Intikam E Mohabbat by Esha Noor NovelR50798 Intikam E Mohabbat by Esha Noor Episode18
No Download Link
253K
35
Rate this Novel
Intikam E Mohabbat by Esha Noor Episode01 Intikam E Mohabbat by Esha Noor Episode02 Intikam E Mohabbat by Esha Noor Episode03 Intikam E Mohabbat by Esha Noor Episode04 Intikam E Mohabbat by Esha Noor Episode05 Intikam E Mohabbat by Esha Noor Episode06 Intikam E Mohabbat by Esha Noor Episode07 Intikam E Mohabbat by Esha Noor Episode08 Intikam E Mohabbat by Esha Noor Episode09 Intikam E Mohabbat by Esha Noor Episode10 Intikam E Mohabbat by Esha Noor Episode11 Intikam E Mohabbat by Esha Noor Episode12 Intikam E Mohabbat by Esha Noor Episode13 Intikam E Mohabbat by Esha Noor Episode14 Intikam E Mohabbat by Esha Noor Episode15 Intikam E Mohabbat by Esha Noor Episode16 Intikam E Mohabbat by Esha Noor Episode17 Intikam E Mohabbat by Esha Noor Episode18 (Watching)Intikam E Mohabbat by Esha Noor Episode19 Intikam E Mohabbat by Esha Noor Episode20 Intikam E Mohabbat by Esha Noor Episode21 Intikam E Mohabbat by Esha Noor Episode22 Intikam E Mohabbat by Esha Noor Episode23 Intikam E Mohabbat by Esha Noor Episode24 Intikam E Mohabbat by Esha Noor Episode25 Intikam E Mohabbat by Esha Noor Episode26 Intikam E Mohabbat by Esha Noor Episode27 Intikam E Mohabbat by Esha Noor Episode28 Intikam E Mohabbat by Esha Noor Episode29 Intikam E Mohabbat by Esha Noor Episode30 Intikam E Mohabbat by Esha Noor Episode31 Intikam E Mohabbat by Esha Noor Episode32 Intikam E Mohabbat by Esha Noor Episode33 Intikam E Mohabbat by Esha Noor Episode34 Intikam E Mohabbat by Esha Noor Last Episode
Intikam E Mohabbat by Esha Noor Episode18
Intikam E Mohabbat by Esha Noor Episode18
” نو دن گذر چکے ہیں ۔۔۔۔پولیس اور تمہارے آدمی کیا کر رہے ہیں ۔۔۔
سعادت اپنے گھر کے گارڈن میں عدالت لگائے کھڑا تھا ۔۔۔
جہاں ایس پی ‘ مینجر اور وہ لوگ بھی جمع تھے ۔۔۔جن کو سعادت نے اس کام پہ لگایا تھا ۔۔۔۔
” تمہارا آئی جی صاحب کیوں تشریف نہیں لائے ۔۔۔”
وہ ایس پی کو دیکھ رہا تھا ۔۔۔۔جو ہر دس سیکنڈ بعد پہلو بدل رہا تھا ۔۔۔
” تمہارے خفیہ ادارے ۔۔۔گھاس چر رہے ہیں ۔۔۔۔”
اس کےنشانے پر ایس پی ہی تھا ۔
” سر ۔۔۔وہ “
” فیاض(مینجر ) تم چپ رہو ۔
اس کی نظر سامنے شال لپیٹی ہستی پر پڑی ۔۔۔
جو آہستہ آہستہ قدم بڑھاتی ان کی طرف آرہی تھی ۔۔
ان گہری خوبصورت آنکھوں ۔۔۔میں ہلکی گلابی ڈورے تیر رہے تھے ۔۔۔۔
کھلے سیاہ بال ۔۔۔۔ہوا کے جھونکے سے اڑ رہے تھے ۔۔۔
اس کا غصہ کچھ پل کے لیے کم ہوا ۔۔۔
(” واقعی وہ اداس ہے ۔۔۔؟؟؟ یا یہ سب دکھاوا ہے ۔۔۔” )
اس کی سوچ کچھ پل کے لیے بھٹک کر سامنے کھڑے مجسمے کی طرف گئی ۔۔
جو نظریں گاڑے ان سب کی طرف دیکھ رہی تھی ۔۔
ایس پی نے اٹھ کر اسے سلام کیا ۔۔۔جو اس نے سر کی ہلکی جنبش سے قبول کیا ۔۔۔
” تم آرام کرتی ۔۔۔میں ان سب کو دیکھ لوں گا ۔۔۔”
☆☆☆☆♡♡◇◇◇◇◇◇◇
سورج کی کرنیں اس کے چہرے پر پڑی ۔۔۔تو اس کی نیند نے اسے خیرباد کہا ۔۔۔
اس کی خاص نوکرانی نے کھڑکی کے پردے ہٹا دیے تھے ۔۔۔
یہ اس کا ہی حکم تھا ۔۔۔
جیسے ہی سعادت سے کوئی ملنے آئے وہ اسے جگا دے ۔۔۔
اگر کوئی روکے تو بھی وہ نا رکے ۔۔۔
اسی کا حکم بجا لانے کے لیے اس کی نوکرانی حاضر تھی ۔
” میڈم نیچے گارڈن میں سر سے کچھ لوگ ملنے آئے ہیں ۔۔”
وہ اس کے بلکل قریب کھڑی سرگوشی میں کہنے لگی ۔۔
اس کی آنکھیں جو ہلکی سی کھلی تھی پوری کھل گئی ۔۔۔
” تم ان پر نظر رکھو میں پانچ منٹ میں آئی ۔۔۔”
اس نے پھرتی سے بستر چھوڑا اور باتھ روم کا رخ کیا ۔۔
اسے اتنی جلدی تھی کہ اس نے چینج تک نہیں کیا ۔۔۔
بالوں میں جلدی سے ہلکا برش پھیرا شال لپیٹی ۔۔اور تیز تیز قدم اٹھاتی گارڈن کی طرف چل دی کوئی نوکرانی ناشتے کا پوچھتی رہی کوئی کپڑے نکالنے کا لیکن ۔۔۔اس نے نا کسی کا سوال سنا نہ جواب دیا ۔۔۔
نا ہی اس کے پاس وقت تھا ۔
باہر واقعی میں عدالت لگی تھی ۔۔۔
سعادت کے الفاظ سے۔۔۔۔ صاف ظاہر تھا ۔
وہ اسے یہاں سے جانے کا کہہ رہا ہے ۔۔
لیکن وہ جانے کے لیے تو نہیں آئی تھی ۔۔۔
سعادت ان پر برس رہا تھا ۔۔
اور وہ سعادت کی بے بسی اور ہار ہی تو دیکھنے آئی تھی ۔۔
اسے اب وہ سب گھریلو اور اچھئ بیوی بننے کے ڈھونگ ختم کرنے تھے ۔۔۔
بہت ہو چکا تھا ۔سب ڈرامہ ۔۔۔پانی اب سر سے گذر چکا تھا۔۔۔۔۔اب انتقام لینے کا وقت ۔تھا ۔۔۔لیکن یہ انتقام محبت کا تھا ۔۔
(” سعادت تو ہر بار نہیں جیت سکتا ۔۔۔”)
وہ کن انکھیوں سے اسے دیکھ رہی تھی ۔۔۔
جو اپنی ہار پر تلملا رہا تھا ۔۔۔
” تم لوگ جائو شام میں فارم ہاوس میں ملاقات ہوگی ۔۔۔
اپنے آئی جی کو کہنا آجائے ۔۔۔ورنہ جس نے آئی جی کی پوسٹ دلوائی ہے وہ لے بھی سکتا ہے ۔۔۔۔بات تو سمجھ آگئی ہوگی ۔۔۔”
وہ ایس پی سے مخاطب تھا ۔۔۔پر سنا وہ سب اسے ہی رہا تھا ۔۔۔
” آپ اپنی میٹنگ جاری رکھیں ۔۔۔۔میں بھی تو سنو میری بیٹی کے اغوا کے معاملے میں کتنی پیش رفت ہوئی ہے ۔۔
سعادت اسے غصے سے گھورنے لگا ۔۔۔
اور وہ اس کی اس گھوری پر ۔۔۔دل سے مطمئن تھی ۔۔۔
(” سعادت ۔۔۔اب کی بار ہار بس ہار ۔۔۔”) ۔۔۔۔
با معنی نظروں سے سعادت کو دیکھا ۔۔۔
تو اس نے نظریں پھیر لی ۔۔۔
(” بہت بار چھین چکے مجھ سے میرے پیارے ۔۔۔پر اب نہیں ۔۔۔”)
میٹنگ برخاست ہو چکی تھی ۔۔
سعادت نے غصے میں اپنا کوٹ اٹھایا اور گاڑی کا رخ کیا ۔۔
شھربانو کے ہونٹوں پر ہلکی سی مسکراہٹ پھیل گئی ۔۔۔
سعادت کے ڈرائیور نے گاڑی کا گیٹ کھولا ۔۔
اس نے بیٹھتے ہوئے ۔۔۔پھر سے ایک نظر اس کی طرف دیکھا ۔۔
ایک طنزیہ مسکراہٹ اس کے لبوں پر پھیلی ۔۔۔ایک طنز بھری نظر سے اسے دیکھا ۔۔۔
سعادت کے چہرے پر کئی رنگ آئے اور چلے گئے ۔۔۔
وہ بھی رخ پھیر کر اندر چلی گئی۔۔۔
اب وہ ان سب میڈ کو ان کے سوالوں کے جواب دے رہی تھی ۔۔۔۔ان کے ہیڈ میڈ ان سب کو یہ کام جلدی کرنے کا کہہ رہی تھی ۔۔۔
سعادت کے ساتھ جنگ میں اسے بھی تیار رہنا تھا ۔۔۔۔اس کا ہر دائو اس پر الٹنا جو تھا ۔۔
وہ فریش ہونے کے بعد آئینے کے سامنے بیٹھی ۔۔۔خود سے مخاطب تھی ۔۔
آج اس کا رخ عنبر کے گھر کی طرف تھا ۔۔۔جہاں اس نے زویا کو پہلے ہی پہنچنے کا کہہ دیا تھا
” سوری زویا ۔۔۔میں تمہیں تکلیف دے رہی ہوں ۔۔۔”
وہ پھر خود کا عکس آئینے میں دیکھ کر مسکرائی ۔۔۔
” محبت اور انتقام میں سب کچھ جائز ہے ۔۔۔”
وہ تیز تیز قدم اٹھاتی ۔۔کمرے سے باہر نکل گئی ۔
☆☆☆☆☆♡♡◇◇◇◇◇◇◇
وہ کانچ کی دیوار کے پاس آئی ۔۔۔اسے مطھر کہیں نظر نہیں آرہا تھا ۔۔۔۔
” شاید دوسرے کمرے میں ہو ۔۔۔۔لیکن یہ تو اس کے سونے کا ٹائم نہیں ۔۔۔”
اسے دو گھنٹے سے مطھر نظر نہیں آیا تو وہ گھبرا گئی ۔۔۔
نفرت کتنی بھی شدید تھی ۔۔۔پر اس سونے کے پنجرے میں اکیلے رہنے کا سوچتے ہی انسان کے رونگٹے کھڑے ہو جاتے
وہ اب کانچ کی دیوار کے۔ نزدیک ہو کر کھڑی تھی ۔۔۔اس کی نظریں اس شخص کی متلاشی تھی ۔۔
جس سے کہنے کو اسے سخت نفرت تھی۔۔۔۔
” کیا وہ مجھے چھوڑ کر چلا گیا اس زندان میں ۔۔۔۔”
وہ خود سے ہی ہمکلام تھی ۔۔
اسے اپنی سانسیں رکتی محسوس ہوئی ۔۔۔
سوچیں تھکنے لگی ۔۔۔۔
گھبراہٹ بڑھنے لگی ۔۔۔” نہیں وہ مجھے چھوڑ کے نہیں جا سکتا ۔۔۔۔”
وہ اپنے دل کو تسلی دینے لگی ۔۔۔۔۔۔۔کئی طرح کے خدشات اس کے دل میں سر اٹھانے لگے ۔۔۔
دل اور دماغ کی جنگ چھڑ چکی تھی ۔۔۔
☆☆☆☆☆☆☆☆☆
ماضی
راحیل کی بے رخی ۔۔۔اب اس کی برداشت سے باہر ہو چکی تھی ۔۔۔
راحیل ہاسپیٹل جانے کے لیے تیار کھڑا تھا ۔۔۔
اس نے بیگ نکال کے اس میں کپڑے ٹھونسنے شروع کر دیے ۔۔۔
” مجھے اب یہاں نہیں رہنا ۔۔۔کس کے لیے رہوں میں یہاں ۔۔۔مجھے بابا کے گھر چھوڑ آئیں ۔۔۔”
وہ منہ بسورے بیگ بند کرنے لگی ۔۔۔
” تیار ہو جائو میں چھوڑ آتا ہوں ۔۔۔”
راحیل کے وہ الفاظ اس پر قیامت لانے کے لیے کافی تھے ۔۔
اس کی آنکھوں سے پت جھڑ شروع ہوگئی ۔۔۔
جو آنسو اس نے اتنے دن سے روک رکھے تھے آخر کار وہ اپنا بند توڑ چکے تھے ۔۔۔
راحیل پھر بھی اس کے پاس نہ آیا ۔۔۔
وہ جانے لگا تو وہ خود ہی اس کے سامنے کھڑی ہو گئی۔
” مجھے دیر ہو رہی ہے چلنا ہے تو چلیں آپ کو چھوڑ دوں گا ۔۔”
اس کے آنسو اب بھی ٹپ ٹپ گر رہے تھے ۔۔۔
آخر اس کا ضبط جواب دے گیا ۔۔۔
اور وہ راحیل کے سینے پر سر رکھ کر پھوٹ پھوٹ کر رو دی ۔۔۔
وہ بھی کب تک پتھر بنا رہتا ۔۔
اس نے پیار سے اسے بیڈ پر بٹھایا ۔۔۔
پانی کا گلاس اسے تھمایا ۔۔۔۔” راحیل وہ سب میرا ماضی تھا ۔۔۔۔۔اب ایسا کچھ نہیں ۔۔۔میرا ماضی ۔۔۔”
” ماضی تھا تو تم نے جاب کے لیے کیوں اپلائے کیا ۔۔۔اگر کیا بھی تھا تو مجھ پوچھنا تو درکنار مشورہ تک نہیں لیا ۔۔۔”
وہ دم بخود اسے دیکھے جا رہی تھی ۔۔۔
وہ کیا سوچ رہی تھی ۔۔اور راحیل تو کسئ اور بات سے ناراض تھا ۔۔۔
وہ اس کے گالوں پہ آنسو سے چپکے بال ہٹانے لگا ۔۔
” آ۔۔آ۔۔۔آپ اس وجہ سے ناراض تھے ۔۔۔”
” کیوں تم نہیں جانتی تھی ۔۔۔”
اس نے معصومیت سے بچوں کی طرح نفی میں سر ہلایا ۔۔۔
” تم کتنی بار روٹھی ہر بار میں نے تجھے منایا ۔۔۔اور ہمیں اتنے دن کی سزا ۔۔۔ہم نے سوچا آپ ہمیں منا لے گی ۔۔۔
لیکن اتنی دیر ۔۔۔”
اس نے اپنا سر راحیل کے شانے پر رکھ لیا ۔۔۔۔
” اور یہ جانے کی بات کیوں کی ۔۔۔اپنے راحیل کو چھوڑ کر چلی جائوں گی ۔۔۔۔”
کافی دیر تک پیار بھرے شکوے شکایتیں ہوتیں ۔۔رہی ۔۔۔
(” راحیل کسی اور بات سے ناراض تھا اور وہ پاگل ۔۔۔سب کچھ بتانے لگی تھی ۔۔۔” ) وہ دل ہی دل میں سوچ کے مسکرائی ۔۔۔
ان دونوں کے گلے شکوے ختم ہو چکے تھے لیکن راحیل اس دن ہاسپیٹل نہیں گیا ۔۔۔
وہ شھربانو کو لے کر گھومنے نکل پڑے ۔۔۔۔
” بانو ۔۔۔تم نے محسوس کیا ۔۔۔ایک گاڑی ہمارا پیچھا کر رہی ہے ۔۔۔”
شھربانو نے پیچھے مڑ کر دیکھا تو واقعی میں ایک گاڑی کافی وقت سے اس کے پیچھے تھی ۔۔۔
اس کا پورا شک سعادت کی طرف ہی گیا ۔۔۔
” آپ کل مجھے ہاسپیٹل جاتے وقت اماں کے پاس چھوڑ جانا ۔۔۔”
” اب بھی ۔۔۔” راحیل نے شرارت بھرے لہجے میں کہا ۔۔۔
شھربانو نے بھی آنکھیں دکھائی ۔۔۔
☆☆☆☆♡◇◇◇◇◇
شھربانو میکے پہنچی ۔۔تو ان کے گھر کا حلیہ ہی تبدیل تھا ۔۔۔
کافی تبدیلی تھی گھر میں ۔۔۔
نیا ریفریجریٹر ۔۔نیا ٹی وی۔ ۔۔۔۔ہر چیز پر فیکٹ تھی ۔۔۔
” امی یہ سب ۔۔۔؟؟؟!!!”
” ارے بانو تو کب آئی ۔۔۔” ۔۔۔نئے صوفے ۔۔دنیا ہی الگ لگ رہی تھی ۔۔۔
” یہ سب تو سعادت بیٹا لایا ہے ۔۔۔۔شاپ پر بھی اب تیرا بابا زیادہ کام نہیں کرتا ایک لڑکا رکھ دیا ہے کام کے لیے ۔۔۔۔
فرشتہ ہے فرشتہ ۔۔۔”
اس کی ماں تو سعادت کے گن گا تے نہ تھکتی ۔۔۔۔
ادھر اس نام سے اس کی روح تک کانپ جاتی ۔۔۔۔۔۔۔
” لیکن امی یہ سب کیوں ۔۔۔آخر اس کا رشتہ ہی کیا ۔۔ہے ہم لوگوں کے ساتھ ۔۔”
” بیٹا کچھ لوگ بے لوث محبت کرتے ہیں سعادت بھی انہی میں سے ہے ۔۔۔وہ تو کہتا ہے ۔۔اب ان کے سب کچھ ہم ہی ہیں بس ۔۔مجھے تو اب اس کی شادئ کروانی ہے۔۔۔۔ کوئی اچھی لڑکی ہے تیری نظر میں ۔۔۔؟؟!!”
شادی کے نام پر اس کے دل میں ہلکی سی خلش ابھری ۔۔۔
(نہیں نہیں ایسا کیسے ہو سکتا مجھے کیوں اس کی شادی سے تکلیف ہونے لگی ۔۔)
لیکن یہی سچ تھا دل کے کسی کونے میں آج بھی سعادت کی محبت بستی تھی ۔۔
آج بھی دل کے ایک نہاں خانے میں سعادت بستا تھا ۔۔۔
” لیکن امی یہ سب کچھ آپ لوگ اسے واپس کر دے مناسب نہیں لگتا ۔۔
آپ لوگ میری بات سمجھ ہی نہیں رہے ۔۔۔”
شھربانو پریشان تھی ۔۔۔
اگر راحیل نے یہ سب دیکھ لیا ۔۔۔۔اور سعادت کے بارے میں پوچھ لیا ۔۔۔تو وہ کیا جواب دے گی ۔۔۔۔
لیکن اس کے سادہ طبیعت ماں باپ ۔۔۔جو لوگوں کی نیتیں کہاں سمجھتے تھے ۔۔۔
وہ اسی سوچوں میں پریشان کھڑی تھی ۔۔۔
جب وہاں سعادت کا داخلہ ہوا ۔۔۔۔۔
” اسلام و علیکم امی ۔۔۔کیسی ہو شھربانو ۔۔۔۔”
شھربانو جو پہلے ہی پریشان تھی اس کے آنے سے اور زیادہ پریشان ہو گئی ۔۔۔
موقع دیکھ کر شھربانو اس کی جانب متوجہ ہوئی ۔۔۔
” مجھے تم سے بات کرنی ہے ہم کہیں باہر مل سکتے ہیں ۔۔؟؟؟۔”
وہ سعادت کے قریب سرگوشی میں گویا ہوئی ۔۔۔
“جو بات کرنی ہے یہی کرو ۔۔۔”
سامنے سے اس نے سرد مہری سے جواب دیا ۔۔۔
شھربانو بس دانت پیس کر رہ گئی ۔۔۔
” تم راحیل کا پیچھا کیوں کر رہے تھے ۔۔۔۔”
وہ اب دانت بھینچے غصے میں کہہ رہی تھی ۔۔
” کیونکہ وہ دو نمبر آدمی ہے ۔۔۔جعلی ڈگری ہے اس کے پاس ۔۔۔میں تو ہمیشہ تجھے غلط ہی لگا ۔۔اور وہ ۔۔۔۔”
وہ اب غصے سے اسے گھور کر دیکھ رہا تھا ۔۔۔
” جو بھی ہے وہ ہمارا اپنا ذاتی معاملہ ہے آپ کو اس کہ بیچ آنے کی
کوئی ضرورت نہیں ۔۔۔۔بہتر ہوگا ۔۔۔تم ہماری زندگیوں سے نکل جائو ۔۔۔میری میرے ماں باپ کی اور راحیل کی ۔۔۔”
ممتاز بیگم کو آتا دیکھ کر ۔۔۔شھربانو گلا کھنکار کے تھوڑا دور ہٹ کر بیٹھی ۔۔۔
(“تم سامنے کیوں آجاتے ہو سعادت۔۔۔۔مجھے جینے دو خدا کے لیے ۔۔۔۔تجھے دیکھتے ہی میرے دل کہ کسی کونے میں ۔۔جہاں۔تیری محبت کو مدفن کیا ہے ۔۔۔کیوں اس قبر کی کھودنا چاہتے ہو ۔۔۔”)
وہ نظروں ہی نظروں میں التجا کر رہی تھی ۔۔
آنکھیں نم ہونے لگی تو اس نے منہ پھیر لیا ۔
☆☆☆☆◇◇◇◇◇◇◇◇
وہ شھربانو کی سوچ پر دنگ رہ گیا ۔۔۔۔
جب اس نے اسے یہ کہہ دیا کہ وہ راحیل کا پیچھا کر رہا تھا ۔۔۔۔غصے میں اسے کہ منہ میں جو آیا کہہ دیا ۔۔
وہ تو ان دونوں کو ساتھ دیکھنے تک کا روا نہ تھا ۔۔۔
پیچھا کرنے کا تو سوال پیدا نہ ہوتا۔۔۔۔
اس نے ایک نظر اٹھا کر شھربانو کی طرف دیکھا ۔۔۔
اس کی نگاہوں میں اسے التجا نظر آئی پر اسے وہ نظر کا دھوکہ سمجھ کر سر جھٹک لیا ۔۔۔
” میری زندگی برباد کر کے خود خوشیاں منا رہی ہو بہت کم دن بچے ہیں ان خوشیوں میں ۔۔۔منا لو جتنی منانی ہیں “
وہ شھربانو سے کہنے کو تو لاکھ درجہ نفرت کرتا تھا ۔۔۔
پر جب وہ سامنے آتی نفرت تو کہیں کھو جاتی ۔۔۔
بس ایک غصہ تھا ۔۔۔جو ہر پیار کرنے والے کو ایک دوسرے پر ضرور آتا ہے ۔۔۔
وہ وہاں سے اٹھ کر چلا آیا ۔۔۔۔
وہ نہیں چاہتا تھا اس کا سامنا اس شخص سے ہو ۔۔۔
جس کے خون کا پیاسا وہ ہو چکا تھا ۔۔۔
اس کا ضبط دن بدن کم ہوتا جا رہا تھا ۔۔۔
وہ اسے مارنا نہیں برباد کرنا چاہتا تھا ۔۔۔۔
” مر تو وہ خود ہی جائے گا۔۔۔۔جب دنیا کو اس کی جعلی ڈگری کا پتہ چلے گا ۔۔۔۔اگر کچھ انا اور غیرت باقی ہوئی ۔۔تو احساس ندامت اور شرمندگی سے ۔۔۔تو وہ خود ہی چلو بھر پانی میں ڈوب کے مر جائے گا ۔۔۔۔۔
اس نے اپنے پلان پے کام کرنا شروع کر دیا تھا۔۔۔بس اسے بے نقاب کرنا تھا
◇◇◇◇◇◇◇◇◇◇◇
حال ۔
اس نے پورے ڈھائی گھنٹے بعد اسے آتے دیکھا ۔۔۔
اس کی جان میں جان آئی۔۔۔۔
وہ جس سے اتنی نفرت تھی اسے نا پا کر اتنی بے قرار کیوں تھی ۔۔۔۔کیوں اس کے سوا اسے کسی پر اعتبار نہیں آرہا تھا ۔۔۔دل کیوں اسے اپنا محافظ مان رہا تھا ۔۔۔
کیسی کیفیت تھی ۔۔۔۔
اسے نئی کیفیت سے وہ بلکل ناواقف تھی ۔۔۔۔۔
کچھ نئے احساسات تھے ۔۔۔۔۔
کبھی حد سے زیادہ غصہ آتا ۔۔۔۔۔کبھی بے وجہ فکر ہونے لگتی ۔
وہ سامنے سے مرے مرے قدم اٹھاتا آرہا تھا ۔۔۔
اس نے اپنے بہت سارے منصوبے بنائے ان میں سے ایک اس پہ جھوٹا الزام لگانا تھا ۔۔۔۔۔پر دل اس کی کردار کشی کرنے کو نہیں مان رہا تھا ۔۔۔
وہ جو کافی دیر سے کانچ کی دیوار کے پاس کھڑی تھی ۔۔۔
مطمئن ہو کر ۔۔۔بیڈ پر بیٹھ گئی ۔۔۔
وہ سامنے صوفے پے ڈھے جانے والے انداز پر بیٹھ گیا ۔۔۔
۔۔☆☆☆☆☆☆☆☆☆
” بہت ہوگیا ۔۔” ۔۔وہ غصے میں اٹھا ۔۔۔اور اس کانچ کی دیوار کی طرف بڑھنے لگا ۔۔۔
اس نے کوڈ لگایا اور دروازہ کھلتا چلا گیا ۔۔
وہ جو سامنے سے مطمئن ہو کے بیڈ پر بیٹھی ایک دم سے گھبرا کے کھڑی ہو گئی ۔۔
وہ تیز تیز قدم اٹھاتا اس کی جانب بڑھنے لگا ۔۔۔۔
” اس پاگل لڑکی میں عقل نام کی چیز ہی نہیں ” وہ بڑبڑاتا اس کی جانب بڑھ رہا تھا ۔۔۔
سامنے کھڑی لڑکی کے چہرے پہ کئی رنگ آ جا رہے تھے ۔۔۔
وہ پیچھے ہٹ رہی تھی ۔۔۔
” ان کو میرے جینے مرنے سے کوئی فرق نہیں پڑتا
۔۔لیکن تمہارے مرنے سے ان کو ضرور فرق پڑے گا ۔۔۔اب تو آئیں گے نا تجھے بچانے ۔۔۔دروازہ تو انہیں کھولنا ہی پڑے گا ۔
☆☆☆☆☆☆☆
وہ پاگل جنونیوں کی طرح نظر آرہا تھا ۔
وہ شعلہ بار نظروں سے اسے دیکھتا ۔۔۔اس کی جانب بڑھ رہا تھا ۔۔۔
اس کے چہرے کے تاثرات دیکھ کر وہ گھبرا کر دو قدم پیچھے ہٹ گئی
۔۔۔وہ جس غصے سے اس کی جانب آ رہا تھا ۔۔۔ایسا لگ رہا تھا وہ اسے کچا چبا جائے گا ۔۔
” دیکھو دور رہو مجھ سے ۔۔۔تم جانتے نہیں مجھے ۔۔۔” وہ اپنے پیچھے کوئی چیز ڈھونڈنے لگی ۔۔۔
تاکے اپنا دفاع کر سکے ۔۔
وہ اس زندان میں کافی کمزور ہو چکی تھی ۔
☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆
” خان لالہ ۔۔۔وہ شخص اس لڑکی کو مار ڈالے گا ۔۔۔۔۔”
سی سی ٹی وی کیمرے میں دیکھتے ایک شخص نے دوسرے شخص کو مطلع کیا ۔۔۔
ایک زوردار قہقہہ ابھرا ۔۔۔
” ارے بیوقوف وہ کچھ نہیں کرے گا ۔۔۔۔وہ سب ڈرامہ۔۔!!! ہمیں بیوقوف بنانے کے لیے کر رہا ہے ۔۔۔لیکن ہم سب سمجھتا ہے ۔۔
وہ دونوں ایک دوسرے کو جانتا ہے اور پسند بھی کرتا ہے ۔۔۔۔۔۔ہم تو وہ ہیں جو اڑتی چڑیا کے پر تک۔ گن لیتا ہے ۔۔۔یہ تو پھر بھی بلبل قید میں ہے “
ایک بار پھر اس کا قہقہ ابھرا ۔۔۔۔
” خان لالہ وہ لڑکی کچھ کر لے گی پھر ۔۔۔”
وہ پھٹی آنکھوں سے سامنے اسکرین میں دیکھ رہا تھا ۔۔۔
لیکن وہاں بیٹھا خان لالہ بڑے مزے سے وہ سب دیکھ رہا تھا ۔۔۔
جیسے حقیقت نہیں کوئی فلم دیکھ رہا ہو
☆☆☆ ☆☆☆♡♡♡♡♡♡◇
اس کے ہاتھ میں جو چیز آرہی تھی ۔۔۔وہ اٹھا کر اس پر پھینک رہی تھی ۔۔
وہ دروازے کی طرف بھاگی ۔۔۔لیکن دروازہ مطھر کے اندر آتے ہی بند ہو گیا ۔۔۔تھا
اس نے ہر طرف نظر دوڑائی کھانے کے برتنوں کے سوا کچھ نہیں تھا ۔
وہ وہی اٹھا کر اس پر پھینک رہی تھی ۔۔
اس کے ہر وار پر وہ جھک کر اپنا دفاع کر رہا تھا ۔۔
۔۔اور کچھ چیزیں کیچ کر لیتا ۔۔۔
” میں اس کمینے کے لیے پریشان ہو رہی تھی ” وہ زہر لب بڑبڑائی
وہ ایک بھیانک مسکراہٹ لیے اس کی طرف بڑھ رہا تھا
” تجھے مار کے ہی میں باہر نکل سکتا ہوں ۔۔۔۔نہ ہوگا بانس نہ بجے گی بانسری ۔۔
” دیکھو ہم دوستی کر لیتے ہیں۔۔۔” اب وہ یہ دیکھ رہی تھی کہ وار کیسے کرنا ۔۔۔
وہ پھرتی سے ایک ہاتھ کی مدد سے تقریبن لیٹنے۔ والے انداز میں ۔گول گھومی اس کی ایک ٹانگ زور سے اس کی ٹانگوں پہ لگی ۔۔
وہ اپنا توازن برقرار نہ رکھ سکا ۔۔
وہ لڑ کھڑاتا زمین پر بیٹھ گیا ۔۔۔اس نے ایک زور کی کک اس
کی پیٹھ پہ ماری ایک آہ کی آواز ابھری ۔۔۔
جب تیسری بار اس نے وار کرنے کی کوشش کی ۔۔۔
شاید وار کرنے میں کچھ وقت لگ گیا وہ سنبھل کر اٹھ چکا تھا ۔۔۔۔اپنا دفاع کرتے ہوئے اس پر حملہ کر چکا تھا ۔۔
اس کی گردن اس کے شکنجے میں تھی
اس نے جھٹکے سے ایک ہاتھ سے اس کی گردن دبوچ لی ۔۔۔
شکنجہ اس کی گردن کے گرد تنگ ہو رہا تھا ۔۔۔۔اسے اپنی گردن ٹوٹتی ہوئی محسوس ہوئی ۔۔۔
لیکن اس کے الفاظ اس کے کانوں تک آرہے تھے ۔۔
“بے ہوش ہونے کے ڈرامہ کرو ۔۔۔۔جلدی ۔۔میں آہستہ سے تیرے سر پہ کہنی ماروں گا اور تم ایسے گرنا جیسے بے ہوش ہو گئی ہو ۔
وہ یہ سب اسے سرگوشی میں سمجھا رہا تھا۔
” میں کیوں بات مانوں تمہاری ۔۔۔۔تم تو مجھے مارنے آئے ہو ۔۔۔چھوڑو مجھے ۔۔۔مجھے گھٹن ہو رہی ہے ۔۔۔”
اسے کی آواز حلق سے رک رک کے آرہی تھی ۔۔۔
” میری بات سمجھو اگر یہاں سے نکلنا ہے تو میرا ساتھ دینا ہوگا ۔۔
وہ اب بھی سرگوشی میں اسے کہہ رہا تھا ۔۔
اس کے ہاتھ کا شکنجہ کافی ڈھیلا پڑ گیا تھا ۔۔
بس انہیں دکھانے کو ہی اس نے ایک بازو کا حصار اس کی گردن کے گرد ڈالا ہوا تھا ۔۔۔لگ ایسے رہا تھا اس نے گردن دبوچ رکھی ہے ۔۔۔۔اسے آہستہ سے سمجھانے کے بعد اچانک سے وہ چلانے لگا ۔
” تم نازک سی گڑیا ۔۔۔کیا سمجھتی ہو مرد کا مقابلہ کر سکتی ہو ۔
نہیں تم نازک ہو نازک ہی رہو گی ۔
پہلے پہل اسے کچھ سمجھ نہ آیا ۔۔۔۔لیکن کچھ ہی پل میں اسے ساری بات سمجھ آگئی ۔۔۔وہ یہ سب ان کو سنانے کے لیے کہہ رہا تھا ۔۔۔۔
اس نے سوچا چلو اس کی بات مان کے دیکھ لیتے ہیں۔۔
اس نے اسے اس پلان کے مطابق سر پہ کہنی ماری ۔۔۔۔
وہ بھی بھرپور اداکاری کے ساتھ زمین پر گری کہنے کو تو سب پلانڈ تھا ۔۔۔
لیکن پھر بھی کسی حد تک اسے چوٹ لگی تھی ۔۔۔
☆☆☆☆☆♤♡♡♡♡♡
وہ جانتا تھا وہ عام لڑکی نہیں ۔۔۔مقابلے میں وہ بڑے بڑے پہلوانوں کو چاروں شانے چت کر سکتی ہے ۔۔
لیکن مسلسل قید و بند کی صعوبتوں نے اسے کمزور کر دیا تھا ۔۔
لیکن پھر بھی وہ ایسے ہار ماننے والوں میں سے نہیں تھی ۔۔
وہ یہی چاہتا تھا وہ اس کے قریب آئے تو وہ اپنے منصوبے کو پایہ تکمیل تک پہنچائے ۔۔۔وہ یہ نہیں جانتا تھا ۔۔
کہ وہ اس کی بات مانے گی بھی یا نہیں ۔۔۔
لیکن اس نے اس کے اس پلان میں اس کا بھرپور ساتھ دیا ۔۔
اسے اپنی آزادی قریب آتی محسوس ہوئی ۔۔
دل میں اس کی عزت اور بڑھ گئی تھی ۔۔۔۔اس دن کے بعد وہ بلکل خاموش ہو چکی تھی ۔۔
ٹی وی دیکھتی رہتی ہا سو جاتی ۔۔۔یہی اس کا روز کا معمول تھا
☆☆◇◇◇◇◇◇◇◇◇◇
شھربانو عنبر کے گھر کی جانب گامزن تھی ۔۔
اسے اپنی اور زویا کی گفتگو یاد آنے لگی ۔۔
دو دن پہلے۔
” زویا ۔۔۔تم میری مدد کرو گی ۔۔۔”
اس کے لہجے میں التجا در آئی ۔” بولو یار ۔۔۔تم بیٹھ تو جائو ۔۔۔۔اتنی گھبرائی ہوئی کیوں ہو ۔۔
وہ اسے شانوں سے پکڑ کر اپنے پاس بٹھا رہی تھی ۔
وہ پریشان تھی اور اس کا پریشان ہونا بجا تھا ۔۔
” زویا مظفر یاد ہے نہ تمہیں ۔۔۔۔؟؟؟!!”
سامنے سے زویا نے اثبات میں سر ہلایا۔۔
” یار انجانے میں۔۔۔!!! میں نے اسے بہت بڑی مشکل میں ڈال دیا ۔۔۔
زویا حیرت زدہ سی کھڑی ہوگئی
” یار ابھی بس تم یہ سمجھ لو ان سب کی جان کو میری
غلطی کی وجہ سے خطرہ ہے ۔۔۔۔بس تم کسی طرح میری مدد کرو ۔۔ان کو بچانے میں ۔۔۔میں باقی باتیں تمہیں عنبر کے
گھر بتا دوں گی ۔۔۔فلحال تم جلدی سے ان کے گھر پہنچو ۔۔۔ان کو اس گھر سے نکالنا بہت ضروری ہے ۔۔
اس نےسارا طریقہ زویا کے گوش گذار کر دیا ۔۔
آج کا دن ۔۔۔
آج بھی اس کا تعاقب کیا جا رہا تھا ۔۔۔۔” کچھ بھی ہو جائے ۔۔عنبر کا گھر ان کی نظر میں نہیں آنا چاہیے ۔
اس لیے اس نے وہی پرانا طریقہ آزمایا ۔۔۔
گاڑی ایک شاپنگ مال کے کار پارکنگ ایریا میں چھوڑی ۔۔
اور ایسے ظاہر کیا ۔۔۔جیسے وہ اندر شاپنگ کرنے گئی ہے ۔۔
لیکن آج معاملہ گڑ بڑ ہو گیا ۔۔۔
وہ شخص بھی اس کے پیچھے گاڑی سے اتر آیا تھا۔۔
اب اسے کسی بھی طرح اس کی نظروں سے اوجھل ہونا تھا ۔
بڑی مشکل سے نظر بچا کہ وہ ایک شاپ کے اندر گھس گئی ۔
اس نے جینز اور شرٹ خریدی اور وہیں چینجنگ
روم میں چینج کیا ۔۔۔سن گلاسز لگائے ۔۔
بال کھلے چھوڑ دیے ۔۔۔کچھ دیر پہلے والی شھربانو اب وہ تھی ہی نہیں ۔۔۔
اس نے اپنی سب چیزیں ایک شاپنگ بیگ میں ڈالی ۔۔۔اب وہ
ایک ماڈرن لڑکی لگ رہی تھی ۔۔۔
میک اپ کے ہلکے ٹچ سے حلیہ تبدیل کیا ۔۔
محتاط انداز سے وہ اس دکان سے باہر آئی ۔۔
اس کا تعاقب کرنے والا شخص اسے نظر آرہا تھا لیکن وہ
دوسری جانب دیکھ رہا تھا۔
شھربانو کا حلیہ اس قدر تبدیل ہو چکا تھا کوئی ۔۔ کوئی بھی شخص ایک نظر میں
اسے پہچان نہیں سکتا تھا ۔۔
جب تک ایک آدھ گھنٹا اسے بغور نہ دیکھے ۔۔
وہ اس تعاقب کرنے والے شخص کو چکما دیکر ۔۔۔ٹیکسی
لیکر وہاں سے نکل گئی گاڑی اس نے وہی چھوڑ دی تھی ۔۔
اس نے ایک ٹیکسی کے بعد دوسری ٹیکسی پکڑی
اس کے بعد ایک رکشہ لیا ۔۔
جب وہ ہر طرح سے مطمئن ہو چکی ۔۔۔۔۔تب
اس نے اپنا رخ عنبر کے گھر کی جانب کیا ۔۔
جاری ہے
