Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Intikam E Mohabbat by Esha Noor Episode25

Intikam E Mohabbat by Esha Noor Episode25

ڈاکٹر اس کے شانے تھپک کر اسے تسلی دے رہا تھا ۔۔۔
وہ ڈاکٹر کو دروازے تک چھوڑ کر واپس ۔۔شھربانو کے پاس آکر بیٹھ گیا ۔۔۔
ممتاز بیگم بیٹی کی پریشانی شوہر کی جدائی میں دن بدن کمزور ہوتی جا رہی تھی ۔۔۔
اور وہ شھربانو کو دیکھ کر اسے کے لیے گھل رہا تھا ۔۔
جسے اس کی کوئی پرواہ نہیں تھی ۔۔۔
☆☆♡♡♡♡♡♡♡◇◇◇◇◇◇
” سعادت بیٹا !!! مجھے تم سے بات کرنی ہے ۔
ممتاز بیگم کہ چہرے سے تھکن کے آثار نمایاں تھے ۔۔
” امی آپ نے کیوں تکلیف کی مجھے بلا لیا ہوتا میں آجاتا ۔۔۔آپ کے کمرے میں ۔۔۔۔”
وہ بازو سرہانے کیے چھت کو گھور رہا تھا ۔۔۔جب ممتاز بیگم اس کے کمرے میں داخل ہوئی ۔۔
” بس بیٹا اپنے مطلب کی بات ہے تو سوچا خود آکر کہہ دوں ۔۔
” امی آپ یہ کیسی باتیں کر رہی ہے ۔۔۔۔کیا میں آپ کا بیٹا نہیں ۔۔۔؟
وہ اٹھا اور اسے سہارا دے کر اپنے بیڈ پر بٹھایا ۔۔۔۔
” بیٹا بات بہت بڑی ہے سمجھ نہیں آرہی کیسے کہوں !!! ۔” وہ کچھ سوچنے لگی ۔
” ۔۔۔بیٹا۔۔۔۔۔ تم بانو سے نکاح کر لو ۔۔۔”
ممتاز بیگم کچھ تاسف سے گویا ہوئی ۔۔۔
” جی امی ۔۔” وہ حیرت سے اٹھ کر کھڑا ہوگیا ۔۔
” ہاں بیٹا میں جانتی ہوں یہ بہت بڑی قربانی ہے ۔۔۔لیکن “
وہ ہاتھ جوڑے گردن جھکائے بیٹھی تھی ۔۔۔
” بیٹا یہ ایک ماں کی مجبوری ہے
ممتاز بیگم اسے شرمندہ سی لگی ۔۔
” امی آپ یہ کیا کر رہی ہیں ۔۔آپ ہاتھ جوڑ کر مجھے اپنی نظروں میں کیوں گرا رہی ہیں ۔۔
لیکن امی۔۔!!! ۔۔شھربانو کبھی نہیں مانے گی وہ مجھ سے کسی غلطی فہمی کی وجہ سے شدید نفرت کرتی ہے ۔۔۔
وہ مجھے دیکھنا تک گوارا نہیں کرتی وہ نکاح کے لیے کیسے رضامند ہوگی ۔۔۔”
ممتاز بیگم اس کئ بات سن کے کسی گہری سوچ میں پڑ گئی ۔۔۔
” آپ شھربانو کو راضی کر لیں ۔۔۔۔میری طرف سے ہاں ہی سمجھو
☆☆☆☆◇◇◇◇♡◇◇◇
وہ آج پورے ایک مہینے بعد کمرے سے باہر آئی تھی ۔۔
وہ بھی ممتاز بیگم کی منت سماجت کرنے کے بعد ۔۔
اس نے آئینے میں خود کو دیکھا ۔۔۔تو اپنے آپ کو پہچان نہیں پائی تھی ۔۔۔۔
آنکھوں کے گرد ہلکے سوکھے سفید ہونٹ ۔۔۔۔۔جیسے کوئی زندہ لاش ہو ۔۔
” بانو بیٹا میرا نہیں تو سھل کا ہی سوچ لو اپنی حالت کیا بنا لی ہے تم نے ۔۔۔۔”
وہ سھل کو دیکھ رہی تھی جو اب پورے سات ماہ کی ہوچکی تھی ۔
” امی اپنے گھر چلیں مجھے یہاں ہر چیز سے خوف آتا ہے۔۔۔۔
” بانو بیٹا میری طبعیت تو آئے دن خراب رہتی ہے کیسے سنبھالو گی مجھے۔۔۔۔ تم تو خود کو بھی سنبھال نہیں پا رہی “
وہ سھل کو دیکھ رہی تھی جو بےبی واکر میں
ادھر سے اودھر دوڑنے کی کوشش کر رہی تھی ۔
” بانو میری بات سن رہی ہو ۔۔
اس نے بس سر کو ہلکی سی جنبش دی
☆☆☆☆☆☆◇◇◇◇◇◇◇
حال
” میڈم باہر ایس پی صاحب آئے ہیں
وہ جو سعادت سے لڑائی کے بعد بیڈ پر سر جھکائے بیٹھی تھی ۔۔۔
نوکرانی کی آواز پر سر اٹھا کر اسے دیکھا ۔۔۔۔
ذہن کسی الجھن میں تھا ۔۔۔۔
” تو میں کیا کروں ایس پی صاحب کو ۔۔۔میں نے تو نہیں بلوایا اسے ۔۔
وہ ایک عجیب سی کشمکش میں تھی ۔
” میڈم وہ آپ سے ملنا چاہتا ہے ۔۔
اس نوکرانی کی بات ابھی پوری نہیں ہوئی تھی
۔۔۔پیچھے سے ایس پی کی آواز آئی ۔
” آپ کو ہمارے ساتھ چلنا ہوگا ۔۔۔ہاسپیٹل ۔۔۔”
” اگر میں نہ چلوں ۔۔
اس نے بازو سینے پہ لپیٹے ۔
وہ جا کر سعادت کی بات ماننا نہیں چاہتی تھی
۔۔۔ لیکن سعادت کی یہ بات کہ وہ سھل کو مارنا نہیں چاہتا تھا ۔۔۔صرف دکھاوا تھا ۔۔۔
نجانے کیوں اس کی اس بات پر یقین کرنے کو دل کر رہا تھا ۔
” میڈم چل کر ایک بار تصدیق کر لیں ۔۔
وہ اپنے دل کو مضبوط کرنے لگی ۔۔
” اگر آپ ہمارے ساتھ کیس میں تعاون نہیں کرے گی ۔۔۔تو مجبورن ہمیں اس کیس کو بند کرنا پڑے گا ۔۔۔۔بہتر ہوگا آپ ہمارے ساتھ تعاون کریں ۔۔۔۔”
اب اس کے پاس ہاسپیٹل جانے کے علاوہ کوئی چارہ نہ بچا تھا ۔
جھوٹ موٹ کا ہی سہی دنیا کو دکھانے کے لیے کیس تو کرنا تھا ۔
☆☆☆☆☆☆◇◇◇◇◇◇
شھربانو کے ڈی این اے سیمپل لے لیے گئے تھے ۔
۔۔وہ جانتی تھی یہ سب ایک ڈھونگ ہے لیکن نجانے کیوں دل کے کسی کونے میں رہ رہ کہ یہ خدشات ابھر رہے تھے ۔۔۔
(” کہیں واقعی یہ سچ نکل آیا ۔۔۔کہیں سھل کو واقعی کچھ ہو نہ گیا ہو ۔۔” )
” باڈی دیکھنے کہ قابل نہیں ۔۔۔آپ چہرے کو دیکھے بنا اگر ۔۔
ایس پی کچھ اور بھی کہنا چاہتا تھا ۔۔۔لیکن سامنے سے سعادت کو آتا دیکھ کر اس کی طرف متوجہ ہوا ۔۔۔ ۔۔۔
” رپورٹ کب تک آئے گی ؟؟؟”
اس نے آتے ہی ۔۔ایس پی سے سوال کیا ۔۔۔۔
” بس دو چار دن میں ۔۔”
سعادت اسے کافی بے چین لگا
” اتنی لیٹ ۔۔۔!!!!”
” لیٹ ۔۔۔!! بھائی آٹھ دس دن لگ جاتے ہیں ۔۔”
وہ کبھی ایس پی کہ چہرے کو پڑھنے کی کوشش کرتی کبھی سعادت کے ۔۔۔
سعادت پہ اسے یقین تو کبھی نہ تھا ۔۔
وہ ابھی جانے کہ لیے دل کو مضبوط کر رہی تھی ۔۔جب اس کا آدھا مسئلہ سعادت نے حل کر دیا تھا ۔۔۔
۔” پاگل ہو کیا ایک ماں کیسے دیکھ پائے گی جب کہ میں ہی نہیں دیکھ پا رہا تھا ۔۔
اس نے سعادت کی بات کا ہمیشہ الٹ ہی کیا تھا۔
۔۔ لیکن آج وہ سعادت کی بات کا الٹ نہ کر سکی ۔
▪▪▪▪▪▪▪▪▪▪▪▪
وہ دھڑام سے آکر زمین پر گرا ۔۔
لیکن زیادہ اونچائی نہ ہونے کی وجہ سے ۔۔۔۔اسے زیادہ چوٹ نہیں لگی تھی ۔۔۔۔وہ جس سرنگ نما سلوپ سے پھسل کہ گرا تھا ۔۔۔۔اس کا اور زمین کا فاصلہ کم تھا ۔
وہاں عجیب سی وحشت اور اندھیرا تھا ۔
مکڑی کے جالوں کا ایک جال تھا ۔
ایسے لگ رہا تھا صدیوں سے کوئی وہاں آیا ہی نہیں تھا ۔
وہ ہاتھ مار کر ادھر اودھر ٹٹول رہا تھا کہ کہیں اٹھنے سے وہ کسی اور گڑھے میں نہ گر جائے ۔۔
اس کی سماعت سے نسوانی آواز ٹکرائی ۔
” ہیلو مطھر یہ تم ہو نہ ۔۔۔؟
اس نے اتنے دن میں پہلی بار اس کا نام سہی سے لیا تھا ۔۔۔۔
اس کی آواز سے گھبراہٹ اور پریشانی عیاں تھی ۔۔۔
” ہاں میں ہوں ۔۔۔موبائل کی لائٹ اون کرو ۔۔۔۔”
۔۔۔اسے محسوس ہوا۔۔۔وہ اونچی آواز میں بات کر رہا ہے
ان کی نظر اب اندھیرے میں تھوڑا تھوڑا دیکھ پا رہی تھی ۔۔۔
” موبائل میرے پاس ہوتا تو کیا میں اسے آن نہیں کرتی ۔۔۔؟
اس کی آواز تھوڑی تیز ہوئی ۔
اب اس کی آواز میں ڈر بھی محسوس نہیں ہو رہا تھا ۔۔۔
☆☆♡◇◇◇◇◇◇◇◇◇◇◇
وہ جیسے ہی گری لڑھک کر گرنے والی جگہ سے کچھ فاصلے پہ چلی گئی ۔۔
اس کے گرتے ہی موبائل اس کے ہاتھ سے چھوٹ گیا تھا۔۔
اوپر تھوڑی سی روشنی ہوئی ۔۔جیسے کسی سرنگ کا دروازہ ہلکا سا کھلا ہو ۔۔۔۔
۔۔اسے اونچائی سے کوئی گرتا ہوا محسوس ہوا ۔۔۔
وہ کچھ اور سوچتی دھڑام کی آواز سے اسے یقین ہوگیا مطھر ہی نیچے گرا ہے ۔
۔۔آج پہلی بار مطھر کا اس کے پیچھے آنا اسے برا نہ لگا ۔۔۔
اس نے آواز دے کر اپنی سوچ کی تصدیق کی ۔۔۔
وہ آہستہ سے چھوٹے چھوٹے قدم اٹھاتی اس آواز کی سمت جا رہی تھی ۔۔۔۔
اس کے پاؤں سے بار بار پتھر جیسی کوئی چیز ٹکراتی ۔۔۔
پاؤں کی سرسراہٹ سے اسے محسوس ہوا وہ بھی اس کی جانب آرہا ہے ۔۔۔
” احتیاط سے چلنا ۔۔کہیں پھر سے کوئی گڑھا نہ آجائے ۔۔۔۔”
چلتے چلتے دونوں کی پیٹھ ایک دوسرے سے ٹکرائی ۔۔۔۔
☆☆☆☆☆♡♡◇◇◇◇◇◇◇◇
وہ ایک ایک قدم پھونک پھونک کر رکھ رہا تھا ۔۔۔۔
ہاتھ ہوا میں لہراتا وہ کسی نابینا کی طرح آگے بڑھ رہا تھا ۔
وہ جیسے ہی اس سے ٹکرائی وہ وہی رک گیا ۔
اس کا ہاتھ اب اسے ٹٹول رہا تھا ۔۔۔۔
مطھر نے اس کا ہاتھ اپنے ہاتھ میں لیا ۔۔۔۔
” میرا ہاتھ نہیں چھوڑنا ۔۔۔”
اس نے شاید گردن ہلائی تھی ۔۔۔۔
” ہمیں پہلے موبائل ڈھوڈھنا ہے ۔۔۔”
وہ کچھ اور کہتا وہ تو جیسے چلانے والے انداز میں گویا ہوئی ۔۔۔
” اس اندھیری قبر میں بھی تجھے اپنے موبائل کی پڑی ہے ۔۔۔یہاں سے نکلنے کا سوچو ۔۔
اسے بہت غصہ آیا ۔۔ ہمیشہ کی طرح اس نے اس کی بات کاٹی تھی
” ہوگیا ۔۔۔یا کچھ اور کہنا ہے وہ بھی پورا کر لو ۔۔
اس کی آواز سے اس کا چڑنا صاف ظاہر تھا ۔
” تجھے میرے بولنے ۔۔سی ہی چڑ ہے ۔۔
یہاں بھی اسے لڑائی سوجھ رہی تھی
” او میڈم موبائل میں ایک عدد ٹارچ بھی ہے
جس سے ہمیں کچھ نہ کچھ دکھائی ضرور دے گا ۔۔
اگر موبائل اس قابل بچا ہوگا تو
سھل نے جھٹکے سے اپنا ہاتھ اس کے ہاتھ سے چھڑایا ۔۔۔
اسے محسوس ہوا ۔۔۔غصے میں اس کے ہاتھ کی گرفت کچھ اور مضبوط ہوئی تھی ۔
اس نے پھر ہاتھ پکڑ لیا ہاتھ پکڑ کہ اسے اپنی طرف کھینچا ۔۔۔
جس سے وہ اسے آ لگی ۔۔۔۔
” یہ کیا بدتمیزی ہے ۔۔۔ہر وقت قریب آنے کہ بہانے کیوں ڈھونڈتے ہو ۔۔۔”
بنا کوئی جواب دیے وہ گھٹنوں کے بل زمین پر بیٹھا۔۔۔
▪▪▪▪▪▪▪▪▪
وہ کیا کرتا پھر رہا تھا اسے کچھ سمجھ نہ آیا ۔
اس کے ہاتھ کا دباؤ بڑھا تو اسے ایسا لگا اس کی انگلیاں تڑاخ سے ٹوٹ جائیں گی ۔۔
اس نے ایک جھٹکے سے اپنا ہاتھ چھڑایا ۔۔۔۔لیکن
مطھر نے پھر سے اس کا ہاتھ پکڑ کر اسے اپنی طرف کھینچا ۔۔۔جس سے وہ اس کے سینے سے جا ٹکرائی ۔۔۔۔
اس کی اس حرکت پر ۔۔۔وہ بھڑک اٹھی ۔۔۔لیکن اس وقت اس نے بس زبان کا استعمال کیا ۔۔۔۔
وہ ابھی اس اندھیری خوفناک قبر سے نکلنا چاہتی تھی ۔۔۔
۔جس کی وجہ سے مطھر کی اس حرکت کو اس نے در گزر کیا ۔۔۔
وہ گھٹنوں کے بل بیٹھ گیا تھا ۔۔۔اب اسے بھی اسی حالت میں بیٹھنا پڑا ۔۔۔
” کیا پتھر بنی کھڑی ہو ۔۔۔ادھر اودھر ہاتھ مارو ۔۔۔شاید موبائل مل جائے ۔۔
ہاتھ مارنے سے اس کے ہاتھ جس چیز سے ٹکرائے تھے ۔۔۔وہ شاید کسی انسان یا جانور کا ڈھانچہ تھا ۔۔۔۔۔
اس کے جسم میں سرسری سی دوڑ گئی ۔۔۔
” سنو ۔۔”
سھل کی ہلکی سی سرگوشی ویران جگہ میں گونجی ۔۔۔۔
” بولو ۔
” کیا تمہیں بھی وہی محسوس ہو رہا ہے جو مجھے محسوس ہو رہا ہے ۔۔۔۔”
پھر دونوں ایک دم سے چلائے ۔۔۔۔۔
” انسانی ڈھانچہ “
☆☆☆☆♡♡◇◇◇◇◇◇◇
وہ جب سے ہاسپیٹل سے آئی تھی بلکل گم سم اور خاموش بیٹھی تھی ۔۔۔۔
(“ہاں وہ سھل نہیں تھی ۔۔لیکن تھی تو کسی کی بیٹی ۔۔۔”)
” میڈم سونیا بی بی کا فون ہے ۔۔
ایک نوکرانی کمرے میں داخل ہوئی ۔۔۔
” اس نے موبائل پہ کیوں فون نہیں کیا ۔۔؟؟
” ماما آپ کال کیوں رسیو نہیں کر رہی تھی کب سے کال ملا رہی ہوں ۔۔ مما سھل کا کچھ پتا لگا ؟؟؟۔۔۔”
سونیا کی پریشان آواز اس کی سماعتوں سے ٹکرائی ۔۔اور اسے نوکرانی سے پوچھے گئے سوال کا جواب مل گیا ۔
” سونی وہ میں بس تھوڑی مصروف تھی ۔۔۔”
وہ اب سعادت کی طرف دیکھ رہی تھی۔
(“ایک بیٹی کہ باپ کا بدلہ لینے کے لیے
۔۔۔دوسری بیٹی کا باپ کیوں چھین رہی ہوں کیوں میں بس سھل کا سوچ رہی ہوں ۔۔۔۔سھل کا سوچتے سوچتے ۔۔۔سونیا کی زندگی میں کیوں اندھیرا کر رہی ہوں ۔۔۔۔وہ بھی تو میری بیٹی ہے ۔۔۔
وہ سعادت کو دیکھ رہی تھی ۔۔۔جو صوفے پر ڈھے جانے والے انداز میں آنکھیں بند کیے لیٹا تھا۔۔۔دونوں بازو صوفے کے کناروں پہ پھیلائے ہوئے تھے ۔۔
سونیا نے کب اپنی بات ختم کی کب اس نے کال ڈسکنکٹ کی اسے کچھ ہوش ہی نہ تھا ۔۔
☆◇◇◇◇◇◇◇◇◇◇◇◇◇
ماضی ۔
ممتاز بیگم شھربانو کی ضد کی وجہ سے ۔۔۔واپس اپنے گھر چلی گئی ۔۔
وہ جانتا تھا ۔اب ان کی زندگی آسان نہیں تھی ۔۔لیکن وہ اس کی نفرت میں ہر رشتے کو کچلتی جا رہی تھی ۔۔۔۔۔۔ نہ چھوٹی بچی کی فکر تھی نا بیمار ماں کی اسے بس ایک فکر تھی اس کے گھر سے اسے جانا تھا ۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ زیادہ وہاں جا بھی نہیں سکتا تھا ۔۔۔۔وہاں کہ لوگوں کی ان کہ بارے میں چہ مگوئیاں اس کی سماعتوں تک رسائی کر چکی تھی ۔۔۔۔۔
لیکن ہفتے میں ایک چکر ضرور لگاتا ۔۔۔۔۔وہ بھی ممتاز بیگم کے بے حد اسرار پر ۔۔۔۔
☆◇◇◇◇◇◇◇◇◇◇◇
شھربانو اپنے ماں کی ضد کی وجہ سے کافی پریشان تھی
وہ۔جس شخص سے دنیا میں سب سے زیادہ نفرت کرتی تھی ۔۔۔۔
ممتاز بیگم اسی سے شادی کروانے پر بضد تھی ۔
” بیٹا سعادت برا انسان نہیں ۔۔۔اب تک اسی نے ہماری مدد کی ہے ۔۔۔۔میں زندہ ہوں تو وقت جیسے تیسے گذر رہا ہے میرے جانے کے بعد یہ دنیا تجھے نوچ کھائے گی ۔۔۔۔۔”
شھربانو روز کی طرح آج بھی خاموشی سے اپنے کمرے میں چلی گئی ۔۔۔
☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆
” تم ۔۔۔۔کیوں آجاتے ہو یہاں ۔۔۔۔ہمیں برباد کر کہ سکون نہیں ملا اب بدنام کرنے آگئے ۔۔
اس نے بھی بہت برداشت کر لیا تھا اسے ۔۔
” میں کوئی تمہارا زرخرید غلام نہیں ۔۔۔۔جو ہر وقت کاٹ کھانے کو آتی ہو ۔۔۔اپنی بکواس اپنے پاس رکھا کرو ۔۔۔میں صرف امی کی وجہ سے ۔۔۔
اس نے ممتاز بیگم کو باہر آتے دیکھ لیا تھا اس نے اپنی نظریں نیچی کر لی ۔
لیکن وہ کہاں چپ رہنے والی تھی ۔۔
” مت ترس کھایا کرو ہم پر سمجھے تم!!!۔
مل گیا ہے مجھے ایک دو جگہ کام ۔۔۔جب تک نوکری نہیں ملتی گھروں کی صفائی کر کے کچھ نہ کچھ کما لوں گی ۔۔
۔لیکن تیرے جیسے گھٹیا انسان کی حرام کی کمائی نہیں چاہیے ۔۔۔” وہ تو اسے اور بھی بہت کچھ سنانا چاہتی تھی لیکن ممتاز بیگم کی تھپڑ نے اسے ایک پل کے لیے چپ کرا دیا ۔
” امی آپ نے اس شخص کی وجہ سے مجھے تھپڑ مارا ۔۔۔۔آپ کی آنکھوں پر اس شخص نے پٹی باندھ دی ہے ۔۔
وہ غصے میں کانپ رہی تھی ۔۔
” جس شخص نے ہر وقت ہماری مدد کی تم اسی کو برا بھلا کہہ رہی ہو ۔۔۔۔نکاح تو تمہارا سعادت سے ہی ہوگا ۔۔
ورنہ آگے جو ہوگا اس کی ذمیدار تم خود ہوگی ۔۔۔۔” وہ غصے میں سعادت کو گھور رہی تھی ۔۔۔
” امی رہنے دے اسے جو کرنا چاہتی ہے کرنے دیں ۔۔۔۔سب پتہ لگ جائے ۔گا ۔۔دنیا میں کیا کچھ ہو رہا ہے ۔۔۔”
وہ پیر پٹختی کمرے میں چلی گئی ۔۔
☆☆☆☆☆◇◇◇◇◇◇◇◇◇
” امی میں اب یہاں نہیں آئوں گا ۔۔میرا آدمی آئے گا آپ کو جو چیز چاہیے
۔۔۔اسے سے کہہ دینا۔۔۔مجھ سے اب اپنی تذلیل برداشت نہیں ہوتی ۔
اسے شھربانو کے رویے نے بہت زیادہ تکلیف دی تھی
” ہاں بیٹا تم ٹھیک کہتے ہو ۔۔
۔ہماری پریشانی میں ہم نے تجھے بھی پریشان کر کہ رکھ دیا ہے ۔۔۔”
وہ ممتاز بیگم کی بے بسی محسوس کر رہا تھا ۔۔۔
” امی ایسئ بات نہیں ہے ۔۔۔اگر میں زیادہ یہاں آیا !!!۔۔۔ تو لوگوں کو بات کرنے کا موقع مل جائے گا ۔۔
سعادت خود کو تو تباہ کر ہی چکا تھا ۔۔
وہ شراب اور سگریٹ پینے لگا تھا ۔۔
غلط لوگوں کو اپنے فارم ہاوس میں پناہ دینے لگا تھا ۔۔
☆☆☆☆☆☆♡♡♡♡◇◇◇◇◇◇◇
شھربانو کی اکڑ تو ایک دو گھروں میں کام کر کے ہی نکل گئی تھی
نوکری لینے کے لیے کافی دفاتر کے چکر لگا چکی تھی ۔۔
جہاں رکھنے کے لیے تیار تھے۔۔۔۔ وہاں لوگ اچھے نہیں تھے ۔۔۔جہاں لوگ اچھے تھے وہاں کوئی ویکنسی خالی نہیں تھی
اسے پورا ایک مہینہ ہو گیا تھا ۔۔۔
اس نے پھر سعادت کو نہیں دیکھا تھا
وہ پورا دن خوار ہونے کہ بعد گھر پہنچی ۔۔۔
” سھل کا بخار کم ہوا ۔۔۔؟؟؟” اس نے چادر اتار کر ایک طرف پھینکی چارپائی پر بیٹھ کر اپنے پیر دبانے لگی ۔۔۔
” کھانا کھائو گی ۔۔؟؟؟
وہ جانتی تھی ممتاز بیگم اس کے کسی سوال کا جواب نہیں دے گی ۔۔
” کھانا امی راشن کہاں سے آیا راشن تو ختم ہوگیا تھا نا ۔۔۔۔۔۔۔؟؟ اووو ۔۔۔اچھا اب سمجھی ۔۔ سعادت نے بھیجا ہوگا۔۔۔اپنی حرام کی کمائی سے مجھے نہیں کھانا ۔
وہ اس بات پہ ممتاز بیگم کے بدلتے تیور دیکھ رہی تھی ۔
” تو نا کھائو۔!!! سھل کی دوائی بھی اس حرام کی کمائی سے آئی ہے وہ بھی پھینک دو ۔۔۔مرنے دو اپنی بیٹی کو ۔۔۔
ممتاز بیگم ہارے ہوئے انداز میں کہہ رہی تھی ۔۔
” امی مجھے جاب مل جائے گی ۔۔۔۔کچھ دنوں کی بات ہے ۔۔۔
” بانو ۔۔کیوں سعادت سے اتنی بدگمان ہو
۔۔۔یہ وہی سعادت ہے جسے ہم نے نہیں تم نے چنا تھا ۔۔۔”
اس نے تحمل سے اپنی ماں کی بات سنی ۔۔
” نہیں امی یہ وہ سعادت نہیں۔۔۔۔وہ تو ایک نیک انسان تھا ۔۔۔اور یہ انڈر ورلڈ کا ڈان ۔۔۔”
انڈر ورلڈ کا ڈان اس نے وہ الفاظ دانت بھینچ کر ادا کیے ۔۔۔
” اسے اس حالت میں پہنچانے والے بھی تو ہم ہے ۔۔
اس نے پھر ممتاز بیگم کی بات پوری نہ ہونے دی ۔
” امی وہ اس کا بدلہ ہم سے لے چکا ہے۔۔۔ اور ابھی تک لے بھی رہا ہے ۔۔۔۔ہمیں اس حال تک پہنچا دیتا ہے کہ ہم مجبور ہو کے اس کی مدد لیں ۔
اس کے سامنے گڑگڑائیں ۔۔۔۔۔۔آپ نہیں جانتی ۔۔۔میں نے دیکھی ہے اس کی آنکھوں میں حقارت ۔۔۔وہ ہمیں نیچا دکھانے کے لیے یہ سب کر رہا ہے ۔۔”
” تو وہ پھر ہمیں اپنے حال پہ کیوں نہیں چھوڑ دیتا ۔۔۔۔؟؟؟ کیوں ہر جگہ ہماری مدد کرنے کو پہنچ جاتا ہے ۔۔کیا دے سکتے ہے ہم اسے ۔۔۔۔
(” یہ محبت کا انتقام ہے ۔۔۔امی آپ نہیں سمجھو گی ۔۔۔ امی یہ سب وہ اپنی تسکین کے لیے کر رہا ہے ۔۔۔
اس نے ممتاز بیگم کو تو کوئی جواب نہیں دیا ۔۔۔لیکن دل ہی دل میں کہنے لگی ۔۔
” تم پاگل ہوگئی ہو ۔۔۔جس نے ہمیشہ ہمارے ساتھ برا کیا ۔۔ان کے ساتھ تم اچھی بنی رہی ۔۔۔
اب یہ بحث روز کا معمول بن چکی تھی ۔۔
☆☆☆☆☆♡♡◇◇◇◇◇◇◇◇
” امی مجھے نوکری مل گئی ۔۔۔
اس نے مٹھائی کے ڈبے سے گلاب جامن نکال کر ممتاز بیگم کے منہ میں ٹھونسا ۔۔
” اب یہ بات بھی اپنے اس لاڈلے بیٹے کو بتا دینا ۔۔۔۔”
وہ جانتی تھی ہر روز وہ سعادت سے بات کرتی ہے ۔۔۔سعادت نے لینڈ لائن فون اسی کی جاسوسی کرنے کے لیے ہی لگوا کہ دیا ہے ۔۔۔
” سھل کو بھی دیکھ لیا کرو ۔۔جو نہیں رہے ان کے لیے دشمنیاں پال رکھی ہیں ۔۔اور جو زندہ ہے اسے مرنے کے لیے چھوڑ دیا ہے ۔۔۔”
اس نے کچھ سنا کچھ ان سنا کر کہ سھل کو اٹھایا اور اندر چلی گئی ۔۔۔
آج اس کا موڈ اچھا تھا ماں کی کوئی بات بری نہیں لگ رہی تھی ۔
☆☆☆☆☆☆♡♡◇♡♡◇◇◇◇◇◇◇
سعادت ایک بزنس پارٹنر کے آفس میں موجود تھا۔۔۔جو کسی بھی حساب سے اچھا آدمی نہیں تھا ۔۔۔
لیکن سعادت کو پیسے سے مطلب تھا ۔۔۔سعادت نے شہر کے آدھے سے زیادہ کمپنیز میں اپنے شیئر ڈال رکھے تھے ۔۔۔۔
” سنا ہے تم نے پھر سے ایک نئی سکیٹری رکھی ہے ۔۔۔؟؟؟”
سعادت نے سگریٹ سلگایا ۔۔دوکش لیے اور اسے ایش ٹرے میں مسل دیا ۔۔۔۔
” بس یار ہم جیسے ہمدرد لوگ ہیں نا دنیا میں جو ہر کسی کی مدد کرنے کا سوچتے ہے
سامنے والے کہ چہرے سے مکاری اور ہوس صاف عیاں تھی ۔۔۔
” دیکھ کمار ۔۔ایسے کاموں کے لیے ۔۔۔ایسی چیزیں بازار سے مل جاتی ہیں ۔۔۔پھر کیوں بے بس اور شریف لڑکیوں کو پھساتا ہے ۔۔۔”
سامنے والے شخص نے زوردار قہقہہ لگایا ۔۔
” بے بس سمجھ آتا ہے ۔۔۔لیکن شریف لفظ ہٹا دے جانی ۔۔۔وہ جس طرح سے بغیر حجاب کے ۔۔فل میک اپ کھلے بالوں کے ساتھ لہراتی اپنے باس کے پاس اکیلے کمرے میں نازوانداز دکھاتی اندر آتی ہے
۔۔ کیا کوئی شریف بے بس لڑکی ایسا کر سکتی ہے ۔۔۔؟؟۔یار تجھے تو نجانے کیوں ۔۔۔۔ہر لڑکی معصوم اور شریف لگتی ہے ۔
سعادت بھی اس کی فضول تقریر سے پک چکا تھا ۔۔۔
” اچھا یار جو دل کرے وہ کر ۔۔”
” یار اس بار تو ایسی مست چیز ہاتھ لگی ہے ۔۔۔بس کچھ دن یہ اچھے بننے کا ڈھونگ کر لوں ۔
اس کی اس بات پر سعادت بھی تھوڑا مسکرایا ۔۔۔
” یار ایک اور بات ” ۔۔۔سعادت اٹھ کر جانے لگا ۔۔
اس کے ٹوکنے پر پیچھے مڑ کر دیکھا
” بول جلدی ۔۔” ۔۔۔سعادت نے گھڑی کی طرف دیکھا ۔۔۔
” تیرا فارم ہاوس مل جاتا۔ایک رات کے لیے ۔۔۔۔” وہ شخص ہاتھ پیچھے کر کے سر کھجانے لگا ۔۔۔
” وہاں پیشہ ور تو لا سکتا ہے پر کوئی دھوکے سے پھسی لڑکی نہیں ۔۔میں فضول کے بکھیرے میں نہیں پڑنا چاہتا ۔۔
” اگر وہ خود بھی راضی ہو تو ۔۔پھر ۔۔۔۔”
” تو نہیں سدھرے گا ۔۔۔۔ہمارا تحفہ تیار رکھنا ۔۔۔سدھیر لے جائے گا ۔۔۔اور تحفہ ڈبل ہونا چاہیے ۔۔”
اس شخص نے سر اثبات میں ہلایا ۔۔
☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆
وہ تیار ہو کر آفس کے لیے نکلی تھی ۔۔
بالوں کی چوٹی بنائی ۔
ہلکا سا لپ گلو اور کاجل لگایا ۔۔۔بڑی سی چادر لی ۔۔۔اسے بسوں میں دھکے کھانے کی بھی ضرورت نہیں
پڑی تھی ۔
آفس کی گاڑی اسے لینے اور چھوڑنے آجاتی تھی ۔۔ ۔۔۔۔وہ ایک مخصوص وین تھی جس میں آفس کے باقی ایمپلائی بھی ہوتے تھے ۔۔۔۔۔۔اسے آفس جوائن کیے چھٹا دن تھا ۔۔۔۔
وہ آفس کی وین سے اتری ۔۔۔اسے سامنے گاڑی میں سعادت نظر آیا ۔۔۔
سعادت کو دیکھ کر اس کے تیور ہی بدل گئے ۔۔۔
سر پی لی چادر کو اس نے شانوں پہ ڈالا ۔۔
بالوں کی چوٹی کو آگے کی طرف کیا ۔۔۔۔گردن اکڑاتی آفس کی بلڈنگ کے اندر کی طرف چلئ گئی ۔۔۔۔
وہ دیکھ رہی تھی سعادت کا چہرہ غصے سے سرخ ہو رہا تھا ۔۔۔اور اسے ایک انجانی خوشی مل رہی تھی ۔۔۔
وہ آفس میں آکر اپنی مخصوص جگہ پر بیٹھی ۔۔۔
” سمجھتا کیا ہے خود کو ہم ہمیشہ اس کے ٹکڑوں پر پلے گے ۔۔۔جل کہ خاک ہوگیا تھا ۔۔۔۔مجھے اپنے پیروں پہ کھڑا دیکھ کہ ۔
وہ خود سے ہی ہمکلام تھی ۔۔۔۔
” کس سے باتیں ہو رہی ہے ۔۔۔آج تو کافی خوش نظر آرہی ہو ۔۔۔۔کہیں کوئی چکر ۔۔۔”
آفس میں ایک باتونی لڑکی تھی ۔۔۔
جو ہر کسی کا حال پوچھنے پہنچ جاتی ۔۔۔۔
وہ زیادہ بات نہ بھی کرتی ۔۔۔لیکن وہ لڑکی پھر بھی دس پندرہ منٹ آکر اسے دنیا بھر کی خبریں سناتی ۔
” نہیں ایسا کچھ نہیں ہے ۔۔۔”
شھربانو کو بس اس سے جان چھڑانی تھی ۔۔
” تو پھر ڈیئر کیسا ہے ۔۔یوں خود سے باتیں کرنا یوں مسکرانا ۔۔۔انا سب سمجھتی ہے ۔۔۔۔”
اس کا نام انیتا تھا ۔۔۔لیکن سب اسے انا انا کہتے تھے ۔۔
” آپ کو جو سمجھنا ہے سمجھ لیں ایسا کچھ نہیں ۔۔۔”
اسے شاید اس کی یہ بات بری لگ گئی تھی ۔۔
” تمہارے جیسی روڈ لڑکی اس آفس میں کبھی نہیں دیکھی ۔
☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆▪▪▪▪▪▪▪
وہ جیسے ہی گھر پہنچی ۔۔۔سعادت وہاں موجود تھا ۔۔۔۔
” تم یہاں کیا کر رہے ہو ۔۔۔”
سعادت اٹھ کر اس کے نزدیک آیا ۔۔۔آنکھوں سے ایسا لگ رہا تھا وہ اسے کچا چبا جائے گا ۔۔۔۔
” تم اسی آفس میں کام کرتی ہو جس کے باہر میں کھڑا تھا ۔۔؟؟”
جاری ہے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *