Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Intikam E Mohabbat by Esha Noor Episode28

Intikam E Mohabbat by Esha Noor Episode28

اس میت کی تدفین کر دی گئی تھی ۔۔۔۔سعادت کے تو تھے ہی دور کے رشتے دار وہی جنازے میں شریک تھے ۔۔۔لیکن شھربانو کے قریبی رشتے دار موجود تھے ۔
ان میں زین بھی موجود تھا ۔۔
مظفر کی فیملی بھی شریک ہوئی تھی ۔۔
لیکن راحیل کے رشتے داروں میں سے کوئی بھی وہاں موجود نہیں تھا ۔۔۔۔جن کا سھل سے خون کا رشتہ تھا ۔۔
شھربانو سیاہ لباس میں ایک کونے میں خاموش بیٹھئ تھی ۔۔
” آنٹی ہمیں بہت دکھ ہوا ۔۔۔ابو بھی تعزیت کر رہے تھے “
مظفر کی بیٹی کی آواز پر اس نے چونک کر اسے دیکھا ۔۔
بولنے کو کچھ تھا ہی نہیں ۔۔۔تو بس سر کو ہلکی سی جنبش دی ۔۔
وہ جانے لگی اسے مطھر یاد آیا ۔۔۔لیکن وہ وقت شاید ان باتوں کے پوچھنے کا نہیں تھا ۔۔۔
” اپنا خیال رکھنا ” وہ جوابا بس اتنا کہہ سکی ۔۔۔۔
اس نے عنبر کو مطلع کر دیا تھا ۔۔۔
مطھر کی فیملی کو اب کوئی خطرہ نہیں تھا اس وجہ سے وہ منظر عام پر آچکے تھے ۔۔
☆◇◇◇◇◇◇◇◇◇◇◇◇
مطھر کی آنکھ کھلی تو اس نے خود کو لکڑی کے بنے گھر میں پایا ۔
آس پاس اس وقت کوئی بھی موجود نہیں تھا ۔۔۔۔
اس نے بمشکل اٹھنے کی کوشش کی ۔۔۔۔
اسے ایسا لگ رہا تھا وہ سہی سے چل نہیں پا رہا ۔۔۔اس کی ایک ٹانگ بلکل سن پڑی تھی ۔۔۔
وہ پاوں گھسیٹتا دیوار کا سہارا لیتا ۔۔۔اس کمرے سے باہر نکلا تو سامنے ایک چھوٹا سا برآمدہ بنا تھا ۔۔۔۔
اس نے کسی کو آواز دینے کے لیے منہ کھولا ہی تھا کہ سامنے سے ایک ادھیڑ عمر شخص کو اپنی طرف آتے دیکھا
اس شخص نے پشتو میں کچھ کہا ۔۔۔۔اسے صرف اللہ کا شکر ہی سمجھ آیا ۔۔۔۔
وہ اس سے ہی مخاطب تھا ۔۔۔لیکن وہ منہ کھولے اسے ہی دیکھ رہا تھا ۔۔
” سھل کہاں ہے ؟؟
اس نے اردو میں سھل کا پوچھا ۔۔۔۔
وہ شخص نفی میں سر ہلاتا باہر چلا گیا ۔
” ارے کہاں جا رہے ہیں ۔۔۔مجھے سوال کا جواب تو دیتے جائیں ۔۔۔میرے ساتھ ایک لڑکی تھی وہ کہاں ہے ۔۔۔۔؟؟”
وہ شخص رکا نہیں تھا ۔۔۔۔اور وہ اس کے پیچھے چلاتا رہا ۔۔۔
اسے تھکن محسوس ہوئی تو وہ ایک لکڑی کے بنے ۔۔۔تخت پر بیٹھ گیا ۔۔۔
ہر طرف لکڑی سے بنی اشیاء موجود تھی ۔۔۔
باہر کا درجہ حرارت کیا تھا ۔۔۔وہ اسے اندر محسوس نہیں ہو رہا تھا ۔۔۔
لکڑی کے بنے گھر کا درجہ حرارت نارمل تھا ۔۔۔
وہ ادھر اودھر دیکھنے لگا ۔۔۔
وہاں ایک اور کمرہ بھی تھا ۔۔۔
وہ پاوں گھسیٹتا اس کمرے کی طرف بڑھا ۔۔۔شاید وہاں سھل موجود ہو ۔۔۔
عجیب سے خیالات سھل کے بارے میں اس کے دل میں آنے لگے ۔۔۔
پہلے والا شخص ایک اور شخص کو ساتھ لے کر واپس اس کاٹیج میں آیا تھا ۔۔۔۔۔
دوسرے شخص نے آتے ہی سلام کیا ۔۔۔
☆☆☆☆☆◇◇◇◇◇◇◇◇
ماضی
وہ واپس اب اسی فارم ہاوس کے سامنے موجود تھئ ۔۔۔۔
” تم مجھے کہاں لے کہ جا رہے ہو ۔۔۔۔؟؟
شھربانو کئ آواز تھوڑی لڑکھڑائی تھئ ۔۔
۔” اسئ شخص کے پاس جس کے ساتھ تم اپنی مرضی سے موجود تھی ۔۔۔”
وہ کبھی فارم ہاوس کو تو کبھی سعادت کو دیکھتی۔۔۔
” کیا ہوا ۔۔۔اب قدم کیوں رک گئے ۔۔۔۔”
وہ اس کے چہرے کے تاثرات دیکھ رہی تھی ۔۔اس لہجہ نہایت ہی سخت تھا ۔۔
” تم میرے ساتھ ایسے پیش نہیں آسکتے ۔۔
وہ اسے بازو سے پکڑے تقریبا گھسیٹنے والے انداز میں اسے کھینچ کر اندر لے کہ جا رہا تھا ۔۔۔
اور اس کی حالت غیر ہوتی جا رہی تھی ۔۔۔
وہ پورا زور لگا کہ اپنا ہاتھ چھڑانے کی کوشش کر رہی تھی ۔۔
☆☆☆◇◇◇◇♡◇◇◇◇◇
وہ دیکھ رہا تھا شھربانو کا چہرہ زرد پڑ رہا تھا ۔
۔۔لیکن اسے یہ سختی کرنی پڑ رہی تھی ۔۔
اس نے جو الفاظ کچھ دیر پہلے اس شخص کے سامنے کہے تھے وہ اسے بھول نہیں پایا تھا ۔۔۔
اسے رہ رہ کے شھربانو پہ غصہ آرہا تھ
وہ اب اس شخص کے سامنے موجود تھے ۔
” ارے یار تم واپس آگئے ۔۔۔۔۔واہ اسے بھی ساتھ لے کر آئے ہو ۔۔۔ویری گڈ “
وہ شخص شاید زیادہ ہی خوشی فہمی کا شکار تھا ۔۔
وہ شخص اب بھی وہاں موجود تھا ۔۔۔اس دوسری لڑکی کے ساتھ ۔۔۔
اب اس کا صبر جواب دے گیا تھا ۔۔
اس نے گن نکال کر اس کے ہاتھ پہ گولی ماری ۔۔
وہ لڑکی تو چلا کہ باہر کی طرف بھاگی ۔۔۔
” یار یہ کیا کر رہے ہو ۔۔۔۔وہ شخص درد سے چلا اٹھا ۔۔۔
” ہم تو اچھے برے وقتوں کے ساتھی ہیں ۔۔۔۔تم تم ۔۔میرے ساتھ ۔۔۔
لیکن وہ تو دل میں کچھ اور ہی ٹھان کر آیا تھا ۔۔
اس نے ایک اور گولی اس کے دوسرے ہاتھ میں ماری ۔۔۔
” تمہاری ہمت کیسے ہوئی شھربانو کو ہاتھ لگانے کی ۔(گالی ) ۔۔۔
وہ شخص درد سے کراہ رہا تھا ۔۔
“یار ۔۔۔ یار۔۔ مجھے معاف کر دو ۔۔مجھے نہیں پتا تھا ۔۔۔تم ایک بار مجھے کہہ دیتے ۔
وہ شخص الفاظ توڑ توڑ کے ادا کر رہا تھا ۔
” تجھے چھوڑ دوں تاکے پھر میں زندہ نہ بچ پائوں ۔۔
اس نے ایک اور گولی چلائی اس شخص کی آواز کو ہمیشہ کے لیے خاموش کر دیا ۔۔۔
” یہ کیا کر دیا تم نے ۔۔اس نے شھربانو کی طرف دیکھا ۔۔۔جو دونوں ہاتھ حیرت سے منہ پہ رکھے ہوئی تھی ۔۔
” تم ۔۔۔نے ۔۔۔۔تم ۔۔۔نے ۔۔خون کر دیا ۔۔۔۔سعادت تم خونی بھی ہو ۔۔!
اس نے پلٹ کر شھربانو کو دیکھا ۔۔
” اگر تم میری بات مان لیتی تو شاید یہ سب نہ ہوتا ۔۔۔۔نہ ہی تم یہاں آتی نا ہی یہ شخص اتنی گری ہوئی حرکت کرتا نا ہی اپنے انجام کو پہنچتا ۔۔۔۔اپنی حالت دیکھ ایسے لوگوں کو یہی انجام ہوتا ہے ۔۔۔خونی صرف میں نہیں تم بھی ہو ۔۔
▪▪▪▪▪▪▪▪▪▪▪▪
وہ اسے سب کچھ سنا کر ۔۔۔
وہ اسے خون میں لت پت لاش کے پاس چھوڑ کر خود کمرے سے باہر چلا گیا تھا۔۔
شھربانو اتنا خوفناک منظر دیکھ کر سہم کر رہ گئی ۔۔
اس پہ کپکپی طاری ہونے لگی تھی ۔۔
اس کا پورا وجود پسینہ پسینہ ہو رہا تھا ۔۔
اسے اپنی آنکھوں کے سامنے سب دھندھلا نظر آنے لگا۔۔۔۔
۔ کچھ دیر میں سب منظر اس کی نظروں سے اوجھل ہوگئے ۔۔۔اسے کچھ ہوش نہ رہا ۔
☆☆☆☆☆♡♡♡♡◇◇◇◇◇◇
اس کی آنکھ کھلی تو وہ اپنے گھر میں موجود تھی ۔۔۔۔
ممتاز بیگم اس کے سرہانے بیٹھی تھی ۔۔
” آگیا تجھے ہوش ۔
ممتاز بیگم کا لہجہ نہایت ہی سخت تھا ۔۔
۔” امی وہ سعادت نے ۔
” کیا سعادت نے !!! بہت سن لی تیری بکواس ۔۔بہت کر لی تونے اپنی من مانی ۔۔۔۔اٹھ جلدی سے کپڑے بدل مولوی صاحب آتا ہی ہوگا نکاح پڑھوانے ۔۔
وہ پھٹی آنکھوں سے۔۔اپنی ماں کو دیکھ رہی تھی ۔۔
” کس کا نکاح کس کے ساتھ ۔۔۔” وہ اپنے ہاتھ پیچھے کر کے ان کے سہارے سے اٹھ کر بیٹھی ۔۔
” تمہارا اور سعادت کا ۔۔
اسے جیسے ممتاز بیگم کی بات سمجھ نہیں آئی تھی ۔۔۔
” امی آپ کیا کہہ رہی ہیں ۔۔
” جو کہہ رہی وہ تم اچھی طرح سمجھ رہی ہو ۔۔۔۔یا تو تم نکاح کر لو ۔۔۔یا تو پھر مجھے زہر لا دو ۔۔
اسے اپنی ماں سے اتنی سخت بات کی توقع نہیں تھی ۔۔۔
☆◇◇◇◇◇◇◇◇◇◇◇
کچھ گھنٹے پہلے ۔
” اس شخص کی لاش کو ٹھکانے لگا دو ۔۔
وہ کمرے سے باہر آتے ہی اپنے آدمیوں کو
ہدایات جاری کر رہا تھا ۔
۔۔” سر اس لڑکی کا کیا کرنا ہے ۔
وہ اسی لڑکی کو پکڑے کھڑے تھے ۔۔۔۔جو کمار کے ساتھ اس نے دیکھی تھی ۔۔۔
وہ اپنے آپ کو آزاد کرانے کی کوشش کر رہی تھی ۔۔۔
☆◇◇◇◇◇◇◇◇◇◇◇
” مجھے چھوڑ دو ۔۔۔میں کسی کو کچھ نہیں بتائوں گی ۔۔۔میرے بوڑھے ماں باپ ہیں ۔۔۔چھوٹے بہن بھائی ہیں ۔۔۔ان کی واحد کفیل میں ہوں ۔۔۔۔پلیز مجھے چھوڑ دو “
وہ ہاتھ جوڑنے لگی۔۔۔۔
” اسے کچھ دن اپنے پاس آرام سے رکھو بعد میں دیکھتے ہیں اس کا کیا کرنا ہے ۔
وہ اپنے آدمیوں کی طرف دیکھ رہا تھا ۔۔۔وہ لڑکی کیا کہہ رہی تھی ۔۔۔وہ تو جیسے اس نے سنا ہی نہیں تھا ۔۔
وہ واپس کمرے میں آیا تو اس نے ۔۔۔شھربانو کو زمین پر بے ہوش پڑا دیکھا ۔۔۔
۔۔۔اس نے شھربانو کو اپنی بانہوں میں اٹھایا ۔۔۔
اس کا بے جان وجود اس کی بانہوں میں جھول گیا۔۔وہ اسے اٹھائے باہر کی طرف لپکا ۔۔۔
شھربانو کا پورا وجود ٹھنڈا پڑ رہا تھا ۔۔۔۔
جس حالت میں شھربانو تھی ۔
۔۔۔۔اسے وہ اس حالت میں ہاسپیٹل نہیں لے جا سکتا تھا ۔۔۔۔پھٹے کپڑے ۔۔۔چہرے اور گردن پر انگلیوں کے نشان ۔۔بکھرے بال اس ساری علامات سے صاف ظاہر تھا ۔۔۔
کچھ دیر پہلے اس کے ساتھ کیا ہونے والا تھا یا کیا ہوچکا تھا ۔۔
اسے اس وقت شھربانو کو گھر لے جانا ہی مناسب لگا ۔۔۔۔
اسے شھربانو کی فکر تو بہت تھی ۔۔لیکن وہ کس کس کو جواب دیتا
کہ اس کے ساتھ کیا ہو چکا ہے اور کس نے کیا ہے ۔۔۔۔
شھربانو کو وہ اپنےگھر آیا تھا ۔۔۔
“کیا ہوا ہے اسے ۔۔۔۔” ممتاز بیگم کی حالت اپنی بیٹی کو دیکھ کر خراب ہونے لگی ۔۔
” بس ایک چھوٹا سا حادثہ ہو گیا تھا ۔۔۔ مجھے اس کی آفس والوں نے کال کی تھی ۔۔۔۔ شکر ہے
کچھ ہونے سے پہلے میں وہاں پہنچ گیا اب سب ٹھیک ہے ۔
وہ جو سمجھانا چاہ رہا تھا ۔۔وہ ۔۔ممتاز بیگم کو بخوبی سمجھ آرہا تھا ۔۔۔۔
ممتاز بیگم کے چہرے کے تاثرات اسے یہی سب سمجھا رہے تھے ۔۔
” میں ڈاکٹر کو لے کر آتا ہوں ۔۔۔ وہ جانے ہی لگا تو ممتاز بیگم نے اسے آواز دی ۔۔۔
” سعادت ڈاکٹر کو نہیں مولوی کو لیکر آئو ۔۔
اس کا لہجہ نہایت ہی سرد تھا ۔۔
” مولوی پر کیوں ؟؟
وہ ممتاز بیگم کی بات سن کہ پریشان ہو گیا ۔
” بیٹا جب جھوٹ بولنا نہیں آتا ۔۔۔تو کیوں بولتے ہو ۔۔۔۔اور یہ جس حالت میں ہے مجھے سب سمجھ آرہا ہے ۔۔۔جس طرح تم آئے تھے ۔۔۔۔جتنا تم اس کے لیے پریشان تھے ۔۔۔۔مجھے اسی وقت سمجھ آگیا تھا شھربانو کو کوئی بڑا خطرہ لاحق ہے ۔۔۔۔لیکن بیٹا میں لوگوں کو جواب دے دے کر تھک چکی ہوں ۔۔۔میں سکون سی جی تو نہیں سکتی لیکن مر تو سکتی ہوں ۔۔۔”
مرنے والی بات سعادت کے دل کو لگی ۔۔۔
” امی ایسا کچھ نہیں ہے ۔۔۔”
وہ کچھ اور کہتا ۔۔۔ممتاز بیگم نے اس کے سامنے ہاتھ جوڑ لیے ۔۔۔” بیٹا ایک مجبور ماں کی عزت رکھ لو ۔۔بانو کو اپنا لو ۔۔۔نہیں تو میں پاگل ہوجائوں گی لوگوں کی باتیں سن سن کر ۔۔۔بہت سن لی اس کی میں نے ۔۔۔میں ایک بار پھر۔۔۔تم سے یہی التجا کر رہی ہوں ۔۔۔”
وہ اب ممتاز بیگم کو کیا کہتا شھربانو کبھی راضی نہیں ہوگی ۔۔۔وہ ضد اور نفرت کی انتہا پر تھی ۔۔
وہ کچھ دیر سوچتا رہا ۔۔۔۔” اچھا امی میں آپ کو کچھ دیر میں جواب دیتا ہوں ۔۔۔”
اس کا جواب تو ہاں ہی ہونا تھا ۔۔
☆☆☆☆☆♡◇◇◇◇◇◇◇◇
” امی آپ مجھے زہر دے دیں ۔۔۔لیکن میں سعادت سے شادی نہیں کر سکتی ۔
ممتاز بیگم نے اپنا سر پہ رکھا دوپٹہ اتار کر شھربانو کے قدموں میں رکھ دیا ۔۔۔۔
” امی آپ یہ کیا کر رہی ہیں ۔۔۔”
شھربانو نے ایک دم سے دوپٹہ اٹھایا ۔۔
ممتاز بیگم کی آنکھوں میں آنسو تھے ۔۔۔” جب بیٹیاں ماوں کی عزت اچھالنے پر بضد ہوں تو ماوں کو یہ سب کرنا پڑتا ہے ۔۔۔۔۔تجھے تو میرے مرنے سے بھی کوئی فرق نہیں پڑ رہا ۔۔۔
وہ ماں کے سامنے مجبور ہو گئی ۔۔۔وہ اب ضد میں اس سے آگے نہیں جا سکتی تھی ۔۔
اس نے اپنا حلیہ درست کیا ۔۔
ایک عام سا لباس پہنے دوپٹہ سر پہ ٹھیک کیا ۔۔
باہر مولوی گواہ اور سعادت آچکے تھے ۔۔
اسے لگ رہا تھا ۔۔۔اس کی شادی نہیں ۔۔اس کی انا اور ضد کی موت ہو رہی ہے۔۔۔
☆☆◇◇◇◇◇◇◇◇◇◇◇
نکاح سادگی سے ہو چکا تھا ۔۔۔
لیکن رخصتی اور ولیمہ سعادت دھوم دھام سے کرنا چاہتا تھا ۔۔
” بیٹا وہ نہیں مان رہی ۔۔۔سب سادگی سے نمٹا دو ۔۔۔۔”
” نہیں امی کیا آپ کے ارمان نہیں تھے میری شادی کو لے کر ۔۔
وہ ممتاز بیگم کو دیکھ رہا تھا جو بے بس کھڑی تھی ۔۔
☆☆☆☆☆☆☆◇◇◇◇◇
“یار ایسے کیسے شادی ہو سکتی ہے ۔۔۔زندگی میں شادی ایک بار ہی ہوتی ہے ۔۔۔وہ بھی ایسے ۔۔۔۔مانا کہ وہ بیوہ ہے لیکن تمہاری تو پہلی شادی ہے ۔۔
سدھیر کسی بھی طرح سب کچھ اتنا سادگی سے کرنے پر راضی نہیں تھا ۔۔
” یار رخصتی سادگی سے ہونے دو پھر ولیمہ پر تم اپنے سب ارمان پورے کر لینا ۔۔
اسے تو یقین بھی نہیں آریا تھا ۔۔۔شھربانو نے نکاح نامے پر دستخط کر دیے ہیں ۔۔
وہ نجانے کتنئ بار نکاح نامہ دیکھ چکا تھا ۔۔
اس کے نکاح کو چار دن ہوچکے تھے ۔۔
رخصتی کا دن آچکا تھا ۔
سعادت اپنے چند دوستوں کے ساتھ آیا تھا ۔۔
پانچ گاڑیوں پر مشتمل سعادت کا چھوٹا سا قافلہ تھا ۔
☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆
” آپی میں کتنی بار کہہ چکی ہوں مجھے یہ سب نہیں پہننا ۔”
سحر اس کے سامنے لہنگا اور زیور پھیلائے بیٹھی تھی ۔۔۔۔وہ۔دیکھ رہی تھی سحر اور ممتاز بیگم ہوائوں میں اڑ رہے تھے ۔۔۔۔ان کی خوشی کی انتہا نہ تھی ۔۔۔۔
وہ ان دونوں کو دیکھتی اور سعادت کی طرف سے دیے ہوئے تحائف دیکھ رہی تھی ۔
” پہننے تو پڑیں گے ۔۔۔۔اب تمہارا نکاح ہوچکا ہے پرانی باتیں بھول جائو اور اب آگے کا سوچو ۔۔مسز سعادت ملک ۔۔۔”
وہ جب سے آئی تھی اسے تنگ کر رہی تھی ۔۔۔اسے زبردستی ممتاز بیگم اور سحر نے تیار کیا تھا ۔۔
اسے اپنے آپ سے نفرت ہو رہی تھی ۔۔۔۔
سحر اور ممتاز بیگم سعادت کی تعریفیں کرتے نہیں تھک رہے تھے ۔۔۔۔
اور اسے ایسا لگ رہا تھا ۔۔اس کہ کانوں میں کوئی گرم سیسہ انڈیل رہا ہو ۔۔۔
☆◇◇◇◇◇◇◇◇◇◇◇◇◇◇
حال ۔۔۔
” سھل کہاں ہے ۔۔۔۔سعادت ۔
وہ جیسے ہی گھر میں داخل ہوا ۔۔۔۔
اس نے پھر وہی سوال کیا ۔۔۔
” یہ سوال تو مجھے پوچھنا چاہیے ۔۔۔تم مجھے نیچا دکھانے کے لیے مجھے پھسانے کے لیے اس حد تک جائو گی ۔۔۔۔یہ مجھے اندازہ نہیں تھا ۔۔۔
وہ شھربانو کو دیکھ رہا تھا ۔۔۔وہ اسے خونخوار نظروں سے گھور رہی تھی ۔۔۔
” واہ الٹا چور کوتوال کو ڈانٹے۔۔۔۔مجھ پہ کیا باور کرنا چاہتے ہو تم کچھ جانتے نہیں ۔۔
وہ اسے ترس کھاتی نظروں سے دیکھ رہا تھا ۔۔
وہ اپنی انتقام اور نفرت میں آگ میں جھلس رہی تھی ۔۔۔بلکہ جھلس چکی تھی ۔۔۔۔۔کچھ نہیں تھا اس کے پاس ۔۔
۔” سھل مل جائے تو مجھے بھی بتا دینا ۔
۔۔وہ شخص مجھے مل گیا ہے جسے پیسے دے کر تم نے سوات تک سھل کو بھیجا تھا ۔۔۔۔لیکن اس سے آگے صرف تم جانتی ہو ۔۔۔بلالو اسے واپس ۔۔۔اب مجھے اس کہ ہونے یا نہ ہونے سے کوئی فرق نہیں پڑتا ۔۔۔۔مجھےمیرے پیسے مل چکے ہیں ۔۔
وہ اسے حیرت زدہ چھوڑ کے کمرے سے باہر چلا گیا ۔۔۔۔
◇◇◇◇◇◇◇◇◇◇◇◇◇
وہ دوسرا شخص اردو سمجھتا تھا ۔۔۔اور کچھ بول بھی لیتا تھا ۔۔۔
” سھل کہاں ہے ۔۔۔۔؟
اس نے دھیمے لہجہ اختیار کیا ۔۔
” تم اس لڑکی کا نام لے رہا ہے نا جو تیرے ساتھ تھا ۔!!!۔۔۔وہ لڑکی جو تیرے ساتھ تھا ۔۔۔۔وہ حیدر خان کے گھر ہے اس کی حالت ٹھیک نہیں تھی ۔۔۔آرمی کیمپ لے گیا تھا ہم ۔۔۔لیکن وہ پوچھتا بہت ہے ۔۔۔”
☆◇◇◇◇◇◇◇◇◇
آرمی کا نام سن کے اتنی شدید سردی میں بھی اس کے پسینے چھوٹنے لگے ۔۔۔” آرمی۔۔۔ کیمپ ۔۔۔؟؟”
اس نے وہ دو الفاظ بھی بڑی مشکل سے توڑ توڑ کے ادا کیے
“ہاں ۔۔۔ہم نے تیرا بتا دیا تھا ۔۔۔۔باقی کی پوچھ گچھ وہ تم سے ہی کرے گا ۔۔
ان کی باتیں سن کے اس کے دماغ نے تو جیسے کام کرنا ہی بند کر دیا ۔۔۔وہ اب کیا بتائے گا ۔۔اسے کچھ سمجھ ہی نہیں آرہا تھا ۔۔۔۔پریشانی کے ساتھ یہ خوشی بھی تھئ کہ سھل خیریت سے ہے ۔۔۔۔
” اب چل کھڑا کیوں ہے تم ۔۔۔چل تو پائے گا نا ۔۔۔۔۔قریب ہی ہے آرمی کیمپ ۔۔۔”
” لیکن مجھ سے چلا نہیں جا رہا لگتا ایک ٹانگ سہی سے کام نہیں کر رہی ۔۔۔”
اسے اس وقت ٹانگ کا بہانہ بنانا ہی ٹھیک لگا ۔
◇◇◇◇◇◇◇◇◇◇◇◇◇◇
ماضی
وہ رخصت ہو کے اب سعادت کے گھر میں موجود تھی
اس نے جیسے ہی کمرے میں قدم رکھا ۔۔۔۔اس پر بھولوں کی پتیاں نچھاور ہونے لگی ۔
نہایت خوبصورتی سے اس کی سیج سجائی گئی تھی ۔۔۔۔
بیڈ کے چاروں اطراف پھولوں کی لڑیاں نہایت نفاست سے لگائی گئی تھی ۔۔۔
ہر طرف گلاب کے پھولوں کی مسحور کن خوشبو بکھری ہوئی تھی ۔۔۔۔
گلاب کی پتیوں سے زمین پر دل کا شیپ بنایا گیا تھا ۔۔۔
اسے وہ سب کچھ بہت خوبصورت لگ رہا تھا ۔۔۔کچھ پل کے لیے وہ یہ بھول گئی تھی ۔۔۔اس کا سعادت سے محبت کا نہیں نفرت اور انتقام کا رشتہ ہے ۔
☆☆☆♡♡♡♡♡♡◇♡◇♡
سعادت کی خوشی کی انتہا نہ تھی وہ یہ سوچ سوچ کہ تھک گیا تھا ۔۔۔وہ منہ دکھائی میں اسے کیا دے ۔۔۔۔
وہ یہی سوچ رہا تھا تحفہ قیمتی ہونے کے ساتھ سب سے مختلف بھی ہونا چاہیے ۔۔۔
آخرکار اس نے کچھ طے کیا اور اپنے کمرے کی جانب بڑھا ۔
۔۔جہاں اسے لگا شھربانو پھولوں کی سیج پر بیٹھی اس کا انتظار کر رہی ہوگی ۔
۔۔۔لیکن یہ تو بس اس کی خوش فہمی ہی رہی ۔۔۔اس کی دلہن گھونگھٹ نکالے اس کے انتظار میں بیٹھی ہوگی ۔۔۔۔
اس کی سب خوش فہمیاں ۔۔۔کمرے میں آتے ہی ختم ہوگئی ۔
☆◇◇◇◇◇◇◇◇◇◇◇◇
وہ کچھ دیر اس خوبصورتی میں کھوئی رہی ۔۔
لیکن اسے کچھ پل میں ہی یہ احساس ہوگیا تھا ۔وہ اپنے سب سے بڑے دشمن کی سیج پر تھی ۔۔
جس کی وجہ سے اس کے والد کا انتقال ہوا تھا ۔۔۔
راحیل کا حادثہ بھی سعادت کی مرہون منت تھا ۔۔۔وہی تھا اس کی زندگی کی بربادی کا سبب اور وہ اسی کی سیج پر اس کی دلہن بن کہ بیٹھی تھی ۔۔۔وہ غصے سے اٹھی ۔۔۔۔جتنی پھولوں کی لڑیاں بیڈ کے اطراف میں لگی تھی ۔۔۔وہ ان سب کو کھینچتی نیچے گراتی جا رہی تھی ۔۔۔ سعادت تو کیا سمجھتا ہے تم نے مجھے حاصل کر لیا ۔۔۔۔”
اس نے کچھ ہی دیر میں اس سجے ہوئے خوبصورت کمرے کا نقشہ کسی کھنڈر میں تبدیل کر دیا ۔۔
ہر طرف ہر چیز بکھری پڑی تھی ۔۔۔۔اس نے کھینچ کے گلے سے سونے کا ہار اتار کے پھینک دیا ۔۔۔۔کانوں سےاس نے جھمکے نوچ کے اتار پھینکے ۔۔کانوں سے جھمکے نوچنے کی وجہ سے اس کے کانوں سے خون رسنے لگا ۔۔۔۔
لیکن اندر کا قرب باہر کی تکلیف سے کم تھا ۔۔۔۔اس درد میں اس کے آہ تک نہ نکلی ۔۔۔۔
وہ سجی سنوری دلہن کسی کی بربادی کی داستاں سنا رہی تھی ۔۔
☆☆☆☆☆☆◇◇◇◇◇◇◇
” شھربانو ” اس نے وہ منظر دیکھا گویا چلا اٹھا ۔۔۔
” شھربانو کیا ہوا ہے کیا حال بنا دیا ہے اپنا “
وہ گھٹنوں کے بل شھربانو کے پاس زمین پر بیٹھ گیا ۔۔۔
” کیوں تو خوش نہیں ہے ۔۔میری بربادی پر ۔۔۔۔ہاہا ہا ۔۔۔دیکھ تونے مجھے حاصل کر لیا ۔
اس کی آنکھیں سرخ ہو رہی تھی ۔۔۔۔
وہ پاگلوں کی طرح قہقہے لگا رہی تھی ۔۔۔
اس نے اسے اپنے بانہوں کے حصار میں لینا چاہا ۔۔۔
اس نے دھکیل کے اسے دور کیا ۔۔۔
“میرے قریب مت آنا سمجھے تم ۔۔۔۔تجھے نہیں تو خود کو ضرور ختم کر دوں گی “
وہ حیرت زدہ سا اسے تک رہا تھا ۔۔۔” شیری میں تمہارا سادی ہوں تیری پہلی محبت ۔۔۔۔کیا ہوگیا ہے تمہیں ۔۔۔۔ہم نے کبھی جینے مرنے کی قسمیں کھائی تھی ۔۔۔کبھی نہ جدا ہونے کہ وعدے کیے تھے ۔۔
لیکن وہ اسے ایسے دیکھ رہی تھی ۔۔۔۔جیسے اس سے شادی نہیں ہوئی اسے وہ اغوا کر کہ لایا ہو ۔۔۔۔اس کی آنکھوں میں حقارت نفرت اور ڈر تھا ۔۔۔۔۔اسے لگا وہ واپس وہی آکے کھڑا ہے جہاں ۔۔۔شھربانو اسے چھوڑ گئی تھی ۔۔
شاید محبت سادی شیری سب وہی مر گئے تھے ۔۔اب تو نجانے کیا تھا ان دونوں کے بیچ ۔۔
وہ چھوٹے چھوٹے قدم اٹھاتا کمرے سے باہر چلا گیا ۔۔۔۔اس وقت اسے بھی کچھ سمجھ ہی نہیں آرہا تھا ۔۔۔۔
وہ لائونج میں آکر صوفے پر ڈھے جانے والے انداز میں بیٹھ کر آنکھیں موند لی ۔۔۔۔کیا سوچا تھا کیا ہوگیا ۔۔۔۔
” سر کچھ چاہیے ۔۔۔”
اس نے اس آواز پر آنکھیں کھولی ۔۔۔۔۔آنکھوں کے سامنے سب دھندلا تھا ۔۔۔شاید اس کی آنکھوں میں آنسو تھے ۔۔۔
اس نے اثبات میں سر ہلایا ۔۔۔
” ہاں چاہیے ” اس نے اس جانب دیکھا ۔۔۔جہاں اس غلیظ مشروب کے شیشے رکھے تھے۔۔
” سر آپ آج ڈرنک ۔۔۔”
اس نے خونخوار نظروں سے اس نوکر کو دیکھا ۔۔۔اس کی بات اس کہ منہ میں ہی رہ گئی ۔۔۔سر کو جنبش دے کر وہ سامنے کھڑا مخصوص لباس پہنا شخص اس کی مطلوبہ چیز لینے چلا گیا ۔۔۔۔
اس نے واپس آنکھیں بند کر لی وہ اپنے خوبصورت ماضی میں جانا چاہتا تھا ۔۔
بہت درد تھا اس کے اندر ۔۔۔جسے پانے کے لیے وہ زمین آسمان ایک کر چکا تھا آج اسی انسان نے اسے نہ زمین کا چھوڑا نہ آسمان کا وہ ان دونوں کے بیچ ایک خالی خلا میں اڑ رہا تھا ۔۔۔بھٹک رہا تھا ۔اس اندھیرے میں ۔۔۔
” سر ” سامنے والا شخص اس کی مطلوبہ چیز لے آیا تھا ۔۔۔۔
وہ شخص اسے گلاس میں انڈیل رہا تھا ۔۔
اور وہ اس زہر کو اپنے اندر اتار رہا تھا ۔۔
وہ دو بوتلیں خالئ کر چکا تھا ۔۔۔۔
اسے اب نشہ چڑھنے لگا تھا ۔۔۔اسے کچھ ہوش نہ تھا ۔۔۔اسے بس اتنا یاد تھا ۔۔۔اس کی دلہن اس کا کمرے میں انتظار کر رہی ہے۔۔وہ لڑکھڑاتا ہوا اپنے کمرے کی جانب چل دیا ۔۔۔۔
◇◇◇◇◇◇◇◇◇◇◇◇◇◇◇◇
حال
اس نے بہانہ تو اچھا بنایا تھا لیکن اس کی ایک نہ چلی ۔۔۔۔
تفتیشی افسر اب اس کے سامنے موجود تھا ۔۔۔۔
” ہممم تو تم کہتے ہو تم دونوں کو اغوا کیا گیا تھا ۔۔اور وہی زبردستی تمہارا نکاح پڑھوایا گیاب تھا ۔۔۔
اس کے حلق سے جیسے آواز ہی نا نکل رہی ہو ۔۔
” جی۔۔۔ جی ۔۔۔۔جی سر ۔۔۔اور ہم وہی سے اپنی جان بچا کہ بھاگے ہیں ۔۔۔اگر میرئ بات کا یقین نہیں آرہا تو آپ اس لڑکی سے پوچھ سکتے ہو ۔۔۔”
وہ دیکھ رہا تھا تفتیشی افسر کی پیشانی پر شکنیں پڑی تھی ۔
” اس سے تو ہم پوچھ ہی چکے ہیں ۔۔۔
مطھر کو اپنی جان نکلتی ہوئی محسوس ہونے لگی
نجانے اس پاگل۔لڑکی نے کیا بیان دیا ہوگا ۔۔
” تم اسے کیسے جانتے ہو ۔۔۔۔؟
عجیب شخص تھا دوبارہ وہی سوال ۔۔۔
” سر میں آپ کو بتا چکا ہوں ۔۔۔
اس نے ہاتھ اوپر اٹھایا ۔۔۔۔” آرام سے بتائو مسٹر ۔۔
” تم تیار رہنا تم شہر پہنچا دیے جائو گے ۔۔۔۔اس لڑکی کے والد کو اطلاع کر دی گئی ہے ۔۔۔وہ بھی مینگورہ پہنچ جائیگا ۔۔۔۔تم مینگورہ سے کہاں جا رہے ہو ۔۔۔ہماری نظر تم پر رہے گئ ۔۔
وہ افسر اٹھ کر جانے لگا ۔۔۔
” لیکن سر وہ لڑکی ۔۔۔۔۔کیا میرے ساتھ ۔۔۔”
اس نے پیچھے مڑ کر دیکھا ۔۔۔
اور اس کے پاس آیا ۔۔۔” وہ لڑکی تمہیں نہیں جانتی اس کا یہی بیان ہے ۔۔۔اب زیادہ اس لڑکی کا مت پوچھو ۔۔۔۔اور چپ چاپ اپنے گھر والوں کا سوچو کون کیا ہے ہم سب جانتے ہیں ۔۔۔”
مطھر کا سر اس افسر کی بات کو سن کہ گھومنے لگا ۔۔۔سھل نے مجھے جاننے سے ہی انکار کر دیا ۔۔۔۔
“(یہ کیسے ہو سکتا ہے ۔۔۔”وہ تو کچھ اور سوچ رہا تھا ۔۔لیکن وہ تو اس کے وجود تک سے مکر گئی تھی ۔
جاری ہے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *