Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Intikam E Mohabbat by Esha Noor Episode02

Intikam E Mohabbat by Esha Noor Episode02

تیمور یار ۔۔۔آگئی نیوکلیئر بم ” ۔۔۔۔
وسیم سھل کو دیکھتے ہی بولا ۔۔۔
” اس نیوکلیئر بم کو آج ڈیفیوز نہ کیا تو ۔۔۔میں بھی تیمور صادق خان نہیں ۔۔۔
تیمور کے لبوں پر ایک شاطرانہ مسکراہٹ آئی ۔۔
” کیا کرنے جا رہا ہے تیمور یار
شہباز تیمور کو دیکھ کر کہنے لگا ۔۔۔۔۔۔
” وہ بس تو دیکھتا جا ۔۔۔۔یہ تو اسٹارٹ ہے تیمور کا ۔۔۔۔۔جانتی نہیں ۔۔۔کس سانپ کی بل میں ہاتھ ڈالا ہے ۔۔۔”
تیمور ماتھے پر شکن ڈالے ۔۔۔۔شہباز کو اپنے خطرناک عزائم بتا رہا تھا ۔۔۔
” تیمور یار تھوڑا احتیاط سے کام لینا ۔۔۔سعادت ملک کی بیٹی ہے کہیں پھنس نہ جائے ” ۔۔۔
شہباز فکریہ انداز میں گویا ہوئے۔۔۔۔
◇◇◇◇◇◇◇◇◇◇
مطھر آج پھر گھر سے۔ اپنی فائلیں ہاتھ میں لے کر
ذہن میں ہزاروں پریشانیاں لیے ایک امید پر نکلا ۔۔۔
وہ صبح کی ایک نئی کرن کی تلاش میں نکلا ۔۔۔
بس اسٹاپ پر بیٹھا وہ اپنی بس کے آنے کا انتظار کرنے لگا ۔۔۔
” کیسے ہو مطھر یار ۔۔۔کچھ سوچا اس بارے میں ۔۔۔”
وہ شخص پھر اس سے اسی شخص کے پاس جانے کا کہہ رہا تھا ۔۔۔
مطھر نے بس نفی میں سر ہلایا ۔۔۔
اس شخص کے اتنے احسان اس پر ہو چکے تھے ۔۔۔
وہ اس کے سامنے سر بھی نہ اٹھا پاتا ۔۔۔
☆◇◇◇◇◇◇◇◇
صبیحہ بی بی کی تکلیف بہت بڑھ گئی تھی ۔۔۔۔
” ھما میرے ساتھ چلو مارکیٹ تک ایک کام ہے ۔۔۔ردا تم امی ابو کا خیال رکھنا ۔۔
ربیعہ چادر اوڑھے ۔۔۔ردا کو ہدایت دے رہی تھی ۔۔
” رابی بیٹا کہاں جا رہی ہو ۔۔۔”
صبیحہ بی بی کہ آواز سے اس کے درد کا اندازہ بخوبی لگایا جا سکتا تھا ۔۔۔
ربیعہ نے کوئی جواب نہ دیا ۔۔۔وہ ھما کو لے کر ۔۔۔
سونار کے پاس آئی ۔۔۔۔
اپنے چھوٹے سے پرس سے ٹاپس نکال کر سونار کو دیے ۔۔۔
سونار چیک کرنے کہ بعد ان سے مخاطب ہوا ۔۔۔۔
” بی بی پانچ ہزار دے سکتا ہوں ۔۔” وہ دونوں بہنیں ایک دوسرے کا منہ تکنے لگی ۔۔
دو چار سونار دیکھنے کہ بعد ۔۔بڑی مشکل سے ربیعہ کو چھ ہزار مل پائے ۔۔۔
ان پیسوں سے کچھ راشن کا سامان خریدا ۔۔۔مطھر کا لایا سامان ناکافی تھا ۔۔۔اس نے یہ سوچ کر خرید لیا ۔۔۔کچھ دن گزارا ہو جائے گا ۔۔۔اپنے والد کی دوائیاں خریدی ۔۔۔
اس کہ پاس تین ہزار پانچ سو ۔۔رہ گئے ۔۔۔
” آپی اس سے اماں کا ہاسپیٹل میں چیک اپ ہو جائے گا ۔۔۔۔آپ جس ہاسپیٹل میں جا رہی ہو ۔۔۔وہاں ڈاکٹر کی فیس بھی بہت زیادہ ہے ۔۔۔”
ھما اپنی آپی کو پیسے گنتے دیکھ کر بولی ۔۔۔
” اماں کو کیا ہوا ہے ۔۔۔کچھ پتہ تو چلے گا ۔۔۔۔۔ان سرکاری ہاسپیٹل میں جانے سے آج تک کوئی فائدہ نہیں ہوا ۔۔ بیماری کا تو پتہ لگ جائے ۔۔۔مجھے اماں کا پوری پوری رات درد میں کراہنا نہیں دیکھا جاتا ۔۔۔۔”
ربیعہ کی آواز کانپ رہی تھی ۔۔۔
ربیعہ اور ھما گھر پہنچے ۔۔۔تو ربیعہ اپنی ماں کو لے کر ۔۔۔۔ہاسپیٹل پہنچ گئی ۔۔۔
ڈاکٹر نے اسے کچھ ٹیسٹ لکھ کر دیے ۔۔۔۔
” کیا مطلب ایک ٹیسٹ کے دس ہزار ” ۔۔۔ربیعہ نے ایک ٹیسٹ کرانے کی قیمت سنی تو ششدر رہ گئی ۔۔
وہ مایوس ہو کر درد کم کرنے کی دوائیاں لے کر گھر لوٹ گئی ۔۔
☆☆☆☆☆☆☆☆☆
سھل جیسے ہی اپنی چیئر سے اٹھی ۔۔۔۔۔تیمور نے ایک چپ لکھ کر دی ۔۔۔آہستہ سے دوسرے لڑکے نے سھل کہ پیچھے چپکا دی ۔۔۔۔سھل جہاں سے گذرتی پیچھے سے جو بھی پڑھتا وہ سھل پر ہنسنے لگتا ۔۔۔
۔☆☆☆☆☆☆☆☆
سھل کو جب تک پتہ لگا تب تک اس کی اچھی خاصی عزت افزائی ہو چکی تھی ۔۔۔۔۔۔
” سھل ۔۔چلو پرنسپل کے پاس چلتے ہیں ۔۔” سھل کہ گروپ نے فٹ سے سھل کو مشورہ دے ڈالا ۔۔
سھل غصے میں تھی ۔۔۔پر غصہ کو قابو رکھنے کا فن اسے خوب آتا تھا ۔۔۔
” مجھے پتہ ہے یہ سب کس نے کیا ہے ۔۔
۔۔۔۔۔۔اس کی تو میں ایسی واٹ لگائوں گی ۔۔۔۔پھر کسی لڑکی سے مذاق کرنے کا سوچے کا بھی نہیں “
وہ چاروں اس سوچ میں تھے ۔۔۔کہ اب سھل کرنے کیا والی ہے ۔۔۔۔
☆☆☆☆☆☆☆☆☆
تیمور اپنی جیت کا جشن منا رہا تھا ۔۔۔۔
سھل کی بے عزتی کروا کہ ۔۔۔
” تیمور یار لگتا ہے اپنے ساتھ ہمیں بھی کالج سے نکلوائے گا “
شہباز تیمور کی حرکت پر خوش نہیں تھا ۔۔۔۔
” ارے یار کچھ نہیں ہوتا ۔۔۔میرا باپ بھی کوئی ایسی ویسی چیز نہیں ۔۔۔۔”
تیمور فخریہ انداز میں بولے ۔۔۔۔۔
” لیکن یار ۔۔۔”
وہ کچھ کہتا سامنے آتے ہوئی شخصیت کو دیکھ کر اس کی زبان اس کا ساتھ چھوڑ گئی ۔۔
سامنے سے سھل کیٹ واک کرتی ہوئی ۔۔۔اپنے گروپ کہ ساتھ ان کی طرف آرہی تھی ۔۔۔
” ارے یار ۔۔۔یہ لڑکی خود کش بمبار کی طرح ہماری طرف آرہی ہے ۔۔”
وسیم ۔۔۔اپنے ہی بارودی انداز میں بولا ۔۔۔جسے پٹاخہ بم یہ سب زیادہ یاد ہوتے ۔۔۔
وہ ایک طرف ہونے کا سوچ ہی رہا تھا ۔۔۔
تیمور نے اسے پکڑ لیا ۔۔
” یار مجھے جانے دے ۔۔۔میرے چھوٹے چھوٹے بچے ہیں ان کا کیا ہوگا ۔۔۔۔”
شہباز حیرت سے وسیم کو تکنے لگا ۔۔۔۔
” اوئے تیری شادی کب ہوئی ۔۔۔۔”
تب تک سھل ان کے قریب آ چکی تھی ۔۔۔
” ہائے ہینڈسم ۔۔”
سھل نے بڑی نزاکت سے تیمور کی طرف ہاتھ بڑھایا ۔۔۔
تیمور نے سوچا پھر ہاتھ پیچھے نہ کر لے تیزی سے سھل سے ہاتھ ملایا ۔۔
” جو کچھ ہوا اسے بھول کر ہم آپ کی طرف دوستی کا ہاتھ بڑھاتے ہیں ۔۔۔”
تیمور کے پاؤں زمین پر نہ تھے ۔۔۔۔۔۔
” ہاں کیوں نہیں یہ چھوٹے موٹے مذاق تو ہوتے رہتے ہیں “
تیمور فاتحانہ مسکراہٹ چہرے پہ لیے ۔۔۔
شہباز اور وسیم کی طرف دیکھنے لگا ۔۔۔۔
سھل اتنا کہہ کر واپس پلٹ گئی ۔۔۔
” سنئیے ۔۔۔” تیمور نے اسے آواز دی لیکن سھل سن کر بھی ان سنی کر گئی ۔۔
☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆
مطھر نجانے کتنے دفتروں کے چکر لگا چکا تھا ۔۔۔گھر میں فاقوں کی نوبت آچکی تھی ۔۔۔۔روزگار کا کوئی وسیلہ نہیں تھا ۔۔۔۔
وہ اپنی سوچوں میں سڑک عبور کر رہا تھا ۔۔۔
جب پیچھے سے ایک گاڑی اس سے ٹکرائی جس سے وہ بال بال بچا ۔۔۔
فائلز کے پیپر زمین پر بکھر چکے تھے ۔۔۔
مطھر اس گاڑی کو نظر انداز کر کہ اپنے پیپر سمیٹنے لگا ۔
مطھر غصے میں بڑبڑا رہا تھا ۔۔۔۔
سامنے سے لڑکی نے آکر اس کہ کاغذات پر اپنا پاؤں رکھ دیا ۔۔۔۔
جینز کے اوپر شرٹ ۔۔۔جس کہ اوپر والے بٹن بھی صحیح سے بند نہ تھے ۔
کھلے بال ۔۔۔جو ہوا کے جھونکے سے اڑ کر اس کہ چہرے پہ آتے اور چلے جاتے ۔۔۔۔
” میڈم اپنا پاؤں ہٹائے ” ۔۔۔مطھر دانت پیستے ہوئے بولا ۔۔۔
” بڑا شوق ہے گاڑیوں کے سامنے آنے کا ۔۔۔کتنے پیسے مل جاتے ہیں ۔۔”
سامنے والی لڑکی حقارت سے بولی ۔۔۔
مطھر سے اب اپنا غصہ ضبط کرنا ۔۔۔مشکل ہو رہا تھا
۔۔
اوپر سے اس لڑکی کے چھچھورے دوست بھی آگئے ۔۔۔
“سھل چھوڑ یار ۔۔۔بیچارا مجبور لگتا ہے ۔۔۔”
ساتھ ہی سب نے زوردار قہقہہ لگایا ۔۔۔
مطھر پیپر اس کے پاؤں کے نیچے چھوڑ کر خود کھڑا ہو گیا ۔۔۔
” کیا بدتمیزی ہے ۔۔۔ماں باپ نے تمیز نہیں سکھائی۔۔
” رضا دیکھو تو صحیح اس کے پاس پیسے کتنے ۔۔۔ہیں اکڑ تو کافی دکھا رہا ہے “
ایک لڑکے نے آکر مطھر کی جیب میں ہاتھ ڈالا ۔۔۔۔
سو کا نوٹ دیکھ کر سب نے تمسخر اڑاتے ہوئے کہا ۔۔
” واہ اس کی جیب سے تو ایک کروڑ کا نوٹ نکلا ہے ۔۔۔”
مطھر نے اس لڑکے کو دھکا دیا ۔۔
وہ لڑکی مطھر کے قریب آئی ۔۔جو اب غصے سے کانپ رہا تھا ۔۔
انگلی سے اس کا چہرہ اوپر کیا ۔۔۔۔
مطھر کے آنکھوں میں خون اترا ہوا تھا ۔۔۔
سھل انگلی اس کے پورے چہرے پر گھمانے لگی ۔۔۔” شکل تو ٹھیک ٹھاک لگتی ہے ۔۔۔”
وہ لڑکی ساتھ ساتھ سموکنگ کر رہی تھی ۔۔۔
سگرٹ کا دھواں ۔۔۔مطھر کے چہرے پر پھونک رہی تھی ۔۔۔۔
” بے حیائی ۔۔۔تم پر ختم ہو جاتی ہے ۔۔۔۔”
مطھر اس کی شرٹ کے اوپر کے بٹن کھلے ۔۔۔دیکھ کر کہنے لگا ۔۔۔
سھل اس کی بات ان سنی کر کہ پھر سے اسے آفر دینے لگی ۔
” میرے جوتے صاف کرو ۔۔دس ہزار میں دیتی ہوں ” وہ سب پھر سے قہقہ مار کے ہنسنے لگے ۔۔۔۔
مطھر نے اسے بازو سے پکڑ کر جھٹکے سے ایک طرف کیا ۔۔۔اور اپنے پیپر اٹھا کر وہاں سے چلا گیا ۔۔۔۔
” او مسٹر جوتے تو میں اپنے تجھ سے صاف کروا کہ رہوں گی ۔۔۔”
مطھر نے وہ سو کا نوٹ کرائے کے لیے بچا کہ رکھا تھا ۔۔
وہ بھی ان لوگ نے پھاڑ کہ پھینک دیا ۔
اب اسے پورا سفر پیدل ہی جانا تھا ۔۔۔۔
وہ لوگ اب بھی گاڑی اس کے پیچھے لگائے اس پہ آوازیں کسنے لگے ۔۔۔
مطھر کی جان تب تک نہ چھوٹی جب تک وہ تنگ گلی تک نہ مڑا ۔۔
مطھر بس اسٹاپ تک گیا پر اس کا وہ دوست موجود نہیں تھا ۔۔۔جو ہر دفعہ اس کی مدد کرتا ۔۔۔۔
☆☆◇◇◇♡♡♡♡♡
” سعادت میری بات تو سنو ” شھربانو جو پچھلے آدھے گھنٹے سے ۔۔۔
سھل کی شکایتن کر رہی تھی ۔۔۔جو سعادت ملک سن کر بھی ان سنی کر رہا تھا ۔۔۔۔۔۔
” سھل کہاں سے آوارہ گردی کر کہ آرہی ہو ۔۔۔”
سھل جو آتے ہی سعادت ملک کی کرسی ۔۔کی سائیڈ پر بیٹھ کر اس کے گلے میں بانہیں ڈال کر بیٹھ گئی ۔۔۔
” سھل میں تجھ سے بات کر رہی ہوں ۔۔۔۔
اور یہ کیا ہر وقت باپ کو چپکی رہتی ہو ۔۔۔بڑی ہو گئی ہو کچھ تو شرم کرو ۔۔۔۔باپ اور بیٹی کہ بیچ بھی ایک حد مقرر ہے ۔۔۔”
شھربانو کو سھل کی حرکتوں نے پریشان کر رکھا تھا ۔۔
” ماما آپ کو ٹوکنے کے سوا کچھ آتا ہے ۔۔۔ہر وقت کی جھک جھک ۔۔۔سر کھا جاتی ہو ۔۔۔”
سعادت ملک نے زور کا قہقہہ لگایا ۔۔جیسے سھل نے بد تمیزی نہیں کی کوئی لطیفہ سنایا ہو ۔۔
شھربانو کا چہرہ غصے سے سرخ ہو گیا ۔۔
” سعادت ۔۔آپ اسے سمجھانے کی بجائے ۔۔اس کی بات پر ہنس رہے ہیں ۔۔۔۔
اگر اس کا باپ ۔۔۔”
شھربانو اس آگے کچھ کہتی ۔۔۔سعادت کے چہرے پرے
ناراضگی کے تاثرات دیکھ کر چپ ہو گئی ۔۔۔۔۔
سھل کہ سامنے بار بار مطھر کا چہرہ گھوم رہا تھا ۔۔۔۔
سھل نے اپنے فرینڈز کو کال کی ۔۔۔۔۔۔
جو سب کچھ دیر بعد اس کہ کمرے میں موجود تھے ۔
سھل نے کمرے میں ۔۔۔تیز آواز سے ۔۔میوزک لگایا ۔۔۔
اور سب ڈانس کرنے شروع ہو گئے ۔۔۔
سھل نے ایک دم سے میوزک بند کر دیا ۔۔۔
” کیا ہوا میوزک کیوں بند کر دیا ۔۔۔”
رانیہ منہ بناتے ہوئے بولی ۔۔۔۔۔۔
” میرے دماغ میں تیمور سے بدلہ لینے ۔۔کا آئیڈیا آیا ہے ۔۔۔
سھل پر سوچ انداز میں بولی ۔۔۔
☆☆♡◇◇◇◇◇◇◇◇◇
” ربیعہ ۔۔۔بھائی گھر آگیا ۔۔۔؟؟؟”
مطھر نے گھر آنے میں کافی دیر کر دی تھی ۔۔۔۔۔۔صبیحہ بی بی کا ایک بیٹا نشے کی لت میں پڑ گیا تھا ۔۔۔وہ نہیں چاہتی تھی
کہ دوسرا بیٹا بھی اسی راستے کی طرف چلا جائے ۔۔۔۔
” نہیں اماں ابھی نہیں آیا ۔۔۔”
مطھر کی بہنیں بھی مطھر کے لیے فکر مند تھی ۔۔۔۔
مدثر تو گھر میں آتا توڑ پھوڑ کرتا ۔۔
پیسے مانگتا گھر میں جو چیز بھی اس کہ ہاتھ لگتی لے جاتا ۔۔تاکہ اسے بیچ کہ اپنا نشہ پورا کر سکے ۔۔۔
مطھر گھر پہنچا تو سب کے سوالات شروع ہو گئے ۔۔
ھما پانی لے آئی ۔۔۔ردا ۔چائے لے آئی ۔۔ربیعہ کھانا لینے چلی گئی ۔۔۔۔۔
” کچھ نہیں ہوا تھا پیدل آیا تھا نہ دیر ہو گئی ۔۔۔
” پیدل کیوں ۔۔۔بس یا رکشہ سے آتے ۔۔۔۔آپ ہی تو ہمارا سہارا ہیں آپ اپنے آپ کو اس طرح تھکا دیں گے ہمارا کیا ہوگا ۔۔”
ربیعہ مطھر کے لیے کھانا لگا رہی تھی اور مطھر کو تنبیہ بھی کر رہی تھی ۔۔۔
” کرایہ نہیں تھا ۔۔۔” ۔۔۔۔
مطھر نے ھما سے پانی لیا ۔۔۔
” تو کرائے کہ پیسے لے جاتے ۔۔”
اب کی بار ردا نے بھی اپنا حصہ ڈالا ۔۔۔۔
” لے گیا تھا ۔۔۔گم ہو گئے ۔۔۔” ۔مطھر نے ادھوری بات بتائی۔۔
سب اپنے بھائی کہ چہرے کو تکنے لگی ۔۔۔۔۔
مطھر کھانا کھا ۔۔۔۔کہ ایسا سویا ۔۔۔اس کی آنکھ اس کی ماں کہ درد کہ کراہنے پر کھلی ۔۔۔
وہ اٹھ کر اپنی ماں ۔۔۔کہ سرہانے بیٹھ گیا ۔۔
“آج ربیعہ لے گئی تھی ۔۔۔ڈاکٹر کہ پاس ۔۔۔بڑی ہسپتال ۔۔۔کیا فائدہ ہوا ۔۔”
مطھر نے اسے درد کی دوائی دی ۔۔۔جس سے صبیحہ بی بی ۔
۔کو کچھ آرام ۔آیا ۔۔۔
مطھر کی آنکھ جلدی کھل گئی تھی ۔
مطھر مسجد سے فجر کی نماز پڑھ کر۔۔۔آیا ۔۔۔
ربیعہ چائے بنا رہی تھی ۔۔
مطھر اپنے۔۔۔والد کو چینج کرانے لے گیا ۔۔۔
اپنے والد سے فارغ ہو کر ۔۔۔
چائے کا انتظار کرنے لگا ۔
” بھائی مجھے آپ سے کچھ بات کرنی ہے ۔۔۔”
ربیعہ نے مطھر کے سامنے چائے کا کپ رکھا چائے کے ساتھ ۔۔۔پراٹھا بھی بنا کر لائی تھی۔۔
مطھر ربیعہ کے بولنے کا انتظار کرنے لگا ۔۔
وہ بھی اس کہ ناشتہ ختم ہونے کا انتظار کر رہی تھی ۔۔
” بھائی۔ آج میں اماں کو ڈاکٹر کے پاس لے گئی تھی ۔۔۔”
ربیعہ ایک پرائیویٹ ہاسپیٹل کا نام بتا کر کہنے لگی ۔
” کیا کہا ڈاکٹر نے ۔۔۔” مطھر اپنی ماں کو دیکھ رہا تھا
” ٹیسٹ لکھ کر دی تھی ۔۔تین ٹیسٹ ہیں ۔۔۔بیس ہزار کی ۔۔۔رعایت کر نے کے بعد بھی دس ہزار مانگ رہے ہیں ۔۔۔۔۔
ڈاکٹر کہہ ریا تھا ۔۔۔جتنی جلدی ہوسکے آپریشن کروا لیں ۔۔۔
ربیعہ کی پریشانی اس کہ چہرے سے عیاں تھی ۔۔۔ ۔۔۔
” آپریشن پر کیوں “
مطھر پریشان ہو گیا
” ۔۔ہاتھ خراب ہونے سے آپریشن ۔
جی بھائی ڈاکٹر کو لگتا ہے کہ کینسر ہے صحیح رپورٹ ٹیسٹ کے بعد پتہ لگے گی ۔۔۔”
ربیعہ گردن جھکائے نم آنکھیں لیے دنیا بھر کا درد اپنے اندر سمیٹ رہی تھی ۔۔
مطھر کی نظر اس کے خالی کانوں کی طرف گئی ۔۔۔جہاں کبھی خوبصورت ٹاپس جگمگا رہے تھے ۔۔
” تمہاری بالیاں کہاں ہے ” ۔۔۔۔
مطھر سب سمجھ چکا تھا ۔۔۔
” بیچ دی ۔۔۔اب گھر میں بیچنے کو بھی کچھ نہیں بچا ۔۔”
وہ دونوں اپنے مسائل میں الجھے تھے ۔۔۔۔۔اچانک ایک آواز نے دونوں کو چونکہ دیا۔۔
” ربیعہ بی بی کدھر ہے ۔۔۔” ایک عورت صبح سویرے غصے میں ان کہ گھر آن ٹپکی ۔۔
ربیعہ جلدی میں کچن سے باہر نکلی ۔۔
” جی جی بولیں ۔۔۔” ربیعہ گھبرا گئی ۔۔۔
” بی بی یہ کپڑے آپ رکھیں ہمیں اپنے جوڑے کہ پیسے دیں ۔۔۔جس کا تم نے ستیا ناس کر دیا ہے ۔۔۔۔
کپڑے سینے نہیں آتے ۔۔۔تو کیوں لیتی ہو ۔۔۔”
” لیکن اخلاقی لحاظ سے آپ کو مجھے سلائی کہ پیسے دینے چاہیے تھے ۔۔۔””
ربیعہ کی آواز اس عورت کے شور کرنے کی وجہ سے کانپنے لگی ۔
” کاہے کی سلائی ۔۔۔میرا دو ہزار کا سوٹ خراب کر دیا ۔۔۔
مجھے اپنے پیسے چاہیے ۔۔”
مطھر جو اتنی دیر سے تماشہ دیکھ رہا تھا ۔۔۔۔
غصے سے باہر آیا ۔۔۔۔
” چھوڑ جا ئیں اپنے کپڑے مل جائیں گے آپ کو پیسے ۔۔جا بی بی ۔۔۔میرے والدین کی طبعیت ٹھیک نہیں خوامخواہ صبح آکے شور مچایا ہے “
عورت مطھر کی باتیں سن کہ اور زیادہ سیخ پا ہو گئی ۔۔۔
” کدھر سے دیگا پیسے ۔۔۔گھر میں کھانے کو کچھ نہیں اکڑ تو دیکھو ۔۔۔”
مطھر ۔۔کا بھی پارہ ہائے ہونے لگا ۔۔۔
” او بی بی ہے یا نہیں آپ سے مانگ کہ نہیں کھاتے ۔۔۔جائیں آپ “
وہ عورت غصے سے شور کرتی چلی گئی ۔۔۔
” دیکھ لوں گی تم لوگوں کو پورے محلے میں بدنام نہ کیا میرا نام بدل دینا ۔۔۔”
ربیعہ کی آنکھوں سے آنسو بہنے لگے ۔۔۔
صبیحہ بی بی کو بڑی مشکل سے آرام آیا تھا ۔۔۔
جو اس عورت نے شور کر کہ خراب کر دیا تھا۔۔
مطھر کو غصہ تو بہت آرہا تھا پر وہ کر بھی کیا سکتا تھا ۔۔۔
” بھائی آپ کی شرٹ نکال دی ہے ۔۔۔اور یہ فائل ۔۔”
ھما ہاتھ میں فائل لیے اپنے بھائی کو دیکھ رہی تھی ۔۔
” تم کالج نہیں جا رہی ۔۔”
ھما گردن جھکائے نفی میں سر ہلانے لگی ۔۔۔
” میرے ڈریس کافی پرانی ہو گئی ہے ۔۔جوتے پھٹے ہیں سب لڑکیاں میرا مذاق اڑاتی ہے ۔۔۔”
یہی رونا ردا کا تھا ۔۔۔۔۔
مطھر کا دن ہی خراب تھا ۔۔ ۔
” میں انٹرویو دینے نہیں جا رہا ۔۔۔۔۔جتنے بھی اشتہار تھے سب جگہ اپلائے کر چکا ہوں ۔۔۔”
مطھر باہر نکلا دودھ والا سے سامنہ ہوگیا ۔۔۔۔
” مطھر۔ بھائی وہ پیسے ۔۔۔۔۔” اس نے مطھر کی بے بسی دیکھ کر اس کو ترس آگیا ۔۔
” وہ بھائی مالک غصہ ہو رہا ہے ۔۔۔”
” پریشان نہ ہو میں کچھ نہ کچھ کرتا ہوں ۔۔۔”
مطھر کو سمجھ نہیں آرہا تھا ۔۔۔
وہ کرے تو کیا کرے ۔۔۔
ماں کی زندگی ۔۔۔بہنوں کی پڑھائی ۔۔۔بھائی کا علاج ۔۔۔
بڑی بہن کی شادی ۔۔
” جس عمر میں لڑکے موج مستی کرتے ہیں میرے بھائی پر اتنی ذمیداری آن پڑی ہے ۔۔”
بھائی کی حالت دیکھ کر ۔۔۔ربیعہ تڑپ کر بولی ۔۔۔۔
◇◇◇◇◇◇◇◇◇◇◇
” سعادت آپ ابھی تک ہم ۔۔سے ناراض ہے ۔۔۔ہمارا مقصد آپ کو ناراض کرنا نہیں تھا ۔۔۔وہ تو بس غصے میں منہ سے نکل گیا “
شھربانو سعادت کا کوٹ لیے کھڑی تھی ۔۔۔
سعادت نے الماری کھولی اور دوسرا کوٹ نکال لیا ۔۔۔
وہ پہنتے ہوئے باہر نکل گئے ۔۔
شھربانو جانتی تھی راحیل کا ذکر سعادت کو پھانس کی طرح چھبتا تھا ۔۔۔۔
” آپ ناشتہ تو کر لیں۔۔۔۔” شھربانو کے منہ سے نکلے الفاظ اس کے لیے وبال جان بن گئے تھے ۔۔۔۔
☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆
سھل اپنے والد کا خراب موڈ اپنی ماں کا اترا ہوا چہرہ دیکھ رہی تھی ۔۔۔۔
سعادت ناشتہ کیے بغیر اٹھ کر چلے گئے ۔۔۔۔
” ماما بابا کو کیا ہوا ۔۔۔۔” سھل غصے سے اپنی ماں کو دیکھ رہی تھی ۔۔۔سھل کو کسی کی پرواہ تھی تو وہ صرف اس کے والد تھے ۔۔۔
شھربانو نے سھل کی بات کا کوئی جواب نہ دیا ۔۔۔۔
” ماما آپ نا۔۔۔۔! کسی کو خوش نہیں رکھ سکتی ہیں ۔۔۔”
سھل اٹھ کر کالج کے لیے نکل گئی ۔۔
آج سے اسے اپنے منصوبے پر کام کرنا تھا ۔۔۔۔
سھل اپنے مخصوص شارٹ لباس میں
کالج پہنچی جہاں اس کی ٹیم اس کا انتظار ۔۔۔کر رہی تھی ۔۔۔۔سب معمول کے مطابق تھا ۔۔۔پر آج ایک نیا اضافہ کرنا تھا اور وہ تھا تیمور ۔۔
سھل نے تیمور کو آتے دیکھ لیا تھا پر وہ جان کے انجان بنی رہی ۔۔۔
۔۔۔” یار یہ تیمور کیوں نہیں آیا ۔۔۔۔” سھل کا انداز ۔۔۔ایسا تھا ۔۔جیسے اسے بڑی بے چینی سے اس کا انتظار ہے
تیمور جو اس کے پیچھے کھڑا تھا اس کی گردن کچھ۔۔اور اکڑ گئی ۔۔۔
” سھل یہ تجھے تیمور کا کیا بخار چڑھا ہے “
رانیہ دیکھ پیچھے تیمور کو رہی تھی ۔۔۔
” یار تیرا اور سارا کا ۔۔۔۔تو بوائے فرینڈ ہے میرے ساتھ بھی کوئی ہونا چاہیے ۔۔۔اس پورے کالج میں تیمور کے سوا کوئی ڈھنگ کا لڑکا نظر نہیں آیا ۔۔۔”
تیمور جو اس کی باتیں سن کر خوش فہمی کہ ساتویں آسمان پر تھا ۔۔۔
رانیہ اور سارا کہ قہقہہ کر پر نیچے اترا ۔۔۔
سھل نے بھی ایسا رویہ اپنایا جیسے واقعی وہ باتیں اپنی دوست کو ہی بتا رہی تھی ۔۔۔
” ہم نے بھی آپ کے بارے میں بہت سوچا ۔۔۔دشمنی سے بہتر ہے آپ سے دوستی کر لیں ۔۔” تیمور دیکھ شہباز اور وسیم کو رہا تھا ۔۔۔
انہیں یہی جتا رہا تھا وہ شرط جیت چکا ہے ۔۔۔
سھل بغور اس کہ چہرے کا جائزہ لے رہی تھی ۔۔
” کہیں سائیڈ پہ چل۔ کہ بات کرتے ہیں ۔۔۔”
سھل نے ۔۔ایک شاطرانہ مسکراہٹ سے اپنے فرینڈز کو دیکھا ۔۔۔
انہوں نے بھی تھمب دکھا کر ۔۔۔ڈن کا اشارہ کیا ۔۔۔
تیمور کا دل خوشی سے اچھل کے باہر آرہا تھا ۔۔
” ہاں تو آج شام کا کیا پروگرام ہے ۔۔۔۔” سھل کا پلان تو خود ہی کامیاب ہو رہا تھا ۔۔
سھل بھی۔ عام لڑکیوں کی طرح شرمانے کی اداکاری کرنے لگی ۔۔۔۔۔
تیمور کہ پاؤں تو زمین پر نہ تھے ۔۔اسے تو ایسا لگا اس نے دنیا فتح کرلی ہے ۔۔۔۔
” شام کا تو کوئی پروگرام نہیں” ۔۔۔۔سھل اب دوسری طرف دیکھ رہی تھی ۔۔۔
جہاں کالج کہ کافی اسٹوڈنٹ جیلس ہو کہ دیکھ رہے تھے
” تو پھر کہیں باہر ڈنر کریں ۔۔۔”۔۔۔تیمور اپنی اصلیت پر آگیا
” ہاں کیوں نہیں ” ۔۔۔سھل نے اپنے پلان کو جلدی پایہ تکمیل تک پہنچانا تھا ۔۔۔
سھل کو اب وہاں رکنا ۔۔۔بور کر رہا تھا ۔۔۔
” ابھی کلاس ہے ۔۔۔۔ پھر بات ہوگی ۔۔۔”
سھل واپس پہنچی ۔۔۔تو وہ سب منتظر تھے ۔۔۔
کہ وہاں کیا کیا بات ہوئی ۔۔۔۔
” باہر ڈنر پر بلایا ۔۔ہے ۔۔۔۔۔۔سھل بڑی معصومیت سے بتا رہی تھی ۔۔۔
وہ دیکھ رہی تھی ابھی بھی تیمور ان کی طرف متوجہ تھے ۔۔اس لیے اسے یہ ڈرامہ ابھی کرنا تھا ۔۔۔
” تم۔جائو گی ” وہاب پریشان ہو کہ بولا
” ہاں “
سھل نے حیرت سے وہاب کو دیکھا ۔۔۔
” وہ اچھا آدمی نہیں ہے ۔۔۔۔”
وہاب واقعی میں سیریس تھا ۔۔۔
“تو وہ مجھے نہیں جانتا ۔۔۔”
سھل۔۔۔نے بھی تکبرانہ انداز میں کہا ۔۔۔
” لیکن کچھ بھی ہو یار ۔۔۔آپ لڑکی ۔۔۔ہو ۔۔۔”
سھل نے وہاب کی معصومیت پر قہقہہ لگایا ۔۔۔
” چلو کلاس ہے ۔۔”

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *