Intikam E Mohabbat by Esha Noor NovelR50798 Intikam E Mohabbat by Esha Noor Episode31
No Download Link
253K
35
Rate this Novel
Intikam E Mohabbat by Esha Noor Episode01 Intikam E Mohabbat by Esha Noor Episode02 Intikam E Mohabbat by Esha Noor Episode03 Intikam E Mohabbat by Esha Noor Episode04 Intikam E Mohabbat by Esha Noor Episode05 Intikam E Mohabbat by Esha Noor Episode06 Intikam E Mohabbat by Esha Noor Episode07 Intikam E Mohabbat by Esha Noor Episode08 Intikam E Mohabbat by Esha Noor Episode09 Intikam E Mohabbat by Esha Noor Episode10 Intikam E Mohabbat by Esha Noor Episode11 Intikam E Mohabbat by Esha Noor Episode12 Intikam E Mohabbat by Esha Noor Episode13 Intikam E Mohabbat by Esha Noor Episode14 Intikam E Mohabbat by Esha Noor Episode15 Intikam E Mohabbat by Esha Noor Episode16 Intikam E Mohabbat by Esha Noor Episode17 Intikam E Mohabbat by Esha Noor Episode18 Intikam E Mohabbat by Esha Noor Episode19 Intikam E Mohabbat by Esha Noor Episode20 Intikam E Mohabbat by Esha Noor Episode21 Intikam E Mohabbat by Esha Noor Episode22 Intikam E Mohabbat by Esha Noor Episode23 Intikam E Mohabbat by Esha Noor Episode24 Intikam E Mohabbat by Esha Noor Episode25 Intikam E Mohabbat by Esha Noor Episode26 Intikam E Mohabbat by Esha Noor Episode27 Intikam E Mohabbat by Esha Noor Episode28 Intikam E Mohabbat by Esha Noor Episode29 Intikam E Mohabbat by Esha Noor Episode30 Intikam E Mohabbat by Esha Noor Episode31 (Watching)Intikam E Mohabbat by Esha Noor Episode32 Intikam E Mohabbat by Esha Noor Episode33 Intikam E Mohabbat by Esha Noor Episode34 Intikam E Mohabbat by Esha Noor Last Episode
Intikam E Mohabbat by Esha Noor Episode31
Intikam E Mohabbat by Esha Noor Episode31
” اچھا اور بھی بہت کچھ ہوتا ہے وہاں” وہ پھر مسکرا کے گویا ہوا ۔۔۔۔شھربانو رخسار تلے ہتھیلی رکھے انہماک سے اس کی باتیں سننے لگی ۔۔۔” پتا ہے وہاں ۔۔۔دن جتنا خوبصورت ہوتا ہے رات اتنی ہی خوفناک ۔۔۔”
شھربانو نے حیرت اور معصومیت سے اس کی طرف دیکھا ۔۔۔” رات خوفناک کیوں ۔۔۔”؟
اس نے زور کا قہقہہ لگایا ۔۔۔” کیونکہ تم ڈر کے مجھ سے لپٹ جائو ۔۔
اس کے گال شرم سے گلابی پڑ گئے ۔۔۔۔” بے شرم ” وہ دوڑتی ہوئی اس سے دور بھاگتی گئی۔۔۔اور وہ کافی دیر تک قہقہہ لگاتا رہا ۔۔)
سعادت کی آنکھوں میں نمی اور ہونٹوں پر مسکراہٹ پھیل گئی ۔۔۔۔
آج بھی وہی منظر تھا ۔۔۔پہاڑوں پر دور دور تک چاندی پھیلی تھی ۔۔۔۔
دن خوابوں کی مانند خوبصورت اور رات اتنی ہی بھیانک تھی ۔۔۔لیکن کچھ نہیں تھا تو وہ ان دونوں کی محبت
☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆
وہ کھڑکی کے پاس کھڑی سھل کے بارے میں سوچ رہی تھی ۔۔۔جب سردی سے ہاتھ ملتا سعادت اندر داخل ہوا ۔۔۔۔
” تم ابھی تک سوئی نہیں ؟؟؟۔
اس نے بس ایک نظر سعادت کو دیکھا ۔۔۔۔نجانے کیوں آج اس کے دل میں سعادت کے لیے وہ نفرت نہیں تھی
عجیب سی اداسی ہر سوپھیلی تھی۔۔۔اس نے گردن نفی میں ہلائی ۔۔
اس نے ایک نظر سعادت پہ ڈالی پھر سے نظریں پھیر کے کھڑکی کے پار سیاہ کالی رات میں ۔۔اس چھوٹے سے شہر اور اس پر چھائے گھنے سیاہ بادل دیکھنے لگی ۔۔۔۔۔کچھ ہی فاصلے پر دریائے سوات سست روی سے بہہ رہا تھا ۔۔۔۔
ایک تیز خوشبو اس کے بلکل قریب تھی ۔۔۔
” شیری کیا سوچ رہی ہو ۔۔۔” اس کا لہجہ نہایت ہی دھیمہ تھا ۔۔۔
” پتا ہے آج ہمارا ماضی مجھے بار بار یاد آرہا تھا ۔۔۔۔جیسے سامنے کوئی فلم چل رہی ہو ۔۔۔۔میں نے اکثر کتابوں میں پڑھا ایسا تبھی ہوتا جب ۔۔۔آپ مستقبل میں جا رہے ہو ۔۔۔۔۔مجھے ایسا کیوں لگ رہا ہے جیسے کچھ ہونے والا ہو ۔۔۔”
کچھ پل کے لیے شھربانو کا دل ڈوب کے ابھرا ۔۔۔۔
اس نے ایک سرد آہ بھری ۔۔۔۔
” شیری تجھے پتا ہے ہم یونی میں پیڑ کے نیچے ایک دوسرے کے مقابل بیٹھ کے کیا باتیں کرتے تھے ۔۔۔
وہ مسلسل کھڑکی کے پار دیکھ رہی تھی ۔۔۔۔۔
جہاں اب روئی کی گالے آسمان سے گرنے لگے تھے ۔۔۔۔
” جب میں اور تم نہیں تھے صرف ہم تھے ۔۔۔۔۔” وہ کچھ پل ٹھہرا ۔۔۔۔
” ہم تب بھی ایک دوسرے کے مقابل ہی بیٹھتے تھے ۔۔۔۔میں نہیں جانتا تھا ہم ہمیشہ مقابل ہی رہیں گے کبھی ساتھ نہیں ہوں گے ۔۔۔۔”
وہ چپ چاپ کھڑی رہی ۔۔۔۔
سعادت نے ہاتھ بڑھا کر کھڑکی کھولی ۔۔۔۔
ہاتھ باہر نکال کے ہتھیلی پھیلائی ۔۔وہ روئی کی مانند نرم برف اب اس کی ہتھیلی پر گر رہی تھی ۔۔۔
اس نے بھی بازو پھیلا کہ اپنا ہاتھ کھڑکی سے باہر نکالا
۔سعادت نے اپنے ہتھیلی پر اس کا ہاتھ رکھ لیا ۔۔۔۔
نجانے کیوں اس نے اپنا ہاتھ پیچھے نہیں کیا ۔۔۔
سعادت نے اس کا ہاتھ اپنے ہاتھ میں لے لیا ۔۔۔
” شیری ۔۔۔تم ہمیشہ پوچھتی تھی ۔۔۔(” مجھ میں ایسا کیا دیکھا تم نے!!!۔۔۔۔ اس یونی میں ایک سے بڑھ کر ایک لڑکی ہے ۔۔۔”ا)
” اور میں ہمیشہ یہی کہتا رہا ۔۔۔ وقت آنے ہر بتاوں گا۔پتہ ہے شیری ۔۔۔۔وہ وقت کونساتھا ۔۔۔۔
لیکن وہ خاموش رہی ۔
۔۔۔” وہ ہماری شادی کی پہلی رات تھی ۔۔۔۔مجھے اس رات تم سے ڈھیر ساری باتیں کرنی تھی ۔۔۔۔تیرے حسن پہ شعر پڑھنے تھے ۔۔۔۔لیکن وہ رات تو آئی ہی نہیں ۔۔۔۔شادی تو ہو گئی لیکن وہ خوبصورت رات ہماری زندگی میں کبھی آئی ہی نہیں ۔۔۔”
اس نے گردن پھیر کہ اسے دیکھا ۔۔اس کے ہاتھ سے اپنا ہاتھ الگ کیا ۔۔۔۔
” پتہ ہے تم میں ایسا کیا تھا جو میری نظر نے تجھ میں دیکھا ۔۔۔۔”
اس نے کوئی سوال نہیں کیا ۔۔۔شاید وہ سمجھ چکا تھا وہ یہ سب سننا چاہتی تھی ۔۔۔۔
اسے تو بس سعادت کی توجہ ہٹانی تھی ۔۔۔۔لیکن دل میں ایک اور خدشات نے سر اٹھایا ۔۔
۔( ۔” وہ جب باہر گیا تھا ۔۔۔اس نے سھل کے بارے میں کوئی حکمت عملی نا تیار کر لی ہو ۔۔۔مجھے اس کے ساتھ جانا چاہیے تھا ۔۔۔۔یہ میں نے کیا کر دیا ۔شاید وہ اپنا کام۔کر چکا ہے ۔۔۔تبھی یہاں کھڑے ہو کر ماضی کے بکواس قصے سنا کہ میری توجہ ہٹا رہا ہے ۔۔۔”)
وہ کیا کہہ رہا تھا کیا بول چکا تھا ۔۔۔اس نے کچھ نہیں سنا تھا ۔۔۔اس کا ذہن واپس اس کمرے میں پلٹا ۔۔تب تک وہ دوسرا موضوع شروع کر چکا تھا ۔۔۔۔
” میں آنٹی اور آپ کے ابو کو پہلے سے جانتا تھا ۔۔۔لیکن یہ نہیں پتہ تھا ۔۔۔وہ تمہارے امی ابو ہیں ۔۔پہلی ملاقات تب ہوئی جب ۔۔وہ بھاری بھرکم سامان ۔۔۔ گھر کے اندر لے کر جا رہے تھے ۔۔۔اس وقت میں نے اور میرے دوستوں نے انکل کی مدد کی تھی ۔۔۔دوسری مرتبہ جب آپ کے ابو کی طبیعت خراب ہوئی تھی ۔۔۔گھر میں کوئی بھی موجود نہیں تھا ۔۔۔اس وقت تمہاری امی ہمارے پاس آئی تھی ۔۔۔اس کے بعد آنے جانے کا سلسلہ چل پڑا تھا ۔۔۔
لیکن میں تب بھی یہ نہیں جانتا تھا ۔۔۔تم ان کی بیٹی ہو ۔۔۔مجھے امی نے کہا تم میری بیٹی سے شادی کرو گے ؟؟؟۔۔۔میں نے انہیں سوچنے کا کہہ کر کر ٹال دیا تھا ۔۔۔تبھی مجھے زوہیب نے بتایا ۔۔۔کہ تم ہی ان کی بیٹی ہو ۔۔واقعی میں یہ سب حسن اتفاق تھا ۔۔یا واقعی زمین گول تھی ۔۔۔
وہ سب باتیں واقعی اس کے لیے نئی تھی ۔۔۔۔کیا وہ ان کی پہلی رات تھی ۔۔۔۔یا آخری ۔۔۔وہ اسی سوچ میں ڈوبی تھی ۔۔۔
☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆
” کیا باہر سنوفال ہو رہی ہے ” سھل کے چہرے پہ عجیب سی چمک پیدا ہوئی ۔۔
” جی لیکن آپ باہر نہیں جا سکتی ۔۔۔باہر سردی بہت زیادہ ہے ۔۔اور آپ پہلے بھی زیادہ سردی لگنے سے بے ہوش ہو گئی تھی ۔۔۔”
نرس اس کے پاس کھڑی اسے انجیکشن دے رہی تھی ۔۔
” آپ ڈاکٹر سے پوچھ لیں ۔” انجیکشن کی وجہ سے اس کے منہ سے دبی سی سی نکلی ۔۔۔” ۔۔بس پانچ منٹ کے لیے ۔۔۔” وہ اب اس نرس کی منتیں کرنے لگی تھی ۔۔۔۔
وہ سنوفال کی دیوانی تھی ۔۔۔۔” مجھے سنوفال بہت بہت زیادہ پسند ہے
پتا ہے یورپ میں بھی جب سب گھروں میں تھی گھس جاتے ۔۔۔میں سنوفال میں بھیگ رہی ہوتی تھی “
اس نرس نے اس کی طرف دیکھا ۔۔۔۔” میں ڈاکٹر سے بات کرتی ہوں ۔۔
وہ اس کمرے سے باہر چلی گئی ۔۔
وہ شال لپیٹے ۔۔۔سر گھٹنوں پہ رکھے ۔۔۔ڈاکٹر کے جواب کی منتظر بیٹھی تھی ۔
ڈاکٹر کب کمرے میں داخل ہوا اسے پتہ تک نہیں چلا اسے تو بس اس کی آواز نے چونکا دیا ۔۔
” تو اب سھل میڈم کو باہر سنوفال انجوائے کرنی ہے ۔۔۔”
ڈاکٹر نے مسکرا کر اس کی فائل ہاتھ میں اٹھالی ۔۔۔۔
لمبا قد گورہ رنگ فوجی کٹ بال کا ایک نہایت خوبرو نوجوان اس کے سامنے کھڑا تھا ۔۔۔
وہ پہلی نظر میں کسی کوبھی متاثر کر سکتا تھا ۔
اس نے کچھ منٹ تک اس شخص کا جائزہ لیا ۔۔۔۔
” جی کیا مجھے اجازت مل سکتی ہے ۔۔۔۔۔؟
وہ کسی حد تک خود کو مہذب رکھنے کی کوشش کر رہی تھی ۔
یہ تو وہ جان چکی تھی وہ کسی آرمی کیمپ میں موجود ہے ۔۔۔۔” آپ صرف دو منٹ کے لیے باہر جاسکتی ہیں ۔۔۔۔” اس شخص نے گھڑی کی جانب دیکھا ۔۔دو منٹ مین ۔۔۔دو منٹ ۔۔۔۔” اس کا لہجہ حکمیہ تھا ۔۔
اس نے سر کو ہلکی جنبش دی ۔۔۔اور بھاگتی ہوئی باہر کی طرف گئی ۔۔
نرس اس ڈاکٹر سے اس کے بارے میں کچھ کہہ رہی تھی پر سننا کسے تھا ۔۔
اسے تو ملے ہی دو منٹ تھے
☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆
مطھر جہاں بھر کی اداسی لیے آج پھر ملک ہاوس کے باہر کھڑا تھا ۔۔۔۔۔
” مجھے وہاں سے نہیں آنا چاہیے تھا ۔۔۔۔۔چاہے کچھ بھی ہوجاتا ۔۔۔۔”
وہ پچھلے دو گھنٹے سے اس گھر کے سامنے بیٹھا سھل کو وہاں چھوڑ کر آنے پر پچھتا رہا تھا ۔۔۔وہ کب سے مین گیٹ پر ٹکٹکی باندھے دیکھ رہا تھا ۔۔نوکروں کے آنے جانے کے سوا وہاں کوئی غیر معمولی نقل وحرکت نہیں تھی ۔۔۔۔
” یہ لوگ آخر کہاں جا سکتے ہیں ۔۔۔کیا سھل ابھی تک گھر نہیں آئی تھی ۔۔۔؟؟؟۔۔۔۔وہ کیسی ہوگی کہاں ہوگی سعادت صاحب تو آفس میں بھی نہیں تھے ۔۔۔۔کہیں وہ لوگ ۔۔کہیں وہ لوگ واپس لندن تو نہیں چلے گئے ۔۔۔۔۔؟؟؟” اس کے ذہن میں ہزاروں سوال۔اٹھنے لگے ۔۔۔۔اس سوچ ہی نے جیسے اس کے پیروں تلے سے زمین کھینچ لی تھی ۔۔۔
☆☆◇◇◇◇◇◇◇◇◇◇◇
ماضی
” شھربانو میرے بچے کو کچھ ہوا ۔۔۔تو شاید میں تمہارے بچے کو بھی نا رہنے دوں ۔۔۔”
آج پھر اس کی برداشت جواب دے گئی ۔۔۔
وہ آج پھر نا چاہتے ہوئے بھی شھربانو پہ برہم ہو رہا تھا ۔۔
ممتاز بیگم کے ہوتے ہوئے بھی شھربانو کو سنبھالنا اب اس کے لیے مشکل ہوتا جا رہا تھا
” تم میری بچی کے پاس بھی نہیں پھٹکو گے سمجھے تم ۔۔۔”
وہ اسے انگلی دکھا رہی تھی ۔۔۔
لیکن شھربانو کے چہرے کا رنگ بدلتا دیکھ کر اس کا غصہ ہوا ہوگیا ۔۔
سامنے شھربانو سر پہ ہاتھ رکھے ڈھے جانے کو تھی ۔۔۔۔
وہ اسے نہ سنبھالتا تو وہ کب کی زمین بوس ہو چکی ہوتی ۔۔
☆◇◇◇◇◇◇◇◇◇◇◇◇
” امی سھل کہاں ہے ۔۔؟؟
وہ اپنے نکلتے ہوئے پیٹ کو سنبھالتے ہوئے ۔۔۔اٹھنے کی کوشش کرنے لگی ۔۔۔۔
اسے اب اکثر ایسا لگتا تھا وہ بہت زیادہ تھکی ہوئی ہے ۔۔۔۔ جیسے کہیں دور سے پیدل چل کر آئی ہو ۔۔۔
” وہ ہوگی یہیں کہیں ۔۔۔تم کچھ کھالو پھر دوا بھی کھانی ہے ڈاکٹر نے کہا ہے تم اور تمہارا بچہ کافی کمزور ہو چکے ہو ۔۔۔”
اس نے تو گویا وہ سب سنا ہی نہیں ۔۔۔
اس نے پاوں میں زبردستی چپل پھسائے اور پیر گھسیٹتی باہر کی طرف چلی گئی ۔۔۔۔
” سھل۔۔۔۔ سھل ۔۔۔” وہ آوزیں دیتی اپنے کمرے سے باہر آئی ۔اس کا سامنہ ہاجرہ سے ہوگیا وہ اس کی جانب ہی آرہی تھی ۔۔” ۔۔۔ہاجرہ سھل کہاں ہے ۔؟؟؟”
سامنے کھڑی ہاجرہ انگلیاں مروڑنے لگی ۔۔۔۔
جیسے اس سے کچھ چھپا رہی ہو ۔۔۔
” ہاجرہ میں تم سے کچھ پوچھ رہی ہوں ۔۔۔”
ہاجرہ اسے کافی گھبرائی ہوئی لگی ۔۔۔
وہ یہیں رک کر اپنا وقت نہیں گنوا سکتی تھی ۔۔وہ دیکھ رہی تھی سامنے سے کوئی جواب نہیں آئے گا ۔۔۔۔
وہ سھل سھل پکارتی سیڑھیاں اترنے لگی ۔۔۔پیچھے سے ممتاز بیگم اسے آوازیں دیتی رہی ۔
اس کی ماں کو اس کی فکر تھی اور اسے اپنی بیٹی کی ۔
☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆
حال
وہ چونک کر اپنے بستر سے اٹھی ۔۔۔۔اسے ایسا لگا جیسے وہ ماضی کے اسی موڑ پر کھڑی ہے ۔۔۔۔جب اسے کچھ پل۔کے لیے ایسا لگا تھا وہ سھل کو ہمیشہ کے لیے کھو چکی ہے ۔۔۔
اس نے گھبرا کر آس پاس دیکھا ۔۔
اسے چھوٹے سے کمرے کی اپنی نظروں سے دس بار تلاشی لے چکی تھی ۔۔۔لیکن سعادت کا وہاں پر کوئی وجود نہیں تھا ۔۔۔اس کا شک سہی نکلا ۔۔
وہ رات کو اسے باتوں میں الجھا کر اپنا کام کر چکا تھا ۔۔
اس نے ایک جھٹکے سے بستر چھوڑا ۔۔
اور تیزی سے باہر کی طرف بھاگی ۔۔
لیکن باہر اس گاڑی کے بھی کوئی آثار نہیں تھے جو اس شخص نے انہیں مہیا کی تھی ۔۔۔
وہ جا چکا تھا ۔۔۔وہ سھل کے پاس اس سے پہلے پہچ چکا تھا ۔۔
” سعادت ۔۔بہت ہوچکا ۔۔۔اب بس ” وہ غصے میں دانت پیستے اندر چلی گئی ۔۔
♧♧♧♧♧♧♧♧♧♧♧♧♧♧
مطھر کو خان لالہ کے لوگ اس ہوٹل کے آس پاس نظر آئے ۔۔۔
” یہ یہاں کیسے پہنچ گئے ۔۔ اب کیا ہوگا
۔میں نے کہاں غلطی کر دی ۔۔۔اسے یاد آیا وہ اپنے گھر کے آس پاس کئی بار گیا تھا ۔۔۔
وہ لوگ اس ہوٹل کے مالک سے کچھ پوچھ رہے تھے جس پر وہ نفی میں سر ہلا رہا تھا ۔۔۔
ایک شخص نے موبائل اس ہوٹل مالک کے سامنے کیا وہ اسے موبائل پر کچھ دکھارہا تھا ۔۔
ہوٹل کے مالک نے اسی جانب دیکھا ۔۔۔جہاں وہ چھپ کر کھڑا تھا ۔۔۔اس کے پاس ہی اس کی بوسیدہ رہائش تھی ۔۔۔
اس کے ہاتھ پاؤں پھولنے لگے ۔۔۔” اگر اس شخص نے کچھ بتا دیا۔۔؟؟ ۔ہاں وہ بتا دے گا پیسے پر بڑے بڑوں کے ایمان بک گئے ۔۔۔۔” اس وقت اس کا ضمیر اسے جھنجھوڑ رہا تھا ۔۔
“۔۔بھاگ مطھر بھاگ یہ سوچنے کا وقت نہیں ہے ۔۔۔”
وہ تیزی سے اس عارضی رہائش گاہ میں گھسا ۔۔۔۔چند پیسے اور دو جوڑوں کے سوا تھا ہی کیا ۔۔۔ ان چیزوں کو سمیٹا ۔۔اور مخالف سمت دوڑ لگا دی ۔۔۔۔اسے پھر سے اپنے لیے محفوظ پناہ گاہ ڈھونڈنی تھی ۔۔۔۔
وہ بار بار پلٹ کر پیچھے دیکھتا کہیں وہ پیچھے تو نہیں آرہے ۔۔۔۔
اس نے رکشے کو رکنے کا اشارہ کیا ۔۔۔اس پر بیٹھ کر انجانی منزل کی طرف گامزن ہوگیا ۔۔۔
☆◇◇◇◇◇◇◇◇◇◇◇◇
ماضی
وہ سھل کو ڈھونڈ ڈھونڈ کر نڈھال سی ہو کہ بیٹھی تھی ۔۔۔
سارے نوکروں کے منہ پر تو جیسے تالے پڑے تھے ۔۔
وہ کب سے ایک ایک نوکر سے سھل۔کا پوچھ رہی تھی ۔۔۔لیکن سامنے سے مسلسل خاموشی تھی ۔
وہ پورا گھر ڈھونڈ چکی تھی اچانک اسے خیال آیا ۔۔۔اس نے چھت پر تو تلاش ہی نہیں کیا ۔اس نے اب چھت کی طرف رخ کیا ۔۔۔۔
” نہیں بی بی آپ اوپر چھت پر نہیں جا سکتی ۔۔۔”
اس نے غصے سے اس نوکر کو دیکھا ۔
۔۔۔” یہ میرا گھر میں کہیں بھی آ ۔۔!جا۔۔! سکتی ہوں ۔۔۔سمجھے تم۔۔۔۔اور ہاں! اپنی حد میں رہا کرو ۔۔۔” وہ اس نوکر کو ڈانٹ کر آگے بڑھنے لگی ۔
۔۔لیکن وہی نوکر اس کے سامنے آگیا ۔۔۔
” میڈم سر کا حکم ہے ۔۔آپ
اوپر نہیں جا سکتی ۔۔”
اس نوکر کی ہمت دیکھ کر وہ کانپ کر رہ گئی ۔
۔۔اوپر کیا ہو رہا تھا کیا نہیں اس سوچ نے ہی اسے جھنجھوڑ کے رکھ دیا ۔۔۔
” میں اوپر کیوں نہیں جا سکتی ۔۔۔؟؟” آواز کی کپکپاہٹ اسے صاف محسوس ہورہی تھی ۔۔۔۔
” میڈم اوپر صفائی ہو رہی ہے آپ کا پاوں پھسل سکتا ہے ۔۔۔۔یہی وجہ ہے ۔۔۔” اس نوکر کا سر اب جھک گیا تھا ۔۔۔۔
لیکن اسے لگا وہ بیہوش ہو کر گر جائے گی ۔۔۔
تبھی اسے لائونج کے گیٹ سے سعادت آتا دکھائی دیا ۔۔۔وہ تیز تیز قدم اٹھاتی سیڑھیاں اترنے لگی ۔۔
☆☆☆☆☆♡◇◇◇◇◇◇◇◇◇◇
سھل دو سال کی ہو چکی تھی ۔۔۔سعادت اس کے لیے پارٹی رکھنا چاہتا تھا۔۔۔ وہ پارٹی کے انتظام میں لگا تھا ۔۔۔لیکن وہ یہ سب شھربانو سے چھپ کر کرنا چاہتا تھا ۔۔۔تاکے اسے سرپرائز دے ۔سکے ۔۔لیکن اس کا سرپرائز اس کی پارٹی سب ادھورے رہ گئے جب اس نے ۔۔
شھربانو کو تیزی سے سیڑھیاں اترتے دیکھا اور وہ بھی اس حالت میں جب وہ سات ماہ کی حاملہ تھی ۔
سعادت کا دماغ ایک دم۔سے گھوم گیا ۔۔۔اسے وہ برتھ ڈے پارٹی سرپرائز سب کچھ بھول۔گیا ۔۔۔بس یاد رہا تو اپنا بچہ جو شھربانو کے پیٹ میں پل رہا تھا ۔۔
۔۔جسے شھربانو اس دنیا میں لانا نہیں چاہتی تھی ۔۔۔اور وہ اسے کھونا نہیں چاہتا تھا ۔
وہ واپس پلٹا سھل کو گود میں اٹھایا۔۔۔اور باہر کی طرف نکل۔گیا ۔۔۔وہ پیچھے سے چلا چلا کہ سعادت کو بلا رہی تھی ۔۔
لیکن آہستہ آہستہ اس کی آواز دور ہوتی گئی ۔۔
☆☆☆☆☆☆☆☆☆
حال
وہ تیزی سے باہر کی جانب لپکی ” مجھے جلد از جلد کالام پہنچنا ہے ۔۔۔۔” وہ اسی سوچ کے ساتھ تیز تیز قدم اٹھاتی سڑک پر کھڑے لوگوں سے کرائے کی جیپوں کا پوچھنے لگی ۔۔۔
اسے آدھے گھنٹے کی کوشش کے بعد آخر کار مطلوبہ جیپ مل گئی تھی ۔۔۔
” بی بی آپ اکیلا چلو گے ؟؟” وہ خان صاحب اس کے اطراف میں گویا کسی کو تلاش کر رہا تھا
” جی جی مجھے اکیلے ہی جانا ہے ۔۔۔ وہاں میرے شوہر کے ساتھ حادثہ پیش آگیا ہے ۔۔وہ وہاں آرمی کی طبی کیمپ میں موجود ہے ۔۔۔آپ پلیز مجھے وہاں پہنچا دے ۔۔۔” وہ اس جیپ ڈرائیور کی منت سماجت کرنے لگی ۔۔۔” لیکن بی بی ہم اکیلا عورت کو اتنی دور کیسے لے جا سکتا ہے ۔۔۔یہ ہم کو مناسب نہیں لگتا ۔۔۔”
شھربانو کے سامنے اب خان صاحب کو سمجھانا ایک چیلنج بن گیا
تھا ۔۔۔
” دیکھیے آپ مجھے لے جائیں ۔۔۔میں اسلام آباد سے اپنی گاڑی میں آئی تھی ۔۔لیکن آگے کا راستہ مشکل ہے مجھ سے ڈرائیونگ نہیں ہوسکتی ۔۔” اب اسے منانے کے لیے اس کے ہاتھ جوڑنے لگی ۔۔
آخر کار بیس منٹ کی منت سماجت کے بعد خان صاحب مان گئے ۔۔۔
☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆
مطھر جس خوف سے بھاگ رہا تھا وہ اب اس کے سامنے کھڑا تھا ۔۔۔۔اب اسے اس خوف سے نجات پانی تھی اسے اس ڈر کا سامنہ کرنا تھا ۔۔۔وہ طے کر چکا تھا اسے اب آگے کیا کرنا ہے ۔۔۔
اس نے آتے ہی شناختی کارڈ اور اے ٹی ایم کارڈ کی گمشدگی کی درخواست درج کروا دی تھی ۔۔۔۔
اب وہ دونوں چیزیں اس کے ہاتھ میں تھی ۔۔۔۔
اس نے سب سے پہلے اپنی بڑی بہن ربیعہ کو کال کی اسے سمجھانے لگا کہ اسے اب کیا کرنا ہے ۔۔۔
وہ اب ربیعہ کا انتظار کرنے لگا ۔۔۔۔
وہ اسے کہہ چکا تھا وہ اسے پانچ گھنٹے بعد کال کرے گا ۔۔۔
” کیا ہوا ربیعہ کام ہوگیا ۔۔۔۔”
آگے سے مثبت جواب آیا ۔۔۔۔
” گڈ اب ہم کل۔اسی جگہ ملیں گے ۔۔۔”
وہ بات کر کے سیدھا اے ٹی ایم مشین کی طرف بڑھا اپنے اکائونٹ سے جتنے پیسے نکل۔سکتے تھے وہ سب اس نے نکلوا لیے ۔۔۔
ایک موبائل اور سم کارڈ خریدا ۔۔۔اور اپنی اگلی منزل کی طرف گامزن ہوگیا ۔۔اسے اب جلد از جلد اس شہر سے نکلنا تھا ۔
جاری ہے
