیں کی ۔۔۔نیک بننے چلا تھا ۔۔۔۔فضول میں ۔۔۔اب درد سے حالت خراب ہے ۔۔۔وہ سر پھری پھر آ گئی۔۔تو ۔۔
نجانے کونسی منحوس گھڑی تھی ۔۔۔۔جب میں اس پاگل لڑکی کی گاڑی کے سامنے آیا تھا ۔۔۔۔” ۔
مطھر کافی دیر تک خود سے ہم کلام رہا ۔۔۔۔
نجانے کب اس کی آنکھ لگ گئی ۔۔۔
☆☆☆▪▪▪▪▪▪▪▪
وہ کوشش کر رہی تھی ۔۔۔کہ اس کا سامنہ ۔۔شھربانو سے نہ ہو ۔۔۔۔۔
“سھل کہاں سے آرہی ہو ۔۔۔اور یہ کیا حالت بنا کہ آئی ہو اپنی ۔۔۔۔
پھر کسی سے لڑ کہ آئی ہو ۔۔۔سھل کب بڑی ہوگی ۔۔۔”
سھل کی ماں اسے سمجھا رہی تھی ۔۔۔۔
پر سن ہی کون رہا تھا وہ اپنے دونوں ہاتھ کانوں میں رکھے ۔۔۔۔شھربانو کو دیکھ رہی تھی ۔۔۔
” ماما پلیززززززز۔۔۔۔۔۔میں بہت تھک چکی ہوں ۔۔۔۔۔کل بات کرے ۔۔
” سھل ۔۔۔سھل ۔۔”
سھل کو پیچھے سے شھربانو آواز دیتی رہی ۔۔۔۔
پر وہ بھی اپنے نام کی ایک تھی ۔۔۔
سھل بھاگ کی باتھ روم میں گھس گئی ۔۔
وہ خود کو آئینے میں دیکھنے لگی ۔۔
” بس بنتا ہے ۔۔شریف ۔۔۔کیسے دیدے پھاڑے مجھے دیکھ رہا تھا ۔۔۔بڑا آیا مجھے چھوڑنے والا ۔۔۔چھوڑ تو میں اسے رہی تھی ۔
سھل کے صحیح وار دیکھے کہاں ہیں اس نے ۔۔
تیری شرافت جو لبھا گئی ہمیں ۔۔۔۔”
وہ ہر اینگل سے خود کو دیکھ رہی تھی ۔۔۔
مٹی سے لٹے بال ۔۔۔۔کپڑوں پر بھی مٹی لگی تھی ۔۔۔۔
سھل باتھ روم سے نکل۔۔۔کہ آئینے کے سامنے کھڑی ہو گئی
” کیا اندر ٹب میں سو گئی تھی ۔۔۔۔” شھربانو پہلے سے اس کے انتظار میں بیٹھی تھی ۔۔۔۔
” ماما وہ کوئی سونے کی جگہ ہے ۔۔۔۔۔؟؟؟”
سھل تولیے سے اپنے بال خشک کر رہی تھی ۔۔۔۔
شھربانو غصے سے اسے گھور رہی تھی ۔۔۔
” ماما میں سو جائوں ۔۔۔سچ ۔۔۔میں بہت نیند ہے۔۔۔”
شھربانو کچھ کہتی اس نے جھٹ سے ۔۔۔اپنے اوپر چادر ڈال دی ۔
” سھل بہت پچھتائو گی میری بات نہ سن کے ۔۔”
اس نے چادر سے ایک آنکھ نکال کہ دیکھا ۔۔۔کہ شھربانو چلی گئی ۔۔۔یا نہیں ۔۔۔
وہ جا چکی تھی ۔۔۔۔
سھل اٹھ کر بیٹھ گئی ۔
سگریٹ نکالی ۔۔۔لائٹر۔۔۔اس کہ پاس لائی ۔
لائٹر ختم ہو چکا تھا ۔۔۔
اس نے غصے سے اسے دور پھینکا ۔۔۔
” ماما میں سب جانتی ہوں ۔۔آپ میرا اچھا چاہتی ہیں ۔۔۔۔”
وہ شھربانو کے جانے کہ بعد ان سے مخاطب تھی ۔۔۔۔
▪▪▪▪▪▪▪▪▪
مطھر کو گھر سے نکلے تین دن ہوئے تھے ۔۔۔۔
گھر میں کیا بدلنا تھا ۔۔۔وہی بربادی کی داستاں کے گھر کے در و ۔دیوار سنا رہے تھے ۔۔۔
” بھائی ۔۔۔آپ کو کیا ہوا ہے ۔۔۔” ردا نے ۔۔۔مطھر کے چہرے کی سوجن دیکھ کر گھبرا گئی۔۔۔
ھما اور ربیعہ بھی ۔۔۔۔اپنے بھائی کو دیکھ رہی تھی ۔۔۔
” کچھ نہیں گر گیا تھا ۔۔۔۔”
وہ اٹھنے لگا تو کمر میں درد کی ٹیس اٹھی ۔۔۔۔
اسے رہ رہ کہ اس لڑکی سے نفرت ہونے لگی ۔۔۔
” مطھر تمہیں تو بخار ہے ۔۔۔” ربیعہ اپنے چھوٹے بھائی کی حالت دیکھ رہی تھی ۔۔جو بیماری میں بھی کچھ کما کر لایا تھا ۔۔۔
مطھر جانتا تھا ان پیسوں سے ۔۔اس کی ماں کی ٹیسٹ بھی نہیں ہو سکتے تھے ۔
اسے اس شخص کے پاس جانا تھا یہی آخری راستہ تھا ۔۔۔
جانتا تھا وہ راستہ ایک دلدل ہے ۔۔۔۔۔
پر مجبوری میں گدھے کو بھی باپ بنانا پڑتا ہے
▪▪▪▪▪▪▪▪
” سھل یہ کیا کر رہی ہو ۔۔۔یہ یہاں کیوں بیٹھی ہو ۔۔۔۔۔”
شھربانو اپنی بیٹی کو دیکھ رہی تھی ۔۔۔۔۔
جو یوگا کی مشق کرتے ہوئے ۔۔۔۔۔
سامنے موم بتیوں کو دیکھ رہی تھی ۔۔۔
سھل کو سنائی تو۔۔دے رہا تھا ۔۔۔لیکن اسے بولنا نہیں تھا ۔۔۔
سعادت بھی اسے دیکھ رہا تھا ۔۔۔۔
” یہ کیا کر رہی ہے ؟؟۔”
سعادت نے مسکرا کر شھربانو سے پوچھا ۔۔۔۔
” پتا نہیں کیا اوٹ پٹانگ پڑھتی رہتی ہے ۔۔۔”
شھربانو کے ہاتھ میں ایک کتاب تھی ۔۔۔۔
جس کا ٹائٹل ۔۔۔۔ہپناٹائز اور ٹیلی پیتھی ۔۔۔۔لکھا تھا ۔۔۔۔
سعادت کی پیشانی پر ایک شکن ابھری ۔۔۔۔
اور غائب ہوئی ۔۔۔
” یہ فارغ ہو جائے تو مجھے خبر کردینا ۔۔۔مجھے اس سے بات کرنی ہے ۔۔۔۔”
شھربانو نے اثبات میں سر ہلایا ۔۔۔۔
▪▪▪▪▪▪▪▪
مطھر سویرے ہی اس شخص کی طرف جا پہنچا ۔
وہ شخص ایک عجیب علاقے کی طرف اسے لے گیا ۔۔۔۔
وہاں کا ماحول ہی اس جگہ کی پرسراریت کو ظاہر کر رہا تھا ۔۔۔۔۔
ہر جگہ کنٹینر ۔۔۔تھے ۔۔۔جن پر سامان لادا جا رہا تھا ۔۔۔۔۔
ہر طرف ۔۔۔کچھ عجیب مشکوک شخص گھوم رہے ۔۔۔
ایک کونے میں جوا کھیلی جا رہی تھی ۔۔
بڑے سے ہال نما کمرے میں پہنچے جہاں ۔۔۔ہر جگہ سیل شدہ ڈبے پڑے تھے ۔۔۔۔
سب اپنے کام میں مصروف تھے ۔۔۔۔
ہال نما کمرے کی ایک جانب سیڑھیاں تھی ۔۔۔۔
وہ شخص اسے اسی جانب لے گیا ۔۔۔۔
ہال نما کمرے کی چھت لوہے کی چادر سے بنی تھی ۔۔
ایک شخص سامنے کرسی پے بیٹھا کسی سے فون پہ بات کر رہا تھا ۔
۔۔” ارے بھائی ۔۔۔ہوجائے گا آپ کا کام ۔۔۔بندہ بھی مل گیا ہے ۔۔
وہ اسی کی جانب دیکھ رہا تھا ۔۔۔
” ارے ہاں سر جی آپ بس پیسہ تیار رکھیں ۔۔۔”
اس نے اشارے سے سامنے والی کرسی پر بیٹھنے کا کہا ۔۔۔۔
دو شخص گن لیے۔۔
اس کے دونوں اطراف کھڑے تھے ۔۔
” کیا کام کر سکتا ہے تو ۔۔۔” وہ شخص سگریٹ سلگا کر دانتوں میں پھسا کر ان سے مخاطب ہوا ۔۔
لہجے سے صاف عیاں تھے ۔۔کے وہ کس درجے کا آدمی ہے ۔۔۔
” جو بھی کہے ۔۔۔۔بس مجھے ۔۔۔پیسے چاہیے ۔۔۔۔پچاس لاکھ کم سے کم “
اس شخص کے پیشانی پر بل پڑے ۔۔۔۔اس نے بھنویں اچکا کر کہا ۔۔۔۔
” ہممم پچاس لاکھ ۔۔۔۔پتا ہے کتنے زیرو ہیں ۔۔
وہ تھوڑا ہچکچایا ۔۔۔۔
” آپ کی مرضی ہے ۔۔۔۔۔میں چھوٹا کام نہیں کر سکتا ۔۔۔۔
مجھے بڑے امائونٹ کی ضرورت ہے ۔۔۔
اس نے کرسی آگے کی ۔۔۔۔اپنے دھیمے انداز میں گویا ہوا ۔۔
” اگر ایک کروڑ ۔۔۔۔دوں تو ۔۔۔”
اس کی پیشانی پر پسینہ آگیا ۔۔۔۔حلق میں جیسے کانٹے اٹکے ہو۔۔۔۔
ہچکچاہٹ اور ۔۔۔پریشانی کنٹرول کر کے کہنا شروع کیا ۔۔
(مطھر ۔۔۔کنٹرول ۔۔۔۔اپنی گھبراہٹ ظاہر نہیں ہونے دینی
” آدھے پیسے کام سے پہلے اور باقی کام پورا ہونے کے بعد تین مہینے کا کام ہے ۔۔۔۔سوچ لو جان بھی جا سکتی ۔۔۔ہے ۔
وہ شخص اسے دیکھ ایسے رہا تھا ۔۔۔۔جیسے اس کا ذہن پڑھ لے گا۔۔
” کام کی نوعیت کیا ہے ۔۔۔۔مجھے کیا کرنا ہوگا۔۔
اسے اب یقین تھا اسے خود کش دھماکہ کروایا جائے گا ۔۔۔
” فلحال چھوٹے موٹے کام کرنا ہوں گے ۔۔۔اس کا جب وقت آئے گا تب بتائیں گے ۔۔۔
اس شخص نے کرسی کی پشت سے ٹیک لگا لی ۔۔۔
” مجھے پیسے ابھی چاہیے ۔۔۔”
وہ شخص گھور کر اسے دیکھنے لگا ۔۔
” اوئے راجا بیگ لے کر آ ” ۔۔۔۔۔
اس نے ایک سیاہ بیگ سے پانچ ہزار کے نوٹوں کی دستیاں نکالی ۔۔
▪▪▪▪▪▪▪▪▪
” یہ دس لاکھ ہیں ۔۔۔باقی جب کام شروع ہوگا ۔۔
اس شخص کو ایک اور کال آگئی ۔۔۔
” او میڈم جی ۔۔۔مل گیا آدمی ۔۔۔”
ایک دم سے اس شخص نے اسپیکر پے ہاتھ رکھا ۔۔۔” تو باہر انتظار کر ۔
مطھر کے ہاتھ کانپنے لگے ۔۔۔۔
اس نے کانپتے ہاتھوں سے وہ پیسے لیے ۔۔۔
” اب۔ چلیں ۔۔۔؟؟؟”
وہ جس شخص کے ساتھ آیا تھا اس سے مخاطب ہوا ۔
اس نے رکنے کا کہا ۔۔ہے ۔
وہ کچھ دیر رکے رہے ۔۔۔
” بھائی نے کل آنے کا کہا ہے آجانا ۔۔۔۔”
مطھر ۔۔اثبات میں سر ہلا کے چلا گیا ۔۔۔
” یار تیری تو لائف بن گئی “
وہ کچھ نہ کہہ سکا ۔۔
زبان نے جیسے ساتھ چھوڑ دیا تھا ۔
اس نے وہ پیسے ربیعہ کے اکائونٹ میں۔ جمع کروائے ۔
وہ بینک اکائونٹ ۔۔۔مظفر نے اچھے وقتوں میں کھلوائے تھے
ربیعہ اور مدثر کے اکائونٹ ۔۔۔
پچاس ہزار خود رکھے ۔۔۔باقی پیسے اس نےط بینک میں جمع
کروادیے تھے ۔
▪▪▪▪▪▪▪▪
” مجھے جیل میں آئے ۔۔۔آج پانچواں دن ہے تم لوگ کیا کر رہے ہو ۔۔۔”
تیمور غصہ شہباز اور وسیم پر اتار رہا تھا ۔
” یار تمہیں کس نے کہا تھا ان سے پنگا لینے کا ۔۔۔۔خیر کل یا
پرسوں ضمانت ہو۔ جائے گی ۔۔۔پر باہر آکر کوئی گڑ بڑ مت کرنا “
” باہر تو آنے دے ۔۔۔۔اس لڑکی کا وہ حال کروں گا وہ خود کیس واپس لے گی ۔۔”
تیمور غصے سے جیل کی سلاخوں کو دبوچ کر بولا ۔۔
” یار یہاں تو یہ بات نہ کر ۔۔۔دیواروں کے بھی کان ہیں “
تیمور نے بس غصے سے سر جھٹک دیا۔۔۔۔۔
☆☆☆☆♡◇◇◇◇◇◇◇
” آپی آپ اماں کو چیک اپ کے لیے لے جائیں ۔۔۔جتنی جلدی ہو سکے آپریشن کروا دیں ۔۔
ربیعہ اپنے بھائی کو دیکھ رہی تھی ۔۔۔جو سر جھکائے ہدایت دے رہا تھا۔۔۔۔
” میں نے سب کا قرضہ چکا دیا ہے ۔۔۔۔”
ربیعہ سمجھ چکی تھی ۔۔۔۔پیسہ صحیح جگہ سے نہیں آیا ہے ۔۔
” تم دونوں بھی آپی کے ساتھ جائو ۔۔گھر میں کوئی نہیں ہوگا ۔۔۔آپی یہ آپ۔۔کا اے ٹی ایم کارڈ ۔۔۔”
ربیعہ زیادہ دیر چپ نہ رہ سکی ۔۔۔
” کہاں سے آیا پیسا ۔۔۔؟؟”
ربیعہ۔۔۔گھبراہٹ بڑھنے لگی ۔۔۔
” میں نے خود کو بیچ دیا ہے ۔۔۔” وہ یہ کہہ کر اٹھ کر باہر چلا گیا ۔۔
ربیعہ اپنا کارڈ دیکھنے لگی۔۔۔۔۔اس کے ۔پاس ان باتوں کا وقت نہیں تھا ۔۔۔۔اسے جلدی سے صبیحہ بی بی کو ہاسپیٹل پہنچانا تھا
☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆
وہ چھوٹے موٹے قرضے چکا کے فارغ ہو گیا تھا ۔۔
” آپی ڈاکٹر نے کیا کہا ۔۔۔”
وہ ربیعہ کے ساتھ اپنی ماں کو نہ دیکھ کر پریشان ہو گیا ۔۔۔
” ایڈمٹ کردیا ۔۔۔ہے ۔۔جلد آپریشن ہوگا ۔۔۔کتنے پیسے ہیں ۔۔اکائونٹ میں ۔۔؟؟”
اس کی چھبتی نظریں ۔۔۔مطھر سے برداشت نہیں ہو رہی تھی ۔۔۔
” اس کی فکر آپ نہ کریں ۔۔۔مجھے کارڈ دیں میں نے کچھ پیسے نکلوانے ہیں ۔۔۔”
وہ اپنی آپی کے سامنے سر نہیں اٹھا پا رہا تھا ۔۔۔۔
اس نے پیسے لیے ۔۔۔
اور مکان دیکھنے چلا گیا۔۔۔
مدثر کو وہ پہلے منشیات کے ۔۔پرائیوٹ ہاسپیٹل میں ایڈمٹ کروا آیا تھا ۔۔۔۔
اب اسے کوئی اچھا مکان دیکھنا تھا ۔۔جو رہنے کے قابل ہو ۔۔۔
ایک دو اپارٹمنٹ بھی دیکھ آیا تھا ۔۔۔۔
جہاں اچھی خاصی سیکورٹی تھی ۔۔۔
لیکن اس وقت اس کے پاس ابھی اتنے پیسے نہیں آئے تھے ۔۔۔۔
” آپی سامان پیک کرو ۔۔۔دوسری جگہ شفٹ ہونا ہے ۔۔۔”
وہ جب بھی ربیعہ سے بات کرتا سر جھکا کے کرتا ۔۔۔۔
☆☆☆☆◇♧♧♧♧◇♧
” سھل ۔۔۔کچھ سنا تم نے ۔۔۔” وہ جو سر جھکائے ۔۔اپنی اسائنمنٹ کمپلیٹ کرنے میں لگی تھی ۔۔۔
سوالیہ نظروں سے وہاب کو دیکھا ۔۔۔۔
” تیمور آزاد ہو چکا ہے ۔۔”
اس کے ساتھ ان تینوں کو بھی ۔۔بجلی سا جھٹکا لگا ۔۔۔۔
” پتا تھا مجھے ایسا ہی ہوگا ۔۔۔۔”
رضا دانت پیس کر رہ گیا ۔۔۔
” پھر اندر کروا دیں گے ۔۔۔اور ایسا کروائیں گے ۔۔۔۔کے واپس نہیں آئے گا ۔۔”
چاروں نے تجسس سے اسے دیکھا ۔۔۔۔
” سھل اب کیا کرو گی ۔۔۔۔”
رانیہ منہ کھولے اسے دیکھ رہی تھی ۔۔۔
” اپنا اغوا ۔۔۔۔۔”
سب نے چلانے والے انداز میں کہا ” ک۔۔۔۔ک۔۔۔۔کیا ۔۔
” یس ۔۔۔۔”
اس نے پر اعتماد لہجے میں کہا ۔
” سھل یہ مذاق تھا ۔۔۔”
وہاب غصے سے اسے گھور رہا تھا ۔۔
اس نے نفی میں سر ہلایا ۔۔
سب یونیورسٹی کے پارکنگ ایریا تک آگئے ۔۔
جاری ہے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *