Intikam E Mohabbat by Esha Noor NovelR50798 Intikam E Mohabbat by Esha Noor Episode10
No Download Link
253K
35
Rate this Novel
Intikam E Mohabbat by Esha Noor Episode01 Intikam E Mohabbat by Esha Noor Episode02 Intikam E Mohabbat by Esha Noor Episode03 Intikam E Mohabbat by Esha Noor Episode04 Intikam E Mohabbat by Esha Noor Episode05 Intikam E Mohabbat by Esha Noor Episode06 Intikam E Mohabbat by Esha Noor Episode07 Intikam E Mohabbat by Esha Noor Episode08 Intikam E Mohabbat by Esha Noor Episode09 Intikam E Mohabbat by Esha Noor Episode10 (Watching)Intikam E Mohabbat by Esha Noor Episode11 Intikam E Mohabbat by Esha Noor Episode12 Intikam E Mohabbat by Esha Noor Episode13 Intikam E Mohabbat by Esha Noor Episode14 Intikam E Mohabbat by Esha Noor Episode15 Intikam E Mohabbat by Esha Noor Episode16 Intikam E Mohabbat by Esha Noor Episode17 Intikam E Mohabbat by Esha Noor Episode18 Intikam E Mohabbat by Esha Noor Episode19 Intikam E Mohabbat by Esha Noor Episode20 Intikam E Mohabbat by Esha Noor Episode21 Intikam E Mohabbat by Esha Noor Episode22 Intikam E Mohabbat by Esha Noor Episode23 Intikam E Mohabbat by Esha Noor Episode24 Intikam E Mohabbat by Esha Noor Episode25 Intikam E Mohabbat by Esha Noor Episode26 Intikam E Mohabbat by Esha Noor Episode27 Intikam E Mohabbat by Esha Noor Episode28 Intikam E Mohabbat by Esha Noor Episode29 Intikam E Mohabbat by Esha Noor Episode30 Intikam E Mohabbat by Esha Noor Episode31 Intikam E Mohabbat by Esha Noor Episode32 Intikam E Mohabbat by Esha Noor Episode33 Intikam E Mohabbat by Esha Noor Episode34 Intikam E Mohabbat by Esha Noor Last Episode
Intikam E Mohabbat by Esha Noor Episode10
Intikam E Mohabbat by Esha Noor Episode10
۔۔تم جو بھی ہو پلیز ہیلپ می ۔۔
مطھر کا دل ایک منٹ میں نرم پڑ گیا ۔۔۔وہ لڑکی واقعی تکلیف میں تھی ۔
اس نے پانی اس کے ہاتھ میں دیا ۔۔۔وہ اسے سنبھال نہ سکی ۔
پانی اس کے بستر پہ گر گیا سردی کی شدت پہلے ہی بہت زیادہ تھی ۔۔۔۔
وہ دوسرا پانی لے کر زور سے اس کے چہرے پہ چھینٹے مارنے لگا ۔۔۔۔
وہ باہر جانے کے لیے لپکا تاکہ اسے کوئی دوائی کافی یا چائے دے سکے
۔۔پر دروازہ باہر سے بند تھا ۔۔۔۔
” یہ کیا ؟؟؟ یہ لوگ تو مجھے بھی بند کر گئے ۔۔۔۔
وہ لڑکی اب پوری طرح ہوش میں تھی ۔۔
پر شاید اس کے سر میں شدید درد تھا ۔
” تم مممم۔۔۔۔۔نے مجھے ۔۔۔۔اغوا کیا ہے ۔۔
وہ ایک دم چونک کے اس کی طرف متوجہ ہوا ۔
جو ابھی تک گیٹ کھٹکانے میں لگا تھا ۔
” میں نے !!!۔۔۔۔ہوش میں تو ہو تم ۔۔۔میں اور اغوا ۔۔
وہ اب بھی اسے ایسے دیکھ رہی تھی ۔۔۔جیسے اسے پہچان نہیں پا رہی ہو ۔
پانچ منٹ بعد اس کا دروازہ کھلا ۔۔
وہی شخص کمرے میں داخل ہوا اس کے ہاتھ ۔
میں چائے اور کھانا تھا
” لڑکی ہوش میں آگئی ۔۔۔اچھا ہوا ۔۔۔
وہ شخص بھاری مردانہ آواز میں بول رہا تھا ۔۔
” سن لڑکی تم جتنا ہمارے ساتھ تعاون کرو گی اتنا تمہارے حق میں بہتر ہے
۔۔۔اپنی زور آزمائی یہاں مت دکھانا ۔۔۔۔۔بس یہ سمجھ لو طریقہ غلط ہے ۔۔
۔پر تمہارے فائدے کے لیے ہے سب کچھ ۔۔۔اچھا ہوگا تم ہماری بات سمجھ لو ۔۔
۔اس لڑکے کو تو تم جانتی ہو ۔
اس لڑکی نے اس کی طرف دیکھا ۔۔
” یہ ہر وقت تمہارے ساتھ رہے گا ۔۔۔ہم پر نہ سہی اس پر تو آپ کو یقین ہوگا ۔۔۔
وہ لڑکی کو لیکچر دینے کے بعد اس کی طرف متوجہ ہوا ۔۔
” زیادہ قریب جانے کی ضرورت نہیں ہے ۔۔
۔۔۔بس اس کا خیال رکھو ۔۔۔اور زیادہ قریب گئے تو ۔۔
” سمجھ گیا آپ کی بات پر یہ دروازہ باہر سے کیوں بند کیا تھا ۔۔
وہ غصہ پہ قابو پانے کی ناکام کوشش کر رہا تھا ۔
” تاکہ کسی کو پتہ نہ لگے اندر کوئی ہے ۔۔۔سمجھے تم ۔۔۔یہ
لڑکی زیادہ شور کرے تو پھر سے نشہ دے دینا ۔۔۔۔پاؤں اس
کے مت کھولنا ہاتھ تک ہی ٹھیک ہے ۔۔۔جب تک ہم اصل ٹھکانے تک نہیں پہنچتے ۔
۔۔اس کی زندگی کو خطرہ ہے ۔۔۔سمجھہ گئے ۔۔۔
اس نے اثبات میں سر ہلایا ۔۔۔۔
” کوئی سر درد کی ٹیبلٹ ۔۔
وہ کچھ اور کہتا ۔۔۔اس شخص نے اس کی بات کاٹ دی ۔۔
” اس کی ضرورت نہیں صبح تک یہ بلکل ٹھیک ہو جائے گی ۔
۔۔ہم وقفے وقفے سے آتے رہیں گے دور ہی رہنا
اس لڑکی سے “۔
۔وہ شخص اسے ایسے گھور رہا تھا ۔۔۔جیسے اسے کچا چبا جائے گا ۔۔۔۔
وہ شخص دروازہ پھر باہر سے بند کر گیا ۔۔
وہ کھانہ لے کر اس کے پاس آیا ۔۔
” تمہارا نام سھل ہے نہ ۔۔۔؟؟
اس لڑکی نے ہلکے سے گردن ہاں میں ہلائی ۔
وہ لڑکی جس سے اسے شدید نفرت ہو رہی تھی ۔۔
اب اس پر اسے رحم آرہا تھا ۔۔
وہ اسے اپنے ہاتھ سے کھانا کھلانے لگا ۔۔۔۔لیکن وہ کھانا صحیح سے نہیں کھا پا رہی تھی ۔۔۔
” مجھے کافی دے دو ۔۔” کھانے سے اس لڑکی کو ابکائی آنے لگی ۔
” سھل تم ٹھیک ہو ۔۔
وہ دوسری طرف منہ کر کے پھر سو گئی ۔۔
۔۔مطھر نے کمبل اس پر ڈالا ۔۔
خود بھی کھانا کھا کے دوسرے بیڈ پر لیٹ گیا ۔۔۔۔چھت کی طرف دیکھنے لگا ۔۔۔۔۔
باہر موسم سخت سرد تھا ۔۔۔پر وہ جھونپڑی نما گھر ۔۔اندر سے کافی گرم تھا ۔۔۔۔۔
کمرے میں دو چار پائیاں ۔۔۔ایک ٹیبل اور دو کرسیاں رکھی تھی ۔۔۔۔
باقی پورا کمرہ خالی تھا ۔۔۔۔۔
کمرے کے ایک کونے میں کیبل تار لٹک رہی تھی ۔۔
شاید وہاں ٹی وی رکھا تھا ۔۔۔۔
کمرے کا جائزہ لیتے لیتے اس کی آنکھ لگ گئی ۔۔۔۔۔
☆☆☆☆☆☆
اس کی آنکھ کسی چیز کے لگنے کی وجہ سے کھلی تھی ۔۔
سائیڈ والی چار پائی پر وہ آفت پوری طرح چوکنا ہو کہ اٹھ بیٹھی تھی ۔۔
◇◇◇◇◇◇◇◇◇◇◇
سھل کو سب دھندلا ۔دھندلا سا نظر آرہا تھا ۔۔۔
اس کا سر درد کی شدت سے پھٹ رہا تھا ۔
اسے سامنے ایک ہیولا سا دکھا ۔۔۔
شاید وہ ایک جیتا جاگتا وجود تھا ۔۔۔
اس کی آنکھیں بوجھل تھی ۔۔۔۔جیسے کوئی من و زن اس پر رکھ دیا گیا ہو ۔۔۔
سامنے والا ہیولا کچھ کچھ صاف نظر آنے لگا۔۔۔
” یہ تو وہی جوکر ہے ۔۔۔” اس کا دماغ تھوڑا بہت سوچنے کے قابل ہوا ۔۔۔
وہ کچھ کہہ رہا تھا ۔۔۔پر اسے کچھ سمجھ نہیں آرہا تھا ۔۔
اس نے اپنی پوری کوشش کر کے چند الفاظ ادا کیے ۔۔
وہ اب کچھ اسے کھلا رہا تھا ۔۔۔
پر اسے کچھ اچھا نہیں لگ رہا تھا ۔۔۔
جیسے وہ کچھ کھائے گی تو اسے الٹی آجائے گی ۔۔
اسے بس نیند تھی ۔۔۔
وہ سو گئی
پھر اچانک سے اس کا دماغ جاگ گیا ۔۔
شاید اس کی نیند پوری ہو گئی تھی ۔
وہ ایک دم سے اٹھ بیٹھی ۔۔
عجیب سی جگہ تھی ۔۔۔۔جیسے ہی اس نے اٹھنے کی کوشش کی وہ لڑکھڑا گئی
۔۔۔اس کے پاؤں میں زنجیر تھی ۔۔
عجیب سی گھٹن تھی کمرے ۔میں ۔۔
ایک بلب تھا جو ان کے سر کے اوپر جھول رہا تھا ۔
اسے اب تھوڑی دیر پہلے والی ہر بات یاد آنے لگی ۔۔۔۔
وہ شخص اس کا لیکچر ۔۔۔وہ لڑکا جسے وہ جوکر کہتی تھی۔
” او ایم جی ۔۔۔اس جوکر نے مجھے اغوا کیا ہے ۔۔۔اپنا بدلہ لینے کے لیے ۔
اس جوکر کی اتنی ہمت ہو گئی تھی ۔۔۔۔۔وہ سھل کو اغوا کر گیا ۔۔۔نہیں نہیں وہ تو بہت سارے تھے ۔۔۔۔اس لڑکے کے پاس تو ایک پھوٹی کوڑی تک نہیں تھی ۔
پکا اسے تیمور نے استعمال کیا ہوگا ۔
مجھے جلدی سے یہاں سے نکلنا چاہیے ۔
اس کے آس پاس کچھ نہ تھا بس ایک سٹیل کا گلاس
اسکی سائیڈ میں رکھا تھا ۔۔اس نے وہ گلاس اٹھایا اور
زور سے اس کی طرف مارنے کے لیے پھینکا ۔
وہ ہڑ بڑا کے اٹھ بیٹھا ۔
” کیا مصیبت ہے ۔۔
اب وہ اس کی طرف ہی دیکھ رہا تھا ۔
” مجھے واش روم جانا ہے ۔
وہ معصوم سی صورت بنا کہ بولی ۔
وہ بھی بڑا ڈھیٹ تھا ۔۔
” تو جائو میں کیا کروں۔۔
” زنجیر تو کھولو ایسے کیسے جائوں ۔
اب وہ غصے میں اس کی طرف گھور رہا تھا
☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆
جب اسے گلاس لگا تو وہ سمجھ گیا اب لڑکی پوری طرح
ہوش میں آگئی اب حساب کتاب کر لینا چاہیے ۔۔۔
” مس زنجیر کی رینج اتنی ہے آپ باآسانی جا سکتی ہیں ۔
۔رہی بات کھولنے کی چابی میرے پاس نہیں ہے میں خود یہاں بند ہوں آپ کی مہربانی سے
وہ غصے سے بیڈ سے اتری ۔
” میرے شوز کہاں ہے ۔۔
اسے پتہ تھا اب یہ سونے نہیں دے گی ۔۔
” میرے پہن لو ۔۔۔
اب کی بار وہ اس کی جانب نہیں دیکھ رہا تھا ۔۔
ڈر بھی لگ رہا تھا جس ٹائپ کی وہ لڑکی تھی ۔۔۔کچھ بھی کر سکتی تھی ۔۔
لیکن فلحال اسے سنبھل کے رہنا تھا ۔
وہ اس کے جوتے پہن کے پیر گھسیٹتے ۔۔۔واش روم کی طرف گئی ۔۔۔
” مجھے پہلے چیک کر لینا چاہیے ۔۔
وہ ایک دم سے اٹھا ۔۔
” روکو تم ۔۔۔
۔صفائی کا کوئی خاص انتظام نہ تھا ۔۔۔پر پانی موجود تھا ۔۔
اس نے ہر طرف سے چیک کیا ۔
” اوکے ہے ۔۔۔”
پھر اس کی جانب دیکھا ۔۔۔جو عجیب نظروں سے اس کی طرف دیکھ رہی تھی ۔۔۔۔
” جائو اب
☆☆☆







واش روم کی حالت دیکھ کر اس کی حالت خراب ہونے لگی ۔
کہاں وہ محلوں میں رہنے والی کہاں ۔۔۔۔یہ جھونپڑی ۔
پر اسے فریش ہونا تھا ۔۔
اب وہ اس لڑنے کے لیے بلکل تیار تھی ۔۔
☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆
وہ فریش ہو کے سیدھی اس کی طرف آئی ۔۔۔
” تو تم نے مجھے اغوا کیا ہے ۔۔۔سڑیل ٹماٹر ” ۔
وہ بھی جوابی وار کے لیے تیار بیٹھا تھا ۔۔
” پلان تو بہت اچھا تھا ۔۔۔آپ کا ۔۔۔یہ بتائو اس ڈرامے میں میرا کیا کردار ہے ۔۔
وہ جانتا تھا وہ سامنے سے اس پر ہاتھ اٹھائے گی ۔
” بکواس بند کرو اپنی
اس نے بس غصہ کیا ۔۔۔۔ہاتھ نہیں اٹھایا ۔
” اور یہ جو آدمی اتنا لیکچر جھاڑ گیا ہے ۔۔۔۔واہ کیا ادکار ہے ۔۔
وہ اب بھی غصے سے اسے گھور رہی تھی ۔۔۔۔پر وہ بہت زیادہ کمزور لگ رہی تھی ۔۔
” تم نے کتنے پیسے لیے ہیں ۔۔۔تیمور سے ۔۔
وہ اس کے سامنے لب بھینچے کھڑی تھی
” ایک کروڑ ۔۔۔پر یہ تیمور کون ہے ۔۔وہ لڑکا ۔
وہ اب بھی غصے سے۔ اسے دیکھ رہی تھی ۔
” بڑے سستے بکے ہو ۔۔۔۔یا مجھ سے بدلہ لینا تھا
وہ بھی اس کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بات کرنے لگا ۔۔۔
” پہلی بات ۔۔۔مجھے پیسے تم نے دیے ہیں ۔۔۔نقاب میں یہ آنکھیں میں لاکھوں میں پہچان سکتا ہوں۔۔۔۔
جس وقت میں اس شخص کے پاس تھا
۔۔۔تم وہاں آئی تھی ۔۔۔
اب زیادہ بنو مت ۔۔۔اپنا پلان بتائو۔۔
اور رہی بات اغوا کی میں نے تجھے اغوا نہیں کیا ۔۔
مجھے تو یہاں آکر پتا لگا ہے ۔۔۔کہ وہ لوگ تمہیں لائے تھے ۔
یہی سچ ہے چاہے یقین کرو یا نہ کرو
تمہیں اب میرے ساتھ تین مہینے رہنا ہے ۔۔۔۔۔اب تم بھی پوری سچائی بتائو ۔
وہ اب بھی بے یقینی سے اس کی طرف دیکھ رہی تھی ۔
” میں نے خود کو اغوا کرنے کا پلان بنایا تھا ۔
لیکن میں خود کو اغوا کر کے اس حالت میں رکھتی ۔۔۔پاگل ہو کیا تم ۔
وہ اسے دیکھ رہا تھا۔۔۔۔اس کی باتیں نجانے کیوں سچ لگ رہی تھی ۔
” ویسے تکلیف تو ابھی بھی تمہیں کوئی نہیں آئی ۔
وہ طنزیہ مسکرایا۔
” ۔۔۔مجھے کسی اور نے اغوا کروایا ہے ۔۔۔اور تم جانتے ہو ۔۔وہ کون ہے ” ۔
۔۔اس نے زور سے اسے دھکا دیا ۔۔۔اسے اس وقت اس سے یہ توقع نہیں تھی ۔۔۔۔
وہ لڑ کھڑا کر چار پائی پر گرا ۔۔۔۔
” یار مجھ سے کیوں لڑ رہی ہو ۔۔۔۔”
☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆
وہ جو ہر وقت جوابی وار کرتا تھا ۔۔۔۔آج جس لہجے میں بات کر رہا تھا ۔
سھل کے دل کو کچھ ہوا تھا ۔۔۔
سامنے سے جو الفاظ اس نے ادا کیے ۔۔۔
وہ سھل کے دل کو اور زیادہ نرم کر گئے ۔۔
پر وہ سب وقتی تھا ۔۔۔۔
◇◇◇◇◇◇◇◇◇◇
” سکون سے میری بات سنو ۔۔مجھے مارنے سے مسئلہ حل ہوتا ہے ۔۔۔مار لو مجھے
۔۔۔۔اس وقت آپ بہت کمزور ہو ۔۔۔مطھر کمزور پر ہاتھ نہیں اٹھاتا ۔۔۔اگر کوئی واقعی آپ کا خیر خواہ ہے ۔۔۔
اس کے ذہن میں ایک دم سے وہ بات آئی ۔۔۔جو مطھر نے اسے بتائی تھی ۔۔۔
” تم نے کہا وہاں ایک لڑکی آئی تھی ۔۔۔جس نے تجھے وہ پیسے دیے ۔۔۔”
وہ اس کے قریب آکر بیٹھ گئی ۔۔۔۔
اس کے چہرے کو تکنے لگی ۔۔۔۔
وہ جو کچھ سوچ رہا تھا ۔۔
” ہاں پر وہ ایک خاتون لگ رہی تھی ۔۔۔جسامت کے حساب سے ۔۔
۔اس کی آنکھیں بلکل آپ کی طرح تھی ۔۔۔۔۔وہ عبایہ پہنے ہوئے تھی ۔۔
۔اور ہاں اس کے پاؤں کی ایک انگلی میں ڈائمنڈ کا چھلا تھا ۔۔
سھل اس کی باتیں سن کر ۔۔۔سن ہوتی جا رہی تھی ۔۔
کیا ۔۔۔۔مجھے ۔۔۔وہ آگے کیا بول رہا تھا ۔۔۔وہ سن نہ سکی ۔۔







وہ اسے وہی سب کچھ بتا رہا تھا ۔۔۔جو اس نے دیکھا ۔۔۔
وہ دیکھ رہا تھا
۔۔۔اس کا چہرہ زرد۔ پڑ چکا تھا۔۔۔۔۔جیسے اسے کوئی صدمہ پہنچا ہو ۔۔
جیسے اس کے اندر بہت کچھ ٹوٹ پھوٹ رہا ہو ۔۔۔
نجانے کیوں پہلی بار اس لڑکی کے لیے اس کے دل کو کچھ ہوا تھا۔
” ویسے آپ مارتی بہت تیز ہو ۔۔۔”
وہ کچھ نہ بولی ۔ ۔خاموشی سے اٹھ کر اپنے بستر پر چلی گئی
وہ اسے دیکھ رہا تھا۔۔۔۔
اسے شانے سے پکڑ کر ہلکے سے جھنجھوڑا
۔۔۔” کیا ہوا سھل ۔۔۔”
وہ ایک دم سے جیسے ہوش میں آئی ۔۔
زور کا تھپڑ اس کے چہرے پہ رسید کیا ۔
اسے بھی غصہ آگیا اس کا ہاتھ پکڑ کر پیچھے کیا ۔
اس کا دل چاہا کھینچ کے اسے دو لگائے ۔۔پر اسے ایک زنجیروں میں جکڑی ہوئی لڑکی پہ ہاتھ اٹھا کہ کیا مل جاتا ۔
وہ غصے میں اٹھ کر اپنی چار پائی پہ جا کر سو گیا ۔۔۔
وہ صحیح سے سو بھی نہ پایا کہ وہ پھر اس کے پاس کھڑی تھی ۔۔۔وہ اٹھ کر بیٹھ گیا ۔۔۔وہ اسی چار پائی اس کے سامنے آکر بیٹھ گئی ۔۔۔۔
اچانک سے اس پر تھپڑوں کی برسات کر دی ۔۔۔ساتھ ساتھ رو بھی رہی تھی اتنی مضبوط لڑکی کو روتا دیکھ کر اس کے دل کو کچھ ہوا جیسے کسی نے دل کو ہاتھ میں زور سے دبوچ لیا ہو ۔۔۔۔اس نے اس کے دونوں ہاتھ پکڑ لیے اس کا سر اپنے شانے سے لگا لیا ۔۔۔۔
اس کے دل کی دھڑکن اسے بھی سنائی دینے لگی ۔
وہ سسکیوں میں کچھ کہہ رہی تھی ۔۔۔۔
ایک زور کی آواز اس کی سماعتوں سے ٹکرائی•
” اوئے اٹھ جا گدھے گھوڑے بیچ کے سوتا ہے “
وہ اس کے سر پر ملک الموت کی طرح کھڑی تھی ۔
وہ اپنے آس پاس دیکھنے لگا ۔۔” ۔ابھی تو وہ اس کے شانے پر سر رکھے ہوئے تھی ۔۔۔۔اووو تو وہ سارا سپنا تھا ۔۔”
حقیقت تو اس کے سامنے کھڑی تھی ۔۔
” کیا ہے سونے کیوں نہیں دیتی ۔
وہ اسی اپنے پرانے اسٹائل پہ اس پر جھکی ایک پاؤں چار پائی کے اوپر اور ایک نیچے کیے ہوئے کسی انڈر ورلڈ کے ڈان کی طرح کھڑی تھی ۔
” مجھے بھوک لگی ۔۔۔مجھے پیزا کھانا ہے ۔۔۔ساتھ میں ڈیو
اس کی آنکھیں جو تھوڑی بند تھی وہ پوری کھل گئی ۔
” او مس قلوپطرہ ۔۔۔تم یہاں زندان میں ہو ۔۔۔۔
پکنک نہیں منا رہی ویسے بھی ۔۔۔یہ ایک چھوٹا سا گاؤں
ہے ۔
۔جو رات کا پڑا ہے وہ کھا لو ویسے بھی دروازہ باہر سے بند ہے۔۔۔
وہ پھٹی آنکھوں سے اسے دیکھ رہا تھا ۔۔۔
وہ کھانے کی طرف دیکھ کر کہنے لگی ۔
” یہ کھانا ۔۔۔چلو کھا لیتے ہیں نہیں تو ویکنیس ہو جائے گی ۔۔۔۔پورا ایڈوینچر خراب ہو جائے گا ۔۔
وہ تقریباََ ۔چار پائی پر اچھل پڑا ۔۔” کیا مطلب ایڈوینچر ۔۔۔اس کا مطلب ہے تم نے خود کو اغوا کروایا ہے ۔۔
” او عقل سے پیدل ۔۔۔سو بار کہا ہے میں نے خود کو اغوا نہیں کروایا ۔
۔۔خیر ویسے جس نے بھی اغوا کروایا ہے ۔۔۔۔وہ شاید مجھے کوئی نقصان نہیں پہنچانا چاہتا ۔
وہ اب اس کھانے کو عجیب طرح سے دیکھ رہی تھی ۔۔۔
جیسے کھانا نہ ہو کوئی عجوبہ ہو ۔۔۔۔
” تم یہ بات اتنے وثوق سے کیسے کہہ سکتی ہو ۔۔۔۔؟؟
اسے اب بھی اس کی بات پہ یقین نہیں آرہا تھا ۔۔
پر جو حالت اس کی تھوڑی دیر پہلے تھی ۔
وہ حالت اپنی ۔۔۔ خود کو اغوا کروانے والا تو کبھی نہ کرتا ۔۔
اس لڑکی بات میں وزن تو تھا ۔۔
” اس لیے کے نقصان پہنچانا ہوتا تو اس طرح تھوڑی یہاں چھوڑتے ۔۔۔۔اور تجھے میرا باڈی گارڈ بنا کہ یوں ساتھ نہ بھیجتے•
وہ دیکھ اسے رہا تھا پر سوچ اپنے گھر والوں کے بارے میں رہا تھا ۔
اپنی ماں کو وہ جس حالت میں چھوڑ آیا تھا ۔۔۔
اس کا پریشان ہونا بجا تھا۔۔۔۔۔
اس نے اپنا بازو اپنی آنکھوں کے اوپر رکھ دیا سونے کی کوشش کرنے لگا ۔۔۔۔
پر جانتا تھا جب تک وہ بلا جاگی ہے اسے سونے نہیں دے گی ۔
☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆☆
وہ کھانے کو دیکھ رہی تھی ۔۔۔۔
جہاں دال روٹی اور بریانی تھی ۔۔۔۔
روٹی تو اب کھانے لائق تھی ہی نہیں ۔۔۔۔۔سردی کہ وجہ سے
اس میں اور ربڑ میں کوئی فرق نہیں بچا تھا ۔۔۔۔
بریانی بھی ٹھنڈی ہو کے جم چکی تھی ۔۔
اس نے بمشکل دو تین نوالے لیے ۔۔۔
وہ اب اس لڑکے کی طرف دیکھنے لگی ۔
” یہ سو گیا تو میں اکیلے میں کیا کروں گی ۔۔۔
وہ دل ہی دل میں سوچنے لگی ۔۔۔۔۔
” سن ۔۔۔” اس نے اس کو شانے سے ہلکا جھنجھوڑا ۔۔۔
پر وہ ڈھیٹ بنا
۔۔کوئی جواب نہیں دے رہا تھا ۔۔
” شاید سو گیا پے ۔۔۔۔” وہ اب خود ہی ہاتھ بڑھا کے اس کی جیب سے موبائل نکالنے لگی ۔۔
اس نے زور سے اس کا ہاتھ پکڑ لیا ۔۔
اس نے اس کے ہاتھ کو ایسا جھٹکا دیا ۔۔۔وہ اس کے اوپر گرتے گرتے بچی
” کیا کر رہی ہو ۔۔۔” وہ غصے میں غرایا
” مجھے مارنے کی کوشش ۔۔۔”
وہ آنکھیں پھاڑے ایسے دیکھ رہا تھا ۔۔۔جیسے وہ اسے کچا چبا جائے گا ۔۔
” وہ ۔۔۔میں ۔۔۔”
” وہ میں کیا ۔۔۔۔او مس قلو پطرہ ۔۔۔مجھے مار کہ بھی کوئی فائدہ نہیں
۔۔ یہاں سے نکلنے کا کوئی راستہ نہیں ۔۔۔۔باہر سردی بہت زیادہ ہے یہ ایک پہاڑی ویران ۔۔۔علاقہ ہے ۔۔۔۔۔رات میں نکلو گی ۔۔۔کہیں کسی کھائی میں گر جائو گی یا جنگلی جانور کھا جائیں گے ان دونوں سے بچ گئی تو سردی سے ضرور مر جائو گی ۔
اس لڑکے کے چہرے پر طنزیہ مسکراہٹ تھی ۔۔۔
جو اسے زہر لگ رہی تھی ۔۔۔
اسے بھی پتہ تھا۔۔۔۔۔ لڑکے کی بات کسی حد تک ٹھیک تھی ۔۔۔۔وہ خود بھی روشن دان سے باہر کا منظر دیکھ چکی تھی ۔۔۔۔۔گھپ اندھیرا ۔۔۔۔اور عجیب سناٹا تھا ۔۔۔۔جیسے آس پاس کوئی ذی روح موجود ہی نہ ہو ۔۔۔۔
کہیں دور ستارے کی طرح کوئی بلب جگمگا رہا تھا ۔۔۔
( پہاڑی علاقہ دن میں جتنا خوبصورت منظر پیش کرتا ۔۔۔۔رات اتنی ہی خوفناک لگتی ہے ۔۔
” مجھے تمہارا موبائل چاہیے ۔۔۔۔” اسے الجھن سی ہو رہی تھی ۔۔۔۔اس طرح بیٹھے بیٹھے ۔
” سگنل نہیں آرہے ۔۔۔۔” وہ اب پھر دوسری طرف منہ کر کے لیٹ گیا ۔۔۔
” مجھے گیم کھیلنی ہے ۔۔۔آپ سو رہے ہو ۔۔۔میں بور ہو رہی ہوں ۔۔
◇◇◇◇◇◇◇◇◇
وہ لڑکی اسے پہلی دفعہ ۔۔ کم عمر لڑکی ۔لگی ۔۔۔اب تک تو اسے وہ انڈر ورلڈ کا ڈان لگ رہی تھی ۔
” کیا دیکھ رہے ۔ہو ۔۔۔آسان اردو میں تو کہا ہے”
” nice dress
اچھی۔ لگ رہی ہو ۔۔ایسے کپڑے پہنا کرو
وہ لڑکی اب بھی غصے سے اسے گھور رہی تھی ۔۔
” میں نے موبائل مانگا ہے ۔۔۔ڈریس نہیں ۔۔۔”
وہ جیسے چڑ کر بولی ۔۔
” میں نہیں دے رہا موبائل ۔۔۔چپ چاپ سو جائو ۔۔
اسے تنگ کرنے میں اسے مزہ آرہا تھا ۔۔
” شرافت سے دے رہے ہو یا ۔
” نہیں۔ دے رہا کیا کر لو گی۔۔چلائو گی۔ ۔۔۔۔چلائو ۔۔۔۔یہ جو تم آزاد بیٹھی ہو نہ ۔۔۔پھر ہاتھ اور منہ دونوں بند ہوں گے ۔۔۔۔اور میں کمرے سے باہر ۔۔۔۔
◇◇◇◇◇◇◇◇◇◇
ماضی
” شھربانو تمہیں یہاں نہیں آنا چاہیے تھا ۔
سعادت بیڈ سے اٹھنے کی کوشش کرتے ہوئے ۔۔۔کہنے لگا ۔۔۔۔درد کی وجہ سے اسے اٹھنے میں تکلیف ہو رہی تھی ۔۔
” لوگ باتیں بنائیں گے ۔۔۔مجھے اچھا نہیں لگے گا ” ۔۔
شھربانو کے دل میں اس کی عزت اور بڑھ گئی ۔۔
” میں اکیلی نہیں آئی عنبر اور زویا بھی ہیں میرے
ساتھ “۔۔
تب تک وہ دونوں بھی اندر آچکی تھی ۔۔۔
ان دونوں نے بھی بیڈ کی سائیڈ پہ پھول رکھ دیے ۔
” چلیں شھربانو دیر ہو گئی ہے “
” کچھ دیر رک جائو ابھی دس منٹ تو ہوے ہیں “
زویا نے عجیب نظروں سے اسے دیکھا ۔۔۔تو اس نے بھی گھڑی دیکھی
۔۔۔شھربانو کو بھی حیرت ہوئی ۔۔۔ کیا واقعی اسے آئے ایک گھنٹہ ہو چکا ہے ۔۔۔
پر اسے پتہ ہی نہ چلا کہ کب ایک گھنٹہ گذر گیا ۔۔۔۔اور
اس نے یہ بات کہہ دی ۔۔۔
اس پر سعادت کے چہرے پر مسکراہٹ دیکھ کر وہ بھیگی بلی بن گئی ۔۔۔
اس کی کچھ کہتی نظروں سے وہ شرما گئی ۔۔۔۔۔
وہ سمجھ گئی ۔۔۔اس کی آنکھیں اس کے دل کے حال کا اشتہار لگوا چکی ہیں ۔۔
وہ جلدی جلدی میں باہر نکل گئی ۔۔۔۔پھر اس کی ہمت نہ ہوئی ۔۔۔پلٹ کے وہ سعادت کو دیکھتی ۔۔
جاری ہے
