Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Intikam E Mohabbat by Esha Noor Episode34

Intikam E Mohabbat by Esha Noor Episode34

اس نے چاروں اطراف دیکھا ۔۔۔چھوٹے چھوٹے قدم اٹھاتی اس چھوٹے سے بنگلو میں داخل ہوئی ۔۔۔
لائونج نفاست سے سجایا گیا تھا ۔۔
دیواروں پہ آیات قرآنی کے نقش لگے تھے ۔۔۔
دیوار کے پاس بڑے سے شوکیس میں کتابوں کے ساتھ کچھ شوپیس بھی رکھے تھے ۔۔
گویا یہ لائونج ہی ان کا ڈرائنگ روم اور اسٹڈی تھا ۔۔۔۔
تین کمرے اور کچن اسے واضع نظر آرہا تھا ۔۔۔
باہر گیراج سے اوپر سیڑھیاں جا رہی تھی ۔
شاید اوپر بھی چھوٹا سا پورشن تھا ۔۔۔۔
وہ بڑے گھر کی ملکہ۔۔۔۔۔ان کے تو خاص نوکروں کے گھر بھی ان سے کئی گنا بڑے تھے ۔۔۔وہ اتنے چھوٹے سے گھر میں اپنی بیٹی کیسے دے سکتی تھی ۔۔۔۔
کچن سے لڑکیوں کے زور سے ہنسنے کی آوازیں آرہی تھی ۔۔۔
وہ ارد گرد کے جائزہ لینے میں محو تھی جب کسی کی مردانہ آواز اس کی سماعت سے ٹکرائی ۔۔۔
” جی کس سے ملنا ہے آپ کو ۔۔۔”
اس نے پیچھے مڑ کر دیکھا ۔۔
ایک اٹھائیس تیس برس کے لگ بھگ نوجوان نظر آیا ۔۔۔۔
نہایت ہی کمزور لگ رہا تھا ۔۔۔جیسے وہ ابھی ابھی کسی بڑی بیماری سے لڑ کر آیا ہو ۔۔۔
” تم مظفر کے بڑے بیٹے ہو۔۔۔؟؟
وہ اپنے ہی انداز میں اس سے مخاطب ہوئی ۔۔۔
” جی لیکن آپ۔۔۔؟؟”
” میں شھربانو ۔۔!!! تمہارے پاپا کا کمرہ کونسا ہے ۔۔۔”
ہنسنے کی آوازیں تھم چکی تھی ۔۔۔
ان کی نظر بھی شاید ان پہ جمی تھی ۔۔۔
” آنٹی آپ ۔۔بیٹھیں ۔۔۔میں ابو کو بلاتی ہوں ۔۔۔”
کچن سے اس کی بڑی بیٹی اس کی مہمان نوازی کرنے چلی آئی تھی
وہ دیکھ رہی تھی ۔۔وہ۔اسے ناپسندیدہ نظروں سے دیکھ رہی تھی ۔۔۔اور وجہ شھربانو جانتی تھی ۔۔
☆☆☆☆☆◇◇◇◇◇◇◇
” بیبی وہ لڑکا آپ کا پوچھ رہا تھا ۔۔۔
اس نے عجیب سی نظروں سے چوکیدار کو دیکھا۔۔۔
اسے پہلے تو کبھی کوئی بات نہیں بتائی گئی تو آج کیوں ۔۔۔کیا مطھر آج پہلی بار اس کے گھر آیا تھا ۔۔۔؟؟؟ یا پہلی بار اس نے اس کا پوچھا تھا
کتنے ہی سوال ذہن میں الجھنے لگے ۔۔۔
” مام کو بتا دو ۔۔
چوکیدار نے اثبات میں سر ہلایا ۔۔اور وہ۔جانتی تھی یہ بات وہ پہلے ہی اسے بتا چکا ہوگا ۔۔۔۔
نمک حلال نوکر ۔۔
وہ سر کو جھٹک کر اندر چلی گئی ۔
کچھ پل کا شور پھر آس پاس وہی خاموشی ۔۔
اس نے کمرے میں آکر اپنے بیگ سے گن نکالی ۔۔
ایکسر سائز والے کمرے کی جانب پلٹی ۔
سامنے کھڑے ٹارگٹ پر اس نے اپنی پوری گن خالی کر دی ۔۔۔لیکن غصہ ابھی بھی کم نہ ہوا تھا ۔۔۔۔دل کو ایک پل کا بھی قرار نہ تھا ۔۔۔۔اس نے گن زور سے دوسری طرف پھینکی ۔۔۔
اس کے پاس اپنے غصے کو کنٹرول کرنے کا ایک ہی حل تھا ۔۔
اور وہ تھا یوگا۔۔
☆☆☆☆☆♡◇◇◇◇◇◇◇
اس نے ہر وہ جگہ ڈھونڈ لی جہاں سھل کا ہونا متوقع تھا ۔۔۔وہ ہر اس جگہ پر گیا ۔۔۔۔آخرکار وہ تھک ہار کر اپنے گھر کی طرف پلٹا ۔۔۔۔
نوٹوں سے بھرا بریف کیس اب بھی اس کے ہاتھ میں تھا ۔۔۔۔وہ اتنی بڑی رقم کسی نوکر کے حوالے نہیں کر سکتا تھا ۔۔۔
ڈھیلی ٹائی کندھے پہ جھول رہی تھی ۔۔۔۔بال بکھر چکے تھے ۔۔۔۔۔ جنہیں وہ صبح جیل لگا کر سیٹ کر کہ گیا تھا ۔۔۔۔۔۔۔کوٹ اتار کے وہ گاڑی میں پھینک چکا تھا ۔۔۔۔
آنکھوں کی رنگت اس کا رونا بیان کر رہی تھی ۔۔۔وہ الجھا سا شخص بوجھل قدم اٹھاتا ۔۔۔۔
لائونج میں داخل ہوا ۔۔۔۔لیکن وہاں جس انسان سے اس کا سامنہ ہوا ۔۔
اس کی بیزاری نفرت اور غصے میں بدل گئی ۔۔۔۔
” یہ یہاں کیا کر رہی ہے ۔۔۔۔۔”
وہ تو جیسے اس پر جھپٹنے والا تھا ۔۔۔
سامنے والی شخصیت نے مغرورانہ انداز میں گردن اٹھائی پھر اکڑی گردن سے مظفر کو دیکھا ۔۔۔۔
” تمیز سے بات کرو ۔۔۔۔ہم نے تمہیں اختیار کیا دیا ۔۔۔ہمیں اپنی حثیت یاد دلانے آگئے ہو ۔
” لیکن پاپا ” اس کا لہجہ دھیمہ ہوا ۔
” تمہارے ہاتھ میں کیا ہے ۔۔”
مظفر کے اگلے سوال نے اس کے ہونٹوں کے ساتھ اسے بھی منجمند کر دیا ۔۔۔
۔۔☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆
” بہتر ہوگا ہم چاروں مطھر کے کمرے میں چل۔کر بات کریں ۔۔۔”
اس نے چاروں اطراف دیکھا ۔۔اور ۔ان سب کے چہرے بھی دیکھ رہی تھی ۔۔۔
” لگتا ہے مطھر کا کمرہ اوپر والے پورشن میں ہے ۔۔۔”
” آپ لوگ میرے کمرے میں چلیں ۔۔۔۔”
اب کی بار مدثر نے جواب دیا ۔۔۔
” کوئی کسی کے کمرے میں نہیں جائے گا ساری بات یہیں ہوگی “
وہ اس کے غصے سے محضوظ ہو رہی تھی ۔۔۔ہمیشہ انسان غصے میں غلط فیصلے کرتا ہے اور وہ یہ۔چاہتی تھی ۔۔
” یہاں آپ کی بہنیں موجود ہیں ۔۔۔اور تمہاری آواز تمہاری امی تک بھی پہنچ سکتی ہے
۔۔۔بہتر ہے ۔۔کمرے میں چل۔کر بات کریں ۔۔۔”
وہ مظفر کی طرف دیکھ رہی تھی جو غصے سے ۔۔۔۔مطھر کو دیکھ رہا تھا ۔۔
☆☆☆☆☆◇◇◇◇◇◇◇◇
ان کے حساب سے تو یہ کمرہ نہایت ہی چھوٹا تھا ۔۔۔۔
ایک طرف بیڈ دوسری اطراف دو صوفے رکھے تھے ۔۔۔
ساری چیزیں بلکل نئی لگ رہی تھی ۔۔۔
اس کی نظر شھربانو پر مرکوز تھی ۔۔
” تم نے میری بیٹی کو چھوڑنے کے لیے ۔۔۔پچاس کروڑ مانگے تھے ۔۔۔”
( اووو ۔۔۔ایک منٹ بھی نہیں لگایا ماں کو پوری رپورٹ دینے میں اور دعوے محبت کے ۔۔
وہ مدثر اور مظفر کی مشکوک نظر اپنے چہرے پہ پڑتے محسوس کر رہا تھا ۔
لیکن اس کی آنکھیں اس عورت پر گڑی تھی ۔۔۔۔
” تین کروڑ تمہاری بیگ میں ہیں اور اور بارہ میں لے آئی ہوں ۔۔۔باقی کی رقم ارینج کر کے تمہیں بتادوں گی ۔۔۔۔”
مظفر کی نظر میں حیرت کی جگہ غصے نے لے لی ۔۔۔
” یہ کیا بکواس کر رہی ہے ۔۔۔”
وہ آگے کچھ کہتا ۔۔
۔۔” بیگ کھولو ۔۔۔” مظفر کے الفاظ پورے کمرے میں گونجے تھے ۔۔۔۔
” لیکن بابا ۔۔
” بیگ کھولو ” اس کی روداد اب یہاں کوئی نہیں سن رہا تھا ۔۔۔۔
” اوکے لیکن ان سب باتوں کا کیا ثبوت ہے تمہارے پاس ۔۔۔یہ سب میں نے مانگا ہے۔۔۔۔یہ سب آپ کارچایہ ہوا کھیل بھی ہوسکتا ہے ۔۔۔”
اب کے وہ کچھ سنبھل کے دھیمے لہجے میں گویا ہوا ۔۔۔۔
” ثبوت میں مظفر اور آپ کے بھائی کو دکھائوں گی ۔۔۔”
اس کے چہرے پر فاتحانہ تاثرات تھے ۔۔۔۔
اس نے اپنا موبائل ان دونوں کے آگے کیا ۔۔
اب کی بار وہ مظفر کی آنکھوں میں خون اترتا دیکھ رہا تھا ۔
۔” تم بھی دیکھ لو ۔۔۔”
یہ ان دونوں کی ہوٹل کی ویڈیو تھی ۔۔۔
اس کے پیروں تلے سے زمین سرکنے لگی ۔۔
(شکر ہوا کہ یہ سب اس نے ان کی بہنوں کے سامنے نہیں دکھایا ۔۔۔
وہ تو ان کا ہیرو تھا ۔۔۔یہ۔عورت کیا بلا تھی ۔۔۔
ہو نہ ہو سعادت کو ہاسپیٹل پہنچانے میں بھی اسی عورت کا ہی ہاتھ ہوگا ۔
اس نے پیپر نکال کے اس کے سامنے رکھے ۔
۔” یہ رہے پیپر سائن کر دینا ۔۔۔ایک ماہ ہے تمہارے پاس ۔
۔۔آج بیس ہے اگلے مہینے کی بیس تک تمہیں تمہاری منہ مانگی رقم مل جائے گی
۔۔۔اور تم اس پیپر پہ سائن کر دینا ۔۔۔۔
اتنی تو غیرت تم میں باقی ہوگی پیسے لینے کے بعد ۔۔۔تم پیپر سائن کر دوگے ۔۔
وہ بڑے تحمل سے اس کی ساری بات سن رہا تھا ۔۔۔اور اپنے بھائی اور باپ کے تاثرات دیکھ رہا تھا ۔۔۔
مظفر کا پورا وجود کانپ رہا تھا ۔۔۔اور مدثر نے کرسی پکڑ لی تھی ۔۔۔
لیکن وہ دونوں اب تک خاموش تھے ۔۔۔۔
” آپ یہ پیسے لے جائیں ۔۔۔مطھر پیپر پر سائن کر دے گا ۔۔۔۔”
اب کے مظفر بولا تو اس کے جیسے الفاظ ہی نہ رپے ہوں ۔۔
وہ جا چکی تھی ۔ اور مدثر نے اس کے سارے پیسے بھی اسے واپس کر دیے تھے ۔۔لیکن اس کے ذہن میں نجانے کتنے سوال اٹھنے لگے ۔۔
وہ کچھ گھنٹے پہلے چوکیدار سے کی باتیں اس کے ذہن میں گونجنے لگی ۔۔
۔( صاحب کو کسی نے گولی مار دی ۔۔۔اور حملہ کرنے والوں کو کچھ پتہ نہیں چلا ۔۔۔۔جس جگہ حملہ ہوا وہاں میڈم اور چھوٹی بیبی کے سوا کوئی نہیں تھا ۔۔۔۔۔اب تو آئے دن تفتیش کرنے والوں کا تانتا بندھا رہتا ہے ۔۔۔
۔لیکن اب پتہ لگا ہے میڈم جی صاحب کو باہر علاج کے لیے لے کر جا رہی ہے ۔۔
۔۔سچ کہوں تو مجھے میڈم پر بلکل بھروسہ نہیں ۔
۔۔۔بس دعا ہے صاحب ٹھیک ہوجائیں ۔
چوکیدار کی باتوں سے اسے پہلے شک ہوا تھا لیکن اب کچھ کچھ یقین ہو چلا تھا ۔
☆☆☆☆☆◇♡♡♡♡♡♡♡♡
وہ گاڑی میں بیٹھنے لگی ۔۔۔مطھر اس کے پاس آیا ۔۔۔۔
” یہ سب کیا تھا ۔۔۔پوری کی پوری فلم ہی بنا ڈالی ۔۔۔۔اور ہم ایک چھوٹے سے کلپ میں پھنسے تھے ۔۔۔۔”
اس نے گاڑی کی طرف پیٹھ کی اور دونوں بازو سینے پر باندھے ۔۔۔۔
” تمہاری اور سھل کی شادی ہوئی ہے ۔۔۔اس کا کوئی ثبوت ہے تمہارے پاس ۔۔۔اگر میں کہوں وہ سب جھوٹ تھا ۔۔۔کیسے ثابت کرو گے وہ تمہاری بیوی ہے ۔۔۔”
وہ کن انکھیوں سے اسے دیکھ رہی تھی ۔۔
” بتائوں کیسے ثابت کروں گا ۔۔۔۔” اس نے اپنا چہرہ اس کے بلکل نزدیک کیا ۔۔۔
” واپس نکاح کر کے ۔۔۔”
اب کی بار اس نے زوردار قہقہہ لگایا ۔۔۔۔
” جب آپ کے پاس نکاح کا کوئی ثبوت نہیں ۔۔۔تو طلاق کس طرح ہوگی ۔۔۔”
وہ کبھی ایک طرف آتا تو کبھی دوسری طرف ۔۔۔
” میں کیا کر سکتی ہوں کیا نہیں وہ میں خوب جانتی ہوں ۔۔۔میں کچھ بھی کرنے کے لیے کسی حد تک بھی جا سکتی ہوں ۔۔۔”
” جی کسی کا خون بھی کر سکتی ہیں ۔۔۔”
اب کی بار شھربانو کو اچھا جھٹکا لگا تھا
◇◇◇◇◇◇◇◇◇◇◇◇◇
” تم نے پیکنگ کر لی ۔۔؟؟؟۔ائیر ایمبولنس کا بندوبست ہوگیا ہے ۔۔۔۔بس تم جلدی سے پیکنگ ختم کرو ۔۔۔”
یہ بات وہ چوتھی بار سن رہی تھی ۔۔۔
” ماما کیا ہم کبھی واپس نہیں آئیں گے ۔۔۔۔؟؟
وہ خود میں کھوئی کھوئی تھی ۔
” میں ایک مہینے کے بعد کچھ دنوں کے لیے آئوں گی۔۔۔۔ جو بقایہ کام بچ گیا ہے وہ نمٹانے اور سب کام ختم کر کہ واپس چلی جائوں گی۔۔۔
لیکن تم !!! اب پاکستان کو بھول۔جائو ۔۔
۔۔میں پانچ مہینے سے بس انہیں کاموں کی وجہ سے رکی تھی
۔۔۔کچھ اکائونٹ فریز ہوچکے ہیں ۔۔۔وہ تو سعادت ٹھیک ہوگا تبھی واپس اکیٹو ہوں گے ۔۔۔باقی سب کچھ میں نے سمیٹ لیا ہے ۔۔۔”
اس نے پہلو بدلا ۔۔۔” اور یہ گھر ۔۔۔؟؟”
” یہ گھر سعادت کے نام ہے اس کا میں کچھ نہیں کر سکتی ۔۔۔مالی اور چوکیدار کے علاوہ میں زیادہ نوکروں کے اخراجات نہیں برداشت کر سکتی ۔۔۔
وہ اٹھی اور شھربانو کے پاس آکر بیٹھ گئی ۔۔
” ماما مجھے مطھر کے گھر کا پتہ چاہیے ۔۔۔۔
شھربانو نے حیرت سے اسے دیکھا۔۔۔
۔” وہ کیوں ۔۔
” مجھے اس کا گھر دیکھنا ہے ۔۔۔۔”
وہ شھربانو کو دیکھ رہی تھی جو اب تک فائلز پہ جھکی اسے ہر بات بتا رہی تھی ۔۔۔
” وہ چیپٹر اب بند ہوچکا ہے ۔۔۔
” مام مجھے مطھر کے گھر کا پتہ بتائیں پلیز ۔ میں بھی وہ چیپٹر بند کرنے ہی جا رہی ہوں ۔۔۔
شھربانو مسکرائی ۔۔
” میری بیٹی سمجھدار ہوگئی ہے ۔۔۔۔ میں نے واٹس اپ کر دیا ہے چیک کر لو ۔۔۔باقی مجھے اس کا نمبر نہیں پتا ۔۔۔”
☆☆☆☆◇◇◇◇◇◇◇◇◇
” بھائی کو پچاس کروڑ لے لینے چاہیے تھے ۔۔۔کیا رکھا ہے اس لڑکی میں ۔۔۔نہ شکل کی اچھی دکھتی ۔۔نہ عقل کی ۔۔۔”
ردا اور ربیعہ نے چونک کر ہما کو دیکھا ۔۔
” لیکن منع بھائی نے نہیں ۔۔۔ابو نے کیا تھا پیسے لینے سے ۔۔۔
ردا نے جھٹ سے جواب دیا
” ایک منٹ تم نے اس لڑکی کو کہاں دیکھ لیا ۔۔۔میں نے تو اسے آج تک نہیں دیکھا ۔۔۔
ھما اور ردا نے ایک دوسرے کو دیکھا ۔۔
” بھائی کی الماری میں کپڑو کے پیچھےاس کی بڑی سی تصویر لگی ہے ۔
۔۔بھائی کے موبائل میں اس کی تصویریں بھری پڑی ہے ۔۔
ھما چپ ہوئی تو ردا شروع ہوگئی ۔۔۔
” ایسے کپڑے پہنتی ہے اللہ میری توبہ ۔
۔۔۔فیس بک انسٹا اور ٹک ٹاک میں تو ایسی ویڈیو اپلوڈ کرتی ہے ۔
۔۔بندہ کانوں کو ہاتھ لگا لے ۔۔
ربیعہ ان دونوں کو حیرت سے دیکھ رہی تھی ۔۔
” تم دونوں کو اتنا کچھ پتہ ہے اور میں کچھ نہیں جانتی ۔۔۔
“کیونکہ آپ آنکھیں بند رکھتی ہے ۔۔
اور وہ دونوں اس کی برائیاں کرنا شروع ہو گئی ۔۔۔
☆☆☆◇◇◇◇◇◇◇◇◇◇
اس نے ڈھیلی سی شرٹ کے ساتھ رف سا ٹرائوزر پہن رکھا تھا ۔۔۔۔بالوں میں پونی لگائے ۔۔۔جوگرز پہنے ۔
۔۔اس نے مطھر کے گھر کی بیل پر ہاتھ رکھا ۔۔۔
دو بیل پر ہی دروازہ کھل گیا تھا ۔۔
دروازہ کسی لڑکی نے کھولا ۔۔۔۔۔سامنے کھڑی لڑکی منہ کھولے اب اسے دیکھ رہی تھی ۔۔
” مجھے اندر آنے کے لیے جگہ مل سکتی ہے “
اسے ایسے ہی کھڑا دیکھ کر بالآخر اسے ہی راستہ لینے کے لیے کہنا پڑا ۔۔
” ہمممم اچھا گھر ہے ۔۔۔”
وہ اندر آکر گھر کا جائزہ لینے لگی ۔۔۔
“اسلام وعلیکم ۔۔”
اسنے سلام نہیں کیا تو سامنے کھڑی لڑکی نے اسے سلام کیا ۔
۔۔اخلاقن اسے سلام کرنا چاہیے تھا ۔۔
لیکن اسے تو جواب دینا بھی ٹھیک سے نہیں آتا تھا ۔۔۔
” وعلیکم ۔۔۔”
وہ چھوٹے چھوٹے قدم اٹھاتی اندر داخل ہوئی ۔۔۔۔
” مطھر گھر پر ہے ۔۔۔؟؟
” کون آیا ہے ۔۔۔” اندر سے کسی عورت کی آواز آئی ۔۔۔
” کوئی نہیں امی ۔۔۔وہ دودھ والا آیا تھا ۔۔۔
اس لڑکی نے وہی سے چلا کر اس عورت کو جواب دے دیا ۔۔۔
” یہ آپ کی مام تھی نا ۔۔۔”
اس نے سوال پوچھا تو سامنے کھڑی لڑکی نے اثبات میں سر ہلایا ۔۔۔
وہ اسی جانب ہولی ۔۔۔
” آپ کہاں جا رہی ہیں ۔۔۔میں نے امی کو آپ کا نہیں بتایا ۔۔۔
وہ رک کر اسکی طرف پلٹی ۔۔۔
” تم مجھے جانتی ہوں ۔۔۔؟؟
سامنے کھڑی لڑکی نے شرمندہ ہوکر ہاں میں سر ہلایا ۔۔۔
” اچھا ۔۔۔میں کون ہوں ۔۔۔” اسنے دونوں بازو سینے پر باندھے ۔۔
” بتائو ۔۔ردا ۔۔۔”
سامنے کھڑی لڑکی نے حیرت سے اسے دیکھا ۔۔۔
” آپ مجھے جانتی ہیں ۔۔۔”
” اگر آپ مجھے جان سکتی ہیں تو میں کیوں نہیں ۔۔۔”
اس نے سر کو جھکا لیا ” بھائی گھر پر نہیں ہیں ۔۔۔آپ تو بھائی کو چھوڑ رہی ہو نہ ۔۔۔؟؟پھر ۔۔”
لیکن اس نے سنا ہی نہیں ۔۔۔اپنا موبائل آگے کیا ۔۔
۔” مطھر کا نمبر سیو کر دو ۔۔۔”
سامنے کھڑی لڑکی نے موبائل نہیں پکڑا
۔۔۔لیکن اسکرین پر مطھر کی جگمگاتی تصویر اس لڑکی نے دیکھ لئ تھی ۔۔
” میں نمبر بتاتی ہوں آپ ایڈ کر لیں ۔۔
اس نے نمبر دھرایا تو سھل نے نمبر سیو کر لیا ۔
” مطھر کا کمرہ ۔۔۔؟؟
” وہ اوپر ہے چلیں میں آپ کو لے چلتی ہوں ۔۔۔”
وہ اب اس کے آگے تھی اور وہ اس کے پیچھے ۔
وہ کمرہ باقی کمروں سے کشادہ تھا ۔
نہایت نفیس عمدہ فرنیچر رکھا تھا ۔۔
” میں کچھ دیر یہاں اکیلے بیٹھ سکتی ہوں ۔۔
اس نے دیکھا سامنے والی لڑکی عجیب سی نظروں سے اسے دیکھنے لگی ۔
وہ باہر چلی گئی تو اس نے اٹھ کر دروازہ بند کر دیا ۔۔۔
“میں تمہارے کمرے میں تمہارا انتظار کر رہی ہوں ۔۔۔جتنی جلدی آسکتے ہو آجائو ۔۔۔
☆☆☆◇◇◇◇◇◇◇◇◇
مطھر شدید غصے میں تھا ۔۔۔اسے اپنے بھائی اور باپ کے سامنے جھوٹا بنا کر وہ چلی گئی تھی ۔۔۔۔
اور وہ کچھ کر بھی نہیں سکا ۔۔۔
اس کی میسج ٹون پھر سے بجنے لگی ۔۔۔ربیعہ اسے کب سے میسج کر رہی تھی ۔۔۔۔
اس نے صبح سے کچھ کھایا جو نہیں تھا ۔۔
اب کی بار اس نے میسج نہیں دیکھا ۔۔۔
” یہاں دل زہر کھانے کو کر رہا ہے ۔۔اور آپی کھانے کا پوچھ رہی ہے ۔۔۔
اب کی بار رنگ ٹون بجنے لگی تھی ۔۔۔اس نے نمبر دیکھا ردا کالنگ آرہا تھا۔۔۔
” اب یہ بھی شروع ہوگئی ۔۔۔” اس نے فون بند کر کے رکھ دیا ۔۔
☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆
وہ کچھ دیر اس کے کمرے کا جائزہ لیتی رہی ۔۔
پھر کچھ سوچ کے اس نے الماری کھولی ۔۔۔
” یہ میں کیا کر رہی ہوں ۔۔
پھر خود ہی اس کا جواب ڈھونڈ لیا ۔۔۔
” جب تک طلاق نہیں ہوتی ۔۔۔میں اس کی بیوی ہوں اور اس کی ہر چیز پر میرا برابر کا حق ہے ۔۔۔”
وہ نہیں آیا تو اس نے سارا غصہ اس کی چیزوں پہ نکال دیا ۔۔۔
الماری سے سارے کپڑے نکال کر اس نے زمین پر پٹخ دیے ۔۔۔
سارا کمرہ الٹ پلٹ کر دیا تھا ۔۔۔
وہ پلٹ کر جانے لگی ۔۔۔تو اسے الماری کے اندر کسی کی تصویر لگی نظر آئی ۔۔۔کچھ فاصلے سے وہ اتنی صاف نہیں تھی ۔۔۔
وہ اس الماری کے قریب آئی ۔۔۔وہاں کسی اور کی نہیں اس کی ہی تصویر لگی تھی ۔۔۔۔
جب وہ کسی کی نقل اتار رہی تھی ۔۔۔۔تب ہی وہ تصویر کھینچی گئی تھی ۔۔۔۔
تصویر کے نیچے صاف الفاظ میں لکھا تھا ۔۔۔میری زندگی ۔۔۔
اسے اپنے دل کی دھڑکن بے ترتیب سی ہوتی ہوئی محسوس ہونے لگی ۔۔۔دل زور سے دھڑکنے لگا ۔۔۔۔
اسے وہ پل یاد آنے لگا جب وہ مطھر کی گود میں تھی ۔۔۔۔
اور وہ زور زور سے چلا رہا تھا ۔۔۔۔
( سھل میں تمہیں کچھ نہیں ہونے دوں گا ۔۔۔تم میری زندگی ہو ۔۔۔۔اسے ہلکا ہلکا سا یاد تھا ۔۔۔وہ کس طرح پاگلوں کی طرح بھاگ رہا تھا ۔۔۔۔اس سے آگے کیا ہوا تھا ۔۔۔اسے کچھ یاد نہیں تھا ۔
وہ بے جان سے وجود کی طرح بیڈ پر بیٹھ گئی ۔
کب اس کی آنکھوں سے آنسو نکلے ۔۔۔اور اس کے رخسار پہ لکیر سی بن گئی ۔۔۔
اس نے پھر موبائل اٹھایا کال کی تو موبائل بند تھا ۔۔
” مطھر پیپر پہ سائن نہیں کرنا ۔۔۔میں پاپا کے علاج کے لیے امریکا جا رہی ہوں ۔۔۔تم میرا انتظار کرو گے نا ۔۔۔؟؟؟”
اسے پھر بھی یقین نہیں تھا اس نے ایک کاغذ پر بھی وہی سب لکھا ۔۔
” مجھے اپنے ممی پاپا کو ایک کرنا ہے ۔۔۔۔”
اس نے وہ خط بیڈ پر رکھ دیا ۔
☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆
وہ گھر پہنچی اور مطھر کے جواب کا انتظار کرنے لگی ۔۔۔۔لیکن اس کی طرف سے کوئی سندیسہ نہ ملا ۔
۔۔۔وہ بے چین سی کمرے میں ٹہلنے لگی ۔۔۔۔۔وہ بار بار اپنے کھلے بیگ اور الماری کی طرف دیکھتئ ۔۔۔۔۔
اس نے کئی بار کال ملانے کی کوشش کی سامنے سے فون بند ہی تھا ۔۔
” مجھے اس کی بہن نے غلط نمبر تو نہیں دے دیا ایسا کیسے ہو سکتا ہے مطھر میری بات کا جواب نہ دے ۔۔۔۔ناراض میں ہو کہ گئی تھی ۔۔۔۔
وہ موبائل کو تکتے خود سی ہمکلام تھی ۔۔۔
اسے آج ہی ساری پیکنگ کرنئ تھی ۔۔۔اپنے فیس بک انسٹا سب اکائونٹ وہ ڈلیٹ کر چکی تھی ۔۔۔۔۔
امریکا جا کے اس نے نمبر بھی بدل لینا تھا ۔۔۔
اس کے بگڑے دوست اس کے سدھرنے پر ہی اسے چھوڑ کر چلے گئے تھے
۔۔وہ سب اچھے وقتوں کے ساتھی اب حالات وہ نہیں تھے ۔۔۔
۔۔۔اس کے ناز اٹھانے والا اس کا والد ہاسپیٹل میں زندگی اور موت کی کشمکش میں تھا ۔۔
شھربانو سے اس کی کبھی بنی نہیں تھی ۔۔
۔وہ۔اب خود بلکل تنہا محسوس کرنے لگی تھی ۔۔۔
وہ پچھلے تین ماہ سے مطھر سے ناراض رہی ۔۔
لیکن آگے کے تین ماہ وہ ٹوٹ کر اس کا انتظار کرنے لگی تھی ۔۔۔۔
شاید کوئی اور اس کے پاس ہوتا تو وہ یوں مطھر کے لیے بے چین نہ ہوتی ۔۔۔۔تنہائی اور پریشانی نے اس کی جگہ دل میں بنا لی تھی ۔۔۔
جس کی بنیاد بہت مظبوط تھی۔۔۔
اسے بار بار مطھر کا ایک سوال پریشان کر رہا تھا ۔۔۔۔
جس کا جواب وہ اسے دینا چاہتی تھی ۔۔۔
وہ موبائل کو تکتے نیند کی وادی میں گم ہوگئی ۔۔۔
☆☆◇◇◇◇◇◇◇◇◇◇◇◇
مطھر غصے اورنارضگی کی وجہ سے پوری رات گھر نہیں آیا تھا
۔۔۔نہ ہی سیل فون کھولا ۔۔۔۔۔وہ کافی دیر تک آوارہ سڑکوں پر پھرتا رہا ۔۔
جب اسے صبح کے وقت نیند آنے لگی ۔۔تبھی ہی وہ گھر پہنچا ۔۔۔۔
مین گیٹ کی ایک چابی اسی کے پاس رہتی تھی ۔۔۔وہ خاموشی سے اوپر اپنے کمرے میں جاکر اوندھے منہ لیٹ گیا ۔۔۔
پوری رات کی تھکن تھی ۔۔۔آدھے گھنٹے میں ہی وہ نیند کی وادی میں کھوگیا ۔۔۔وہ نہیں جانتا تھا ۔۔۔یہ سونا اس کے لیے ٹھیک نہیں تھا ۔۔
☆◇◇◇◇◇◇◇◇◇◇◇◇
” سھل بی بی اٹھ جائو ۔۔۔میڈم آپ کو کب سے بلا رہی ہے ۔۔
سھل کو لگا وہ خواب دیکھ رہی ہے کیونکہ ان کے گھر میں کوئی نوکرانی اب موجود نہیں تھی ۔۔
تو اسے کیوں رضیہ کی آواز سنائی دے رہی تھی
” اس نے بڑی مشکل۔سے آنکھیں کھولی تو سامنے واقعی رضیہ تھی ۔۔۔
” میں نے آپ کی ساری پیکنگ کر لی ہے ۔۔۔ناشتہ بھی بنا دیا ۔۔۔
سھل اٹھ کر اس کی گردن میں بانہیں ڈالے جھولنے لگی ۔۔۔۔
” تھینکس رضو ۔۔۔۔آپ نے میرا اتنا بڑا مسئلہ حل کر دیا ۔۔۔۔۔۔”
پھر اس نے پوری آنکھیں کھولی اور اس کا دماغ جاگ چکا تھا ۔۔۔
۔۔” آپ تو چھوڑ کے جا چکی تھی ۔۔ اس نے اثبات میں سر ہلایا ۔۔
” ہاں لیکن آپ لوگوں کو الوداع کہنے آئی تھی ۔۔۔۔اور بیبی کے تھوڑے بہت کام سمیٹنے ۔۔۔۔آپ لوگ مجھے بہت یاد آئو گے ۔۔۔
سھل ان کی محبت دیکھ رہی تھی ۔۔۔۔واقعی کچھ رشتوں کے کوئی نام نہیں ہوتے ۔۔۔۔لیکن وہ واقعی ہر رشتے سے سچے ہوتے ہیں ۔۔
اس نے پھر موبائل اٹھا کہ چیک کیا ۔۔۔۔لیکن کوئی جواب نہیں آیا تھا ۔۔۔۔
اب کے اسے کبھی ردا تو کبھی مطھر پہ غصہ آرہا تھا ۔۔۔۔
” میں کل سے آپ کے جواب کا انتظار کر رہی ہوں ۔
۔۔۔لیکن مجھے لگتا تم مجھے اپنی زندگی سے نکال چکے ہو ۔۔
ہم رات کو اسپیشل فلائٹ سے امریکا جا رہے ہیں ۔۔۔۔اگر کچھ وفا اور محبت باقی ہو تو الوداع کہنے آجانا ۔۔۔
اس کے ہاتھ کانپ رہے تھے ۔۔۔۔آنکھوں میں نمی تھی ۔۔۔
اس نے موبائل ایک طرف اچھالا ۔۔۔اور باتھ روم کا رخ کیا۔
جاری ہے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *