Intikam E Mohabbat by Esha Noor NovelR50798 Intikam E Mohabbat by Esha Noor Episode11
No Download Link
253K
35
Rate this Novel
Intikam E Mohabbat by Esha Noor Episode01 Intikam E Mohabbat by Esha Noor Episode02 Intikam E Mohabbat by Esha Noor Episode03 Intikam E Mohabbat by Esha Noor Episode04 Intikam E Mohabbat by Esha Noor Episode05 Intikam E Mohabbat by Esha Noor Episode06 Intikam E Mohabbat by Esha Noor Episode07 Intikam E Mohabbat by Esha Noor Episode08 Intikam E Mohabbat by Esha Noor Episode09 Intikam E Mohabbat by Esha Noor Episode10 Intikam E Mohabbat by Esha Noor Episode11 (Watching)Intikam E Mohabbat by Esha Noor Episode12 Intikam E Mohabbat by Esha Noor Episode13 Intikam E Mohabbat by Esha Noor Episode14 Intikam E Mohabbat by Esha Noor Episode15 Intikam E Mohabbat by Esha Noor Episode16 Intikam E Mohabbat by Esha Noor Episode17 Intikam E Mohabbat by Esha Noor Episode18 Intikam E Mohabbat by Esha Noor Episode19 Intikam E Mohabbat by Esha Noor Episode20 Intikam E Mohabbat by Esha Noor Episode21 Intikam E Mohabbat by Esha Noor Episode22 Intikam E Mohabbat by Esha Noor Episode23 Intikam E Mohabbat by Esha Noor Episode24 Intikam E Mohabbat by Esha Noor Episode25 Intikam E Mohabbat by Esha Noor Episode26 Intikam E Mohabbat by Esha Noor Episode27 Intikam E Mohabbat by Esha Noor Episode28 Intikam E Mohabbat by Esha Noor Episode29 Intikam E Mohabbat by Esha Noor Episode30 Intikam E Mohabbat by Esha Noor Episode31 Intikam E Mohabbat by Esha Noor Episode32 Intikam E Mohabbat by Esha Noor Episode33 Intikam E Mohabbat by Esha Noor Episode34 Intikam E Mohabbat by Esha Noor Last Episode
Intikam E Mohabbat by Esha Noor Episode11
Intikam E Mohabbat by Esha Noor Episode11
” شیری کیا ہوا سوجائو ۔۔۔”
وہ ماضی سے حال میں آگئی ۔۔۔۔۔
اس نے اس وقت بھی سعادت کو نہ دیکھا دوسری طرف چہرہ کر کے لیٹ گئی ۔
” شیری جب سے سھل پہ حملہ ہوا ہے ۔۔۔تمہارا رویہ بلکل ہی
بدل گیا ہے
اس نے سعادت کی طرف نہیں دیکھا ۔۔
” میں پریشان ہوں
” شیری میں جانتا ہوں ۔۔تم پریشان ہو ۔۔۔پر تم اجنبی کیوں ہوگئی ہو ۔۔۔۔نہ مجھ سے لڑ رہی ہو نہ غصہ کرتی ہو ۔۔اتنی مشکوک کیوں ہوتی جا رہی ہو ۔۔۔۔۔
بلکل ایک پہیلی کی طرح ۔۔۔۔۔جیسے میں اسے کبھی بوجھ نہ پائوں گا ۔۔۔۔
کیوں اتنی الجھی ہوئی لگ رہی ہو ۔۔۔”
وہ اٹھ کر بیڈ کراؤن سے ٹیک لگائے بیٹھا تھا۔
پر شھربانو اس کی طرف نہ مڑی ۔۔۔
اس نے آنکھیں بند کر لی ۔۔۔تاکہ وہ سمجھے وہ سو گئی ہے ۔۔۔
وہ اس وقت بات کرنا بلکل نہیں چاہتی تھی ۔۔۔اسے اپنے سوالوں کے جواب ڈھونڈنے تھے ۔۔۔جو خدشات اس کے دل
میں پیدا ہو چکے تھے ۔۔۔
اسے وہ ختم کرنے تھے ۔۔
اس کی سماعت سے پھر سعادت کی آواز ٹکرائی ۔
” میں سھل کو ڈھونڈ لوں گا ۔۔۔۔وہ صادق کا بیٹا اسے کہیں بھی چھپا لے۔۔
اس نے پلٹ کر ایک نظر سعادت کو دیکھا ۔۔۔جس کی شیو کچھ بڑھی ہوئی تھی ۔۔۔۔
آنکھوں کے گرد حلقے تھے ۔۔۔۔۔( کیا واقعی وہ سھل کے لیے پریشان ہے )
۔۔وہ بے یقینی سے اسے دیکھ رہی تھی ۔
وہ اپنا بازو اپنی آنکھوں پہ رکھے ہوئے تھا ۔۔۔۔☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆
حال ۔۔
اس کی آنکھ کھلی تو وہ سو رہی تھی ۔۔
جاگتے میں وہ۔ جتنی خطرناک تھی سوتے ہوئے اتنی ہی معصوم ۔
” کاش وہ ایسے ہی سوتی رہے اور میں اسے ایسے ہی دیکھتا رہوں ۔۔
وہ حسین سپنے سجانے لگا ۔۔۔۔
پر وہ خواب زیادہ دیر نہ چلا ۔۔۔۔۔جب اس کے ہاتھ میں اپنا۔ موبائل دیکھا ۔۔۔۔
” یہ اس نے کب نکالا ۔۔۔؟؟ یہ لڑکی چور بھی ہے ۔۔۔۔اے میرے خدایا ۔۔۔اور کون کون سی خوبیاں ہے اس میں ۔۔
دروازے پر نوک ہوئی ۔۔۔اس نے اٹھ کر اس پر کمبل ٹھیک کیا ۔۔
اس نے دروازے کو اندر سے بھی بند کر دیا تھا ۔۔۔۔
اس نے دروازہ کھولا اور غصے سے اسے گھور رہا تھا ۔۔
” کیا یہاں آرام کرنے آئے ہو ۔۔۔” ۔۔۔سامنے والا شخص غصے میں غرایا ۔۔۔
اس نے نفی میں سر ہلایا ۔۔۔۔
” یہ لڑکی کا ناشتہ ہے روم میں رکھو ۔۔۔اور تم باہر آجائو ۔۔۔۔ یہ ابھی تک سو رہی ہے ۔۔۔جگائو اسے ۔۔
اس نے اثبات میں سر ہلایا ۔۔۔اسے تو بس جی حضوری کرنی تھی ۔۔
” میں پانچ منٹ بعد آتا ہوں,
وہ شخص جا چکا تھا باہر سے دروازہ بند کرنے کی آواز اسے آئی تھی ۔
” اٹھو ۔۔۔اٹھو ۔۔۔۔لگتا ہے یہ ایسے نہیں اٹھے گی ۔۔۔۔”
مطھر نے اس پر پانی کے چھینٹے مارے ۔۔۔۔
وہ ہڑ بڑا کے اسے گالیاں دیتی اٹھی ۔
” توبہ ہے لوگ کلمہ پڑھ ۔۔کر اٹھتے ہیں اور آپ گالیاں دے کے ۔۔
وہ اب غصے سے اسے دیکھ رہی تھی ۔۔۔۔
” شٹ اپ ۔۔۔یہ کوئی طریقہ ہے اٹھانے کا ۔۔۔
۔اس نے جیسے اس کی بات سنی ہی نہیں ۔۔
” ناشتہ رکھا ہے آپ کا۔۔۔ کر لیں ۔۔
وہ شخص واپس آگیا تھا ۔۔
اس نے اشارہ کیا ۔۔۔وہ اب اسے باہر بلا رہا تھا ۔۔
☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆
وہ نیند کی وادیوں میں گم تھی ۔۔۔جب اچانک اس پہ
برسات شروع ہوگئی ۔۔۔۔برسات اتنی ٹھنڈی تھی ۔۔
اس کی وجہ سے اس کی آنکھ کھل گئی ۔۔۔
اس یخ بستہ پانی کی وجہ سے اس کی سانس چڑھ گئی ۔
اس نے آنکھیں کھولی ۔۔
سامنے وہ جوکر نما لڑکا کھڑا تھا
جو اسے دیکھ کر مسکرا رہا تھا ۔۔۔۔اس کا دل چاہا منہ نوچ
لے اس کا۔۔۔لیکن وہ اس وقت خود کو بہت کمزور محسوس
کر رہی تھی ۔۔۔پورا دن بے ہوش ۔رہنے اور کھانا صحیح نہ کھانے کی وجہ سے ۔
۔اسے کمزوری محسوس ہونے لگی ۔۔
لیکن وہ ناشتہ کا کہہ رہا تھا ۔۔۔اسے بھوک بھی بہت زیادہ لگی تھی ۔
دروازہ کھولا ۔۔۔۔ایک دراز قامت شخص کھڑا تھا ۔۔۔
مطھر بھی اس شخص کے ساتھ باہر جانے لگا ۔
پر اسے اس وقت صرف اپنے پیٹ کی فکر تھی ۔۔
واقعی سیانے ٹھیک کہتے تھے ۔۔پیٹ میں کچھ نہ ہو ۔۔۔تو کسی چیز کا پتہ نہیں چلتا ۔۔۔
پیٹ میں کچھ جاتا ہے تو سب سمجھ آتا ہے ۔۔
کہ تن ڈھانپ کے رکھا ہے کہ نہیں ۔۔۔۔
☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆
وہ بھوت نما شخص اس جوکر نما لڑکے کو لیکر کمرے سے جا چکے تھے ۔
اسے لگا وہ اب آزاد ہے ۔۔۔
اس نے جلدی سے ناشتہ کرنا شروع کر دیا ۔۔
پراٹھا ۔انڈا ۔۔دہی ناشتہ اس کے مزاج کے مطابق نہ تھا ۔۔۔۔
پر اسے اس وقت ۔۔مضبوط بننے کی ضرورت تھی ۔۔
تاکہ وہ وہاں سے بھاگ سکے ۔۔
ناشتہ مزیدار تھا ۔۔۔۔اس نے جھٹ سے ختم کر دیا ۔۔
اس کی نظر بستر پر پڑے لباس پر پڑی ۔۔
اسے اس وقت تازہ دم ہونا تھا ۔۔۔۔
لباس کچھ علاقائی سا تھا پر گذارے لائق تھا ۔۔
وہ لباس تبدیل کرنے غسل خانے میں چلی گئی ۔۔
جیسے ہی وہ کپڑے تبدیل کر کے کمرے میں آئی ۔۔۔اسے نیند آنے لگی ۔۔۔
وہ سمجھی کھانہ زیادہ کھانے کی وجہ سے اس پہ غنودگی
طاری ہو رہی ہے ۔۔۔۔وہ چارپائی پر جاکر ۔۔بیٹھ گئی ۔
” نہیں مجھے سونا نہیں ہے ” ۔۔۔اس کی آنکھیں زبردستی بند ہونے لگی ۔۔۔وہ سمجھ گئی کھانے میں کچھ تھا ۔۔
لیکن تب تک بہت دیر ہو چکی تھی ۔
☆☆☆☆☆♧♧♧♧♧
اس نے ناشتہ کر کے اپنا حلیہ تبدیل کیا ۔
اس نے کمرے میں آتی ہی نکلی بال اور مونچھ اتار لیے تھے ۔۔۔اسے واپس۔ لگایا ۔۔۔۔
کمرے میں پہنچا تو وہ لڑکی آڑے ترچھی بستر پر پڑی تھی ۔
” یہ برقعہ لڑکی کو پہنا ۔۔اور اسے ۔اٹھا کہ جیپ میں ڈال ۔۔۔ہمیں جلدی۔ یہاں سے نکلنا ہے ۔۔
وہ شخص اس پہ اپنے حکم صادر کر رہا تھا ۔۔۔
” اس کو پھر بے ہوش کر دیا ۔۔۔۔ایسے تو یہ مر جائے گی ۔۔
اس شخص نے گھور کر اسے دیکھا ۔۔۔تو وہ بھی سامنے سے خاموش ہوگیا ۔۔
جیسا اس نے کہا تھا ۔۔۔ویسے ہی وہ کرنے لگا ۔۔۔
وہ کسی بے جان گڑیا کی طرح اس کی بانہوں میں جھول رہی تھی ۔۔۔
اسے اس پر ترس بھی آرہا تھا ۔۔اور پیار بھی ۔
” اوئے جلدی کر ۔۔۔” وہ شخص بار بار باہر دیکھ رہا تھا ۔۔۔
جیسے کسی کہ آنے کا ڈر ہو ۔۔
اس نے برقعہ اسے اوڑھ لیا تھا ۔۔
” اب اسے اٹھا شکل کیا دیکھ رہا ہے میری ۔۔۔۔تو اٹھائے گا یا میں اٹھائوں ۔۔
نجانے کیوں اسے کسی اور کا اسے ہاتھ لگانا اچھا نہیں لگ رہا تھا ۔۔۔
نکاح نامہ تو جعلی تھا ۔۔۔پر کیا یہ دل سچ میں اسے اپنی
منکوحہ کی طرح سمجھنے لگا تھا ۔۔۔
اس نے اٹھا کر اسے جیپ میں ڈالا ۔۔
” میں ابھی آیا۔۔۔”
وہ جلدی سے بھاگ کے اندر گیا ۔۔۔تاکہ اندر کوئی چیز رہ نہ گئی ہو ۔۔
۔سوائے اس لڑکی کے کپڑوں اور کچھ نہ تھا ۔۔۔۔
وہ کپڑےاٹھا کے ساتھ لے آیا۔۔۔اگر کوئی آئے تو اسے شک نہ ہو ۔۔
وہ عجلت میں باہر کی طرف لپکا ۔۔۔
کہ کہیں وہ لڑکی کو اکیلا نہ لے جائیں
وہ پیچھے جیپ میں لڑکی کے ساتھ بیٹھ گیا ۔
ڈرائیور تبدیل ہو گیا تھا ۔
وہ شخص اب بھی ان کے ساتھ تھا ۔
” ہمیں جلدی میں پہنچنا ہے اس کے منہ اور ہاتھ باندھ دو ۔
” لیکن یہ تو بے ہوش ہے ۔۔۔”
اس کا اتنا کہنا تھا ۔۔۔
وہ شخص غصے میں سرخ ہوئی لال آنکھوں سے اسے گھور رہا تھا ۔
” یہ ہوش میں آگئی تو اسے سنبھالے گا کون ۔۔۔تیرا باپ ۔۔
مطھر کو اس کی بات پہ بہت غصہ آیا ۔۔
” دیکھیں سر باپ کا نام نہ لے ۔۔
اس شخص نے زور کا قہقہہ لگایا ۔۔۔۔
وہ اب اس شخص کو چھوڑ کر لڑکی کی جانب متوجہ ہوا ۔۔۔۔
◇◇◇◇◇◇◇◇◇◇
” یہ لڑکی چار پانچ گھنٹے بعد ہوش میں آجائے گی ۔۔۔ہمیں
پہنچنے میں سات سے آٹھ گھنٹے لگ جائیں گے یہ ہوش
میں آگئی تو قابو کرنا مشکل ہے ۔
اس شخص نے اسے ایک کپڑے کی پٹی ۔۔۔۔
اور ایک رسی تھمائی ۔۔
” جلدی کر ۔۔۔نہیں تو یہ کام میں کر لو “
اس کے ہاتھ کانپ رہے تھے ۔۔۔
جسے شاید وہ شخص نوٹ کر رہا تھا ۔
” نہیں میں کر لوں گا ۔۔۔
اس نے لڑکی کہ چہرے سے نقاب ہٹایا ۔۔۔اس کے بال اس کے چہرے پہ آرہے تھے ۔
ڈرائیور سامنے والے شیشے سے لڑکی کو دیکھ رہا تھا ۔
وہ اس اینگل سے اس کے سامنے بیٹھا ۔۔
ڈرائیور اس لڑکی کو نہ دیکھ سکے ۔۔
اسے سنبھالنا کافی مشکل تھا ۔۔۔۔وہ بار بار جھول کہ اس کے
اوپر گر جاتی اسے بمشکل سیدھا کر پاتا ۔۔
اس کے منہ پر اس نے پٹی باندھ لی تھی ۔۔۔دوسرا مرحلہ
اس کے ہاتھ باندھنا تھا
“آئی ایم سوری سھل ۔۔۔میں مجبور ہوں ۔۔پر میں تم پر کوئی زیادتی نہیں ہونے دوں گا ۔۔
وہ آہستہ۔ سے اس کے کان میں سرگوشی کر رہا تھا ۔۔۔
جیسے وہ سن رہی ہوں ۔۔
وہ اس کے اتنے پاس ۔۔۔۔وہ سوچ بھی نہیں سکتا تھا
جو خراب راستے کی وجہ سے ادھر اودھر لڑھک رہی تھی ۔۔۔۔
اس نے اپنے ایک بازو سے اسے اپنے حصار میں لیا ۔۔
وہ اب اس کے قریب تھی ۔
اس کی سانس آہستہ سے چل رہی تھی ۔۔
اب اسے اس لڑکی کی ساری پرانی زیادتیاں یاد آنے لگی ۔۔۔
ایک دم سے ترس اور رحم کی جگہ غصہ نے لے لی ۔۔۔
اس نے اپنا بازو نکال لیا ۔
گاڑی کے شیشے سے اس کی ٹیک لگا لی ۔
اب وہ غصے سے اسے گھور رہا تھا
اچانک ایک بڑے گڑھے کی وجہ سے سھل کا سر زور سے ۔۔۔شیشے سے ٹکرایا ۔۔۔
جیسے ہی اس لڑکی کو چوٹ لگی ۔۔۔
اس کا دل ڈوب کے ابھرا ۔۔
◇◇◇◇◇◇◇◇◇
ماضی
” آپ کب آئی ۔۔۔۔” ۔۔۔شھربانو نے اپنی چادر اتاری ۔۔۔۔اور بیگ سائیڈ پہ رکھا ۔۔۔۔
شھربانو سحر کو دیکھ کر پوچھنے لگی ۔
” میری گڑیا کیسی ہے ۔۔”
گود میں سحر کی بیٹی شفا کو لے کر پیار کرنے لگی ۔۔۔
۔۔(سحر کی دوسری شادی کو بھی دو سال ہو چکے تھے ۔
” شھربانو اب تم بھی شادی کر لو ۔۔۔۔۔سن آج مجھے مظفر ملا تھا ۔
۔۔۔پتہ ہے اس کے دو بچے بھی اس کے ساتھ تھے ۔۔۔” یہ کہتے ہوئے وہ تھوڑی افسردہ ہوگئی ۔۔۔
شاید اسے زین یاد آرہا تھا ۔۔۔۔
” آپی آپ یہ سب مجھے کیوں بتا رہی ہیں ۔۔۔” ۔۔۔شھربانو مظفر کی بات پر بیزاری سے بولی ۔
” کیونکہ وہ تمہارا پوچھ رہا تھا ۔۔۔۔کہ تمہاری شادی ہوئی کہ نہیں ۔
حال
سعادت کو شھربانو کچھ عجیب لگنے لگی ۔۔۔۔اس کی
شخصیت کچھ پراسرار ہوتی جارہی تھی ۔۔۔خاموش خاموش ۔۔۔جیسے کوئی بات اسے اندر ہی اندر کھائے جا رہی تھی ۔۔
” شیری ۔۔
” ہممم ” ۔۔۔۔وہ اب بھی اس کی طرف نہیں دیکھ رہی تھی ۔
” مجھے کیوں لگتا ہے تم مجھ سے کچھ چھپا رہی ہو ۔۔
اس نے ایک پل کے لیے اسے دیکھا ۔۔۔۔نظروں میں اجنبیت اور پرسراریت تھی ۔۔۔۔
” مجھے بھی ایسا ہی لگتا ہے ۔۔۔۔”
۔۔اسے وہ اس کی شھربانو لگ ہی نہیں رہی تھی ۔۔
کھوئی کھوئی گم سم ۔۔۔۔۔اسے اس کا رویہ سمجھ نہیں آرہا تھا ۔
” سھل مل جائے گی ۔۔۔۔تم فکر نہ کرو ۔۔۔” اس نے اپنا ہاتھ اس کے ہاتھ پر رکھا ۔۔۔
لیکن شھربانو نے اپنا ہاتھ ہٹا لیا۔۔۔
☆☆☆








ماضی
” کہاں رہ گئے تھے آپ ۔۔۔
سامنے سے سعادت کو آتے دیکھ کر وہ منہ بنا کر بولی ۔۔
” چلو اٹھو ۔۔کہیں اور بیٹھتے ہیں ۔۔۔”
وہ دیکھ رہی تھی ۔۔۔۔وہ غصے سے اس لڑکے کو دیکھ رہا تھا ۔۔۔جو کب سے اسے گھور رہا تھا ۔۔۔۔
اس نے اس کی کلائی تھامی ۔۔۔دوسرے درخت کے نیچے لے گیا ۔۔
” سادی ہم کب تک ایسے ملتے رہیں گے ۔۔۔۔۔۔تمہارے والدین کب آئیں گے ۔۔رشتہ لینے ۔۔۔۔”
سعادت اسے اب کافی پرسکون لگا ۔۔۔
وہ ایک عام سا لڑکا تھا ۔۔۔لیکن اس کی نظر میں اس کی پوری دنیا تھا ۔۔۔۔ساری دنیا سے خاص ۔۔
” شیری میرے والدین میری شادی میری مرضی سے ہی کریں گے ۔۔
۔لیکن میری تعلیم ہی مکمل نہیں ۔۔ویسے تمہارے امی ابو کو بھی میں ہی پسند ہوں ۔
سعادت اسے ہی دیکھ رہا تھا ۔۔۔
” لیکن سادی وہ اب زیادہ انتظار نہیں کر سکتے ۔۔۔
وہ اس کی بات پر کھلکھلا کہ ہنس رہا تھا ۔
” تم بہت ڈرپوک ہو ۔۔۔میں اپنے امی ابو کو اگلے جمع کو شہر لے آئوں گا ۔۔۔۔اب خوش ۔
نجانے کیوں اس کا دل مطمئن نہیں تھا ۔۔۔۔۔اسے کچھ ٹھیک نہیں لگ رہا تھا ۔۔۔
سادی اتنا پر سکون کیوں ہے اسے کیوں اتنا یقین ہے ۔۔۔۔
” سادی ۔۔
” ہاں بولو سادی کی جان ۔۔
اس نے اس کا ہاتھ اپنے ہاتھوں میں لے لیا ۔۔۔۔۔اس کے آنسو اس کی ہتھیلی پر گر رہے تھے ۔۔
وہ دیکھ رہی تھی ۔۔سعادت اس کے آنسو دیکھ کر تڑپ اٹھا تھا ۔
” سادی مجھے ایسا کیوں لگ رہا ہے جیسے ۔۔تمہیں مجھ سے کوئی چھین لے گا ۔۔
سعادت ایک دم طیش میں آگیا ۔۔۔۔
” اگر تمہیں مجھ سے کسی نے جدا کیا ۔۔۔میں پوری دنیا کو آگ لگا دوں گا ۔۔۔”
شھربانو اس کا جنون دیکھ کر کانپ گئی ۔۔
” سادی جو نصیب اور مقدر میں ہو وہی ملتا ہے “
وہ سعادت کا سرخ ہوتا چہرہ دیکھ رہی تھی ۔۔۔۔
” سادی کا مقدر شیری ہے ۔۔۔اس کا نصیب شیری ہے ۔۔۔۔اسے اس سے کوئی نہیں چھین سکتا
سعادت کا یہ روپ اس نے پہلی مرتبہ دیکھا ۔۔
اسے سعادت سے خوف آنے لگا ۔
وہ گھر آئی تب بھی اسے سکون نہیں تھا ۔۔
اسے سعادت کی دیوانگی اور جنون سے خوف آنے لگا ۔۔
وہ اگلے چار دن یونیورسٹی نہیں گئی ۔۔
پانچویں دن اس نے سعادت کی آواز سنی ۔۔۔۔
وہ صحن میں اس کی امی سے بات کر رہا تھا ۔۔
وہ جان بوجھ کر اس کے کمرے کی کھڑکی کہ پاس چار پائی پر آکر بیٹھا۔۔۔وہ اسے اپنی کھڑکی سے دیکھ رہی تھی ۔۔
” آنٹی میں امی ابو کو لینے گاوں جا رہا ہوں ۔۔۔آپ لوگ میرا انتظار کیجیے گا ۔۔۔۔۔”
وہ سن رہی تھی اس کی امی اس کی بلائیں لیتے نہیں تھک رہی تھی اسے دعائیں۔ دے رہی تھی ۔۔۔۔
بظاہر تو سب ٹھیک تھا ۔۔۔۔
لیکن شھربانو کا دل بے چین تھا ۔۔۔۔یہ کیسی بے سکونی تھی جو اسے سمجھ نہیں آرہی تھی ۔۔۔
اسے ایسا ہی لگ رہا تھا ۔۔۔کچھ غلط ہونے والا ہے ۔
سعادت اب اسے الوداع کہہ رہا تھا ۔۔۔۔
جیسے زندگی اسے الوداع کہہ رہی ہو ۔۔۔
◇◇◇◇◇◇◇◇
اس نے آتے ہی ۔۔۔اس طرف رخ کیا ۔۔۔جس جگہ شھربانو اس کا انتظار کرتی تھی۔۔۔۔
اسے آج بھی دیر ہو گئی ۔۔۔میں ہمیشہ دیر کر دیتا ۔۔۔ہوں ۔
وہ اپنے آپ سے کہتا تیز تیز قدم اٹھاتا ۔اپنی زندگی کی جانب جا رہا تھا ۔
اس نے دیکھا ایک لڑکا شھربانو کو دیکھ رہا ہے ۔
اس نے غصے میں مٹھی بند کی اپنے غصے پر قابو پایا ۔۔۔۔
شھربانو اداس سی گردن جھکائے بیٹھی تھی ۔
کالے گھنے بالوں نے اس کے آدھے چہرے کو چھپا رکھا۔۔۔۔تھا۔۔۔
وہ اس لڑکے کی وجہ سے شھربانو کو دوسری جگہ لے گیا ۔۔
اس کا موڈ اس لڑکے کی وجہ سے پہلے ہی خراب تھا ۔
جب شھربانو نے جدا ہونے کی بات کی تو اس کا ضبط جواب دے گیا ۔۔۔
۔دوسرے دن وہ یونیورسٹی پہنچا ۔۔۔۔
اسے کہیں بھی شھربانو نظر نہیں آئی ۔
” عنبر شھربانو کہاں ہے ۔۔
جب چار دن شھربانو نہیں آئی ۔۔۔تو اسے پریشانی ہونے لگی ۔
وہ اس کہ گھر پہنچ گیا۔۔
☆☆☆☆☆☆☆☆☆
” بیٹا ایک مہینہ ہوگیا ہے سعادت کا کچھ پتہ نہیں ۔۔۔۔ایسا نہ ہو اس کے انتظار میں ۔
۔۔اچھا رشتہ ہاتھ سے نکل جائے ۔۔۔۔۔خاندان کا بچہ ہے ۔۔۔۔ڈاکٹر ہے ۔۔۔میں بس تم دونوں کی وجہ سے بات آگے نہیں بڑھا رہی ۔۔۔۔لیکن سعادت کا کچھ پتہ نہیں ۔۔تیرے ابو نے بھی پتہ کروایا ہے
۔۔۔سب یہی کہتے ہیں وہ گاوں گیا ہے “
شھربانو گردن جھکائے اپنی امی کی باتیں سن رہی تھی ۔۔
وہ بھی اس کے گھر کے کافی چکر لگا چکی تھی ۔۔۔
اس کا کچھ پتہ نہیں تھا ۔۔
اس نے رو رو کے اپنی حالت خراب کر دی تھی ۔۔۔
دو مہینے گذر چکے تھے ۔۔۔۔
جب اسے یونیورسٹی میں اس کا دوست اسد نظر آیا ۔۔۔
☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆
وہ اسے نظر انداز کر کے آگے بڑھ گیا ۔۔۔لیکن شھربانو کو آج اس کا جواب چاہیے تھا ۔۔
وہ اس کے سامنے آگئی ۔۔۔۔” آپ مجھ سے چھپ کیوں رہے ہیں ۔۔۔”
وہ آگے کچھ کہتی اس نے اپنا مدعا بیان کردیا ۔
۔۔” کیونکہ میں آپ کے سوالوں کا جواب نہیں دے سکتا ۔۔
وہ اس سے نظریں چرانے لگا ۔۔
” پھر بھی کچھ تو بتائیں ۔” اسے لگا اب وہ آگے کچھ بولی تو
دل کا درد آنکھیں بیان کر دیں گی ۔۔
اس کے لہجے میں التجا تھی ۔۔
” پلیز آپ اسے بھول جائیں ۔۔۔جہاں آپ کے والدین چاہتے ہیں آپ وہاں شادی کر لیں ۔
اس کا دوست ( اسد ) جا چکا تھا ۔۔۔اسے وہی مجسم کر کے ۔۔۔ اسے ایسا لگ رہا تھا ۔۔۔جیسے اس پر پتھر برس رہے ہوں ۔۔۔
اس کے پاؤں زمین میں دھنس چکے ہو اس میں چلنے کی سکت نہ بچی ہو ۔۔۔۔
وہ اپنے وجود کا بوجھ اٹھا کر ۔۔نڈھال سی ایک بینچ پر بیٹھ گئی ۔۔۔۔
” تم یہاں بیٹھی ہو ۔۔۔” زویا کی آواز پر اسے پتہ لگا ۔۔۔۔وہ وہی آدھے گھنٹے سے بیٹھی ہے ۔۔۔۔
” کیا ہوا ۔۔ایسے بت بنی کیوں بیٹھی ہو ۔۔
” زوئی۔۔۔” اسے اپنا آواز کسی ڈوبتے ہوئے انسان کا لگا ۔۔
جیسے وہ پانی سے باہر مشکل سے سانس لے پا رہا ہو
” مجھے تم ٹھیک نہیں لگ رہی چلو گھر چلتے ہیں ۔۔
” زوئی پلیز کچھ دیر میرے پاس بیٹھو۔
وہ اس کے قریب بیٹھ گئی تھی ۔
وہ تو جیسے کسی بے خودی میں بول رہی تھی ۔
” زویا وہ کیا کوئی سبق تھا اسے بھول جائوں ۔۔۔۔اس کا
دوست کتنی آسانی سے کہہ گیا میں اسے بھول جائوں ۔۔
وہ میری زندگی تھا ۔۔زویا ۔۔
وہ اس جسم میں جان تھا زویا ۔
۔وہ میری رگوں میں چلتا خون تھا زویا ۔۔۔
وہ رک رک کر کہہ رہی تھی ۔۔” ہممم اس کا مطلب وہ تمہیں دھوکہ دے رہا تھا ” ۔۔
زویا گہری سانس لے کر بولی ۔۔
شھربانو جیسے ایک شاک سے نکلی ۔۔۔۔وہ ایک جھٹکے سے اس کی طرف مڑی ۔۔
جیسے اس کی سانس اس کے جسم میں واپس آئی ہو ۔۔
” کیا۔۔۔مطلب ۔۔دھوکہ ۔۔۔۔” اس نے نفی میں سر ہلایا ۔
” ایسا ممکن ہی نہیں ۔۔اس کی سچائی اس کا ہر لفظ بیان کرتا تھا ۔۔
۔۔اس کی سچائی کی گواہی میرا دل دیتا ہے ۔۔
” بانو ۔۔۔سب پیار کرنے والے یہی کہتے ہیں ۔۔۔پر دھوکہ بھی
وہی کھاتے ہیں ۔۔۔سب مطلب پرست ہیں ۔۔۔۔مطلب نکلا بات ختم ۔۔
شھربانو کے درد کی جگہ غصے نے لے لی
۔۔۔” کیسا مطلب ۔۔۔زویا ۔۔۔محبت میں بھی حد مقرر ہے ۔
اور ہم نے وہ حدیں کبھی پار نہیں کی
۔۔۔تو پھر کیسا مطلب “
” اچھا تو پھر صبر کرو ۔۔۔اس کے لیے دعا کرو ۔۔۔ویسے۔
مجھے نہیں لگتا انکل زیادہ دن تک انتظار کرے گا ۔۔
زویا ہار ماننے والے انداز میں بولی ۔۔۔
شھربانو اسے عجیب نظروں سے دیکھنے لگی ۔۔۔۔جیسے اس
کی بات سمجھنے کی کوشش کر رہی ہو ۔۔۔
” زویا وہ مجھے دھوکہ نہیں دے سکتا ۔۔۔۔۔” آخر کار دل کا
درد آنکھوں نے بیان کر دیا ۔۔
وہ زویا کے گلے لگ کر رونے لگی ۔۔۔۔لیکن اگلے ہی پل وہ
ہتھیلی کی پشت سے آنسو صاف کر کہ اٹھی ۔۔
” زویا میرے ساتھ چلو ۔۔۔”
” پھر اس کے گھر ۔۔یار پہلے بھی تین بار جا چکے ہیں وہاں
کے لوگ اب عجیب نظروں سے دیکھتے ہیں” ۔
زویا اسے بیزار لگی ۔۔۔” تم چل رہی ہو ۔یا نہیں ۔
اس نے تو جیسے فیصلہ کر لیا تھا ۔۔
” اوکے چلتی ہوں یار ۔۔۔پر یہ آخری بار ہوگا ۔۔
زویا نے انگلی اٹھا کے اسے تنبیہہ کی ۔۔
” چلو عنبر کو بتا دے۔۔۔” زویا نے بیگ اٹھایا ۔۔
تب تک شھربانو تیز تیز قدم اٹھاتی ایک طرف جانے لگی ۔۔
” اففف اب یہ لڑکی کدھر جا رہی ہے ۔۔” زویا بھاگتی ہوئی اس کے نزدیک پہنچی ۔
اسد زوہیب کی طرف جا رہا تھا ۔۔
اور وہ ان کی طرف
۔۔۔” تمہیں اس سے اس طرح بات نہیں کرنی چاہیے تھی ۔۔
اس کے پہنچنے سے پہلے اسد اپنے دوست کو کچھ بتا رہا تھا
وہ دونوں آپس میں بات کر رہے تھے ۔۔۔۔شھربانو سے بے خبر ۔۔
” یار وہ مفرور ہے ۔۔۔پولیس اسے ڈھونڈ رہی ہے ۔۔۔میں نہیں چاہتا یہ لڑکی اسے معاملے میں پھنسے ۔
” کیا کیا ہے سادی نے ۔۔؟؟”
ان دونوں نے چونک کر اسے دیکھا ۔
جیسے اس کی یہ بات سننے سے وہ دونوں پریشان ہوگئے ۔۔
وہ دونوں کچھ بتانے ہی لگے ۔۔۔شھربانو کے پیچھے دیکھ کر
خاموش ہوگئے ۔
۔۔شھربانو نے پیچھے دیکھا زویا کھڑی تھی ۔
” پلیز آپ بتا دے ۔۔زویا میری دوست ہے اس سے کچھ چھپا نہیں “
وہ ان کی جواب کی منتظر تھی ۔
ان دونوں نے ایک دوسرے کو دیکھا ۔۔۔۔” کہیں باہر چل کر بات کریں ۔۔
شھربانو نے اثبات میں سر ہلایا ۔
وہ پانچوں اب ایک ریسٹورنٹ میں تھے ۔۔۔
” لنچ آرڈر کر لیں ۔۔۔” اسد نے زوہیب سے کہا ۔۔
جاری ہے
