Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Intikam E Mohabbat by Esha Noor Episode15

Intikam E Mohabbat by Esha Noor Episode15

” بیٹھ جائو نا یار کھڑی کیوں ہو اتنے دن بعد دیکھ رہا ہوں ۔
جی بھر کے دیکھ تو لینے دے ۔۔اپنی زندگی کو ۔۔۔”
وہ تو جیسے مجسم ہو گئی اس کے پاس نہ الفاظ تھے نہ زبان ۔۔۔
” تم کل کہاں بھاگ گئی تھی ۔۔۔کیا ہوا تھا ۔۔۔میں تمہیں بھوت لگ رہا تھا ۔۔۔”
اس کا زندگی سے بھرپور قہقہہ ابھرا ۔۔
وہ اسکی دیوانگی دیکھ رہی تھی ۔۔۔۔
اس کی دیوانگی سے ڈر رہی تھی ۔۔۔۔
لیکن اسے مضبوط ہونا تھا ۔۔۔۔اسے اپنے والدین کو چننا تھا ۔۔۔
اسنے اس کے ہاتھ سے اپنا ہاتھ چھڑایا ۔۔۔خود کو مضبوط کیا ۔۔۔
” کیا ہوا شیری ۔۔۔تم کچھ بدلی بدلی لگ رہی ہو تم ٹھیک تو ہو ۔۔۔”
وہ اب اس کے چہرے کی طرف بغور دیکھ رہا تھا ۔۔
” سادی میری بات تحمل سے سنو ۔۔۔۔” اس نے ایک ٹھنڈی آہ بھری ۔۔
” سادی میرا رشتہ طے ہوگیا ہے ۔۔۔”
وہ دو قدم پیچھے ہٹ گیا ۔۔جیسے وہ گرنے لگا ہو ۔۔۔۔
” میری شادی ہونے والی ہے ۔۔۔”
” نہیں ایسا کچھ ممکن ہی نہیں ۔۔۔۔شیری صرف سادی کی ہے بس ۔۔۔اور کسی کی نہیں ۔
۔۔۔تمہیں کوئی اور دیکھے میں برداشت نہیں کر سکتا ۔۔۔تم مکلمل کسی کی ہوجائو ۔۔۔ایسا کوئی پیدا نہیں ہوا
وہ اس کی دیوانگی دیکھ کر لرز کر رہ گئی ۔۔۔۔
” یہ سچ ہے تم تسلیم کرو یا نہ کرو
” وہ سب کیا تھا ۔۔۔وہ پیار ۔۔وہ وعدے ۔۔۔وہ ۔۔وہ ۔۔سب “
اس نے اس کے دونوں شانے پکڑ کر اسے جھنجھوڑتے ہوئے کہا
” میں تمہارے ایک سال کے محبت کے آگے اپنے والدین کی بائیس سال کی محبت بھول جائوں ۔۔۔مجھے جانے دو سادی ۔۔۔مجھے جانے دو ۔۔۔میں آج کسی کی بیٹی بن کہ آئی ہوں تمہاری محبوبہ نہیں ۔۔۔”
وہ ہتھیلی کی پشت سے آنسو صاف کرنے لگی ۔
” خدا حافظ سادی ۔”
وہ الٹے قدموں واپس جا رہی تھی ۔۔۔اپنی زندگی وہی چھوڑ کے ۔۔
☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆
شھربانو کی شادی کو ایک مہینہ گذر چکا تھا ۔۔۔۔
پر جب بھی وہ سادی کی اور اپنی آخری الواداعی ملاقات یاد کرتی اندر تک دہل جاتی ۔۔۔سادی ۔۔۔کا وہ زرد پڑتا چہرہ ۔۔۔
وہ کانپتا وجود ۔۔۔اس کی آنکھوں کے سامنے گھوم جاتا۔۔۔
اسے ایسا لگتا وہ سادی کو قتل کر آئی ہے ۔۔۔
وہ تو وہی مر چکا تھا ۔۔۔۔
اس کا وجود تو اسے اس وقت بے جان ہی لگا ۔۔
وہ ایک مہینے بعد اپنے والدین کے گھر آئی تھی ۔۔راحیل اسے چھوڑ کے کلینک چلا گیا تھا ۔۔۔
” شھربانو میں دیکھ رہی ہوں تیرا بلکل دل نہیں لگتا اپنے گھر میں ۔۔”
وہ سر جھکائے ماں کو مٹر چھیلنے میں مدد کرنے لگی ۔۔۔
” امی آپ کہہ دے میں یہاں نہ آئوں ۔۔۔ایک مہینے بعد آئی ہوں ۔۔۔اس کے بعد بھی آپ یہ سب کہہ رہی ہیں ۔۔۔”
وہ سمجھ چکی تھی ۔۔اس کی ماں کا اشارہ کس جانب تھا ۔۔
پر نجانے کیوں وہ اس معمولی سی بات پر بھی غصہ۔ ہو گئی
وہ حد سے زیادہ چڑ چڑی ہو گئی تھی ۔۔۔
اس کا خود پہ ضبط ختم ہو رہا تھا ۔۔
اسے ہر وقت ایسا لگتا وہ ظالم ہے اس نے ایک معصوم شخص کا قتل کر دیا ہے ۔۔۔۔
( اور وہ کسی حد تک ٹھیک تھی واقعی میں معصوم سادی تو اسی دن مر چکا تھا ۔
وہ اسے دیکھ رہا تھا ۔۔۔۔اس کی زندگی اس کی جانب آرہی تھی ۔۔
اسے ایسا لگ رہا تھا ۔۔۔اس کا خون رگوں میں گردش کرنے لگا ہے ۔
وہ جو کہیں تھم گیا تھا ۔۔۔کہیں جم گیا تھا جدائی کے درد میں ۔۔۔
سانس رک رک کے چلتی تھی ۔۔۔اسے نئی تازا ہوا مل گئی تھی ۔۔۔اس کی سانس بحال ہو رہی تھی ۔۔۔۔
اس کی شیری اس کے پاس آرہی تھی ۔۔۔۔
اس کا بس چلتا وہ پلکیں بچھاتا ۔۔۔وہ وہاں قدم رکھتی ۔
وہ اس کے نزدیک آچکی تھی ۔۔۔وہ زمین پر تھا ہی نہیں ۔۔۔وہ تو کہیں بادلوں میں اڑ رہا تھا ۔۔۔۔اپنی شیری کے ہاتھ تھامے دنیا سے دور کسی خوبصورت دنیا میں ۔۔۔
ہوائوں کے لہروں میں ۔۔۔۔بادلوں کی بدلیوں میں ۔۔۔۔
لیکن اسے کیا پتہ تھا ۔۔۔
وہ خون رگوں میں بحال کرنے نہیں نچوڑنے آئی تھی ۔۔۔
وہ سانس بحال کرنے نہیں ۔۔ساکن کرنے آئی تھی ۔
وہ آسمان نہیں پاتال میں ڈالنے آئی تھی ۔۔۔وہ اسے کی روح کھینچ کے اسے دفنانے آئی تھی ۔
وہ شیری نہیں تھی ۔۔وہ موت کا پروانہ تھی ۔۔۔۔
وہ اسے سزائے موت سنا کہ سولی پہ لٹکا چھوڑ گئی ۔۔۔
وہ مر گیا تھا ۔۔۔سادی مر چکا تھا ۔۔۔۔
زندہ تھا تو بس انتقام ۔۔۔اس دنیا سے انتقام لینا تھا اپنی ہر محبوب چیز چھیننے کا انتقام ۔۔۔
وہ ایک مہینے سے سلگ رہا تھا ۔۔
۔وہ جب جب شھربانو کو راحیل کے ساتھ سوچتا اس کے اندر آتش فشاں ابلنے لگتا ۔۔۔
اس کا دل پتھر کا بن چکا تھا ۔۔۔رحم ہمدردی کس چیز کا نام ہے وہ بھولنے لگا تھا ۔۔۔۔
وہ بادل جس میں وہ۔ اڑنے لگا تھا وہ روز اس پہ بجلیاں گراتے وہ جل کہ بھسم ہو جاتا ۔۔۔۔
وہ تازا ہوا دھویں کی مانند ہو چکی تھی جس میں اسکا دم گھٹنے لگتا ۔۔۔۔
اس کے والد بھی خاندانی دشمنی کی بھینٹ چڑھ گئے ۔۔۔
سعادت کو مضبوط بننا تھا ۔۔۔۔
بہت جلد مضبوط بننا تھا ۔۔۔اسے پیسا چاہیے تھا ۔۔۔بہت زیادہ پیسا ۔۔۔
اس نے گاوں میں سب کچھ بیچ دیا ۔۔۔
اس کے خاندان میں اس کے دادا کے سواکچھ نہ تھا وہ اسے اپنے ساتھ لے آیا ۔۔۔۔
وہ غلط لوگوں کے ساتھ مل گیا ۔۔۔۔
☆☆☆☆☆☆♡♡♡♡
شھربانو کا ماضی اسے کہاں چھوڑتا ۔
شادی کے چار ماہ بعد ہی ۔۔سحر کے پہلے سسرال والے ۔۔۔راحیل کی ماں کے کان بھرنے لگے ۔۔۔
اور عورتوں سے بھی اس نے بہت کچھ سن رکھا تھا ۔۔۔
ایک عورت نے تو یہاں تک کہہ دیا ۔۔اس نے شادی سے پہلے ایک بچہ ضائع کروایا ہے ۔۔۔۔
” ایک لڑکا ممتاز والوں کے گھر آتا جاتا تھا پوری دنیا کو پتہ ہے ۔۔۔اب تو وہ چھٹا ہوا بدمعاش بن گیا ہے ۔۔۔سنا ہے تمہاری بہو کا اس سے چکر تھا ۔۔۔وہ لڑکا تو اب بھی اس کے پیچھے پڑا ہے اپنے بیٹے کی خیر منا ” ۔۔۔
اس عورت کی باتیں شھربانو کی زندگی میں طوفان برپا کر گئی ۔
راحیل پھر بھی اس کے ساتھ کھڑا تھا ۔۔۔۔
” امی میں نہیں مانتا ۔۔۔میری بانو پاک ہے یہ لوگ ایک فتنہ ہیں بس ۔۔۔”
“تیری آنکھوں پر تو بیوی کی پٹی پڑی ہے کھلے گی نہ تب پتہ چلے گا ” ۔۔۔
” آپ لوگ چاہتے ہیں میں گھر چھوڑ کے چلا جائوں تو ٹھیک ہے ۔۔۔بانو اپنا سامان پیک کرو ہمیں نہیں رہنا ۔۔۔۔یہاں جہاں میری بیوی کی کوئی عزت نہ ہو “
شھربانو راحیل کی محبت دیکھ کر اس پر دل وجان سے فدا ہو گئی ۔
اتنی عزت اور محبت اور وہ ماضی کا سوگ منا رہی تھی ۔۔
اس نے اس دن سے راحیل کو دل سے قبول کیا ۔۔۔
وہ اب اس کے سر کا تاج تھا ۔۔۔
وہ بھی اب اس کی دل جان سے خدمت کرنے لگی ۔۔۔
راحیل تو پہلے ہی اس کے حسن پہ فدا تھا۔۔۔
جب محبت بھی ملی ۔۔توچند ماہ میں ہی وہ مثالی جوڑی بن گئی
☆☆☆☆☆☆☆☆☆
راحیل کی ماں نے بھی بیٹے کے سامنے ہار مان لی ۔۔۔لیکن وہ خوشیاں بس کچھ دنوں کے لیے تھی ۔۔
کچھ لوگ کسی کو خوش نہیں دیکھ سکتے تھے ۔۔۔۔۔
شھربانو کے دشمنوں کی فہرست کچھ طویل ہی تھی ۔۔۔
☆☆☆☆☆☆♡♡♡
سعادت کو شھربانو ایک سال بعد ایک ریسٹورنٹ میں نظر آئی ۔۔۔
وہ تو سمجھا تھا وہ اس کی جدائی میں گھل رہی ہوگی ۔۔۔
لیکن وہ تو اور نکھر چکی تھی ۔۔۔
وہ دونوں ایک صوفے پہ بیٹھے تھے۔۔۔
شھربانو راحیل کے شانے پہ سر رکھے ہوئے تھی ۔۔۔
اور وہ اس کے چہرے سے بال ہٹاتا مسکراتا کچھ کہہ رہا تھا ۔۔
سعادت کے ہاتھ میں گلاس تڑاک سے ٹوٹا ۔۔۔گلاس کے کانچ اس کے ماس میں دھنس گیا ۔۔۔
درد تو کہیں اور اس شدت سے تھا کے ہاتھ کا درد ۔۔اسے محسوس تک نہ ہوا ۔۔۔
بیرے نے اسے جھنجھوڑا ۔۔۔تو اس نے ایک زوردار تھپڑ اس کے چہرے پہ رسید کیا ۔۔۔
اور خون ٹپکاتا ۔۔۔ریسٹورنٹ سے باہر کی جانب لپکا ۔۔۔جب اس کے راستے میں ایک شخص آیا ۔۔۔
” آپ کے ہاتھ سے خون نکل رہا آپ ہاسپیٹل چلیں بینڈج کروائیں ۔
اسنے اس شخص کی جانب دیکھا ۔۔۔وہی شخص تھا جو شھربانو کے ساتھ تھا۔۔۔
شھربانو سہمی اس کے پیچھے کھڑی تھی ۔۔
(” اس کی شیری اس سے ڈر رہی تھی ۔۔۔۔اس سے ڈر کے کسی اور کے پیچھے کھڑی تھی ۔
اسکا دل کیا پوری دنیا تہس نہس کر دے ۔۔
تہس نہس تو وہ دنیا کو ویسے بھی کر رہا تھا ۔۔۔منشیات ۔۔۔بینک رابری ۔۔۔حتی کہ ایک آدھ خون بھی اس کے ہاتھ سے ہو چکا تھا ۔۔۔
لیکن وہ جس با اثر شخص کے زیر اثر کام کرتا تھا اس کا کوئی نام بھی نہیں لے سکتا تھا ۔۔
اس نے ابھی ریسٹورنٹ سے نکل کرپیدل ہی کچھ فاصلہ طے کیا تھا ۔۔۔
سامنے سے ممتاز بیگم ہاتھ میں سبزی کا بیگ پکڑے ۔۔رکشے کے انتظار میں تھی ۔۔۔
اس نے جان بوجھ کے نظر انداز کیا۔۔۔لیکن ممتاز بیگم اس تک پہنچ چکی تھی ۔۔۔
اسے اس حالت میں دیکھ کر اس کی حالت ایسے غیر۔ ہونے لگی ۔۔۔جیسے اس سے اس کا خون کا رشتہ ہو ۔۔۔
” ارے سعادت بیٹا یہ چوٹ کیسے لگی اتنا خون ۔۔۔” اس نے اپنی چادر کا پلو پھاڑا اس کے ہاتھ میں لپیٹنے لگی ۔
سبزی کا بیگ تو اس کے ہاتھ سے اسے دیکھتی ہی گر گیا تھا ۔۔۔
وہ اس کا ہاتھ ایک چھوٹے سے بچے کی طرح پکڑ کر اسے لے جا رہی تھی ۔۔۔اور وہ بھی ایک چھوٹے سے بچے کی طرح خاموشی سے چلتا جا رہا تھا ۔۔۔
اس نے رکشہ روکا اور اسے اپنے ساتھ پہلے ہاسپیٹل لے گئی اور۔ پھر اپنے گھر لے آئی ۔۔۔
” کہاں تھا تو ۔۔۔بتا ۔۔۔ہم نے تیرا کتنا انتظار کیا ۔۔۔” اسے حیرت تھی ۔۔شھربانو نے انہیں کچھ نہیں بتایا تھا ۔۔
اور اسے اپنے والدین کا نام لے کر چھوڑنے کا کہہ گئی ۔۔۔
وہ اپنے ہاتھ سے نوالے توڑ توڑ کر اسے کھلانے لگی ۔۔۔
اس کی آنکھیں بھیگ گئی۔۔۔
” بیٹا بانو کی ہم نے شادی کر دی ۔۔۔ہمیں معاف کر دینا ۔۔۔بانو کی ایسی حالت ۔۔۔”
وہ کچھ کہتے کہتے رک گئی شاید کوئی آیا تھا ۔۔۔وہ دروازے کی جانب دیکھ رہئ تھی۔۔
” ارے بانو بیٹا ۔۔۔کیسے آنا ہوا ۔۔۔”
بانو کا نام سنتے ہی اسے اپنا پورا خون اپنی کنپٹیوں میں جمع ہوتا محسوس ہوا ۔۔۔
“اچھا امی میں چلتی ہوں آپ کے مہمان آئے ہوئے ہیں ۔۔۔
اس کے طنز بھرے الفاظ اسے اور اشتعال دلا رہے تھے
” ارے یہ تو اپنا سعادت ہے ۔۔۔کتنے دنوں بعد دیکھا پگلے کو خون نکل رہا تھا ۔۔۔کوئی پرواہ ہی نہیں تھی ۔۔زبردستی ہاسپیٹل لے گئی۔۔۔ٹانکے لگے ہیں ۔۔۔دیکھ کیا حال بنا دیا ہے ۔۔”
اس کے ماں کے الفاظ اس کے غصے کی آگ پر ہلکی پھوار کر رہے تھے ۔۔۔جس سے اس کا غصہ ٹھنڈا ہو رہا تھا۔۔۔
شھربانو اب اس کے سامنے آکے کھڑی ہو گئی۔۔۔
☆☆☆☆☆☆☆☆
“کیسے ہو سعادت ملک ۔۔۔غصے پہ قابو پانا نہیں آیا ۔۔۔”
اس کی آنکھوں میں جلن ہو رہی تھی
۔۔۔وہ اپنے سامنے رکھی میز کی جانب دیکھ رہا تھا ۔۔۔۔
اس کا رکنا اب محال تھا ۔۔۔
اس کا دل کیا وہ شھربانو کو وہی ختم کر دے ۔۔۔
دنیا میں ہر وجود کو ختم کر دے ۔
ماحول میں مکمل سکوت چھایا ہوا تھا ۔۔۔بس ہلکی سی ٹک ٹک آواز تھی ۔۔۔
وہ جانے کے لیے اٹھا ۔۔۔لیکن کچھ یاد آیا ۔۔۔اسے شھربانو سے
کچھ سوالوں کے جواب چاپیے تھے ۔۔۔
وہ جاتے ہوئے جب پلٹا ۔۔۔تو عین اس کے مقابل کھڑا تھا ۔۔۔
وہ اس سے چند قدم کے فاصلے پر ہی تھی ۔۔۔
جیسے ہی وہ پلٹا ۔۔۔۔
☆☆☆☆☆☆☆☆
جیسے ہی وہ پلٹا وہ اس کی سرخ ہوتی آنکھیں دیکھ کر گھبرا گئی ۔۔۔۔
وہ بس وہاں سے جانا چاہتی تھی ۔۔۔۔
بڑی مشکل سے وہ سعادت کی یادوں سے آزاد ہوئی تھی ۔۔۔اس کا ماضی پھر اس کے سامنے کھڑا تھا ۔۔۔۔
وہ بلکل اس کے مقابل آگیا
۔۔۔آنکھوں میں اس کے لیے شدید نفرت ۔۔۔اور غصہ تھا ۔۔۔۔
وہ اس کی آنکھوں میں اپنے لیے نفرت دیکھ کر تڑپ اٹھی ۔
” مجھے آپ سے کچھ سوالوں کے جواب چاہیے ۔۔۔بنت خادم حسین ۔۔۔۔”
شھربانو کی آنکھوں کے سامنے دھند چھانے لگا وہ دھند اس کی آنکھوں میں اتری نمی کی وجہ سے تھا ۔۔۔۔
” میرے ۔۔۔پاس آپ کے کسی سوال کا جواب نہیں ۔۔۔۔آپ یہاں سے چلے جائیں ۔
۔۔پہلے ہی بہت باتیں بن چکی ہے ۔۔۔۔
آپ کا اب میری زندگی میں کوئی وجود نہیں ہے ۔۔۔۔
میں صرف راحیل سے محبت کرتی ہوں ۔۔۔۔
اس کی محبت کی نشانی ۔۔۔ہمارا آنے والا ۔۔بچہ ہے ۔۔۔
اس کی آواز لرز رہی تھی ۔۔۔نجانے کیوں وہ اتنی بڑی تمہید باندھ گئی ۔۔۔
” واہ کیا بات ہے آپ کی محبت کی ۔۔۔کل کسی اور سے آج کسی اور سے کل پھر کسی اور سے ۔۔۔۔
محبت میں بھی سوداگری ۔۔۔۔۔کیا کہنے ہیں بنت خادم حسین آپ کے
” وہ کوئی اور نہیں میرے شوہر ہیں ۔۔۔۔۔اس سے محبت کرنا مجھ پر فرض ہے ۔۔۔۔”
” اور ہم سے محبت کرنا ۔۔۔۔وہ کیا تھا ۔۔۔۔دل لگی ۔۔۔۔آپ کی زبان میں کہیں تو ٹائم پاس ۔۔۔۔
اس دن بڑی جلدی تھی آپ کو جانے کی ۔۔۔۔
اپنی سنا کے چل دی ۔۔۔۔تھی بنت خادم حسین “
” میرا نام شھربانو ہے ۔۔۔”
” میں وہ نام نہیں لے سکتا اس نام سے اس کے وجود سے اب میرا صرف ایک ہی تعلق ہے ۔۔۔۔ایک ہی رشتہ ہے ۔۔۔
اور وہ ہے نفرت کا ۔۔۔۔
اس کے نام کا اب ۔۔۔۔” وہ ہوا میں کراس کا نشان بنا کے بولا ۔
۔۔” کوئی وجود نہیں ۔۔۔سب ختم “
وہ بلکل اس کے نزدیک آیا ۔۔۔اس کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر ۔۔۔کہا
” سادی مر گیا ۔۔۔مار دیا تم نے اسے ۔۔۔۔یہ وجود بس انتقام لینے کے لیے ہے ۔۔۔۔سادی کا انتقام اس کے والدین کا انتقام اس کے بھائی کا انتقام ۔۔۔۔۔۔اس وجود کا ایک ہی نام ہے ۔۔۔وہ ہے بس انتقام انتقام انتقام ۔۔۔”
وہ کانپ کر رہ گئی ۔۔
وہ جا چکا تھا ۔۔۔وہ موم کی طرح پگھلنے لگی ۔۔۔۔
وہ ۔۔
اس کی تپش سے پگھلنے لگی ۔۔۔۔۔
وہ اسے پگھلا کے اس کے وجود کو زمین بوس کر گیا ۔۔
اسکا دل اس کا خون دیکھ کر لرز گیا تھا ۔۔۔وہ غصے میں قابو پانے کے لیے مٹھیاں بھینچ رہا تھا۔۔۔۔جس سے اسکے زخم سے پھر خون رسنے لگا تھا ۔۔۔۔
” سادی تم کیا جانو ۔۔۔۔تمہاری شیری کتنی آزمائشیں اور امتحان دے کر یہاں تک پہنچی تھی ۔۔
کس طرح اس نے خود کو پتھر کیا تھا۔۔۔۔
تم نے ایک جھٹکے میں اس مورت کو پاش پاش کر دیا۔
کیسے سمیٹے گی وہ اس پتھر کے ٹکڑوں کو کیسے پھر سے وہ اپنی مورتی بنائے گی ۔۔۔۔
تم تو مجھ سے نفرت کرتے ہو لیکن میں تو وہ بھی نہیں کر سکتی ۔۔۔نامحبت کر سکتی ہوں نا نفرت کر سکتی ہوں ۔۔۔۔
میں وہ کشتی ہوں جو نہ ڈوب سکتی ہوں نہ تیر سکتی ہوں ۔
وہ اپنے کمرے میں بلک بلک کے رونے لگی ۔۔۔
” بانو ۔۔کہاں گئی ۔۔۔”
وہ اپنی ماں کی آواز سنتے ہی ۔۔۔
آنسو صاف کیے ۔۔۔۔۔جگ میں پانی تھا اپنے چہرے پہ چھینٹے مارے ۔۔۔اپنا چہرہ آئینے میں دیکھا ۔۔۔
اسے کچھ بہتر لگا ۔۔۔
وہ کمرے سے باہر آئی ۔۔۔۔” ارے بانو سعادت کہاں گیا ۔۔۔میں پڑوس سے دودھ لینے گئی تھی ۔۔۔
تم اسے روکتی ۔۔۔تو سہی۔۔۔”
” کسے روکتی ۔۔؟؟۔” اچانک راحیل کی آواز سے دونوں چونک گئی ۔
” ارے بیٹا تم کب آئے
” میں کچھ دیر پہلے آیا تھا ۔۔۔۔۔بانو یاد ہے آج ریسٹورنٹ میں ایک لڑکا ملا تھا ۔۔جس نے اپنا ہاتھ کاٹ لیا تھا ۔۔۔
اور بیرے کو بھی غصے میں تھپڑ مارا تھا۔۔۔۔”
اس۔ نے اثبات میں سر ہلایا ۔۔۔
—–‘——–*—–‘*—-
وہی لڑکا مجھے ابھی راستے میں ملا ۔۔۔کیا وہ یہاں پڑوس میں رہتا ہے ۔۔۔؟؟”
اس کے سوال پر شھربانو کو اپنی سانس رکتی ہوئی محسوس ہوئی ۔۔۔۔
جتنا وہ ماضی سے بھاگنا چاہتی تھی ۔۔۔ماضی پلٹ کر سامنے آجاتا ۔۔۔۔
ممتاز بیگم نے جیسے ہی کچھ بتانے کی کوشش کی ۔۔۔شھربانو نے نفی میں سر ہلا کہ نا بتانے کا اشارہ دیا ۔۔
” آپ جلدی واپس آگئے ۔۔۔” شھربانو اپنی گھبراہٹ چھپانے میں کسی حد تک کامیاب ہو گئ تھی ۔۔۔
” کیوں مجھے نہیں آنا چاہیے تھا ۔۔۔” سامنے سے راحیل نے مسکرا کر کہا ۔۔۔
“نہیں نہیں میں نے یہ تو نہیں کہا ” ۔۔شھربانو پلو سے اپنی پیشانی سے پسینہ صاف کرنے لگی ۔
اسے گھبراہٹ میں اپنا دل اپنی ہتھیلی پہ دھڑکتا محسوس ہوا
(” مجھے کیا ہو رہا ہے ۔۔۔
میں اتنی کیوں پریشان ہو رہی ہوں
” تم ٹھیک ہو ۔۔۔بانو کیا ہواہے ۔۔” جس طرح وہ گھبرا رہی تھی ۔۔راحیل کا سوال پوچھنا بجا تھا ۔
” نہیں ایسی کوئی بات نہیں ہے ۔۔۔
وہ اس کو چہرے کو تکنے لگا ۔۔۔
شھربانو کو لگا جیسے اس نے چوری کی ہو ۔۔سامنے بیٹھا کوتوال اس کی چوری پکڑ لے گا۔۔۔
” گھر چلیں۔۔۔آپ مجھے لینے آئیں ہیں نا ۔۔
” نہیں میں یہ بتانے آیا تھا ۔۔۔میں دو دن کے لیے شھر سے باہر جا رہا ہوں
۔۔۔ملتان سائیڈ ۔۔تب تک تم آنٹی کے پاس رکو ۔۔۔بھئی ان کا بھی تم پر حق ہے ۔۔۔
ممتاز بیگم اپنے داماد کے سامنے چائے رکھ رہی تھی ۔۔
“امی آپ نے کیوں تکلیف کی میں بنا لیتی ۔۔
” میں ذرا جلدی میں تھا ۔۔۔پر آنٹی کے چائے کون چھوڑ کے جا سکتا ہے ۔۔۔”
وہ ایسا ہی تھا سب کا خیال رکھنے والا شھربانو سے بے حد محبت کرنے والا ۔۔۔
خوش اخلاق ۔۔۔۔ہنس مکھ ۔۔۔۔۔مسکراہٹیں بکھیرنے والا ۔۔۔۔
وہ چائے پی کر جا چکا تھا ۔۔۔۔اب ممتاز بیگم کے سوالات کے جوابات دینے کا وقت تھا ۔۔۔۔
☆☆☆☆♡♡♡♡♡◇◇♡♡♡
حال
(” یہ مجھے اس لڑکی پہ رحم کیوں آجاتا پے ۔۔
وہ اسے اب حقارت اور نفرت سے دیکھنے لگا ۔۔
دو گھنٹے تک جیپ میں مکلمل خاموشی رہی ۔
بہت ہی زیادہ خطرناک راستہ تھا ۔۔۔جیپ ایک جگہ آکر رک گئی ۔
تاحد نظر کوئی بڑی سڑک نظر نہیں آرہی تھی ۔۔۔ایک پگڈنڈی سی بنی تھی ۔۔۔
سامنے بیٹھا شخص ۔بار ۔۔بار گھڑی دیکھ رہا تھا ۔۔۔
تیزی سے پیچھے ایک سفید رومال ۔ لڑکی کے چہرے کی جانب لے گیا ۔۔۔
مطھر کچھ سمجھتا ۔۔وہ لڑکی لڑھک کر اس کے گود میں گر گئی ۔
” یہ کیا کر دیا آپ نے ۔۔” ۔۔۔
اس شخص نے غصے سے اسے گھورا ۔۔۔اس کے منہ سے جیسے کسی نے زبان کھینچ لی ہو ۔
” سنو ۔۔۔لڑکے آگے گاڑی نہیں جا سکتی پیدل راستہ ہے ۔۔لیکن میں نے ایک شخص کو گھوڑے لانے کا کہہ دیا ہے ۔۔۔وہ ابھی لاتے ہوں گے ۔۔۔وہ تمہیں مطلوبہ جگہ لے جائیں گے ۔۔۔دو یا تین گھنٹے لگے گے ۔۔۔کوئی ہوشیاری نہیں کرنا ۔۔۔ورنہ ۔۔۔وہ بھی میرے آدمی ہیں”
سامنے والے شخص نے ان پر نظریں گاڑ رکھی تھی ۔۔
جیسے اس کا ایکسرے نکال رہا ہو ۔۔
کچھ دیر میں دو شخص دو گھوڑے ساتھ لائے ۔۔۔
وہ شخص اب لڑکی کو اٹھانے کے لیے اس طرف لپکا ۔۔۔
نجانے کیوں پر وہ۔ نہیں چاہتا تھا ۔۔۔
کہ کوئی دوسرا شخص اسے ہاتھ لگائے ۔۔۔۔
” میں اٹھا لیتا ہوں ۔۔۔
اس شخص نے سر کو ہلکی جنبش دی ۔۔
عجیب کیفیت تھی ۔۔۔نہ خود قریب جانے کو دل کرتا ۔۔۔نہ کسی اور کو جانے دیتا ۔۔
اس نے کسی بے جان چیز کی طرح اس موم کی گڑیا کو گھوڑے پہ لادا ۔۔۔
اس شخص نے اشارے سے اسے بھی بیٹھنے کا اشارہ کیا ۔۔۔
وہ بھی اسی گھوڑے پر سوار ہوا ۔۔۔جس میں سھل کا بے ہوش وجود لادا گیا ۔۔۔
اسے گھوڑے سواری زیادہ نہیں آتی تھی ۔۔۔لیکن کبھی تفریح مقامات پر وہ گھوڑے سواری کر چکا تھا ۔۔۔
وہ ایک گڑیا کی طرح جھول رہی تھی ۔۔۔
راستہ کافی دشوار تھا ۔
” وہاں میرے آدمی تمہیں آگے کا لائحہ عمل سمجھا دیں گے ۔۔۔کوئی ہوشیاری کرنے کی کوشش مت کرنا ۔۔۔
آرام سے اس جگہ رہ سکتے ہو ۔۔۔
تین مہینے تمہارے لیے کوئی مشکل نہیں ۔۔۔۔
وہاں سے بھگانے یا بھاگنے کا سوچنابھی مت ۔۔۔مار کہ یہی پھینک دے گے کسی کو تمہاری لاش بھی نہیں ملے گی ۔۔۔
سمجھ گئے ۔۔۔”
وہ بس اثبات میں سر ہلانے لگا ۔۔۔
وہ وہی کھڑے رہے ۔۔۔۔۔۔اور وہ آگے کونکل چکے تھے ۔۔۔
کہاں جانا تھا کہاں منزل تھی کتنا سفر تھا ۔۔۔
وہ کچھ نہ جانتا تھا ۔۔۔
کسی حد تک تو مغوی وہ بھی تھا ۔۔۔
ایک پہ انسان تو ایک پر ان کی چیزیں لاد دی گئی ۔۔۔
وہ اونچے نیچے ناہموار راستوں پہ گامزن تھے ۔۔۔
خون جما دینے والی سردی ۔
پہاڑی ویران راستہ ۔۔
عجیب سی پرسراریت ۔۔۔اسے وحشت ہونے لگی اس ماحول سے ۔۔
☆☆☆◇◇◇◇◇◇
” میڈم آپ کے لیے کھانا لگا دے ۔۔”
شھربانو سامنے دیوار پہ لگی ایل ای ڈی ۔۔۔پر بلاوجہ چینل بدل رہی تھی ۔۔۔جب اس کی نوکرانی ۔۔
نے آکر اس سے کھانے کا پوچھا ۔۔۔۔
” آپ کے صاحب نہیں آئے ۔۔۔”وہ اب بھی نوکرانی کی جانب نہیں دیکھ رہی تھی ۔۔
وہ مسلسل چینل بدل رہی تھی ۔۔۔
” صاحب کی کال آئی تھی وہ آج رات فارم ہاوس میں گزاریں گے ۔۔”
شھربانو نے غصے سے نوکرانی کی جانب دیکھا ۔۔۔
وہ سر جھکائے کمرے سے باہر چلی گئی ۔۔۔
” میں جانتی ہوں ۔۔۔وہ فارم ہاوس میں کیوں رات گزارنے گئے ہیں ۔۔۔”
اس نے اپنی گاڑی کی چابی اور بیگ اٹھایا ۔۔۔تیز تیز قدم اٹھاتی کمرے سے باہر چلی گئی ۔
ڈرائیور کی بجائے گاڑی خود ڈرائیو کرنے لگی ۔۔
” سعادت تم کیا سمجھتے ہو تم جو چاہو کرتے رہو ۔۔۔میں خاموش تماشائی بنی رہوں ۔۔۔
نہیں سعادت ۔۔ میں ایک ماں ہو بس ایک ماں
☆☆☆☆♡◇◇◇◇◇◇
دو گھنٹے کے بعد وہ دونوں شخص ایک غار کے سامنے آ رکے ۔۔۔
غار کیا تھی ۔۔۔اس میں ایک جدید طرز کا دروازہ بنا تھا۔۔۔
ایک شخص نے اپنا ہاتھ رکھا ۔۔
غار کا دروازہ کھلتا چلا گیا ۔۔
” لڑکی کو اٹھائو۔۔۔”
اس شخص نے اس پر حکم صادر کیا۔۔۔
گھوڑے کی سواری نے اسے تھکا دیا تھا ۔۔۔۔
اسے اب وہ لڑکی بھی بھاری لگنے لگی تھی ۔۔۔
وہ ایک سرنگ نما جگہ تھی۔۔۔
” کھڑا کیوں ہے اندر چل ۔۔۔” اس شخص نے اسے اپنے پیچھے آنے کا کہا ۔۔۔
اسے اس عجیب سی جگہ سے خوف آنے لگا ۔۔۔
دس منٹ چلنے کے بعد اس سرنگ کی دوسری طرف ۔۔۔پہاڑ میں شاندار مہمان خانہ بنا تھا ۔۔۔۔
اس شخص نے پھر سے اس دروازے پہ ہاتھ رکھا ۔۔۔اب کی بار اسے بھی ہاتھ رکھنے کا کہا گیا ۔۔۔
دروازہ کھلا ۔۔۔تو اس پہاڑی ویران علاقے میں پہاڑوں کے وسط میں شاندار بنگلہ نما کاٹیج بناہوا تھا
شاید کوئی تصور بھی نہ کر سکتا ہو کہ یہاں ایسا کچھ ہوگا وہ ایک خفیہ جگہ تھی ۔۔۔
اس نے اسے اندر چلنے کا اشارہ دیا ۔۔۔۔
تین بیڈ روم لائونج ۔۔۔مطلب کی ہر چیز موجود تھی۔۔۔
” یہاں جنریٹر موجود ہے ۔
۔۔جس سے بیٹری چارج ہو جائے گی ۔۔۔لائٹ سولر سسٹم ہے لیکن سردی کی وجہ سے اس میں تھوڑی مشکل ہے یہاں لائٹ کم جاتی لیکن موسم جب خراب ہو جائے تو پھر آتی کم ہے ۔۔۔”
وہ اسے وہاں رہنے کے طریقے سمجھانے لگا ۔۔۔
” ہم چلتے ہیں ۔۔لڑکی سے دور ہی رہنا ۔۔۔یہاں کیمرے موجود ہے ۔۔۔سمجھ گئے ہم اب چلتے ہیں ایک دو دن میں پھر ملاقات ہوگی ۔۔۔”
” سنیں میں باہر کیسے نکلوں گا ۔۔۔”
اس کے دل میں جو خدشات سر اٹھا رہے تھے آخر اس نے اس کا تذکرہ کر ہی دیا ۔۔۔
اس شخص کے چہرے پہ ایک بھیانک مسکراہٹ آئی۔۔
جاری ہے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *