Intikam E Mohabbat by Esha Noor NovelR50798 Intikam E Mohabbat by Esha Noor Episode30
No Download Link
253K
35
Rate this Novel
Intikam E Mohabbat by Esha Noor Episode01 Intikam E Mohabbat by Esha Noor Episode02 Intikam E Mohabbat by Esha Noor Episode03 Intikam E Mohabbat by Esha Noor Episode04 Intikam E Mohabbat by Esha Noor Episode05 Intikam E Mohabbat by Esha Noor Episode06 Intikam E Mohabbat by Esha Noor Episode07 Intikam E Mohabbat by Esha Noor Episode08 Intikam E Mohabbat by Esha Noor Episode09 Intikam E Mohabbat by Esha Noor Episode10 Intikam E Mohabbat by Esha Noor Episode11 Intikam E Mohabbat by Esha Noor Episode12 Intikam E Mohabbat by Esha Noor Episode13 Intikam E Mohabbat by Esha Noor Episode14 Intikam E Mohabbat by Esha Noor Episode15 Intikam E Mohabbat by Esha Noor Episode16 Intikam E Mohabbat by Esha Noor Episode17 Intikam E Mohabbat by Esha Noor Episode18 Intikam E Mohabbat by Esha Noor Episode19 Intikam E Mohabbat by Esha Noor Episode20 Intikam E Mohabbat by Esha Noor Episode21 Intikam E Mohabbat by Esha Noor Episode22 Intikam E Mohabbat by Esha Noor Episode23 Intikam E Mohabbat by Esha Noor Episode24 Intikam E Mohabbat by Esha Noor Episode25 Intikam E Mohabbat by Esha Noor Episode26 Intikam E Mohabbat by Esha Noor Episode27 Intikam E Mohabbat by Esha Noor Episode28 Intikam E Mohabbat by Esha Noor Episode29 Intikam E Mohabbat by Esha Noor Episode30 (Watching)Intikam E Mohabbat by Esha Noor Episode31 Intikam E Mohabbat by Esha Noor Episode32 Intikam E Mohabbat by Esha Noor Episode33 Intikam E Mohabbat by Esha Noor Episode34 Intikam E Mohabbat by Esha Noor Last Episode
Intikam E Mohabbat by Esha Noor Episode30
Intikam E Mohabbat by Esha Noor Episode30
جیسے جیسے وادی سوات قریب آرہی تھی ۔۔۔۔شھربانو کے دل میں عجیب سے وسوسے اور خدشات اٹھ رہے تھے۔۔۔ وادئ سوات جتنی پر ررونق اور خوبصورت تھی اس کے دل کا موسم اتنا ہی اداس تھا ۔۔۔۔۔ایسا لگ رہا تھا ۔۔۔کوئی ان سے بہت دور جا رہا ہے ۔(“۔۔لیکن وہ تو سھل کے قریب جا رہی تھی۔۔۔پھر یہ سب کیوں ,اسے پل پل سھل کا خیال آجاتا ۔۔۔۔
اچانک سے
سامنے والی گاڑی رک گئی تھی ۔۔۔۔ان دونوں گاڑیوں کا تصادم ہوتے ہوتے رہ گیا ۔۔۔
وہ بھی ایک جٹھکے سے سوچوں کی دنیا سے اپنی دنیا میں واپس آئی ۔۔
شاید سعادت کی گاڑی بھی رکی تھی ۔
راولپنڈی سے کچھ گھنٹوں کی مسافت کے بعد پہاڑی سلسلہ شروع ہوگیا تھا ۔۔۔جو نہایت ہی دشوارگزار راستہ تھا ۔۔۔۔۔
عام سڑک پر جو فاصلہ پندرہ منٹ میں طے ہوجاتا تھا ۔۔پہاڑی راستے میں وہ فاصلہ ایک گھنٹے سے بھی زیادہ طویل وقت میں طے کر پائے تھے ۔۔۔۔۔
شھربانو کو ایسے راستوں پر گاڑی چلانے کا بلکل تجربہ نہیں تھا ۔۔۔۔۔
شھربانو کا موبائل شور کرنے لگا تو اس نے کال ریسیو کی ۔۔۔جلدی بکو کیا بکنا ہے ۔۔۔۔راستہ پہلے ہی بہت مشکل ہے ۔۔۔۔
وہ موبائل پر تو ہینڈ فری لگا کہ بات کر رہی تھی لیکن اس کی تھوڑی سی بھی توجہ ہٹنے پر ۔۔۔گاڑی کھائی میں جا سکتی تھی ۔۔۔
” میڈم ۔۔سھل بی بی کا پتا لگ گیا ہے ۔۔۔وہ بلکل ٹھیک ہے ۔۔۔اور ابھی آرمی کیمپ میں موجود ہے ۔۔۔
” کیا اطلاع بلکل درست ہے ۔۔۔۔؟؟
سامنے سے جی جی کہا گیا ۔۔۔
” اور وہ کیمپ کس جگہ لگی ہے ۔۔۔؟؟
اسے اب بھی یقین نہیں آرہا تھا ۔۔۔۔اس شخص کی اطلاع سو فیصد درست ہو سکتی ہے ۔۔
” اگر اطلاع غلط ثابت ہوئی تو تم لوگ اپنی قبر کھود کہ رکھنا ۔
سامنے والی گاڑی دوبارہ رک گئی تھی ۔۔
” کیا مصیبت ہے یہ بار بار کیوں رک جاتی ہے ۔۔۔
اچانک سے اس کی کار کی ونڈو کسی نے نوک کی ۔۔
سامنے کھڑے شخص کو دیکھ کر اسے اپنے جسم کا پورا لہو اپنے کنپٹیوں میں دوڑتا ہوا محسوس ہو رہا تھا ۔۔۔
☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆
مطھر کو واپس آئے تیسرا دن تھا ۔۔۔۔۔وہ اپنے گھر کے آس پاس منڈلاتا ضرور تھا ۔۔
۔۔لیکن ان سے رابطہ کرنے کا رسک وہ نہیں لے سکتا تھا ۔۔۔۔سامنے والی پارٹی بہت زیادہ طاقتور تھی ۔۔۔اس لیے وہ فون پر بھی بات کرنے کا رسک نہیں لے سکتا تھا ۔۔۔اسے یقین تھا ان کے موبائل ٹریس ہو رہے ہونگے ۔۔۔۔ اپنے گھر کے بعد اس کی دوسری منزل سھل کا گھر تھی ۔۔۔۔وہاں بھی کوئی سن بن محسوس نہیں ہو رہی تھی ویسے تو اکثر یہ محل ویران ہی لگتے تھے ۔۔۔لیکن آج ۔۔ایسا لگتا تھا وہاں کوئی ہے ہی نہیں ۔
(” یہ لوگ کہاں جا سکتے ہیں ۔۔۔۔کسی سے پوچھ لیتے ہیں ۔۔۔”) وہ آس پاس نگاہیں دوڑانے لگا
ایک شخص اسے پوچھنے کے لیے ٹھیک لگ رہا تھا ۔
” سنئیے ۔کیا ۔یہ لوگ گھر میں موجود نہیں• اس شخص نے لاعلمی کا اظہار کیا ۔
” جی آپ سعادت صاحب کے گھر والوں کا پوچھ رہے ہیں ؟؟
وہاں سے گزرتے ۔۔ایک دوسرے شخص کی تصدیق پر اس نے اثبات میں سر ہلایا ۔۔۔۔
” بس جی ان کے ساتھ بہت برا ہوا ہے ۔۔۔۔۔ ان کی بڑی بیٹی کا انتقال ہوگیا ۔۔۔۔اللہ معاف کرے ۔۔۔۔ میت دیکھنے قابل بھی نہیں تھی ۔۔۔۔”
مطھر ۔۔ بڑی بیٹی کے انتقال کے آگے کے الفاظ تو جیسے سن ہی نہیں سکا تھا
بس سامنے والے شخص کے تو بس ہونٹ ہل رہے تھے ۔۔۔اس شخص کی آواز کو ان کی سماعت سننے سے عاری تھی ۔۔۔۔
وہ کب وہاں سے چلا ۔۔۔اور کتنی دیر چلتا رہا اسے سمجھ نہیں آیا ۔
وہ نڈھال سا پارک میں ایک بینچ پر ڈھے جانے والے انداز میں بیٹھ گیا ۔۔۔۔
دماغ جیسے کوئی بات سمجھ نہیں پا رہا تھا ۔۔۔
یونہی کچھ وقت گزر گیا
۔۔۔بلکل خاموش اداس سا ۔۔۔۔
لیکن کچھ ہی دیر میں اس کا دماغ سوچنے اور سمجھنے لگا تھا ۔۔
اور اسے وہ بات کچھ کچھ سمجھ آگئی تھی ۔۔
☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆
ونڈو کے اس پار وہ دشمن جاں کھڑا تھا ۔۔۔۔
شھربانو نے اسے دیکھ کر منہ پھیر کے شیشہ اتارا ۔۔۔
” شیری تمہیں آنا تھا تو میرے ساتھ ہی چلی آتی یوں چھپ چھپ کے پیچھے آنے کا کیا مطلب نکلتا ہے ۔۔۔۔ہم سے کہہ دیا ہوتا ہم سر آنکھوں پر بٹھا کر لاتے ۔۔۔
شھربانو نے ایک جھٹکے سے کار کا دروازہ کھولا ۔۔۔۔کوئی اور شخص ہوتا تو اس کے ایسے اچانک گیٹ کھولنے پر چند قدم پیچھے لڑھک جاتا ۔۔
لیکن سامنے وہ شخص کھڑا تھا ۔۔۔۔جو اس کے ہر اقدام سے پہلے اس کا ردعمل دے دیتا تھا ۔۔۔۔
” تم تو گویا اعلان کر کے آئے تھے تم کہاں جا رہے ہو ۔۔۔ہے نا ۔۔۔”
اس نے دونوں بازوں سینے پر لپیٹے تیز نظروں سے اس کا سر تا پیر جائزہ لے رہی تھی ۔۔۔۔
☆☆☆☆☆☆☆☆♡◇◇◇◇◇
اسے کچھ ہی فاصلے طے کرنے پر معلوم ہوگیا تھا ۔۔۔۔
کوئی اس کا تعاقب کر رہا ہے ۔۔۔۔اور تھوڑا سا اور آگے چلنے کے بعد اس نے ایک موڑ پر شھربانو کی گاڑی بھی دیکھ لی تھی ۔۔۔وہ سہی جگہ دیکھ کر رکنا چاہتا تھا ۔۔۔آج اس کا دل شھربانو سے ڈھیر ساری باتیں کرنے کو کر رہا تھا ۔۔۔
عجیب سی اداسی تھی دل میں جیسے سب کچھ ختم ہونے والا ہو جیسے کچھ انہونی ہونے والی ہو ۔۔۔۔
” زمان نے تمہیں بتایا تھا ۔۔۔یہ اعلان ہی توتھا جان من ۔۔۔
اس نے اس کا ہاتھ اپنے ہاتھوں میں لینا چاہا ۔۔۔جو زمان کا نام سنتے ہی
اچنبھے سے اسے دیکھ رہی تھی ۔۔
اس نے اپنا ہاتھ پیچھے کر دیا ۔۔۔
” مطلب وہ زمان ۔۔۔!! ” اس نے سر کو جھٹکا ۔۔۔” مطلب وہ سب تمہاری پلاننگ تھی ۔۔وہ جو کچھ مجھے بتاتا تھا۔۔۔۔ وہ سب تمہارا آئیڈیا تھا ۔۔۔وہ سب آدمی وہ سب کچھ ۔۔۔۔۔نہیں نہیں تم جھوٹ بول رہے ہو ۔۔۔۔”
وہ اور بھی کچھ کہنا چاہتی تھی ۔۔۔لیکن تب تک وہ زمان کو کال کرچکا تھا ۔۔۔۔
” ہاں زمان کیا بنا ۔۔۔” وہ اب غصے سے اس کہ جانب دیکھ رہی تھی ۔۔۔
” سر جیسے آپ نے کہا تھا ۔۔۔میں نے ویسے ہی میڈم کو کہہ دیا تھا ۔۔۔۔میڈم کی گاڑی آپ کے پیچھے آنے والی وائٹ گاڑی کے پیچھے ہے ۔۔۔یقینن وہ اب تک آپ کو نظر آچکی ہوگی ۔۔۔
وہ نڈھال سی دو قدم پیچھے لڑھک گئی ۔۔
” اووو اچھا اچھا ۔۔۔مجھے نظر آگئی ۔۔۔بہت زبردست ۔۔۔تم ہمیشہ میرے وافادار ہی رہے ہو ۔۔۔”
گویا اس بات طنز بھرا تھا ۔۔۔۔
☆☆☆☆☆☆☆◇◇◇◇◇
سعادت کی باتیں سن کر اس کے جسم میں جیسے جان ہی نہ رہی تھی ۔۔۔وہ آج تک ان کے منصوبے پر ہی کام کرتی آ رہی تھی ۔۔۔۔اور وہ خود کو ۔۔۔کافی عقلمند سمجھ رہی تھی ۔۔۔۔الٹا وہ اسے آج تک بیوقوف بنا رہے تھے ۔۔۔۔
” اب تم یہ سمجھ رہی ہوگی ۔۔۔۔ہم شروع سے تہاری ہر بات جانتے ہیں ۔۔تو ایسا کچھ نہیں ۔۔۔شروع شروع میں تم اور زمان میرے خلاف کیا سازشیں کرتے آئے ہو ۔۔۔وہ میں نہیں جانتا ۔۔۔لیکن سعادت ملک کی شاطر نظر سے وہ کب تک بچ سکتا تھا ۔۔۔۔اس کے بعد بھی وہ نمک حرام کام تمہارا کرتا رہا پر آئیڈیاز میرے تھے ۔۔۔”
سامنے والے کے چہرے پہ کوئی تاثر نہیں تھا ۔۔۔اس کا چہرہ بلکل سپاٹ تھا ۔۔۔۔
لیکن اس پر تو من و مٹی پڑ گئی تھی ۔۔۔۔
اس کے پورے وجود میں جیسے خون کی ایک بوند بھی باقی نہ بچی ہو ۔۔۔۔
” تو کیا سھل والی بات۔۔۔۔!! وہ بات بھی کیا جھوٹی تھی ۔۔۔؟
سعادت نے گردن دائیں بائیں ہلائی ۔۔۔
” نہیں وہ بات سچ ہے ۔۔۔۔ لیکن تم میرے پیچھے اتنی جلدی پہنچ جائو گی یہ اندازہ نہیں تھا۔۔۔
وہ اب حیرت زدہ سی کھڑی تھی ۔۔۔۔
☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆
سعادت اس کے چہرے کہ بدلتے رنگ دیکھ رہا تھا ۔۔۔۔
اسے شھربانو کا اس طرح مایوس ہونا بلکل اچھا نہیں لگ رہا تھا ۔۔لیکن اب شاید سچ بتانا بھی ضروری ہوچکا تھا ۔۔
” چلو اس جگہ بیٹھ کر بات کرتے ہیں ۔۔
اس نے ایک جانب اشارہ کیا ۔۔۔۔۔ وہاں ایک ڈھلان سی بنی تھی ۔جو دریائے سوات کی جانب جا رہی تھی ۔۔۔دریائے سوات جو سردی کی وجہ سے خاموش اور اداس سا تھا ۔۔۔۔۔بلکل سعادت کے دل کی طرح ۔۔۔۔
” مسٹرملک آپ کس خوش فہمی میں جی رہے ہیں ۔۔میں اور آپ کے ساتھ بیٹھوں گی ۔۔ہونہہ ۔
اس نے سر کو جھٹکا اور گاڑی کی طرف بڑھنے لگی ۔۔۔وہ اس سے اسی بات کی توقع کر رہا تھا ۔۔۔لیکن سب جانتے ہوئے بھی ہمیشہ کی طرح اس کے دل کوٹھیس پہنچی تھی ۔۔
” تم دوبارہ مظفر سے ملنے نہیں گئی۔۔۔۔؟
☆☆☆☆☆☆◇◇◇◇◇◇◇◇◇◇
اس کے پاوں جہاں تھے وہاں منجمند ہوگئے ۔۔
(“یاخدا وہ یہ بات بھی جانتا تھا ۔۔۔ “) ایک کے اوپر ایک انکشاف ۔۔اسے نڈھال سا کیے جا رہے تھے ۔۔
لیکن اسے مظبوط نظر آنا تھا ۔۔
اس نے پلٹ کر ایک تیز نظر سعادت پر ڈالی ۔۔۔۔
اور واپس گاڑی کی طرف پلٹی ۔۔
” مسز ملک آپ بوڑھی ہو رہی ہیں ۔۔۔سعادت کی آواز پھر اس کی سماعت سے ٹکرائی ۔۔
وہ جانتی تھی وہ جان بوجھ کر اسے طیش میں لانا چاہتا ہے ۔۔
لیکن اس نے پیچھے مڑ کر نہیں دیکھا ۔۔
جیسے ہی اس نے گاڑی کا گیٹ کھولا ۔ایک مردانہ آواز نے اس کی راہ روکی
۔۔۔” میڈم یہ گاڑی آگے نہیں جا سکتی ۔۔۔۔ہم نے ایک فورویل گاڑی کا بندوبست کر دیا آپ دونوں آگے ساتھ چلے جائیں ۔۔
یہ وہی شخص تھا ۔۔۔جس کی گاڑی سعادت اور اس کی گاڑی کے بیچ میں تھی ۔۔
” میرے لیے ایک الگ گاڑی کا بندوبست کرو ۔میں اس کے ساتھ ۔۔۔” اس نے قہر بھری نظر سعادت پر ڈالی ” میں اس کے ساتھ ایک گاڑی میں سفر نہیں کر سکتی ۔۔۔”
شھربانو نے گویا اس شخص کو حکم سنایا تھا ۔۔۔
” میڈم ابھئ تو صرف ایک ہی گاڑی کا بندوبست ہو سکا ہے ۔۔
وہ ادب سے سر جھکائے کہہ رہا تھا ۔۔” ۔ویسے بھی آگے کا سفر دشوار گزار ہے ۔۔ابھی سورج بھی ڈھل چکا ہے ۔۔۔۔” سعادت نے پہاڑوں میں ڈوبتے ہوئے سورج کی جانب دیکھا ۔۔۔۔اور ایک ٹھنڈی آہ بھری ۔۔
“تم نے ہمارے رہنے کا بندوبست کر لیا ہے ۔۔۔؟
سامنے کھڑے شخص نے سعادت کے سوال پر اثبات میں سر ہلایا ۔۔
وہ دیکھ رہی تھی وہ شخص بقول زمان کے اس کا آدمی تھا ۔۔۔وہ بھی سعادت کی ہی ہر بات مان رہا تھا ۔۔۔وہ سب سعادت کے کارندے تھے ۔۔۔۔۔وہ خود کو بھی ان ہی کا محکوم سمجھ رہی تھی
وہ تو جیسے ان کے حکم اور مشوروں پر چل رہی تھی ۔۔۔اور یہ سب اس کی مجبوری تھی ۔۔۔وہ چاہ کر بھی اس وقت ان کی مخالفت نہیں کر سکتی تھی ۔۔۔سھل کے پاس پہنچنے تک ان کی ہر بات ماننا ان کی ہاں میں ہاں ملانا ہی بہتر تھا ۔۔۔زمان پر بھی اسے اب بھروسہ نہیں رہا تھا ۔۔
اور وہ اب اس مشکل سفرمیں بلکل تنہا کھڑی تھی ۔۔۔
☆☆☆♡♡♡♡♡♡♡♡♡◇
ماضی
ہاجرہ سب سے لڑ جھگڑ کے شھربانو کے کمرے میں واپس آئی ۔۔
” بیبی سب کو میں نے اپنے اپنے کام کا کہہ دیا پر سب کہ سب نکمے کام چور ۔۔۔” اسے محسوس ہوا وہ زیادہ بول گئی ہیں ۔۔شھربانو کے چہرے پر بیزاری صاف نظر آرہی تھی ۔۔” ۔۔۔آپ یہ جوس پی لیں ۔۔۔”
اس نے ٹرے میں رکھا جوس کا گلاس شھربانو کی طرف بڑھایا ۔۔
شھربانو کا چہرہ بلکل رزد پڑ رہا تھا ۔۔
شھربانو نے جوس کا گلاس اٹھا کہ ڈریسنگ ٹیبل پر رکھ دیا ۔۔۔۔وہ کچھ دیر شھربانو کے پاس کھڑی رہی ۔۔۔لیکن شھربانو نے گلاس میں سے ایک گھونٹ بھی نہ لیا ۔۔۔
” تم جائو مجھے نیند آرہی ہے ۔۔۔ اور ہاں سھل آیا کو دیدو ۔۔۔” اس نے سر اثبات میں ہلایا ۔ سھل کو اٹھائے ۔دروازے کا رخ کیا ۔۔۔۔لیکن وہ بار بار پیچھے مڑ کر دیکھ رہی تھی ۔۔۔۔اسے شھربانو کی فکر ہو رہی تھی ۔۔۔۔
شھربانو جیسے ہی ڈریسنگ ٹیبل کے سامنے سے اٹھی ۔۔۔وہ چکرا کے زمین پر گر پڑی
ہاجرہ کے تو جیسے اوسان ہی خطا ہوگئے ۔۔۔
وہ بھاگتی ہوئی شھربانو کے پاس پہنچھی ۔۔
☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆
شھربانو کی آنکھ کھلی تو وہ ہاسپیٹل کے ایک کمرے میں موجود تھی ۔
اس کے پاس اب بھی ہاجرہ ہی موجود تھی ۔۔۔
” شکر ہے بیبی آپ ٹھیک ہیں ۔۔
اس نے جیسے ہی آنکھیں کھولی ۔۔۔
ہاجرہ کو شکر ادا کرتے دیکھ کر اس کے لبوں پر مسکراہٹ پھیل گئی ۔۔۔
واقعی میں وہ بہت اچھی تھی
اگلے ہی پل ممتاز بیگم کمرے میں داخل ہوئی اور اس کے پیچھے سحر بھی اندر داخل ہوئی ۔۔ ۔۔۔” کیسی طبعیت ہے ” ممتاز بیگم نے اس کے سر پر دست شفقت رکھا ۔۔۔۔
” لگتا ہے تجھے ہاسپیٹل بہت پسند آگیا ۔۔جب دیکھ میڈم یہی آرام فرما رہی ہوتی ہیں ۔۔
سحر بھی اب اس کے سرہانے پر موجود تھی ۔۔۔
” میں ٹھیک ہوں امی بس زرا سا چکر آیا تھا ۔۔۔ہاجرہ نے تو آسمان سر پہ اٹھا لیا ۔۔۔
وہ دیکھ رہی تھی ہاجرہ نے اس کی بات پر منہ بنایا تھا ۔۔۔۔
اس نے آس پاس نظر دوڑائی ۔۔۔۔” ہاجرہ سھل کہاں ہے ۔۔۔
۔۔۔۔۔☆☆☆☆☆☆☆☆☆
حورین کے سامنے رکھا ۔۔ڈبہ پھر سے ٹرن ٹرن کرنے لگا ۔۔۔ دوبارہ ملک ہاوس سے کال آئی تھی ۔۔۔۔اس نے حسب معمول ۔۔۔پہلے خود کو آئینے میں دیکھا ۔۔۔انگلی سے چہرے پہ آتی لٹ کو پیچھے کیا ایسا لگ رہا تھا وہ وائس نہیں ویڈیو کال ریسیو کر رہی ہے ۔۔۔۔۔۔۔” بھر آگئی اس بھوتنی کی کال ۔۔۔دماغ خراب کر کے رکھ دیا ہے۔۔ہونہہ ” ۔۔۔۔لیکن دوسری طرف سے اس بار عالیہ بول رہی تھی ۔۔۔۔
” حورین جلدی سے سعادت صاحب کو شھربانو کا بتادو ۔۔۔وہ اس وقت ہاسپیٹل میں ہے ۔۔۔ایسا نہ ہو اسے کچھ ہوجائے ۔۔۔اور ہم بہت بڑی مصیبت میں پھنس جائیں۔”
” کیا مسز ملک ہاسپیٹل میں ہیں ۔۔۔”
وہ خوف کے مارے اپنی کرسی سے اچھل کر کھڑی ہوگئی ماوتھ پیس ہاتھ سے گرتے گرتے بچا ۔۔۔پھر آس پاس نگاہیں دوڑانئ کہ کوئی دیکھ تو نہیں رہا ۔۔
” پاگل ہو اتنی بڑی بات ہوگئی ۔۔۔تم مجھے اب بتا رہی ہو ۔۔۔۔” سامنے سے سعادت کو آتا دیکھ کر وہ جان بوجھ کر اونچی آواز میں بولی تاکے سعادت سن لے ۔۔۔۔اور اسے ایسا لگے یہ سب اسے ابھی پتا چلا ہے ۔۔۔۔
” کیا ہوا ۔۔آر یو اوکے ۔۔۔۔( تم ٹھیک ہو ؟؟) ۔۔”
اس نے ایک دم سے ماوتھ پیس ڈوائس پہ ڈالا ۔۔۔” سر وہ میڈم ۔۔
اس نے جان بوجھ کر بات آدھی چھوڑی ۔۔وہ سعادت کا ری ایکشن( رد عمل ) دیکھنا چاہتی تھی ۔۔
سعادت کے چہرے پہ پریشانی کے آثار نمودار ہوئے ۔۔۔” سر وہ میڈم ہاسپیٹل میں ہے ۔۔۔
اب کی بار ردعمل آنے کی بجائے ۔۔۔سعادت ہی وہاں موجود نہیں تھا ۔۔۔وہ جس تیزی سے باہر کی طرف لپکا تھا ۔۔۔۔ایسا لگا ایک تیز ہوا کا جھونکا گزرا ہے ۔۔۔۔وہ بس وہ وہ کرتی رہ گئی ۔۔۔اور سامنے کھڑا شخص پلک جھپکتے غائب ہو چکا تھا ۔۔وہ ہکا بکا منہ کھولے کھڑی رہ گئی ۔۔۔۔
☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆
حال
مطھر کافی دیر کے بعد اپنی سوچوں کی طرف پلٹا
(۔۔”سعادت ملک کی بڑی بیٹی بھی تھی ۔۔۔۔مطلب وہ سھل نہیں ہوسکتی تھی ۔۔۔وہ شخص جس دن کا ذکر کر رہا تھا۔۔۔اس دن تو میں واپس پہنچا تھا ۔۔اور سھل تو بلکل ٹھیک اور محفوظ ہاتھوں میں تھی ۔۔۔۔ہاں واقعی یہ سعادت کی دوسری بیٹی ہوگی ۔۔۔” ) سھل نہیں کوئی اور تھی لیکن تھی تو وہ انسان اور سھل کی بہن “
وہ گویا خود سے ہمکلامی میں اپنے دل کو ڈھارس دے رہا تھا
♡♡♡♡♡♡♡♡♡
ماضی
وہ گویا اڑ کر ہاسپیٹل پہنچا تھا ۔۔
” کیا ہوا شھربانو کو ۔۔۔” اس کی سانسیں پھول رہی تھی ۔۔
سب کو وہاں موجود دیکھ کر اس کی تو جیسے جان ہی نکل گئی..
اور وہ سب سعادت کو دیکھ کر مسکرا رہے تھے ۔۔۔
” میں شھربانو کی طبعیت کا پوچھ رہا ہوں ۔۔اور آپ سب مسکرا رہے ہیں ۔۔۔ ” ان سب کو دیکھ کر سعادت کو کچھ اطمینان ہوا وہ بھی ان کو دیکھ کر جوابن مسکرا دیا ۔۔۔۔” اس کا مطلب شھربانو بلکل ٹھیک ہے ۔۔۔”
اس نے گویا خود ہی سوال کا جواب بھی ڈھونڈ لیا ۔۔۔
” جی جناب وہ بلکل ٹھیک ہے ۔۔۔اور آپ کے لیے ایک بہت بڑی خوشخبری بھی ہے ہمارے پاس ۔۔۔”
وہ دیکھ رہا تھا سحر اور ممتاز بیگم ایک دوسرے کو دیکھ کر مسکرائی تھی ۔۔۔۔
ممتاز بیگم نے ایک کاغذ اس کی طرف بڑھایا ۔۔۔۔
وہ کبھی اس رپورٹ کو تو کبھی شھربانو کو دیکھتا ۔۔۔۔جس کے چہرے پر خوشی کی بجائے غصے کے آثار نمایاں تھے ۔۔۔
☆☆☆☆♡♡♡◇◇◇◇◇◇
ہاسپیٹل سے آئے اسے ایک ہفتہ ہوچکا تھا ۔۔۔۔
اسے آج بھی وہ پہلی رات یاد تھی ۔۔۔۔اسے اس کا ہر ستم یاد آرہا تھا ۔۔
اسے یہ زبردستی کا بچہ نہیں چاہیے تھا ۔
” یہ بچا دنیا میں نہیں آئے گا ۔۔۔۔میں آج ہی ڈاکٹر سے بات کرتی ہوں ۔۔
وہ کب سے چھت کو دیکھتے ہوئے منہ ہی منہ میں بڑبڑا رہی تھی
” کیسی ہو میری جان ۔۔۔” سعادت کی آواز پر وہ چونک گئی تھی ۔۔۔۔سعادت پھر سے چھوٹے بچوں کو کھلونے ہاتھ میں لیے اس کے کمرے میں داخل ہوا ۔۔۔۔
” یہ سب کیا ہے ۔۔۔”
سعادت نے اسے سوالیہ نظروں سے دیکھا ۔
” میں نے کہا یہ سب کیا ہے بند کرو یہ ڈرامہ ۔۔۔۔مجھے یہ بچہ نہیں چاہیے ۔۔۔۔یہ بچہ مجھے تمہاری دی ہوئی ہر اذیت یاد دلاتا ہے ۔۔۔۔۔میں اس بچے کو دنیا میں نہیں لائوں گی ۔۔۔۔میں آج ہی ڈاکٹر کے پاس جائوں گی ۔۔سمجھے تم آج ہی ۔۔۔
وہ اب اٹھ کر سعادت کے سامنے ڈھیلے ڈھالے لباس میں کھڑی تھی ۔۔۔
ڈھیلے ڈھالے لباسوں سے اس کی الماری بھر دی گئی تھی ۔۔۔
” شھربانو یہ تم کیا کہہ رہی ہو تم ہوش میں تو ہو ۔۔۔۔تم!!!
۔۔ تم ۔۔۔ایسا کچھ نہیں کرو گی وہ ہماری محبت کی نشانی ہے ۔۔۔۔نہیں نہیں تم ایک معصوم کی جان کیسے لے سکتی ہو ۔۔۔تم صرف مجھے ڈرا رہی ہو ۔۔۔۔” وہ دیکھ رہی تھی ۔۔۔۔سعادت کا چہرہ ایک دم سفید پڑ گیا تھا ۔۔۔۔اور اسے اندر تک سکون محسوس ہو رہا تھا ۔۔۔۔
اسے ایسے ہی سکون ملتا تھا ۔
اسے اذیت دے کر ۔۔
◇◇◇◇◇◇◇◇◇◇◇◇◇◇
وہ عام سے لباس میں لائونج میں بیٹھی ٹی وی دیکھ رہی تھی ۔۔
جب سامنے سے اسے سعادت کے ساتھ ممتاز بیگم بھی نظر آئی ۔۔
۔” امی آج سے آپ یہیں رہیں گی ۔کسی کام کو ہاتھ نہیں لگائے گی ….کچھ بھی نہیں کرنا بس شھربانو کا خیال رکھنا ہے اور نوکروں پہ حکم چلانا ہے ۔۔۔
ہاتھ میں ممتاز بیگم کا بیگ لیے
اسے معنی خیز نظروں سے دیکھ رہا تھا ۔۔
سعادت کے چہرے پہ ایک پر سکون مسکراہٹ دیکھ کر اسے اپنا آپ اندر تک جلتا ہوا محسوس ہوا ۔۔۔ ۔۔۔
وہ اس کی آنکھوں کی زباں بخوبی سمجھ رہی تھی ۔۔۔۔نظروں ہی نظروں میں وہ اسے بہت کچھ جتا رہا تھا ۔
(“وہ کیا سمجھتا ہے امی کو لے آئے گا تو اس کا بچہ بھی دنیا میں آجائے ۔۔گا ۔۔تیری یہ مسکراہٹ بس ایک پل کی ہے ۔۔۔۔سعادت ملک ” )
” ارے شیری کن سوچوں میں گم ہو ۔۔۔۔ امی سے نہیں ملو گی ۔۔۔۔میری امی تمہاری بھی کچھ لگتی ہے ۔۔۔۔”
ممتاز بیگم کے چہرے پہ خوشی دیکھ کر اس کا دل بجھ سا گیا تھا ۔۔۔۔
” تو بھی نا بہت شریر ہوتا جا رہا ہے اب بڑا ہوجا دو بچو کا باپ بن گیا ہے ۔۔
ممتاز بیگم نے اس کا کان پکڑ لیا ۔۔۔۔” ارے نہیں آنٹی ایک بچے کا ۔۔۔(“میں جانتی تھی وہ سھل کو کبھی اپنی بیٹی نہیں مانتا ۔۔۔۔”) اس نے جھٹ سے اپنے ذہن میں ایک نتیجہ اخذ کر لیا ۔۔۔۔
وہ دیکھ رہی تھی ممتاز بیگم کے چہرے پر حیرت کے آثار نظر آئے ۔۔۔۔” ارے امی اتنی حیرت سے کیوں دیکھ رہی ہیں ۔۔فلحال تو ایک ہی بچی کا باپ ہوں ۔۔۔۔دوسرا بچہ جب دنیا میں آئے گا ۔۔۔۔اس کا باپ تو تبھی بنوں گا ۔۔۔۔”
وہ بڑے معصومیت سے کہہ رہا تھا ۔۔۔
لیکن وہ جانتی تھی ۔۔۔وہ بات گھمانے میں ہمیشہ سے قابل رہے ہیں ۔۔
☆☆◇◇◇◇◇◇◇◇◇◇◇
حال
” سنو کیا نام ہے تمہارا ۔۔۔” شھربانو اس شخص سے مخاطب تھی جس نے ان کے لیے گاڑی اور رہائش کا بندوبست کیا تھا ۔۔۔
” جی میڈم ۔۔۔” وہ اب اس کی جانب متوجہ تھا
” ہم دونوں ایک ہی کمرے میں ایڈجسٹ کر لیں گے ۔۔۔تمہیں پریشان ہونے کی ضرورت نہیں ۔۔۔”
لیکن سامنے کھڑا شخص واقعی میں اس کی اس بات پر پریشان ہوا تھا ۔۔۔۔
اس کے ساتھ سعادت بھی اچنبھے سے اسے دیکھے جا رہا تھا ۔۔۔۔
(“مجھے سعادت پر نظر رکھنی ہے ۔۔۔اس کے لیے اس کے ساتھ ایک ہی کمرے میں رہنا پڑے گا ۔۔۔۔
چاہے وہ بات میرے لیے ناقابل برداشت ہو ۔۔۔” )
وہ اب اپنے پلان کے مطابق چل رہی تھی ۔۔۔وہ کسی کو اپنے منصوبے میں شامل نہیں کر سکتی تھی اس کا راز بس اب اسی کا تھا اب اس کا کوئی ہمراز نہیں تھا ۔۔۔۔۔اسے اب کسی پر بھی بھروسہ نہیں رہا تھا ۔۔۔
” جی میڈم کمرہ ایک ہی بک کروایا ہے ۔۔۔آپ کہیں تو دوسرا “
” نہیں بس ٹھیک ہے ۔۔۔۔” اس نے گویا اس شخص سے جان چھڑائی ۔۔۔۔وہ گھر سے جس ایکمرجنسی میں نکلی تھی وی اس وقت ہینڈ بیگ کے سوا کچھ بھی نہیں لے سکی تھی ۔۔۔اس کے پاس اتنا وقت نہیں تھا ۔۔۔کہ وہ پوری تیاری سے نکلتی ۔۔۔
” شیری کچھ چاہیے تو مارکیٹ یہی قریب ہے چلیں کچھ خرید لیں ۔”
اس نے ایک نظر سعادت پہ ڈالی ۔شاید سعادت کو اندازہ ہو چکا تھا ۔۔اس کے پاس ضرورت کی کوئی بھی چیز موجود نہیں ۔۔لیکن اسے سعادت کے ساتھ جاکر شاپنگ نہیں کرنی تھی ۔۔۔۔۔” کمرہ کہاں ہے ” اس نے کمرے کا پوچھ کے ساری بات ختم کر دی
☆☆☆☆☆◇◇◇◇◇◇◇◇◇◇
وہ اسے ہمیشہ کی طرح نظرانداز کر کے آگے بڑھ گئی ۔۔۔لیکن اسے کچھ خریدنا تھا کیونکہ وہ بھی آفس سے خالی ہاتھ ہی نکلا تھا ۔۔۔اس کا رخ اب بحرین بازار کی طرف تھا ۔۔۔جیسے ہی وہ ہوٹل سے باہر نکلا ایک سرد ہوا کے جھونکے نے اس کا استقبال کیا ۔۔۔
” سر لگتا ہے آج پھر برف باری ہوگی دو دن پہلے بھی ہوئی تھی ” سعادت نے پلٹ کر اسے دیکھا تو وہ شخص کچھ دیر کے لیے خاموش ہوا جو گیسٹ ہاؤس سے مارکیٹ تک بولتا ہی جا رہا تھا ۔۔لیکن وہ دوبارہ زیادہ دیر شاید خاموش نہ رہ سکا ۔۔۔۔” ۔۔۔یہاں راستے کسی بھی وقت بند ہوسکتے ہیں سر ۔۔۔ہمیں علی الصبح یہاں سے نکلنا ہوگا ۔۔آگے کا راستہ اور بھی مشکل ہے ۔۔۔۔” وہ اب بنا رکے اپنی بات مکمل کر گیا ۔۔
مارکیٹ میں ہوٹلوں اور ریسٹورنٹ پر ہر طرف اچھی خاصی گہما گہمی تھی ۔۔۔اس نے اپنی ضرورت کی کچھ چیزیں خریدی اور کچھ شھربانو کے لیے ۔۔اسے معلوم تھا اس کی لی ہوئی چیزیں قابل قبول نہیں ہونگی ۔۔۔
☆☆☆☆◇◇◇◇◇◇◇◇◇
مارکیٹ قریب ہی تھی ۔۔۔سعادت پیدل ہی گیا تھا ۔۔۔۔اس نے جو اوور کوٹ خریدا تھا ۔۔اسے زیب تن کر لیا تھا ۔۔۔وہ بار بار سر اٹھا کر
بادلوں کی طرف دیکھ رہا تھا رات کا منظر اور کالے سیاہ بادل رات کو اور بھی سیاہ بنا رہے تھے۔۔۔ اس کے سامنے کچھ ماضی کے خوبصورت منظر چلنے لگے
( ” شیری پتا ہے ہم شادی کے بعد کہاں جائیں گے ؟؟؟۔۔۔” سامنے بیٹھی شھربانو نے بھنویں اچکا کر اس سے جواب پوچھا ۔۔۔۔۔” کسی خوبصورت وادی میں ۔۔ جہاں ۔ہلکی سی برف باری ہو ۔۔۔۔دور ۔پہاڑوں پر چاندی کی مانند برف ہی برف ہو ۔
” اور روئی کے گالوں کی طرح سے وہ آسمان سے اتر رہی ہو گویا ساری زمین پہ جیسے کسی نے سفید چادر بچھا دی ہو ۔۔۔۔وہاں بادل بھی ایسے ہو جیسے ۔۔۔۔” وہ جیسے خیالوں میں گم ہوگئی ہو ۔۔” ۔۔جیسے ؟؟؟؟ ” ۔۔۔سعادت نے ٹکڑا جوڑا ۔” جیسے میں زمین پہ نہیں آسمان پہ اڑ رہی ہوں ۔۔
سعادت جو بغور اسے دیکھ رہا تھا اس کی معصومیت پر مسکرادیا.
جاری ہے
