Intikam E Mohabbat by Esha Noor NovelR50798 Intikam E Mohabbat by Esha Noor Episode27
No Download Link
253K
35
Rate this Novel
Intikam E Mohabbat by Esha Noor Episode01 Intikam E Mohabbat by Esha Noor Episode02 Intikam E Mohabbat by Esha Noor Episode03 Intikam E Mohabbat by Esha Noor Episode04 Intikam E Mohabbat by Esha Noor Episode05 Intikam E Mohabbat by Esha Noor Episode06 Intikam E Mohabbat by Esha Noor Episode07 Intikam E Mohabbat by Esha Noor Episode08 Intikam E Mohabbat by Esha Noor Episode09 Intikam E Mohabbat by Esha Noor Episode10 Intikam E Mohabbat by Esha Noor Episode11 Intikam E Mohabbat by Esha Noor Episode12 Intikam E Mohabbat by Esha Noor Episode13 Intikam E Mohabbat by Esha Noor Episode14 Intikam E Mohabbat by Esha Noor Episode15 Intikam E Mohabbat by Esha Noor Episode16 Intikam E Mohabbat by Esha Noor Episode17 Intikam E Mohabbat by Esha Noor Episode18 Intikam E Mohabbat by Esha Noor Episode19 Intikam E Mohabbat by Esha Noor Episode20 Intikam E Mohabbat by Esha Noor Episode21 Intikam E Mohabbat by Esha Noor Episode22 Intikam E Mohabbat by Esha Noor Episode23 Intikam E Mohabbat by Esha Noor Episode24 Intikam E Mohabbat by Esha Noor Episode25 Intikam E Mohabbat by Esha Noor Episode26 Intikam E Mohabbat by Esha Noor Episode27 (Watching)Intikam E Mohabbat by Esha Noor Episode28 Intikam E Mohabbat by Esha Noor Episode29 Intikam E Mohabbat by Esha Noor Episode30 Intikam E Mohabbat by Esha Noor Episode31 Intikam E Mohabbat by Esha Noor Episode32 Intikam E Mohabbat by Esha Noor Episode33 Intikam E Mohabbat by Esha Noor Episode34 Intikam E Mohabbat by Esha Noor Last Episode
Intikam E Mohabbat by Esha Noor Episode27
Intikam E Mohabbat by Esha Noor Episode27
وہ شخص فائلز کھولنے لگا ۔۔۔
” سر یہ سب میں آفس میں دیکھ لوں گی ۔۔۔”
وہ شخص فائل دیکھنے کے بہانے کافی نزدیک آچکا تھا ۔۔
آج اس کے باس کا ۔۔۔۔ عجیب سا انداز تھا اتنی تو وہ بھی بچی نہ تھی ۔۔۔کے موقع کی نزاکت کو نہ سمجھ سکے ۔۔۔
اس شخص نے بازو اس کے شانے پہ رکھا
” لیکن سر ہم یہاں کام کے سلسلے میں آئے تھے ۔۔۔”
اس کا لہجہ تلخ ہوا ۔۔۔
وہ شخص اٹھ کر ایک مشروب گلاس میں انڈیلنے لگا ۔۔
” ہا ہا ہا ہا ۔۔۔او کم آن سویٹی اب تم اتنی بھی بھولی نہیں ہو ۔۔
وہ اب اسی صوفے پر اس کے بلکل نزدیک آکر بیٹھ گیا ۔۔۔۔
” آپ کہنا کیا چاہتے ہیں سر ۔۔۔
وہ ایک دم سے اٹھی ۔۔۔
لیکن اس شخص نے اس کا ہاتھ تھام کر ایک جھٹکا دیا ۔۔قریب ہوتا ۔وہ اس شخص پر گر جاتی لیکن اس نے خود کو سنبھال لیا ۔۔۔
” سر لگتا ہے آپ ہوش میں نہیں ہے ۔۔۔”
اس شخص کے تیور ایک دم سے بدلے ۔۔۔
” سیدھی طرح بتائو ۔۔کتنے پیسے لوگی ۔۔۔۔میں جانتا ہوں تم کتنی معصوم اور بھولی ہو ۔۔۔یہ ڈرامہ بند کرو اور مدے پر آئو ۔۔۔۔
۔۔۔۔۔شھربانو کے ہاتھ پیر ٹھنڈے پڑنے لگے
☆☆☆☆☆♡◇◇♡♡♡◇◇◇
دروازہ ممتاز بیگم نے کھولا ۔۔
” اسلام وعلیکم امی ۔۔
” وعلیکم السلام ۔۔اندر آجائو ۔۔
” نہیں امی ۔۔۔شھربانو خوامخواہ ۔۔۔تماشہ بنا دے گی اگر میں اندر آگیا ۔۔”
زبردستی ایک مصنوعی مسکراہٹ چہرے پہ لایا ۔۔۔
” وہ گھر پر نہیں ہے۔۔۔”
وہ دیکھ رہا تھا یہ بات کہتے ہی ممتاز بیگم تھوڑی شرمندہ ہوئی ۔۔۔
” کہاں گئی ہے وہ !!!۔۔۔آفس !!!۔۔۔۔او نو ۔۔
اس نے ممتاز بیگم کے جواب تک کا انتظار نا کیا ۔۔۔۔
وہ گاڑی چلا نہیں اڑا رہا تھا ۔۔۔۔۔
وہ آفس پہنچا تو وہاں بھی شھربانو نہیں تھی ۔۔۔اب اسے پورا یقین تھا۔۔۔وہ فارم ہاوس پر ہی ہے ۔۔۔
وہ جتنی تیز گاڑی چلا سکتا تھا ۔۔۔اسی اسپیڈ سے گاڑی دوڑا رہا تھا۔۔
وہ دل سے دعا کرنے لگا اسے کچھ ہوا نہ ہو ۔۔۔۔
☆☆☆☆☆♡◇◇♡♡◇◇◇
” سر دیکھیں آپ کو غلط فہمی ہوئی ہے ۔۔۔میں ویسی لڑکی نہیں ہوں ۔۔۔”
اس شخص نے اس کے چہرے کو تھام لیا ۔۔۔۔اسے ایسا لگ رہا تھا اس شخص کی انگلیاں اس کے گالوں میں دھنس جائیں گی ۔۔
” شرافت سے میرے ساتھ تعاون کرو ۔۔۔ورنہ انگلی ٹیڑھی کرنا ہمیں آتی ہے ۔۔۔۔”
اس نے پورے زور سے اس شخص کو دھکا دیا ۔۔۔خود کو آزاد کروا کے دروازے کی طرف لپکی ۔۔
دروازہ لاک تھا وہ دروازے کو زور زور سے پیٹنے لگی ۔۔۔
” کوئی ہے ۔۔۔۔کوئی ہے ۔۔۔
اس شخص نے اسے بالوں سے کھینچ کر بیڈ پر گرایا ۔۔
☆☆☆☆☆♡◇♡◇◇◇◇◇
اس دور میں نئے نئے موبائل فون متعارف ہوئے تھے ۔۔۔۔
وہ اپنے اسی موبائل سے کئی بار کوشش کر چکا تھا ۔۔۔۔
لیکن وہ موبائل کسی خاص حد تک کام کرتے تھے ۔۔۔
اس کے لیے ایک ایک سیکنڈ قیمتی تھا ۔۔۔
اس نے ایک گھنٹے کا فاصلہ پچیس منٹ میں طے کیا ۔۔
وہ اب اسے فارم ہاوس دیکر پچھتا رہا تھا۔
☆☆☆☆☆◇◇◇◇◇◇◇◇
اس نے گلاس اس کے سر پہ مارا لیکن اس شخص نے نیچے جھک کر اپنا دفاع کیا ۔۔
وہ اپنے آپ کو بچانے کے لیے بھاگ کر ۔۔باتھ روم میں گھس گئی ۔
باتھ روم کا دروازہ اندر سے لاک کر دیا ۔۔
خود دروازے سے ٹیک لگا کر رونے لگی۔۔آئینے میں خود کو دیکھا تو پہچان نا پائی ۔۔۔
گالوں پر انگلیوں کے نشان ۔۔۔لمبے بال بکھرے اور مکمل الجھ چکے تھے ۔۔
وہ شخص اب باتھ روم کا دروازہ پیٹ رہا تھا ۔۔۔
” باہر نکلو آرام سے ۔۔۔۔کچھ پل کی تو بات ہے ۔۔۔۔ڈارلنگ ۔۔۔ہا ہا ہا ۔۔
تمہیں یہاں بچانے کوئی نہیں آئے گا ۔۔۔۔یہ آبادی سے بہت دور ررررر ۔ہے ۔۔۔۔ہا ہا ہاہا ۔۔۔۔تم ایسے نہیں مانوں گی میں اس کی چابی لے کر آتا ہوں ۔۔۔۔۔”
اس شخص نے پھر سے شیطانی قہقہہ لگایا ۔۔۔۔
وہ اب دعا کرنے لگی ۔۔۔کاش کوئی مسیحا آجائے ۔۔۔خدا کسی کو تو بھیج دے اس کی مدد کو ۔۔کاش کوئی فرشتہ آجائے ۔۔
۔☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆
حال
وہ اس جگہ پہنچ گئے تھے ۔۔۔جہاں انہیں راستہ نظر آیا تھا ۔۔۔۔واقعی میں وہ جگہ پہلے والی جگہ سے کشادہ تھی ۔۔
عین اسی جگہ دو قدم کے فاصلے پر بہت بڑی کھائی تھی ۔۔۔
جیسے آبشار پہاڑ کے اندر جا رہی ہو ۔۔۔
وہ دونوں اوپر دیکھتے پھر نیچے دیکھتے ۔
” مجھے نہیں لگتا ۔۔ہم یہاں سے اوپر جا پائیں گے ۔۔زرا سا بھی پاوں پھسلا ۔۔۔سیدھا پاتال میں پہنچ جائیں گے ۔
وہ اس کی جانب دیکھ کر مایوسی سے گویا ہوا ۔۔۔
” لیکن اگر ادھر رہے تو بھی مر جائیں گے ۔۔اب کوشش تو کرنی پڑے گی ۔۔آر یا پار ۔۔۔۔( ڈو یا ڈائے ۔”
” ایک بات کہوں ۔۔۔۔یا تو تم بہت زیادہ بہادر ہو ۔۔۔یا پھر پاگل ۔۔۔۔تیسری کوئی صورت نہیں بنتی ۔۔۔ہم یہاں سے اوپر کیسے چڑھ پائیں گے ۔۔۔کچھ بھی تو نہیں ہمارے پاس ۔
وہ اب بلکل مایوس ہوچکا تھا ۔۔
” ہم یہیں سے باہر نکلے گے ۔۔۔تم اگر یہ رسک نہیں لے سکتے تو نا لو ۔۔۔لیکن میں اسی جگہ سے باہر جائوں گی ۔۔۔۔”
اس کی باتوں پر اسے اب غصہ آرہا تھا ۔۔۔
” پاگل ہو گئی ہو ۔۔۔میں تمہیں خود کشی نہیں کرنے دوں گا ۔۔
وہ بلکل اس کے مقابل آگیا ۔۔۔۔وہ جو ادھر اودھر کچھ ڈھونڈنے کی کوشش کر رہی تھی ۔۔۔
☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆◇◇◇
شھربانو اب مظفر کی فیملی کے ساتھ موجود تھی ۔۔۔۔
” کیا تم لوگوں سے مطھر نے کوئی رابطہ کیا ۔۔۔
مطھر کی بڑی بہن( ربیعہ ) نے افسردگی سے نفی میں سر ہلایا ۔۔۔
” اس کے پاس موبائل تو تھا نا ۔۔۔؟؟
وہ پریشانی میں ان سب کے اترے ہوئے چہرے بغور دیکھ رہی تھی ۔۔۔
” کیا ہوا میرے بھائی کو ۔۔۔۔آپ کو پتا ہے وہ کہاں ہے ۔۔
ھما اس کے پاس آکر بیٹھ گئی ۔۔
” نہیں مجھے نہیں پتا ۔۔۔لیکن اگر اس سے کوئی رابطہ ہو ۔۔۔پلیز مجھے ضرور بتانا ۔۔۔۔”
وہ جانے لگی ۔۔۔تو پیچھے سے مطھر کی بڑی بہن غصے میں کچھ کہہ رہی تھی ۔۔۔
اس کے صرف چند الفاظ اس کی سماعت تک پہنچے ۔۔۔
” ہم آپ کو کیوں بتائیں ۔۔۔وہ کیسا ہے کہاں ہے ۔۔۔”
وہ آگے بھی بہت کچھ کہہ رہی تھی ۔۔۔
لیکن اس کے پاس سننے کا ٹائم بلکل نہیں تھا ۔۔۔
☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆
۔۔سھل ایک طرف سے چڑھنے کی کوشش کرنے لگی ۔۔۔۔
اس کا پاوں دو بار پھسلا ۔۔۔
پہلی بار تو زمین سے جا لگی لیکن دوسری بار ۔۔مطھر نے اسے تھام لیا ۔۔۔
لیکن وہ مطھر کے بازووں سے پلک جھپکتے نکل گئی ۔۔۔
” سھل۔ضد چھوڑو ہم کوئی اور جگہ ڈھونڈتے ہیں ۔۔۔” وہ جانتی تھی وہ اسے جھوٹی تسلی دے رہا ہے ۔۔وہ ایک سرنگ نما غار تھی ۔۔۔جو اتنی بڑی نا تھی ۔۔۔پیچھے سے وہ ہر جگہ دیکھ کہ آئے تھے ۔۔
” کیوں !!! تم بھول بھلیاں کھیل رہے ہو ۔۔۔۔جو تمہیں دوسرا راستہ مل جائے گا ۔۔۔۔
یہ جگہ ملی ہے غنیمت سمجھو ۔۔۔میں جانتی ہوں یہاں سے نکلنا مشکل ہے لیکن ۔۔میں بنا لڑے جنگ نہیں ہار سکتی ۔
وہ اسے ہی دیکھ رہا تھا ۔۔۔۔
” واقعی میں تم بہت ہی بہادر لڑکی ہو ۔۔۔۔سنو ۔۔۔مجھے نہیں پتا ہم یہاں سے نکل پائیں گے کہ نہیں ۔۔۔۔لیکن میں مرنے سے پہلے ۔۔۔تم سے ایک بات کہنا چاہتا ہوں ۔۔۔” وہ کمر پہ ہاتھ رکھے غصے سے اسے گھور رہی تھی ۔۔۔
اس کے چہرے کے اتار چڑھاؤ ۔۔۔اس کا گھبرانا ۔
” بولو میں سن رہی ہوں !!
وہ کچھ دیر خاموش رہا ۔اب کیا کان چہرے سے ہٹا کہ تیری ہتھیلی پہ رکھ دوں ۔۔
وہی پرانا نداز چھوٹی سے بات پہ چڑ جانا ۔۔
” سھل کیا تم پوری زندگی میرے ساتھ گزار سکتی ہو ۔
مطھر نے اس کے ہاتھ اپنے ہاتھوں میں لے لیے
☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆
میں ہمیشہ اس رشتے کو نبھانا چاہتا ہوں ۔
اس نے زوردار قہقہہ لگایا ۔۔۔
” واہ کیا جگہ ڈھونڈھی ہے پرپوز کرنے کے لیے ۔۔۔”
وہ اب بھی اس کا چہرہ دیکھ کر ہنسے جا رہی تھی ۔۔۔
اس کی ہنسی ایک جھٹکے سے رکی ۔۔۔۔کیونکہ اس نے اپنے ہونٹ اس کے ہونٹوں پہ رکھ دیے ۔۔۔۔
وہ تو گویا جیسے پتھر ہی بن گئی ۔۔۔۔
☆☆☆☆☆♡◇◇◇◇♡◇◇◇◇
ماضی ۔۔
باتھ روم کے دروازے میں آٹو لاک کے سوا کوئی کنڈی نہ تھی ۔۔
جس کی وجہ سے وہ باآسانی چابی سے کھل گیا ۔۔۔
اس نے پورا زور لگا کہ دروازہ پکڑا ہوا تھا ۔۔
لیکن سامنے والا شخص اس سے زیادہ طاقتور نکلا ۔۔۔
اس نے زور سے دھکیلا ۔۔۔تو وہ الٹے منہ جا کہ باتھ روم میں گری ۔۔۔
وہ شخص اسے گھسیٹتا ہوا کمرے میں لے آیا ۔۔
وہ اب اس شخص کے پیر پکڑے ہوئے تھی ۔۔۔
” خدا کے لیے مجھے چھوڑ دو ۔۔
وہ ابھی اس کے پاوں میں ہی گری تھی ۔۔۔۔
اس شخص نے اسے اٹھایا ۔۔کمر میں ہاتھ ڈال کہ اسے اپنے نزدیک کیا ۔۔۔وہ اس شخص کی گرفت سے آزاد ہونے کہ لیے مچل رہی تھی ۔۔۔۔کہ ۔
دھڑام سے کمرے کا دروازہ کھلا ۔۔۔
☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆
سعادت نے دو گھنٹے کا فاصلہ ایک گھنٹے میں طے کیا ۔۔۔۔
” سر آپ ۔۔۔” گارڈ نے گھبرا کر اسے دیکھا ۔۔۔
” کیا یہاں دوسری لڑکی آئی ہے۔؟
” وہ سر ۔۔۔” وہ گارڈ کچھ کہتا اس سے پہلے ۔۔۔وہ اندر جا چکا تھا ۔۔۔
نوکر لائونج میں موجود تھے ۔۔اور وہ عورت بھی ان کے ساتھ تھی ۔۔۔
” کمار کہاں ہے ۔۔۔”
سعادت وہاں موجود نوکروں پر دھاڑا ۔۔
” سر اوپر والے ک ک ۔۔
اس کا جملہ پورا سننے کے لیے اس کے پاس ٹائم نہیں تھا ۔۔
وہ تیزی سے اوپر کی جانب لپکا ۔۔۔اس نوکر کی بات اس کے منہ میں ہی رہ گئی ۔
وہ تیزی سے ہر کمرے کا دروازہ کھول رہا تھا ۔۔۔
تیسرے کمرہ کھولتے ہی ۔۔۔وہ بھیانک منظر اس کے سامنے تھا ۔۔
☆☆☆☆♡♡◇◇◇◇◇◇◇
حال ۔۔
وہ اپنی اس حرکت پر خود سے شرمندہ ہونے لگا ۔
” یہ کیا بدتمیزی تھی ۔۔۔
“اس بدتمیزی کو محبت کہتے ہیں ۔۔۔۔۔اور ہم آپ سے بے پناہ محبت کرتے ہیں ۔۔۔”
وہ سھل کے چہرے پہ آتی سرخی کو بغور دیکھ رہا تھا ۔۔
” اب نکلنے کے بارے میں بھی سوچیں ۔
” اس کا مطلب ہے تم بھی مجھ سے ۔۔
اس نے مسکرا کر چہرہ دوسری طرف کر لیا ۔۔
اور وہ خوشی سے اچھلنے لگا ۔۔
☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆
اس نے ایک سمت کا تعین کیا ۔۔
وہ بار بار اوپر جاتی ۔۔آخر کار وہ آخری دفعہ چڑھنے میں کامیاب ہوگئی ۔۔۔۔
مطھر بھی اس کی پوری طرح سے مدد کر رہا تھا ۔۔۔
کچھ پل کو تو ایسا لگا وہ گئی اس کھائی میں ۔۔۔لیکن شاید قسمت کو ان کی آزادی منظور تھی ۔۔۔۔۔
وہ اس غار سے باہر نکلی تو تھک کے چکنا چور ہوگئی تھی ۔۔۔پورے جسم میں درد ہو رہا تھا ۔۔۔
پورے جسم میں خراشیں آئی تھی ۔۔۔۔
اس نے اب مطھر کو نکالنے کے لیے اس کی طرف
ہاتھ بڑھایا ۔۔۔۔
وہ بھی اب اس کی مدد سے باہر نکل چکا تھا ۔۔
وہ دونوں اتنے تھک چکے تھے ۔۔۔۔آسمان کی طرف منہ کر کےنڈھال سے پڑے تھے ۔۔۔
” کیا ہم آزاد ہے ۔۔۔”
وہیں لیٹے لیٹے اس نے مطھر سے سوال کیا ۔۔۔
اسے اب بھی یقین نہیں تھا ۔۔۔۔
” ہاں ہم آزاد ہیں ۔
سورج ڈوب چکا تھا ۔۔۔۔۔غار میں درجہ حرارت گرم تھا لیکن باہر کا درجہ حرارت نقطہ انجماد سے بھی کم تھا ۔۔ پہاڑ پر چاروں طرف برف ہی برف تھی ۔۔۔
نارمل حالات میں وہ سیاہوں کی پسندیدہ جگہ تھی
سفیدر چادر کی ایک دبیز تہہ ہر طرف پھیلی تھی ۔۔۔سردی کی شدت انتہا کو پہنچی ہوئی تھی ۔۔۔
سردی سے اب ان کا خون جمنے لگا۔۔
☆◇◇◇◇◇◇◇◇◇◇◇◇
وہ اس کھائی نما غار سے تو باہر نکل آئے لیکن باہر کا موسم
شدید سرد تھا ۔۔
ہر طرف اندھیرا پھیلنے لگا تھا ۔۔
گرم کپڑو کے نام پر انہوں نے صرف جیکٹ پہنی تھی ۔۔۔جو اتنی شدید سردی کو روکنے کے لیے ناکافی تھی۔۔
‘ سھل اٹھو ۔۔۔۔ہمیں رات گزارنے کے لیے کوئی جگہ تلاش کرنی ہے ۔۔”
ان دونوں کے سردی میں دانت بجنے لگے تھے ۔
” مجھ میں اب چلنے کی سکت بلکل نہیں ہے ۔۔۔مطھر میری ٹانگیں ۔۔۔!!! ایسا لگتا ہے خون رگوں میں جم چکا ہے ۔
وہ اٹھ کر ادھر اودھر نظر دوڑانے لگا ۔۔۔۔
وہ تھوڑا اونچائی پر چڑھنے لگا ۔۔۔
” کہاں ۔۔۔۔جا ۔۔رہے ہو ۔۔۔رکو ۔۔میں بھی چلتی ہوں ۔۔”
سھل کی سانس پھول رہی تھی ۔۔۔۔۔۔
وہ اسے دیکھ رہا تھا ۔۔۔جو برف میں گرتی پڑتی ۔۔اس کی طرف آرہی تھی ۔۔۔
” تم ٹھیک ہو ۔۔۔”
وہ نفی می سر ہلانے لگی ۔۔۔
حالت تو اس کی بھی ٹھیک نہیں تھی ۔۔
انہیں پہاڑ کی دوسری طرف کچھ گھر نظر آئے ۔۔۔۔شاید کوئی وادی تھی ۔۔۔۔
کوئی چھوٹا سا گاوں تھا ۔۔۔۔
” سھل وہ دیکھو ۔۔۔آبادی کے آثار ۔۔
وہ دیکھ رہا تھا سھل آنکھیں بھی بمشکل کھول پا رہی تھی ۔۔
وہ کچھ فاصلے ہی طے کر پائی ۔تھی ۔۔۔ مجھ سے اب چلا نہیں جا رہا ۔۔”
وہ گھٹنوں کے بل برف پہ بیٹھی ہی تھی کہ ایک طرف لڑھک کہ گر گئی ۔۔۔۔
وہ اب تیزی سے سھل کی طرف لپکا ….
وہ گھٹنوں کے بل برف پہ بیٹھ کر اس کا سر اپنی گود میں رکھا ۔۔۔۔
اس کے ہونٹ بلکل نیلے پڑ رہے تھے ۔۔۔
” سھل سھل آنکھیں کھولو ۔۔۔۔کوئی ہے ۔۔
وہ اپنی محبت کو اپنی گود میں دم توڑتے ہوئے دیکھ رہا تھا ۔۔
اس نے سھل کو اپنے بازووں میں اٹھایا ۔۔
چل اب وہ بھی نہیں پا رہا تھا ۔۔
ایسا لگ رہا تھا سارا خون منجمد ہوگیا ۔۔۔۔اس کی آنکھیں بار بار بند ہونے لگی ۔۔۔
ایک ایک قدم اٹھانا بھاری پڑ رہا تھا ۔۔
لیکن اسے اپنی سھل کو بچانا تھا ۔۔۔۔وہ اسے اٹھائے بمشکل چند قدم ہی چلا تھا ۔۔۔اس کی آنکھوں کے سامنے اندھیرا چھانے لگا ۔۔
اسے ایسا لگ رہا تھا اس کے جسم میں خون کی ایک بوند بھی نہیں بچی
وہ سھل کے ساتھ ہی نیچے گرا ۔۔اسے کچھ ہوش نا رہا ۔۔۔۔۔
◇◇◇◇◇◇◇◇◇◇◇◇◇
ماضی
وہ جیسے ہی کمرے میں پہنچا ۔۔۔۔وہ شخص اس کی کمر میں ہاتھ ڈالے اسے خود سے لگائے ہوئے تھا ۔۔۔
وہ منظر اس کے لیے ناقابل دید تھا ۔۔۔
وہ ایک دم سے چلا اٹھا ۔۔” ۔شھربانو ۔”
وہ اس شخص سے ایک جھٹکے سے دور ہوئی ۔۔۔
” کیا ہوا سعادت یار اتنے غصے میں کیوں ہو ۔۔۔ہم نے تو تیری اجازت سے ۔۔تیرا فارم ہاوس استعمال۔کیا ہے ۔۔۔۔”
وہ کیا کہہ رہا تھا کیا نہیں اسے اس سے کوئی سروکار نہیں تھا ۔۔۔
” شھربانو ۔۔میں نے تمہیں منع کیا تھا ۔۔۔۔نا ۔۔”
وہ اب اس شخص اور شھربانو کے بیچ کھڑا تھا ۔۔۔
” بند کرو یہ ڈرامے ۔۔۔تم بھی اس میں شامل تھے ۔۔
شھربانو کی حالت کافی ابتر تھی ۔۔۔
اس نے زور کا تھپڑ شھربانو کے گال۔پہ رسید کیا ۔۔
اس کا دوپٹہ اٹھا کر اسے لپیٹا ۔۔
” کیا کیا تم نے شھربانو کے ساتھ ۔۔تیری ہمت کیسے ہوئی ۔
وہ اس پر جھپٹا ۔۔
” دیکھ سعادت یار ۔۔ہم آپس میں ڈیل کر لیتے ہیں ۔۔۔”
جیسے اس نے یہ بات کی سعادت نے اسے گردن سے دبوچ کر ایک گھونسہ اس کہ منہ پہ مارا۔۔۔۔
” چھوڑو اسے ۔۔۔میں یہاں اپنی مرضی سے آئی ہوں ۔۔۔۔”
وہ اب کمار کوچھوڑ کر اس پر پلٹا ۔۔
” بکواس بند کر اپنی چل یہاں سے ۔۔۔”
وہ اسے تقریبا کھینچتے ہوئے وہاں سے لے کہ جا رہا تھا ۔۔۔
” سعادت تم اسے ایسے نہیں لے جاسکتے ۔۔۔یہ میری سکریٹری ہے ۔۔
☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆
ایک ہاتھ سے شھربانو کو تھاما ہوا تھا ۔۔۔دوسرے ہاتھ سے پسٹل نکال کر اس پہ تانی ۔۔
“لگتا ہے تجھے مرنے کا بہت شوق چڑھا ۔۔ہے ۔۔
یہاں مار کہ ایسا گم کریں گے ۔۔۔کسی کو تیری لاش کی ہڈیاں بھی نہیں ملے گی ۔۔اور ۔یہ میری میری کیا لگا رکھا ہے ۔
شیری صرف اور صرف میری ہے ۔۔۔۔سمجھے تم اور اگر اپنی زندگی چاہتے ہو تو اپنی چونچ بند رکھ ۔۔۔ورنہ ابھی اڑا دوں گا ۔
وہ شخص اب ایک کونے میں دبک کر بیٹھ گیا ۔۔
وہ شھربانو کو گھسیٹتے ہوئے وہاں سے لے گیا ۔۔
بظاہر صرف سعادت کو نیچا دکھانے کے لیے وہ جھوٹ بول رہی تھی ۔۔۔۔صرف اور صرف سعادت کو غصہ دلانے کے لیے ۔
لیکن اس کو اس وقت ایک مسیحا کی اشد ضرورت تھی ۔۔
سعادت سے بے بہا نفرت سہی لیکن آج وہ پھر اس کا محسن بن گیا تھا ۔۔۔
سعادت کے لیے اس کے دل میں پھر سے ایک نرم گوشہ ضرور پیدا ہوا ۔۔۔۔۔لیکن دماغ دل کی کوئی بات ماننے کو تیار نہیں تھا ۔۔۔دماغ مسلسل اسے ڈھونگ اور فریب کہہ رہا تھا ۔۔۔
” تم اور وہ شخص ملے ہوئے تھے ۔۔وہ شخص یہ سب پہلے بھی کرتا تہا ہے اور تم ۔۔
” کوئی تجھے ہاتھ لگائے ۔۔۔۔ایک ایک انگلی کے اتنے ٹکڑے کرتا ۔۔۔کہ گن گن کہ پوری عمر گذر جاتی ۔۔۔اور تم کہتی ہو ۔۔۔میں تمہارے سامنے ہیرو بننے کے لیے ۔۔۔
سعادت نے اس کی بات کاٹی تو اس نے بھی سعادت کی بات پوری نہ ہونے نہ دی ۔۔۔
” کیا جھوٹ ہے ۔۔۔کہ تم نے فارم ہاوس اسے نہیں دیا ۔۔۔۔کیا یہ بھی سچ نہیں کہ وہ یہاں لڑکیاں لاتا ہے ۔۔۔۔اور تم اس گناہ میں برابر کے شریک ہوتے ہو ۔۔۔۔۔تم وہ سعادت ہی نہیں جسے میں نے کبھی ۔۔
♧♧♧♧♧♧♧♧♧♧♧♧♧♧♧
سعادت نے گاڑی میں ایک بار بھی مڑ کر اسے نہیں دیکھا۔۔
وہ معتدل رفتار سے گاڑی ڈرائیو کر رہا تھا ۔۔۔۔پچھلے تین چار گھنٹے سے وہ مسلسل ایک کشمکش میں تھا ۔۔۔
۔اب جب وہ شھربانو کو صحیح سلامت اپنے ساتھ لے کہ جا رہا تھا
۔۔۔اسے اندر تک سکون محسوس ہو رہا تھا ۔۔۔
اس نے ایک جھٹکے سے گاڑی روکی ۔۔۔۔
” تم نے کبھی کیا ۔۔۔
وہ پوری طرح اب اس کی طرف مڑ کر بیٹھ گیا ۔۔۔۔
جیسے اس نے بغور شھربانو کی طرف دیکھا ۔۔۔۔
اس کے جسم کا پورے خون کا دباؤ اسے اپنی کنپٹیوں میں محسوس ہو نے لگا ۔۔۔۔
شھربانو کے رخساروں پر اس شخص کے انگلیوں کے نشان تھے ۔۔۔اس کی پوری گردن پر ناخنے سے کھرچنے جیسے نشان تھے ۔۔
شانوں سے کپڑے تک پھٹے ہوئے تھے ۔۔
سعادت نے تیزی سے گاڑی واپس موڑی ۔۔
” تم نے کیا کہا تھا ۔۔۔میں اور وہ شخص ملے ہوئے ہیں ۔بلکل سہی کہا تم نے ۔۔۔۔میں اب تمہیں اس شخص کے پاس واپس چھوڑنے جا رہا ہوں ۔۔
غصے میں وہ دانت بھینچ کر شھربانو سے گویا ہوا ۔۔۔
آدھے گھنٹے کا سفر اس نے دس منٹ میں طے کیا ۔۔
اب وہ فارم ہاوس کے سامنے موجود تھا ۔۔
☆☆☆☆☆◇◇◇◇◇◇◇◇◇◇
وہ جس غور سے شھربانو کو دیکھ رہا تھا ۔۔۔شھربانو کو اس سے خوف آنے لگا ۔۔۔
وہ دیکھ رہی تھی کس طرح اس کے چہرے کا رنگ بدل رہا تھا ۔۔
اس کا چہرہ اسے دیکھتے دیکھتے سرخ پڑ رہا تھا ۔۔۔
وہ جانتی تھی سعادت اس کے چہرے پہ کیا دیکھ رہا ہے ۔۔۔۔
لیکن اس نے جو بات کہی اسے اپنے کانوں پر یقین ہی نہیں آیا ۔۔
کیا واقعی سعادت بھی اب اس سے نفرت کرنے لگا ہے ۔۔۔
وہ واقعی نفرت میں اسے اس بھڑیے کے حوالے کر دے گا ۔۔۔۔ وہ جانتی تھی سعادت جتنا بھی گر جائے پر اتنی گری حرکت نہیں کر سکتا ۔۔۔
لیکن جب اس نے واقعی میں گاڑی فارم ہاوس کے سامنے آکر روکی ۔۔۔۔اسے اب ساری دنیا میں ہی اندھیرا لگنے لگا تھا ۔۔
اس کے ساتھ کیا ہونے والے تھا وہ اب خود بھی نہیں جانتی تھی ۔۔۔
لیکن وہ سعادت کے سامنے جھکنے والی نہیں تھی ۔۔۔چاہے انا کی اس جنگ میں سب کچھ داو پر لگ جائے ۔
☆◇◇◇◇◇◇◇◇◇◇◇
حال
شھربانو اسی ہاسپیٹل کے سامنے موجود تھی ۔۔
جہاں وہ دوسری لڑکی کی باڈی پڑی تھی ۔۔
ایک قدم قدم اٹھانا اس کے لیے مشکل ہو رہا تھا ۔۔۔ادھر سے سھل کا گم ہونا ادھر ڈیڈ باڈی کا ملنا ۔۔۔۔
یہ کوئی اتفاق تو نہیں تھا ۔۔۔۔
وہ اب ہاسپیٹل کے اندر موجود تھی ۔۔۔۔
جہاں کچھ دیر میں اسے وہ ڈی این اے رپورٹ ملنی تھی ۔۔
☆☆☆☆☆♡♡◇◇◇◇◇
” کام مکمل ہو گیا ہے نا ۔۔۔؟
سعادت سدھیر کو دیکھ رہا تھا ۔۔۔
جو فون پہ کسی سے کام کا پوچھ رہا تھا ۔۔
” اچھا ٹھیک ہے ” سدھیر اب اس کی طرف متوجہ ہوا ۔۔۔
” کام ہو گیا ہے بے فکر ہوجائو ۔۔۔۔ایسی رپورٹ تیار کی ہے اگر اب وہ لڑکی سامنے آکر بھی کہے گی ۔۔۔کہ وہ زندہ ہے تب بھی کوئی یقین نہیں کرے گا ۔۔۔۔سعادت زبردستی مسکرانے کی کوشش کرنے لگا ۔۔
“(“یہ مجھے کیا ہو گیا ہے کیوں اس سانپ کے بچے کے لیے میرے دل۔میں ہمدردی اور محبت پیدا ہو رہی ہے ۔۔مجھے تو اب صرف پیسے سے محبت ہے ۔۔۔پھر یہ میرئ عجیب سی حالت کیوں ہو رہی ہے ۔۔
وہ اپنی بے چینی کو سمجھ نہیں پا رہا تھا ۔۔۔
آخر اسے کیوں تکلیف ہو رہی ہے ۔۔۔۔اسے ایک بات سمجھ آگئی تھی ۔۔۔کچھ بھی تھا لیکن وہ بھی ایک باپ تھا ۔۔۔
☆☆☆☆☆♡♡◇◇◇◇◇◇◇◇
سعادت اب اس کے پاس ہی ویٹنگ چیئر پر بیٹھ گیا ۔۔
” شیری کچھ بھی ہوجائے تم نے دل بڑا کرنا ہے ۔۔۔کسی بھی ۔۔انجہانی خبر کے لیے ۔۔
” کیا ہوا سعادت ۔۔۔کیا کام ٹھیک سے نہیں ہوا ۔۔۔سھل وہاں سے بھاگ گئی ۔۔۔۔؟؟
اس کے چہرے پہ طنزیہ مسکراہٹ آئی ۔۔۔
” تم سے تو بات کرنا ہی فضول ہے ۔۔۔میں تمہیں تسلئ دے۔۔
” مجھے تمہاری تسلی کی کوئی ضرورت نہیں ہے ۔۔۔۔جب تک میں زندہ ہوں میری بیٹی کو کچھ نہیں ہو سکتا ۔۔۔سعادت ملک ۔۔
وہ دانت بھینچ کر غصہ ضبط کر گئی ۔
ابھی ان کی کھینچا تانی چل ہی رہی تھی ۔۔۔ایک وارڈ بوائے ان کی طرف آتا دکھائی دیا ۔۔۔۔
وہ خود کو جتنا چاہے مضبوط کر لے ۔۔۔پر ماں کا دل ایک چھوٹی سے چڑیا کی طرح ہوتا ہے ۔۔۔
” میڈم شھربانو آپ ہیں ۔۔؟؟”
اس نے سر کو ہلکی سی جنبش دی ۔۔
” آپ کو ڈاکٹر صاحب بلا رہا ہے ۔۔۔”
سعادت اٹھا ” سر آپ نہیں چل سکتے ۔۔۔” اس نے آنکھوں سے کوئی اشارہ کیا وہ جب تک سعادت کو دیکھتی اور ان کی اشاروں کی زبان سمجھنے کی کوشش کرتی ۔۔
سعادت نے گردن جھکا لی ۔۔
وہ اب اس ڈاکٹر کے کمرے میں موجود تھی ۔۔۔
” آپ ہیں مسز سعادت ملک ۔۔۔
اس نے چاروں طرف نظر دوڑائی ۔۔۔
” جی میں ہی ہوں شھربانو ۔۔
” میڈم مجھے افسوس ہے آپ کا ڈی این اے اس لڑکی سے میچ ہوگیا ہے ۔۔
شھربانو جانتی تھی سعادت کچا کام نہیں کرے گا ۔۔۔۔
لیکن پھر بھی وہ ایک ماں تھی اور یہ تک نہیں جانتی تھی سھل پچھلے چار دنوں سے کہاں ہے ۔۔
اس نے ڈی این رپورٹ کے لیے ہاتھ بڑھایا ۔۔
کچھ دیر تو جیسے وہ سکتے میں آگئی ۔۔۔۔
وہ اسی حالت میں کب ہاسپیٹل سے نکلی اور کب گھر پہنچی اسے کچھ یاد نہ تھا ۔۔
☆☆☆☆☆☆◇◇◇◇◇◇
” میڈم ہم اس ڈی این اے رپورٹ کو چیلنج کریں گے ۔۔۔۔اور عدالت سے اجازت لے کر اس باڈی کو دوسرے ہاسپیٹل منتقل کر کے وہاں ڈی این اے ٹیسٹ دوبارہ کروائیں گے ۔۔
شھربانو جو اب کچھ ہوش میں تھی زمان کی بات سن رہی تھی۔۔۔
” نہیں زمان اسے میری بیٹی سمجھ کر ہی دفنایا جائے ۔۔۔۔میں نہیں چاہتی میت کو اور تکلیف دی جائے ۔۔۔تم سب انتظام ملکمل کرو.
جاری ہے
