Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Intikam E Mohabbat by Esha Noor Episode14

Intikam E Mohabbat by Esha Noor Episode14

حال ۔
اس کی آنکھ کھلی تب بھی اندھیرا تھا بس خیمے میں ہی ہی روشنی تھی وہ بھی اس چارجر کی بدولت ۔۔۔۔۔
اس نے بیڈ زپ کھولی ۔۔۔بالوں کو لپیٹا جو بکھر کے اس کے چہرے پہ آرہے تھے ۔۔۔
مطھر کو دیکھنے لگی جو ایک کمبل میں سمٹا ہوا تھا ۔۔۔
شاید ایک کمبل اتنی سردی کے لیے ناکافی تھا ۔۔
” اے۔۔۔۔۔ اٹھو ۔۔۔۔” وہ ہممممم ہممم کرنے لگا ۔۔۔۔
وہ اسے چھوڑ کر خیمے سے باہر نکل آئی۔۔۔۔غضب کی سردی ۔تھی ۔
وہ واپس خیمے میں گھس گئی ۔۔۔اندھیرا کچھ کم ہوا تھا ۔۔پر وہ یہ نہیں جانتی تھی ٹائم کیا ہوا ۔ہے ۔
” اے۔۔۔۔۔ اٹھو ۔۔۔۔سونے کے بعد مر جاتے ہو کیا
وہ تھوڑا سا ہلا پر کچھ اثر نہ ہوا ۔۔۔
اب کی بار اس نے زور سے اس کے گال پہ چانٹا مارا
“کیا بدتمیزی ہے ۔۔۔آرام سے نہیں اٹھا سکتی ۔۔۔ہاتھ چلانا۔ ضروری ہے ۔
وہ اسے دیکھ کر مسکرائی ۔۔۔” نہیں ضروری تو نہیں ۔۔بندہ پیر بھی چلا سکتا ہے
وہ اس کے چہرے کے اتار چڑھاؤ دیکھ کے محضوظ ہو رہی تھی ۔۔
” بتائو کیا مسئلہ ہے ۔۔۔” اب سامنے سے وہ بھی ٹھیک ہو کر بیٹھ گیا ۔
” ٹائم کیا ہوا ہے ۔۔۔”وہ دیکھ رہی تھی سامنے سے اسے غصہ تو ایسے چڑھا تھا ۔۔۔۔جیسے اس نے ٹائم نہیں پوچھا گالی دی ہو
” کیا بکواس ہے تم نے ٹائم پوچھنے کے لیے ۔۔۔مجھے جگا دیا ۔۔ وہ بھی تھپڑ مار کے ۔۔۔۔تمہیں کسی کا احساس بھی ہوتا ہے یا نہیں ۔۔
وہ اس پہ چلا رہا تھا ۔
” ٹائم بتائو ۔۔ زیادہ جھک جھک نہ کرو “
☆☆☆☆ ☆☆☆☆
عجیب ہی مٹی کی بنی تھی احسان ماننا تو دور کی بات جیسے اس کا بستر اور خیمہ استعمال کر کے اس پر احسان
کیا ہو ۔۔
بات کرنے کے طریقہ ایسا تھا ۔۔جیسے کوئی اسٹریٹ بوائے ہو ۔۔۔
” ابے منہ سے کچھ پھوٹ ۔۔”
وہ اس کی اس شائستہ زبان پر جھرجھری لے کر رہ گیا۔۔
” چھ بجنے والے ہیں ۔۔۔”
چھ سن کر وہ تو ایسے کھل اٹھی ۔۔۔جیسے کوئی انہونی بات ہو ۔
” تم لوگ کیا سمجھ رہے ہو ۔۔۔تم لوگوں نے مجھے ڈرا دھمکا کے پکڑ رکھا ہے ۔۔۔” وہ اپنا چہرہ بلکل اس کے قریب لے آئی ۔۔۔
” تو سن بیٹا ۔۔۔جب میں نو سال کی تھی ۔۔اس سے بھی زیادہ اونچائی سے رسی باندھ کے مجھے الٹا لٹکایا گیا ۔
یہ کھائیاں تو اس کے آگے کچھ بھی نہیں ۔
وہ شانے اچکا کر۔۔تکبرانہ انداز میں گویا ہوئی ۔۔۔۔ساتھ میں
اس کا ایک زوردار قہقہہ اس کے کانوں تک پہنچا ۔۔
“تو میں کیا کروں ” ۔۔۔اس نے پوری رات سردی کے وجہ سے صحیح سے نیند بھی نہیں لی تھی ۔۔۔۔
اوپر سے اس کے الٹے سیدھے کارنامے سننے کے موڈ میں بلکل نہیں تھا ۔۔۔۔
وہ لڑکی نہیں ایک مکمل عجوبہ تھی ۔۔۔کسی بھی وقت کچھ بھی کر گزرتی ۔۔۔۔
اس سے کچھ بعید نہ تھا ۔۔۔
” آپ کو نیند نہیں تو میرا بستر مجھے عنایت فرما دیں “
لیکن اسنے تو جیسا سنا ہی نہیں ۔۔۔
” پتہ ہے جب میں سترہ سال کی تھی ۔۔۔ایک جیپ ریلی
ہوئی وہ بھی کوہستانی علاقے میں ۔۔۔۔پندرہ میمبر تھے ۔۔
میں تیسرے نمبر پر آئی تھی ۔۔۔اس سے بھی مشکل راستے تھے ۔۔
وہ ہاتھ ہلا ہلا کہ اپنی تعریفوں کے پل باندھ رہی تھی ۔۔۔
اب اس کی باتوں میں کتنا سچ تھا ۔۔۔۔اس کا اندازہ لگانا اس کے لیے مشکل۔ تھا ۔
وہ خوبصوت آنکھوں والی لڑکی ۔۔۔لڑکی کم ایک ولن زیادہ تھی ۔
آخر اس کا ضبط جواب دے گیا ۔۔۔
” پھر آپ ہمارے ساتھ کیوں ہیں ۔۔۔۔آپ کو تو بھاگ جانا چاہیے تھا ۔۔۔”
اسے نیند اور سردی نے تنگ کر رکھا تھا ۔
” اور یہ جو بندر اور بندریا ۔۔بڑے فنے خان بنے گھوم رہے ہیں ۔۔ان کی تو میں دو منٹ میں وہ حالت کر دوں ۔۔۔۔اس کی ماں بھی اسے نہ پہچانے ۔
اس نے اٹھ کر اس لڑکی کو ہٹایا اور خود بستر میں گھس گیا ۔۔۔
☆☆☆☆▪☆♡♡♡♡
” یہ کیا بدتمیزی ہے ۔۔۔”
وہ اس کے اس رد عمل پر تلملا اٹھی ۔۔
” بدتمیزی یہ ہے کہ میں نے پوری رات آپ کی وجہ سے سردی میں گذاری ہے ۔۔۔۔اس لیے مہربانی کر کے مجھے تھوڑی دیر سونے دیں ۔۔۔۔”
آنکھیں اس نے بند کر لی تھی ۔۔
لیکن وہ چپ نہیں ہوئی تھی ۔۔۔
” میں تم لوگوں کے ساتھ اس لیے ہوں ۔۔۔۔دیکھنا چاہتی ہوں ۔۔۔تم لوگوں کا مقصد کیا ہے ۔۔۔کس نے مجھے اغوا کروایا اور کیوں ۔۔
☆☆☆☆☆☆☆▪☆☆☆
اس نے اپنا بھرم تو رکھنا تھا ۔۔۔اب ان کو یہ تو نہیں بتا سکتی تھی ۔۔۔جیپ ریلی دن میں ہوئی تھی ۔اس لیے وہ جیت گئی تھی یہاں معاملہ رات کا ہے ۔۔۔
وہاں کھائی میں پھینکنے سے پہلے ۔۔۔سیفٹی بیلڈ باندھا جاتا ۔۔تھا ۔۔۔لیکن یہاں گری تو واپس آنے کے چانسس بلکل نہیں تھے ۔۔
وہ اسے دیکھ رہی تھی ۔۔۔جس نے اسے ایک طرف دھکیل کے خود بستر قبضے میں کر لیا تھا ۔۔۔
اب اس کی جگہ وہ تھی ۔۔۔
اس جگہ کی سردی غضب کی تھی ۔
☆☆☆☆☆☆♡◇◇◇◇◇◇◇
ماضئ
وہ اس دن زبردستی اسے یونیورسٹی لے آئی تھی ۔۔۔۔
لیکن وہ سب کو دیکھ رہی تھی ۔۔۔
سب بہت خوش تھے ایک وہی اداس تھی ۔۔۔
اچانک کسی نے اس کو بازو سے کھینچ کر درخت کی دوسری طرف کیا ۔۔۔
وہ جو اپنی سوچوں میں گم درخت کے تنے سے ٹیک لگائے کھڑی تھی ۔۔۔
کسی کے اچانک کھینچنے سے چلاتے چلاتے رکی ۔۔۔
سامنے وہ کھڑا تھا ۔۔۔۔
جس کی یاد میں وہ ہیر بن گئی تھی ۔۔۔
” میں کتنے دن سے تمہارا انتظار کر رہا ہوں تم یونی کیوں نہیں آرہی ۔۔۔۔”
وہ اب بھی بنا پلکیں جھپکے سامنے والے شخص کو دیکھ رہی تھی جو اسے خواب لگ رہا تھا ۔۔۔۔
” کیا حال بنا دیا ہے اپنا ۔۔۔۔میں چھ مہینے کیا دور۔ گیا ۔۔۔تم نے روگ پال لیا ۔۔۔۔” وہ اس کا ہاتھ اپنے آنکھوں سے لگا رہا تھا ۔۔۔
وہ وہی پتھر کی مورتی کی طرح کھڑی تھی ۔۔۔بے حس و حرکت ۔۔
” شیری میری جان کچھ تو بولو ۔۔۔
وہ ایک دم جھٹکے سے اپنے حواسوں میں واپس آئی ۔۔۔۔
دو قدم پیچھے ہٹی ۔۔۔۔
” شیری کیا ہوا ۔۔۔” ۔۔۔۔اسکی آواز اس سے دور ہوتی گئی ۔۔۔
وہ تقریبن بھاگتے ہوئے اس جگہ سے دور ہوئی ۔۔۔۔
جہاں وہ کھڑا تھا ۔۔۔۔
وہ کب گھر پہنچی اسے کچھ اندازا نہ تھا۔۔
” شھربانو کیا ہوا تم ٹھیک تو ہو ۔۔۔”
اس نے بس اثبات میں گردن ہلائی ۔
” راحیل کی امی آئی تھی ۔۔پندرہ دن بعد شادی کی تاریخ رکھی ہے اس جمعہ سے رسمیں شروع ہو جائیں گی ۔۔
تمہارے پاس ایک ہفتہ ہے ۔۔کل سحر بھی آجائے گی شادی کی شاپنگ کر آئو ۔۔۔۔”
اس پہ تو بجلیاں گر رہی تھی ۔۔۔۔ایک کے بعد ایک ۔۔۔۔
آج ہی سعادت ملا اور آج ہی اسے کسی اور کی ہونے کا عندیہ مل گیا ۔۔۔۔
” امی ۔۔۔آپ اور سحر جا کے لے آنا ۔۔۔۔۔میری طبیعت نہیں ٹھیک ۔۔۔”
عنبر اور زویا بھی اس کے پیچھے اس کے گھر پہنچ گئی ۔
” تم بنا بتائے یونی سے غائب ہوگئی یہ کوئی طریقہ ہے یار ۔۔۔”
ممتاز بیگم کمرے سے جاچکی تھی سہیلوں کو ایک ساتھ چھوڑ کر ۔۔۔
زویا نے دروازہ بند کیا ۔۔۔۔وہ اب دونوں اس کے قریب بیٹھ گئی ۔۔۔جیسے کوئی گہرا راز بتانا ہو ۔۔۔
” سعادت تم سے ملناچاہتا ہے وہ آج یونی میں بھی آیا تھا ۔۔۔” زویا نے تقریبن سرگوشی کی ۔
” مجھے پتہ ہے ۔۔۔لیکن مجھے اب اس سے نہیں ملنا ۔۔۔”
” تجھے پتا ہے ۔۔۔”
وہ دونوں حیرت زدہ سی گویا ہوئی ۔۔
اسے ایسا لگا جیسے وہ ڈوب کے ابھری ہو ۔۔۔۔اسے صحیح سلامت دیکھ کے دل کو انجانی خوشی ہو رہی تھی ۔۔۔۔
لیکن بچھڑنے کا غم اسے پھر ڈبو دیتا ۔۔۔
” تم ایک بار مل لو ۔۔۔آنٹی انکل سے بات کر لو ۔۔۔وہ مان جائیں گے ۔۔۔”
شھربانو نے حسرت بھری نگاہ سے عنبر کو دیکھا جو اسے جھوٹی تسلیاں دے رہی تھی ۔۔۔
” بس اب میں یہ نہیں چاہتئ میں اپنے والدین کو اپنی وجہ سے کب تک سولی پہ لٹکائوں ۔
۔۔۔اب جو بھی وہ فیصلہ کریں گے مجھے منظور ہے ۔۔میں بار بار ان کا تماشہ نہیں بنا سکتی ۔۔۔تم دونوں سعادت کو سمجھا لینا ۔۔۔۔وہ سمجھ جائے گا ۔۔۔”
” وہ مر جائے گا ۔۔۔بانو ۔۔۔”
زویا اسکے قریب بیٹھ گئی ۔۔۔۔
” ایک بار اس کی جگہ رہ کے سوچو ۔۔۔”
عنبر اس کے شانے پکڑ کر بولی ۔۔۔۔
” مجھے کمزور مت کرو پلیز ۔۔۔”
اس نے اپنا سر پکڑ لیا ۔” پلیز مجھے کمزور مت کرو ۔۔”
عنبر نے اس کے ہاتھ ہٹائے ۔۔۔۔
اس کے بال ٹھیک کرنے لگی ۔۔۔” ہم تمہیں کمزور نہیں کر رہے بس خود کشی سے روک رہے ہیں ۔۔۔”
زویا جانے کے لیے اٹھی۔۔۔اسے کے چہرے پہ ناگواری کے تاثرات صاف ظاہر تھے ۔۔۔
” عنبر چلیں بہت دیر ہو گئی ہے امی گھر میں پریشان ہو رہی ہوگی ۔۔۔اسے تو کسی کی پراواہ نہیں ۔۔
۔ہم سعادت سے کچھ نہیں کہیں گے ۔۔۔وہ کل یونی میں تم سے اسی جگہ ملنا چاہتا ہے ۔۔۔۔جو کہنا ہے تم خود جا کہ کہنا ۔۔۔”
وہ عنبر کو کلائی سے تھامے باہر نکل گئی ۔۔۔
من او وزن اس پہ لاد کے خود ہلکی ہو کے چلی گئی ۔۔۔
اس بوجھ سے اس کا دم گھٹنے لگا ۔۔۔۔
” نہیں اب نہیں ۔۔۔میرا فیصلہ اب اٹل ہے اب سادی کہیں نہیں ۔۔۔ہاں میں اس کا سامنہ کروں گی۔۔۔۔میری زندگی پر سب سے زیادہ حق میرے والدین کا ہے ۔۔۔
وہی تو ہیں جو سب سے زیادہ سچی محبت کرتے ہیں ۔۔۔”
وہ کافی دیر تک خود سے ہمکلام رہی ۔۔۔خود کو تسلیاں دیتی رہی ۔۔۔۔
لیکن سعادت کے نام سے دل تیزی سے دھڑکنے لگتا ۔۔۔۔
☆☆☆☆☆☆☆☆♡◇◇◇◇◇◇◇
حال
” چلو اٹھو یہاں سونے کے لیے نہیں آئے ۔۔۔روشنی ہو گئی ہے ۔
اسے سوئے ایک گھنٹہ بھی نہیں ہوا تھا ۔۔۔۔
پھر سے کوچ کرنے کا حکم آگیا ۔
وہ اٹھا تو وہ وہی اس کے پیروں کی سائیڈ پہ آڑی ترچھی کمبل لپیٹے سوئی ہوئی تھی ۔۔۔
سر اس کی ٹانگوں کے اوپر تھا ۔۔۔
جو ہوا بھرے بستر میں چھپی تھی ۔۔۔
وہ کمبل میں سمٹی بلکل ایک معصوم سے بچے کی طرح لگ رہی تھی ۔۔
وہ اپنے دونوں ہاتھ ملائے ۔۔گال کے نیچے رکھے ہوئے تھی ۔۔
اس نے آہستہ سے زپ کھولی ۔۔۔۔اس کا دل نہیں چاہ رہا تھا ۔
وہ اس کی نیند کو خراب کرے ۔۔۔۔۔۔اس کے بالوں کی کچھ لٹیں اس کی پیشانی پے بکھری تھی ۔۔۔
اس کا دل کیا یہ چہرہ وہ اپنے دل میں چھپا لے ۔۔کوئی اسے نہ دیکھے اس کے سوا ۔۔۔
وہ اپنے خیالوں میں کھویا تھا ۔۔۔جب اس کے اوپر سے خیمہ ہٹ گیا ۔۔۔
ڈرائیور خیمہ ہٹا چکا تھا ۔۔۔۔
اور وہ شخص رسی ہاتھ میں لیے اس لڑکی کو باندھنے کے لیے گھٹنوں کے بل بیٹھ گیا ۔۔
” یہ کیا کر رہے ہیں آپ ۔۔۔۔” اس نے اسے خاموش رہنے کا اشارہ کیا ۔۔۔پر تب تک وہ جاگ چکی تھی ۔۔۔
اس نے اس شخص کو زور سے دکھا دیا ۔۔۔لیکن تب تک وہ اس کے ہاتھ مضبوطی سے اپنی گرفت میں لے چکا تھا ۔۔۔
اس کے گرد رسی لپیٹنے لگا ۔۔۔
” چھوڑو مجھے ۔۔۔کیوں باندھ رہے ہو ۔۔۔۔”
وہ تو جیسے کچھ سن ہی نہیں رہا تھا ۔۔
وہ اس لڑکی کو جیسے ہی کھینچنے لگا ۔۔۔۔
” آپ چھوڑیں میں لے آتا ہوں ۔۔۔”
اس شخص نے اسے گھورا ۔۔۔
” تمہیں اس کے شکل تکنے سے فرصت مل گئی ۔۔۔۔
او مجنوں کی اولاد ۔۔۔کافی ٹائم ہے اس کی شکل دیکھنے کے لیے ابھی جلدی سے یہاں سے نکل ۔۔۔اصل ٹھکانے پر پہنچ جائیں ۔۔۔پھر جتنا جی چاہے اسے دیکھتا رہنا ۔۔۔۔تین مہینے فرصت سے ۔۔۔
فلحال جلدی کر کبھی بھی بارش ہو سکتی ہے راستے بند ہو سکتے ہیں ۔۔۔ہم تمہیں ٹھکانے پہنچائے ۔۔خود بھی کسی ٹھکانے لگے ۔۔۔”
اس کی چہرہ تکنے والی بات پر سھل نے اسے گھور کر دیکھا ۔۔۔
وہ اس سے نظریں چرا گیا ۔۔جیسے اس کی چوری پکڑی گئی ہو ۔۔۔
وہ اب خاموش کہاں رہنے والی تھی ۔
گالیوں کی برسات کر دی ۔
☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆
” شرم نہیں آتی تم لوگوں کو تین مرد ہو کہ اکیلی لڑکی کو باندھ کے لے کر جا رہے ہو ہمت ہے تو ہاتھ کھول کے دیکھ ۔۔۔
پھر پتا لگے کتنے مرد ہو نہتی لڑکی پے ظلم ڈھا رہے ہو ۔۔۔۔بڑے مرد بنتے ہو ۔۔۔”
وہ غصے میں جومنہ میں آیا ۔۔۔بولتی گئی ۔۔۔پاوں اس نے زمین پہ جما دیے تاکے اسے کھینچ کہ نہ لے جا سکے ۔
” ابے دیکھ کیا رہا ہے اٹھا اسے گاڑی میں ڈال ۔۔۔نہیں تو یہ کام میں کر دیتا ہوں ۔۔۔”
وہ سھل کو اٹھائے کے لیے مڑا لیکن اس بار اس کی مزاحمت بڑھ گئی تھی ۔۔۔
” سھل چپ ہو جائو یار کہیں وہ طیش میں آکر کچھ غلط نہ کر لے ۔۔۔۔۔”
لیکن اس پہ تو جنون سوار ہو گیا تھا ۔۔۔
” بھاڑ میں جائو تم بھی ۔۔۔ان کے ساتھ ملے ہوئے ہو ۔۔۔تمہاری بہن کو کوئی اس طرح پکڑ کے لے جائے۔۔۔تب بھی تم اس کا ساتھ دیتے ۔۔۔۔تم بھی انہیں کی طرح ہو ۔۔۔۔”
اس کے پورے وجود سے جیسے کسی نے خون نچوڑ لیا تھا ۔۔۔اس کا وجود اسے بوجھ لگنے لگا تھا ۔۔۔۔وہ اس کے الفاظ کبھی بھی برداشت نہ کرتا ۔۔۔لیکن وہ بھی اس کے لیے خاص بن گئی تھی ۔۔۔پر اسے کہاں پتا تھا ۔۔۔۔
وہ شخص اب اسے خود اٹھانے پہنچ گیا ۔۔
لیکن وہ کہاں برداشت کرتا کے اس کے وجود کو کوئی اور چھو سکے ۔۔۔
اس نے ایک جھٹکے سے سھل کو اپنی گردن پہ لادا ۔۔۔
اس شخص نے ہاتھ بڑھا کہ پیچھے کر دیے ۔۔۔۔
ایک شرارت بھری مسکراہٹ سے اسے دیکھا ۔۔
پر اسے نے یہ سب دیکھا ان دیکھا کر دیا ۔۔۔
اس پر باتوں سے جو تیر سھل برسا رہی تھی اس نے اس کی روح کو چھلنی کر دیا ۔۔۔
وہ کیسے اتنی بڑی بات سن سکتا تھا ۔۔۔
اس کی تو تین بہنیں تھی ۔۔۔
اس سے اب سھل کی گالیاں اور باتیں برداشت سے باہر ہو گئی اس نے پھینکنے والے انداز ۔۔۔
میں اسے گاڑی میں پھینکا۔۔۔جیسے اس نے اس کی بہنوں کے حوالے سے اور گالیاں دینا شروع کی اس نے زور سے اس کی گال پہ چانٹا رسید کیا ۔۔۔۔
تھپڑ اس زور کا تھا ۔۔۔اس کی ایک آنکھ سے آنسو نکل گیا ۔
” چپ بلکل چپ میری بہنیں تمہاری طرح کے کپڑے نہیں پہنتی ۔۔۔مردوں سے کھلے عام عشق نہیں لڑاتی ۔۔۔۔۔چھوٹے کپڑے پہن کہ نہیں گھومتی ۔۔۔۔سموکنگ اور ڈرنک نہیں کرتی ۔۔۔۔جب یہ شوق پال رکھے ہیں تو بھگتو اب ۔۔۔۔
تمہارے ظاہر کی طرح تمہارا باطن بھی ۔۔۔گند سے بھرا ہے ۔۔۔اور میں ۔۔۔۔”
وہ کچھ کہتے کہتے رک گیا ۔۔۔ڈرائیور اور وہ شخص سامان سمیٹ کے گاڑی میں آچکے تھے ۔۔۔
وہ میٹھیاں بھیچ کہ خود غصے پے قابو پانے کی کوشش کرنے لگا ۔۔۔۔
اس نے چہرہ دوسری طرف کر لیا ۔۔۔اس کی آنکھوں سے آنسو نکل آئے تھے ۔۔۔
اور وہ لڑکی ہکا بکا اسے دیکھ رہی تھی ۔۔۔
☆☆☆☆☆☆♡♡◇◇◇◇
اس نے تھپڑ تو اسے زور سے مارا پر اس کی آنکھوں میں کچھ تھا ۔۔۔وہ اندر تک ہل کر رہ گئی ۔۔۔
کیا کشش تھی ۔۔۔
اسے لگا وہ اسے چھو کہ پتھر کر گیا ہے ۔۔۔۔
وہ بلکل چپ ہو گئی ۔۔۔
گاڑی میں بلکل خاموشی چھا گئی ۔۔۔۔
بس ان کے سانس لینے کی آواز تھی ۔۔۔
وہ دونوں گاڑی کی کھڑکی سے باہر دیکھ رہے تھے ۔۔۔۔
جہاں کچھ دور فاصلے پر ۔۔پہاڑوں نے سفید چادر اوڑھ لی تھی ۔۔۔
ایک پل کے لیے دونوں کی نظریں ملی ۔۔۔پھر دونوں نے اپنے چہرے کا رخ موڑ لیا ۔۔۔
انتقام محبت 39
(” میں کیا سوچ رہی تھی ۔۔۔یہ ایک اچھا انسان ہے لیکن یہ تو گھٹیا پن کی ہر حد پار کر گیا ۔
لڑکیوں کو اغوا کرنے تک میں ملوث ہے اور میں اسے ایک اچھا انسان سمجھ بیٹھی ۔۔۔اس دنیا میں سب ایک جیسے مرد ہے ۔۔۔۔کوئی پیسے کی حوس میں گر جاتا ہے کوئی ۔۔۔نفس کی حوس میں ۔۔۔۔سب بھیڑیے ۔ جانور ۔
کچھ دیر پہلے خیمے میں اس کا دل کیا وہ اس کے سینے پر سر رکھ لے ۔۔۔
وہ اسے اپنے خواب نگر کا یک شہزادہ لگ رہا تھا ۔۔
(واقعی میں وہ ایک خوش شکل نوجوان تھا ۔۔۔چوڑا سینا ۔۔۔کشادہ پیشانی ۔۔ایسا لگتا تھا وہ کافی وقت تک جیم جاتا رہا ہے ۔۔۔) لیکن وہی شہزادہ اب۔ اسے ایک دیو لگ رہا تھا۔۔۔۔
جو ایک پری کو قید کر کے لے جا رہا تھا ۔۔
▪▪▪▪▪▪▪▪▪▪
(“میں اس لڑکی کے بارے میں کتنا اچھا سوچ رہا تھا لیکن یہ عزت کے قابل ہی نہیں ۔
۔۔میں اسے اپنی عزت بنانا چاہتا تھا ۔۔۔۔جس کے وجود کو نجانے کتنی گندی نظروں نے دیکھا ہوگا ۔۔۔جس کو نجانے کتنے مردوں نے چھوا ہوگا ۔۔۔۔
کیا میرے لیے یہی لڑکی رہ گئی تھی ۔۔۔۔
جس کے کمر میں لڑکے ہاتھ ڈالے کھڑے ہوتے تھے ۔۔۔وہ بھی اس کی رضامندی سے ۔۔۔۔۔
میں نے تو کبھی کسی لڑکی کو اس نظر سے دیکھا تک نہیں ۔۔۔پھر مجھے یہ کیوں اچھی لگنے لگی تھی ۔۔۔
میں ایک پل میں وہ سب کیسے بھول گیا کہ وہ کیسی لڑکی ہے ۔۔۔وہ میرے لیے ہے ہی نہیں ۔ کیا وہ لڑکی مطھر کے لیے ہو سکتی ہے ۔۔۔؟؟؟۔
جن دو دلوں میں کچھ دیر پہلے محبت پیدا ہو رہی تھی وہاں اب نفرت اپنے پنجے گاڑنے لگی تھی ۔۔
اچانک سے جیپ نے ایک جھٹکہ کھایا ۔۔وہ لڑکی لڑھک کے اس کے اوپر گر گئی ۔
☆☆☆☆♡◇◇◇◇◇
وہ اپنی سوچ میں گم تھی ۔۔جب ایک جھٹکے سے وہ اپنا توازن برقرار نہ رکھ سکی ۔۔
لڑھک کے لڑکے کی گود میں جا گری ۔۔۔۔
اٹھنے کی کوشش کرنے لگی تو اسے محسوس ہوا اس کے بال کسی چیز میں پھنس گئے ہیں ۔۔۔۔
ہاتھ اس کے پہلے ہی بندھے تھے ۔۔۔۔وہ خود کو کافی کمزور اور بے بس محسوس کرنے لگی ۔۔۔
وہ شدید نفرت سے اس کی جانب دیکھ رہی تھی جس نے اپنا چہرہ دوسری جانب کیا ہوا تھا ۔۔۔۔
” بال نکالو میرے ۔۔۔۔گھٹیا انسان ۔۔۔۔”
اس نے شعلہ بار نگاہوں سے اسے دیکھا ۔۔۔۔۔
” گھٹیا انسان سے کیسی امید ” اس کے چہرے پہ طنزیہ مسکراہٹ تھی ۔۔
” میرے بال نکالو ۔۔۔مجھے تکلیف ہو رہی ہے ۔۔۔” اس کے لہجے میں التجا در آئی ۔۔۔
” اوکے ۔۔” اس نے گویا سرگوشی کی ۔۔۔۔
وہ اس کے بال اپنی زپ کے پاس لگے بٹن سے نکالنے لگا ۔۔۔
☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆
وہ اسے نفرت سے دیکھ رہا تھا ۔ لیکن اس نفرت میں بھی کچھ تھا ۔۔۔
۔۔اس کی آنکھوں میں آنسو آگئے تھے ۔۔شاید اسے تکلیف ہو رہی تھی
اس کے بال اس کی جیکٹ کے بٹن میں پھنس گئے تھے ۔۔
اس کا چہرہ اس کے چہرے کے نزدیک تھا ۔۔۔۔اس کے سانس لینے کی لو تک اسے اپنے چہرے پہ محسوس ہو رہی تھی ۔
۔۔۔۔لیکن اس چہرے میں اسے نہ معصومیت نظر آرہی تھی ۔۔۔نہ ہی اس پہ پیار آرہا تھا ۔۔اس وقت ۔ایک ہی جذبہ تھا ۔۔ان کے بیچ وہ تھی نفرت ۔۔۔۔لیکن اس کی التجا اس پر اثر کر گئی ۔
اسکا دل نرم ہوا ۔۔کچھ پل کے لیے ۔۔ہی سہی ۔۔وہ اس کے بٹن میں الجھے بال نکالنے لگا ۔۔۔ہر بار درد سے اس کی آہ نکل جاتی ۔۔
بال نکالنے کی کوشش میں ان کا چہرہ ایک دوسرے سے کئی بار ٹکرایا ۔۔اس کے نرم ریشم جیسے گالوں کا لمس اسے کئی بار محسوس ہوا ۔۔۔۔۔اس کا دل کیا اتنے نرم گالوں کو وہ اپنے ہونٹوں سے چھو لے ۔۔۔۔
نجانے کیوں اس پہ اسے پیار آنے لگا ۔۔۔اس کی التجا بھری نگاہیں ۔
ایک دم سے انگارے برسانے لگی ۔۔
جیسے ہی اس نے آزاد کیا اس لڑکی کے دیکھنے کا زاویہ ہی بدل گیا ۔۔۔وہ تو شاید تکلیف میں اس طرح دیکھ رہی تھی ۔۔اور وہ کچھ اور سمجھا۔۔۔
وہ ایک ہاتھ اس کی بیک سائیڈ کی طرف لے گیا۔۔۔وہ غصے میں کچھ کہتی اسے چپ رہنے کا اشارہ کیا
” ششش۔۔۔۔۔”اس نے انگلی اس کے ہونٹوں پر رکھی ۔۔
اپنا چہرہ اس کے نزدیک لے گیا ۔۔۔
” خاموش رہو میں تمہاری رسی کھول رہا ہوں ۔۔۔”
اس نے اس کے کان کے قریب سرگوشی کی ۔۔۔
لیکن لڑکی کے چہرے پہ کوئی تاثرات نہیں تھے ۔۔۔☆☆☆☆☆☆☆◇◇◇◇◇
دن کے نو بجے وہ اپنے کمرے میں واپس آئی تب تک سعادت آفس کے لیے جا چکا تھا۔
وہ ڈریسنگ ٹیبل پر ڈھے جانے والی حالت میں بیٹھ گئی۔۔۔۔
خود کو آئینے میں دیکھنے لگی ۔۔۔
جہاں آنکھوں کے گرد سیاہ حلقے آ چکے تھے ۔۔۔۔
وہ سھل کی وجہ سے بے چین ہونے لگی اس کی کوئی خبر نہ تھی ۔۔
اس کا دل کیا وہ زور زور سے چلائے ۔۔۔اسے گھٹن ہونے لگی
وہ اٹھ کر کمرے سے باہر چلی گئی ۔۔۔
وہ لان میں ننگے پاؤں گھاس پہ چلنے لگی ۔۔۔
اسے سکون آنے لگا
☆☆☆☆☆◇◇◇◇
” سر آپ نے بلوایا ۔
بلیک تھری پیس سوٹ میں ملبوس۔۔۔کلین شیو ۔۔تیس سال کا نوجوان سر تسلیم خم کیے کھڑا تھا ۔۔
” کوئی نئی خبر ۔۔جانتے ہو کتنے دن ہو چکے ہیں ۔۔۔”
سامنے والے نوجوان کا سر تھوڑا اوپر اٹھا ۔
” سر جان کی امان پائوں تو کچھ عرض کروں ۔۔
اس نے سر کو ہلکی سی جنبش دی ۔
” سر ایک ہفتہ پہلے میڈم ڈرائیور کے ساتھ ۔۔۔ایک انجان علاقے میں گئی ۔۔۔وہاں اتر کے آگے سے اس نے ٹیکسی لی ۔۔۔”
وہ آگے بتاتا گیا ۔۔۔سعادت بنا جنبش کیے اس کا لفظ بہ لفظ حفظ کر رہا تھا۔۔۔۔
” لیکن سر جہاں وہ لوگ رہتے ہیں ۔۔۔وہاں کوئی اجنبی نہیں جا سکتا ۔۔۔نگہبانی بہت زیادہ کی جاتی ہے ۔۔۔”
سعادت نے اسے دیکھا اور ہلکا سا مسکرایا ۔۔۔
” پتے پلٹنا ہمیں آتا ہے ۔۔۔۔تم اپنی شکل غائب کرو ۔۔۔جو ہمیں بتایا ہے وہ تم اب نہیں جانتے ۔۔
سعادت کی لیزر جیسی نظر اس شخص پر پڑی تو وہ کانپ کر رہ گیا
” تو کچھ دیر پہلے آپ نے ہم سے کچھ کہا تھا ۔۔۔”
اس شخص نے نفی میں سر ہلایا ۔۔۔
” ہم تو ابھی آئیں ہے سر ۔۔”
سعادت نے ہمممم کیا اور اسے اشارے سے باہر جانے کا کہا ۔۔
” زمان خان کو فارم ہاوس آنے کا کہو ۔۔۔” اس نے موبائل پہ کال منقطع کی ۔۔۔اور کرسی سے ٹیک لگا کے آنکھیں بند کر دی ۔۔۔۔
☆☆☆☆☆♡◇◇◇◇◇
وہ دیکھ رہی تھی لڑکے کی نیت اس پر خراب ہو رہی ہے ۔۔۔
اس کا بار بار اسے چھونا اسے آگ بگولہ کر رہا تھا ۔۔۔
لیکن بندھے ہاتھ وہ کرتی بھی کیا ۔۔۔۔
اس کی ہلکی شیو اس کے گال کو رگڑ گئی تھی ۔۔۔
( ” چہرہ ہے یا جھاڑیاں ۔۔۔توبہ ہے بندہ شیو ہی کر لیتا ہے
وہ دل ہی دل میں اسے برا بھلا کہنے لگی ۔۔۔۔
اس نے بال آزد کر کے اپنا بازو اس کے گرد حائل کیا تو وہ تلملا اٹھی ۔۔۔
وہ کچھ کہتی اس سے پہلے ۔۔۔اس نے وجہ بیان کر دی ۔۔
ویسے بھی وہ ان دو اجنبیوں کے سامنے اپنی اور اس کی دشمنی عیاں نہیں کر سکتی تھی ۔۔۔
ان کے سامنے وہ اس کا ہمدرد اور ساتھی تھا ۔۔۔
اس نے اس کی حرکتوں پر بہت کچھ ضبط کیا ۔۔۔
(” گن گن کے بدلے نہ لیے تجھ سے تو میرا نام بھی سھل سعادت ملک نہیں ۔
” کچھ کہا آپ نے ۔۔۔۔” اس نے ایکدم سے نظریں پھیر لی ۔۔
” یہ تو ٹیلی پیتھی بھی جانتا ہے ۔۔۔۔سوچ پڑھ سکتا ہے ۔۔
اتنی سردی میں بھی اس کی پیشانی پر پسینے کے چند قطرے آگئے ۔۔۔۔
☆☆☆☆♡♡◇◇◇◇◇◇
ماضی
” امی مجھے کچھ کام ہے وہ نپٹا کے میں جلدی آجائوں گی ۔۔۔”
اپنی ماں کی سوالیہ نظروں کا اس نے جھٹ سے جواب دیا ۔
اس نے چادر اوڑھی ۔۔۔اپنا بیگ اٹھایا ۔۔اور سعادت سے ملنے کے لیے چل پڑی ۔۔۔
کچھ فاصلہ پیدل طے کرنے کے بعد ۔۔اس نے رکشہ لیا ۔۔۔
اسے ایسا لگ رہا تھا کوئی اس کا تعاقب کر رہا ہے ۔۔
جیسے وہ کوئی چوری کرنے جا رہی ہو ۔۔اگر پکڑی گئی ۔۔۔تو اس کے۔ ساتھ اس کی فیملی بھی سولی پر لٹکے گی ۔
آخر وہ اپنی عارضی منزل تک پہنچ چکی تھی ۔۔۔
وہ خود کو سنبھالنے کی کوشش کرنے لگی ۔۔
وہ اس جگہ پہنچ گئی ۔۔۔ جہاں پر سعادت پہلے ہی اس کے انتظار میں کھڑا تھا ۔۔۔
وہ اس تک پہنچتا وہ تیز تیز قدم اٹھاتی اس کے پاس پہنچ گئی ۔
۔۔۔خوشی سے سعادت کی آنکھوں میں آنسو آگئے تھے ۔
وہ جیسے خود پہ قابو کھو بیٹھا تھا ۔۔۔۔
اس کی آنکھوں کی چمک کوہ نور کے ہیرے کو بھی۔ مات دے دیتی ۔
وہ اس کی وہ کیفیت دیکھ کر اندر تک ہل گئی ۔
وہ کتنا خوش تھا ۔۔
” پتہ ہے تجھے میں نے تجھے کتنا مس کیا ۔۔۔۔کل میرے والد آرہے ہیں ۔۔۔تمہارا ہاتھ مانگنے ۔۔۔تم تو ہو ہی میری ۔۔۔بس ایک رسم کرنی ہے ۔۔۔”
وہ اس کے ہاتھ اپنے ہاتھوں میں لیے اس کے ہاتھوں کی طرف دیکھ رہا تھا ۔
جاری ہے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *