Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Intikam E Mohabbat by Esha Noor Episode33

Intikam E Mohabbat by Esha Noor Episode33

چھ مہینے بعد
” ماما آپ مجھے مطھر کا پتہ نہیں بتائیں گی ۔۔۔میں لندن نہیں جائوں گی ۔۔۔۔”
شھربانو آفس میں ایک فائل پر جھکی تھی ۔۔۔
جب سھل اس کے کمرے میں آکر ۔۔۔روز کی طرح مطھر کا پتہ پوچھ رہی تھی ۔۔۔
وہ جو فائل پہ جھکی بیٹھی تھی ۔۔۔گردن اٹھا کر ایک نظر اسے دیکھا ۔۔۔
” کئی بار میں تجھے کہہ چکی ہوں ۔۔۔وہ اپنا گھر بیچ کر کہیں اور چلا گیا ہے ۔۔۔یاں یوں کہنا آسان رہے گا وہ اپنی جان بچا کہ تجھے چھوڑ کر بھاگ گیا ہے ۔۔”
وہ سھل کا اڑتا رنگ دیکھ رہی تھی ۔۔” ۔۔تم اسے بھول جائو “
وہ پیر پٹختی آفس سے باہر چلی گئی ۔۔۔۔۔
اور یہی اب ایک معمول بن گیا تھا ۔۔۔
☆☆◇◇◇◇◇◇◇◇◇
وہ اس کے سرہانے بیٹھی اس نیم مردہ وجود کو دیکھ رہی تھی ۔۔۔جو پچھلے چھ مہینے سے کوما میں تھا ۔۔۔۔
اس نے اپنے والد کا ہاتھ اپنے ہاتھ میں لے لیا
۔۔۔” پاپا پلیز آپ اب اٹھ جائیں ۔۔۔کب تک یونہی سوتے رہیں گے ۔۔۔۔۔۔اٹھ جائیں دیکھیں ماما بھی آپ کے لیے کتنی پریشان ہوتی ہیں وہ اب آپ کی شیری بن گئی ہے ۔۔۔آپ جلدی سے اٹھ جائیں آپ سے بہت سی شکایتیں کرنی ہے ۔۔۔۔
وہ گھنٹوں بیٹھ کر سعادت سے باتیں کرتی رہتی ۔
شھربانو سے جو بھی شکایت ہوتی ۔۔۔وہ آکر سعادت کو کہتی تھی ۔۔۔اور یہی سب کچھ شھربانو کرتی تھئ ۔۔۔
☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆
” میڈم وہ لڑکا پھر آگیا ہے ۔۔
چپڑاسی ۔۔۔شھربانو کو مطلع کرتے گویا ہوا ۔۔
” میں نے کہا تھا وہ آئے تو اسے واپس بھیج دو اسے ہمارے آفس یا گھر کے آس پاس بھی پھٹکنے نہ دو “
وہ اب اپنے کام میں مگن سی نظر آئی ۔۔۔
” لیکن میڈم اس نے باہر تماشہ کھڑا کر دیا ہے ۔۔۔آپ کچھ دیر اس سے بات کر لیں ۔۔
شھربانو نے کرسی سے ٹیک لگائی پر سوچ نظروں سے چپڑاسی کی طرف دیکھا ۔۔۔
اس نے کاغذ پہ کچھ تحریر کیا ۔۔۔” اسے کہو میڈم سے اس جگہ ملنے آجائے رات آٹھ بجے ۔۔۔”
وہ چپڑاسی کو جاتا دیکھ رہی تھی ۔۔
” اس لڑکے کا کچھ کرنا پڑے گا ۔۔۔”
وہ واپس اپنے کام میں لگ گئی ۔۔
☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆
۔اسے اس شہر میں واپس آئے دوسرا مہینہ تھا ۔۔۔۔وہ ملک ہاوس اور آفس کے نجانے کتنے چکر لگا چکا تھا ۔۔
لیکن سھل اسے نظر نہیں آئی ۔۔۔
آج بھی جب وہ پہنچا تو اسے وہ جاتی ہوئی نظر آئی ۔۔۔۔
” آج تو میں میڈم سے بات کر کے ہی جائوں گا ۔۔۔وہ کب تک اس طرح مجھے ٹالتی رہے گی ۔۔
وہ غصے میں آفس کی جانب بڑھا ۔۔۔جہاں اسے چوکیدار نے روک لیا ۔۔۔
” ہٹو آگے سے میں سعادت ملک کا داماد ہوں ۔۔۔تم مجھ سے بدتمیزی نہیں کر سکتے ۔۔۔
وہ دیکھ رہا تھا چوکیدار اس پہ طنزیہ ہنس رہا تھا ۔۔۔۔
گویا اس نے کوئی مذاق کیا ہے ۔۔
جب اس نے زیادہ ہنگامہ کیا تب اندر سے آتے چپڑاسی نے اسے ایک چٹ پکڑا دی ۔۔۔۔
اس پہ کسی ہوٹل کا نام لکھا تھا ۔۔۔
” اس کا میں کیا کروں ۔۔۔”
اس نے چٹ اس کی جانب واپس کرتے ہوئے کہا ۔۔۔
” میڈم نے کہا اس جگہ رات آٹھ بجے مجھ سے ملنے آنا ۔۔۔”
” ٹھیک ہے تیری میڈم کو کہہ دینا اگر وہ نہ آئی ۔۔۔تو پھر میں دوسرے طریقے سے آئوں گا اور اپنی بیوی کو لے جائوں گا ۔سمجھ گئے ۔۔۔۔
اس نے وہ چٹ غصے میں جیب میں ڈالی ۔۔۔اور لمبے ڈگ بھرتا باہر چلا گیا ۔۔۔
☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆
وہ آج بھی مایوس سا گھر لوٹا ۔تھا ۔۔اس کی بڑی بہن کی عنقریب شادی ہونے والی تھی ۔۔۔۔ ھما کا رشتہ طے ہوچکا تھا ۔۔۔مدثر بھی تیزی سے صحتمند ہو رہا تھا ۔۔۔سب کی زندگیاں سنور گئی تھی ۔۔سوائے مطھر کے ۔۔۔جو پچھلے چار مہینوں سے سھل کو تلاش کر رہا تھا۔۔۔۔کئی بار وہ اس کے بلکل نزدیک آچکا تھا ۔۔لیکن اس کے ارد گرد کے لوگ اسے سھل۔سے ملنے نہیں دے رہے تھے ۔۔۔۔
یہاں تک کے اسے چوکیدار اور باڈی گارڈ سے دھکے بھی پڑوائے گئے ۔۔۔۔
اسے اب ملک ہاوس کے آس پاس پھٹکنے بھی نہیں دیتے تھے ۔۔۔۔
آج بڑی مشکل سے وہ آفس تک پہنچا تھا ۔۔۔
اسے اب ایسا لگنے لگا تھا سھل اسے جان بوجھ کر نظر انداز کر رہی ہے ۔۔۔۔
اتنے دن ذلیل وخوار ہونے کے بعد بڑی مشکل سے جاکے
۔۔اسے مسز ملک سے ملنے کے لیے ٹائم دیا گیا تھا۔۔۔اب وہ رات کا بے چینی سے انتظار کرنے لگا۔۔۔
☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆
” میں نے تمہیں کتنی بار سمجھایا بھول جائو مطھر کو ۔
۔۔وہ میری سب سے بڑی غلطی تھی ۔
۔۔۔تم کیوں اس غلطی کو دہرانا چاہتی ہو ۔۔۔چھوڑ دو اسے ۔۔۔وہ نکاح تو بس ایک مجبوری تھی ۔۔۔۔اب کیوں اس مجبوری کے رشتے کو اپنے سر پر تھوپنا چاہتی ہو ۔۔۔
وہ اپنی ماں کو دیکھ رہی تھی ۔۔۔وہ کتنی آسانی سے وہ سب کہہ گئی تھی ۔۔۔۔
” ماما مجھے نہیں لگتا آپ نے کبھی کسی سے محبت کی ہے ۔۔۔آپ خود غرض ہو گئی ہیں ۔۔۔”
وہ جانتی تھی اس کی ماں نے سب اس کے لیے کیا تھا ۔۔۔لیکن جب سے سعادت ملک اس کی وجہ سے کوما میں چلے گئے تھے ۔۔اسے اپنی ماں سے نفرت ہونے لگی تھی ۔۔۔۔
ہفتے میں چار دن انکی بات چیت بند رہتی تھی ۔۔۔جب بھی بات شروع ہوتی۔۔۔ تو بس ان کی لڑائی پر ختم ہوتی ۔۔۔
اور آج بھی انہی دنوں میں سے ایک دن تھا ۔
۔” سھل خود غرض میں نہیں تم ہو ۔۔۔تم میری قربانیوں اور محبت کا یہ صلہ دے رہی ہو ۔۔۔۔میں نے تمہیں بچانے کے لیے اپنی محبت کو اپنے ہاتھوں سے ختم کر ڈالا ۔۔۔۔اور تم مجھے خود غرض ہونے کا طعنہ دے رہی ہو ۔۔۔۔۔بہت ہوگئی تمہاری بکواس کوئی رشتہ نہیں تمہارا سعادت کے ساتھ تم لندن جانے کی تیاری کرو ۔۔۔تمام کاغذات مکمل ہے بس پیکنگ کرو ۔۔۔رہی بات مطھر کی۔۔۔۔تو اس کی اصلیت تمہیں بہت جلد نظر آجائے گی
▪▪▪▪▪▪▪▪▪▪▪
وہ بڑے نک سک سے تیار ہوا تھا ۔۔۔ایسا لگتا تھا ۔۔جیسے وہ آج ہی اپنے رشتے کی بات کرنے جا رہا ہو ۔۔
وہ کافی دیر تک آئینے کے سامنہ کھڑا خود کو دیکھتا رہا کہیں کوئی کمی نا رہ جائے ۔۔
” تاثر اچھا پڑنا چاہیے ۔۔۔”
وہ آئینے دیکھتے ہوئے خود سے ہمکلام ہوا ۔۔۔
اسے ایسا لگا سھل اس کے پیچھے کھڑی اس پہ ہنس رہی
مطھر جہاں بھر کی اداسی لیے آج پھر ملک ہاوس کے باہر کھڑا تھا ۔۔
” مجھے وہاں سے نہیں آنا چاہیے تھا ۔۔۔۔۔چاہے کچھ بھی ہوجاتا ۔۔۔۔
وہ پچھلے دو گھنٹے سے اس گھر کے سامنے بیٹھا سھل کو وہاں چھوڑ کر آنے پر پچھتا رہا تھا ۔۔۔وہ کب سے مین گیٹ پر ٹکٹکی باندھے دیکھ رہا تھا ۔۔نوکروں کے آنے جانے کے سوا وہاں کوئی غیر معمولی نقل وحرکت نہیں تھی ۔۔۔۔
” یہ لوگ آخر کہاں جا سکتے ہیں ۔۔۔کیا سھل ابھی تک گھر نہیں آئی تھی ۔۔۔؟؟؟۔۔۔۔وہ کیسی ہوگی کہاں ہوگی سعادت صاحب تو آفس میں بھی نہیں تھے ۔۔۔۔کہیں وہ لوگ ۔۔کہیں وہ لوگ واپس لندن تو نہیں چلے گئے ۔۔۔۔۔؟؟؟” اس کے ذہن میں ہزاروں سوال۔اٹھنے لگے ۔۔۔۔اس سوچ ہی نے جیسے اس کے پیروں تلے سے زمین کھینچ لی تھی ۔۔۔۔۔
☆☆◇◇◇◇◇◇◇◇◇◇
” بلکل جوکر لگ رہے ہو ۔۔۔۔
وہ ہمیشہ اسے جوکر ہی کہا کرتی تھی ۔۔۔
وہ پہلی ملاقات ۔۔۔وہ اس کی فائل پہ اس کا پیر رکھ کہ کھڑا ہونا ۔۔۔۔وہ ماضی کو جتنا یاد کرتا ۔۔۔ان دونوں کی ایسی کوئی خوشگوار ملاقاتیں نہیں ہوئی تھی ۔۔۔
عجیب ہی تھی ان دونوں کی محبت ۔۔۔۔کب ہوئی کیسے ہوئی ۔۔۔کچھ سمجھ نہیں آیا ۔۔۔بس وہ اقرار محبت کرنا ہی ان کی زندگی کا قیمتی اٹاثہ تھا ۔۔۔
وہ ایک پل کی محبت اور پھر لمبی جدائی ۔۔۔۔چھ مہینے اسے چھ صدیوں کے برابر لگ رہے تھے ۔۔۔
۔۔۔۔وہ پورے راستے انہی سوچوں میں گم ہوٹل کے قریب پہنچا ۔۔۔۔
اس نے پھر سے کنفرم کرنے کے لیے اس چٹ کو دیکھا ۔۔۔
اس پہ ٹیبل نمبر بھی لکھا تھا ۔۔۔۔
اس نے اپنا ٹیبل نمبر بیرے کو دکھایا جس نے ایک جانب اشارہ کیا ۔۔۔۔۔
اس ٹیبل کے ایک سائیڈ دیوار تو دوسری طرف پردہ لگا تھا ۔۔۔اسے ایک عجیب سا احساس ہوا ۔۔۔
آخر مسز ملک نے یہی جگہ کیوں رکھی ہے ۔۔۔اسے ماحول میں کچھ گڑبڑ محسوس ہوئی ۔۔
وہ چھوٹے چھوٹے قدم اٹھاتا ۔۔۔اس جانب بڑھا ۔۔
☆☆☆☆☆☆◇◇◇◇◇◇◇◇◇◇
کچھ گھنٹے پہلے ۔۔۔
” کیا مطلب کیسی اصلیت ۔۔۔
وہ اس کا اڑتا رنگ دیکھ رہی تھی ۔۔۔
” مطلب یہ کہ آج وہ پھر آفس آیا تھا ۔۔۔
سھل کے چہرے پہ آتی چمک دیکھ کر اس کا دل ڈوبنے لگا ۔۔
(“میری جان میں کیسے تجھے ایسے شخص کے حوالے کردوں جو پیسے کے لیے ۔۔۔اغوا تک کرنے کے لیے راضی ہوگیا تھا ۔وہ آگے بھی پھر کسی مجبوری میں آکے کوئی بھی غلط کام کرسکتا ہے ۔۔۔
” وہ آپ کی آفس آیا تھا ۔۔۔۔کیا کہا اس نے ۔۔۔؟؟؟ کیا اس نے میرا پوچھا ۔۔؟؟ “
سھل اسے بے چین سی نظر آئی ۔۔
” ہاں پوچھا تھا ۔۔۔وہ تم سے ملنا بھی چاہتا تھا ۔۔۔لیکن ۔۔۔میں نے ایک شرط رکھی ہے ۔۔۔۔۔”
وہ ماں بیٹی ایک ہی گھر میں رہتی تھی ۔۔۔لیکن بلکل اجنبیوں کی طرح ۔۔۔ان میں دوریاں تو پہلے سعادت نے کافی بڑھا دی تھی ۔۔۔۔
لیکن رہی سہی کسر اس واقعے نے پوری کر دی ۔۔۔۔ان کا جب بھی سامنہ ہوتا ایک زوردار ٹکراو کے سوا کچھ نہ ہوتا ۔۔۔۔
” کیسی شرط ؟؟؟ آپ مجھ سے پوچھے بنا میری زندگی کے اتنے بڑے فیصلے کیوں کر دیتی ہیں ۔۔۔۔میں بیس سال کی ہونے والی ہوں ۔۔۔۔مجھے اپنے فیصلے لینے کا اختیار ہے خدارا اپنے فیصلے مجھ پر مسلط نہ کیجیئے ۔۔”
شھربانو کو اس سے اتنے سخت رویے کی توقع نہیں تھی ۔۔۔
” ٹھیک ہے نہیں کرتی میں تمہاری زندگی کے فیصلے ۔۔۔۔تم خود جائو اب
وہ پیسے لے کر جو وہ لینے آرہا ہے۔۔۔۔ تمہیں چھوڑنے کا معاوضہ ۔۔۔۔اور یہ پیپر بھی لے جانا ساتھ جس پہ اسے سائن کرنے تھے ۔۔۔”
وہ سھل کو دیکھ رہی تھی جو بلکل ساکت ہوگئی تھی ۔۔۔۔۔
” نہیں یہ سب جھوٹ ہے ۔۔
” اگر وہ یہ سب نہیں کرنا چاہتا ۔۔۔تو وہ آج مجھ سے ملنے نہیں آئے گا میں سمجھ جائوں گی ۔۔۔وہ پیار میں سوداگری نہیں چاہتا ۔۔۔اگر وہ آیا تو تمہیں میری بات کا یقین کرنا پڑے گا ۔۔۔”
وہ واقعی اس سے سودا کرنے ہی جا رہی تھی ۔۔۔
بس اس میں تھوڑا جھوٹ ملا دیا تھا۔۔۔ ۔اس نے۔۔۔۔ جو اس کی نظر میں اس کی بیٹی کی زندگی بچانے کے لیے جائز تھا ۔۔۔
” آپ کیا کہہ رہی ہے ۔۔۔۔آپ کا مطلب ہے آپ نے ۔۔۔”
” ہاں میں نے اسے آج صبح یہی کہا تھا ۔۔۔۔شام کو پیسے لے جانا ۔۔۔اور میری بیٹی کی زندگی سے نکل جانا ۔۔۔اگر تم نہیں آئے تو مجھے میرا جواب ملجائے گا۔۔۔۔اور اگر آئے تو پھر بھی جواب مل جائے گا ۔۔۔
شھربانو نے اس کی بات کاٹ کر جملہ مکمل کیا
” لیکن مجھے کیوں یقین نہیں آرہا ۔۔۔”
واقعی آدھے جھوٹ اور آدھے سچ پہ یقین کروانا مشکل ہی تھا ۔۔۔
” ٹھیک ہے پھر تم ہی چلی جانا ۔۔۔اور سب سوالوں کے جواب لے آنا ۔۔وہ مجھ سے ملنے آسکتا تھا ۔۔۔تو تم سے بھی مل۔سکتا تھا ۔۔۔۔وہ ہمارے گھر آفس سب سے واقف ہے ۔۔۔وہ مجھ سے ہی کیوں ملنے پر بضد تھا ۔۔۔۔۔میری نفرت ۔۔کی پٹی اتار دو تو سب صاف نظر آجائے گا سھل۔۔۔۔میں تمہاری دشمن نہیں ہوں ماں ہوں تمہاری
☆☆☆♡◇◇◇◇◇◇◇◇
واقعی میں شھربانو کی بات میں وزن تھا۔
اسے اب اس کا کچھ کچھ یقین ہونے لگا ۔۔
وہ یہ تو جانتی تھی ۔۔مطھر نے پہلے بھی پیسے لے کر ہی وہ کام کیا تھا ۔۔۔جو انسان اپنا ضمیر بیچ سکتا ہے ۔۔۔اس سے کچھ بھی بعید نہیں تھا ۔۔۔ہوسکتا تھا پھر کوئی مجبوری آڑے آگئی ہو اور اس نے اس کا سودا کر دیا ہو۔۔۔کیونکہ اس میں تو ضمیر کی سوداگری بھی نہیں تھی۔۔۔ پہلے دن یہی طے ہوا تھا ۔۔۔وہ چھوڑ دے گا ۔۔۔وہ نکاح تو مجبوری تھا ۔۔۔” لیکن وہ محبت ۔۔۔؟؟؟”
اس نے بے خودی میں ہی اپنی ماں سے سوال کیا ۔۔۔
◇◇◇◇◇◇◇◇◇◇◇◇◇
” میری جان انسان ایک جانور کے ساتھ بھی کچھ وقت گزارے تو اس سے بھی انسیت ہوجاتی ہے….
وہ تو جیتا جاگتا انسان تھا ۔۔۔۔۔ایک لڑکے کا لڑکی کی طرف متوجہ ہونا ۔۔۔ایک فطری عمل ہے ۔۔
۔مرد ہو یا عورت وہ صنف مخالف میں ہمیشہ کشش محسوس کرتا ہے ۔۔
۔وہ سب وقتی طور پر ہوتا ہے ۔۔۔وہ محبت نہیں ہوتی ۔۔ یاد کرو کچھ ایسا ہوا تھا جس سے تم دونوں کو ایک دوسرے سے محبت کا گماں گزرا ہو ؟؟؟۔”
اس نے ایک ربوٹ کی طرح نفی میں سر ہلایا ۔۔۔۔
” تمہارے پاس رات تک کا وقت ہے ۔۔۔وہ رات آٹھ بجے مجھ سے ملنے آئے گا ۔۔۔
تم ہی چلی جانا سب معلوم ہو جائے گا ۔۔۔وہ نہیں آیا تو میں خوشی خوشی تم دونوں کی شادی کردوں گی ۔۔۔وہ بھی بڑے دھوم دھام سے ۔۔۔اگر وہ ملنے آیا۔۔۔۔ اور اس نے میرے بارے میں پوچھا تو پھر تمہیں میری بات ماننی پڑے گی ۔۔۔فیصلہ تمہارے ہاتھ میں ہیں ۔۔۔
سھل کا دل ڈوبنے لگا ۔۔۔اسے اپنی ماں کی باتیں ٹھیک لگ رہی تھی وہ پہلے بھی تو اسے چھوڑ کے چلا آیا تھا ۔۔۔لیکن پھر بھی اسے اپنے گماں کو یقین میں بدلنا تھا۔۔
۔ وہ سب خود دیکھنا چاہتی تھی ۔۔۔
☆☆◇◇◇◇◇◇◇◇◇◇◇◇
وہ رات کو بے دلی سے تیار ہوئی ۔۔۔۔۔اس کا دل نجانے کتنی بار ڈوب کے ابھرا تھا ۔۔۔
وہ آئینے میں کھڑی اپنا سراپا دیکھ رہی تھی ۔
۔(” کیا محبت کرنا اتنا مشکل ہے ۔۔۔۔۔لیکن آج کے دور میں تو سب آسان ہے ۔۔۔پھر یہ سب اتنا مشکل کیوں لگ رہا ہے ۔۔
۔ کتنی قیمت لگائی ہوگی ۔۔۔مام نے میری اور وہ کتنے پہ راضی ہوا ہوگا ۔”) ۔۔
اسے اپنا آپ ایک کھلونا لگنے لگا تھا ۔۔۔۔جسے کوئی بیچ رہا تھا تو کوئی خرید ۔۔۔۔۔
اسے غار کا وہ لمحہ یاد آنے لگا ۔۔۔مطھر کی وہ پیار بھری باتیں یاد آنے لگی کیا وہ سب ایک وقتی کشش تھی ۔۔۔۔وہ بس صنف مخالف کی طرف ایک کھچاو تھا ۔۔۔اور کچھ نہیں ۔۔۔
اس کی آنکھ سے ایک قطرہ کب نکلا ۔۔۔وہ اس سے بھی بے خبر تھی ۔۔۔
چوٹ اس کے دل پہ لگی ۔تھی جس کا درد اس کی آنکھ سے بہہ نکلا تھا ۔۔
جدائی کے لیے ہی سہی وہ مطھر سے ملنے تو جا رہی تھی ۔۔۔مطھر کو نہ سہی اسے تو محبت تھی ۔۔۔
وہ اسے آخری بار خوشی خوشی الوداع کرنا چاہتی تھی ۔۔۔اس سے اپنے سوالوں کے جوابات چاہیے تھے
اس نے سرخ رنگ کا لباس زیب تن کیا ۔۔۔وہ ایک خوبصورت پیروں تک آتی میکسی تھی ۔۔
اس نے ایسا لباس بمشکل ایک دو بار ہی پہنا تھا ۔۔۔جو اسے ٹھیک سے یاد تک نہیں تھا ۔۔۔
اس نے ہونٹوں پر ریڈ لپ اسٹک کا ٹچ دیا ۔۔۔
آنکھوں میں کاجل۔کے ساتھ لائینر اور مسکارا بھی لگایا ۔۔۔
اتنی تیاری کے بعد بھی اس کا چہرہ مرجھایا ہوا تھا ۔۔۔چہرے پہ کوئی چمک نہ تھی ۔۔۔ایک ایک بڑھتا قدم اسے مطھر سے دور لے جا رہا تھا ۔۔۔
اس نے پرفیوم چھڑکا ۔۔۔۔ہائے ہیل پہنی اور اپنی گاڑی کی طرف بڑھ گئی ۔۔۔
” تم مجھے جانے دیتی ۔۔۔”
شھربانو ایک بڑی سی چادر اپنے گرد لپیٹے اس سے مخاطب تھی ۔۔۔
رات کے آٹھ بجے تھے لیکن سھل کو ارد گرد میں گھپ اندھیرا محسوس ہو رہا تھا ۔۔۔
” نہیں میری زندگی کا فیصلہ میں خود ہی کروں گی ۔۔۔۔” اس کے ہاتھ شھربانو سے پیپر لیتے ہوئے کانپ رہے تھے ۔۔۔۔
” تم ٹھیک تو ہو ۔۔۔میں تمہیں ایسے اکیلے جانے نہیں دوں گی تم مجھے ٹھیک نہیں لگ رہی ۔۔۔”
اس نے بریف کیس اور پیپر لے لیے اور بنا کچھ کہے گاڑی کی جانب بڑھ گئی ۔۔۔
☆☆☆☆◇◇◇◇◇◇◇◇◇
اس کا دل تیز تیز دھڑکنے لگا ۔۔۔جیسے اس پردے کے پیچھے کوئی قیامت اس کی منتظر ہو ۔۔جیسے ۔کوئی طوفان چھپا ہو ۔۔۔
کچھ تو غلط تھا ۔۔۔یا ہونے والا تھا ۔۔۔اس کی چھٹی حس اسے ایک انجانے خطرے سے آگاہ کر رہی تھی ۔۔۔
لیکن وہاں سے بھاگ جانا بھی اس کے حق میں نہیں تھا اسے کسی بھی طرح شھربانو سے ملنا تھا ۔۔۔۔
اس سے اپنا قصور پوچھنا تھا ۔۔۔۔
آخر ایسا کیا گناہ ہوا تھا اس سے ایک بار بھی اسے سھل۔سے ملنے نہیں دیا جا رہا تھا ۔۔
اس نے جیسے ہی پردہ ہٹایا ۔۔۔اسے وقت وہی تھمتا ہوا محسوس ہو رہا تھا ۔۔۔
جیسے آس پاس کے لوگ سب ساکت ہوگئے ہوں ۔۔۔
جیسے سب ایک مجسمے ہوں ۔۔۔جیتے جاگتے مجسمے ۔۔۔
وہ میز کے دوسری طرف بڑے باوقار انداز میں بیٹھی تھی ۔۔۔
اس نے ایک نظر تک اس پر نہیں ڈالی تھی ۔۔۔۔
☆☆☆☆☆♡◇◇♡◇◇◇◇◇
” سھل نظر نہیں آرہی ۔۔۔” وہ دونوں وسیع وعریض خوبصورت لائونج میں
بیٹھی ۔۔۔چائے سے انصاف کر رہی تھی ۔۔۔
” دوست سے ملنے گئی ہے ۔۔۔”
اس کے چہرے سے اداسی اور خوف چھلک رہا تھا ۔۔۔
” بانو تم نے اسے کچھ زیادہ آزادی نہیں دے رکھی ۔۔۔
پہلے تو تم سب قصور سعادت پہ ڈال۔دیتی تھی ۔۔۔
لیکن اب یہ سب تمہاری ذمیداری ہے ۔۔۔”
سحر نے کپ ٹیبل پہ رکھا ۔۔۔
اس نے جواب دینے کی بجائے خاموشی اختیار کر لی ۔۔۔
” حملہ آور کا کچھ پتہ چلا ۔۔کسی کام کی نہیں یہاں کی پولیس ۔۔۔میں کہتی ہوں بزنس وائنڈ اپ کرو اور چلو یہاں سے ۔
۔۔سعادت کا علاج بھی باہر اچھا ہوگا سونیا تو پہلے ہی باہر پڑھ رہی ہے سھل کی بھی اسٹڈی اسٹارٹ کروائو ۔
۔۔فضول کاموں سے دھیان ہٹ جائے گا ۔۔۔”
شھربانو جو وہاں ہوتے ہوئے بھی ۔۔۔کہیں اور تھی ۔۔۔
” لیکن آپی علاج تو امریکہ میں اچھا ہوتا ہے ۔وہاں کی ویزا بمشکل ملتا ہے ۔۔۔۔”
” لیکن لندن کا تو آسانی سے مل جائے گا تم لوگوں کو ۔۔۔وہاں کافی عرصہ گزارا بھی ہے ۔۔۔تم لندن پہنچو امریکہ کا جانے کا بندوبست ہم کر دیں گے ۔۔۔بس اب جلدی سے یہ سب سمیٹو ۔۔۔ویسے بھی تم کافی عرصہ باہر رہی ہو کوئی مشکل نہیں ہوگی ۔۔۔”
شھربانو نے پرسوچ انداز میں سر کو ہلایا ۔۔۔۔
☆☆☆☆◇◇◇◇◇◇◇◇◇◇◇
” سھل تم ۔۔۔!!!” وہ حیرت زدہ سا کھڑا تھا ۔۔۔
۔” کیوں تمہیں کسی اور کی توقع تھی ۔۔۔۔
وہ سامنے والی کرسی میں جھٹ سے بیٹھا ۔۔۔
” میں تو سمجھا تھا ۔۔۔میڈم ملنے آئے گی ۔۔۔لیکن ۔۔۔”
” لیکن کیا ۔!!!۔۔۔تم نے جو ڈیل کی تھی”
اس نے نوٹوں سے بھرا بریف کیس دھکیل کے اس کے سامنے کیا ۔۔۔
” ۔۔۔وہ ہم نے پوری کر دی ہے ۔۔۔۔میں نہیں جانتی مام اور تمہارے بیچ کیا باتیں ہوئی ۔۔۔
سامنے والے کے چہرے پہ حیرت کے تاثرات ابھرے ۔۔۔
” میں کچھ سمجھا نہیں ۔۔تم کیا کہہ رہی ہو ۔۔؟؟؟۔۔”
سامنے والا کبھی اس کے چہرے کو دیکھتا ۔۔۔اور کبھی اس سیاہ بریف کیس کو ۔۔۔
” تم نے ایک بار پھر پیسے کے لیے ۔۔۔”
اسے بولنے میں اتنی مشکل کیوں ہو رہی ہے ۔۔۔۔اسے کچھ پل کے لیے سامنے سب دھندھلا نظر آنے لگا ۔۔۔۔
شاید آنکھوں میں پانی بھر گیا تھا۔ھا
☆☆◇◇◇◇◇◇◇◇◇◇◇
وہ اس کے چہرے کا رنگ اور آنکھوں میں اترتی نمی دیکھ رہا تھا ۔۔۔۔اسے سھل کی حالت ٹھیک نہیں لگ رہی تھی ۔۔۔۔یہ وہ خطرناک لڑکی نہیں تھی ۔۔۔۔
یہ تو بلکل مایوس سی عام سئ لڑکی لگ رہی تھی ۔۔۔۔۔
اسے تو اس سھل سے محبت ہوئی تھی ۔۔۔۔
اس سھل پہ تو ترس آرہا تھا ۔۔
اور شھربانو پر حد سے زیادہ غصہ ۔۔۔( ” وہ
عورت واقعی ایک شاطر عورت تھی ۔۔۔۔۔اس نے کس طرح اسے سہی وقت پر چوٹ کیا تھا ۔۔۔وہ واقعی میں مسز سعادت ملک۔تھی انہی کی طرح سازشیں کرنے والی ۔۔۔۔”)
اسے مظفر نے سب بتا دیا تھا ۔۔۔۔
وہ شھربانو اور اس کی فیملی کو اب کسی حد تک جان چکا تھا ۔۔۔
” تم کیا کہہ رہی ہو “
” میں وہی کہہ رہی ہوں ۔۔۔جو صبح تم ماما کے ساتھ طے کر آئے ہو ۔۔۔”
اب اسے سھل کی سوچ اور بے اعتباری پر غصہ آرہا تھا ۔۔۔
” ۔۔۔ویسے کتنی رقم ہوگی اس بریف کیس میں ۔۔۔۔”
اس کا انداز طنزیہ ہوگیا تھا ۔۔۔
” آگئے اپنی اصلیت پر ۔۔۔”
اس کا سوال نظر انداز کر کے پھر وہی سوال۔دہرایا ۔۔۔
” ہاں آگیا ہوں ۔۔۔۔کتنی رقم ہے اس بریف کیس میں ۔۔۔
سھل کا جملہ اس کی روح تک کو چھلنی کر گیا ۔۔۔
” ڈھائی کروڑ ۔۔۔اور ڈھائی کروڑ اس پیپر پہ سائن کرنے کے بعد ۔۔۔
” پیپر ۔۔۔کیسے پیپر ۔۔۔” اس کی پیشانی پر شکنیں نمودار ہوئی ۔
” خلع کے پیپر ۔۔۔اتنے انجان کیوں بن رہے ہو ۔۔۔
☆☆◇◇◇◇◇◇◇◇◇◇◇◇
اس کا چہرہ اس کے لباس کی طرح غصے میں سرخ پڑ رہا تھا ۔۔۔
” بڑا سستا سودا کیا ہے ۔۔۔۔مسز ملک نے آپ کا ۔۔۔”
” مطلب کی بات کرو ۔۔”
اس نے ضبط میں مٹھیاں بھینچ رکھی تھی ۔۔۔
” مطلب کی ہی بات کر رہا ہوں ۔۔۔۔تیری قیمت صرف پانچ کروڑ ۔۔۔
اس کی آنکھوں سے گویا انگارے نکل۔رہے ۔۔۔تھے اس کا بس نہیں چل رہا تھا ۔۔۔وہ اپنی نگاہ سے اسے جلا کہ بھسم کر دے ۔۔
” میں پاگل نہیں ہوں جو اتنے سستے میں سودا کر لوں ۔۔۔”
کیا تھا اس کے لہجے ۔۔۔طنز بے اعتباری ۔کیونکہ لالچ تو اس کے چہرے سے کہیں بھی اسے نظر نہیں آ رہی تھی ۔۔۔۔
وہ لب بھینچے اسے سن رہی تھی ۔۔۔
اس نے بریف کیس کھولا دیکھا اور واپس اس کی طرف دھکیل دیا ۔۔۔۔
” اتنی سی رقم سے میرا کچھ نہیں ہو سکتا ۔۔۔کم سے کم پچاس کروڑ ۔۔
اس نے پیپر اٹھایا اور اس کہ ٹکڑے ٹکڑے کردیے ۔۔
” تم سے تو اب کورٹ میں بات ہوگی ۔۔۔۔۔ایک پائی تک نہیں ملے گی اور تم مجھے طلاق بھی دوگے ۔۔۔۔”
وہ اسے انگلی اٹھا کہ خبردار کر رہی تھی ۔۔۔
” کیا ہوا ۔۔۔ڈیل کرنے آئی تھی ۔۔۔مجھ سے ۔۔۔تو کرو نہ ڈیل ۔۔۔۔ہر وقت پیسے کی دھونس دکھانے والوں کو ایک دم سے کیا ہوجاتا ہے ۔۔۔جب سامنے والا پیسہ بڑھا دیتا ہے ۔۔
ان کے پاس پچاس کروڑ بھی نہیں ۔۔۔جو مجھے دے کر آزاد ہوجائیں ۔۔۔”
مطھر کے چہرے پہ بھی غصہ صاف ظاہر تھا ۔۔۔۔غصے سے مطھر کے ہونٹ کانپ رہے تھے ۔۔۔مٹھیاں بھینچ رکھی تھی ۔۔۔جیسے بہت کچھ ضبط کر رہا ہو ۔
” تمہاری ماں کیا تمہیں کھلونا سمجھتی ہے ۔۔۔پیسے دے کر اغو کروا لیا پیسے دے کر نکاح پڑھوالیا ۔۔۔۔پیسے دے کر طلاق دلوادی ۔۔۔۔اور کیا کیا کرے گئ تمہارے ساتھ ۔۔۔وہ بھی سامنے والے کو خرید کر ۔۔۔”
☆☆☆☆☆☆◇◇◇◇◇◇
مطھر کی باتیں اسے اندر تک کاٹ رہی تھی ۔۔۔
” مام نے یہ سب میرے لیے کیا ہے ۔۔۔وہ مجھے بچانا چاہتی تھی ۔۔۔۔
سامنے کھڑے شخص نے زوردار طنزیہ قہقہہ لگایا ۔۔۔۔
” واہ واہ ۔۔۔۔کیا محبت ہے ۔۔
ساتھ میں تالی بھی بجانے لگا ۔۔
۔۔” میں صرف تم سے چند سوالوں کے جوبات لینے آئی ہوں ۔۔۔پھر ہم دونوں کے راستے الگ ہونگے ۔۔
ماحول میں سوگواریت گھل گئی تھی ۔۔
” جب تم سب فیصلے یکطرفہ طے کر آئی ہو ۔۔پھر ۔مجھ سے کیا پوچھنے آئی ہو سب جاکے اپنی مام سے پوچھو ۔۔۔
اس نے گویا اس کی بات سنی ہی نہیں تھی
” تم مجھے چھوڑ کر کیوں چلے آئے ۔۔۔مانا ہر دفعہ میری مام غلط ہے ۔۔۔لیکن آپ نے اور پاپا نے میرے ساتھ کیآ کیا ۔۔۔۔۔تم نے پیسے لے کر محبت کا ڈھونگ کیا ۔۔۔۔شادی کی۔۔۔۔ سب مصنوعی رشتے ۔۔۔۔۔ہے ۔۔۔۔کم سے کم جو میری مام نے کیا وہ میری محبت میں تو کیا بس ماں کا رشتہ ہی سچا ہوتا ہے باقی سب ۔۔۔
وہ مطھر کو دیکھ رہی تھی اس کا چہرہ غصے سے تپ رہا تھا ۔۔۔۔
وہ ہاتھ کی پشت سے رخسار پر پڑے آنسو صاف کرنے لگی ۔۔۔آواز رندھنے لگی تھی
وہ جانے کے لیے پلٹی تو پیچھے سے مطھر کی آواز گونجی ۔۔۔
” میں نے تمہیں چھوڑا ۔۔۔۔واہ پہچاننے سے خود انکاری اور چھوڑا میں نے ۔۔۔۔او بیبی ۔۔۔یہ مگر مچھ کہ آنسو بہانہ بند کرو ۔۔۔۔۔سب سمجھ چکا ہوں میں ۔۔”
مطھر کی اس بات سے اس کا ضبط جواب دے گیا ۔۔۔۔
” مطھر تم ۔۔۔پل پل تڑپو گے ۔۔۔اب سھل کبھی تم سے ملنے نہیں آئے گی ۔۔۔۔اس دن کا مجھے نہیں پتہ لیکن آج کے بعد میں واقعی تمہیں نہیں جانتی ۔۔۔”
آنسو کا ضبط ٹوٹ چکا تھا ۔۔۔۔
وہ بریف کیس بھی وہی چھوڑ کر دوڑتی ہوئی گاڑی کی طرف چلی گئی۔۔۔
☆☆☆☆◇◇◇◇◇◇◇◇◇
سھل کی باتیں سن کر اس کا پارہ ہائے ہوچکا تھا
وہ اسے اتنا گرا ہوا سمجھتی تھی ۔۔۔اور وہ اس کی محبت میں پاگل ہو رہا تھا ۔۔۔
وہ اسے صرف ذلیل کرنے آئی تھی ۔۔۔
آج تک اسے اپنے آپ سے اتنی نفرت محسوس نہ ہوئی تھی جتنی اسے اس وقت
ہو رہی تھی ۔۔
اس کے دل میں آگ لگی تھی ۔۔۔جو اس کے آنسو سے بھی نہیں بجھ رہی تھی ۔۔۔۔
اس نے غصے میں سھل کے آنسوؤں کو جھوٹا کہہ تو دیا۔۔۔
لیکن جاتے جاتے اس کے وہ الفاظ ۔۔۔اور آنسو اسے اپنے دل کہ آر پار ہوتے ہوئے محسوس ہوئے ۔۔۔
(” مجھے سھل سے اس طرح بات نہیں کرنی چاہیے تھی ۔۔۔۔۔کیا واقعی میں اسے مجھ سے محبت تھی ۔؟؟؟)
۔ اسے کچھ پل پہلے کا وقت یاد آنے لگا ۔۔۔۔(۔اس کی اڑتی رنگت ۔۔۔وہ کانپتے ہاتھ ۔۔۔وہ آنکھوں کی نمئ ۔۔۔۔وہ آنسو کا ٹوٹ کر گرنا ۔۔وہ جاتے وقت کی تڑپ ۔۔
” او میرے خدایا یہ میں نے کیا کر دیا ۔۔۔
اس نے پلٹ کر ٹیبل کی طرف دیکھا ۔۔۔جہاں وہ نوٹوں سے بھرا بریف کیس پڑا تھا ۔۔۔
اس نے وہ اٹھایا اور تیزی سے اس کی پیچھے لپکا ۔۔۔
لیکن وہ جاچکی تھی ۔۔۔
جب تک اسے ہوش آیا وہ جا چکی تھی ۔۔۔
اس کی چمچاتی ۔۔لینڈ کروزر بہت چھوٹی نظر آرہی تھی ۔۔۔۔
مطھر کو ایسا لگنے لگا تھا وہ اسے آخری بار دیکھ رہا ہے ۔۔۔۔
اس نے بریف کیس اٹھایا اور لمبے ڈگ بھرتا ہوٹل سے باہر چلا گیا ۔۔۔
☆☆☆◇◇◇◇◇◇◇◇◇◇◇
مطھر بنا کہیں رکے ملک ہاوس پہنچا ۔۔۔
” مجھے مس سھل سے ملنا ہے ۔۔۔۔
چوکیدار کی طنزیہ نظر اس سے سب کہہ رہی تھی ۔۔
” چھوٹی بی بی گھر پر نہیں ہے ۔۔۔
لیکن اس نے بھی نظروں سے جواب دیا تمہاری بات کا یقین کون کر رہا ہے ۔۔۔
اس نے ایڑیاں اٹھا کہ سھل کہ گاڑی دیکھنی چاہی ۔۔۔۔
واقعی سچ کہہ رہا تھا
سھل جس گاڑی پر ہوٹل سے نکلی تھی وہ وہاں موجود نہ تھی ۔۔۔
” اور بڑی میڈم ۔” ۔اس نے گویا وہ الفاظ چبا کہ ادا کیے ۔۔۔
چوکیدار نے نفی میں سر ہلایا ۔۔۔
” یہ گھر ہے یا قبرستان جہاں کوئی نہیں ہوتا ۔۔۔
اس نے غصہ گویا چوکیدار پہ نکالا ۔۔۔۔
چوکیدار کی بھی بتیسی نکل آئی ۔۔۔
” او سر جی قبرستان میں تو پھر بھی کئی مردے مدفون ہوتے ہیں ۔۔۔ ان بڑے گھروں میں تو وہ بھی نہیں ہوتا ۔۔۔
اسے چوکیدار اچھے موڈ میں لگ رہا تھا ۔۔۔
” ایک بات پوچھوں ۔۔۔بتائو گے ۔۔۔”
وہ دیکھ رہا تھا چوکیدار اسے مشکوک نظروں سے دیکھنے لگا ۔۔۔
” دیکھے صاحب بات بتانے لائق ہوئی تو ضرور بتائوں گا ۔۔ورنہ میں نمک حرام نہیں ہوں ۔”
مطھر نے پرسوچ نظروں سے اسے دیکھا ۔۔
” نمک نہیں وہ ہماری مجبوری خرید کے ہمیں زہر دیتے ہیں جو ہماری نسوں میں دوڑ کے ہمیں نیم مردہ کر دیتا ہے ۔۔۔۔ہماری زندگیاں یہ بڑے لوگ زہر کر دیتے ۔۔۔ہیں ۔۔۔”
اسے کے حلق میں کانٹے اترنے لگے ۔۔۔
” سر آپ بھی ان کے پاس کام کرتے تھے ۔۔۔؟؟”
وہ اس کے اس سوال پر
آس پاس دیکھنے لگا ۔۔
ڈیفنس میں بڑے بنگلوز کی لمبی قطاریں لگی تھی ۔۔۔۔
راستہ اکثر یونہی خاموش رہتا ۔تھا ۔
بس درختوں پر پرندے چوں چوں کرتے رہتے ۔۔۔
” سعادت صاحب کیوں نظر نہیں آتے ۔۔؟
چوکیدار حیرت زدہ سا اسے دیکھنے لگا ۔۔۔
” صاحب کوما میں ہیں ۔۔۔”
چوکیدار کے چہرے پر اداسی پھیل گئی ۔۔۔
جاری ہے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *