Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Intikam E Mohabbat by Esha Noor Episode32

Intikam E Mohabbat by Esha Noor Episode32

ماضی
وہ تقریبن دوڑتی ہوئی ۔۔مین گیٹ کی طرف بھاگی ۔۔۔
” سعادت ۔سعادت رک جائو ۔۔۔ ۔۔خدا کے لیے رک جائو ۔۔۔۔”
وہ شاید اتنا زور سے چلائی تھی کہ ممتاز بیگم بھی باہر آگئی ۔۔۔
وہ زمین پر بیٹھی زور زور سے رو رہی تھی ۔۔وہ خود نہیں جانتی تھی وہ کس خوف سے اتنا رو رہی ہے ۔۔۔
” بانو ۔۔بانو بیٹا کیا ہوا ۔۔۔تم یہاں ایسے کیوں بیٹھی ہو ۔۔۔اٹھو اندر چلو گھر کے سارے نوکروں کے سامنے اپنا تماشہ مت بنائو ۔۔۔ اٹھو وہ سب دیکھ رہے ہیں ۔۔۔۔”
لیکن اسے پرواہ کہاں تھی ۔۔ کوئی اسے دیکھ رہا ہے ۔۔۔۔اسے صرف سھل کی فکر تھی ۔۔۔۔
” امی وہ سھل کو مجھ سے چھین کر لے گیا ہے ۔۔۔وہ اسے بھی مار دے گا ۔۔۔امی وہ میرے راحیل کی نشانی کو بھی ختم کر دے گا ۔۔۔جیسے اس نے راحیل کو ختم کر دیا ۔۔۔”
وہ اب دھاڑیں مار مار کے بچوں کی طرح رونے لگی ۔۔۔اسے اپنا سانس ڈوبتا ہوا محسوس ہونے لگا ۔۔
اس کی سانس اب پھولنے لگی ۔۔۔اسے اپنا دم گھٹتا ہوا محسوس ہونے لگا ۔۔۔
وہ کچھ ہی پلوں میں دنیا سے بے خبر ہوگئی ۔۔۔۔
☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆
” نہیں امی میں اب سھل کو گھر نہیں لائوں گا ۔۔۔۔سارا دن شھربانو سھل کے پیچھے بھاگتی رہتی ہے ۔۔۔نا کھانے کا ہوش نا پینے کا ۔۔۔”
سعادت کو اپنے گھر سے دو دن میں متعدد بار کالز آچکی تھی ۔۔۔۔۔
لیکن وہ سھل کو گھر لے جانے پر ہر گز راضی نہیں ہو رہا تھا ۔۔۔
وہ اسے کسی انجان جگہ لے گیا تھا جس سے نا شھربانو واقف تھی ۔۔نا ممتاز بیگم ۔۔۔
وہ خود ہی گھر رابطہ کرتا تھا ۔۔۔۔کیونکہ جس جگہ وہ سھل کو لے گیا تھا ۔۔۔وہاں لینڈلائن کی سہولت دستیاب نہیں تھی ۔۔۔
” تم میری بچی کو گھر لے کر آئو ۔۔۔ورنہ میں پولیس اسٹیشن چلی جائوں گی ۔۔۔۔وہاں تمہارے خلاف ایف آئی آر درج کروائوں گی ۔۔۔دیکھتی ہوں کیسے ایک ماں کو بیٹی سے الگ کر سکتے ہو ۔۔۔۔۔”
شھربانو سامنے سے چلا رہی تھی ۔۔۔لیکن اسے اب صرف اپنے آنے والے بچے کی فکر تھی ۔۔۔
” جو کرنا ہے کر لو ۔۔۔میں سھل اب واپس نہیں لائوں گا جب تک میرا بچا اس دنیا میں نہیں آجاتا ۔۔۔۔”
وہ اٹھ کر فارم ہاوس کے کمرے کی کھڑکی کے پاس کھڑا ہوگیا ۔۔۔۔
جہاں بارش زور سے آکر ان کانچ کی دیواروں سے ٹکرا رہی تھی ۔۔۔۔
” اگر یہی شرط ہے تو میں اس بچے کو دنیا میں کبھی نہیں لائوں گی ۔۔۔۔”
اس سے آگے وہ کچھ کہتی ۔۔۔اس کا صبر جواب دے گیا ۔۔۔
” تم نے ایسا کچھ کیا تو یاد رکھنا ۔۔سھل کو تم زندگی بھر نہیں دیکھ پاوں گی ۔۔۔۔۔۔جس طرح میرا بچا نہیں رہے گا تمہارا بچہ بھی اس دنیا میں نہیں رہے گا ۔۔۔”
” نہیں سعادت ۔۔۔۔نہیں خدا کے لیے سھل کو کچھ مت کرنا ۔۔۔۔۔میں وہی کروں گی جو تم کہو گے ۔۔۔۔۔خدا کے لیے تم اسے میرے پاس مت لائو پر اسے کچھ مت کرنا ۔۔
وہ ایک خوفناک ماضی کے پل سے اچانک حال میں آگئی ۔۔۔۔نا ہموار راستوں کی وجہ سے اس کا سر بار بار کھڑکی سے ٹکرا جاتا ۔۔
” اور کتنی دیر لگے گی خان بابا ۔۔۔”
وہ کھڑکی کے باہر ان خوبصورت مناظر کو دیکھنے لگی ۔۔۔۔
” بس آدھا گھنٹہ اور لگے گا ۔۔۔برف باری کی وجہ سے راستے میں پھسلن زیادہ ہوگیا ہے ۔۔
گاڑی ۔آہستہ چلانا پڑ رہا ہے ۔”
وہ اسے دیر سے پہنچنے کی وجہ بتانے لگا ۔۔۔
” کوئی بات نہیں خان بابا میں سمجھ سکتی ہوں ۔۔۔”
اندر کی بے چینی کو بہت مشکل۔سے وہ پارٹی اپنے اندر چھپا سکی تھی ۔۔
☆☆♡♡♡♡♡◇◇◇◇◇
سھل کو فلو ہوگیا تھا ۔۔۔اور اسے ڈاکٹر کافی کچھ سنا کہ جا چکا تھا ۔۔۔
وہ اب منہ پھلائے گھٹنوں میں سر دیے اسی کیمپ نما کمرے میں بیٹھی تھی ۔۔۔
” میرے پاپا ابھی تک نہیں آئے ۔۔۔۔” نرس کو دیکھتے ہی وہ جو کبھی نا بولنے کا عہد کیے بیٹھی تھی ایک دم سے بول پڑی ۔۔۔۔۔
” وہ پہنچ چکے ہیں باہر کچھ کاغذی کاروائی مکمل۔کر رہے ہیں ۔۔۔۔”
سھل کو لگا اس نے ٹھیک سے سنا نہیں ۔۔
” کیا میرے پاپا پہنچ گئے ہیں ۔۔۔
وہ ناک پہ ٹشو رکھے جلدی جلدی بیڈ سے اترنے لگی ۔۔۔۔
ناک فلو کی وجہ سے سرخ ہو رہا تھا ۔۔۔
وہ کچھ ہی دیر میں ٹشو کا ڈھیر لگا چکی تھی ۔۔۔
” ایک منٹ تم کہاں جا رہی ہو ۔۔۔۔”
اس نے پلٹ کر نرس کو دیکھا ۔۔۔۔
” اپنے پاپا کے پاس ۔۔۔”
وہ حیرت زدہ سی ہوکر بولی ۔۔۔۔۔
” نہیں سر آپ کو جب تک اجازت نہیں دیں گے آپ باہر نہیں جا سکتی ۔۔۔آپ جب تک اس کیمپ میں ہے ہماری اجازت کے سوا کہیں نہیں جا سکتی ۔۔۔آپ کی حفاظت اس وقت ہمارے ذمیداری ہے ۔۔۔۔بنا کسی تصدیق کے آپ کو کسی کے حوالے نہیں کیا جا سکتا ۔۔۔”
وہ منہ کھولے اس نرس کی باتیں سن رہی تھی ۔۔۔۔جو ایک ٹرینڈ آفیسر کی طرح بول رہی تھی ۔۔
” کیا مطلب میں کوئی قیدی ہوں ۔۔۔۔کہ میں ۔۔۔”
” آپ ایک مغوی ہے ۔۔۔۔”
وہ یہ کہہ کر باہر چلی گئی ۔۔۔وہ منہ کھولے اسے جاتا دیکھتی رہ گئی۔۔۔۔
” یہ سب کیا تھا ۔۔۔۔”
وہ خود سی ہی سوال کرنے لگی ۔
☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆
سعادت وہاں پہنچ تو چکا تھا لیکن اسے ابھی تک سھل سے ملنے نہیں دیا جا ریا تھا ۔۔۔۔ان کی کاغذی کاروائی کافی ٹف تھی ۔۔۔
ان سے بس چند سوال کیے گئے تھے ۔۔۔۔ویسے بھی وہ کوئی عام شخصیت نہیں تھا ۔۔۔وہ ایک نامی گرامی شخص تھا ۔۔۔
اس سے سب ہی واقف تھے ۔۔۔۔
تقریبا ایک گھنٹے بعد سعادت سھل کو لے کر آگئے تھے ۔۔۔۔
سھل۔اسے دیکھتے ہی دوڑ کر اسے لپٹ گئی بلکل ایک چھوٹے سے بچے کی طرح ۔۔۔۔
سعادت بھی سھل سے ۔پہلی بار اتنے دن تک دور رہا تھا ۔۔۔نا چاہتے ہوئے بھی اس کی آنکھیں بھیگنے لگی ۔۔۔
اسے کبھی سھل۔سے بے پناہ اپنائیت محسوس ہوتی اور کبھی اسے وہ بلکل بیگانی لگتی ۔۔
لیکن وہ یہاں زیادہ دیر رکنا نہیں چاہتا تھا ۔۔۔
وہ اسے جلد ازجلد شھربانو کے پاس لے جانا چاہتا تھا ۔
۔۔وہ سب تلخیاں غلط فہمیاں ختم کرنا چاہتا تھا وہ سب کچھ سھل۔کو بتانے آیا تھا ۔۔۔وہ تھک چکا تھا ۔۔۔۔
اس کے لیے اسے اکیلے میں سھل۔سے بات کرنی تھی وہ جانتا تھا ۔۔۔شھربانو اس کی بات نہیں سنے گی لیکن سھل اس کی بات ضرور سنے گی ۔۔۔۔
وہ سھل کو لے کر جانے کے لیے مڑا تو پیچھے سے آفیسر نے اسے تنبیہہ کی ۔۔” سر خیال رکھیے گا ۔۔۔اغوا کرنے والے اب بھی یہی آس پاس موجود ہوسکتے ہیں ۔۔۔آپ کو محتاط رہنا پڑے گا ” ۔۔
وہ مسکرایا ۔۔۔” نہیں ایسی کوئی بات نہیں ہم جانتے ہیں اغوا کرنے والے کون تھے ۔۔۔۔” اس نے گویا سرگوشی کی ۔۔۔
☆☆☆☆◇◇◇◇◇◇◇◇◇
اس کی جیپ آرمی کیمپ کے قریب آکر رکی ۔۔” خان بابا ۔۔آپ یہی رکے میں بس پندرہ منٹ میں واپس آتی ہوں ۔۔
” اچھا بی بی لیکن رات تم کو ادھر ہی کسی گیسٹ روم میں رکنا پڑے گا ۔۔” ۔۔۔اس نے اثبات میں سر ہلایا اور آرمی کیمپ کی جانب بڑھ گئی ۔۔۔۔ضروری پوچھ گچھ کے بعد اسے اس ممنوعہ جگہ جانے کی اجازت ملی ۔۔۔۔
وہ قریب آکر سیکیورٹی پہ معمور سپاہی کے مقابل کھڑی تھئ ۔۔۔” میں مسز سعادت ملک مجھے معلوم ہوا ہے میری بیٹی سھل سعادت ملک یہی پر موجود ہے ۔۔۔مجھے آپ کے آفیسر سے ملنا ہے ۔۔۔۔” سیکیوریٹی پہ معمور سپاہی نے سر تا پیر کن انکھیوں سے اس کا جائزہ لیا ۔۔۔۔
ایک سپاہی کو پاس آنے کا اشارہ کیا اور جو کچھ اس نے کہا تھا وہی سب دہرا کے اسے اندر بھیجا ۔۔۔۔
وہ اب کھڑی اندر گئے سپاہی کی واپسی کا انتظار کرنے لگی ۔۔۔۔
وہ سپاہی پانچ منٹ سے پہلے ہی واپس آگیا تھا ۔۔۔
” اس لڑکی کو اپنے والد اپنے ساتھ لے گئے ہیں ۔۔۔۔”
شھربانو کا اپنے پیروں پر کھڑے ہونا مشکل۔ہو رہا تھا۔۔۔
اس نے ایک دم سے دیوار کا سہارا لیا ۔۔۔
” یہ آپ کیا کہہ رہے ہیں آپ کیسے میری بیٹی کو کسی کے ساتھ جانے کی اجازت دے سکتے ہیں ۔۔۔”
وہ شاید اتنا زور سے بولی تھی اندر بیٹھا آفیسر باہر آگیا تھا ۔۔۔
” جی محترمہ کیا مسئلہ ہے آپ کا آپ کیوں شور مچا رہی ہیں ۔۔
اس سوال کا جواب اس کی بجائے پاس کھڑے سپاہی نے دیا ۔۔۔” سر یہ وہی عورت جس کے بارے میں ہم نے ابھی آپ کو مطلع کیا تھا ۔۔۔”
سپاہی کی بات پر اس آفیسر نے بغور اس کا جائزہ لیا ۔۔۔
” محترمہ آپ کی بیٹی کو آپ کے شوہر کے حوالے کر دیا گیا ہے ۔۔۔۔ اور وہ بلکل سہی سلامت اپنے والد کے ساتھ جا چکی ہیں ۔۔۔
اس کا اب وہاں رکنا بیکار تھا ۔۔۔۔
وہ تیزی سے واپس پلٹی ۔۔۔۔اسے وہ گاڑی کراس کرتے کیوں نظر نہیں آئی ۔۔۔۔
” خان بابا واپس چلیں ۔۔۔” وہ ہانپتی ہوئی گاڑی میں آکر بیٹھی
۔۔۔☆☆☆☆☆☆☆☆☆
مطھر اسی شہر میں رہ کر سھل کا انتظار کرنا چاہتا تھا ۔۔۔لیکن اب اس کے لیے یہ ممکن نہیں تھا ۔۔۔۔
وہ پاکستان میں تھے یا نہیں ۔۔۔وہ یہ بھی نہیں جانتا تھا ۔۔
۔۔فلحال اسے اپنی فیملی کو کسی محفوظ مقام پر منتقل کرنا تھا ۔۔۔تاکے وہ ان کی نظروں میں نہ آسکے ۔
۔۔جب سھل واپس آجائے گی تو سارے مسئلے ہی حل ہوجائیں گے
۔تب تک اسے ان سب کی نظروں سے چھپ کر رہنا تھا ۔وہ اب اسی انتظار میں تھا
۔۔کہ کب سھل۔واپس آئے کب اس کی جان آزاد ہو ۔۔۔۔
وہ اب اپنا اور سھل کا شہر چھوڑ کے جا رہا تھا ۔
۔۔۔کیا وہ کبھی پھر سھل سے مل پائے گا ۔۔۔۔
اسی احساس نے اس کی جان نچوڑ کہ رکھ دی تھی ۔۔۔۔
☆☆☆◇◇◇◇◇◇◇◇◇◇◇
اس نے اپنے پرس کو پھر سے چیک کیا اسے میں لوڈڈ پسٹل موجود تھا ۔۔۔” بس بہت ہوگیا سعادت اب یا تو نہیں یا میں ۔۔۔” وہ منہ ہی منہ دانت پیس کر بڑبڑائی ۔۔۔
” کچھ کہا بی بی ۔۔۔؟؟”
ڈرائیور نے شاید اس کی سرگوشی سن لی تھی ۔۔۔
” نہیں خان بابا ۔( شکر ہے اس نے سنا نہیں ۔۔
” بی بی تیرے شوہر کا کچھ پتا چلا ۔۔۔۔؟؟
وہ یہ بات تو بھول ہی گئی تھی کہ وہ کس طرح اس خان بابا کو راضی کر کے آئی تھی ۔۔۔
” نہیں خان بابا “
وہ اس سے زیادہ اور کچھ کہہ بھی نہیں سکتی تھی ۔۔۔
وہ بار بار آس پاس دیکھ رہی تھی ۔۔۔اس کے ذہن میں بار بار یہی خیال آرہا تھا سعادت سھل کو مارنے کے لیے ہی اکیلا لے کے گیا ہئ ۔۔اور اسے کسی بھی طرح اپنی بیٹی کو بچانا ہے ۔۔۔
کچھ فاصلا طے کرتے ہی
ایک پہاڑ کے نیچے اسے جیپ نظر آگئی تھی ۔۔۔
” خان بابا گاڑی روکے ۔۔۔” اس نے جس طرح چلا کے کہا تھا ۔۔۔ڈرائیور کو گاڑی روکنی ہی پڑی ۔۔۔۔
” کیا ہوا بی بی ۔۔۔”
لیکن بتانے کا ٹائم کس کے پاس تھا ۔۔۔۔۔
☆☆☆☆☆♡♡♡♡♡♡♡♡
کچھ دیر پہلے
” پاپا ماما نہیں آئی آپ کے ساتھ ۔۔۔۔۔میں اتنے دن سے اغواکاروں کی قید میں تھی ۔۔۔!!!!۔۔۔وہ تب بھی مجھے لینے نہیں آئی ۔۔۔”
سھل نے اپنی شال شانوں پر ٹھیک کی ۔۔۔ایک اور ٹشو نکال کر ناک رگڑنے لگی ۔۔
” وہ آئی ہے میں اسے بحرین کے گیسٹ ہاوس میں ہے میں سویرے ہی نکل آیا تھا اسے بنا بتائے ۔۔۔۔” وہ سامنے دیکھتے ہوئے سرد لہجے میں کہہ رہا تھا ۔
” ۔۔۔تاکے میں تجھ سے اکیلے میں بات کر سکوں ۔۔۔۔میں جانتا ہوں تم میری بات سمجھو گی ۔۔۔۔میں تھک چکا ہوں اس مقابلہ بازی سے ۔۔۔مجھے بھی ریسٹ چاہیے ۔۔۔”
سعادت کی آواز رندھنے لگی تھی
سھل نے پہلی مرتبہ سعادت کے منہ سے ایسی باتیں سنی تھی ۔۔۔
” کیا ہوا پاپا ۔۔۔”
سھل کو سعادت کی باتوں سے گھبراہٹ ہونے لگی ۔۔۔
” میں تمہیں سب باتیں سچ سچ بتانا چاہتا ہوں ۔۔۔۔اور تم خود فیصلہ کرنا قصور وار کون ہے ۔۔۔۔میں نہیں جانتا کس کی زندگی میں اگلا پل آئے گا یا نہیں ۔۔۔۔”
وہ کچھ دیر خاموشی سے اسے دیکھنے لگی ۔۔۔وہ مسلسل سامنے دیکھ کر گاڑی چلا رہا تھا ۔۔۔
” کیا باتیں بتانی ہے آپ کو ۔۔کیا میری ماما پاپا کا ماضی اتنا بھیانک ہے کیا ۔۔۔؟؟؟”
وہ سھل کو پرانی ساری باتیں بتانے لگا ۔۔۔۔” میں نے تمہارے بابا کو نہیں مارا تھا ۔۔۔۔”
☆☆☆☆☆☆◇◇◇◇◇◇◇◇
اسے اچانک سے گازی میں گھٹن محسوس ہونے لگی ۔۔۔
” کیا ہم کھلی ہوا میں بات کر سکتے ہیں ۔۔۔۔”
اس نے سھل کے سامنے ایک تجویز رکھی تھی ۔۔
“کیا ہوا پاپا آپ ٹھیک تو ہیں ۔۔۔”
اس نے ایک پہاڑ کے دامن میں گاڑی روکی ۔۔۔کچھ دیر پر سوچ انداز میں گاڑی کہ ہینڈل پہ سر رکھے خاموشی سے بیٹھا رہا ۔۔۔۔۔۔دوسری طرف سے سھل بھی گاڑی سے اتر آئی تھی ۔۔۔سعادت گاڑی سے اتر کر
وہی گاڑی کے سہارے کھڑا ہوگیا ۔۔۔۔وہ ایک دم سے خود کو بوڑھا محسوس کرنے لگا ۔۔۔۔
” پاپا یہ جگہ کتنی خوبصورت ہے ۔۔” سھل پہاڑ پہ چڑھنے لگی ۔۔۔
وہ بھی خاموشی سے اس کے پیچھے ہولیا ۔۔
چند قدم چلنے پر سعادت کی سانس پھولنے لگی ۔۔۔۔
” سھل کچھ دیر بیٹا یہی بیٹھ جاتے ہیں ۔۔۔۔”
سھل عجیب نظروں سے اسے دیکھنے لگی ۔۔۔۔۔جیسے اسے یقین نہ آ رہا ہو کہ یہ سب سعادت ملک کہہ رہا ہے ۔۔۔۔
” پاپا میں دو مہینے کیا دور ہوئی آپ تو بلکل بوڑھے ہوگئے ہیں ۔۔یاد ہے آپ ہائینکنگ میں ہمیشہ مجھ سے آگے نکل۔جاتے تھے ۔۔۔۔ابھی چار مہینے پہلے کی تو بات ہے ۔۔۔۔”
وہ اس بات پہ مسکرا کہ کھڑا ہوگیا ۔۔۔۔
☆◇◇◇◇◇◇◇◇◇◇◇◇◇
” سھل بیٹا میں ایک شرط پہ تمہارے ساتھ اوپر تک جائوں گا تمہیں میری پوری بات سننی پڑے گئ۔۔۔”
وہ پھر سے مسکرا کہ اسے دیکھنے لگی ۔۔۔لکڑی کی مدد سے دو قدم اور اوپر چڑھ گئی ۔۔۔
” جی پاپا ضرور سنوں گی بشرط کہ آپ کی کہانی بور نہ ہو ۔۔۔”
وہ سب کچھ سھل کو بتانے لگا ۔۔۔۔سوائے ان باتوں کے جو سھل کو بتانا اسے مناسب نہیں لگا ۔۔۔۔
” سھل میں نے آپ کے پاپا کو نہیں مارا ۔۔۔”
میرے پاپا صرف آپ ہیں ۔۔۔”
وہ دیکھ رہا تھا اس بات پہ سھل کی آنکھیں بھیگی تھی ۔۔۔۔” سھل میں نے راحیل کو نہیں مارا ۔۔۔نجانے کیوں تمہاری امی کو!!!!۔۔۔۔ یہ کیوں لگتا ہے یہ سب میں نے کیا ہے ۔۔۔۔وہ مجھ سے اسی بات کو لے کر ہمیشہ نفرت کرتی رہی ۔۔۔۔۔میں ان دونوں کی شادی کے بعد ان کے بیچ نہیں آنا چاہتا تھا ۔۔۔۔لیکن نجانے قسمت ہمیں کیوں بار بار سامنے لے آتی تھی ۔۔۔وہ حملہ ۔۔۔!!”
وہ پھر سے کچھ پل خاموش ہوا ۔۔۔۔
تو سھل پھر سے تین چار قدم اور اوپر پہاڑ پہ چڑھ گئی ۔۔۔۔
” سھل بس کرو اور کتنا اوپر جانا ہے ۔۔۔۔”
اس نے پلٹ کر اسے دیکھا ۔۔۔” پاپا آپ اپنی بات پوری کریں ۔۔۔”
نجانے سھل کی بات میں کیسا طنز چھپا تھا ۔۔۔
” وہ حملہ میں نے ہی کروایا تھا ۔۔
اس بات پہ سھل لڑکھڑائی ۔۔۔” سھل سنبھل کہ ۔۔۔بیٹا ۔۔۔” لیکن وہ خاموشی سے تیز تیز اوپر چڑھنے لگی ۔۔۔
” وہ حملہ صرف ایک دکھاوا تھا ۔۔۔۔تاکے یہ ثابت کر سکوں ۔۔۔کہ تمہاری جان کو خطرہ ہے ۔۔۔اور میں نے تمہارے نام جو انشورنس کروایا تھا ۔۔۔وہ ختم کرواسکوں ۔۔۔”
کچھ پل کے لیے اس نے دیکھا سھل کہ قدم ٹھہر گئے تھے ۔۔۔۔۔
وہ اس کی طرف غصے سے دیکھ رہی تھی ۔۔۔۔
سھل پھر سے تیزی سے اوپر چڑھنے لگی ۔۔۔
” سھل بیٹا بس کرو ۔۔۔آگے بہت خطرناک چڑھائی ہے ۔۔۔۔” وہ بھی اس کے پیچھے چڑھنے کی کوشش کرنے لگا ۔۔۔۔
“سھل یہ خط تمہاری امی کو دینا ۔۔۔۔ہوسکتا ہے ہماری راہیں اب جدا ہوجائے ۔۔۔میں نے تم دونوں کے نام اتنا کچھ کر دیا ہے تم دونوں پوری عمر سکون سے بیٹھ کر کھا سکتی ہو ۔۔۔”
سھل نے اس سے وہ خط جھپٹنے والے انداز میں لیا ۔۔۔۔۔
وہ دونوں چڑھائی چڑھ کہ ایک ہموار چوٹی پر خاموش کھڑے تھے ۔۔
☆☆☆☆☆◇◇◇◇◇◇◇♡◇◇◇
ماضی
وہ سھل کو پورے ایک ہفتے بعد گھر لے کر آیا تھا ۔۔۔۔
شھربانو نجانے کتنی دیر تک اس سے لپٹی رہی ۔۔۔۔
” میں اب اپنی جان کو ایک پل کے لیے بھی کہیں جانے نہیں دوں گی ۔۔۔۔”
وہ کب سے اس ماں بیٹی کا پیار دیکھ رہا تھا ۔۔۔
لیکن وہ ایک ہفتے تک اس چھوٹی معصوم بچی کا کسی حد تک برین واش کر چکا تھا ۔۔۔۔۔
وہ دیکھ رہا تھا ۔
۔۔وہ بار بار گال صاف کرتی اور شھربانو کے ہاتھ دور ہٹاتی یہ سب دیکھ سعادت کو انجانی خوشی مل رہی تھی ۔۔۔۔
” لیکن سھل تو اب پاپا کے ساتھ رہے گی ۔۔۔کیوں بیبی ؟؟؟”
وہ چھوٹی سی بچی سر ہاں میں زور زور سے ہلانے لگی ۔۔۔۔
شھربانو حیرت سے اسے دیکھ رہی تھی ۔۔۔جیسے ہی اس نے بانہیں کھولی وہ بھاگ کر اس سے لپٹ گئی ۔۔۔
“ماما گندی ہے ۔۔۔۔ماما کے پاس جراثیم ہیں ۔۔۔ماما گندی ہے ۔۔۔”
شھربانو کی آنکھیں پھٹی کی پھٹی رہ گئی اور سعادت سھل کو لے کر اپنے کمرے میں چلا گیا ۔۔۔۔۔
☆☆☆☆☆♡◇◇◇◇◇◇◇◇◇◇◇
حال
جس طرح کی جیپ سعادت نے کرائے پر کروائی تھی بلکل ویسی ہی جیپ اسے پہاڑ کے دامن میں کھڑی نظر آئی ۔۔۔۔
اسے اپنے شک کو یقین میں بدلنے کے لیے نیچے اتر کر جیپ کے پاس جا کر تصدیق کرنی تھی ۔۔۔کہ گویا یہ وہی جیپ ہے جو سعادت نے کرائے پر لی تھی یا کوئی اور ۔۔۔۔۔اسے کنفرم کرنا زیادہ مشکل کام نہیں تھا ۔۔۔۔
اگر یہ جیپ سعادت کو ہوئی ۔۔۔تو اس کا بریف کیس ضرور گازی میں ہوگا جس کو وہ ہمیشہ اپنے ساتھ رکھتا تھا ۔۔۔
اور وہی ہوا جس کا اسے ڈر تھا ۔۔
۔جیپ سعادت کی ہی تھی ۔
۔لیکن آس پاس اس کا کوئی اتا پتہ نہیں تھا ۔۔۔۔
” بولیں میڈم کوئی کام ہے ۔۔؟؟؟” ایک مردانہ آواز بلکل قریب سے آئی ۔۔۔اس نے پیچھے پلٹ کر بھی نہ دیکھا۔۔۔۔” اس گاڑی میں جو شخص تھا۔۔۔”
وہ بلکل ایک غیرارادی سی کیفیت میں تھی ۔۔۔کسی انجانے خوف نے اسے بلکل شل کر کہ رکھ دیا تھا۔۔۔۔۔” جی سر اور وہ لڑکی ہائیکنگ کرنے گئے ہیں ۔۔۔”
اس کی بات سن کر وہ تیزی سے مڑی ۔۔۔
” نہیں سعادت نہیں ۔۔۔سھل کو کچھ مت کرنا ۔۔۔۔”
اس کا گلا بلکل خشک ہوچکا تھا ۔۔۔ایسا لگ رہا تھا اس نے کوئی کانٹا نگلا ہو جو حلق میں جا کر پھس گیا ہے ۔۔
وہ پاگلوں کی طرح ایک طرف سے چڑھنے لگی ۔۔۔۔
” میڈم وہ لوگ اس طرف نہیں اس طرف گئے ہیں ۔۔۔” اس شخص نے دوسری طرف اشارہ کیا ۔۔۔۔
☆☆☆☆◇◇◇◇◇◇◇◇◇◇
۔سھل غصے میں کافی اوپر تک آگئی تھی ۔۔۔
اس سے اتنا سب کچھ چھپایا گیا ۔۔اسے تو ہمیشہ یہی لگتا تھا ۔۔اس کا باپ ایک مصروف شخص ہے ۔۔۔۔جس کو اس کی ماں ( شھربانو) کبھی سمجھ ہی نہیں سکی ۔۔۔۔۔۔۔وہ اکثر اپنی ماں کو خفا خفا دیکھتی ۔۔۔۔۔لیکن وہ شھربانو سے زیادہ سعادت کے قریب رہی تھی ۔۔۔
اب بھی اسے سمجھ نہیں آرہا تھا ۔۔۔وہ سعادت کی کس بات کا یقین کرے اور کس کا نہیں ۔۔۔۔
” سھل تم جانتی ہوں تمہارے اغوا کے پیچھے کس کا ہاتھ تھا ۔۔۔۔”
سھل اپنی سوچ سے باہر آئی ۔۔۔
اور سوالیہ نظروں سے سعادت کی جانب دیکھا ۔۔۔
” شھربانو کا ۔۔۔۔”
پاپا بس کریں ۔۔۔میری ماما اتنی بھی بری نہیں ہے ۔۔۔وہ مجھے کیوں اغوا کرائے گی ؟؟؟۔۔۔۔”
اس نے بات ابھی مکمل ہی نہ کی تھی ۔۔۔جواب اسے مل گیا تھا ۔۔” میرے ڈر سے ۔۔۔۔”
اس نے پھر حیرت سے اپنے والد کی جانب دیکھا ۔۔۔
” اسے یہی ڈر تھا میں تمہیں مار دوں گا۔۔۔ ۔اس ڈر سے تمہیں مجھ سے چھپانے کے لیے ۔۔۔اسنے تمہیں اغوا کروایا ۔۔۔”
سھل نے غصے میں مٹھیاں بھینچ لی ۔۔
” میں کیا بچی تھی ۔۔۔وہ مجھے کچھ تو بتاتی ۔۔۔۔مجھے اپنے اعتماد میں تو لیتی ۔۔۔یہ سب اتنے دن ۔۔۔”
اس نے سر گھٹنو پہ رکھ لیا ۔۔۔۔۔اور آنکھیں بند کر لی اسے محسوس ہوا کوئی اس کے پاس آکر بیٹھا ہے ۔۔۔
” پاپا آپ چلیں جائیں ۔۔۔۔مجھے آپ دونوں سے کوئی بات نہیں کرنی ۔۔۔۔میں اب آپ دونوں کے ساتھ نہیں رہ سکتی ۔۔۔۔پلیز آپ چلے جائیں مجھے آپ کے ساتھ نہیں جانا ۔۔۔
اس نے چہرے کا رخ دوسرئ طرف کر لیا ۔۔
” نہیں میں تمہیں ایسے نہیں چھوڑ سکتا ۔۔۔۔چلو میرے ساتھ ۔۔۔”
وہ اسے ہاتھ سے پکڑ کر اٹھانے لگا لیکن وہ بار بار ہاتھ چھڑانے لگی ۔۔۔
اچانک ایک زوردار گولی کی آواز فضا میں گونجی ۔۔۔۔اس کے والد کا ہاتھ اس کے ہاتھ میں کانپ کر رہ گیا ۔۔۔
۔۔☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆
ان دونوں کو دوسرا دن تھا ۔۔۔وہ ہاسپیٹل میں ایمرجنسی کے باہر بیٹھی تھی ۔۔۔۔
نرس کو باہر آتا دیکھ ۔۔سھل۔تیزی سے اس کی جانب لپکی ۔۔۔
” کیسی طبعیت ہے پاپا کی ۔۔۔۔”
” ابھی کچھ کہا نہیں جا سکتا ۔۔۔مجھے لگتا آپ دونوں کو گھر جانے کی ضرورت ہے ۔۔۔کوئی مسئلہ ہوا تو ہم آپ کو مطلع کر دیں گے ۔۔۔
وہ نرس شاید اس کے خون آلود کپڑے اور بکھرے ہوئے بال دیکھ رہی تھی ۔۔۔اس کی حالت اتنی خراب تھی ۔۔۔۔وہ خود کو بھی پہچان نہیں پا رہی تھی ۔۔۔۔
اسے اس وقت سب سے زیادہ مطھر کی ضرورت محسوس ہو رہی تھی ۔۔۔۔وہ کہاں تھا ۔۔۔اگر اسے شھربانو نے اغوا کروایا تھا ۔۔۔تو وہ ضرور جانتی ہوگی مطھر کے بارے میں ۔۔۔لیکن شھربانو کی حالت ایسی نہ تھی کہ کوئی اس سے کوئی سوال کرتا ۔۔۔وہ ہاتھوں میں سعادت کا خط پکڑے بت بنی بیٹھی تھی ۔۔۔۔۔
جیسے اس کے وجود میں جان ہی نہ باقی ہو ۔۔۔۔
اس کے پاس کوئی موبائل نہ تھا اس وقت اور اس کے دوستوں کے نمبر اسے یاد ہی نہیں تھے ۔۔۔۔اسے جن کے نمبر یاد تھے ۔۔ایک بیڈ پہ تھا دوسری نیم مردہ حالت میں اسکے سامنے بیٹھی تھی ۔۔۔
کوئی نہیں تھا ان کے پاس ۔
۔۔شھربانو کا موبائل بھی نجانے کہاں رہ گیا تھا ۔۔
۔سعادت کا موبائل تو کرچی کرچی ہوگیا تھا ۔۔۔جس طرح اس کا وجود ہو چکا تھا ۔۔۔۔
لیکن اسے سامنے ایک جانا پہچانا شخص نظر آگیا تھا ۔
۔۔”یہ سب کیسے ہوا چھوٹی بی بی ۔۔۔؟؟
اس نے بس نفی میں سر ہلایا جیسے وہ کچھ نہیں جانتی ۔۔۔۔لیکن سامنے کھڑا شخص مشکوک نظروں سے اسکی ماں کی جانب دیکھ رہا تھا ۔۔۔
” آپ لوگ گھر جائیں تھوڑی دیر ریسٹ کریں ۔۔۔میڈم کی حالت بہت زیادہ خراب لگ رہی ہے ۔۔۔”
سھل نے غصے سے اس کی جانب دیکھا ۔۔
☆☆☆☆☆◇◇◇◇◇◇◇◇
چھتیس گھنٹے پہلے ۔۔۔
گولی کی آواز نے پہاڑوں کی خاموشی کو لرزا کر رکھ دیا ۔تھا ۔۔۔اس کے ہاتھ میں جو ہاتھ تھا وہ لرز رہا تھا ۔۔۔قریب ہوتا وہ کھاہی میں گرجاتا ۔۔۔اگر اسے سھل نا تھام لیتی ۔۔۔۔
” پاپا ۔۔پاپا ۔۔۔” اس کے الفاظ اس کے منہ تک ہی رہ گئے ۔۔۔اس کے پاپا کا خون اس کے ہاتھ بھی رنگ رہا تھا ۔۔۔۔
کچھ پل کے لیے اسے گویا سکتہ ہو گیا ۔۔۔
ایک جیتے جاگتے انسان کے چہرے پر موت جیسی زردی پھیل گئی تھی ۔۔۔۔
اس سفاک شخص کو دیکھناچاہا ۔۔۔کوئی اتنا بھی سفاک ہوسکتا تھا ۔۔۔کسی کو جان سے ہی مار دے
۔۔جس نے اس کے والد کو موت کہ منہ تک پہنچا دیا تھا ۔۔۔
وہ کوئی اور نہیں اس کا اپنا تھا ۔۔۔۔
☆☆☆☆☆◇◇◇◇◇◇◇◇◇
حال
وہ سھل کے ساتھ گھر آگئی تھی ۔۔۔۔عجیب سی وحشت تھی گھر میں ۔۔۔جس گھر میں نوکروں کی چہل پہل شھربانو اور سعادت کی آواز گونجتی تھی ۔وہاں ایک ۔عجیب سا سناٹا تھا ۔۔۔
ایسا لگتا تھا ۔۔۔دیواریں دوڑ کر اسے دبوچ لیں گی ۔۔۔۔
اس نے اپنے ہاتھوں کی طرف دیکھا ۔۔۔اسے اپنے ہاتھوں سے خون بہتا ہوا نظر آنے لگا ۔۔۔۔
” نہیں میں نے کچھ نہیں کیا ۔۔۔۔میں نے جان بوجھ کر کچھ نہیں کیا ۔۔۔
وہ زور زور سے چلانے لگی
☆☆◇◇◇◇◇◇◇◇◇◇◇
سھل اپنی ماں کو لےکر گھر پہنچی ۔۔۔چوکیدار نے دوڑ کر دروازہ کھولا ۔۔۔۔
وہ دونوں زمان کے ڈرائیور کے ساتھ گھر آئی تھی ۔۔۔
زمان نے پہلے ہی گھر کے ایک دو نوکروں کے سوا سب کو چھٹی دے دی تھی ۔۔۔
وہ شھربانو کودیکھ رہی تھی جس کے چہرے پر خوف کے سائے لہرا رہے تھے ۔۔۔۔
” ماما آپ نے اچھا نہیں کیا ۔۔۔بہت برا کیا پاپا کے ساتھ اگر پاپا کو کچھ ہوا تو میں خود کو اور آپ کو کبھئ معاف نہیں کروں گی ۔۔۔۔”
وہ ایک دن پہلے کتنی خوش تھی ۔۔۔وہ اپنے گھر آ رہی تھی ۔۔۔لیکن اس کی خوشی کو تو کسی کی نظر لگ گئی ۔۔۔سب کچھ تہس نہس ہوگیا ۔۔۔۔
اپنی ماں اور باپ کے بارے میں سن کے ۔۔۔اس کا وجود کرچی کرچی ہوگیا تھا ۔۔۔
وہ شھربانو کو وہی لائونج میں چھوڑ کر اپنے کمرے میں آگئی ۔
۔۔لیکن کچھ ہی پل گزرے تھے
شھربانو کے چلانے کی آواز اس کی سماعتوں سے ٹکرائی ۔۔
وہ دوڑ کر اس کی جانب گئی۔
جاری ہے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *