Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Intikam E Mohabbat by Esha Noor Episode26

Intikam E Mohabbat by Esha Noor Episode26

اس نے بھی کہاں سیدھا جواب دینا تھا ۔۔
” تم سے مطلب ۔۔
” یہ میرے سوال کا جواب نہیں ۔۔۔” اس نے اب اس کا بازو پکڑ لیا تھا ۔۔۔
” میں تیرے کسی سوال کے لیے جوابدہ نہیں ہوں ۔۔۔”
وہ اپنے دوسرے ہاتھ سے اپنا بازو چھڑانے کی ناکام کوشش کرنے لگی ۔
” تم اب اس آفس میں کام نہیں کرو گی ۔۔۔۔سمجھی تم ۔۔۔”
وہ اسے خود پر حق جتاتا دیکھ کر آگ بگولہ ہو گئی
” میں کہاں کام کرتی ہوں !!! کہاں نہیں تمہیں ہم سے کوئی مطلب نہیں ہونا چاہیے!!! سمجھے مسٹر ۔
سعادت نے اسے زور سے چارپائی پر دھکیلا ۔۔۔
” تم وہاں نہیں جائو گی ۔۔۔تم وہاں گئی تو میں اس آفس کو آگ لگا دوں گا ۔۔۔
وہ کہتے ہوئے رکا نہیں ۔۔۔۔تیز تیز قدم اٹھاتا باہر جا چکا تھا ۔۔۔
وہ غصے میں تلملا کر رہ گئی ۔۔
☆☆☆☆☆☆◇◇◇◇♡◇◇
شھربانو نے اس بات کی شکایت اپنی ماں کو کر دی تھی ۔۔۔
” دیکھو سعادت بیٹا ۔۔۔کسی کی پیشانی پر نہیں لکھا ہوتا ۔
۔۔وہ کس کے ساتھ کیسا ہے ۔۔۔بانو کو میں سمجھا دوں گی وہ اپنی طرف سے احتیاط برتے گی ۔۔
سعادت اب ممتاز بیگم کو کچھ نہیں کہہ سکتا تھا ۔۔
” لیکن امی وہ اچھا انسان نہیں ۔
بیٹا بانو بھی بچی نہیں وہ ایک ماں ہے سب سمجھ رہی ہے باقی میں اسے سمجھا دوں گی ۔۔۔تیری بات پہ وہ الٹا ضد کرے گی ۔
سعادت ساری بات ممتاز بیگم کے گوش گزار کر آیا تھا ۔۔۔
☆☆☆☆▪▪▪▪▪▪▪
ممتاز بیگم نے اسے آفس کچھ دن نہ جانے کا مشورہ دیا ۔۔
” امی آپ سعادت سے ڈر گئی ہیں ۔۔ایسے لوگوں سے ڈرے گے تو اس دنیا میں رہ نہیں پائیں گے ۔۔۔۔”
لیکن ممتاز بیگم کے بے حد اسرار پر ۔۔اس نے آفس سے کچھ دنوں کی چھٹیاں کر لی تھی ۔۔
☆☆☆☆☆♡♡◇◇◇◇◇◇
” کیسی ہو شھربانو اتنے دن کہاں غائب تھی ۔۔۔نئی نئی نوکری میں اتنی چھٹیاں ۔۔۔۔خیر سر آپ کو یاد کر رہے تھے ۔۔۔
انیتا اسے لمبی چوڑی اطلاع دے کہ جا چکی تھی۔۔۔
اب اس کا زیادہ وقت اس کے باس کے آفس میں ہی گزرتا ۔۔۔
” یہ لیٹر ٹائپ کر دو یہ شیڈول چیک کرو یہ میٹنگ فکس کرو یہ کینسل کرو ۔
اسے تو اب سر اٹھانے کی فرصت بھی نہیں تھی ۔۔۔
آفس جوائن کیے اسے دو مہینے ہونے کو آئے تھے ۔۔۔
تنخواہ بھی اچھی تھی ۔۔۔
” امی آپ کے بیٹے کو تو بہت تکلیف تھی ۔۔۔۔کچھ ہوا دو مہینے ہونے کو آئے ہے ۔۔۔باس بس اپنے کام سے کام رکھتے ہیں ۔۔۔اور ورکر بھی ۔۔۔۔سعادت اصل میں یہی چاپتا تھا ۔۔۔ہم ہمیشہ اس کے غلام بنے رہے ۔۔۔میں اپنی بیٹی اور آپ کو سنبھال سکتی ہوں ۔۔میں سعادت کی ایک ایک پائی اسے واپس کر دوں گی ۔۔
وہ بہت خوش تھی وہ اپنے پیروں پر کھڑی ہو گئی تھی ۔۔
کسی کے سامنے اب اسے ہاتھ پھیلانا نہیں پڑتا تھا ۔۔
پر یہ سب عارضی تھا ۔۔۔
☆☆☆☆◇◇◇◇◇◇◇◇◇◇◇
سعادت کو حیرت تھی ۔۔۔شھربانو اب تک اس کی سچائی کیوں نہیں جان پائی ۔۔
(” نجانے وہ کب سے جاب کر رہی ہے ۔
یہ سوال وہ خود سے کئی بار پوچھ چکا تھا ۔۔
آخر وہ دن آگیا جس کا سعادت کو انتظار تھا ۔
” یار ایک دن اور رات کے لیے فارم ہاوس چاہیے ۔۔وہاں کوئی ہوگا تو نہیں ۔۔
سعادت نے غصے میں دانت بھینچے ۔۔
” وہاں پہرےدار اور خاص نوکروں کے سوا کوئی نہیں ہوگا ۔۔۔تم بھی کسی کو بتا کر نہیں آئو گے ۔۔۔۔”
سامنے سے اس شخص نے کال پہ قہقہہ لگایا یار میں کیوں بتائوں گا ۔۔۔ویسے تیرے نوکروں کو کہنا میرے معاملے سے زرا دور رہیں ۔۔۔۔میرا مطلب ہے مجھے زرا تنہائی چاہیے ۔۔۔تم سمجھ رہے ہو نہ یار ۔۔۔”
سعادت مٹھیاں بھینچے اس کی بات سن رہا تھا ۔۔۔” ہاں جانتا ہوں مجھے کیا کرنا ہے کیا نہیں ۔۔۔ تجھے سمجھانے کی ضرورت نہیں ۔
اس کا لہجہ تلخ ہوا ۔
” ارے یار میں تو ایسے ہی کہہ رہا تھا ۔۔۔اگر دل نہیں کر رہا ہمیں فارم ہاوس دینے کا تو میں کہیں اور ارینجمنٹ کروادوں ۔۔
سعادت کو اپنی غلطی کا احساس ہوا ۔
” نہیں ایسی بات نہیں تم مجھے بچوں کی طرح سمجھا رہے تھے ۔بس اسی وجہ سے ۔۔
سامنے والے شخص نے ایک دم سے” اچھا اچھا” کہا۔
” تو اس ہفتے کے دن ۔۔۔؟؟
” ہوجائے گا۔
سعادت کو ڈر تھا ۔۔۔وہ لڑکی شھربانو ہوئی اور وہ اسے کسی دوسری جگہ لے گیا ۔تو ۔۔میں شھربانو کو کیسے بچا پائوں گا۔۔
وہ جانتا تھا وہ شھربانو کو روکے گا ۔۔۔اور وہ ضد کرے گی ۔۔
لیکن وہ اپنی عادت سے مجبور تھا ۔۔
☆☆☆☆☆☆♡◇◇◇◇◇◇
” بیٹا شھربانو سے کیا بات کرنی ہے ۔۔۔مجھے بتا دو ۔۔
وہ بے چینی سے شھربانو کا انتظار کرنے لگا ۔۔
وہ جب سے ممتاز بیگم کے گھر آیا تھا ۔۔۔پانچ منٹ بھی چین سے نہیں بیٹھا تھا ۔۔
” امی آفس ٹائم تو ختم ہوچکا ہے ۔۔۔اس نے اتنی دیر کیوں کر دی ۔۔
” بیٹا آفس ٹائم تو ابھی ختم نہیں ہوا ۔۔۔بات کیا ہے مجھے بتا دو ۔۔شھربانو تجھے دیکھ کر بھڑک جاتی ہے ۔۔۔نجانے تجھ سے کون سا بیر پال رکھا ہے اس پاگل لڑکی نے ۔
ممتاز بیگم سھل کو چپ کرا رہی تھی ۔۔
” امی کسی بھی طرح شھربانو کو ہفتے کے دن آفس نہیں جانے دینا ۔۔۔۔کچھ بھی ہوجائے ۔
یہ کہہ کر وہ شھربانو کے آنے سے پہلے وہاں سے جا چکا تھا ۔
اب اسے پورا یقین تھا ۔۔۔شھربانو نہیں آئے گی۔۔
لیکن کمار بھی ایک شاطر شخص تھا ۔۔اس سے کسی خیر کی توقع نہیں کی جا سکتی تھی ۔
☆☆☆☆☆☆◇◇◇◇◇◇◇◇◇
” شھربانو “
” یس سر ” وہ جو سر جھکائے ایک کام میں مصروف تھی ۔۔
اپنے باس کو اپنے کمرے میں دیکھ کر کھڑی ہوگئی ۔
اس کے باس کے چہرے پر بلا کی سنجیدگی تھی ۔۔
” کل جو ہماری میٹنگ تھی ۔۔۔اس کی لوکیشن اب چینج کر دی گئئ ہے
۔۔۔وہ میٹنگ اب ایک فارم ہاوس پر ہے ۔۔۔ ہمیں کل وہی جانا ہوگا ۔۔۔آپ کو کوئی پرابلم تو نہیں ہوگی ۔۔۔۔؟؟؟”
اسے اب کیا مسئلہ در پیش آنا تھا۔اس نے بس” یس سر “۔۔۔کہا ۔۔
وہ شخص وہاں سے جا چکا تھا ۔۔۔۔شھربانو بس اپنے کام سے کام رکھتی اس لیے نہ اسنے زیادہ سوال کیے ۔۔
نہ کوئی تفصیل مانگی ۔۔۔۔بس جو حکم میرے آقا کی طرح ہر حکم بجا لانا تھا ۔۔
◇◇◇◇◇◇◇◇◇◇◇◇◇
” بیٹا آج میری طبعیت ٹھیک نہیں آج آفس سے چھٹی لے لو ۔۔۔سھل مجھ سے نہیں سنبھلے گی ۔
شھربانو جو آفس کے لیے بلکل تیار کھڑی تھی ۔
وہ ممتاز بیگم کی بات سن کہ پریشان ہوگئی ۔۔۔
” امی کوشش کرتی ہوں ۔۔۔لیکن آج بہت اہم میٹنگ ہے مشکل سے اجازت ملے گی ۔۔۔ پھر بھی کوشش کرتی ہوں
اس نے اپنے باس کو کال ملائی ۔۔
” سر امی کی طبعیت تھوڑی خراب ہے ۔۔۔کیا چھٹی مل سکتی ہے ۔۔
اس نے یہ چند الفاظ پوری ہمت جمع کر کے ادا کیے ۔۔۔
” کیا مطلب ڈاکٹر سے چیک اپ کرا کہ پہنچنے کی کوشش کرو ۔۔۔ میٹنگ تین بجے شروع ہوجائے گی
اس نے ایک ٹھنڈی سانس لی ۔۔
” جی سر میں جلدی پہنچنے کی کوشش کرتئ ہوں ۔۔
وہ اب ممتاز بیگم کی طرف متوجہ ہوئی
۔۔۔” امی چلیں ڈاکٹر کے پاس ۔۔۔”
” بیٹا اتنا بھی بڑا مسئلہ نہیں ۔۔۔بس سھل کو دیکھ لو ۔۔۔”
شھربانو کو ایسا لگ رہا تھا ممتاز بیگم اس سے کچھ چھپا رہی ہے ۔۔۔
” امی سھل کے پاس بوا (سھل کی آیا ) ہے نا ۔۔۔بوا اور سھل کو بھی ساتھ لے چلتی ہوں ۔۔۔آپ کا چیک اپ کروا کہ مجھے آفس پہنچنا ہے ۔۔
اس نے دیکھا آفس کے نام پر ممتاز بیگم کی پیشانی پر ایک شکن ابھری ۔۔۔
” کیا تمہیں چھٹی نہیں ملی ۔۔۔”
♡♡◇♡◇◇◇◇◇◇◇◇
” نہیں امی میٹنگ تین بجے ہے ۔۔۔میں تب تک فارغ ہوجائوں گی
۔۔۔امی پہلے بھی میں نے آپ کے کہنے پہ کافی چھٹیاں کر چکی ہوں ۔۔نئی نئی نوکری میں اتنی چھٹیاں نہیں ہوتی
اب اگر کوئی چھٹی کی تو نوکری سے نکال دی جائوں گی ۔۔۔”
وہ دیکھ رہی تھی ممتاز بیگم اس کی اس بات سے کچھ قائل ہوئی تھی ۔۔۔
” میں ٹھیک ہوں بیٹا تم جائو ۔۔۔۔”
شھربانو نے آفس فون کر کے گاڑی بھیجنے کا کہہ دیا تھا ۔۔
☆☆☆☆☆♡◇◇♡◇◇◇◇◇
کمار کے ساتھ دوسری لڑکی کو دیکھ کر ۔۔۔سعادت کچھ مطئن ہوا ۔۔
وہ لڑکی بھی کمار کے ساتھ کچھ زیادہ ہی فری ہو رہی تھی ۔۔
” میں فضول میں شھربانو کا سوچ رہا تھا ۔۔۔۔”
وہ ایک دن پہلے سے فارم ہاوس میں موجود تھا تاکے کمار پر نظر رکھ سکے ۔۔۔
” یہاں کوئی اور لڑکی آئے تو مجھے اطلاع ضرور کرنا ۔۔۔
وہ اپنے گارڈ پہ حکم صادر کر کے فارم ہاوس سے جا چکا تھا ۔۔۔
” لگتا ہے یہی نئی لڑکی ہے ۔۔۔تو کیا وہ شھربانو ۔۔۔۔نہیں تھی ۔۔۔نہیں یہ میں کیا سوچ رہا ہوں شاید شھربانو کی طرف اس کی توجہ ہی نا گئی ہو ۔۔۔۔ہاں وہ تو ایک بچے کی ماں ہے اس کمینے کو تو کنواری لڑکیاں چاہیے ۔۔۔
وہ خود سے ہمکلام ہوتا ۔۔۔
فارم ہاوس سے اپنے آفس جا چکا تھا ۔
وہ کسی حد تک مطمئن ہوچکا تھا ۔۔
☆☆☆☆♡◇◇◇♡♡◇◇◇◇◇
حال ۔
دونوں چلا کہ ایک دوسرے سے لپٹ گئے ۔۔
” تم مرد ہو کے اتنے بزدل ہو ایک لڑکی کی پناہ لے رہے ہو ۔۔
وہ کچھ سنبھلی تو اسے خود سے دور کر کے کہنے لگی۔۔
” کیا مطلب میں ڈر کے چمٹ گیا تھا ۔۔۔۔وہ تو تم ڈر کے مجھ سے لپٹ گئی تھی ۔۔۔بڑی فنے خان بنی گھومتی ہے ۔ایک ۔!!!۔ایک ۔۔۔۔۔انسانی ڈھانچے سے ڈر کے مجھ سے لپٹ گئی ۔۔
وہ جس انداز میں بول رہا تھا وہ جانتی تھی وہ بھی حد سے زیادہ ڈرا ہوا ہے ۔۔۔
” تو کیا ہم بھی انسانی ڈھانچے بن جائیں گے ۔۔
اس کا دل اداس ہونے لگا ۔۔۔وہ افسردگی سے گویا ہوئی
” تجھے زیادہ ایڈونچر کرنے کا شوق چڑھا تھا کر اب پورا ۔۔۔۔وہاں رہتے کم سے کم مرتے بھی تو انسانوں کی طرح ۔۔۔یہاں تو کیڑے مکوڑے جیسی موت ملے گی ۔۔۔”
وہ کب سے اسے سن رہی تھی ۔۔
” سن کیا وہ لوگ ہمیں ڈھونڈ رہے ہوں گے ۔۔۔۔؟؟؟ اس سے پہلے وہ ہمیں ڈھونڈ لیں ہمیں یہاں سے باہر نکل جانا چاہیے ۔۔
وہ واپس اس قید میں نہیں جانا چاہتی تھی لیکن اس اندھیری قبر میں بھی رہنا محال۔تھا ۔
۔۔” ہاں تو میں کونسا اس زندان خانے میں خوشی سے ٹکا ہوں ۔۔
وہ اس کے غصے کو نظرانداز کر کے موبائل ڈھونڈنے کے لیے ہاتھ پاوں مارنے لگی ۔
ان دونوں نے کوشش کر کے آخر کار موبائل ڈھونڈ ہی لیا تھا ۔۔۔
” اس کی بیٹری تو بہت کم بچی ہے ۔۔۔ہمیں جلد سے جلد ۔باہر نکلنے کے لیے ۔کوئی راستہ تلاش کرنا ہے ۔۔
☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆
وہ لاکھ بہادر بنتی لیکن تھی تو ایک لڑکی ۔۔۔جہاں بڑے بڑے مردوں کے پسینے چھوٹ جاتے
وہاں ایک انیس سالہ لڑکی کا اتنی دیر اپنے ہوش ہواس میں رہنا کسی معرکے سے کم نہ تھا ۔۔۔
اسے تو ایسا لگ رہا تھا وہ کسی پل بھی بے ہوش ہوکے گر جائے گی ۔۔
وہ ایک سمت چل رہے تھے ۔۔۔” ٹہرو ۔۔
سھل نے کب سے اس کی شرٹ کو مٹھی میں جکڑا ہوا تھا ۔۔۔
” کیا ہوا ۔۔۔”
” شششس آواز سنو ۔۔۔۔” اس نے بھی غور کیا تو کہیں سے ٹپ ٹپ کی آواز آرہی تھی ۔۔۔۔جیسے کسی پتھر پہ پانی گر رہا ہو ۔۔
” یہ تو پانی کی آواز ہے ۔۔
” ہاں وہ اس سمت سے آرہی ہے “
اس نے ایک طرف اشارہ کیا ۔۔۔۔
اب دونوں چھوٹے چھوٹے قدم اٹھاتے اسی طرف چل رہے تھے ۔۔۔
تھوڑی تھوڑی دیر میں سھل اس کے بازو کو کس کے پکڑ لیتی ۔۔۔
کوئی اور موقع ہوتا۔۔۔تو مطھر کو بھی خوشی ہوتی لیکن اس وقت اس کی اپنی جان پر بنی تھی ۔۔۔۔
ان دونوں کو کچھ فاصلہ طے کرنے کے بعد چھوٹے چھوٹے سوراخوں سے سورج کی کرنیں اندر آتی دکھائی دے رہی تھی ۔۔۔۔
سورج کی کرنیں گویا ان کے لیے نئی زندگی کی نوید تھی ۔۔۔
” وہ دیکھو سورج کی روشنی ۔۔۔ اب ہم وہاں سے باہر نکل سکتے ہیں۔” وہ تیزی سے اس جانب بھاگنے ہی لگی تھی ۔۔۔مطھر نے اسے روک دیا ۔۔۔
” سھل احتیاط سے یہاں کوئ بھی جگہ خطرے سے خالی نہیں کہیں پھر سے گڑھا یا کچھ اور بھی ہوسکتا ہے ۔۔”
اس نے انسانی ٹانگ کی ہڈی اٹھائی ۔۔۔تاکے اس سے ایک لکڑی کا کام لے سکے
ہر جگہ کو پہلے وہ اس ہڈی سے ٹٹولتا پھر وہاں قدم رکھتا ۔۔اتنا کم فاصلہ بھی ان کے لیے اعصاب شکن مرحلہ تھا ۔۔۔
وہ اب سورج کی کرنوں کے عین نیچے پہنچ چکے تھے ۔۔۔۔
ان دونوں کو اس غار میں گرے پانچ گھنٹے گزر چکے تھے ۔۔۔
بھوک اور پیاس سے برا حال تھا ۔۔
” میں تمہیں اپنے شانوں پر اٹھاتا ہوں ۔۔۔تم یہ پتھر ہٹانے کی کوشش کرو ۔۔۔۔ہمیں یہ سب جلدی کرنا ہوگا ۔۔۔کچھ دیر میں سورج غروب ہوجائے گا ۔۔۔اور موبائل کی بیٹری بھی ختم ہوجائے گی ۔۔”
وہ اسے اپنے شانوں پر اٹھانے لگا ۔۔۔
” اچھی خاصی موٹی ہو ۔۔۔”
جب سے اس غار میں پھنسے تھے مطھر نے پہلی بار اس سے مذاق کیا تھا
” تو نہ اٹھاو میں تو تجھ جیسے ہاتھی کو نہیں اٹھانے والی ۔۔
مطھر نے بھی ایک دم سے ہتھیار ڈال دیے ۔
” ارے میں تو مذاق کر رہا تھا ۔۔” لیکن تب تک وہ کود کر اس کے شانوں پر چڑھ چکی تھی ۔۔
۔” زیادہ ہلنا مت ۔۔”
وہ اس کے شانوں پر ایک سرکس کی لڑکی کی طرح کھڑی تھی ۔۔۔
” کیا اس سے پہلے کسی سرکس میں کام کرتی تھی ۔۔۔”
وہ بلکل ایک بت کی طرح مجسم کھڑا تھا ۔۔۔پر وہ پتھر شاید بہت زیادہ بھاری تھا ۔۔
وہ پورا زور لگا چکی تھی ۔۔۔” یہ بہت بھاری ہے ۔۔۔اس میں ہلکی سی بھی لرزش پیدا نہیں ہو رہی ۔لیکن پتھر ہلنے کا نام تک نہیں لے رہا تھا ۔۔۔
وہ اب اس کی طرف دیکھ کر نفی میں سر ہلا رہی تھی ۔۔۔اس کا دل بیٹھا جا رہا تھا ۔۔۔۔
اگر یہ بھی راستہ بھی نہیں کھلا تو وہ یہاں پکا مر جائیں گے ۔۔۔وہ گویا رو دینے کو تھی ۔۔۔۔
وہ اس کے شانوں سے نیچے اتر کے ۔۔۔گھٹنوں پہ سر رکھ کر دھاڑیں مار مار کر رونے لگی ۔۔
” سھل خدا کے لیے چپ ہوجائو ۔۔۔۔ہمت سے کام لو ۔۔۔۔تم یہی بیٹھو میں آس پاس دیکھتا ہوں شاید کوئی راستہ نکل آئے ۔۔۔۔
وہ جیسے ہی جانے لگا ۔۔۔ اس نے اس کا ہاتھ تھام لیا ۔۔۔۔
” میں بھی تمہارے ساتھ چلوں گی ۔۔۔جہاں آپ جائیں گے ۔۔۔
اس کے بکھرے بال چہرے پہ آنسوؤں کے نشانات ۔۔۔گرد سے اٹا چہرہ ۔۔۔۔۔۔لیکن اسے وہ چہرہ ہزاروں میں حسین لگ رہا تھا ۔۔۔۔
وہ گھٹنوں کے بل اس کے پاس بیٹھ گیا ۔۔۔۔
سورج کی روشنی سے بخوبی وہ اب ایک دوسرے کو دیکھ رہے تھے ۔۔۔اس نے گرتے
پانی کے قطرے اپنے ہاتھ میں سموئے ۔۔۔
چہرے سے بال ہٹائے ۔۔پانی کے قطروں سے اس کا چہرہ صاف کرنے لگا ۔۔۔۔۔
وہ اسے پہلی بار پیار اور اپنائیت سے چھو رہا تھا
وہ پل اسے اتنا حسین لگا ۔۔دل کیا یہ پل یہی تھم جائے ۔۔۔وہ ایسے ہی اسے دیکھتی رہے ۔۔۔کچھ پل کے لیے ۔باہر جانے کی تمنا ہی نہیں رہی تھی ۔۔۔۔
کچھ وقت کے لیے ہی سہی پر وہ اس کی تھی ۔۔۔۔اس کی منکوحہ ۔۔۔۔اس کا پہلا پیار ۔
▪▪▪▪▪▪▪▪▪▪▪▪▪
اس نے جیسے ہی جانے کا کہا۔۔۔۔اس کی جان ہی نکل گئی ۔۔۔
پہلی ہی ہر طرف عجیب سی نحوست پھیلی تھی ۔۔۔ایک ۔مطھر تو تھا… اسے اس کا ساتھ اب اچھا لگنے لگا تھا ۔۔۔۔وہ اسے جس نظر سے دیکھ رہا تھا ۔۔۔
اس کی نظر اس کے دل کے پار ہو رہی تھی ۔۔۔۔
وہ اس کے پاس بیٹھ گیا ۔۔۔۔
اس کا دل چاہ رہا تھا وہ ایسے ہی اس کے پاس بیٹھا رہے اس کمزور انسان کا ساتھ اسے بھلا لگنے لگا تھا ۔۔۔
اسے اس کے ساتھ تحفظ کا احساس ہونے لگا ۔۔۔۔۔
جیسے وہ کہیں چلا گیا تو اس کے ساتھ کچھ برا ہوجائے گا ۔۔۔۔
جسے وہ حقیر سمجھتی تھی دل نے اسے آج سب سے معتبر کر دیا تھا ۔۔
وہ جان چکی تھی اس کیفیت کو ۔۔۔۔کیونکہ وہ عام لڑکی نہیں تھی ۔۔۔۔لیکن دل کی یہ کیفیت پہلی بار تھی ۔۔۔۔
وہ خود سر مغرور لڑکی ۔۔۔ایک کمزور بے بس انسان پہ دل ہار چکی تھی ۔۔۔۔
(“یہ مجھے کیا ہو رہا ہے
۔۔اس نے ایک دم سے اس کا ہاتھ اپنے چہرے سے ہٹایا ۔۔۔
” سوری ۔۔۔”
اس نے جوابن بس مسکرایا ۔…۔
وہ کچھ قدم ہی چلے تھے ۔۔۔۔انہیں ایک اور راستہ دکھائی دیا ۔۔۔
وہاں سے پانی پہاڑ کے اندر گر رہا تھا
۔۔۔سردی کی شدت کی وجہ سے پانی کے بہاو نا ہونے کے برابر تھا ۔
☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆
” کیا مطلب وہ لوگ وہاں نہیں ہیں
سعادت شھربانو کا آواز سن کر وہی رک گیا ۔
شھربانو کسی سے اونچی آواز میں بات کر رہی تھی ۔۔۔
” میں کچھ نہیں جانتی ۔۔۔وہ لوگ تمہارے پاس تھے ۔۔۔۔کسی بھی طرح ڈھونڈھو ۔۔۔اتنی سردی میں وہ باہر نکلے تو مر جائیں گے ۔۔
وہ اب اندر آچکا تھا ۔۔
” میں بعد میں بات کرتی ہوں ۔۔۔”
وہ اب سیدھی اس کی طرف لپکی ۔۔
” سھل کہاں ہے ۔۔” اس نے اس کا گریبان پکڑ لیا ۔
اسے سمجھ نہیں آیا اچانک شھربانو کو کیا ہوگیا ہے ۔۔۔۔
” سھل کہاں ہے سعادت ملک ۔۔۔کیا کیا تم نے میری بیٹئ کے ساتھ ۔۔۔
اس نے شھربانو کے ہاتھ اپنے گریبان سے جھٹکے ۔۔۔
” اپنی حد میں رہو ۔۔۔۔۔مجھے نہیں پتا سھل کہاں ہے ۔۔۔اس لڑکی سے تمہارا ڈی این اے میچ کرکے دیکھیں گے ۔۔”
” بکواس بند کرو ۔۔۔وہ میری سھل نہیں ۔۔۔اسے کچھ نہیں ہو سکتا ۔۔۔۔میں نے تم جیسے شخص کو معاف کرنے کا سوچا تھا ۔۔۔۔تم اس قابل ہی نہیں ۔۔۔”
وہ کیا کہہ رہی تھی سب اس کے سر کے اوپر سے گزر رہا تھا ۔۔۔وہ باڈی سھل کی نہیں تھی ۔۔۔یہ تو وہ بھی جانتا تھا ۔۔۔لیکن اتنے دنوں بعد ۔۔۔شھربانو کا اس طرح اس سے پوچھنا ۔اور معاف کرنے کی بات کہنا ۔۔۔
” شیری سھل کہاں ہے ۔۔۔۔؟؟”
پہلے شک تھا اب یقین ہوگیا ۔۔۔ اب تک سھل شھربانو کے ہی پاس تھی ۔۔۔
” یہ میرے سوال کا جواب نہیں ۔۔۔تم نے ان لوگوں کو کتنے میں خریدا ہے ۔۔۔
” میں نہیں جانتا ۔۔سھل کہاں ہے اور تم کونسے لوگوں کی بات کر رہی ہو ۔۔۔۔کس سے تم نے یہ کام کروایا تھا ۔۔۔۔مجھے ان کے نام بتائو ۔۔۔میں ان سب کو دیکھ لوں گا ۔۔”
◇◇◇◇◇◇◇◇◇◇◇
سعادت کی کسی بات پر اب اسے یقین نہیں آرہا تھا ۔۔۔
خان لالہ کی کال کے بعد اس کے پاوں کے نیچے سے زمین ہی سرک گئی تھی۔۔۔
وہ سوچ بھی نہیں سکتی سعادت وہاں تک بھی پہنچ سکتا ہے ۔۔۔
اب رہ رہ کے اس کے دل میں یہی خیال آرہا تھا ۔۔۔وہ لڑکی کون ہے جس کی باڈی ہاسپیٹل میں ہے۔۔۔۔سھل کے
خیال سے ہی اس کی روح کانپ جاتی ۔۔
” تم سب جانتے ہو ۔۔مسٹر سعادت ۔۔میں اپنی بیٹی کو ڈھونڈ لوں گی ۔۔۔لیکن اگر میری بیٹی کو ایک خراش بھی آئی ۔۔۔تو میں یہ بھول جائوں گی ۔۔۔سونیا میری بھی بیٹی ہے ۔۔۔”
اسے اب یہاں رک کر اپنا وقت ضائع نہیں کرنا تھا ۔۔۔وہ تیز تیز قدم اٹھاتی کمرے سے باہر چلی گئی ۔۔۔
☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆
ماضی
آفس کی گاڑی ایک شاندار فارم ہاوس کے سامنے آکر رکی ۔۔
ہر طرف ہریالی ہی ہریالی تھی شہر کے بکھیڑوں سے دور ایک خوبصورت پر فضا مقام تھا ۔۔
اس نے دیکھا ۔۔گارڈ اسے گھور کر دیکھ رہا ہے ۔۔
واقعی میں وہ وہاں آکے ان نظاروں میں ایسی کھو گئی تھی ۔۔آس پاس کا ہوش ہی نہیں رہا تھا ۔۔۔۔
” کیا کمار صاحب اندر ہیں ۔۔۔؟؟
اس نے گارڈ کو پوری طرح اپنی طرف متوجہ دیکھ کر سوال کیا ۔۔۔
” جی “
گارڈ نے اس کے لیے دروازہ کھول دیا ۔۔۔
وہ اب اس محل نما فارم ہاوس کے اندر آچکی تھی ۔۔۔
صاحبہ لائونج کے دروازے پر ہی کھڑی اسے دکھائی دی ۔۔۔
” اتنی دیر کر دی تم نے ۔۔۔”
صاحبہ نے نہایت ہی بے تکے انداز میں ہاتھ ہلا کہ اس سے سوال کیا ۔۔۔
” جی میں سر کو بتا چکی تھی۔۔۔باقی ورکر کہاں ہے ۔۔۔؟؟”
اس نے ادھر اودھر نظر دوڑانے کے بعد اس سے سوال کیا ۔۔۔
صاحبہ کے چہرے پہ عجیب سی مسکراہٹ آئی ۔۔۔
” تم اندر تو آئو ۔۔۔” صاحبہ نے اس کا ہا تھ تھاما ۔۔۔اسے ہلکے سے کھینچتی اندر لے آئی ۔۔
” اس طرف ہیں سر ۔۔
عجیب بے تکا سا انداز تھا گویا بات کم ڈانس زیادہ کر رہی تھی ۔
اس لڑکی کو اس نے چار پانچ بار آفس میں دیکھا تھا ۔۔۔
ہر کسی سےمٹک مٹک کربات کرنا ۔۔۔۔نیم برہنہ لباس آفس میں کسی کو بھی وہ لڑکی پسند نہ تھی ۔۔۔
وہ اسے نظر انداز کرتی ۔۔۔اسی کمرے کی جانب گئی ۔۔۔جو بقول اس صاحبہ کے میٹنگ حال تھا ۔
اس نے چند ہی قدم اس کمرے کی جانب اٹھائے تھے ۔۔۔اس لڑکی کو اس نے لائونج کا دروازہ بند کرتے باہر جاتے دیکھا ۔۔۔۔
اسے نجانے کیوں ۔۔ڈر لگنے لگا تھا ۔۔۔عجیب سی پرسراریت ہر طرف پھیلی تھی ۔۔۔
جیسے اس کے سوا اتنے بڑے محل میں کوئی موجود ہی نہیں تھا ۔۔۔
وہ چھوٹے چھوٹے قدم اٹھاتی اسی کمرے کی جانب گئی ۔۔۔
اس نے دروازہ پر نوک کرنا چاہا ۔۔۔لیکن دروازہ کھلا تھا ۔۔۔اس نے دروازے کا ہینڈل گھمایا تو دروازہ کھلتا چلا گیا ۔۔۔۔
کمرے میں سامنے کوئی بھی نظر نہیں آرہا تھا ۔
” زہے نصیب زہے نصیب “
اس نے پیچھے مڑ کر دیکھا تو کمار کمرے کا دروازہ بند کر رہا تھا ۔۔
◇◇◇◇◇◇◇◇◇◇◇◇
سعادت کا فارم ہاوس شہر سے دو گھنٹے کی دوری پر واقع تھا ۔۔
سعادت کو فارم ہاوس سے نکلے ایک گھنٹہ گزر چکا تھا ۔۔
سعادت کا رخ اب ممتاز بیگم کے گھر کی طرف تھا ۔۔۔۔
اسے وہاں جاکے ہی کنفرم کرنا تھا ۔۔۔۔
عجیب سے خدشات اب بھی اس کے دل میں سر اٹھائے ہوئے تھے ۔۔۔
تقریبا دو گھنٹے بیس منٹ کی مسافت کے بعد وہ اب شھربانو کے گھر موجود تھا ۔۔۔۔
وہ دروازے پر ہی سوچ رہا تھا وہ اندر جائے یا نہیں ۔۔۔۔
وہ جانتا تھا ۔۔۔شھربانو سے جب بھی اس کا سامنہ ہوا ہے ۔۔۔اس نے اس کی اچھی خاصی عزت افزائی کی تھی ۔۔لیکن اسے اپنا شک دور کرنا تھا ۔۔۔
اس نے پوری ہمت جمع کر کے ۔۔۔دروازہ کھٹکھٹایا ۔۔۔
☆☆☆☆☆♡♡◇◇◇◇◇
” سر باقی لوگ کہاں ہے ۔۔۔۔” وہ آس پاس نظر دوڑا رہی تھی ۔۔۔
کمرہ میٹنگ حال کم شاہانہ طرز کا بیڈ روم زیادہ لگ رہا تھا۔
شھربانو کو معاملہ کچھ گڑ بڑ لگ رہا تھا ۔۔
” اوو اچھا جن کے ساتھ میٹنگ تھی ۔۔
” جی سر “
اس نے سر کو ہلکی جنبش دی ۔۔
اس شخص نے فائلز سامنے ٹیبل پر رکھ دی ۔۔
” میٹنگ ابھی ابھی ختم ہوئی ہے تم ۔۔یہ فائل دیکھ لو ۔۔پھر ہم بھی چلتے ہیں ۔
وہ فائلز رکھتے ہی ۔۔۔اس کے نزدیک صوفے پر بیٹھ گیا.
جاری ہے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *