Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Intikam E Mohabbat by Esha Noor Episode23

Intikam E Mohabbat by Esha Noor Episode23

” قبول ہے ” دوسری بار پوچھا گیا ۔۔
اس نے ایک دم سے قبول ہے قبول ہے کہہ دیا ۔۔۔دونوں کا نکاح ہوچکا تھا دونوں ایک دوسرے کی جانب دیکھنے لگے ۔
اچانک سے کسی نے اس کے بازو پیچھے کی طرف کیے ۔۔۔وہی حال مطھر کا تھا ۔۔۔۔
ان کے ہاتھ پیچھے کر کہ باندھ دیے گئے ۔۔۔۔
” چل اٹھ ولیمہ اب کمرے میں ہوگا ۔” وہ سب قہقہے مار رہے تھے۔۔
” اوئے ہاتھ مت لگا اسے یہ خود جائے گی”
مطھر کو ان سب پہ غصہ آ رہا تھا
وہ اس بات پر پھر سے قہقہے مارنے لگے ۔۔۔
وہ اٹھ کر اندر جانے لگی۔۔
اس کے ہاتھ میں بندھی زنجیر سے وہ اسے کھینچ کے اندر لے گئے ۔۔۔
اسے اسی کمرے میں ڈال دیا گیا جہاں وہ پہلے تھی ۔۔۔
وہ بہت شاطر نکلے ۔۔۔
وہ ان دونوں کو اپنے اپنے کمرے میں بند کر کے جانے لگے ۔۔▪▪▪▪▪▪▪▪▪▪▪
” ہاتھ باندھ کہ کیا مرنے کے لیے چھوڑ کے جا رہے ہو ۔۔۔۔
اس کا خون کھول رہا تھا ۔۔۔اس کا بس نہیں چل رہا تھا ۔۔۔وہ ان کا خون کر دے ۔۔۔
اس سے اچھا تھا اسی وقت وہ اسے ان لوگوں کی قید سے رہا کرا دیتا ۔۔
جب صرف دو شخص تھے ۔۔۔
اسے رہ رہ کہ اپنی بزدلی پہ غصہ آرہا تھا ۔۔۔
آخر اس نے ان لوگوں کی بات پہ اعتبار کیوں کیا ۔۔۔
” مرنے کے لیے ہاتھ باندھنے کی کیا ضرورت ہے ۔۔۔۔”
وہ دیو قامت شخص اپنے دانت نکالے ہنس رہا تھا ۔۔۔
” اس کے لیے ایک گولی ہی کافی ہوتا ہے ۔۔
تو کیا سمجھا ۔۔۔تیرے دماغ میں کیا چل رہا ہے ہمیں پتہ نہیں چلے گا “
وہ اب بھی دانت نکالے ہنس رہا تھا ۔۔
” کیا چل رہا تھا بتا زرا ۔۔”
وہ اس گھور رہا تھا ۔۔۔اس کا بس نہیں چل۔رہا تھا ۔۔اس کی بتیسی توڑ دے ۔
” تو لڑکی کو باہر لے گیا تھا ۔۔۔وہ کس لیے “
اس دیو قامت شخص کی بات ابھی پوری نہ ہوئی تھی ۔۔۔
وہ چلا اٹھا ۔۔۔” وہ مجھے چاقو کی نوک پہ لے کر گئی تھی ۔۔اندھے ہو کیا تم لوگ ۔۔۔یہاں تک کہ اس نے مجھے زخمی کر دیا تھا ۔۔۔”
زور کا تھپڑ اس کے گال پر پڑا ۔۔۔کان سائیں سائیں کرنے لگے ۔۔۔
” بکواس بند کر اپنا ۔۔کیا ہم کو گدھا سمجھا ہے ۔۔۔”
عنقریب اسے اور مار پڑتی ۔۔۔
” جعفر چل آجا ۔۔کیا اس کے ساتھ جھک مار رہا ہے” ۔۔۔
وہ اب بھی ہاتھ چھڑانے کے لیے مزاحمت کر رہا تھا ۔۔۔
“او بھائی ۔۔زیادہ زور نہ لگا ۔۔۔لاک آٹو ہے کچھ دیر میں کھل جائے گا ۔۔۔”
ایک شخص چلا کہ اسے سنا رہا تھا ۔۔۔
” اتنے لوگ ہو کہ ایک شخص سے ڈرتے ہو ۔۔۔۔”
اسے بھی نجانے کیا جنون چڑھا تھا ۔۔۔
ابھی تک ایک جھانپڑ سے ہی اس کے جبڑا ہل گیا تھا ۔۔۔۔جبڑے میں درد ہونے لگا تھا ۔۔۔
وہ اس کی باتوں کو نظر انداز کر کے وہاں سے جا چکے تھے ۔۔
☆☆☆☆☆♡◇◇◇◇◇◇◇◇
” منہ کھول اپنا ۔۔۔نہیں تو ۔۔۔تیرے ساتھ تیرے پورے خاندان کو اوپر پہنچا دوں گا ۔۔
سعادت اس شخص کو دیکھ رہا تھا ۔۔۔جس کے بال سدھیر نے اپنی مٹھی میں جکڑے ہوئے تھے ۔۔۔
” چھوڑ اس کو میں بات کرتا ہوں ۔۔۔
وہ اب اس زنجیروں میں جکڑے ہوئے شخص کے سامنے کھڑا تھا ۔۔۔
جسے مار مار کہ لہولہان کر دیا گیا تھا ۔۔۔
” پانی پلا اسے ۔۔” سعادت مصنوعی ہمدردی دکھانے لگا ۔۔۔
” دیکھ تو بتا دے تیری فیملی کی حفاظت ہمارے ذمے ۔۔۔اور پیسے بھی دگنے ملے گے ۔۔۔کیوں اپنی اور اپنی فیملی کی زندگی تباہ کرنا چاہتا ہے ۔۔۔”
وہ اب اس کے گال۔سہلا رہا تھا ۔۔۔
زنجیروں میں جکڑے ہوئے شخص کی آنکھوں میں خوف تھا ۔۔
وہ بار بار چاروں طرف دیکھ رہا تھا ۔۔۔
سعادت کو کچھ گڑ بڑ محسوس ہوئی ۔۔۔
” تم سب لوگ باہر جائو ۔۔سوائے سدھیر کے ۔۔۔
اب اس تہہ خانے میں صرف تین شخص موجود تھے ۔۔۔
” اب آرام سے بتا ۔۔۔”
اس شخص سے جو معلومات ملی وہ نامکمل تھی ۔۔۔
اس نے بس سوات تک کا بتایا ۔۔۔
وہ آگے کہاں لے گئے تھے وہ بھی نہیں جانتا تھا ۔۔۔
” تم سچ کہہ رہے ہو ۔۔۔اگر ۔۔” اب کی بار اس کے بال۔سعادت نے اپنی مٹھی میں لیے ہوئے تھے ۔۔۔
” قسم لے لو صاحب ۔۔۔ہم نے صرف آواز سنا ہے وہ اپنا باس فون پہ بھی خود رابطہ کرتا۔ ہے ہمیں نہیں پتا ۔۔۔ہمیں صرف سوات تک کا ٹارگٹ دیا گیا تھا ۔
۔۔وہاں سے وہ کس طرف لے گئے ہیں ہم نہیں جانتا ۔۔۔”
اس کا سر ایک طرف جھک گیا وہ بے ہوش ہو چکا تھا ۔۔۔
سعادت نے زور سے دیوار پہ مکہ مارا ۔۔۔
” یار پریشان کیوں ہوتا ہے ۔۔۔ہم ہے نا بس تھوڑا وقت لگے گا ۔۔۔”
سدھیر اس کے شانے پہ ہاتھ رکھے اسے تسلی دینے لگا ۔۔
” نہیں یار وقت ہی تو نہیں ہے ۔۔۔۔”
وہ ڈھے جانے والے انداز میں کرسی پہ بیٹھ گیا ۔۔۔
” میرے پاس ایک اور پلان ہے ۔۔اگر اس پہ عمل ہوگیا تو ۔۔تمہارا کام بن جائے گا ۔۔۔”
سدھیر جو بلکل اس کے قریب آکر سرگوشی میں گویا ہوا ۔۔
” کیسا پلان ؟؟
وہ اب آہستہ آہستہ اسے سارا پلان سمجھانے لگا ۔۔۔سعادت سر کی ہلکی جنبش سے سمجھنے کا یقین دلا رہا تھا ۔۔۔
☆☆☆☆☆☆☆☆☆
ماضی
وہ سڑکوں پر ادھر سے اودھر سواری تلاش کرنے کے لیے بھاگ دوڑ کر رہی تھی ۔۔۔
اس کی حالت کچھ عجیب سے ہو رہی تھی ۔۔۔
پھٹا دوپٹہ آنکھوں میں آنسو ۔۔۔
مشکل سے اسے ایک رکشہ ملا ۔۔
وہ اپنے گھر تو پہنچ چکی تھی پر وہاں بھی راحیل کا کچھ پتا نہ تھا ۔۔۔
دوپہر سے شام ۔شام سے رات ہوگئی ۔۔
اچانک اسے گھر کے باہر کچھ شور سنائی دیا ۔۔
اس نے جھٹ سے دروازہ کھولا ۔۔۔۔۔
پڑوس کی عورتیں آپس میں سرگوشیوں میں کچھ کہہ رہی تھی ۔۔۔ایک آدھ اس کی طرف دیکھ کر سر ہلا رہی تھی ۔
باہر بھیڑ دیکھ کر اس کا دل بیٹھا جا رہا تھا
کچھ ہی دیر میں اس کے گھر کے سامنے ایمبولنس آکر رکی ۔۔۔
لیکن اس ایمبولنس کو کوئی اشارہ کر کے آگے جانے کا کہہ رہا تھا ۔۔۔
ایمبولنس دیکھ کر اسے اپنی سانس رکتی ہوئی محسوس ہونے لگی ۔۔
لیکن اسے آگے جاتا دیکھ کر اس کی جان میں
جان آئی اس۔ نے ٹھنڈی آہ بھری ۔
۔۔لیکن وہ اطمینان ایک پل کے لیے تھا ۔۔
ارمان بھاگتا ہوا اس کے پاس آیا ۔۔۔” چاچی وہ ۔۔۔۔وہ چاچو ۔۔۔۔وہ چاچو راحیل ۔۔۔” وہ اتنا گھبرایا ہوا تھا ۔۔۔اس سے الفاظ تک صحیح ادا نہیں ہو رہے تھے ۔۔۔
” کیا ہوا راحیل کو ۔۔۔؟؟؟”
شھربانو کا حلق تک کڑوا ہوگیا ۔۔۔
” وہ چاچو راحیل ہمارے ۔۔۔۔۔ہمارے گھر ۔۔۔”
وہ صبح سے اسی حالت میں تھی ۔۔۔جس حالت میں وہ ماں کے گھر سے نکلی تھی ۔۔۔اسے اپنے پھٹے دوپٹے تک کا ہوش نہ تھا ۔۔۔
وہ بھاگتی ہوئی ۔۔۔راحیل کے بھائی کے گھر پہنچی۔۔۔
وہاں ہر طرف کہرام مچا تھا ۔۔۔
سامنے راحیل کا بے جان وجود چارپائی پر پڑا تھا ۔۔۔اس کی آنکھوں۔ کے سامنے سب دھندھلا ہونے لگا ۔۔
اس کی آنکھوں کے سامنے اندھیرا چھانے لگا ۔۔۔
اسے کچھ ہوش نہ رہا ۔۔
☆☆☆☆☆☆☆☆☆
۔۔۔اس کی آنکھ کھلی تو وہ ہاسپیٹل کے بیڈ پر تھی ۔۔۔۔وہ ایک دم سے راحیل کا نام لے کر چلا اٹھی ۔۔۔۔۔
اس کے ایک ہاتھ میں ڈرپ لگی تھی ۔۔۔۔
وہ جیسے ہی اٹھی ڈرپ کی سرنج اس کے نس میں دھنس کہ نکلی ۔
۔۔ہاتھ سے خون نکلنے لگا ۔۔۔پر ہوش کسے تھا اسے تو بس راحیل تک پہنچنا تھا ۔
اس کی نظر سامنے کھڑے سعادت پر پڑی ۔۔۔وہ اسے دھکیلتی باہر جانے کی کوشش کرنے لگی ▪▪▪▪▪▪▪▪▪▪
” تم ۔۔۔۔یہاں ۔۔۔تم قاتل ۔۔۔” وہ بمشکل چند قدم ہی چلی تھی کہ پھر لڑکھڑا کر گر پڑی ۔۔اور اسے کچھ ہوش نہ رہا
☆☆☆☆☆☆☆◇◇◇◇
وہ اپنے گال پہ ہاتھ رکھے کھڑا تھا ۔۔۔
” شیری تم نے مجھے اس گھٹیا شخص کی وجہ سے تھپڑ مارا ۔۔
غصے کی شدت سے وہ کانپ رہا تھا
” یہ بانو کو کیا ہوا وہ اتنی عجلت میں کہاں جا رہی تھی ۔۔۔
ممتاز بیگم کے چہرے سے پریشانی عیاں تھی ۔
” بیٹا تمہیں بھی جانا تھا نا ۔۔۔؟
وہ بے بسی سے گویا ہوئی
ممتاز بیگم کی بے بسی سعادت سے دیکھی نہیں جا رہی تھی ۔
” امی آپ سحر آپی کے ہاں چلی جائیں ۔۔۔میں شام کو آپ کو اپنے گھر لے جائوں گا ۔۔۔آپ کہیں تو میں آپ کو چھوڑ دوں سحر آپی کے گھر ؟؟۔”
سعادت کے لیے اب سب کچھ ممتاز بیگم ہی تھی ۔
وہ بھی حد سے زیادہ سعادت کا خیال رکھتی تھی ۔۔۔
” نہیں بیٹا میں ٹھیک ہوں ۔۔۔مجھے کہیں نہیں
جانا۔ سحر بھی کراچی میں ہے ۔تم جائو بیٹا ۔۔۔”
وہ جانتا تھا ۔۔۔ممتاز بیگم کو اپنا گھر چھوڑنا گوارا نہ تھا ۔۔۔
” اچھا امی آپ سحر آپی کے گھر نہ جائیں لیکن اب میں آپ کو اکیلا نہیں رہنے دوں گا ۔۔۔شام کو میں آپ کو لینے آئوں گا ۔۔۔”
اسے شام سے رات ہوگئی تھی ۔۔لیکن وہ ممتاز بیگم کے گھر آنا نہیں بھولا تھا ۔۔۔
” امی کیا ہوا ۔۔؟
وہ ممتاز بیگم کو روتا دیکھ کر پریشان ہو گیا ۔
” بیٹا مجھے ہاسپیٹل لے جائو ۔۔۔کسی کا فون آیا تھا ۔۔۔بانو اور سھل ہاسپیٹل میں ہے ۔۔۔
وہ ہاسپیٹل کا نام بتانے لگی ۔
سعادت کو لگا ۔۔اس نے سہی سنا نہیں ۔۔
” امئ آپ کو کوئی غلط فہمی ہوئی ہوگی
شھربانو صبح بلکل ٹھیک تھی ۔۔۔”
لیکن ممتاز بیگم تو جیسے کچھ بولنے کی حالت میں نہیں تھی ۔
وہ بس ہاتھ کے اشارے سے کہہ رہی تھی ۔” ۔۔پتا نہیں ۔۔۔”
سعادت ممتاز بیگم کو ہاسپیٹل لے تو گیا ۔۔۔۔پر پورے راستے یہی دعا کرتا رہا ۔۔۔
وہ سب جھوٹ ہو ۔۔
اسے ہاسپیٹل میں شھربانو کو ڈھونڈنے میں ایک گھنٹہ لگ چکا تھا ۔۔۔
تب جا کے اسے شھربانو نظر آئی ۔۔۔وہ لاوارثوں کی طرح ہاسپیٹل کے وارڈ میں ایک بیڈ پر بے سدھ پڑی تھی ۔۔۔۔
اس کی چھ ماہ کی بچی بھی اس کی سائیڈ پہ سو رہی تھی ۔
” یہ ۔۔۔یہ سب کیا ہے ۔۔۔۔کوئی ڈھنگ کا کمرہ نہیں تھا ۔۔۔”
وہ اسٹاف پر پھٹ پڑا ۔۔
” دیکھیں مسٹر ۔۔۔یہ ایمرجنسی میں لائی گئی تھی ۔۔
اب ان کی حالت خطرے سے باہر ہے ۔۔۔۔ہمارے پاس ایمرجنسی میں اتنی گنجائش نہیں ۔۔
زیادہ دیر اسے رکھ سکیں ۔
۔۔آپ زیادہ شور نہ کریں ۔۔”
سعادت کا تو پہلے ہی برا حال تھا ۔۔۔۔
” میں اسے یہاں سے دوسرے ہاسپیٹل شفٹ کرنا چاہتا ہوں ۔
۔اس کی زندگی کو کوئی خطرہ تو نہیں ہوگا ۔؟؟؟۔”
وہ ایک گورنمنٹ ہاسپیٹل تھا ۔۔۔
جہاں سہولیات نہ ہونے کہ برابر تھی ۔۔
اور مریضوں کا رش بہت زیادہ تھا ۔۔
” جی آپ ڈاکٹر صاحب سے بات کرلیں ۔۔۔”
وہ ممتاز بیگم کو شھربانو کے پاس لے آیا تھا ۔۔
☆☆☆☆☆☆▪▪▪▪▪▪▪▪▪▪
” سر آپ میری بات سمجھنے کی کوشش کریں ۔۔۔”
وہ کب سے آن ڈیوٹی ڈاکٹر سے شھربانو کو دوسرے ہاسپیٹل لے جانے کی ضد کر رہا تھا ۔۔
” جس ڈاکٹر نے ایڈمٹ کیا ہے وہ اب آف کر گیا ہے ۔۔۔۔میں سر کی پرمیشن کے سوا دوسرے ہاسپیٹل شفٹ کرنے کی اجازت نہیں دے سکتا ۔۔۔۔”
سعادت کا اس ہاسپیٹل میں رکنا محال تھا ۔۔۔
اس نے ایک سینئیر ڈاکٹر سے اپنے مسئلے کا حل طلب کیا ۔۔۔
اسے اجازت ملتے ملتے ۔۔ اور شھربانو کو دوسرے ہاسپیٹل شفٹ کرتے کرتے ۔۔رات کے پچھلے پہر کے تین بج چکے تھے ۔۔۔
سعادت کی بھاگ دوڑ کر کے حالت خراب ہو چکی تھی ۔۔
” امی آپ آرام کریں میں جاگ رہا ہوں ۔ آپ کی حالت ٹھیک نہیں ۔۔ ” اس نے ہاسپیٹل والوں سے رکنے کی اجازت لے لی تھی ۔۔۔
” نہیں بیٹا تم اپنی حالت دیکھو ۔۔۔بیٹا مجھے معاف کر دینا ۔۔۔۔ہم نے تمہاری اور شھربانو کی زندگی تباہ کر دی ۔۔۔
اب اس راحیل کے پاس میں اپنی بیٹی کو نہیں جانے دوں گی ۔۔وہ شخص میری بیٹی کے قابل ہی نہیں ۔۔۔”
اچانک سے ممتاز بیگم اس کے سامنے ہاتھ جوڑے کھڑی تھی ۔۔۔
” یہ کیا کر رہی ہیں ۔۔۔ مائیں بیٹو کے سامنے ہاتھ نہیں جوڑتی ۔۔۔امی میں جو کچھ بھی کر رہا ہوں آپ کی خاطر کر رہا ہوں
۔۔۔۔شھربانو اب میری زندگی میں کہیں بھی نہیں ۔۔۔”
لاشعوری طور پر اس کی نظر شھربانو پہ ہی ٹھری تھی ۔۔۔
” نہیں بیٹا میں جانتی ہوں ۔
۔توں آج بھی اسے چاہتا ہے ۔۔۔۔۔اس شخص نے میری بیٹی کو اذیت کے سوا دیا ہی کیا ۔
۔ہے اور اب لاوارثوں کی طرح ہاسپیٹل میں پھینک کر چلے گئے ہیں ۔۔۔۔”
وہ دیکھ رہا تھا ۔۔غصے اور دکھ سے ممتاز بیگم کی حالت خراب ہو رہی تھی ۔۔۔
” امی آپ ڈرائیور کے ساتھ گھر چلی جائیں ۔۔۔۔صبح آجانا ۔۔
۔۔رات کو کسی چیز بھی ضرورت پڑ سکتی ہے ۔۔آپ بچی کو لے جائیں
۔۔۔اتنی چھوٹی سی بچی کا ہاسپیٹل میں رکنا ٹھیک نہیں
بڑی مشکل سے وہ ممتاز بیگم کو گھر جانے کے لیے راضی کر سکا ۔۔۔
اس کے سامنے اس کی محبت بے بس پڑی تھی ۔۔۔
اس کا سفید پڑتا چہرہ ۔۔۔اس کے سامنے تھا ۔۔
” شیری ۔۔کیا حالت کر دی ہے اپنی ۔۔۔۔کیوں اس بے قدرے شخص کے لیے خود کو ہلکان کر رہی ہو ۔۔
۔میرے پاس آجاو میں دنیا کی ہر خوشی ۔۔ہر چیز تمہارے قدموں میں ڈھیر کر دوں گا
وہ اس کا ہاتھ اپنے ہاتھ میں لیے ۔۔۔کبھی اپنے گالوں سے لگاتا تو کبھی اپنے لبوں سے ۔۔۔
کبھی اس کے چہرے سے بال ہٹاتا
وہ ٹکٹکی باندھے بس اسے ہی دیکھ رہا تھا
نجانے بیٹھے بیٹھے کب اس کی آنکھ کچھ پل کے لیے لگی ۔
اچانک سے اسے اپنا ہاتھ خالی محسوس ہوا ۔
شھربانو اس سے ہاتھ چھڑا کے بیڈ سے اٹھ چکئ تھی ۔۔۔
ڈرپ کھینچ کے نکالنے کی وجہ سے ہاتھ سے خون نکل رہا تھا ۔۔
وہ اٹھ کر باہر جانے کی کوشش کر رہی تھی ۔۔۔اس کا چہرہ زرد پڑ رہا تھا ۔۔۔
وہ اسے روکنے کی کوشش میں اس کے سامنے آیا ۔۔” شیری کہاں جا رہئ ہو ۔۔”
وہ اب بھی اس گھٹیا شخص کا نام لے رہی تھی اور اسے قاتل قاتل کہہ رہی تھی ۔
وہ اسے ٹکرائی اس کا زرد پڑتا چہرہ لٹھے کی
کی مانند سفید پڑ گیا ۔۔۔
وہ اس سے ٹکرا کر سنبھل نہ سکی ۔
اگر سعادت نہ سنبھالتا تو وہ زمین پر گر جاتی ۔۔
اور وہ اس کئ بانہوں میں جھول گئی ۔۔
سعادت کی تو جیسے جان ہی نکل گئی
” نرس نرس ۔۔
☆☆☆♡◇◇◇◇◇◇◇◇◇
حال
واقعی میں کچھ دیر بعد اس کے ہاتھ میں بندھی زنجیر کا لاک کھل گیا تھا ۔۔
وہ اب اپنے کلائیوں کو دیکھ رہا تھا ۔۔
اسے اب سھل کا خیال آنے لگا ۔۔
اس نے تیزی سے اس کے کمرے کا رخ کیا ۔۔۔
سھل کے ہاتھ بھی کھل چکے تھے ۔۔
وہ اب اس کے سامنے کھڑا تھا ۔۔۔
” تم نے نکاح کے لیے ہاں کیوں کی نکاح کو کھیل سمجھا ہے ۔۔۔”
وہ تو جیسے اس کی بات سن ہی نہیں رہئ تھی ۔۔۔
و ہ اپنی کلائیوں کو۔ سہلانے میں لگی تھی ۔۔
” میں تم سے کچھ پوچھ رہا ہوں ۔۔۔”
اس نے غصے سے اسے کو شانوں سے پیچھے دھکیلا ۔۔
اس نے بھی دونوں ہاتھوں سے زور سے اسے دھکا دیا ۔۔۔
اس نے بھی جوابی وار ایک جھٹکے سے کیا ۔۔۔
وہ چند قدم پیچھے لڑھک گیا۔۔
♡♡♡♡♡♡♡♡♡♡♡
” یہ تم ہر وقت پھولن دیوی بنی کیوں پھرتی ہو ۔
۔۔بتا کیوں ہاں کی ۔۔۔۔میں جواب لینے آیا ہوں لڑنے نہیں ۔
۔۔اگر ہاتھ پیر چلانے کا بڑا شوق ہے ۔۔تو یہ شوق ان غنڈوں پہ پورا کرنا تھا ۔۔۔
مجھ شریف آدمی پہ کیوں آزماتی ہے ۔۔
وہ اب سنبھل کر اس کے مقابل کھڑا تھا ۔
۔۔اس کے
کسی بھی وار کو روکنے اور جوابی وار کرنے کے لیے ۔۔
▪▪▪▪♤♡♡♡♡♡♡
” ہوگئی تمہاری بکواس پوری ۔۔۔۔۔یا کچھ اور رہتی ہے۔ ۔۔۔جوکر !!!۔۔۔وہ بھی پوری کر لو ۔۔۔”
وہ اب ہاتھ جھاڑ کہ اس کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر کھڑی تھی ۔۔۔
” پہلئ بات غنڈہ !!! تو !!!…تو بھی ہے ۔۔۔تو بھی ان کے ساتھ ملا ہوا ہے ۔۔
۔۔ تو…
. !!! تو بھی ان کا ساتھی ہوا ۔۔نا
دوسری بات نکاح کے لیے ہاں کیوں کی تو ہمممممم”
وہ سوچنے والے انداز میں انگلی ٹھوڑی کہ نیچے کیے اسے دیکھ رہی تھی ۔۔
” تو میری مرضی۔۔۔میں جو چاہے کروں ۔۔۔اگر اتنا ہی ہمارا ہاں کرنا چبھ رہا تھا تو خود ہی نا کر دیتے ۔۔۔۔”
نجانے کیوں اس کہ نکاح کی بات پہ غصہ ہونا اسے اچھا نہ لگا ۔۔۔۔اس کیفیت کو ابھی وہ کوئی نام نہ دے پائی ۔
” بس یا اور کچھ پوچھنا ہے ۔۔
ویسے بھی یہ تو ایک ناٹک ہے ۔”
وہ کچھ تاسف سے گویا ہوئی ۔۔۔” کون سا اس نکاح کو ہم نے عمر بھر نبھانا ہے
۔۔ویسے بھی باہر نکلتے ہی تجھ سے جان چھڑا لوں گی ۔۔۔وہ کیا کہتے ہیں ڈائیوورس ۔۔۔ ۔۔وہ لے لوں گی ۔۔۔۔تجھ جیسے بزدل اور جوکر نما شخص کے ساتھ زندگی ۔۔۔نو وے۔۔۔۔”
اس نے گویا ناک سے مکھی اڑائی۔۔۔۔” میرا ہمسفر اور تیرے جیسا فضول شخص تو کبھی نہیں ہو سکتا ۔وہ تو ایک ہیرو ہوگا ۔۔۔
۔۔میرا ہیرو تو اسپائیڈر مین کی طرح ہوگا ۔۔۔۔سپر مین کی طرح جو اڑ کر کہیں بھی پہنچ جائے گا ۔۔۔۔جب میں کسی مشکل میں پڑوں گی ۔۔۔۔جب اس کی ضرورت ہوگی ۔۔۔وہ۔مجھے آسمان تک اڑا لے جائے گا ۔۔۔”
وہ تو گویا اپنے ہی خیالوں میں گم ہونے لگی۔
مطھر اپنی ہنسی روکنے کی کوشش کرنے لگا ۔۔۔جس سے وہ اور آگ بگولہ ہوگئی ۔۔
“توں ایک بزدل شخص ہے جو پیسے کے لیے کچھ بھی کر سکتا ہے ۔۔۔۔ویسے کتنی سسٹر ہیں تمہاری ۔۔۔کہیں ان کا بھی سودا ۔۔۔
ایک زوردار تھپڑ اس کے گال پہ پڑا ۔۔۔۔ہونٹ پھٹ گیا ۔۔خون رسنے لگا ۔۔
اس نے اسے بازو سے اتنی زور سے پکڑا اسے اپنا بازو ٹوٹتا ہوا محسوس ہوا ۔۔۔۔
اس نے کھینچ کہ اسے اپنے نزدیک کیا ۔۔۔
اس کا چہرہ غصے سے سرخ ہو رہا تھا ۔۔
” پھر وہی بکواس کی ۔۔۔۔جب ایک بار میں تجھے اس سوال کا جواب دے چکا ہوں۔”
وہ بلکل اس کے قریب تھا ۔۔۔مقابل کہ گرم سانسو کی لو اس کے چہرے کو جھلسا رہی تھی۔
وہ بھی دو قدم آگے ہی تھی۔۔
چپ رہنا اس کے خون میں ہی شامل نہ تھا
” بڑا مرد بنتا ہے ۔۔۔ان مردوں کے سامنے تو تیری ہوا نکل جاتی ہے ۔
۔اور میرے اوپر بڑا زور چلتا ہے ۔۔۔۔(گالی)
بازو کی بجائے اب اس کے ہاتھ میں اس کے بال تھے ۔
ایسا لگ رہا تھا وہ اس کی گردن توڑ دے گا ۔۔۔
اس نے مزاحمت کرنی چاہی لیکن مقابل کچھ زیادہ ہی طاقت دکھا رہا تھا ۔۔۔
درد کی شدت سے آنکھوں سے پانی ابل پڑا ۔۔
☆☆▪▪▪▪▪▪▪
وہ اسے برداشت کر کے تھک گیا تھا ۔۔
لیکن اس پاگل لڑکی کی موٹی سوچ میں کچھ نہیں آرہا تھا ۔۔
وہ سہی موقع کی تلاش میں تھا ۔۔
۔لیکن اس کی ہر وقت چلتی بد اخلاق زبان سے وہ تنگ آگیا تھا۔
وہ جانتا تھا ۔۔ اغوا کرنے والے ۔۔۔۔جو بھی لوگ تھے اس لڑکی کو کوئی نقصان نہیں دے سکتے
۔۔لیکن اسے نہیں چھوڑیں گے ۔۔۔
وہ بے وقت مرنا نہیں چاہتا تھا ۔۔اس کی فیملی کو اس کی ضرورت تھی ۔۔۔
اس کا غصہ سوا نیزے پر تھا۔۔۔
وہ اس کی ہمدردی اور نرم رویے کا غلط فائدہ اٹھانے لگی ۔۔۔
اس کا دل کیا اسے جان سے مار دے ۔۔
۔یہ ساری مصیبت اس لڑکی کی وجہ سے ہوئی ہے اسے اب بھی یقین نہیں تھا ۔۔۔کہ وہ لڑکی ان سے ملی ہوئی نہیں ہے ۔۔
اسے وہ سب یاد آرہا تھا ۔
وہ روز روز ان سے ٹکرانا ۔۔۔کوئی اتفاق نہیں تھا ۔۔۔
قید میں بھی وہ لوگ اسے ہی ٹارچر کر رہے تھے ۔۔
کچھ بھی تھا ۔۔۔دل کہ کسی کونے پہ وہ دشمن لڑکی راج کرنے لگی تھی ۔۔۔
اس کی آنکھوں کے آنسو سے اس کی گرفت نرم پڑی ۔۔۔
” میں نے یہاں آکے ہی غلطی کردی تجھ جیسی بددماغ لڑکی سے کچھ پوچھنا ہی نہیں چاہیے تھا ۔۔۔
جیسے اس کی گرفت ڈھیلی پڑی ایک زور کا گھونسہ اس لڑکی نے اس کہ منہ پہ جڑ دیا ۔
لڑکئ کے ہونٹ سے خون رس رہا تھا ۔
تو اس کے ناک سے ۔
” اب بول کس کہ رحم و کرم پہ اپنی بہنوں کو چھوڑ کے آیا ہے ۔۔۔؟؟ بڑا غیرت مند بنتا ہے “
اس نے اپنے ہاتھ کی پشت سے اپنے ناک سے بہتا خون صاف کیا ۔۔
” وہ سیف ہیں ۔۔۔۔میں انہیں سیف جگہ چھوڑ آیا ہوں ویسے تمہاری سوئی میری سسٹرز پر ہی کیوں اٹک جاتی ہے ۔
اب کی بار وہ لڑکی زور سے قہقہے لگانے لگی
” سیف ۔۔۔جو لوگ سھل سعادت ملک کو اغوا کر سکتے ہیں ۔۔۔وہ تمہاری فیملی کو تو چیونٹیوں کی طرح مسل کر رکھ دیں گے ۔۔۔
وہ دونوں ہاتھ سینے پہ لپیٹے اس کے سامنے کھڑی تھی ۔۔۔۔
واقعی میں یہ بات تو اس نے سوچی بھی نہیں تھی ۔۔۔اس لڑکی کی بات میں وزن تو تھا ۔۔
” لیکن وہ میری فیملی کو کیوں کر نقصان دیں گے ۔۔۔؟؟”
اس کے ناک سے اب بھی خون نکل رہا تھا ۔۔
“اووو لگتا ہے کچھ زیادہ ہی لگ گئی ۔۔
اس نے ٹشو اس کی جانب بڑھایا ۔
” شکریہ ۔۔
اسی ٹشو سے اس نے ہاتھ بڑھا کر اس کے ہونٹوں پہ لگا خون صاف کرنے کی کوشش کی ۔۔۔
لیکن وہ دو قدم پیچھے ہٹ گئی ۔۔۔
” رہنے دو میں خود کر لوں گی ۔۔۔”
وہ بھی ایک نمبر کا ضدی نکلا ایک ہاتھ سے اس کے سر کو پکڑ کر اس کے ہونٹ سے خون صاف کرنے لگا ۔۔۔۔۔
دونوں کچھ دیر ایک دوسرے کی آنکھوں میں آنکھیں ڈالیں ایک دوسرے کو دیکھتے رہے ۔۔۔
☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆
ماضی
اس نے اسے اٹھا کر بیڈ پہ لٹایا ۔۔۔ہاسپیٹل اسٹاف آچکا تھا ۔۔۔
” ڈاکٹر یہ پھر سے کیوں بے ہوش ہوگئی ۔۔۔۔؟؟”
وہ ڈاکٹر کے چہرے پر پریشانی کے آثار دیکھ رہا تھا ۔۔۔
” اس کی حالت ٹھیک نہیں ۔۔آپ کے سوا اور اس کا کوئی قریبی رشتے دار موجود نہیں کیا ہاسپیٹل میں ۔۔۔ ؟۔۔”
سعادت نے نفی میں سر ہلایا ۔۔
” ابھی تو کوئی موجود نہیں ۔۔۔”
” ہم اسے آئی سی یو میں شفٹ کر رہے ہیں ابھی اس کی زندگی بچانا ہمارے لیے زیادہ اہم ہے ۔۔۔”
سعادت کے لیے بھی تو وہ ہی اہم تھی ۔
” جی ڈاکٹر آپ کو جو ٹھیک لگے ۔۔۔اخراجات کی کوئی فکر نہ کریں ۔۔۔”
وہ اسے اسٹریچر پہ لے کہ جا رہے تھے ۔۔اور وہ اسے کھڑا دیکھ رہا تھا ۔
☆☆☆☆☆♤♡♡◇◇◇◇
اسے ہاسپیٹل سے سات دن کے بعد ڈسچارج کر دیا گیا ۔۔تھا ۔
جتنے دن وہ ہاسپیٹل میں رہی وہ اس کے سامنے نہ آیا ۔۔
تاکے وہ جلد از جلد ٹھیک ہوسکے ۔۔۔وہ بس اسے سوتے ہوئے ہی دیکھتا
سحر ہی اس کی دیکھ بھال کر رہی تھی
☆☆☆☆☆♡♡◇◇◇◇◇◇
” امی میں گھر جانا چاہتی ہوں ۔۔۔” ممتاز بیگم تو خود نڈھال تھی ۔۔
بھری جوانی میں بیٹی بیوہ ہوچکی تھی ۔۔
جاری ہے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *