Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Intikam E Mohabbat by Esha Noor Episode12

Intikam E Mohabbat by Esha Noor Episode12

ان سب کو چھوڑیں پلیز مجھے بتائے ۔۔۔” شھربانو بے چین تھی ۔۔۔پریشان تو اس کے دوست بھی تھے ۔۔
” دراصل بات یہ ہے کہ ۔۔۔۔۔ ” وہ کچھ تاسف سے گویا ہوا ۔۔
” جب وہ یہاں سے اپنے والدین کو لینے گاوں گئے تھے “
( ” بیٹا توں کیوں آگیا یہاں ۔۔۔۔تجھے پتہ ہے ۔۔یہاں چودھری
سائیں داد کے لوگ تجھے ڈھونڈ رہے ہیں ۔۔۔۔مجھے خط لکھ دیتا میں پہنچ جاتا “
سعادت کے والد اسے اچانک وہاں دیکھ کر گھبرا گئے ۔
” توں اب جلدی گھر چل ۔۔۔ ابھی ان کی بات ختم نہیں ہوئی تھی ۔۔۔
فائرنگ کی آواز شروع ہو گئی ۔۔
سائیں داد کے لوگ ۔۔اور جبار ( سعادت کا دادا ) ۔۔۔کے لوگوں کی جنگ شروع ہو گئی ۔۔
سعادت نے بھی اپنے والد کے شانے سے گن اٹھائی ۔۔۔
” سعادت بیٹا تم گھر جائو ۔
لیکن وہ اب سننے والا نہیں تھا ۔۔
” کیا بابا میں نے چوڑیاں پہن رکھی ہے۔۔وہ جو لڑ رہے ہیں وہ بھی کسی کے بیٹے ہیں ۔
سعادت کے والد اس کے لڑنے کے حق میں نہیں تھے ۔۔
لیکن جبار غصے کا تیز تھا ۔۔۔اس کا یہی کہنا تھا ۔۔
گیدڑ کی سو سال کی زندگی سے بہتر ہے شیر کی ایک دن کی زندگی ۔۔
شیر کی طرح زندگی جیو موت کا ایک دن مقرر ہے ۔۔
” واہ میرے شیر ۔۔۔” جبار سعادت کی بات پر اسے داد دیے بنا نہ رہ سکے ۔
اس نے اپنے دادا کی بھی پوری بات نہ سنی اور وہاں سے چلا گیا ۔۔
سعادت کی گولی سے سائیں داد کا بھانجا زخمی ہوا ۔۔۔تب سے پولیس سعادت کو تلاش کر رہی ہے ۔۔۔۔وہ مفرور ہے ۔
وہ سب سانس روکے اسد کی بات سن رہے تھے ۔۔۔۔جو اسی گاوں کا رہنے والا تھا ۔۔۔۔
” عنقریب اس کی ضمانت ہو جائے گی۔۔۔
۔۔شاید ان۔ کے اداس چہرے دیکھ کر خود ہی انہیں تسلی دینے لگا ۔۔
☆☆☆☆☆☆☆▪▪▪▪▪▪
حال
” تمہارا مطلب ایک لڑکے سے سھل تعمیراتی بلڈنگ میں ملنے گئی تھی “
وہ کن انکھیوں سے سامنے والے شخص کو گھور رہا تھا ۔
سامنے والے شخص نے اثبات میں سر ہلایا ۔۔۔
” سر اس شخص کے گھر والے پہلے جس جگہ رہتے تھے ۔۔۔۔اب وہ وہاں نہیں رہتے ۔۔۔چھوٹی بی بی کے اغوا سے دو تین دن پہلے وہ لوگ وہ علاقہ چھوڑ کے چلے گئے ۔۔۔”
وہ شخص گردن جھکائے سب اسے بتا رہا تھا ۔۔
” تم ایک مزدور لڑکے پر شک کیسے کر سکتے ہو ۔۔۔؟؟
وہ اٹھ کر سامنے والی دیوار میں لگی تصویر کو دیکھنے لگا ۔۔
جہاں ایک عجیب سے پیٹنگ لگی تھی ۔۔۔
☆☆☆☆☆♡♡◇◇
” سر اس لڑکے کے پاس اچانک سے پہلے بائیک اور پھر گاڑی آگئی ۔۔۔
اب کی بار اسے بھی جھٹکا لگا ۔۔
” اور کیا معلومات ہے اس لڑکے کے بارے میں ۔
اب اسے بھی تشویش ہونے لگی ۔۔۔۔
” سر اور معلومات آپ کو دو دن کے اندر مل جائے گی ۔۔
وہ غصے میں پلٹا ۔۔۔” دو دن ۔۔۔پتہ بھی ہے دو دن میں کتنے گھنٹے ہوتے ہیں ۔۔۔کتنے منٹ ہوتے ہیں ۔
وہ دانت پیستے ہوئے بولا ۔۔۔
” میرے لیے ہر سیکنڈ قیمتی ہے ۔۔۔مجھے سھل چاہیے ۔۔۔۔سمجھے ہر حال میں میری بیٹی کا پتہ لگاوائو ۔۔۔ایک دن پے تمہارے پاس پرسوں تک مجھے ساری رپورٹ چاہیے ۔
اس نے سامنے والے شخص کو انگلی کے اشارے سے باہر نکلنے کا کہا ۔۔
اور خود واپس اس تصویر کو دیکھنے لگا ۔۔
▪▪▪▪▪▪▪▪▪
ماضی
وہ گھر آکر پھر کمرے میں بند ہو گئی اس کے لیے دنیا ہی خالی ہو گئی تھی ۔۔
وہ جانتی تھی سعادت اس سے ملنے آیا تو وہ پکڑا جائے
گا ۔۔۔۔کاش وہ اسے گاؤں نہ بھیجتی ۔۔۔تو یہ سب نہ ہوتا ۔۔۔۔
اس کا مستقبل اس کی تعلیم سب ختم ہو گئے ۔۔۔وہ خود کو اس کا گنہگار سمجھنے لگی ۔۔۔۔
احساس ندامت اسے بے سکون کیے ہوئے تھا ۔۔
” بیٹا تیسرا مہینہ ہے سعادت کا کچھ پتہ نہیں ۔۔۔۔۔بیٹا تم ہماری بات مان لو ۔۔۔رشتے کے لیے ہاں کر دو ۔
ممتاز بیگم اسے آج پھر سمجھانے آئی تھی ۔۔
” وہ اب نہیں آئے گا ۔۔۔” خادم حسین نے بھی شاید ان کی بات سن لی تھی ۔۔
شھربانو نے رو رو کے اپنی آنکھیں سرخ کر دی تھی ۔۔۔
اس نے اپنی بیٹی کے سر پہ ہاتھ رکھا ۔
” بیٹا وہ اچھا لڑکا ہے ۔۔۔پر ہم غریب لوگ ان کے جھگڑوں
میں نہیں پڑ سکتے ۔۔۔۔ان سے جڑے ہر رشتے کو ان کی خاندانی دشمنی کی بھینٹ چڑھنا ہوگا ۔۔۔۔۔میں بیٹیوں کو باپ ہوں مجھے ڈر لگتا ہے بیٹا ۔۔۔
شھربانو کے آنسو تھم نہیں رہے تھے ۔
” بیٹا کوئی جلدی نہیں سوچ لو ۔۔وہ پولیس سے چھپتا پھرتا ہے ۔
” یہ سب میری وجہ سے ہوا ہے ۔۔۔” شھربانو کی رندھی ہوئی آواز خادم حسین کے سماعت سے ٹکرائی ۔۔
” بیٹا تمہاری وجہ سے کچھ نہیں ہوا ۔۔۔وہ خود گیا تھا ۔۔۔وہ سمجھدار تھا ۔۔
۔کسی اور کو بھیج سکتا تھا ۔۔۔۔ویسے بھی یہ دن تو آنا تھا ۔۔۔۔کبھی نہ کبھی تو وہ جاتا اپنے والدین کو لینے “
ممتاز بیگم خادم حسین کے جانے کے بعد اسے سمجھانے لگی۔۔۔
شھربانو اپنی بھیگی پلکیں اٹھا کر اپنی ماں کی طرف دیکھ رہی تھی ۔
اسے بھی اتنا ہی دکھ تھا ۔۔۔
” امی ۔
” بولو بیٹا۔۔۔”
شھربانو کے آنسو تھم چکے تھے ۔۔۔۔
” میں جانتی ہوں تم کیا کہنا چاہتی ہو ۔۔۔۔ہم صرف دو مہینے اور انتظار کر سکتے ہیں ۔
۔۔۔راحیل کے والدین کو ہم نے یہی ٹائم دیا ہے ۔۔۔۔اس کے بیچ اگر سعادت اپنے مسئلے حل کر کہ آگیا ۔۔۔اس سے بڑھ کر ہماری لیے خوشی اور کچھ نہیں
۔۔۔سعادت واقعی میں اپنے نام کی طرح سعادت مند بچا ہے ۔۔۔لیکن اتنا اچھا رشتہ ہم ہاتھ سے جانے نہیں دے سکتے ۔۔۔ایسا نہ ہو کہ ہمارے ہاتھ کچھ نہ رہے ۔۔۔
وہ ماں کی بے بسی دیکھ رہی تھی ۔۔
اچانک دروازہ زور سے بجنے لگا ۔۔۔
☆☆☆☆☆♡◇◇◇◇◇◇◇◇
حال
اس کے سر پہ چوٹ لگی تھی
۔۔۔وہ اس کے چہرے سے نقاب ہٹا کہ اس کے سر کی چوٹ دیکھنے لگا ۔۔۔۔
جہاں خون رس آیا تھا ۔۔
” مجھے ایسا نہیں کرنا چاہیے تھا ۔۔۔” وہ دل ہی دل میں خود کو کوسنے لگا ۔
۔۔۔اس نے اپنا بازو اس کے گرد حائل کیا۔۔۔۔وہ دیکھ رہا تھا۔ سامنے والا شخص کن انکھیوں سے اسے گھور رہا تھا
اس کا سر اپنے شانے پہ ٹکا دیا ۔۔۔منہ کی پٹی اور ہاتھ اس نے کھول دیے تھے ۔۔۔۔
” جب اسے ہوش آنے والا ہوگا تو باندھ دوں گا ۔۔
۔اگر یہ اس طرح لڑھکتی رہی ۔۔تو گردن کی ہڈی ہی نہ ٹوٹ جائے ۔۔۔۔” سامنے والے شخص کی سوالیہ نظروں کا اس نے خود ہی جواب دے دیا ۔۔
” لڑکی کو نقاب کرا دو ۔۔۔بہانے ڈھونڈھتا رہتا ہے لڑکی کے قریب جانے کے ۔۔
۔۔۔اپنا بازو ہٹائو ۔۔کمبل سے ٹیک لگا دو ۔۔۔۔۔سمجھ گئے یا میں آکر پیچھے بیٹھوں ۔۔
وہ غصے میں ہونٹ بھینچ کر رہ گیا ۔۔۔۔۔
اسے ہر حال میں اس کے حکم کی تعمیل کرنی تھی ۔۔
اس نے بازو ہٹا کہ اسے کمبل کی ٹیک لگا دی ۔۔
شام کے چھ بج چکے تھے ۔۔۔۔پر وہاں چھ بجے ہی رات ہو چکی تھی ۔۔
” اندھیرا ہو چکا ہے۔ ہم کہیں رک جائے ۔
وہ جانتا تھا وہ کچھ بولے گا ۔۔۔تو سامنے والے شخص کا پارہ ہائے ہو جائے گا ۔۔۔
پر خلاف توقع وہ کچھ نہ بولا ۔۔۔
اسے بھی خاموش ہونا پڑا ۔۔۔۔لڑکی کو آہستہ آہستہ ہوش آنے لگا
اس نے جلدی جلدی سے اس کے ہاتھ باندھے منہ پر پٹی باندھ لی ۔۔
تاکہ اسے سنبھالا جا سکے ۔۔۔
وہ کبھی کسی لڑکی کہ اتنے قریب نہیں آیا تھا ۔
وہ لڑکی اس کے اتنے قریب تھی ۔۔۔اس کے سانس لینے تک کی لو اسے چھو رہی تھی ۔۔۔۔
وہ نرم وجود اس کے ہاتھوں میں جھول رہا تھا ۔۔۔۔۔
جسے سنبھالتے اس کے دل کی دھڑکن بے ترتیب ہو رہی تھی ۔
” یہ مجھے کیا ہو رہا ہے ۔۔۔۔۔یہ آتش فشاں لڑکی ۔۔۔مجھے کیوں ہلکی پھوار لگ رہی ہے ۔۔
وہ اپنے دل کو سمجھانے لگا ۔
اس حالت میں اس لڑکی کو دیکھ کر اسے تکلیف کیوں ہو رہی تھی ۔۔کبھی تو وہ خود یہی چاہتا تھا ۔۔
اس کی گردن ہو اور اس کے ہاتھ ۔۔
اب یہ نرم گوشہ ۔۔۔کہاں سے پیدا ہو گیا ۔۔اس ۔۔دشمن کے لیے ۔۔
۔۔کیوں اس کے چہرے کو تکنے کا دل کر رہا تھا ۔۔۔
کیوں اس کے چہرے کو اپنے ہاتھوں میں لینے کا دل کر رہا تھا ۔
اس نے محسوس کر لیا تھا سھل ہوش میں آگئی۔۔۔۔
لیکن وہ کوئی مزاحمت نہیں کر رہی ہے ۔۔
کبھی اسے یہ گماں گزرتا کے سب ملے ہوئے ہیں بس وہی بیوقوف کبھی اسے وہ واقعی میں مغوی لگتی ۔
” صاحب آگے اب جانا مشکل ہے ۔۔۔۔مجھے لگتا ہے رات یہی گزارنا پڑے گا ۔
ڈرائیور واپس جیپ کی طرف آتے ہوئے کہنے لگا ۔۔
جو دس منٹ پہلے اتر کے راستہ دیکھنے گیا تھا ۔
” یہاں تو سات بجے ہی گھپ اندھیرا چھا گیا ہے ۔۔لڑکی ہوش میں آگئی ہوگی ۔۔۔اسے بولو فریش ہو جائے ۔۔۔۔۔پھر کھانا کھاتے ہیں ۔۔۔
( جو انہوں نے راستے میں ہی پیک کروالیا تھا ۔۔۔اسے حیرت ہوئی ۔۔ان کی بات سن کہ
” ان کو کیسے پتہ چلا تم ہوش میں آگئی ہو ۔۔۔میں تو سمجھا شاید بس میں جانتا ہوں ۔۔۔”
وہ اس کے منہ کی پٹی کھولنے لگا ۔۔
جیسے ہی اس کہ منہ کی پٹی کھلی اس آتش فشاں سے چنگاریاں نکلنے لگی ۔۔۔۔
” دور ہٹو مجھ سے ۔۔۔زیادہ چپکنے کی ضرورت نہیں۔۔
اس نے دونوں ہاتھوں سے اسے دور دھکیلا ۔۔
” میں بھی کوئی چپک نہیں رہا ہاتھ کھول رہا تھا تمہارے ۔
تیری اکڑ نہیں گئی ابھی تک ۔۔۔”
(جتنی بے ہوشی میں معصوم لگ رہی تھی ہوش میں آتے پی اتنی خطرناک ۔۔)
وہ ابھی اس لڑکی کے بارے میں ہی سوچ رہا تھا ۔۔۔۔
جب بھاری مردانہ آواز اس کی سماعت سے ٹکرائی ۔
” لڑکی کو بول فریش ہو آئے ۔۔۔۔پھر کھانا کھاتے ہیں ۔۔۔”
وہ شعلہ بار نگاہوں سے اسے دیکھ رہی تھی ۔۔۔۔
” سن لیا ہوگا تم نے ۔۔۔کیا کہہ رہے ہیں وہ ۔۔۔۔۔” وہ جیپ سے نیچے اتر کر اس سے مخاطب ہوا ۔
۔ایک سرد ہوا کا جھونکا ۔۔۔۔اس رگوں میں اتر گیا ۔۔۔۔۔
اس نے جیکٹ پہن رکھی تھی ۔۔۔اس کے باوجود سردی اپنے زوروں پر تھی ۔۔
اس نے حجاب اتار دیا عبایہ رہنے دیا ۔۔
” یہ شال بھی اوڑھ لو بہت سردی ۔ہے ۔۔۔”
اس نے شال تقریبن جھپٹنے والے انداز میں اس سے لی ۔۔۔
نیچے اتری تب بھی اسے دھکا دے کر ایک سائیڈ پہ کیا ۔۔۔
پھر کچھ سوچ کہ اس کی طرف مڑی ۔۔۔۔
” کس طرف جانا ہے ۔۔تم ساتھ چلو ۔۔۔
اس کے دل کی دھڑکن بے ترتیب سی ہونے لگی ۔۔۔
☆☆☆☆☆♡◇◇◇◇
اس کی پلکیں بہت بھاری ہو رہی تھی ۔۔
سر میں درد کی ٹیسیں اٹھ رہی تھی ۔۔
اس کے اوپر نقاب تھا اور ہاتھ بندھے ہوئے تھے ۔۔۔۔منہ پر بھی پٹی بندھی تھی ۔
جو اسے بہت تکلیف دے رہی تھی ۔۔۔
اس کے سامنے وہی لڑکا بیٹھا تھا ۔۔۔
نجانے کیوں پر اسے کے دل کو کچھ ہوا۔۔۔۔” یہ میرے ساتھ ایسا کر سکتا ہے ؟؟؟
۔۔۔پیسے کے لیے یہ اتنا گر سکتا ہے ۔۔؟؟؟۔۔کہ اس نے میری یہ حالت کر دی ہے ۔۔۔۔”
اس کے دل میں اس کے لیے نفرت پیدا ہونے لگی ۔۔۔
” میں اسے کیا سمجھی تھی ۔۔۔اور یہ کیا نکلا
۔۔۔اس کی آنکھیں بھیگ گئی ۔۔
۔۔” نہیں سھل تم کمزور نہیں ہو ۔۔۔میں کیوں خود کو اتنا کمزور محسوس کر رہی ہوں ۔۔۔
مسلسل نشہ دینے اور سفر کرنے سے اس کے پورے جسم میں درد کی ٹیسیں اٹھ رہی تھی ۔۔۔۔۔
سر بھاری ہو رہا تھا ۔۔۔۔
جیسے ہی وہ جیپ سے اتری اسے ہلکا سا۔ چکر آیا ۔۔
اس کا دل کیا وہ مطھر کا منہ نوچ لے ۔۔۔
اسے دھکیل کہ وہ خود اس پتھر کی طرف جانے لگی ۔۔۔
لیکن اس کی نظر اس دو آدمیوں پر پڑی ۔۔
جو آگ جلا چکے تھے ۔۔۔۔شاید اب اپنے سونے کے لیے خیمہ لگا رہے تھے ۔
ان دو اجنبیوں کو دیکھ کر اسے خوف آنے لگا ۔۔۔۔
مجبورن اسے مطھر پہ ہی یقین کرنا پڑا ۔۔
” میرے ساتھ تھوڑا آگے تک چلو ۔۔۔” سامنے سے اس نے بس اثبات میں سر ہلایا اور اس کے ساتھ چلنے لگا ۔۔
” سنو لڑکی کوئی ہوشیاری نہیں کرنا ۔۔۔
اچانک وہی آدمی اس کے سامنے آگیا ۔۔
جو کمرے میں بھی اسے خبردار کر رہا تھا ۔۔۔
☆☆☆☆▪▪▪▪▪▪▪
وہ آس پاس دیکھنے لگی ۔۔۔۔۔لیکن ابھی وہ کچھ بھی کرنے کے قابل نہیں تھی ۔۔۔۔
ابھی ان لوگوں کی بات ماننا اس کی مجبوری تھی ۔۔
وہ سر جھکائے انہیں ہی گھور رہی تھی ۔۔۔
پاؤں میں ابھی بیڑیاں پڑی تھی ۔۔۔
وہ پاؤں گھسیٹ کر جا رہی تھی۔۔۔بیڑی کی وجہ سے اسے چلنے میں دقت ہو رہی تھی ۔۔۔۔
” میں کہیں نہیں بھاگ رہی کھولو یہ ۔۔۔
” صحیح کہہ رہی ہے ۔۔۔۔۔یہاں سے بھاگنے کی کوئی گنجائش ۔۔نہیں ۔۔کہاں جائے گی ۔ ۔۔۔”
وہ لڑکا بھی اسے کی تائید میں گویا ہوا۔۔۔
سامنے والا شخص کچھ سوچنے لگا ۔۔
” تمہاری سفارش کی ضرورت نہیں تھی مجھے ۔۔۔مکار انسان ۔۔”
وہ غصے سے اس کی طرف دیکھنے لگا ۔۔
” نہیں کرتا تمہاری مدد بھاڑ میں جائو ۔۔۔
وہ لڑکے کو تھوڑا دور جاتے دیکھ رہی تھی ۔۔
سامنے والا شخص کچھ سوچنے کے بعد ۔۔اس کی بیڑیاں کھولنے لگا ۔
اس شخص نے بیڑیاں کھولی تو وہ اسی پتھر کی جانب جانے لگی ۔۔۔
وہ شخص بھی اس کے پیچھے جانے لگا ۔۔
اس شخص کی نیت اسے ٹھیک نہ لگی ۔
” سنو جوکر ۔۔۔”
مجبورن اسے اس لڑکے کو آواز دینی پڑی ۔۔
” میرا نام مطھر ہے ۔۔۔سمجھی ۔۔چڑیل ۔۔۔”
☆☆☆☆☆♡◇◇◇◇◇
وہ اس کے جوکر کہنے پر تلملا اٹھا ۔۔اسے بھی اچھے خاصے القاب سے نواز دیا ۔۔۔
لیکن وہ آدمی سھل کہ کچھ زیادہ ہی قریب جا رہا تھا ۔۔۔۔۔جو اس سے برداشت نہیں ہوا ۔۔
وہ جان بوجھ کہ لڑکی اور اس کے بیچ میں آگیا ۔۔۔
” چلو اب جلدی کرو ۔۔۔
اس آدمی نے غصے سے اسے گھورا ۔۔۔
اور واپس اپنی جگہ بیٹھ گیا ۔۔
اس نے اس شخص کو۔ نظر انداز کر کے سھل کی جانب متوجہ ہوا ۔۔
وہ فریش ہو کہ آچکی تھی وہ وہی ایک پتھر پہ بیٹھ کہ اس کا انتظار کرنے لگا ۔۔۔
وہ۔ خاموشی سے اس کے نزدیک آکے کھڑی ہو گئی ۔۔۔
” کیا ہوا ۔
اسے خاموش دیکھ کر اس کی کیفیات تھوڑی عجیب ہوئی ۔۔۔
” ہمارا کھانہ یہی لے آئو ۔۔۔” ♧
وہ گردن جھکائے اسے کہہ رہی تھی ۔۔۔
” چل کر وہی کھا لیتے ہیں ۔۔۔”
اس نے اس جانب اشارہ کیا جہاں وہاں وہ دونوں آدمی آگ
جلا کہ اس کے گرد بیٹھے تھے ۔۔۔
سردی بڑھتی جا رہی تھی ۔۔۔
” تم جوکر ہی رہنا ۔۔۔” وہ غصے میں پیر پٹختی اس جانب چلی گئی ۔۔وہ بھی اس کے پیچھے اسی جگہ آگیا ۔۔۔
ان سب نے کھانا کھایا ۔۔۔
پر ڈرائیور بار بار اس لڑکی کی جانب دیکھ رہا تھا اس کی بدنیتی اس کی آنکھیں بیان کر رہی تھی ۔۔۔۔۔
جیسے ہی کھانا ختم ہوا اس نے سھل کو اٹھنے کا کہا ۔۔
” چائے نہیں پینی ۔۔۔” وہ شخص ان دونوں کی جانب دیکھ رہا تھا ۔۔۔
” آپ پی لیں ہم جیپ میں ہی پی لیں گے ۔۔۔
اس شخص کہ چہرے پہ ناگواری صاف ظاہر تھی ۔۔
اس نے لڑکی کی جانب دیکھ کر گردن ہلا کہ جیپ کی طرف اشارہ کیا ۔۔
لگتا تھا وہ پہلے ہی جانے کی منتظر تھی ۔۔۔۔۔
وہ جیپ کی اگلی سیٹ پیچھے کر کے لیٹ گیا ۔۔۔لڑکی پیچھے بیٹھ گئی ۔۔
ڈرائیور ان کے لیے چائے لے آیا تھا ۔۔۔
ڈرائیور چایے پکڑے پیچھے کی طرف دیکھ رہا تھا ۔۔
” اوکے چائے مل گئی ۔۔اب تم جائو ۔
ڈرائیور دانت نکالنے لگا ۔۔۔تھوڑا اس کے قریب ہوا ۔۔۔۔
اس سے سگریٹ کی بو اسے بہت ناگوار گزری ۔۔
” لگتا ہے لڑکی سے عشق ہو گیا ہے تجھے ۔۔۔” اس نے سرگوشی میں کہا ۔۔
مطھر بس اسے گھور کر رہ گیا ۔۔
ڈرائیور جاتے جاتے پھر مڑا ۔۔۔۔
” استاد کہتا ہے لڑکی جیپ میں رہنے دو تم خیمے میں آرام سے سوجائو ۔
ڈرائیور کی اس بات پر اس نے مڑ کر پیچھے دیکھا ۔۔
سھل نفی میں سر ہلا رہی تھی ۔۔
( کتنی معصوم ادا تھی ۔۔۔۔اس کا دل دھک سے رک گیا ۔۔
وہ اب اس کی طرف پلٹا ۔۔۔۔
وہ چائے کا کپ لیے باہر دیکھ رہی تھی ۔۔۔
” تمہیں ڈرنے کی ضرورت نہیں ۔۔میں ہو نہ ” اس نے غیر ارادی طور پر اس کا ہاتھ تھام لیا ۔۔۔۔
لڑکی نے جھٹکے سے اپنا ہاتھ پیچھے کیا ۔۔۔
” اپنی حد میں رہو ۔۔سمجھے زیادہ چپکنے کی ضرورت نہیں ۔۔۔۔۔بار بار میرے قریب آنے کی ضرورت نہیں ۔۔۔میری مدد کرے گا جا منہ دھو کے آ ۔۔
اس نے اچانک اپنا چہرہ آئینے میں دیکھا ۔۔۔۔
” تم ۔۔۔۔تم ۔۔۔” وہ جیسے غصے میں جیسے کچھ کہہ نا پا رہا ہو
” مرو تم ۔۔جیپ میں۔۔۔۔اب مجھے مت آواز دینا ۔۔۔میں ۔۔۔ میں نہیں آئوں گا اب تیری مدد کو ۔۔۔”
وہ غصے سے نیچے اترا ۔۔۔پر تب تک اس لڑکی نے جو کہا وہ سن چکا تھا ۔۔
” ابے جا جا ۔۔جوکر ۔۔پہلے اپنی مدد تو کر لے ۔
اس کا غصہ اب اس سے کنٹرول نہیں ہو رہا تھا ۔۔۔
وہ تیز تیز قدم اٹھاتا اس استاد نما شخص کے خیمے کی جانب گیا ۔۔
خیمہ کھول کہ اس کے پاس بیٹھ گیا ۔۔لمبے لمبے سانس لینے لگا ۔
” کیا ہوا لڑکے ۔۔۔لڑکی نے جیپ سے نکال دیا ۔” اس کے ساتھ ہی اس کا زہر بھرا قہقہہ بلند ہوا ۔۔۔
” میرا خیمہ کہاں ہے ۔۔۔؟؟” وہ بھی شعلہ بار نگاہوں سے اس شخص کی جانب دیکھ رہا تھا ۔۔۔
” وہ تو جیپ میں ہوگا ۔۔۔میں لے آتا ہوں ۔۔۔” وہ اس شخص کی نیت بھانپ گیا تھا ۔۔
وہ تو تھے ہی دو نمبر آدمی ان سے کیا امید کی جا سکتی تھی ۔۔۔
” میں خود لے آتا ہوں ۔۔۔” وہ یہ کہہ کر اٹھنے لگا ۔۔۔
” اس میں بستر بھی ہوگا ہوا بھر لینا ۔۔۔مدد چاہیے تو بتا دینا ویسے بھی تیرے تیور ٹھیک نہیں لگ رہے ۔۔۔
” میرے تیور تو ٹھیک ہے آپ کی نیت مجھے ٹھیک نہیں لگ رہی ۔۔” پیچھے سے اس شخص کا قہقہہ پھر بلند ہوا
اس کا دل نہیں چاہ رہا تھا ۔۔کہ اس پاگل لڑکی کا سامنا کرے پر اسے اپنا بندوبست کرنا تھا ۔۔۔
اس نے پیچھے کا گیٹ کھولنا چاہا ۔۔۔پر دروازہ لاک تھا ۔۔۔۔
وہ سامنے والی سیٹ کی جانب آیا ۔۔۔پر گاڑی اس لڑکی نے لاک کر دی ۔تھی ۔۔۔اورچابی وہ ڈرائیور سے لے کر نہیں۔ آیا تھا ۔۔
☆☆☆☆☆☆♡◇◇◇◇◇◇◇
وہ دونوں آدمی بار بار اس کی جانب دیکھ رہے تھے ۔۔۔ان کی آنکھوں میں جو حوس تھی ۔وہ اسے بخوبی محسوس کر رہی تھی ۔۔۔
( مجبورن اس۔ جوکر سے مدد لینی ہوگی ۔۔۔۔ پر وہ خود ہی اسے وہاں کھانے کے لیے لایا تھا ۔۔۔جب تک کھانا پینا چل رہا تھا اسے ضبط سے کام لینا تھا ۔۔۔۔
وہ اپنے ارد گرد کا جائزہ لینے لگی ۔۔۔۔ہر طرف گھپ اندھیرا تھا ۔۔۔بھیڑیوں کی آواز کہیں دور سے آرہی تھی ۔۔۔عجیب خوف اور پرسراریت تھی ۔۔
( میں کیسے نکلوں یہاں سے ۔۔۔۔سردئ، پہاڑ ، کھائیاں رات کا سناٹا ۔۔ وہ دل ہی دل میں کانپ کر رہ گئی ۔۔
( لگتا ہے صحیح موقع اور جگہ کا انتظار کرنا پڑے گا ۔۔۔پر تب تک کچھ غلط ہوگیا تو ۔۔۔
اس کی سوچ کسی پہاڑ سے ٹکرا کے واپس آگئی ۔۔۔۔واقعی میں وہ ایک بند کھائی میں پھنس چکی تھی ۔
۔۔۔اسے کسی جانب بھی کوئی راستہ نظر نہیں آرہا تھا ۔۔۔
وہ اپنے نجات کے لیے جب راستے تلاش کر رہی تھی ۔۔۔تب ایک آواز نے وہ سلسلہ توڑ دیا ۔۔۔
وہ جوکر اسے چلنے کا کہہ رہا تھا ۔۔۔۔
اس نے دل ہی دل میں شکر ادا کیا ۔۔۔۔ان جانور نما انسانوں کی نظروں سے اس کی جان چھوٹی ۔۔۔۔
وہ دونوں جیپ کی جانب چلنے لگے ۔۔۔
( یہ لڑکا کتنا اچھا ہے اور میں اس کے ساتھ کتنی زیادتی کر جاتی ہوں ۔۔
اس لڑکے نے اس کی جانب دیکھ کہ بھنویں اچکائی ۔۔۔۔
اس نےگردن جھکائی ۔
۔۔اور خاموشی سے اس کے ہم قدم چلتی جیپ کی جانب آئی ۔۔وہ سامنے کی جانب گیا تو وہ پیچھے کی طرف ۔۔
کچھ دیر میں ڈرائیور چائے لے آیا تھا ۔۔۔وہ ڈرائیور پھر اسے چھبتی نظروں سے دیکھ رہا تھا ۔۔۔
شاید وہ لڑکا اس کی نظر بھانپ گیا تھا ۔۔۔اس نے جانے کا کہا تو اس کی جان میں جان آئی ۔۔
اب وہ پھر باہر دیکھنے لگی وہی گھپ اندھیرا ۔۔بس وہ خیمے جل رہے تھے جہاں انہوں نے ٹارچ جلا رکھی تھی ۔۔
وہ اب اسے تسلی دینے لگا ۔۔۔کچھ تھا اس کی باتوں میں ۔۔۔اس کے انداز میں ۔۔۔اس کا دل غیر معتدل ہوا ۔۔۔۔کچھ تھا اس کی آنکھوں میں ۔۔۔پاکیزگی عزت ۔۔۔( نہیں سھل۔ نہیں یہ معمولی لڑکا تیرے دل پہ دستک نہیں دے سکتا ۔۔۔کیا ہو رہا ہے تجھے ۔
ابھی وہ اپنے آپ سے ہی الجھی تھی ۔۔۔اس لڑکے نے اس کا ہاتھ تھاما وہ جو خود سے لڑ رہی تھی ۔۔اب اس سے لڑنے لگی ۔۔۔۔اپنی بدلتی کیفیات کا سارا غصہ اس پر نکالنے لگی ۔۔
۔۔وہ بھی غصے میں بڑبڑاتا جیپ سے باہر چلا گیا ۔۔
وہ بھی خود سے لڑ لڑ کہ پرسکون ہو چکی تھی ۔۔۔۔جیپ میں سونا مشکل تھا ۔۔۔۔پر اسے وہی اپنا بندوبست کرنا تھا ۔۔۔۔۔اس لڑکے کو گئے ابھی کچھ ہی وقت گذرا تھا ۔۔۔۔اچانک کوئی ہیولا اسے جیپ کے گرد منڈلاتے محسوس ہوا ۔۔۔۔۔اس پر کپکپی طاری ہونے لگی ۔۔۔
” کنٹرول سھل کنٹرول ۔۔۔مقابلہ کرو ۔۔۔” جیپ کے دروازے پر اب کوئی چابی گھما رہا تھا ۔۔
وہ ایسے لیٹ گئی جیسے گہری نیند میں ہو ۔۔۔تاکہ جو بھی اس کی طرف آئے اس پہ اچانک حملہ کرے ۔۔۔۔
اس نے ایک لوہے کی راڈ ہاتھ میں لے لی ۔۔۔۔
اسی لمحے دروازہ کھلا ۔۔۔وہ لڑکا اب بھی غصے میں بڑبڑا رہا تھا۔۔
” سب سکون سے سو رہے ہیں ایک میں ہی سردی میں بھٹک رہا ہوں ۔۔
اس کی باتیں سن کر اسے ہنسی آنے لگی ۔۔لیکن اس نے روک کر رکھی ۔۔۔
اس کا یہ۔ ناٹک ذیادہ نہیں چلا ۔۔
” او مس قلوپطرہ ایک طرف ہوجائیں مجھے اپنا خیمہ اور بستر نکالنا ہے ۔۔۔۔
وہ بھی ایسے خاموش رہی جیسے گہری نیند میں ہو ۔
” مجھے پتہ ہے تم جاگ رہی ہو ۔۔۔اب ڈرامے بند کرو ۔۔۔اور پلیز ایک سائیڈ پہ ہوجائو ۔۔ورنہ اٹھا کہ باہر پھینک دوں گا ۔
جاری ہے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *